60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١۵
۔

تمام انسان اپنی پرچھائیوں کو اوڑھے ہوئے تھے اور شام رفتہ رفتہ بہہ رہی تھی۔۔ فضاء میں ایک عجب سی اداسی رچی بسی ہوئی تھی۔۔بوجھل ہوتی آنکھوں کو بہت مشکل سے کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اسے اپنے ہاتھ جکڑے ہوئے محسوس ہو رہے تھے جبکہ سینے کے دائیں جانب درد کی لہر اٹھ رہی تھی۔۔ حلق میں جیسے کانٹوں سی چبھن تھی۔۔
“پپ پانی۔۔ پانی چاہیے”_
اسے اپنی آواز حلق میں ہی دم توڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔
“مجھے پانی چاہئے۔۔ دد دار پپ پلیز پانی دے دو”_
کمزوری کی وجہ سے اسکی آواز اس قدر دھیمی تھی کے سائیڈ صوفہ پر سوئی امل تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔۔ اس نے نگاہیں پھیر کر دیکھا۔۔ وہ ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں موجود تھی۔۔ کمرے میں دارم موجود نہیں تھا اگر وہ ہوتا تو اسکی پہلی آواز پر اسکے پاس موجود ہوتا۔۔
“ازو۔۔ کچھ چاہئے کیا تمہیں ؟”
امل غیر محسوس انداز میں اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔۔
“ہاں پانی دے دو مجھے”_
وہ لبوں پر زبان پھیرتی دھیرے سے بولی۔۔
“آئی ایم سوری۔۔ پتہ نہیں کیسے آنکھ لگ گئی”_
اسے نرمی سے سہارا دے کر بیٹھاتی وہ پانی کا گلاس اسکے لبوں سے لگا گئی۔۔
“دار کہاں ہے۔۔ وہ میرے پاس کیوں نہیں ہے”_
وہ ارد گرد دیکھتی دارم کو ڈھونڈھ رہی تھی۔۔ ایسا تو کبھی ہوا ہی نہیں تھا کے اسے دارم کی ضرورت ہو اور وہ موجود نا ہو۔۔
“دارم۔۔ ہسپتال میں ہی ہیں۔۔ بس تمہارے کمرے میں نہیں ہیں”_
امل کے نرمی سے بتانے پر اسے کتنا کچھ یاد آتا چلا گیا۔۔ ذہن یکدم تاریکیوں میں ڈوبنے لگا۔۔
“میں انھیں بتا دیتی ہوں تمہیں ہوش آ گیا ہے”_
اسکی پیشانی چومتی امل نے محبت سے کہا۔۔ آٹھ گھنٹوں کے بعد وہ ہوش میں آئی تھی۔ وہ جانتی تھی ان آٹھ گھنٹوں میں دارم اسفہان کی جان سولی پر لٹکی ہوگی۔۔
“ازو۔۔ میں نہیں جانتی بابا نے ایسا کیوں کیا۔۔ آج یا کل یہ ہونا تھا۔۔ یہ بےجوڑ رشتہ ساری زندگی نہیں چل سکتا تھا۔۔ مگر بابا صرف ایک ڈیل کے لئے ایسا کرینگے میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔۔ میں بابا سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔ پر تم سے بھی مجھے بہت محبت ہے ازو۔۔ میں اس عمل کے لئے ان سے خفا رہ سکتی ہوں۔۔ ناراض ہو سکتی ہوں۔۔ مگر نفرت نہیں کر سکتی۔۔ اس کے لئے میں تم سے معافی مانگتی ہوں”_
اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے وہ بھیگے لہجے میں بول رہی تھی۔ یہ سچ تھا اگر اسکے بابا نے لالچ میں آ کر ایسا کیا بھی ہو تو وہ ناراض ہو سکتی تھی ان سے۔۔ نفرت کا اظہار کر سکتی تھی مگر نفرت نہیں کر سکتی تھی۔۔
“تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے امل۔۔ کوئی بھی بیٹی اپنے باپ سے نفرت نہیں کر سکتی۔۔ میں جانتی ہوں بیٹیوں کے تو آئیڈیل ہی انکے بابا ہوتے ہیں۔۔ زندگی میں آنے والا پہلا مرد باپ ہی تو ہوتا ہے۔۔ جس میں بیٹیوں کو سوپر ہیرو نظر آتا ہے۔۔ برے سے برا انسان بھی اپنی بیٹی کی نظر میں ہمیشہ ہیرو رہنا چاہتا ہے۔۔ تم اکیلی نہیں ہو جسے اپنے بابا سے محبت ہے۔۔ دنیا کی نوے فیصد لڑکیوں کی نظر میں انکا باپ دنیا کا بہترین مرد ہوتا ہے اور شاید ہر مرد ہی اپنی بیٹی کے لئے بہترین ہوتا ہے”_
وہ گہری سوچ میں گم کہ رہی تھی۔۔ کبھی نا کبھی شہباز ضمیر کی حقیقت امل شہباز کے سامنے آنی تھی۔۔ وہ پھولوں جیسی نازک لڑکی اپنے بابا سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھی۔۔ یہ حقیقت کسی زور دار طمانچے کی مانند لگنے والی تھی امل شہباز کو۔۔ اور اس طمانچہ کی گونج ازورا کو ابھی سے اپنی سماعت میں گونجتی محسوس ہو رہی تھی۔۔
“جانتی ہو امل دنیا کا برا سے برا ترین مرد بھی نا اپنی بیٹی کے لئے دنیا کا بہترین مرد ہوتا ہے۔۔ یہ مردوں کی سائیکی ہے شاید۔۔ وہ خود سے جڑی عورت پر پڑھنے والی ہر نظر نوچ لینا چاہتا ہے۔۔ اور وہ عورت اگر اسکی بیٹی ہو تو اسکی عزت کے لئے تو وہ جان بھی دے دیتا ہے”_
وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھی۔۔ وہ تو چھت کو گھورتی اس سے بول رہی تھی۔۔ شاید اپنے دل میں پلتے ابال کو نکال رہی تھی۔۔
“مگر میں سوچتی ہوں امل وہ کیسا مرد ہوا جس کی نظر میں عزت صرف اس سے جڑی عورت کی ہی ہے۔۔ جو اپنی عورت کو تو چھپانہ چاہتا ہے لیکن دوسروں کی عورت کو سرِ بازار برہنہ کر دیتا ہے۔۔ اسے کچھ بھی کہ سکتے ہیں مگر مرد نہیں کہ سکتے امل”_
اسکی آنکھوں سے اب آنسوں ٹوٹ کر امل کے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔۔
“مرد تو وہ ہوتے ہیں نا امل جنکی نظریں۔۔ جنکا حصار تحفظ کا احساس دلائے۔۔ جنکے ارد گرد ہونے پر آپ کو یہ فکر نا ہو کے کون سا پہر ہوگا جب یہ آپ کو نوچ کھائینگے۔۔ جو آپ کو حفاظت کا احساس دلائیں۔۔
اسکی بات پر اس نے اثبات میں ہلایا۔۔
“مرد تحفظ کا دوسرا نام ہی تو ہے۔۔ جو تحفظ نا دے سکے وہ کچھ بھی ہے پر مرد نہیں ہو سکتا”_
“تمہارے بابا تمہارے لئے برے انسان نہیں ہیں امل”_
اسکے ان لفظوں میں جس قدر تکلیف پنہاں تھی وہ امل کا دل دہلا گئی۔۔ وہ چاہتی تو وہ امل شہباز کو اسکے باپ کا دوسرا چہرہ دکھا سکتی تھی۔۔ مگر یہ وہ نہیں کرے گی۔۔
“تم بلکل نہیں چاہو گی کے ہماری قربت کے لمحات کو دنیا دیکھے”_
اسکے کانوں میں شہباز ضمیر کی استہزآئیہ آواز گونجی تھی۔۔
اس نے آنکھیں سختی سے میچی تھیں۔۔
“تم گھر جاؤ امل۔۔ میں اکیلے رہنا چاہتی ہوں”_
اسکے لبوں سے سسکیوں کی صورت یہ الفاظ نکلے تھے۔۔ اس وقت وہ امل کو اپنے قریب برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔ یہ جاننے کے باوجود بھی کے اسکے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں امل کا کوئی قصور نہیں۔۔
امل اس سب سے واقف بھی نہیں۔۔
