Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۱۰
۔
وہ کلاس سے باہر آ کر گہری سانسیں لیتی قدرے ویران گوشے میں بینچ پر بیٹھی تھی۔۔
جو بےاختیاری میں وہ کلاس میں کر آئی تھی اسے بلکل بھی شرمندگی نہیں تھی۔۔ کون اسکے بارے میں کیا کہتا ہے اس سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا۔۔
“مجھے دار کو بتا دینا چاہئے “_
آنسوں صاف کرتی وہ خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“اسکا انجام تم سے بہتر کون جان سکتا ہے ازورا لاشاری ؟”
لاشعور میں کہیں آواز ابھری تھی۔۔
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بری طرح رونے لگی تھی۔۔
“ازورا ! بچے آپ ٹھیک ہیں ؟”
قریب سے ہی ایک شناسا آواز ابھری تھی۔۔ اس نے انگلیوں کی اوٹ سے دیکھا۔۔ سامنے پروفیسر جمال اکبر کھڑے تھے۔۔
انکے چہرے پر کئی سوال تھے۔۔ جنکے جواب دینے کی پوزیشن میں وہ نہیں تھی۔۔
وہ لرزتے ہاتھوں سے آنسوں صاف کر رہی تھی۔۔ جو جھرنے کی صورت واپس جاری ہو جا رہے تھے۔۔
انہوں نے اسے رونے سے منع نہیں کیا تھا۔۔ وہ خاموشی سے اس سے کچھ دوری پر بیٹھے اسکے آنسوں تھمنے کا انتظار کرنے لگے۔۔
“رو لینا۔۔ ڈر جانا۔۔ خوفزدہ ہو جانا ہر مشکل کا حل نہیں ہے بچے۔۔
آپ جس بھی مشکل میں ہیں اسکا ممکن حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں”_
وہ اسکی جانب نہیں دیکھ رہے تھے۔۔ کسی گہری سوچ میں گم تھے۔۔
منفرد سی یہ لڑکی انھیں متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی کی یاد دلا گئی تھی ۔۔
“اور اگر کوئی ممکن حل نظر ہی نا آئے تو ؟”
وہ گھاس کو پیروں سے کھرچتی دھیرے سے بولی۔۔
“ایسا تو ممکن ہی نہیں کے کسی چیز کا کوئی حل نا ہو۔۔ آپ جانتی ہیں نا اللّه ہمیں ویسا ہی دیتا ہے ہم جیسا گمان کرتے ہیں۔۔ آپ نے یقین کر لیا ہے کے آپ کی پریشانی کا کوئی حل نہیں ہے۔۔ اور کوئی بات نہیں ہے “_
اسکے تاثرات دیکھتے انکے دل نے شدّت سے خواھش کی تھی کے جیسا وہ سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نا ہو۔۔
مگر ہر خواہش پوری ہونے کے لئے کہاں ہوتی ہے۔۔
اس کے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔
وہ اسے پرسکون ہوتے دیکھ خود بھی مسکرا اٹھے۔۔ انہوں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔۔
وہ جانتے تھے وہ انھیں خود بتائیگی۔۔ ہر بات بتائیگی۔۔
“مجھے دیر ہو رہی ہے پروفیسر!”_
اس نے انکا شکریہ ادا نہیں کیا تھا۔۔ شاید وہ ان بنیادی اخلاقیات سے واقف ہی نہیں تھی۔۔
ان کی نظروں نے اسکے اوجھل ہونے تک اسکا پیچھا کیا تھا۔۔
“میری دعا ہے اسکی زندگی میں کچھ ویسا نا ہوا ہو جو ہمارے ساتھ ہوا لیلیٰ”__
دور جاتی ازورا کو دیکھتے وہ زیر لب بڑبڑآئے۔۔
وہ یونیورسٹی سے جلد ہی نکل آئی تھی۔۔
دارم کو اپنے آنے سے متعلق آگاہ کرتی وہ کیب لے کر اسکے ہسپتال آ گئی۔۔۔
