Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢۴
۔
جہازی سائز بیڈ پر بےخبر پڑی تھی۔۔ وہ اسکے مقابل یوں شکستہ سی حالت میں بیٹھا کرب زدہ نگاہوں سے اسکے نازک وجود کو تک رہا تھا۔۔
وہ اسکی کالی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس تھی۔۔ آدھی آستین سے بازو پر داغے گئے نشانات واضح نظر آ رہے تھے۔۔ گلابی پنڈلیوں پر بھی نشان واضح ہو رہے تھے۔۔
کون تھا جس نے اس قدر درندگی کی چھاپ چھوڑی تھی اسکے وجود پر۔۔ اسکے جسم کا کوئی حصّہ خالی نہیں تھا ان نشانات سے۔۔
گردن۔۔ بازو۔۔ سینہ۔۔ ہر جگہ۔۔ کسی وحشی جانور کی وحشت کی چھاپ تھی۔۔
کوئی انسان تو ایسا نہیں کر سکتا۔۔ وہ کوئی وحشی جانور ہی تھا جس نے اپنی وحشت کے گھوڑے پر سوار اس معصوم کی ذات کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔
وہ شکست خوردہ نگاہوں سے اسے تک رہا تھا۔۔ زندگی کے ان بےجان ساعتوں میں سانس لیتی وہ لڑکی کن اذیتوں سے گزری ہوگی۔۔ اپنے وجود کو اس قدر داغدار دیکھ کر وہ ہر روز کی قیامت سے گزرتی ہوگی۔۔ اپنے ہاتھوں سے خود پر گزری قیامت چھپاتی رہی تھی وہ۔۔۔
۔
چند ساعت گزرے تھے جب وہ آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگی تھی۔۔ نوح نے انگارا ہوتی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ جو سارا منظر واضح ہوتے ہی بےیقینی سے اپنے وجود کو تک رہی تھی۔۔
“تو کیا وہ اسکے سامنے اپنے اصل میں موجود تھی ؟”
اسکی آنکھوں میں آنسوں چمکے تھے۔۔۔
“اور کیا تھا اسکا اصل ؟؟”
“داغ دار وجود۔۔ جسے وہ آج تک میک کے تہوں میں چھپاتی آئی تھی۔۔۔ جو آج اس پر یوں عیاں ہوا تھا تو وہ خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔۔
اس نے ہاتھ لگا کر اپنے بازو کے نظر آنے والے نشانات کو دیکھا جیسے انھیں چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
پھر پنڈلیوں کی_ پھر گردن_
وہ خود کو چھوتی بری طرح رو رہی تھی۔۔
اسکی حالت پر نوح کی آنکھوں میں سوئیاں سی چبھ رہی تھیں۔۔ حلق میں کانٹے اٹک گئے تھے۔۔ گردن کی رگ پھٹنے کے قریب تھی۔۔
۔
“کس نے ؟”
لبوں سے بےربط سے جملے ادا ہوئے تھے۔۔ لیکن مطلب پورا تھا۔۔ وہ جانتی تھی وہ کیا پوچھ رہا ہے۔۔
اس کے چہرے پر وحشت سی اتر آئی تھی۔۔ جن نین میں وہ ڈوبنے کا خواہشمند تھا۔۔ جن میں اپنی محبت کے رنگ دیکھنا نوح ارسلان کی تمام زندگی کی حسرت تھی۔۔ اس میں اس وقت وحشت تھی۔۔
فقط وحشت تھی۔۔
وہ خوف سے لرزتی اس سے مزید دور ہوئی تھی۔۔ نفی میں گردن ہلاتی بیڈ کے کنارے آ ٹکی تھی۔۔ اس سے پہلے کے وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوتی نوح نے اسکی کلائی تھام کر روکا تھا۔۔
“کون تھا وہ ازورا ؟”
اسکی گرفت کے ساتھ لہجہ بھی نرم تھا۔۔