اس وقت امل شہباز کا یہ قصور بھی بہت بڑا تھا کے اسکے رگوں میں دوڑتا خون شہباز ضمیر کا تھا۔۔
“تمہیں میری ضرورت ہے ازو”_
امل نے بےیقینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ کیا شہباز کے کئے کا بدلہ وہ اس سے منہ پھیر کر لے گی۔۔ وہی تو تھی اسکی دوست۔۔ اسکی ہمراز۔۔
ان دونوں نے کبھی دوست نہیں بنائے تھے ۔۔ وہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے کافی رہے تھے۔۔
“مجھے اس وقت کسی کی ضرورت ہے تو وہ اللّه کی ذات ہے امل۔۔ وہ تم نہیں ہو۔۔ میرے لئے کچھ کرنا چاہتی ہو تو یہ کر دو۔۔ میری عدت پوری ہونے تک اپنے باپ سے میری حفاظت کر لو۔۔ اس کا سایہ بھی مجھ پر نا پڑے۔۔ اور تمہارا بھی”_
وہ کرب سے کہتی رو پڑی تھی۔۔ وہ اسکے ساتھ یہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔ وہ اسکی دوست تھی۔۔ بچپن کی دوست۔۔ مگر اس وقت وہ اسکی تکلیف میں اضافے کا باعث بن رہی تھی۔۔ وہ یہاں رہتی تو وہ اسے مزید اپنے لفظوں سے تکلیف دے سکتی تھی جو وہ نہیں چاہتی تھی۔۔
“ازو پلیز ایسا نہیں کرو۔۔ بابا کے کئے کی سزا مجھے نہیں دو۔۔ میں بہت پیار کرتی ہوں تم سے۔۔ میں اس تکلیف سے مر جاؤنگی کے تم اتنی تکلیف میں ہو اور میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں”_
وہ روتی ہوئی اسکے قریب آئی تھی۔۔ اسکے تو گمان میں بھی نہیں تھا کے وہ اس حالت میں اسے یوں خود سے دور جانے کہوں گی۔۔
مگر وہ کہ رہی تھی۔۔
“میرے لئے کچھ کرنا چاہتی ہو تو یہ کر دو امل۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔ مجھے کوئی نہیں چاہئے”_
وہ اسے یوں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔ مگر ستم تو یہ کے وہ خود اس کی وجہ بن رہی تھی۔۔
“ازو”_ اس نے التجاء کی تھی جیسے۔۔ “امل پلیز۔۔ پلیز لیو”
وہ رخ پھیرتی آنکھیں میچ کر بولی تھی۔۔
وہ آنسوں صاف کرتی پلٹی اور پھر گیٹ سے نکلتی چلی گئی۔۔
ازورا کے کمرے کی جانب آتے دارم نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔ وہ اسے ہی کہنے آ رہا تھا کے ازورا کو ہوش آجائے تو اسے کچھ کھلا دے۔۔
اسے یوں روتے ہوئے ہسپتال سے باہر جاتے دیکھ اسے حیرت ضرور ہوئی تھی۔۔ مگر پھر سر جھٹکتے وہ رمشاء کے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔ ازو کو کھانا تو وہ بھی کھلا سکتی تھی۔۔
دل نا جانے کیوں اسکے پیچھے جانے کو ہمک رہا تھا۔۔۔
دارم اسفہان لاکھ انکار کر لیتا لیکن کہیں نا کہیں اس لڑکی کی فکر اسے ضرور رہتی تھی۔۔
“کزن ہے۔۔ بچپن سے ساتھ رہتے ہوئے آئے ہیں۔۔ اتنی انسیت تو ہو ہی جاتی ہے”_
رمشاء کے کمرے کے قریب کھڑے اس نے بودھی سی دلیل سے دل کو سمجھانا چاہا۔۔ جو چیخ چیخ کر کہ رہا تھا۔۔
“فقط انسیت تو نہیں تھی”_
“دارم”_
رمشاء نے خوش گوار حیرت سے اسے دیکھا۔۔ جو لبوں پر کھوکھلی مسکراہٹ لئے اسے دیکھتا اندر داخل ہوا۔۔
“وہ میں پوچھنے آیا تھا کے ازو کو ہوش آ گیا ہے۔۔ اسے چیک کر لو۔۔ کسی نرس کو نہیں بھیجنا چاہتا میں اسکے پاس”_
