60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۱۲
۔
وہ خود ترسی کی شکار نہیں تھی۔۔ خود اذیتی میں مبتلا تھی اور مسلسل تھی۔۔ اللّه کسی پر اسکی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے وہ جانتی تھی مگر اسکے لئے تو جیسے زمین نے بھی اپنی رحم کی پوشاک تنگ کر دی تھی، آسمان کی آنکھوں میں رنج سمٹ آیا تھا۔۔
اسکے ارد گرد سٹوڈنٹس کا ہجوم جمع ہو رہا تھا۔۔
“دار !!”
اسکے زبان پر پہلا لفظ یہی آیا تھا۔۔ دل و دماغ میں پہلا عکس دارم کا آیا تھا۔۔ وہی تھا جو ہر مشکل وقت میں اسے سب سے پہلے یاد آتا تھا۔۔
وہ آنسوں صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
“یہ پاگل ہے ؟”
“کوئی سکریو ڈھیلا ہے شاید اسکا “_
اسے اپنے قریب سے ہی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ اسے انکی فکر نہیں تھی۔۔ یہ دنیا تھی۔۔ انہیں کوئی سروکار نہیں تھا کے کسی کی زندگی کتنی مشکل ہے۔۔ یا کوئی اپنی زندگی میں کن حالات سے گزر رہا ہے۔۔
انہیں تو بس چٹ پٹی خبریں چاہیے تھی۔۔ انہیں انٹرٹیمنٹ چاہئے تھی۔۔
وہ انہیں نظرانداز کرتی لوگوں کے بھیڑ سے نکلنے لگی۔۔
“ارے یہ مظلومیت کے ڈھونگ رچا کر ہی تو سر جمال اکبر کو پھنسا رہی ہے “_
ایک اور دل جلی کی آواز آئی تھی۔۔
باہر آ کر کیب میں بیٹھتی وہ دارم کے ہسپتال جا رہی تھی۔۔
“ہاں !! وہ دارم کو بتا دیگی۔۔ وہ بچا لیگا اسے نوح سے۔۔ اور شہباز ضمیر ؟؟ اس سے کون بچائے گا ؟”
اس وقت وہ جتنی زیادہ شہباز سے خوفزدہ تھی۔۔ اس سے کئی زیادہ نوح کا خوف تھا۔۔
اسکا دایاں ہاتھ اب تک سنسنا رہا تھا۔۔
وہ نہیں جانتی تھی اس میں اتنی ہمّت کہاں سے آ گئی تھی کے اس نے نوح ارسلان کو تھپڑ مار دیا۔۔
مگر اس وقت نوح کو شہباز سے اس طرح بات کرتے دیکھ اسے اپنا آپ کوئی ارزاں اشیاء لگ رہا تھا۔۔
غصّے سے زیادہ دکھ تھا۔۔ نوح ارسلان اسے ایک ڈیل کے بدلے حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔۔
وہ مغرور شخص اسے کبھی برا نہیں لگا تھا۔۔ وہ اسے تپ چڑھانے کے لئے عجیب و غریب حرکتیں ضرور کرتی تھی لیکن وہ اسے برا نہیں لگتا تھا۔۔
مگر آج اسے نوح ارسلان سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔
وہ سودا کر رہا تھا اسکا۔۔
“ایک بزنس ڈیل کے بدلے ازورا لاشاری ؟ اتنی ارزاں تھی اسکی ذات۔۔؟ اتنی حقیر _ “باجی ہم پہنچ گئے” ڈرائیور کی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی۔۔ آنسوں صاف کرتی ہزار کا نوٹ اسے تھما کر وہ ہسپتال اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔ “اوو باجی۔۔ پیسے واپس تو لیتے جاؤ۔۔ اتنی آندھی تھوڑی مچی ہوئی ہے کے ہزار روپے لے لوں”
وہ ڈرائیور اسے آواز دے رہا تھا لیکن وہ ہوتی تو سنتی۔۔
وہ دھندلاتی آنکھوں کو بار بار صاف کرتی وہ دارم کے کمرے میں آئی تھی۔۔
اتفاقاً وہ اپنے روم میں ہی موجود تھا۔۔
“دار !!”
