Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
“” جان ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۱
۔
“میں شہباز ضمیر پر کیس نہیں کرنا چاہتی”_
یہ جملہ نہیں تھا ایک بم تھا جو ان تینوں نفوس پر گرا تھا۔۔ نوح نے بےیقینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ یہ کیا کہ رہی تھی وہ۔۔
“ازورا آپ ہوش میں ہیں “_
اس نے سنجیدگی سے اسے پکارا تھا۔۔
“میں مکمل ہوش و حواس میں کہ رہی ہوں لیلیٰ مجھے شہباز ضمیر پر کیس نہیں کرنا ہے”_ اس نے نوح کی جانب ایک نگاہ بھی نہیں کی تھی۔۔ وہ لیلیٰ کو دیکھ رہی تھی۔۔ نوح بےیقینی سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا، وہ اسکا چہرہ، اسکی آنکھیں دیکھ رہا تھا۔۔ جو بلکل سپاٹ تھیں۔۔ جن میں نوح ارسلان یا کسی کے لئے کوئی جذبات نہیں تھے۔۔ “مجھے شہباز ضمیر یا کسی پر بھی کسی قسم کا کوئی کیس نہیں کرنا ہے۔۔ نا آج۔۔ نا چند مہینے، چند سال بعد، ان فیکٹ میں کبھی بھی نہیں کرنا چاہتی”
“ازورا! ہم گھر چل کر بات کریں گے۔۔ اٹھیں گھر چلیں “_
قطعیت بھرے انداز میں کہنے کے ساتھ ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ ساتھ ہی ازورا کی کلائی تھام کر اسے بھی کھڑا کر چکا تھا۔۔
لیلیٰ اور جمال لاکھ اپنے صحیح مگر وہ نوح ارسلان تھا اپنی زات اپنے معاملات راز رکھنے کا عادی_ اپنی ذات کا یوں تماشا نہیں بنانا اسکی شان کے خلاف تھا۔۔
“میں اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہوں نوح ارسلان”__
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے بہت بےتاثر سے انداز میں بولی تھی۔۔ ازورا نے دیکھا نوح کی نگاہوں میں پہلے تشویش پھر ملال ابھرا تھا۔۔۔
“کیا کہا آپ نے ؟”
نوح کو لگا اسنے کچھ غلط سنا ہے۔۔ یقیناً اس نے کچھ غلط سنا ہے۔۔ دل نے شدّت سے خواہش کی تھی وہ کہ دے کے یہ اس نے نہیں کہا۔۔ وہ کہ دیگی میں تو آپ کی ہی ہوں نوح۔۔ مجھے آپ پر یقین ہے۔۔
“میں نے کہا میں اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہوں نوح ارسلان۔۔ اور مجھے شہباز ضمیر پر کوئی کیس نہیں کرنا ہے”_
اس نے حرف با حرف اسکی آنکھوں میں دیکھتے بےخوف انداز میں کہا تھا۔۔
نوح کی گرفت اسکی کلائی پر غیر محسوس انداز میں کمزور ہوئی تھی۔۔ اس نے ہاتھ چھوڑا نہیں تھا اب بھی اسکا۔۔
سر میں درد کی عجیب سی ٹیس پر وہ اپنے ہاتھ کی پوروں سے کن پٹی جکڑ گیا، وہ تو نہیں ہوا جسکی نوح ارسلان کے دل نے خواھش کی تھی اور اس شدّت سے کی تھی۔۔ وہ تو اسے آج سے چھ ماہ پہلے والی ازورا لگی جسے اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔۔ وہی بےتاثر اجنبی سا انداز_ اس وقت تکلیف نہیں ہوئی تھی۔۔ آج ہو رہی تھی۔۔
“ازورا بچے ہم بات کرتے ہیں نا”_
نوح کی حد سے زیادہ سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر لیلیٰ نے مصلحانہ انداز میں کہا۔۔ جس انداز میں ازورا نوح سے بات کر رہی تھی۔۔ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں تھا وہ اسے بچپن سے جانتی تھیں نوح ارسلان تو تیز آواز برداشت نہیں کرتا کسی کی کجا یہ لہجہ۔۔