وہ پہلے بھی کئی بار دارم کے ساتھ ہسپتال آ چکی تھی۔۔ اسکا اسٹاف اسے جانتا تھا۔۔ ہسپتال میں آج معمول سے زیادہ گہما گہمی تھی۔۔ وہ ڈائریکٹ دارم کے روم میں ہی آئی تھی۔۔
دارم اپنے کمرے میں نہیں تھا۔۔
ایمرجنسی روم کے باہر وہ پولیس کی بھاری نفری بھی دیکھتی ہوئی آئی تھی۔۔
“ایکسکیوز می ! ڈاکٹر دارم کہاں ہیں “_
نرس کے داخل ہونے پر اس نے دارم کےاتا دریافت کیا۔۔
“ایمرجنسی کیس ہے۔۔ کافی کریٹیکل ہے۔۔ ڈاکٹر دارم دو گھنٹوں سے وہیں ہیں۔۔ آپ انتظار کر لیں انکا “_
نرس اسے پہچانتی تھی۔۔ عجلت میں اسے دارم سے مطلق اطلاع دیتی وہ کچھ چیزیں لے کر کمرے سے نکل گئی۔۔
وہ سر ہلاتی دارم کا لیپ ٹاپ لے کر سائیڈ پر رکھے صوفہ پر بیٹھ گئی۔۔
ابھی اسے بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئے تھے جب باہر سے شور کی آواز پر وہ اس نے حیرانی سے ارد گرد دیکھا۔۔
شور کی آواز سامنے وارڈ سے آ رہی تھی جس میں ابھی کچھ دیر پہلے ہی پیشنٹ کو شفٹ کیا گیا تھا۔۔
وہ سر جھٹکتی دوبارہ لیپ ٹاپ پر مشغول ہونے لگی تھی مگر وہ شور بڑھتے ہی جا رہا تھا۔۔
وہ شاید کسی لڑکی کے رونے کی آواز تھی۔۔
اسکے قدم نا چاہتے ہوئے بھی اس کمرے کی جانب بڑھنے لگے۔۔
وہ آہستگی سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اسکا وجود شل ہونے لگا تھا۔۔
وہ سترہ اٹھارہ سال کی بچی تھی جسکی حالت اسکے ساتھ ہوئے ظلم کو چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھی۔۔
“نری زندہ کیوں بچ گئی۔۔ اس سب کے بعد تو بچ کیوں گئی”_
وہ چیخوں کی آواز اسکی ماں کی تھی جو اب بھی اسکے سرہانے بیٹھی سینہ پیٹتی بین کر رہی تھی۔۔
“آپ انے مار دیو۔۔ آپ انے مار دیو ڈاکٹر سائیں”_
(آپ اسے مار دیں ڈاکٹر صاحب)
وہ عورت روتی ہوئی مسلسل یہی گردان کر رہی تھی۔۔
دارم کے ساتھ ایک فیمیل ڈاکٹر کھڑی تھیں جو نرمی سے اس بچی سے سوالات کر رہی تھیں، جسکی نظریں چھت پر ٹکی تھیں۔۔
وہ زندہ نہیں تھی۔۔ اس سے بہتر کون جان سکتا تھا کے وہ اب زندہ نہیں رہی تھی۔۔
“وہ زندہ تو رہی ہی نہیں ہے۔۔ آپ پھر کس کو مارنے کی بات کر رہی ہیں”_
اس سے مزید برداشت نہیں ہوا تھا۔۔ وہ طیش میں آگے آئی تھی۔۔ اس عورت کو شانے سے تھامتی وہ افسوس سے بولی۔۔
“ازو ۔۔ تم کب آئی۔۔ بیٹا تم یہاں کیوں آئی ہو یہ پولیس کیس ہے۔۔ تم روم میں جاؤ میرے میں آتا ہوں کچھ دیر میں “_
دارم تو اسے یہاں دیکھ کر حیران تھا۔۔
“نہیں دار۔۔ یہ اس معصوم کو مارنے کی بات کر رہی ہیں۔۔ انہیں بتاؤ کے زندہ تو یہ رہی ہی نہیں ہے۔۔ جب بھیڑیے جسم بھنبھوڑ کر کھا جائیں۔۔ روح داغ دار کر جائیں تو محض چلتی سانسوں کو زندگی کا نام نہیں دے سکتے دار۔۔ انہیں بتاؤ کے وہ تو اسی وقت مر گئی ہوگی۔۔ یہ تو ماں ہیں دار یہ کیسے اس بچی کے لئے۔۔ کیسے ؟”
