60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٠
۔
“العنکبوت “”_ اس پرشکوہ عمارت کے اوپر جلی حرفوں میں نام جگمگا رہا تھا۔۔ انکی گاڑی اسکی پارکنگ میں رکی۔۔ گاڑی رکنے کے کچھ دیر بعد ہی سیاہ عبایا میں ملبوس ایک لڑکی وہیل چیئر لئے گاڑی کے قریب آئی تھی۔۔ جمال نے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول کر نرمی سے اسے بازوؤں میں اٹھا کر چیئر میں بیٹھایا۔۔ یہ بھی انکا معمول تھا۔۔ وہ روزانہ اسے ڈراپ کرنے کے بعد ہی یونیورسٹی جاتے تھے۔۔ “نیا کیس ہے۔۔ تم نہیں آؤ گے”
وہ آج اسکے اندر نا آنے کی وجہ سمجھ رہی تھی۔۔ جب بھی کوئی نیا کیس آتا تھا وہ اسے اسی طرح باہر ہی ڈراپ کر کے چلے جاتے تھے۔۔
“تم جانتی ہو”_
وہ کہ کر رکے نہیں تھے۔۔ لڑکی کو اسے اندر لے جانے کا کہ کر گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔۔ اگلے ہی لمحے گاڑی اسکی نظروں کے سامنے سے اوجھل ہو گئی۔۔ لیلیٰ نے دور جاتی گاڑی کو اس وقت تک دیکھا تھا جس وقت تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔۔
“کتنے سال کی ہے ؟”
اس نے ساتھ چلتی لڑکی سے پوچھا۔۔
“چھ سال کی ہے لیلیٰ میم۔۔ بہت مشکل لگتا ہے کے بچے۔۔ ڈاکٹر کیس میں ہاتھ بھی نہیں ڈال رہے۔۔ اسکی ماں صاف مجرموں کا نام لے رہی ہے۔۔ مجرم کسی سیاسی پارٹی کے کارکن کا اکلوتا بیٹا ہے۔۔ ماں اور بیٹی دونوں کے ساتھ”_ اس لڑکی کی آواز میں نمی گھلی تھی۔۔ اس نے بات ادھوری ہی چھوڑ دی تھی۔۔ “آج بلانا تھا ان محترم کو جو اس روز بہت تپاک سے مجھے بتا رہے تھے کے پنجاب نے سب سے پہلے لاء بنایا ہے۔۔ سیاست سے ہی تعلق تھا ان موصوف کا بھی غالباً”
وہ تنفر سے بولی تھی۔۔ وہ لڑکی اب اسے ایک کمرے میں لے آئی تھی۔۔ سادہ فرنیچر سے آراستہ وہ ایک آرام دہ کمرہ تھا۔۔
اس نے دیکھا صوفہ پر ستائیس اٹھائیس سال کے قریب ایک خوبصورت نقوش کی عورت ستے چہرے کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔ آنکھوں کے نیچے لبوں کے کنارے نیل کا نشان تھا۔۔
“مجھے لیلیٰ جمال اکبر کہتے ہیں۔۔ وکیل تھی اب اس شعبے سے منسلک نہیں ہوں۔۔ بات کرنے سے پہلے یہ بتا دوں کے مجھ سے کچھ نہیں چھپانا۔۔ کیوں کے بعد میں باتیں میڈیا میں آتی ہیں تو آرگنائزیشن بدنام ہوتی ہے۔۔ جو ہے جیسا ہے سب بتا دو۔۔ لفظ با لفظ۔۔ بلکل سچ۔۔۔ انصاف کا وعدہ نہیں کرتی لیکن ساتھ کا وعدہ ضرور کرونگی”_
ایک لمحے کو اسے اس عورت پر ترس آیا تھا مگر اگلے ہی لمحے وہ مضبوط پروفیشنل انداز میں بولی تھی۔۔ اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔
۔
“آرزو نام ہے میرا۔۔ میرا شوہر انکے گھر پر ڈرائیور تھا۔۔ میں ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر ہوں جسکے ٹرسٹی بھی وہی لوگ ہیں۔۔ ہم دونوں کے بہت سے خواب تھے اپنی بیٹی زری کر لئے جسکے لئے ہم دونوں ہی دن رات محنت کر رہے ہیں۔۔ صبح کام پر جاتے وقت میرا شوہر انکی گاڑی میں ہی کبھی کبھی میری بچی کو اور مجھے بھی اسکول ڈراپ کر دیتا تھا۔۔ وہ بڑے سیاسی جماعت کے کارکن ہیں لیلیٰ جی۔۔ ایک روز میرا شوہر صبح ہمیں اسکول ڈراپ کرنے جا رہا تھا جب انکا بیٹا بھی اچانک آ گیا اسے ایمرجنسی میں کہیں جانا تھا۔۔ میں اپنی بیٹی کو لے کر اتر گئی۔۔ اس کی نظریں۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے اب ہانپنے لگی تھی۔۔ آنسوں تواتر سے اسکے گال بھگو رہے تھے۔۔ لیلیٰ نے پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا۔۔