“نننن نہیں۔۔ کو کوئی نہیں ۔۔۔ ممم میں نے ککک کسی کو نہیں دیکھا۔۔ میں کسی کو نہیں بتاؤں گی”_ وہ اس وقت اسے جواب دہ نہیں تھی۔۔ وہ تو وہی کہ رہی تھی وہ پچھلے چھ سالوں میں وقتاً فوقتاً اسے کہنے کا عادی کیا گیا تھا۔۔ “تابعداری کے نام پر غلامی سکھا کر اسے ذہنی غلام بنا دیا گیا تھا”
۔
“ازورا آئی نو ایچ اینڈ ایوری تھنگ۔۔۔ کون تھا وہ ؟”
اسے بازو سے تھامے وہ دباؤ دیتا ہوا بولا تھا۔۔۔
“پپ پلیز میں نہیں بتاؤں گی”_
وہ التجائیہ انداز میں کہتی مسلسل نفی میں گردن ہلا رہی تھی۔۔۔
“ازورا میں آپ سے سوال کر رہا ہوں کون تھا وہ ؟؟”
اب کی بار کمرے میں اسکی دھاڑ گونجی تھی۔۔
“شش شہباز “_ وہ دونوں ہاتھ کان پر رکھے بری طرح روتی ہوئی بولی تھی۔۔ نوح نے غصے سے لب بھینچے۔۔ آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگی تھیں۔۔۔ وہ آگ کی بھٹی میں جلتا ماضی کے انگاروں کے لپیٹ میں آ گیا تھا۔۔ منظر بدل رہا تھا۔۔ ازورا کی جگہ روشانے نے لے لی تھی۔۔ اسے ازورا نظر نہیں آ رہی تھی وہ تو سہمی ہوئی روشانے ارسلان تھی جو بری طرح رو رہی تھی۔۔ “روشی کون ہے وہ ؟؟ ارسلان شیروانی بےبسی کے عالم میں اپنی محبت کو دیکھتے پوچھ رہے تھے۔۔ وہ سات سالہ معصوم بچہ اپنی ماں کو روتے دیکھ خود بھی ساکت آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔ وہ جانتا تھا اسکا باپ اسکی ماں سے کس قدر محبت کرتا ہے۔۔ “روشی میری جان۔۔ مجھے بتاؤ کون ہے وہ ؟” اسکا باپ اب بےبسی کے عالم میں اسکی ماں کے دونوں ہاتھوں کو پکڑے بیٹھا تھا۔۔ اسکی ماں کے لبوں سے سرسراتی ہوئی آواز برآمد ہوئی تھی۔۔ “شہباز ضمیر “
۔
اس نے لہو رنگ آنکھوں سے خوف سے بری طرح کانپتی تڑپ کر روتی ازورا کی جانب دیکھا۔۔
“شہباز ضمیر “
اسکی آواز میں چٹانوں سی سختی تھی۔۔
اسکا تنفس تیز ہو گیا تھا۔۔ وہ کمرے میں چکر لگاتا شاید اپنے اندر اٹھتے ابال کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
وہ بیڈ کی پشت سے لگی بری طرح کانپتی رو رہی تھی۔۔ نوح کی حالت اسکے خوف میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔۔
اسکی جانب نظر گئی تو نوح کو شدّت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔ اس طرح تو وہ اس سے مزید خوفزدہ ہو جائے گی۔۔
گہری سانس لے کر وہ اسکی جانب آیا۔۔
نرمی سے اسے سینے سے لگا گیا۔۔
وہ سہارا پا کر مزید بکھرتی تڑپ کر رونے لگی۔۔۔
اس نے اسے رونے دیا تھا۔۔ نرمی سے پُشت سہلاتا خاموشی سے اپنے ساتھ کا یقین دلاتا رہا۔۔
“ششش بسس”_ اس نے نرمی سے اسے جدا کرنا چاہا وہ مزید بری طرح رونے لگی تھی۔۔ “بسس۔۔ بہت رو لیا۔۔ چپ ہو جائیں”
مشکل سے اسکا چہرہ ااوپر کرتے نرمی سے ماتھا چوم کر اسکے ہوش میں پہلی بار اپنے لمس سے آشنا کروایا تھا۔۔
“آج آخری بار رو لیں جو ہوا اس پر۔۔ اسکے بعد آپ کبھی نہیں روئینگی۔۔ آپ کا گناہ گار روئیگا۔۔ موت مانگے گا شہباز ضمیر مگر موت کو بھی اس پر ترس نہیں آئیگا”_
اسے خود میں چھپائے وہ مضبوط لہجے میں بول رہا تھا۔۔