اسکی حلق میں آنسوں کا گولہ پھنس رہا تھا۔۔ وہ دارم کی گرفت میں مچلتی روتی ہوئی بول رہی تھی۔۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کے اس بچی کی ماں یہ کہ رہی ہے۔۔
مائیں کیا ایسی ہوتی ہیں۔۔
“ازو ! بیٹا میں کہ رہا ہوں تم جاؤ یہاں سے۔۔
نرس کو اشارہ کرتے اس نے آنکھوں آنکھوں میں اس سے التجاء کی تھی۔۔
وہ ایک نظر بیڈ پر پڑی اس بچی پر ڈال کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
“ہم غریب لوگ ہیں صاحب۔۔ ہمارے سر پر تو چار لڑکیاں اور ہیں۔۔ اسکے بعد انکی زندگی بھی تنگ ہو جائے گی صاحب”_
باہر جاتے ہوئے اسے اس لڑکی کی ماں کی آواز آئی تھی۔۔
۔
وہ لرزتے قدموں دارم کے کمرے میں آئی تھی۔۔ صوفہ پر گرنے کے سے انداز میں گرتی وہ پشت سے ٹیک لگاتی آنکھیں موند گئی۔۔
آنسوں تواتر سے اسکی آنکھوں سے گرتے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔۔
۔
“ایسے کیسے۔۔ وو وہ بچی۔۔ اتنی چھوٹی بچی۔۔ اس کے ساتھ “_
اسکی آواز سرگوشی سے زیادہ بلند نہیں تھی۔۔ وہ اس بچی کی تکلیف خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔ اسکے ساتھ دارم کی کولیگ ڈاکٹر رمشا بھی اسی وقت آ گئیں تھیں۔۔
ڈاکٹر رمشاء دارم کی اچھی دوست تھیں۔۔ ازورا دارم کو جتنی عزیز تھی اسکا سارا حلقہ احباب واقف تھا۔۔ یہی وجہ تھی کے انھیں بھی وہ اتنی عزیز تھی جتنی کے دارم کو۔۔
” اسکی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔۔ تکلیف کی وجہ سے اس نے اپنے دانتوں سے ہی اپنی زبان کاٹ لی ہے۔۔۔
اسکی جانب دیکھتی وہ یوں بول رہی تھیں جیسے کوئی خبر سنا رہی ہوں۔۔
” ایسے کیسز یہاں روز آتے ہیں ازورا۔۔ ان لڑکیوں کا شاید مقدر یہی ہوتا ہے۔۔ ان میں سے کوئی کیس بھی رپورٹ نہیں ہوگا۔۔ پولیس کی جو بھاری نفری تم نے باہر دیکھی ہے، تمہیں کیا لگتا ہے وہ اس بچی کا بیان لینے آئیں ہیں ؟
نرمی سے اس کے آنسوں صاف کرتی وہ اس سے پوچھ رہی تھیں۔۔
اسے سوالیہ نظروں اپنی جانب دیکھتے پا کر انکے لبوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری۔۔
“وہ یہاں اس لئے موجود ہیں تاکے وہ بچی ہوش میں آنے بعد سچ نا بول دے۔۔ وہ یہاں اس معصوم کی حفاظت کے لئے نہیں بلکے ان درندوں کی حفاظت کے لئے موجود ہیں ازورا۔۔
کتنی تلخ حقیقت تھی جسے وہ مسکراتے ہوئے بیان کر گئیں تھیں۔۔
“تم جانتی ہو وہ اپنے گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہے۔۔ شہر آ کر پڑھنے کا شوق تھا۔۔ یہاں میڈیکل کالج میں سٹوڈنٹ تھی۔۔ اس سے چھوٹی اسکی چار بہنیں اور ہیں جو شاید اب اسکول کی شکل بھی نا دیکھ سکیں۔۔ ان چار بیٹیوں کی حفاظت، انکی زندگی کے لئے اسکے ماں باپ اپنی اس بیٹی کی قربانی دے چکے ہیں۔۔ اگر کیس رپورٹ ہوا تو وہ چار بچیاں بھی خطرے میں پڑھ جائینگی۔۔ یہ جسم کے بھوکے درندے ہیں ازورا۔۔ انہیں عورت کی عمر سے کوئی سروکار نہیں ہے “_