پانی پینے کے بعد اس نے دوبارہ بولنا شروع کیا تھا۔۔
“اسکی نظریں بہت بری تھیں۔۔ اندر تک اتر جانے والی۔۔ مجھے اسکی نظریں چادر کے پار میرے وجود تک اترتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ وہ بیس سال کا لڑکا لیلیٰ۔۔ وہ بیس سالہ لڑکا۔۔
اسکے بعد وہ ہمیشہ ہی بہانے بہانے سے میرے گھر آنے لگا۔۔ میں نے شوہر کو بتایا تو وہ مجھے اور زری کو انکی گاڑی کی بجائے لوکل لے کر جانے لگا مگر اس نے پیچھا نہیں چھوڑا۔۔ میری بچی کو اسکول سے اٹھا لیا اس نے۔۔ مجھے کال کی کے اس جگہ زری بےہوش پڑی ہے میں پریشان ہو گئی۔۔ میں وہاں پہنچی تو قیامت میری منتظر تھی۔۔ اس نے میری بچی_ وہ اب ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔۔ “میری بچی کے ساتھ زیادتی کی اس نے۔۔ ووو وہ میرے سامنے کھڑا مجھے بتا رہا تھا ک اس نے میری بچی کو اپنی حوّس کا نشانہ بنایا ہے۔۔۔ اس نے میرے ساتھ۔۔ مم میں نے بہت کوشش کی میں خود کو بچا سکوں۔۔ وہ بیس سال کا لڑکا میرے چھوٹے بھائیوں کے عمر کا دولت کی ریل پیل نے اسکے دماغ کے ساتھ کردار بھی خراب کر دیا ہے۔۔۔ پولیس ایف آئی درج نہیں کر رہی۔۔ ڈاکٹر میری بچی کا علاج نہیں کر رہے لیلیٰ”
اسکی سسكیاں تھمنے میں نہیں آ رہی تھیں۔۔ لیلیٰ لب بھینچے انکی تمام باتیں سن رہی تھی۔۔
“ابھی کس ڈاکٹر کے پاس زیر علاج ہے زری ؟”
اس نے نرمی سے سوال کیا تھا۔۔
“ڈاکٹر دارم اسفہان_ گوورنمنٹ ہسپتال میں ہیڈ ہیں۔۔ انہوں نے میری بچی کے علاج کی ذمہ داری لی ہے۔۔ لیکن مجھے اسکے لئے۔۔ اپنے لئے انصاف بھی چاہئے لیلیٰ”_
وہ اسکے ہاتھوں پر سر رکھے بری طرح رو رہی تھی۔۔
“میں وعدہ نہیں کرتی لیکن میں اپنی پوری جان لگا دونگی تمہیں انصاف دلوانے کے لئے”_
وہ نرمی سے بولی تھی۔۔
“مجھے ڈاکٹر دارم اسفہان کا نمبر دے دو”_
کچھ سوچتے ہوئے اس نے دارم کا نمبر مانگا۔۔ وہ پہلے بچی کی حالت دیکھ لینا چاہتی تھی۔۔


۔
وہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔ نوح اسے دارم کے پاس چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔ ایک بھرپور دن دارم کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آئی تھی اب وہ تیزی سے اپنا سامان اٹھا کر کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔۔
وارڈراپ۔۔ مختلف ڈیوائڈرز۔۔ کپڑوں کے اندر۔۔ ڈراز کے اندر۔۔
کہیں نہیں تھا۔۔ اسے یاد تھا یہاں آنے سے پہلے اس نے کپڑوں کے اندر چھپایا تھا جو اب وہاں نہیں تھا۔۔
“ددد دار۔۔
اس کے ذہن میں جھماکا ہوا کہیں دارم نے دیکھ تو نہیں لیا اسکے سامان میں وہ۔۔
“کچھ ڈھونڈ رہی ہو ازو ؟”