“ازورا یہ اجنبیت بھری نگاہیں، یہ بیگانا انداز نوح ارسلان کی جان کو آ رہا ہے۔۔ یہ میری جان لے لیگا ازورا۔۔ نا کریں۔۔ خدارا سمجھیں۔۔ نا کریں۔۔ پلیز چلیں “_ گہری سانس لیتا اس نے حد درجہ نرمی سے کہا تھا۔۔ اس لڑکی کے ساتھ وہ چاہ کر بھی سختی نہیں کر سکتا تھا۔۔ لیلیٰ نے حیرانگی سے جمال کو دیکھا یہ تو کوئی دوسرا ہی روپ تھا نوح ارسلان کا جو آج وہ دیکھ رہی تھیں۔۔ جمال اسے دیکھ کاندھے اچکاتے یوں مسکرائیں جیسے کہ رہے ہوں میں تو جانتا تھا یہ اسی طرح ہونا ہے۔۔ “میں نوح ارسلان ہوں ازورا۔۔ اور میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کے اپنی عورت پر طاقت دیکھانا مردانگی نہیں ہے۔۔ عورت بھی وہ رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہو۔۔ نوح ارسلان کی ڈکشنری میں اسے بےغیرتی کہتے ہیں۔۔ اور میں بےغیرت نہیں ہوں”
اس نے بہت ٹھہر ٹھہر کر اپنے مخصوص پرسکون انداز میں کہا تھا۔۔
اس کے انداز میں کچھ ایسا تھا جس نے ازورا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ وہ بےبسی کے دہانے پر تھی۔۔ وہ اسے کیسے بتائے کے اگر اس نے کیس کیا تو شہباز ضمیر اسے موت سے بدتر سزا دیگا۔۔ وہ اسے کیسے بتائے کے اس بدذات انسان نے اسکی ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔۔ وہ خالی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔۔ بولی تو صرف یہ۔۔
“مجھے کچھ دیر اکیلے رہنا ہے نوح۔۔ کچھ دیر۔۔ بسسس کچھ دیر”_
اب کی بار اسکے انداز میں ضد نہیں تھی۔۔ بے بس التجاء تھی_ تھکن تھی۔۔ گزارش تھی۔۔
اس وقت اسے نوح ارسلان نظر نہیں آ رہا تھا۔۔ اسکی محبت یاد نہیں تھی۔۔ وہ اسے دیکھ ہی نہیں پا رہی تھی۔۔ اسے تو وہ وحشت زدہ راتیں یاد آ رہی تھیں جو اس نے اس حیوان کے قید میں گزاری تھیں۔۔ وہ اذیت یاد آ رہی تھی جو اس نے سہی۔۔ وہ سہ رہی تھی۔۔ ہاں وہ اب تک سہ رہی تھی۔۔
نوح جو کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیلیٰ کے اشارے پر خاموش ہو گیا تھا۔۔
شام کی نارنجی روشنی تاحد نگاہ پھیل چکی تھی، دن بھر خبس بانٹتا سورج اب نڈھال ہو کر غروب کی تیاری میں اپنے زوال کے لمحے گن رہا تھا۔۔
لیلیٰ کے گھر سے باہر نکلتے ہی اس نے گہرا سا سانس بھرا اور اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو بے دردی سے رگڑے، چادر کا پلو منہ پر گرائے تیزی سے سڑک کنارے چلنے لگی۔۔
“اللّه کرے تم مرجاؤ۔۔ اللّه تمہیں موت سے بہت بدتر سزا دے شہباز”_
“گھٹیا انسان۔۔۔ یا اللہ یہ کیسی مشکل ہے، ککون سی آزمائش ہے”_
سڑک کنارے چلتی وہ روتی ہوئی اس قیامت سے دہل رہی تھی۔۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ کہاں جا رہی ہے۔ وہ سڑک کی سیدھ میں چلتی جا رہی تھی بس۔۔ شاید ایسی جگہ جہاں اسے شہباز نہیں ڈھونڈھ سکے۔۔ بلکے جہاں اسے کوئی نہیں دیکھ سکے۔۔
“نوح۔۔ نوح بھی چھوڑ دینگے۔۔ سسسب سب کے پاسس ویڈیو چلی گئی تو نوح بھی تو چھوڑ”_
نوح ارسلان سے جدا ہونے کا خیال بھی اب اسکے لئے سوہان روح تھا۔۔ کیا ہوگا اگر اس نے بھی چھوڑ دیا۔۔