وہ اسے کافی الجھا ہوا سا لگا۔۔ ملگجے سے کپڑے۔۔ بکھری حالت۔۔ ماتھے پر ہمیشہ کی طرح بکھرے بال جنہیں وہ ہاتھوں سے پیچھے کی جانب کرتا تھا۔۔
“میرے ہوتے ہوئے نرس کو بھیجنے کی کیا ضرورت۔۔ کیاای جانتی نہیں ہوں کے ڈاکٹر دارم اسفہان کی جان بستی ہے اس چھوٹی سی چڑیا میں”_
وہ خوش گواریت سے بولتی اسکے موڈ کو ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئی تھی۔۔
“دارم میں کچھ کہنا چاہ رہی تھی”_
عادتاً اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اس نے اب کی بار سنجیدگی سے کہا۔۔
“ہممم”_
اپنی کنپٹی انگلیوں سے دباتا وہ بھی سنجیدہ تھا۔۔
“ازورا کا چیک کسی میل ڈاکٹر نہیں کیا۔۔ میں نے خود کئے ہیں سارے ٹیسٹ اور ٹریٹمنٹ بھی۔۔ اسکی باڈی میں بہت سے نشانات ہیں۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔۔ سگریٹ کے۔۔ بلیڈز کے۔۔ اور بھی نشان۔۔ اٹس، اٹس لائک”_
“شی از ریپ وکٹم”_
اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی وہ لب بھنچے بولا تھا۔۔
رمشا نے متاسف انداز میں اسے دیکھا۔۔ اسکی پھولی ہوئی رگیں اسکے ضبط کو ظاہر کر رہی تھیں۔۔
“تم جانتے ہو”_
وہ دکھ سے بولی تھی۔۔
“شی واز فورٹین ایٹ دیٹ ٹائم”_
وہ دھیرے سے بولا۔۔
“آئی ایم سوری دارم”_
وہ اسکے شانے پر ہاتھ رکھتی تکلیف سے بولی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں ہمدردی تھی۔۔ جو دارم اسفہان کو آگ لگا گئی تھی۔۔
۔
“No, we don’t need sympathy at all Dr.Ramsha. She’ll be survival, not a victim”_
وہ قطیعت سے بولا تھا۔۔ اپنی ازو کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں ہمدردی نہیں دیکھنی تھی اسے۔۔ ترس نہیں دیکھنا تھا۔۔ وہ رشک دیکھنا چاہتا تھا۔۔
“آپ کو بتانے کا مقصد ہے کے یہ بات آپ اپنے حد تک رکھینگی۔۔ آپ کی آنکھوں میں میری ازو کے لئے ہمدردی یا ترس نہیں ہونا چاہئے۔۔ وہ اب بھی اتنی ہی مکمّل ہے جتنی کے آپ یا کوئی بھی دوسری لڑکی۔۔ میری ازو کو نارمل رہنے دیں۔۔ وہ ابھی وکٹم ہے۔۔ دارم اسفہان تمام عمر اسے وکٹم نہیں رہنے دیگا۔۔ وہ سروائیول بنے گی”_
اسکے انداز میں وارننگ تھی کے وہ کسی کی نظروں میں بھی ازورا لاشاری کے لئے ترس یا ہمدردی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔
“ان شاء اللّه۔۔ شی ول بی”_
رمشا نے فخر سے اسکی جانب دیکھا۔۔ دارم اسفہان اپنے ہر عمل سے یہ ثابت کر دیتا تھا کے وہ چاہے جانے کے قابل ہے۔۔
وہ اس قابل ہے اسے چاہا جائے۔۔ اسکی خواہش کی جائے۔۔ اس لڑکی کی قسمت پر رشک کیا جائے جسکا ہمسفر وہ بنتا۔۔
“تمہاری یہی خوبی تم سے محبت پر مجبور کر دیتی ہیں”_
یہ بات وہ اسے کہ نہیں سکی تھی۔۔ لیکن دارم اتنا بیوقوف نہیں تھا کے اسکی آنکھوں میں لکھی تحریر نہیں پڑھ پاتا۔۔
اسکے ہاتھوں سے نرمی سے اپنے ہاتھ نکالتا وہ دور ہوا۔۔ وہ کسی بھی لڑکی کو کوئی خواب نگ دکھانا چاہتا تھا۔۔
