Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113

Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Last updated: 22 July 2025

60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jaan e Aada

By Laiba Nasir

رات کا اندھیرا ہر سوں پھیل رہا تھا۔۔ وہ بھی امل کے ساتھ تیزی سے کام میں لگی ہوئی تھی۔۔ درام اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا۔۔ اسے شہباز کے مہمان سے کوئی سروکار نہیں تھا لیکن ازو کی وجہ سے وہ وہاں ہمیشہ موجود ہوتا تھا۔۔ ۔ "امل یہ دار کو چائے تو دے آؤ ۔۔ میں بس ٹیبل سیٹ کر دیتی ہوں "_ بریانی کو دم پر لگاتی وہ امل سے مخاطب ہوئی۔۔ دارم کا نام سن کر ہی امل کی ساری حساسیت بیدار ہو گئی تھی۔۔ ۔ "دارم کک کو۔۔ نہیں ازو تم جانتی تو ہو ۔۔ وو وہ انھیں غصّہ آجائے گا مجھے دیکھ کر "_ اسکے لہجے میں واضح کرب تھا جو ازو نے بھی محسوس کیا تھا۔۔ ۔ "کچھ نہیں کہے گا جاؤ دے آؤ "_ اسکے گال تهپتهپآتی وہ محبت سے بولی۔۔ وہ جانتی تھی دارم امل کو پسند نہیں کرتا وجہ شہباز ضمیر ہی تھا۔۔ لیکن اس سب میں امل کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔۔ اور یہی ایک بات دارم کے سمجھ میں نہیں آتی تھی۔۔ دارم کے لئے امل کے جذبات سے ازورا اچھی طرح واقف تھی۔۔ ۔ "جاؤ "_ اسکے پرزور انداز میں کہنے پر وہ چائے کا کپ اٹھائے دارم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔ دل تو اس دشمن جاں کو دیکھنے کے لئے ہمک رہا تھا۔۔ اسکے کمرے کے دروازے پر کھڑی شش و پنج میں مبتلا کتنی ہی دیر کھڑی رہی تھی۔۔ "آجاؤ ازو "_ دستک دینے پر اندر سے اسکی بھاری آواز آئی۔۔ وہ ازو کا منتظر تھا۔۔ ایک پل دل میں خوف سا اٹھا تھا۔۔ دل کو مظبوط کرتی کانپتے پیروں سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اندر داخل ہوتے ہی سگریٹ کے دھواں نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ پورے کمرے میں سگریٹ کی بو پھیلی ہوئی تھی۔۔ وہ بری طرح کھانستی حیران تھی کے یہ شخص سانس کیسے لے رہا تھا۔۔ ۔ "آپ ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہیں امل ؟ "_ اسے بری طرح کھانستے دیکھ وہ سرعت سے اٹھا۔۔ لہجے میں دبا دبا غصّہ لئے وہ جارہانہ انداز میں اس سے مخاطب تھا۔۔ وہ آج تک نہیں سمجھ پائی تھی کے دارم اسفہان کی اس سے اتنی نفرت کی وجہ کیا تھی۔۔ "آپ سے سوال کیا ہے میں نے۔ . کیا کر رہی ہیں یہاں ؟ جانتی ہیں نا میری چائے ازو لاتی ہے "_ اسکی کلائی بیدردی سے تھامے اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیا۔۔ اپنے غصّے میں اسے یہ یاد نہیں رہا تھا کے مقابل نازک دوشیزہ ہے جو اسکی فولادی گرفت برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہے۔۔ ۔ "دد دارم ازو نے مجھے آپ کی چائے لانے کہا تھا۔۔ پپ پلیز مجھے درد ہو رہا ہے "_ وہ جو بامشکل چائے کا کپ تهامی ہوئی تھی۔۔ کپ چھناکے سے زمین پر گرتا پاش پاش ہوا تھا۔۔ ساتھ گرم چائے اسکے پیر بھی جھلسا گئی تھی ۔۔ "آئندہ میرے کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے امل شہباز آپ کو۔۔ بلکہ کوشش کیا کریں کے میرے سامنے بھی کم سے کم آئیں "_ چہرہ اسکے قریب کیے وہ جیسے اسے باور کروا رہا تھا۔۔ اسکی کلائی اب بھی اسکی گرفت میں تھی۔۔ دل ایک پل کو کالی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب کر ابھرا تھا ۔۔ لیکن وہ دارم اسفہان تھا کسی کمزور لمحے کی زد میں نہیں آ سکتا تھا۔۔ ۔ اسے کمرے سے باہر کرتے اس کے منہ پر دروازہ بند کرتے وہ دروازے کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا تھا۔۔ اسکی سسکیاں اسے کمرے کے اندر سنائی دے رہی تھیں۔۔ وہ یقیناً اب بھی باہر کھڑی رو رہی تھی۔۔ "مم میں اب کبھی آپ کے سامنے نہیں آؤنگی "_ وہ باہر کھڑی اسے سنا رہی تھی یا خود کو تسلی دے رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔۔ ۔ ______________

"ہو گئیں ساری تیاریاں "_ وہ جو سیلیٹ تیار کر رہی تھی۔۔ اپنے بلکل پیچھے وہ آواز سن کر کانپ سی گئی تھی۔۔ پیچھے مڑنے کی غلطی اس نے نہیں کی تھی۔۔ وہ جانتی کون ہو سکتا ہے۔۔ ۔ "ججج جی "_ اس شخص کا لمس اسکی آواز سے اسے کتنی نفرت تھی کاش کے وہ اسے بتا سکتی۔۔ "آج پھر تم دارم کے ساتھ باہر گئی تھی "_ اسکے بالوں کی لٹوں سے کھیلتا وہ پراسرار لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔ "جی "_ اس نے یک لفظی جواب دیا تھا۔۔ ۔ "اس دارم کے ساتھ تو خوب باتیں کرتی ہو تم۔۔ شہباز ضمیر تمہیں اتنا برا کیوں لگتا ہے ازورا لاشاری۔۔ آخر کو بیوی ہو میری "_ ایک آنکھ دباتا خباثت سے بولا تھا۔۔