اپنے خیال میں چلتی چلی جا رہی تھی جب تیز رفتار گاڑی اسکے قریب رکی۔۔ اس نے دھندلائی نظروں سے گاڑی سے نکلتے نوح کو دیکھا۔۔ وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا۔۔ اسکے دل نے گواہی دی تھی۔۔
“رہ لیا اکیلے اب بیٹھ جائیں گاڑی میں”_
مزید ہمّت تو اس میں خود بھی نہیں تھی۔۔ وہ چلتے چلتے لڑکھڑآئی۔۔نوح نے سرعت سے اسے تھاما۔۔ بمشکل اسکے بازو کا سہارہ لیے وہ بیٹھ پائی تھی، پورا وجود پریشانی اور تکلیف سے لرز رہا تھا۔ وہ اس وقت نوح ارسلان یا کسی کا بھی سامنا نہیں چاہتی تھی۔۔ دل میں ایک خیال آ رہا تھا کے اسے بتا دے۔۔ وہ نجانے کب تک یونہی بیٹھی رہتی اگر نوح اسے گھر آنے کے متعلق نہیں بتاتا۔۔ وہ گاڑی سے اترتی سیدھی اندر گئی تھی۔۔ جب کے وہ وہیں کھڑا سگریٹ سلگا چکا تھا۔۔کچھ وقت اسے بھی چاہیے تھا۔۔ وہ چاہتا تھا وہ کچھ دیر سوچ لے کے وہ اپنا اور اسکا کتنا بڑا نقصان کرنے جا رہی ہے۔۔
کمرے میں نیلے پردے نیم وا تھے، اور باہر شہر کی روشنیاں اپنے عروج پر تھیں۔۔ رحمن شاہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا، انگلیوں میں قیمتی سگار دبا ہوا، اور سامنے ٹی وی اسکرین پر “العنکبوت” کی کل کی پریس کانفرنس کے مناظر چل رہے تھے۔
اس کی نگاہیں ساکت تھیں، اور ہونٹوں پر وہ ہلکی مسکراہٹ جو صرف ذہین شکاریوں کے چہروں پر آتی ہے — جب وہ جانتے ہوں کہ شکار ابھی جھپٹا نہیں، لیکن پھنس چکا ہے۔
دروازے پر دستک ہوئی۔
معاون داخل ہوا۔
“سر، رپورٹر نعمان قریشی آپ کی لائن پر ہے۔۔۔”
رحمن شاہ نے سگار کے کش کے ساتھ سر ہلایا۔
فون کان سے لگایا اور دھیرے سے بولا:
“نعمان، خبر بنا لی تم نے؟”
فون سے ابھرتی آواز میں گھبراہٹ نہیں، جوش تھا۔
“جی سر، اسکرپٹ تیار ہے۔ کل صبح کی بریکنگ نیوز: ’زری کی ماں آرضو کا کردار مشکوک، سیاسی این جی اوز کا بےجا اثر‘۔۔۔
اور ساتھ ’العنکبوت‘ کی بھارتی فنڈنگ پر سوالات، اور مظلوم ماں کو بیچنے والی تنظیم کا زاویہ…”
رحمن شاہ مسکرایا۔
“عوام کو سچ نہیں چاہیے، جذبات چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔ اور جذبات، میں بنانا جانتا ہوں۔۔۔”
حمزہ دروازے پر آ کھڑا ہوا۔
“ڈیڈ، لیلیٰ جمال اب بھی خاموش نہیں بیٹھی۔۔۔ وہ احتجاج کال دینے والی ہے۔۔”
رحمن شاہ نے سگار ایش ٹرے میں دبایا۔
آنکھیں ایک نئی آگ سے دہکنے لگیں۔
“تو ہونے دو احتجاج۔۔ اسکا کیا ہے اسکا رخ تو آسانی موڑا جا سکتا ہے۔۔
رحمن شاہ کے ہونٹوں پر زہر خند مسکراہٹ ابھری۔
“بیٹا، یہ سیاست ہے۔۔۔ یہاں مظلوم صرف تب سچا ہوتا ہے جب اس کی تصویر ٹی وی چینل پر آتی ہے۔۔”
ڈھلتے سورج کی کرنوں کے ساتھ کراچی کی شام کچھ زیادہ ہی خوشگوار تھی۔
سمندر کی ہوا میں نمکین خوشبو، لوگوں کی چہل پہل، اور ڈھلتی سورج کی کرنوں میں سنہری جھلک… سب کچھ مکمل سا لگ رہا تھا۔وہ اسکا ہاتھ تھامے ساحل کی گیلی ریت پر اس کے قدم سے قدم ملاتا چل رہا تھا۔۔ انکی شادی کے بعد وہ پہلی بار اسے لے کر کہیں باہر آیا تھا۔۔
امل کا ہاتھ اسکے ہاتھوں میں تھا۔۔چلتے چلتے کبھی امل کو دیکھ لیتا، کبھی لبوں پر خاموش مسکراہٹ بکھیر دیتا۔