وہ اسے پکارتی ہوئی سسکی تھی۔۔
“ازو۔۔ کیا ہوا ؟؟ تم اس وقت یہاں، سب ٹھیک ہے ؟”
اسے اتنی بری طرح سسکتے دیکھ وہ سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“دار وو وہ مجھے بیچ دیگا۔۔ وہ مجھے اس سے بیچ دیگا۔۔ ووو وہ اس ڈیل میں مم مجھے “

وہ اسکے سینے سے لگی بےربط سے جملے ادا کر رہی تھی۔۔
“ازو۔۔ کون بیچ دیگا۔۔ کیا کہ رہی ہو۔۔ ازو خدا کے لئے مجھے پوری بات بتاؤ۔۔ کیوں رو رہی ہو اس طرح ؟ اور تم تو یونیورسٹی میں تھی نا ؟ پھر کیا ہوا”_
وہ متفکر انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔ ازورا کا اتنی بری طرح رونا اسے فکر میں مبتلا کر رہا تھا۔۔ اور پھر اسکی باتیں۔۔
“دار۔۔ وہ نوح۔۔ نوح ارسلان۔۔ مم میں نے اسے مارا ہے۔۔ وہ اب مجھے لے جائے گا دار۔۔ وہ مجھے لے جائے گا۔۔ شش شہباز مجھے بیچ دیگا”_
دارم کو اب کچھ کچھ سمجھ آ رہا تھا۔۔
“ازو۔۔ رونا بند کرو۔۔ کوئی نہیں لے کر جائے گا۔۔ میری طرف دیکھو ؟ دار ہے نا۔۔ کسی کو قریب بھی نہیں آنے دیگا تمہارے”_
اسکا آنسوں سے تر چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتے وہ نرمی سے اسے خاموش کروانے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“لو پانی پیو”
اسے سائیڈ صوفہ پر بیٹھا کر اس نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔۔
“اب مجھے بتاؤ کیا بات ہے ؟”
چیئر گھسیٹ کر اسکے سامنے بیٹھتا وہ نرمی سے بولا۔۔
“نوح ارسلان مم مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔ پپ پر اس نے شہباز سے ڈیل کی ہے کے وہ ممم مجھ سے شادی کرے گا۔۔ وہ یونی آیا تھا۔۔ مم میرے سامنے مم میری ڈیل کر رہا تھا۔۔ میں کوئی بازار میں رکھی بکاؤ مال ہوں دار ؟ مم میں نے اسے تھپڑ مارا ہے۔۔ ووو وہ اب مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔ وہ مجھ سے بدلہ لے گا دار۔۔
وہ اسکے ہاتھوں پر سے رکھے بلک کر رو رہی تھی۔۔ دارم nنے تڑپ کر اسے ساتھ لگایا۔۔
“کسی میں اتنی ہمّت نہیں ہے۔۔۔ شہباز تمہیں طلاق دے نا دے۔۔ کوئی زبردستی تم سے شادی نہیں کر سکتا”_
اسکا سر اپنے سینے سے لگائے وہ مضبوط انداز میں بولا۔۔
وہ اب بھی خوف سے کانپ رہی تھی۔۔
“چلو گھر چلو۔۔ میں دیکھ لونگا سب کو “
اسکے بھیگے سرخ گال صاف کرتا اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ اسکے ساتھ کھڑی اب قدرے مطمئن تھی۔۔
“تم مجھے کہیں جانے نہیں دو گے نا دار “_
اسکے مضبوط ہاتھ میں موجود اپنا ہاتھ دیکھتی وہ مان سے پوچھ رہی تھی۔۔
“تمہاری مرضی کے بغیر کوئی تمہیں نہیں لے کر جا سکتا۔۔ کم از کم جب تک دارم اسفہان زندہ ہے جب تک تو بلکل بھی نہیں “_
بھوری سرخ آنکھوں کے گلابی کنارے دیکھتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔


۔
وہ لب بھینچے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔ ضبط سے رگیں تنی ہوئی تھیں۔۔چہرہ غصّے کی شدّت سے سرخ ہو رہا تھا۔۔
سٹئرنگ پر گرفت اتنی سخت تھی اسکے بازو کی رگیں واضح ہو رہی تھیں۔۔ چشمہ اس نے غصے میں ہی کہیں پھینک دیا تھا۔۔ نظر نامحسوس نمکین پانی سے دھندلا رہی تھی یا چشمہ نا ہونے کی وجہ سے مگر نظریں دھندلی ہو رہی تھیں۔۔
“تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ گرے ہوئے انسان نکلے نوح ارسلان “_
اسکی میٹھی آواز اسکی سماعتوں میں ہتھوڑا برسا رہی تھی۔۔
اسکی آواز اسے میٹھی لگتی تھی۔۔ شہد سی میٹھی۔۔
اور آج وہی میٹھی آواز اسکی سماعت میں زہر انڈیل رہی تھی۔۔۔
“شہباز جیسے گرے ہوئے شخص کے نکاح میں رہ سکتی ہیں آپ ازورا لاشاری۔۔ مجھ سے آپ کو گھن آ رہی ہے “_
براؤن آنکھوں کے کنارے شدّت ضبط سے سوج گئے تھے۔۔
وہ نہیں سکتا تھا۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنی تکلیف آنسوں میں نہیں بہا سکتا تھا۔۔۔لوگوں کی نظریں۔۔ انکی سرگوشیاں۔۔ سب ایک طرف تھا۔۔
اس سے تو ازورا کی نظریں نہیں بھول رہی تھیں۔۔
اس قدر بےاعتبار تھی وہ۔۔ اسے کوئی بدکردار مرد سمجھتی تھی۔۔
“آپ نے مجھے بھرے مجمعے میں رسوا کیا ہے ازورا لاشاری”_
غصے سے دھاڑتا وہ پے در پے گاڑی کے شیشے پر مکے برسا رہا تھا۔۔
کانچ ٹکڑوں میں بٹتا اسکے ہاتھ لہو لہان کر گیا تھا۔۔
“تم ایک شادی شدہ عورت کو نکاح کی پیش کش کر رہے ہو”_
“میں بیوی ہوں شہباز ضمیر کی “_
اسکی آواز اب بھی اسکے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔
“نہیں ہیں آپ اسکی بیوی۔۔ صرف نوح ارسلان کی ہیں آپ۔۔ نوح ارسلان کا حق ہے آپ پر۔۔ نہیں ہے آپ اسکی بیوی “_
کانچ کے ٹکرے اسکے ہاتھ میں پیوست ہو رہے تھے۔۔ وہاں پرواہ کسے تھی۔۔
وہ سڑک سنسان تھی یہی وجہ تھی وہاں اکا دکّا جو بھی گاڑی آ رہی تھی وہ کافی تیز رفتار سے آ رہی تھی۔۔
ہاتھ خون سے تر ہو رہا تھا۔۔ دروازے کا شیشہ مکمّل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔۔ اسکے جنون میں کمی نہیں آ رہی تھی۔۔
“نوح ! یہ گڑیا تو بس تمہاری ہی ہے۔۔ تمہاری امانت ہے زبیر کے پاس”_
کہیں قریب سے ارسلان شیروانی کی آواز ابھری تھی۔۔
“نہیں بابا۔۔ امانت نہیں رہی وہ۔۔ اسے کوئی اور لے گیا بابا”_
کسی معصوم بچے کا شکوہ تھا جو اس اونچے لمبے مرد کے لبوں سے خارج ہو رہا تھا۔۔ اس وقت اسکے چہرے پر وہی بچوں جیسی ہی معصومیت تھی۔۔
“یہ بس میرے نوح کی ہے”_
انکی آواز ایک بار پھر آئی تھی۔۔
“ہاں بابا میری ہے۔۔ بسس نوح کی ہے۔۔ اسے نوح ارسلان کے پاس ہی آنا ہے”_
اسکا لہجہ بھیگ رہا تھا۔۔ آنکھیں خشک تھیں۔۔
وہ گاڑی کا رخ موڑھ چکا تھا۔۔ موبائل آن کے کے اس نے ایک فولڈر کھولا تھا۔۔