انکی اپنی آنکھوں میں بھی آنسوں تھے۔۔
جب کے ازورا کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا۔۔
“رمشاء وہ ہوش میں آ رہی ہے۔۔ پلیز آپ آجائیں “_
سپیکر پر دارم کی آواز پر ڈاکٹر رمشاء اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
دارم اسفہان کسی بھی صورت اکیلے کسی عورت کے وارڈ میں موجود نہیں ہوتا تھا۔۔
ہر حال میں اسکے ساتھ کوئی فیمیل سٹاف موجود ہوتا تھا۔۔ اکثر رمشاء ہی اسکے ساتھ موجود ہوتی تھیں۔۔ انکی دوستی کی وجہ بھی یہی تھی۔۔
انکے جانے کے بعد وہ ایک بار پھر صوفہ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔۔
“وہ تو کوئی اور ہی قانون پڑھ رہی تھی۔۔ اور یہاں تو کسی اور ہی قانون کا راج تھا “_
اسے معاشرے کے اس کرہیئہ چہرے سے گھن آ رہی تھی۔۔
کتنی پستی میں گرتا جا رہا تھا یہ نام نہاد ترقی پذیر معاشرہ۔۔
اسکے ذہن کے پردے پر بار بار اس بچی کا مسخ ہوا چہرہ لہرا رہا تھا۔۔ اسکی خالی خشک آنکھیں اسکی نظروں سے اوجھل نہیں ہو پا رہی تھیں۔۔
دارم دو گھنٹے بعد کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔
“ازو “_
وہ نرمی سے اسے پکارتے اسکی جانب آیا۔۔
“ازو۔۔ میرا بیٹا چلو گھر چلیں۔۔ شام ہونے کو ہے”_
اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا وہ نرمی سے بولا۔۔ پاس کھڑی رمشاء مسکرا اٹھیں۔۔ ایک عرصے سے وہ دارم کو اپنی ازو کی اسی طرح دیکھ بھال کرتے دیکھتی آئی تھی۔۔
“وو وہ بچی “_
اس نے دھرے سے کہا۔۔
“انڈر ابزرویشن ہے۔۔ اتنی جلدی یہ زخم نہیں بھرتے میری جان”_
جواب دارم کی بجائے رمشاء نے دیا تھا۔۔
“یہ زخم کبھی نہیں بھرتے”_
اسکی آواز میں کرچیوں سی چبھن تھی۔۔
“یہ بہت عام ہوتا جا رہا ہے ازورا۔۔ ہمارا معاشرہ اپنے ساتھ ہوتے اس ظلم کو تسلیم کر رہا ہے۔۔ روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں یہ ریپ کیسز۔۔ اور ہم اب اسے ایک عام حقیقت کی طرح تسلیم کرتے جا رہے ہیں”_
۔
“نہیں ہے یہ عام بات۔۔
دارم کی آواز غیر محسوس انداز میں تیز ہو گئی تھی۔۔ ازورا نے سہم کر اسکی جانب دیکھا۔۔ رمشاء کو بھی اپنی بات غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔
دارم اس معاملے میں کس قدر سینسیٹیو تھا وہ جانتی تھیں۔۔
۔
” کسی لڑکی کی عزت روند دینا۔۔ اسکی خواہشوں کا گلا گھونٹ دینا۔۔
اسے زندہ رہنے کے قابل نہ چھوڑنا عام بات نہیں ہے مس رمشاء خالد۔۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔۔ یہ معاشرہ اسے عام بات بنا رہا ہے۔۔ یہ عام بات ہے نہیں۔۔ روز کے یہ ریپ کیسز بہت بڑی بات ہیں۔۔ سننے میں تکلیف ہو رہی تھی لیکن غلط نہیں کہ رہی تھی وہ عورت کے اسے مار دو۔۔
جو زندگی اب وہ بچی جیے گی اس سے لاکھ درجے بہتر ہے کے اسے موت آ جائے۔۔ اور یہ میں اسے دعا دے رہا ہوں۔۔