وہ خاموشی سے اسکے ساتھ چل رہی تھی لیکن چہرے پر ایک عجب سکون تھا۔۔ اور یہ سکون سفیان خاور کا ہی دیا ہوا تھا۔۔ چند قدم مزید چل کر وہ ریت پر ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ امل بھی اسکے پہلو میں ٹک گئی۔۔
“ایک تصویر لے لوں ہماری امل “_
وہ ہر بات اس سے یونہی پوچھا کرتا تھا۔۔ ہر چیز میں اسکی رائے لیتا۔۔ کم گو تو وہ پہلے بھی تھی لیکن اسکے ساتھ تو وہ بہت کم ہی بات کیا کرتی تھی پر پھر سفیان خاور اسے اپنی گفتگو میں شامل کر لیتا تھا۔۔
امل نے ہلکی مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھا، اور آہستگی سے اثبات میں گردن ہلا دی۔۔ اسے اپنے حصار میں لے کر کچھ قریب ہوتے سفیان خاور نے ان دونوں کی پہلی تصویر موبائل کے کیمرے میں قید کی تھی۔۔ وہ کیمرے کی جانب دیکھ Jرہی تھی جب کے سفیان وارفتگی سے اسکی جانب تک رہا تھا۔۔
چند قدم دور…
عین اسی لمحے اپنی گاڑی سے نکلتے دارم اصفہان کی نظریں غیر ارادی طور پر اٹھی تھیں اور پھر پلٹنا بھول گئی تھیں۔۔۔ قدم ٹھٹک گئے، اور سانس جیسے کسی انجانے لمحے کی چوٹ سے رک گئی ہو۔۔
وہ ہسپتال کے بعد رمشا کے ضد کرنے پر ساحل کی طرف آ نکلا تھا، رمشا اس کے ساتھ ہی تھی لیکن اسکی نگاہیں تو اچانک جیسے منجمد ہو گئیں تھیں۔۔
سامنے وہ دشمن جاں تھی۔۔ جسے دیکھنے کی دل شدّت سے خواھش کر رہا تھا۔۔ تو کیا خواہش کا اس طرح پورا ہونا ضروری تھا۔۔
دارم کی آنکھوں سے وہ منظر اوجھل نہیں ہو رہا تھا۔۔
سفیان کے ہاتھ میں امل کا ہاتھ۔۔ وہ مکمّل طور پر سفیان خاور کی دسترس میں تھی وہ اسکے بال سنوار رہا تھا۔۔ اس نے اسے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔۔
جسم سے روح کا نکلنا کیسا ہوتا ہے کوئی اس وقت دارم اصفہان سے پوچھتا ۔۔ اپنی نظروں کے سامنے اسے سفیان خاور کے پہلو میں بیٹھے دیکھنا کتنا تکلیف ده تھا۔۔
رمشا کچھ بول رہی تھی، لیکن دارم کی سماعت میں صرف تیز ہوائیں تھیں، اور دل کی دھڑکنیں جو اب بےترتیب ہو گئی تھیں۔
“دارم؟ سب ٹھیک؟”
رمشا نے چونک کر پوچھا۔
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر نظریں ہٹا کر بولا:
“بس ہوا تھوڑی تیز ہے۔۔۔”
وہ اسے بتا نہیں سکا کے ہوا نہیں، منظر تیز تھا۔۔ اور اس قدر تیز تھا اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔ رمشا نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور اگلےلمحے وہ سمجھ چکی تھی کے دارم اصفہان کس ہوا کی بات کر رہا تھا۔۔
امل نے دارم کو نہیں دیکھا —
لیکن سفیان کی نگاہ ان پر پڑھ چکی تھی۔۔ وہ اسے پہچانتا تھا۔۔ دارم کو نا چاہتے ہوئے بھی ٹھہرنا پڑا۔۔ وہ قدم قدم۔ اٹھاتا انکے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔۔ کتنے عرصے بعد وہ آج پھر آمنے سامنے تھے۔۔ آخری بار وہ اپنی بارات کے روز عروسی لباس میں سفیان کی دلہن کے روپ میں اسکے سامنے تھی۔۔ آج وہ سفیان کے حصار میں کھڑی اسکی بیوی کی حیثیت سے اسکے سامنے تھی۔۔ دارم یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی آنکھیں اسے دیکھ کر سیر نہیں ہو رہی تھیں۔۔ کتنی حسین ہو گئی تھی وہ۔۔
چند سیکنڈز کے لیے امل نے نگاہیں اٹھائیں تھیں..