“مجھے معاف کر دیں نوح۔۔ مجھے آپ سے چھپانہ نہیں چاہیے تھا۔۔ آپ کا حق تھا کے آپ کو پہلے سے معلوم ہو۔۔ پھر آپ ایک داغ دار لڑکی کو بیوی بناتا چاہتے ہیں یا نہیں”_
کافی دیر بعد اسکی سسکیاں کچھ تهمی تو گلوگیر لہجے میں بولی۔۔
اسے واقعی دکھ تھا نوح ارسلان کو لاعلم رکھنے کا۔۔ مگر اسکی ذات کے بارے میں وہ اب بھی غلط اندازے لگا رہی تھی۔۔
“آپ چاند ہیں نوح۔۔ بہت خوبصورت۔۔ مگر پہنچ سے بہت دور۔۔ میں اس چاند میں داغ نہیں بننا چاہتی”_
وہ بےدردی سے بولتی اس شخص کو کند چھوری سے ذبح کر رہی تھی۔۔
“Noor Arsalan is in love with your soul lady”_ اسکے انداز میں سختی تھی لیکن پھر بھی اسکے الفاظ ازورا پر شبنم کی ٹھنڈی، خوشبو دار قطروں کی مانند گرے تھے۔۔ اسے اسکے جسم کے داغدار ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔ ۔ “میری تو روح تک تار تار ہو چکی ہے نوح۔۔ آپ کو میری روح سے محبت کر کے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔ اس نے صرف میرا جسم نہیں روندا۔۔ وہ میری روح زخمی کر گیا ہے۔۔ آنکھوں سے بہتا یہ سیال سرخ ہے۔۔ میری آنکھیں خون بہآتی ہیں نوح۔۔ یہ میری روح کی موت پر ہی تو روتی ہیں۔۔ جسم تو اسی روز ختم ہو گیا تھا جس روز اسے اس بھیڑیے نے بھنبھوڑ دیا تھا”_
وہ آنسوں صاف نہیں کر رہی تھی اور نوح کو واقعی لگا کے اسکی آنکھوں سے بہتا یہ بے رنگ مائع سرخ ہے۔۔
۔
“جب بھیڑیے روح کو نوچ جائیں تو محض چلتی سانسوں کو زندہ ہونا تو نہیں کہتے نا۔۔ آپ نے ایک زندہ لاش سے محبت کی ہے نوح ارسلان۔۔ جسکا جسم اس قابل نہیں چھوڑا گیا اور روح اس قدر چھلنی ہے کے اس پر مسیحائی کرتے شاید پوری عمر گزر جائے”_
وہ خود اذیتی کی انتہا پر کھڑی اسکی اذیت حد سے سوا کر گئی تھی۔۔ اسکی تکلیف پر وہ دوہری تکلیف میں مبتلا ہو رہا تھا۔۔۔
۔
“میں تمام عمر مسیحائی کرونگا۔۔ آپ مسیحا ہونے کا حق دے دیں لیڈی”_
آج پہلی بار نوح ارسلان نے اس سے کوئی عہد کیا تھا۔۔
۔
“میری محبت کو اپنی خوبصورتی سے مشروط نہیں کریں لیڈی۔۔
آج اسکے لہجے میں نرمی تھی۔۔ محبت تھی۔۔ جسے آج وہ اس مخفی نہیں رکھ رہا تھا۔۔
“مجھے بتائینگی اس رات سے متعلق ؟”
اسکا نازک وجود خود میں سموئے اس نے سوال کیا۔۔ وہ پل بھر میں وحشت زدہ سی ہو گئی تھی۔۔ پسینے کی ننھی بوندیں اسکی پیشانی پر چمک رہی تھیں۔۔
“اٹس اوکے۔۔ پینک مت ہوں۔۔ جب کبھی آپ کا دل آمادہ ہو آپ جب بتا سکتی ہیں۔۔ میری جانب سے آپ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔۔ جب کبھی بھی آپ کو لگے کے نوح ارسلان اس قابل ہے کے اسے اپنے ماضی سے آگاہ کر سکتی ہیں آپ مجھے پکار سکتی ہیں۔۔ میں محض ایک پکار کی دوری پر ہوں آپ سے” _
اسے ایک بار پھر اسی حالت میں جاتے دیکھ وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔ وہ چاہتا تھا وہ بنا کسی دباؤ کے اسکے آگے اپنی ذات کھولے۔۔
۔