دارم کب چائے کا کپ ہاتھوں تھامے دروازے پر کھڑا تھا۔۔۔
“ننن نہیں دار”_
وہ گڑبڑا کر اسے دیکھنے لگی۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کے دارم کو پتا چلے کے وہ کیا ڈھونڈھ رہی ہے۔۔
“آجاؤ چائے پی لو”_
ایک کپ اسکے ہاتھ میں دیتے اس نے اسے بھی ساتھ چائے پینے کی دعوت دی۔۔ وہ اب کافی بہتر تھا۔۔
وہ ازورا سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا اس سے چائے کا سپ لے رہا تھا جب اسکے موبائل پر رنگ ہوئی۔۔
“ڈاکٹر دارم اسفہان سپیکنگ”_
اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔ اگلی جانب سے نجانے کیا کہا گیا تھا اس نے ایک نگاہ چائے پیتی ازو پر ڈالی۔۔ اسے اشارہ کرتے وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔۔
“جی ہاں میں ڈاکٹر ہوں انکا۔۔ اس بچی کی حالت بہت نازک ہے۔۔ اگر آپ اسکے نام پر اپنا کاروبار چمکانا چاہتی ہیں تو معذرت”_
اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا عورتوں کے حقوق کی یہ تنظیمیں دراصل اپنی جیبیں بھرتے تھے۔۔
“میں لیلیٰ جمال ہوں کوئی تھرڈ کلاس تنظیم کی نہیں “العنکبوت ” ۔۔ کی اونر ہوں۔۔ نام سنا ہوگا آپ نے۔۔ میں بس بچی کی حالت سے متعلق جاننا چاہتی ہوں”_
اگلی جانب سے بھی دوبدو کہا گیا تھا۔۔ دارم نے پیشانی مسلتے اسکی بات سنی۔۔ وہ جانتا تھا العنکبوت کی تنظیم کیسا کام کر رہی تھی۔۔
“لیلیٰ جمال اکبر” یہ نام پچھلے دنوں سارا میڈیا گلہ پھاڑ کر لے رہا تھا۔۔ اسکی تنی رگیں ڈھیلی پڑی تھیں۔۔
۔
“معذرت مجھے لگا کے ہمدردی کی آڑ میں پھر کوئی اس بچی کے زخموں کو ادھیڑنے کے لئے آ گیا۔۔ آپ سمجھ سکتی ہیں میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں”_
اس نے نادم لہجے میں کہا تھا۔۔۔
۔
“اس بچی کی حالت بہت کریٹیکل ہے۔۔ مینٹلی کنڈیشن تو ایک طرف فزیکلی اسے بہت نقصان پہنچایا گیا ہے۔۔ آپ جانتی ہیں اسکے ساتھ۔۔۔

اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔۔
“جی میں جانتی ہوں”_
۔
“اس بچی کی بیک بون اس قدر متاثر ہوئی ہے کے شاید وہ چل نا سکے اب کبھی”_
دارم نے متاسف لہجے میں کہا تھا۔۔ دوسری جانب موجود لیلیٰ پر یہ الفاظ پہاڑ کی مانند گرے تھے۔۔۔ اس نے آنکھیں میچ کر کتنے ہی آنسوں اپنے اندر اتارے تھے۔۔
“آئی نیڈ ہر میڈیکل رپورٹ”_
اسکی روندھی آواز آئی تھی۔۔ اسکی آواز میں اس قدر کرب تھا کے ایک پل کو وہ سن رہ گیا تھا۔۔
“آئی نیڈ ہر میڈیکل ایز اے ایویڈینس”_
اسکی آواز ایک بار پھر آئی تھی۔۔
“آئی ول گیو یو”_
اس نے نرم لہجے میں کہا تھا۔۔ وہ جانتا تھا کے مجرم کسی سیاسی پارٹی کے اہم کارکن کا اکلوتا بیٹا ہے۔۔۔
“ال عنکبوت”_ کی تنظیم اگر اس کے لئے اسٹینڈ لے گی تو کچھ تو ضرور ہوگا۔۔ پہلی بار اسے کسی آرگنائزیشن کی سچائی پر یقین ہوا تھا۔۔۔ وہ ان سے بات کر رہا تھا جب نوح آپارٹمنٹ کے دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔۔ ہاتھ میں کھانے پینے کی ڈھیر چیزیں لئے۔۔۔ گلاسز اتار کر ایک ہاتھ میں لئے وہ اسکی جانب آیا تھا۔۔ “کیسے ہو سالے صاحب ؟” اسکے سوال کرنے پر دارم کے لبوں پر مسکراہٹ مچل اٹھی جسے وہ بہت صفائی سے چھپا گیا۔۔ فون جیب میں رکھتے اس نے اپنی جانب اشارہ کیا جیسے کہ رہا ہو دیکھ لو کیسا ہوں۔۔ “ہاں اب تو شکل نظر آ رہی ہے تمہاری۔۔ ورنہ تم تو ایسے دل پر بات لے کر بیٹھے تھے کے مجھے لگا”