دارم اسفہان کی آنکھیں اس کی آنکھوں سے جا ملیں۔۔ اور وہ چند سیکنڈ انکی دل کی دنیا تہس نہس کر گیا تھا۔۔
“دارم۔۔ ہمیں پتا ہوتا آپ بھی ہیں یہاں ہم ساتھ لطف اٹھا لیتے موسم کا”_
سفیان کی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔ اس نے سرعت سے نگاہیں جھکائیں تھیں۔۔
امل بھی خود کو کافی حد تک کمپوز کر چکی تھی۔۔ بغیر کسی تاثر کے، ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے، نرمی سے سفیان کی طرف چہرہ موڑ لیا۔۔۔
جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔۔۔
جیسے کوئی تھا ہی نہیں وہاں۔۔۔
جیسے دارم اسفہان… کبھی تھا ہی نہیں۔
آنکھوں کے کنارے بھیگے، لیکن پلکیں نہیں جھپکیں۔۔ جب دارم اصفہان اسکی قسمت میں نہیں تھا۔۔ اللّه نے اسکا نصیب سفیان خاور کے ساتھ جوڑا تھا۔۔ اور وہ کسی گناہ کی متکب نہیں ہو سکتی تھی اب دارم اصفہان کو اس طرح دیکھ کر۔۔
“بس یوں ہی یہاں سے گزر رہا تھا تو رمشا نے کہا کچھ دیر ساحل پر روک جاتے ہیں”_
اس نے بمشکل جواب دیا تھا۔۔ وہ نظریں جن میں اسکے لئے ہمیشہ دیوانگی ہوتی تھی ان میں آج سفیان خاور کے لئے احترام تھا۔۔
دور لہریں شور کر رہی تھیں۔۔۔
مگر وہ شور اس شور سے بہت کم تھا جو اسکے اندر تھا۔۔
“شادی کے بعد امل کو کہیں لے کر نہیں گیا تھا۔۔ آج موسم خوش گوار تھا تو سوچا ان کے ساتھ کچھ وقت گزار لوں”_
سفیان اب بھی بول رہا تھا۔۔ اسکے ہر انداز سے امل کے لئے محبت جھلک رہی تھی۔۔ دارم نے مسکرا کر سر خم کیا۔۔ یہی تو اس نے چاہا تھا۔۔ تمام عمر اسی چیز کی تو دعا کی تھی کے وہ جہاں رہے محبتوں کے سائے میں رہے۔۔ پر دل کا کیا کرتا جو اسے ایک بار دیکھ لینے کے بعد دھڑکنے سے انکاری ہو رہا تھا۔۔
“ضرور۔۔ آپ لوگ انجوئے کریں۔۔ ہمیں اجازت دیں”_
سفیان کے بہت اصرار پر بھی وہ رکا نہیں تھا۔۔
“اللّه کی امان میں”_
اس نے آج بھی یہی کہا تھا۔۔ دارم اصفہان نے آج بھی اسے دعا ہی دی تھی۔۔ امل نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔ وہ کہتا تھا وہ اس سے محبت نہیں کرتا لیکن اسکی آنکھیں اسکا ساتھ کیوں نہیں دیتی تھیں۔۔ کیوں وہ کوئی اور ہی داستان سنا رہی ہوتیں۔۔
ایک الوداعی نگاہ اس پر ڈالتے دارم پیچھے مڑ چکا تھا۔۔
خاموشی سے، بغیر کوئی آواز کیے۔۔۔
شہزادے کو مات ہوئی تھی اس عام سی معمولی صورت لڑکی سے۔۔ جو لڑکی دارم اصفہان کی داسی بن کر رہنے پر راضی تھی اسے سفیان خاور نے سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا تھا۔۔ وہ اسکے دل کی ملکہ تھی۔۔
امل شہباز داسی بننے کے لئے نہیں تھی وہ تو سحر زادی تھی اپنا سحر اس پر پھونک کر اسے تمام عمر کے لئے اپنا اسیر کر گئی تھی۔۔ اب یہ اسیری کہیں اسکی جان ہی نا لے لے۔۔