“ایک مرد نے مجھے اس وقت رُسوا کیا جب میری گڑیوں سے کھیلنے کی عمر تھی۔۔ میری ذات کو روند کر عمر بھر کے لئے ایک داغ میرے وجود پر لگا دیا۔۔ سب کو پتہ ہے کے میں ایک “ریپ وکٹم” ہوں۔۔ پھر اسی مرد نے مجھے یہ کہ کر اپنا نام دیا کے ایسی لڑکی کو کون اپنائیگا جسکے پاس عزت ہی نا ہو۔۔ زیادتی میرے ساتھ ہوئی اور عزت بھی میری ہی گئی۔۔ یہ ظلم نہیں ہے ؟ اور اسکے بعد میری زندگی میں ایک مرد آیا جس نے ایک بزنس ڈیل کے طور پر میرا سودا کر دیا۔۔ مجھے ایک بار پھر اپنا نام دیا گیا۔۔ ایسے میں آپ سمجھتے ہیں بھروسہ لفظ کا مطلب بھی جانتی ہونگی میں ؟”
وہ اب بھیگی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتی ٹھہرے لہجے میں بولی تھی تھی۔۔
“آپ بھی تو چھوڑ دینگے نا مجھے ؟”
اس کی آنکھوں میں کس قدر خوف تھا۔۔ پلکیں جھپک کر وہ آنسوں اندر اتارنا چاہ رہی تھی۔۔
“آپ کو لگتا ہے آپ کو چھوڑ کر نوح ارسلان زندہ رہ سکے گا ؟”
اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔ جس کے آنکھوں میں آگاہی کے کتنے در کھلتے چلے گئے۔۔
نوح ارسلان کی آنکھیں چیخ کر کہ رہی تھیں۔۔ کے دو الگ الگ دلوں میں ڈھڑکتی دھڑکن ایک ہی تھی۔۔ اسے چھوڑ کر وہ کیسے زندہ رہ سکتا تھا۔۔
“اگر وہ ڈیل نہیں ہوتی وہ کبھی آپ کو آزاد نہیں کرتا ازورا”_
وہ اسکے دل میں کھبی یہ پھانس آج نکال دینا چاہتا تھا۔۔
۔
“اسے پتا چل گیا اگر کے میں نے آپ کو بتا دیا ہے تو”_ ایک اور خدشے نے سر اٹھایا تھا۔۔ خوف میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔ ۔ “اسے بہت جلد پتہ چل جائیگا کے اس نے کیا کیا ہے۔۔ اور کس کے ساتھ کیا ہے۔۔ ایسی جگہ لا کر مارونگا شہباز ضمیر کو کے پانی بھی نہیں ملے گا”
اس پر گرفت مضبوط کے اسکے لہجے میں اتنی ہی سختی تھی۔۔
“فریش ہو جائیں پھر نیچے چلتے ہیں۔۔ دادو آپ کا صبح سے انتظار کر رہے ہونگے”_
اپنی گرفت کچھ نرم کرتا وہ موضوع بدل گیا تھا۔۔ شاید اسے نارمل ہونے کے لئے وقت دے رہا تھا۔۔ وہ اثبات میں گردن ہلا گئی۔۔۔
ابھی اسکی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کے وہ اس سے اس پر بیتی ہر بات پوچھتا۔۔
وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھے میک ریموور پر نظر پڑنے پر ایک بار پھر سر جھکا گئی تھی۔۔ اس شخص سے اب وہ کبھی نظریں نہیں ملا سکے گی۔۔ ایک آنسوں ٹوٹ کر قدموں میں گرتا بےمول ہوا تھا۔۔ جو نوح ارسلان کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہیں رہا تھا۔۔
وہ خاموشی سے کمرے سے منسلک باتھ روم میں داخل ہوتی قد آور آئینے میں نظر آتا اپنا وجود تک رہی تھی۔۔ آنسوں پلکوں کی باڑھ توڑ کر عارض پر بہتے چلے گئے۔۔
آئینے میں اسکی اصل صورت نظر آ رہی تھی۔۔ اسکے وجود کا اصل۔۔