کیوں کے آپ کا یہ معاشرہ اس سے زندہ رہنے کا حق ہی نہیں چھین چکا بلکے اسے اتنی آسانی سے مرنے بھی نہیں دے گا”_
وہ ازورا کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کرتا گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ تیزی سے نکلتا چلا گیا۔۔
اپنے پیچھے اس نے دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا کے رمشاء نے دہل کر اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔
دارم ہمیشہ کی طرح آج بھی غصے میں تھا۔۔
ہمیشہ کی طرح اسکی پوری کوشش کے باوجود آج بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔۔
اس بچی کے گھر والے ایف آئی آر درج کروانے پر راضی ہی نہیں ہوئے تھے۔۔
۔
شام کے وقت وہ دونوں گھر آئے تو غیر معمولی طور پر گھر میں کافی رونق تھی۔۔ دارم نے اچھنبے سے گھر کے باہر کھڑی گاڑیوں کی قطار کو دیکھا۔۔
“اگر شہباز ضمیر کی کوئی ڈیل ہوئی تو خبردار جو تم سامنے آئی”_
ازو کی جانب سے دروازہ کھولتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ انداز وارن کرتا ہوا تھا۔۔
وہ تو ابھی تک اس واقعہ کے زیر اثر تھی خاموشی سے اثبات میں گردن ہلا گئی۔۔
ازورا کو کمرے میں بھیجنے کے بعد وہ ڈآئننگ روم میں آیا۔۔ جہاں دو خوش گپیوں کے دوران کھانا کھایا جا رہا تھا۔۔
دارم نے ایک نگاہ پورے کمرے پر ڈالی۔۔ دو خوش شکل ماڈرن سی دیکھنے والی خواتین کے درمیان بیٹھی امل۔۔ شہباز کے ساتھ ایک نفیس سی طبیعت کے اس کے ہم عمر شخص بیٹھے تھے۔۔ وہ انھیں جانتا تھا وہ شہر کی نامور شخصیت تھے۔۔
“دارم۔۔ آ گئے ہسپتال سے۔۔ یہ دارم ہے میرا بھتیجا۔۔ میرا بیٹا ہی ہے یہ”_
رومیسہ نے پرجوش انداز میں اسکا تعارف کروایا تھا۔۔ دارم نے سنجیدگی سے شہباز کی دوسری جانب بیٹھے خوبرو مرد کو دیکھا۔۔ وہ ستائیس سال کا ایک خوش شکل مرد تھا جو کافی دلچسپی سے امل کا جائزہ لے رہا تھا۔۔
“اور یہ خاور صاحب ہیں۔۔ انکے بیٹے سفیان امل کے یونی فیلو ہیں۔۔ امل کے رشتے کے لئے تشریف لائے ہیں یہ”_
رومیسہ کی بات پر امل نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔
وہ ایک سلگتی نظر سامنے بیٹھے سفیان پر ڈال کر امل کے برابر ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ نجانے کیوں مگر امل کا ان سب کے درمیان یوں بیٹھنا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔
امل نے بےچارگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکے کلون کی خوشبو اس قدر قریب سے آتی اسے مشکل میں ڈال رہی تھی۔۔
وہ آج پہلی بار یوں اسکے قریب بیٹھا تھا۔۔ اور بیٹھا بھی کب تھا۔۔
۔
“تو آپ دونوں یونی فیلو ہیں؟”_
اسکے لہجے کی تپش امل باخوبی محسوس کر رہی تھی۔۔
“جی ! میں امل کا سینئر ہوں۔۔
سفیان نے کافی دوستانہ انداز میں کہا تھا۔۔
“ہممم !!”