نا امل شہباز کو نا رمشاء کو۔۔
“ازو کو دیکھ لو پلیز۔۔ اسے بتا دینا کے دار یہیں ہیں اسکے پاس ہے۔۔ہو سکے تو اسکے سونے تک اسکے پاس بیٹھ جانا۔۔ وہ خوفزدہ ہو جاتی ہے”_
اسکے لہجے سے، انداز سے تڑپ واضح تھی۔۔
“دارم کیا تم ازورا سے محبت کرتے ہو ؟”
دل کے ہاتھوں مجبور ہوتی وہ پوچھ بیٹھی تھی۔۔
“بہت زیادہ محبت کرتا ہوں مگر اس سے میری محبت بہت پاکیزہ ہے۔۔ جیسے اپنے بچوں سے ہوتی ہے وہ میرے لئے بچوں جیسی ہے۔۔ میری کوئی چھوٹی بہن ہوتی تو اس جیسی ہی ہوتی۔۔ اور میں اسکا ویسا ہی خیال رکھتا جیسے اپنی ازو کا رکھتا ہوں”_
وہ اسکے ذکر پر مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔ رمشاء کے دل میں پھنسی پھانس جیسے نکل گئی تھی۔۔
“جس محبت کا ذکر تم کر رہی ہو اسکی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے”_
ساتھ ہی وہ اسکی بہت سی خوش فہمی جو اسکی نظر میں غلط فہمی تھی دور کر گیا تھا۔۔
خوش فہمی ہوتی یا غلط فہمی شروعات میں ہی دور کر دینا بہتر تھا۔۔ بہت بہتر۔۔


وہ کمرہ نہیں کوئی اندھیر نگری معلوم ہو رہا تھا۔۔ ملگجا سا اندھیرا پورے کمرے میں پھیلا ہوا تھا۔۔ ساتھ ہی سگریٹ کا دھواں بھی۔۔ وہ آنکھیں موندے بیڈ پر چت لیٹا ہوا تھا۔۔ بند آنکھوں کے پار اسکا سٹریچر میں لیٹا وجود تھا۔۔ بازوں میں دهنسی سوئیاں تھی۔۔
“اسکی اس حالت کا ذمہ دار وہ تھا ؟”
یہ سوال اسکی سانسیں روک رہا تھا۔۔ دل کے دھڑکنے کی رفتار سست ہو رہی تھی۔۔ شاید دھڑکنا نہیں چاہ رہا تھا۔۔ ہاتھ پر خون اب جم چکا تھا۔۔ وہ جوتوں سمیت ہی لیٹا ہوا تھا۔۔
“وہ اسے شہباز سے آزادی دلانا چاہتا تھا مگر اس طرح تو نہیں”_
کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھلا تھا۔۔ وہ جانتا تھا آنے والا کون تھا۔۔
وہ بری طرح کھانسنے لگے تھے۔۔
“وسیم۔۔ وسیم جلدی آؤ۔۔ یہ یہ کھڑکیاں کھولو۔۔ ساری کھڑکیاں کھول دو”_
اسے اختر شیروانی کی آواز آ رہی تھی۔۔ جو یقیناً سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے بری طرح کھانستے ملازم کو آواز دے رہے تھے۔۔
کمرے میں ایک دم سے روشنی پھیلی تھی۔۔ وہ اب بھی اسی طرح بےتاثر سا پڑا ہوا تھا۔۔
“جوتے کھول دو اسکے۔۔ صحیح طرح لیٹاؤ اسے۔۔ مجھ بوڑھے میں اتنا دم خم نہیں ہے کے اسکی دیو جیسی جسامت کو قابو کروں”_
اسکی سماعت میں انکی غصے سے بھری آواز گونج رہی تھی۔۔ وہ آنکھیں کھولنا چاہتا تھا مگر بھاری ہوتی آنکھیں کھول نہیں پا رہا تھا۔۔
اپنے پیروں پر وسیم کے ہاتھ محسوس کرتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھا تھا۔۔
“پیروں کو ہاتھ نا لگایا کرو میرے ہزار بار کہا ہے۔۔ کسی کے بھی پیروں کو نا چھوا کرو وسیم۔۔ ملازم ہو غلام نہیں”_
اپنے جوتے کھولتا وہ اسے بول رہا تھا۔۔
“تم جاؤ”_
دادو نے وسیم سے کہا۔۔