گلابی رنگت کالی شرٹ میں گلال لئے دہک رہی تھی۔۔ سرخ و سفید بازوؤں پر ابھرے وہ نشانات ۔۔۔ ہر نشان واضح تھا۔۔ وہ کب سے اسکے سامنے اسی طرح بیٹھی تھی اور ایک بار بھی اسکی نظروں نے اسے یہ محسوس نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔
وہ کہ رہا تھا اسے اسکی روح سے محبت ہے۔۔ مگر اسکی تو روح بھی تار تار ہو چکی تھی۔۔ وہ تو پوری ہی ٹوٹ کر بکھر چکی تھی۔۔
کافی دیر تک دل کا غبار آنکھوں کے ذریعے نکال لینے کے بعد وہ بھیگا چہرہ لئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
اسکی جانب دیکھنے سے احتراز برتتے وہ خاموشی سے کمرے سے باہر جانے لگی تھی۔۔
اس نے اسے کلائی سے تھام کر روکا تھا۔۔ گرفت بہت نرم تھی وہ چاہتی تو آزاد کروا سکتی تھی۔۔ لیکن کچھ تو تھا اس گرفت میں وہ سن سی ہوتی اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔
اس نے اسی نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر صوفہ پر بیٹھایا تھا۔۔ خود اسکے سامنے کارپیٹ پر بیٹھتا اسے حیران کر گیا تھا۔۔
“محرم جانتی ہیں کون ہوتا ہے ؟”
اسکا سوال بہت غیر متوقع تھا۔۔ ازورا نے حیران نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ بولی کچھ نہیں۔۔
“جسکی رسائی آپ کے روح تک ہوتی ہے۔۔ آپ کا لباس جو آپ کو ڈھانپ لیتا ہے۔۔ آپ کا ہمراز جس سے آپ کا کوئی راز چھپا نہیں رہتا۔۔ جسے اللّه نے آپ کے ساتھ کے لئے چنا ہوتا ہے”_
وہ اسکے دونوں ہاتھ ہاتھوں میں لئے نرمی سے بول رہا تھا۔۔ چشمے کے پیچھے سے جھانکتی ڈارک براؤن آنکھیں سرخی لئے کرب سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
“میں آپ کا محرم ہوں ازورا”_ اسکی آنکھیں روانی سے بہ رہی تھیں۔۔ ایک جملے میں وہ ساری بات کہ گیا تھا۔۔ “مجھے آپ سے محبت ہے۔۔ آپ جس طرح ہیں اسی طرح۔۔ آپ کو خود کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے مجھ سے یا کسی سے بھی۔۔ میں آپ کے وجود ہر حصّے سے محبت ہے۔۔ یا داغ آپ کی خوبصورتی کو متاثر نہیں کرتے۔۔ آپ ہر حال میں حسین ہیں۔۔ بہت حسین ہیں ازورا”
اسکی کلائی پر ابھرے نشان پر لب رکھتے وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔۔ آج پہلی بار کسی نے ان نشانات پر مسیحائی کی تھی اسکی آنکھیں ایک بار پھر بهیگنے لگی تھیں۔۔
اس نے بہت نرمی سے اسکے آنسوں چن لئے تھے۔۔ اسکا آنسوں سے تر چہرہ صاف کرتے وہ پہلی بار مسکرایا تھا۔۔ ازورا نے آج پہلی بار اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔۔ مسکراتے ہوئے اسی آنکھیں چمکنے لگتی تھیں۔۔ وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرائی۔۔ نوح نے نرمی سے اسے ساتھ لگایا تھا۔۔
۔
“یہ رہی میڈیکل رپورٹ۔۔ یہ اس بچی کی ماں کا بیان۔۔ اب آپ ایف آئی آر درج کریں”_
وہ سیاہ عبایا میں ملبوس سرمئی رنگ کا حجاب چہرے کے گرد لپیٹی وہیل چیئر پر بیٹھی سامنے بیٹھے پولیس افسر سے مخاطب تھی جو ہاتھوں میں کاغذات لئے کھسیانی ہنسی ہنس رہا تھا۔۔
۔