ہنکارہ بھرتے اس نے ایک بار امل کی جانب دیکھا۔۔ نجانے کیوں لیکن امل کو اسکی آنکھوں میں شکوے نظر آئے ۔۔
“کافی اچھی انڈراسٹینڈنگ لگتی ہے آپ لوگوں کی ؟”
اسکا انداز بہت کچھ جتاتا ہوا تھا۔۔
“کاش ایسا ہوتا، مگر انہوں نے تو اپنا نام تک نہیں بتایا تھا مجھے۔۔ وہ تو شہباز انکل کو انکے ساتھ دیکھ کر مجھے پتہ لگا کے یہ شہباز انکل کی بیٹی ہیں۔۔ تو بس ہم حاضر ہو گئے آج اپنی فریاد لے کے “_
اسکی گفتگو سے دارم کو بہت زندہ دل لڑکا لگا۔۔
لیکن دل نجانے کیوں اس زندہ دل لڑکے کو زندہ دفنانے کے درپے تھا۔۔
“چلیں پھر آپ لوگ انجوائے کریں۔۔ مجھے صبح ہسپتال جانا ہوتا ہے میں جلدی سوتا ہوں”_
سنجیدگی سے کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
امل نے ایک نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر سب سمجھتے ہوئے بھی بےخبر بنتے اسنے ابرو اچکا کر سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو اسکے بعد کیا رہتا ہے۔۔
خاور صاحب سے ملتا وہ اپنے کمرے کی بجائے لان میں آ گیا تھا۔۔
دل نجانے کیوں خالی خالی سا لگ رہا تھا۔۔
جس لڑکی کی آنکھوں میں بچپن سے اپنے لئے پسندیدگی دیکھتے آیا تھا۔۔ آج اسی لڑکی کے لئے دوسرے شخص کی آنکھوں میں محبت اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔
وہ یہ بات تسلیم کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن امل شہباز کا عکس کسی دوسرے مرد کی آنکھوں میں دیکھنا اسے جلتی بھٹی میں ڈال گیا تھا۔۔
دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے وہ لان کی گھاس پر ننگے پاؤں چل رہا تھا۔۔
اس گھاس کی نمی بھی اسکے اندر ٹھنڈک پیدا نہیں کر پا رہی تھی۔۔
“آپ سوئے نہیں “_
اسکی نرم آواز پر دارم نے رخ موڑھ کر دیکھا۔۔ اسکے جوتوں کے ساتھ اپنی سلیپر اتارے وہ اسکی ہی طرح ننگے پاؤں گھاس پر کھڑی تھی۔۔
دارم کی نظروں سے اسکا یہ عمل مخفی نہیں تھا۔۔
یہ لڑکی اپنے ہر عمل سے واضح کرتی تھی وہ اسکے ساتھ کی خواہاں ہے۔۔
“کیوں چلے گئے آپ کے مہمان۔۔ اوہ سوری آپ کے خواہش مند”_
اسکے لہجے کی سلگن سامنے کھڑی نازک سی لڑکی کے جذبات بھی راکھ کر رہی تھی۔۔
“دارم میں انھیں جانتی بھی نہیں ہوں۔۔ وہ بابا کی وجہ سے آئے تھے”_
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ اسے صفائی کیوں دے رہی تھی۔۔
“خاندان اچھا ہے۔۔ خوش رہیں گی آپ۔۔ لڑکا بھی اچھا ہے۔۔ اسکی آنکھوں میں محبت ہے آپ کے لئے”_
وہ سفاکیت کی حد کر گیا تھا۔۔ وہ بپھری شیرنی کی مانند اسکے سامنے آئی تھی۔۔
“آدھے گھنٹے کی ملاقات میں اسکی آنکھوں میں محبت دیکھ لی آپ نے۔۔ اور میری محبت نظر نہیں آتی آپ کو۔۔ میں کسی اور کے ساتھ کا تصور بھی نہیں کر سکتی دارم۔۔ آپ کیوں نہیں سمجھ رہے۔۔ آپ کو میری محبت کیوں نظر نہیں آتی”_
وہ درد ناک سی روتی ہوئی اس شخص کے سامنے سب کچھ ہار رہی تھی۔۔ اسکی محبت میں امل شہباز نے اپنی عزت نفس اس پر وار دی تھی۔۔ جو اسکی محبت سے صدا سے انکاری تھا۔۔
“دارم میں جان لے لونگی اپنی۔۔ کسی اور کے نام ہونے سے پہلے”_
وہ اپنے ہوش میں نہیں لگ رہی تھی۔۔ سبز رنگ کے فینسی لباس میں ملبوس۔۔ اسکی ناک حد سے زیادہ سرخ ہوتی۔۔ بھیگی پلکیں۔۔ لرزتے لب کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتے تھے۔۔
لیکن سامنے دارم اسفہان موجود تھا۔۔ جس پر اسکے آنسوں کا اثر تھا نا اسکی گریہ زاری کا۔۔
۔
“اگر آپ نے مام۔۔ یا شہباز صاحب میں سے کسی کے سامنے بھی میرا نام لیا تو آپ کا یہ شوق میں اپنے ہاتھوں سے پورا کر دونگا”_
اسے شانوں سے جکڑے وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے بولا تھا۔۔
۔