“کیوں میری جان عذاب کر رہے ہو نوح۔۔ یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے۔۔ اپنے بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا سے جاتے دیکھ کر زندہ ہوں۔۔ اسکا یہ مطلب نہیں ہے کے تم اپنی زندگی مجھ بوڑھے کے سامنے رفتہ رفتہ ختم کرو’_
اسکے بکھرے وجود کو دیکھتے وہ کرب زدہ سے بول رہے تھے۔۔
انکے لہجے میں برسوں کی تھکان تھی۔۔
“یہ ہاتھوں کو کیا کر لیا ہے۔۔ ہسپتال جاؤ کتنا گہرا گھاؤ ہے”_
وہیل چیئر اسکے قریب لاتے انہوں نے اسکے ہاتھ تھامے تھے۔۔
“گہرا گھاؤ۔۔ بہت گہرا گھاؤ دے دیا ہے میں نے دادو اپنی زندگی کو۔۔ اسکی دھڑکنیں روکنے کا سبب بن گیا میں۔۔ میری دھڑکنیں پھر بھی چل رہی ہیں”_
سرخ دوڑے سے بکھری آنکھوں سے انھیں دیکھتا وہ دیوانگی سے بول رہا تھا۔۔
انکے گود میں سر رکھے اس نے تمام بات انہیں بتائی تھی۔۔
“وہ سمجھ رہی ہے اسکا سودا کر رہا ہوں میں۔۔ میں تو اپنی جان وار دوں اس پر دادو۔۔ اسکی قیمت یہ حقیر کمپنی تو نہیں ہے۔۔ وہ تو انمول ہے۔۔ نوح ارسلان کی جان کا صدقہ بھی اسکا مول نہیں ہو سکتا”_
وہ تو اسکی دیوانگی محسوس کر کے کانپ گئے تھے۔۔
“اسکے سنگ جینے کی بات کرو۔۔ کیوں مرنے مارنے کی بات کر کے میری جان نکال رہے ہو نوح”_
وہ تو اپنے باپ سے بھی دس قدم آگے تھا۔۔
“وہ میری وجہ سے تکلیف میں ہے دادو”_
وہ کتنی ہی بار کہا ہوا جملہ پھر دوہرا رہا تھا۔۔
“میں مر رہا ہوں دادو۔۔ آپ دیکھ رہے ہیں نا۔۔ وہ تکلیف میں رہے گی تو میں مر جاؤنگا۔۔ مجھے وہ چاہئے دادو۔۔ مجھے ازورا لاشاری چاہیے”_
وہ اسکے گود میں چھپا گھٹی گھٹی آواز میں بول رہا تھا۔۔ اس وقت وہ انھیں وہی پندرہ سالہ نوح لگا وہ انکی گود میں چھپا روتے ہوئے ازورا کو روکنے کہ رہا تھا۔۔
“I want Azora Lashari, I want Azora Lashari in my life”_
اسکی سسکیاں در و دیوار میں گونج رہی تھیں۔۔ مگر آنسوں_ نہیں وہ تو بہنے سے قاصر تھے۔۔ اسکی آنکھیں اس قدر سوج گئیں تھیں کے وہ اسکی تکلیف خود پر محسوس کر رہے تھے۔۔ وہ تو ہونے آنسوں بہا بھی نہیں سکتا تھا۔۔ “آئی نیڈ ہر۔۔ آئی وانٹ ہر۔۔ آئی وانٹ ہر دادو”
وہ بےبسی کے انتہا پر اسے ازورا لاشاری کے لئے تڑپتے دیکھ رہے تھے۔۔
“شہباز ضمیر کو پیسے چاہئے۔۔ میں اسے سب کچھ دے دونگا۔۔ سسس سب کچھ۔۔ وہ میرے پاس نہیں ہے تو مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔ مجھے صرف ازورا چاہئے دادو”_
۔
“ازورا تمہاری ہی ہے۔۔ اسے تمہارے پاس ہی آنا ہے۔۔ وہ میرے نوح کی ہے”_
اسکے بکھرے بال سنوارتے وہ نرمی سے بول رہے تھے۔۔
“کوئی نہیں لے سکتا نا اسے۔۔ صرف نوح کی ہے وہ”_
وہ ہر طرح سے تسلی چاہتا تھا کے وہ صرف اسی کی ہے۔۔
“وہ دارم سے بات کرتی ہیں۔۔ اسکے پاس پرسکون رہتی ہیں۔۔ مجھ سے خوفزدہ ہوتی ہیں وہ دادو”_
وہ اس وقت اپنا ہر شکوہ ان سے کر رہا تھا جس طرح بچپن میں اپنی معصوم شکایتیں انکے پاس لایا کرتا تھا۔۔
“تم اسے محبت کا، تحفظ کا احساس دو گے تو تمہارے پاس بھی پرسکون رہے گی۔۔ تم سے ہی محبت کرے گی”_
وہ اسے پچکار رہے تھے۔۔ اسی طرح جیسے بچپن میں بہلاتے تھے۔۔