“لیلیٰ جی۔ وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔۔ کیوں ان غریب غرباء کے لئے آپ اپنا اچھا خاصا چلتا ہوا آرگنائزیشن بند کروانا چاہتی ہیں”_
وہ افسر اسکی جانب جھکتا قدرے رازداری سے بولا تھا۔۔
“آپ ایف آئی درج کریں ورنہ آپ جانتے تو ہیں جہاں لیلیٰ جمال اکبر موجود ہو وہاں میڈیا بن بلائے پہنچ جاتی ہے۔۔ آپ کی نوکری چلی گئی تو آپ کا شمار بھی انہی غریب غرباء میں ہونے لگے گا”_
وہ طمانیت سے مسکراتی بولی تھی۔۔ اس افسر کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزرا تھا۔۔
۔
“آپ جب وہاں پہنچی تو کیا دیکھا آپ نے۔۔ کیا کیا تھا حمزہ شاہ نے آپ کی بیٹی کے ساتھ”_
اسکا رخ اب آرزو کی جانب تھا جو لیلیٰ کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
“اس نے مجھے کال کی تھی میں جب وہاں پہنچی تو میری بیٹی سامنے نہیں تھی”_
“تو آپ اس پر حملہ ور ہو گئیں؟”
وہ اسے بیچ میں ہی روکتا ہوا بولا تھا۔۔
“اس نے مجھے جنسی طور پر ہراس کرنا شروع کر دیا تھا۔۔ وہ میرے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔ میں نے بہت کوشش کی خود کو محفوظ کرنے کی اس پر حملہ میں نے اپنے بچاؤ میں کیا تھا لیکن میں مقابلہ نہیں کر پائی اسکا۔۔ اس نے۔۔ اس میرے ساتھ زیادتی کی”_
وہ بری طرح سسک رہی تھی۔۔
“کس طرح ہراس کیا اس نے آپ کو ؟”
اسکے سوال پر لیلیٰ نے افسوس سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“ووو وہ مجھے چھو رہا تھا”_
وہ شرمندگی سے سر جھکائے ہوئے بولی تھی۔۔
“جی بی بی کس طرح چھو رہا تھا یہی تو پوچھ رہا ہوں میں”_
اس نے سفاکی کی انتہا کر دی تھی۔۔
“یہ کس طرح کے سوالات کر رہے ہیں آپ اس سے”_
لیلیٰ کی برداشت اب ختم ہو چکی تھی۔۔
“لیلیٰ جی۔۔ تفتیش ابھی شروع ہوئی ہے۔۔ سوالات تو اسی طرح کے ہونگے۔۔ آپ اور ہم تو نہیں جانتے نا میڈم کے زیادتی ہوئی بھی یا”_
وہ سفاکی سے بولا تھا۔۔
“میری مانیں تو کیس واپس لے لیں۔۔ اس سے کہیں زیادہ سوالات آپ سے کورٹ میں پوچھیں جائینںگے”_
۔
“کیس کسی صورت واپس نہیں لیں گے ہم”_
لیلیٰ نے برہمی سے کہا تھا۔۔
۔
“میں تو آپ کے بھلے کے لئے کہ رہا تھا جی۔ سزا تو اسے ویسے بھی نہیں ہونی یہ آپ بھی جانتی ہیں لیکن اس بدنامی کا انتقام کہیں اسکا باپ لیلیٰ جمال اکبر سے نا لے لے۔۔ آپ جانتی تو ہیں جی انہیں تو محض عورت چاہیے ہوتی ہے اب چاہے وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو ياااا”_
اسکے وجود کو تکتے اس نے خباثت سے بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔
حیرت انگیز طور پر لیلیٰ غصے میں نہیں آئی تھی وہ مسکراتی ہوئی اپنے ہاتھوں میں موجود پین گھما رہی تھی۔۔
“آپ جیسے افسر ہی ہوتے ہیں جنکے خوف سے عورتیں رپورٹ نہیں درج کرواتیں”_
اس نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ ساتھ ہی لڑکی کو اشارہ کرتے باہر چلنے کا کہا۔۔
عشق تو وہ ہے !