یہ آخری پتا تھا اور یہ پوری بازی پلٹ دیگا وہ جانتا تھا۔۔ اس میں سے کچھ ویڈیوز شہباز کے نمبر پر سینڈ کرتے اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔
“لوگ سمجھتے ہیں شہباز ضمیر ایک نمازی، پرہیزگار، عزت دار شخص ہے۔۔ سنا ہے مسجد میں فجر کی اذان تم ہی دیتے ہو۔۔ چچچ کتنا برا لگے گا جب یہ ویڈیوز انکے سامنے آئینگی۔۔ شہباز ضمیر میں نوح ارسلان ہوں۔۔ اب ازورا کو تم طلاق تو دو گے۔۔ اسے مجھ سے نکاح پر رضا مند بھی تم ہی کرو گے۔۔ میں اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرونگا۔۔ اور اگر ازورا لاشاری، ازورا نوح ارسلان ن بنی تو یہ ویڈیوز میں سب سے پہلے امل شہباز کو بھیجونگا۔۔ بہت پیار کرتی ہے وہ تم سے۔۔ جان دیتے ہو نا اپنی بیٹی پر تم۔۔ میں اپنی بات دوہرانے کا عادی نہیں ہوں شہباز ضمیر۔۔۔ مائنڈ اٹ!!”
اطمینان سے وائس ٹیکسٹ بھی ساتھ بھیج کر وہ اب پرسکوں انداز میں مسکرایا تھا۔۔ وہی اطمینان جو اسکی ذات کا خاصا تھی۔۔


۔
“میں بس یہ پوچھ رہا ہوں کیا سوچ کر آپ نے یہ بات کی ؟”
وہ غصے سے مٹھیاں بھنچے بہت ضبط سے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
سامنے بیٹھا شہباز اسے اس وقت زہر سے بھی برا لگ رہا تھا۔۔
“یہ حق مجھے اسلام نے دیا ہے۔۔ تم خود بھی جانتے ہو یہ میری بیٹی کی عمر کی ہے۔ ساری زندگی تو نہیں میں اسے اپنے ساتھ اپنے نکاح میں رکھ سکتا۔۔ میں نہیں رہنا چاہتا اسکے ساتھ اس لئے طلاق دینا چاہ رہا ہوں”_
وہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اطمینان سے بول رہا تھا۔۔
اسکے انداز میں ذرا بھی شرمندگی نہیں تھی۔۔
ازورا اس وقت امل کے ساتھ کھڑی تھی۔۔ اسکے لبوں سے شریعت اور مذہب کی باتیں اسے تازیانے کی مانند لگ رہی تھیں۔۔
جس شخص کو اللّه کا خوف سرے سے تھا ہی نہیں۔۔ وہ کتنی ڈھیٹآئی سے شریعت کی بات کر رہا تھا۔۔
“یہ خود بھی نہیں رہنا چاہے گی میرے ساتھ”_
وہ اب براہ راست اسے دیکھتا ہوا بولا تھا۔۔
“میں اسے رہنے بھی نہیں دیتا آپ کے ساتھ۔۔ مجھے صرف اس بات کا جواب دیں شہباز ضمیر کے اسے اب کس ڈیل کا حصّہ بنا رہے ہیں آپ ؟ کس قسم کے مسلمان ہیں آپ۔۔ بلکے کیسے انسان ہیں ؟ اپنی بیوی غیر مردوں کے سامنے سجا کر اسکی خوبصورتی کو کیش کرواتے رہے ہیں آپ۔۔ اور اب اس نوح ارسلان سے کیا ڈیل کی ہے آپ نے ؟”
وہ آج اسے صحیح طرح سے آرے ہاتھوں لے رہا تھا۔۔
اتنے دنوں سے ازورا نے اسے روک رکھا تھا کے وہ شہباز ضمیر سے کوئی سوال جواب نہیں کرے گا۔۔ مہر آج شہباز نے ہر حد پار کر دی تھی۔۔
“میں یہ ڈیل نہیں چھوڑ سکتا۔۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہے۔۔ کمپنی ختم ہپ جائے گی ہماری۔۔ ساری انوسمنٹ اس ایک ڈیل میں کی تھی میں نے جسکی شپمنٹ وہ روک چکا ہے۔۔ اگر ازورا کو طلاق دینے سے میری کمپنی بچ جائے گی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ یہ رشتہ ویسے بھی اسکے دامن پر لگے داغ کو دهانپنے کے لئے جڑا تھا”_
وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے ازورا لاشاری کوئی چیز ہو جسے نوح کے حوالے کر کے وہ اپنی کمپنی بچا لے گا۔۔
۔
“آپ کی جائیداد نہیں ہے وہ۔۔ بہن ہے میری۔۔ بچوں جیسی ہے میرے لئے ۔۔ میں جان لے لونگا تمہاری شہباز ضمیر “_
اسکے صبر کا پیمانہ یہاں لبریز ہو گیا تھا۔۔ اسے گریبان سے تھامے وہ اسکی گردن اپنے گرفت میں لے چکا تھا۔۔
“دارم کیا کر رہے ہو یہ۔۔ چھوڑو شہباز کو۔۔ تمہاری یہ بچوں جیسی بہن ہی پھنسا چکی ہے نوح ارسلان کو اپنی اداؤں سے۔۔ پاگل ہو رہا ہے اسکے پیچھے وہ “_
رومیسہ دارم کو پیچھے ہٹاتی نفرت سے ازورا کی جانب دیکھتی ہوئی بولی تھی۔۔
“پھوپو آپ کا شوہر اسکا سودا کر رہا ہے “_
وہ افسوس سے اسے دیکھتا بولا تھا۔۔ وہ اتنی سنگدل کیسے ہو سکتی ہیں۔۔
“میں جان سے مار دونگا اس شخص کو “_
اسکی گرفت مزید سخت ہوئی تھی۔۔
“دارم چھوڑیں بابا کو۔۔ پلیز چھوڑیں وہ سانس نہیں لے پا رہے ہیں “_
امل روتی ہوئی اسے جهنجھوڑ رہی تھی جس پر ایک جنوں کی سی کیفیت طاری تھی۔۔
“دار۔۔ چھوڑ دو اسے پلیز “_
ازورا کی سسکیوں پر اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا۔۔
وہ بری طرح کھانستا ہوا قہر آلود نظروں سے ازورا کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ وہ کل کا لڑکا اسکے گلے کو آ گیا تھا۔۔ وہ بھی اس چھوٹی سی لڑکی کی وجہ سے اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی اتنی تذلیل۔۔
“ازو تم کیوں رو رہی ہو۔۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا تمہیں میں ہوں نا “_
دارم اسکے رونے پر غصہ ضبط کرتا بےچین سا ہوتا اسکے پاس آیا تھا۔۔
امل اب بری طرح روتی شہباز کو پانی دے رہی تھی۔۔
“میں شہباز ضمیر بقائی ہوش و حواس ازورا لاشاری تمہیں طلاق دیتا ہوں “_
شہباز ضمیر نے اپنی تذلیل کا بدلہ لیا تھا اسے یوں ذلیل کر کے۔۔ امل منہ پر ہاتھ رکھے بےیقینی se شہباز کو دیکھ رہی تھی۔۔
وہ جھٹکے سے دارم سے دور ہوئی تھی۔۔ شہباز ضمیر نے چھ سال بعد اسے آزادی کا پروانہ دے دیا تھا۔۔ مگر اس طرح سب کے سامنے اسے یوں ذلیل کر کے۔۔
اسکی کانپتی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔ دل کسی کھائی سے نکلتی ہوئی آواز کی طرح تمام کائنات کے رب کو پکار رہا تھا۔۔

رَبِ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ
میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے۔
اسکے لبوں سے سرگوشی نکلی تھی۔۔ اسکے لب جامد ہو گئے تھے۔۔
۔
“طلاق دیتا ہوں “__