“محبت بھی کرینگی ؟”
اس نے بےیقینی سے سوال کیا تھا۔۔
“بلکل محبت بھی کرے گی۔۔ میرا نوح اسے دیوانگی کی حد تک چاہتا ہے جب یہ جان جائے گی تو تم سے محبت بھی کرے گی”_
وہ پریقین انداز میں بولے تو کچھ پرسکوں ہوا۔۔ وہ اپنی چیئر چلاتے ڈراز سے فرسٹ ایڈ باکس لئے اسکے پاس آئے۔۔
اسکے ہاتھوں میں اچھی طرح پٹی کر کے اسے لیٹنے کہ کر وہ اسکے پاس ہی بیٹھ گئے۔۔ وہ ہوش میں ہوتا تو انکی مدد کرتا لیٹنے میں۔۔
آج تو اسے اپنا ہوش نہیں تھا۔۔


۔
“آپ کیسے کہ سکتی ہیں کے یہ چھوٹی بات ہے۔۔ آپ کی بچی کا بچپن اسکی معصومیت برباد کر دیا ان درندوں نے۔۔ اس قدر ظالم سفاک لوگ ہیں وہ۔۔
وہ وہیل چیئر پر بیٹھی ہمیشہ کی طرح حجاب میں ملبوس سامنے بیٹھی اس عورت پر برس رہی تھی۔۔ یہ ایک بلند عمارت کا منظر تھا جسکے اوپر جلی حرفوں میں یہ الفاظ کنداں تھے۔۔
“ال عنکبوت” _
اس سے بہت بار سوال کیا گیا تھا کے اس نے اپنی آرگنائزیشن کا نام یہ کیوں رکھا ہے۔۔ وہ ہمیشہ یہ کہ کر ٹالتی آئی تھی کے صحیح وقت آنے پر وہ خود بتائیگی۔۔
“یہ بات پھیل گئی تو میری بچی کی ساری زندگی برباد ہو جائے گی”_
وہ عورت روتے ہوئے بولی تھی۔۔
“تو آپ کو لگتا ہے ابھی اسکی زندگی آباد ہے ؟”
اسکا سوال تیر کی مانند وہاں بیٹھے ہر شخص کو لگا تھا۔۔
“آپ کی بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔۔ اسکا مطلب سمجھ رہی ہیں آپ۔۔ آٹھ سال وہ بچی کتنی بار تڑپی ہوگی۔۔ کتنی بار آپ کو پکارا ہوگا اس نے۔۔ کتنی بار موت کی اذیت سہی ہوگی اس نے اسکا اندازہ آپ یا یہاں بیٹھی کوئی عورت نہیں لگا سکتی”_
عبایا اور حجاب میں ملبوس پروقار سی لیلیٰ جمال وہاں بیٹھے وجود کی روحوں کو جھنجھوڑ چکی تھی۔۔ وہاں بڑے بڑے آرگنائزیشنز کے سربراہ بیٹھے تھے۔۔ عورتوں کے حقوق کی علمبردار بہت سی خواتین بھی اس کانفرنس کا حصّہ تھیں۔۔ جمال اکبر نے فخر سے پریس کونفرنس کرتی اپنی بیوی کو دیکھا۔۔
یہ تھا لیلیٰ جمال اکبر کا اصل روپ۔۔ وہ روتی تڑپتی ہوئی کمزور عورت لیلیٰ نہیں تھی۔۔ لیلیٰ تو وہ تھی جو پورے اعتماد سے ہر ایک سوال کا منہ توڑ جواب دے رہی تھی۔۔
“چائلڈ ابیوز۔۔ چائلڈ ریپنگ یہ قانونی طور پر بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔۔ معصوم بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانا۔۔ انکی معصومیت ختم کر دینا۔۔ حد تو یہ کے انکی جان لے لینا انسانیت کو بھی شرما دیتا ہے۔۔ اور یہ گھناؤنا جرم پچھلے کئی دہائیوں سے ہمارے ملک میں جڑے گاڑھ چکا ہے۔۔ انسانی حقوق کی جتنی تنظیمیں عورت کے حقوق کے لئے عورت مارچ میں آوازیں اٹھا کر انسانیت کو شرماتی مطالبات کرتی ہیں وہ اگر ان میں سے آدھی بھی اگر ان معصوم بچیوں کے حق میں آواز اٹھا لیں تو کوئی مجرم زندان سے بچ نہ پائے”_
وہ بول رہی تھی اور کیمرے تیزی سے اسکی تصویریں کھینچ رہے تھے۔۔ وہاں موجود کتنے ہی لوگ چہرہ چھپانے پر مجبور ہو گئے تھے۔۔
۔