جو عاشق کو دشتِ نینوا میں لا کر
شدت ِ پیاس سے میزبانی کرے
اور بدلے میں لہو مانگے۔۔
۔
شام کا ملگجا سا اندھیرا ہر طرف چھا رہا تھا۔۔ وہ ہسپتال سے نکل رہا تھا جب موبائل پر رنگ ہوئی۔۔ نمبر دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔ یہ نمبر اسے اچھی طرح ازبر تھا۔۔
“جی کہئے”_
ایک لمحے کو اسکے دل میں خیال آیا کے کال ریسیو ہی نا کرے۔۔ اگلے ہی لمحے وہ موبائل کان سے لگاتے ہوئے بولا تھا۔۔
“دارم”_
اگلی جانب سے اسکی بھیگی ہوئی آواز سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔ دارم نے گہری سانس لی۔۔
“مایوں ہے آج میری۔۔ دو دن بعد نکاح”_
وہ نجانے اسے کیا بتا رہی تھی۔۔ لیکن دل میں یکدم ہی درد سا اٹھا تھا۔۔ اسکی آواز میں چھپا کرب اسے شدّت سے محسوس ہوا تھا۔۔
۔
“میں نے ہمیشہ آپ سے ایک ہی چیز مانگی دارم اور آپ نے ہمیشہ مجھے دھتکار دیا۔۔ آج میں آپ سے بہت بےضرر سی خواھش کر رہی ہوں۔۔ ہو سکے تو پوری کر دیں”_
اسکی بھیگی آواز ایک بار پھر آئی تھی۔۔ وہ سن سا کھڑا تھا۔۔ الفاظ حلق میں ہی کہیں دم توڑ رہے تھے۔۔
۔
عشق تو وہ ہے !
جو صحرا میں اپنے عاشق کے
دل کے ٹکڑوں سے
اپنی ویرانیاں آباد کرے۔۔
۔
“اپنی شادی کی دعوت دینے کے لئے کال کی میں نے آپ کو۔۔ کزن کا ہی صحیح بچپن سے تعلق رہا ہے ہمارا۔۔ میں چاہتی ہوں۔۔ کہتے ہیں مرنے والے کی آخری خواہش ضرور پوری کرتے ہیں۔۔میری محبت مر رہی ہے۔۔ میں مر رہی ہوں دارم اسفہان۔۔ اور چاہتی ہوں جنازے پر آپ ضرور شرکت کریں”_
بھیگی آواز اب سسکیوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔۔ وہ سسکیوں کے درمیان بول رہی تھی۔۔
“کک کر دینگے میری خواہش پوری ؟”
وہ سسکیوں کے درمیان بولتی سراپا سوال تھی اور اسکے پاس اس کے لئے آج بھی کوئی جواب نہیں تھا۔۔
۔
“آپ کو دیکھنے کا۔۔ آپ کو چاہنے کا حق میرے پاس نہیں ہوگا۔۔ آپ کے جس لمس کی خواہش میں میں جیتی رہی وہ کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔۔ جس شدّت سے میں نے آپ کو چاہا آپ کی محبت سے اتنی ہی شدّت سے مجھے توڑ دیا دارم۔ ٹوٹی کرچیاں سمیٹ کر کل مجھے دلہن بنایا جائے گا۔۔ تازہ قبر تو دشمن بھی فاتحہ پڑھنے آ جاتے ہیں دارم۔۔ میری محبت کے قبر پر آپ فاتحہ پڑھنے آپ نہیں آئینگے ؟”
وہ آج اسکی جان لینے کے درپے تھی۔۔
“امل “_
اسکے لبوں سے بےاختیاری میں نکلا تھا۔۔۔ اسکی سسکیوں میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔
“امل زندہ ہے دارم۔۔ محبت مر گئی ہے”_
ٹوں ٹوں کی آواز پر دارم نے بےخیالی میں ہاتھ میں موجود فون دیکھا۔۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا وہ رو رہی ہوگی۔۔
تڑپ رہی ہوگی۔۔
تڑپ تو وہ بھی رہا تھا۔۔
۔
عشق تو وہ ہے !
جو اپنی آتش سے
قلبِ عاشق میں بیقراری کو
شاد رکھتے ہوئے
اک چنگاری کو سُلگتا رکھے !!
(منقول )
جاری ہے