اس نے ایک بار پھر وہی الفاظ دوہرائے تھے۔۔ دارم غم و غصے سے اسکی جانب بڑھنے لگا مگر وہ اسے روک چکی تھی۔۔
اسکی آنکھوں سے مسلسل سیل رواں تھے۔۔ وہ اس غلامی سے۔۔ اس وحشت سے آزادی چاہتی تھی لیکن اس طرح۔۔ اتنی تذلیل۔۔ اتنی حقارت کے ساتھ نہیں۔۔
۔
۔رَبِ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ
میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے

اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔۔
کس قدر تکلیف دہ لمحہ تھا۔۔ دل صبر کے گھونٹ بھرنے سے انکاری ہو رہا تھا۔۔ رک جانا چاہتا تھا۔۔
مگر لبوں کی مسکان اور آنکھوں کی چمک یونہی برقرار تھی۔۔ آگہی کا وہ لمحہ زندگی کے باقی اسباق پر حاوی تھا۔۔
۔
“طلاق دیتا ہوں “!!
اپنے الفاظ آخری بار دوہراتے ہوئے اسکے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔

“رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ “
” میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے”
۔
آنسوں کے درمیان وہ باآواز بلند پڑھ رہی تھی۔۔ ضبط کے باوجود دارم کی آنکھوں سے آنسوں نکلتے اسکی بیئرڈ میں جذب ہوئے تھے۔۔
۔
وہ قدم قدم پیچھے ہٹتی باآواز بلند پڑھ رہی تھی۔۔ وہ چاہتی تھی تمام کنارے اپنا وجود کھو دیں ، دیواریں پھٹ جائیں اور آسمان سے خون بہنے لگے۔۔
وہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ رونا چاہتی تھی۔۔ بین ڈال کر سب کو بتانا چاہتی تھی کس طرح اس شخص نے اسے رسوا کیا تھا۔۔ کس طرح اسکی ناسوانیت کا خون کر کے اسے داغ دار کیا تھا۔۔
اور پھر اسے جھوٹی عزت کی چادر تھما دی تھی۔۔
آج وہ چادر اس طرح چھینی تھی۔۔
۔

“رَبِ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ “
” میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے”
۔
موت کا سیاہ بھیانک چہرہ اسکے سینے پر رستی ہوئی خونی داستان رقم کر جاتا ہے۔۔ سینے میں درد کی شدّت بڑھ رہی تھی۔۔
ہوا میں دکھ کی چیخ و پکار اسکی سماعت میں گھل رہی تھی۔۔
درد اب حد سے سوا ہو رہا تھا۔۔
وہ دل پر ہاتھ رکھے دیوار کا سہارا لے کر کھڑی رہنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ لیکن وہ درد بڑھتا جا رہا تھا۔۔
۔
“رَبِٙ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ “
” میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے”
۔
اسکے لبوں سے آخری بار نکلا تھا۔۔ وہ زمین پر گری تھی۔۔ بند ہوتی آنکھوں سے اس نے امل کو بھاگتے ہوئے اپنی جانب آتے دیکھا۔۔ پھر گہرا اندھیرا تھا۔۔
” میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے” !!
” میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے”!!
۔
سماعت میں گونجنے والے آخری الفاظ یہی تھے۔۔

آہ! جا ری حور شہزادیے!
تجھے ابدی امن کی ٹہنی مبارک ہو ۔۔
۔