“20 فروری 2020 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یشنل اسمبلی نے یہ قرار داد پاس کی ہے کے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو۔۔ زیادتی کے بعد قتل کرنے والوں کے لئے سرعام پھانسی کی سزا کی قرار داد منظور ہوئی ہے جو کے علی محمد خان نے قرار داد پیش کی جسکی منظوری اسمبلی میں اکثریت ووٹ کے بعد دے دی گئی”_
Refrence:
(This resolution was presented in the parliament by Minister of State for Parliamentary Affairs Ali Mohammad Kham__ Dawn News)
_

“ایک رپورٹ جو کے پچھلے سال سپتمبر میں پبلش ہوئی اسکے مطابق
1304 کیسز ہیں جنوری سے جون کے درمیان جن میں بچوں کے ساتھ نا صرف زیادتی کی گئی۔۔ بلکے بےرحمانہ انداز میں انکا قتل کیا گیا۔۔ انکے اعضاء کاٹ دے گئے۔۔ جسکا مطلب ہر روز تقریباً سات بچے ملک کے ایسے تھے جنکے ساتھ زیادتی ہوئی۔۔ یہ تو صرف وہ تھے جو کیس رپورٹ ہوئے “_
(Reference: Report realease by Child Organization Sahil, in September 2019)
اسکی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے لیکن الفاظ میں لرزش تک نہیں تھی۔۔ وہ لیلیٰ جمال اکبر تھی۔۔ وہ کوئی کمزور عورت نہیں تھی اور یہ بات وہاں موجود ہر شخص جان چکا تھا۔۔
۔
“کسی ایک بھی مجرم کو آج کی تاریخ تک وہ سزا نہیں ملی جو نیشنل اسسمبلی میں منظور کی جا چکی ہے۔۔ اسکی وجہ میں یہاں موجود آعلیٰ عہدے داران سے پوچھنا چاہونگی”_
اسکا اشارہ مختلف لوگوں کی جانب تھا جو چہروں پر مصنوعی افسوس سجائے بیٹھے تھے۔۔
“قانون تو ہمارے پاس 2004 سے موجود ہے۔۔ سب سے پہلے پنجاب کے صوبہ نے ہی اس گھمبیئر مسلے پر لاء پاس کیا تھا”_
وہاں موجود کسی سیاست دان نے آگ اگلی تھی۔۔یہ ایک لاؤی کانفرنس تھی۔۔ وہاں موجود جو لوگ لیلیٰ جمال کو جانتے تھے انھیں اندازہ تھا کے اب یہ شخص کہاں جائے گا۔۔
۔
“تو جناب اس قانون کے تحت 2004 کے بعد سے اب تک یعنی 2021 تک سترہ سالوں میں کتنے مجرموں کو سزا دلوائی گئی حکومت کی جانب سے یا آعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ؟”
وہ اپنی وہیل چیئر کا رخ اطمینان سے اس جانب کر چکی تھی۔۔ ساتھ ہی کیمرے کا رخ بھی اس جانب ہوا تھا۔۔ ان صاحب نے گڑبڑا کر اسکی جانب دیکھا ۔۔
۔
وہ اب مزید بول رہی تھی۔۔
“یہ تو ہم سب کے علم میں ہے کے پنجاب نے 2004 میں۔۔
“The Punjab Destitute Neglected Children Act 2004”
کے تحت ، خیبر پختوں خواہ نے
“The KP Child Protection and Welfare Act 2010”
کے تحت، اور سندھ حکومت نے 2011 میں ،
“The Sindh Child Protection Authority Act, 2011”
کے تحت چائلڈ ابیوز اور ریپ سے متعلق قوانین نا صرف بنائے بلکے انکا اندراج بھی کیا۔۔ مگر محترم میرا سوال تو یہاں یہ ہے کے ان تمام قوانین کے تحت اب تک سزا کتنے مجرموں کو ملی ہے ؟
اس کا ایک سوال وہاں موجود ہر شخص کو بغلے جھانکنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