ایک آنکھ دباتا وہ اسکا دل جلانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔۔
مگر آج نجانے کیوں دارم کو اسکی کوئی بات بری نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
۔
“یہ کچھ کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے لے آیا”_
اسکے حوالے تمام بیگز کرتا وہ سادہ سے لہجے میں بولا۔۔
“میری بیوی کہاں ہے ؟”
ساتھ ہی پورے حق سے پوچھا گیا تھا۔۔
“اندر اپنے کمرے میں ہے”_
دارم نے نرم لہجے میں کہا۔۔
“وہ سر ہلاتا ازورا کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔ وہ وارڈراپ کے سامنے کھڑی کپڑوں کے درمیان سے کچھ نکال رہی تھی اسے سامنے دیکھ کر گڑبڑا کر سامنے رکھے ہونے پرس میں چھپا گئی۔۔ نوح نے اچھنبے سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“تم اتنی جج جلدی آ گئے”_
اسے دیکھ کر وہ سخت بدمزہ ہوئی تھی۔۔
“پہلی بات میں نے آپ سے کہا ہے کے آپ مجھے آپ کہ کر مخاطب کریں گی۔۔ دوسری آفس کے کام سے گیا تھا مریخ پر نہیں گیا تھا لیڈی۔۔ اور اتنی جلدی سے کیا مراد ہے۔۔ رات کے آٹھ بج رہے ہیں”_
وہ اسے دیکھتا اسکے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔۔ گھبراہٹ میں پیشانی پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے نمایاں نظر آ رہے تھے۔۔
انگلی کے پور سے اسکی پیشانی صاف کی تھی۔۔
ازورا نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔
“اور مم میں نے آآ آپ سے کہا ہے مم مجھ سے دور رہ کر بات کیا کریں”_
کانپتی آواز میں وہ سہمی ہوئی بولی تھی۔۔ وہ خاموشی سے دو قدم دور ہٹا۔۔ ازورا نے گہری سانس لی۔۔
“کچھ چھپا رہی ہیں کیا آپ مجھ سے لیڈی؟”_
اس کے سوال کرنے پر ازورا نے گڑبڑا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“ککک کچھ نہیں چھپا رہی”_
وہ جلدی سے بولی۔۔ ساتھ ہی پرس پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔۔
“چلیں پھر گھر۔۔ پورا دن اپنے دار کے ساتھ گزار لیا آپ نے”_
اس نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا تو وہ پرس اٹھا کر تیار ہو گئی۔۔
“آپ کچھ بھول رہی ہیں لیڈی”_
وہ وہیں کھڑا بولا تھا۔۔۔ ازورا نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ اسکی ساری حساسیت اس وقت پرس میں موجود چیز پر تھی۔۔
وہ جانتی تھی وہ بہت جلد پاس اوٹ ہو جائے گی۔۔۔
“ازورا آپ ٹھیک ہیں ؟”
نوح نے اسکے تھکے تھکے سے چہرے کو دیکھتے تشویش سے پوچھا تھا۔۔ اس نے زور زور سے اثبات میں سر ہلا کر ہونے ٹھیک نا ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔۔
“چادر لینا بھول گئیں تھیں آپ”_
نرمی سے اسکے وجود پر چادر پھیلاتا وہ اسے بغور دیکھتا ہوا بولا۔۔ ازورا نے ٹھنڈی سانس لی۔۔
اسے باہر آنے کا کہ کر وہ دارم کے پاس گیا تھا۔۔
“کل ہمارا ولیمہ ہے۔۔ ویسے تو دادو تمہیں خود کال کریں گے لیکن میں خود بھی تمہیں بتا دے رہا ہوں۔۔ اس سے پہلے کے میری شادی کی خبر میڈیا دے میں خود ریسیپشن دے دینا چاہ رہا ہوں”_
وہ باہر آئی تو وہ دارم سے بات کر رہا تھا۔۔
” یہ تو اچھی بات ہے مگر کیا ازو کو بتایا تم نے۔۔ آئی مین اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہے تو میرے پاس چھوڑ جاؤ۔۔ کل سے یہ تمہارے ساتھ چلی جائے گی”_
دارم نے ازورا کی جانب دیکھا جو نجانے کیوں سہمی سہمی لگ رہی تھی۔۔
“ازورا میری بیوی ہیں۔۔ اور انکی تمام ضرورتیں اب میری ذمہ داری ہیں دارم۔۔ ویسے تو میں نے انکی ضرورت کی تمام چیزیں ارینج کی ہوئی ہیں لیکن اگر پھر بھی انہیں کسی چیز کی ضرورت پڑھتی ہے تو یہ بلا جھجھک مجھے کہ سکتی ہیں”_
اس نے ازورا کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ٹھہر ٹھہر کر الفاظ ادا کئے تھے۔۔ مطلب صاف تھا وہ ازورا کو رات کے لئے چھوڑنا نہیں چاہ رہا تھا۔۔ دارم نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا۔۔
ازو نے نرمی سے اسکی گرفت سے اپنے ہاتھ نکالے جو وہ لاشعوری طور پر تھام گیا تھا۔۔۔
وہ بےچین سی دارم کے پاس گئی تھی۔۔ نوح نے لب بھینچ کر اپنے خالی ہاتھ دیکھے۔۔۔
“ازو۔۔ ازو بچے کیا ہوا ؟”
اسکی آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھ کر دارم تڑپ کر رہ گیا تھا۔۔۔
وہ اسکے سینے سے لگی تھی۔۔ اپنا چہرہ چھپاتی ہولے ہولے سسک رہی تھی۔۔ دارم نے الجھ کر نوح کو دیکھا جو لب بھینچے اسے دارم کے سینے سے لگے نیر بہاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ازو میرا بیٹا کیا کوئی پروبلم ہے ؟ دار کو بتاؤ بچے۔۔ اس طرح رو کر نہیں جاؤ”_
وہ یوں جاتے جائے اسکے رونے پر کافی فکر مند ہو گیا تھا۔۔ صبح سے جس طرح وہ نکھری سی اس سے بات کر رہی تھی وہ کافی مطمئن ہو گیا تھا۔۔ لیکن اب وہ اس طرح رو رہی تھی۔۔
“دار تم بہت یاد آ رہے تھے مجھے”_
وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی تو دارم کو بےاختیار اس پر پیار آیا تھا۔۔
“دار کا پیارا بچہ۔۔ یاد آؤں تو ملنے آجاؤ اس طرح رونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ تم جانتی ہو نا تمہارے رونے سے دار کو تکلیف ہوتی ہے ؟
اسکے پوچھنے پر اس نے اثبات میں گردن ہلائی تھی۔۔
وہ سفید چادر میں بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔ نوح ارسلان نے اسکی ذات میں پہلے ہی روز نمایاں تبدیلی لے آیا تھا۔۔ دارم کا دل اب اسکی جانب سے مطمئن ہونے لگا تھا۔۔
۔
“اب چلیں اگر سٹار پلس بند ہو گیا ہو تو”_
نوح نے سنجیدگی سے روئی روئی سی ازورا کی جانب دیکھا جو ایک پھر دارم کے ساتھ لگی کھڑی ہوئی تھی۔۔ اسکا ضبط ختم ہو رہا تھا۔۔
“جاؤ ازو”_
دارم نے نرمی سے چادر کے اوپر سے ہی اسکے سر پر پیار کیا۔۔
وہ خاموشی سے نوح کے پیچھے چل دی جو لمبے لمبے ڈگ بھرتے لفٹ کی جانب جا رہا تھا۔۔
اسے لفٹ کی جانب قدم بڑھاتے دیکھ وہ قدم جما کر ایک جگہ کھڑی ہو گئی تھی۔۔
“اب آ جائیں یا پھر سے دار یاد آ رہا ہے ؟”
وہ جل کر بولا تھا۔۔
“میں لفٹ میں نہیں جا سکتی۔۔ مجھے سانس نہیں آتی ہے”_
وہ آنکھیں میچے سسکی تھی۔۔۔ وہ اسے بتا نہیں پائی کے دار تو واقعی یاد آ رہا تھا۔۔ دارم ہمیشہ اسکی وجہ سے ہر جگہ سیڑھیوں سے جاتا تھا۔۔
نوح نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔۔ پھر گہری سانس بھرتے اسکی جانب آیا۔۔ اسکا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں کی جانب چل پڑا۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
“لسن لیڈی۔۔ دارم سے آپ اٹیچ ہیں میں جانتا ہوں۔۔ بہت قریب بھی ہیں آپ دونوں ایک دوسرے کے اسکے تو عملی مظاہرے دیکھ چکا ہوں۔۔ بٹ کیپ ان مائنڈ کے دارم آپ کا بھائی نہیں ہے۔۔ وہ کزن ہے آپ کا۔۔ میں یہ نہیں کہ رہا کے آپ اس سے رشتہ نا رکھیں یا اس سے دور ہو جائیں۔۔ پر ایک مخصوص فاصلہ تو قائم کر ہی سکتی ہیں آپ”_
وہ اطمینان سے بول رہا تھا۔۔ الفاظ نرم تھے مگر انداز میں سنجیدگی واضح تھی۔۔ ازورا نے بےیقینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
کیا وہ اسے دار سے دور رہنے کہ رہا تھا ؟
اسکی آنکھوں کی بےیقینی اس سے مخفی نہیں رہی تھی جسے نظر انداز کرتا وہ گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔۔
“مم میں دار سے دور نہیں ہو سکتی۔۔ میں اور کسی کے قریب نہیں جاتی۔۔ آپ کہیں گے تو کسی سے بات بھی نہیں کروں گی لیکن دار۔۔ دار سے دور نہیں”

اسکی توقع کے عین مطابق وہ بد گمان ہو گئی تھی۔۔
“ازورا میں کوئی انوکھی بات نہیں کر رہا۔۔ آپ دارم سے ملیں میں منع نہیں کر رہا۔۔ اس جس طرح باتیں کرتی ہیں ایکسیٹرا ایکسیٹرا وہ سب قابل برداشت ہے۔۔ لیکن اپنی بیوی کو کسی اور کے سینے سے لگ کر روتے ہوئے تو میں نہیں دیکھ سکتا۔۔ نا میری اتنی برداشت ہے۔۔ اب وہ آپ کا دار ہی کیوں نا ہو”_
اسکی توجہ ڈرائیونگ پر مبزول تھی۔۔ لیکن وقتاً فوقتاً اسکی سسکیوں کی آواز وہ باآسانی سن رہا تھا۔۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ بس خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی ۔۔
۔
گھر پہنچ کر وہ سیدھی کمرے میں گئی تھی۔۔ نوح دادو کے کمرے میں گیا تھا۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔
“ازورا کہاں ہے؟”
اسے دیکھتے ہی وہ فوراً بولے تھے۔۔
“تھک گئی ہیں نیند آ رہی ہیں انہیں”_
اس نے بات گھمائی تھی۔۔
“تم بھی تو تھکے ہوئے لگ رہے ہو جاؤ کمرے میں جاؤ۔۔ میں بھی سو جاؤنگا کچھ دیر میں”_
اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے انہوں نے محبت سے کہا۔۔
“اختر صاحب نو بج رہے ہیں ابھی”_
وہ ہلکا سا ہنسا تھا وہ سمجھ رہا تھا وہ بس کسی بھی طرح اسے ازورا کے قریب رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
“جا رہا ہوں میں کمرے میں”_
انکے ہاتھوں کو چوم کر وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔
۔
وہ کمرے میں آیا تو وہ اسکی نظریں سیدھی بیڈ پر گئی جہاں وہ سر سے پیر تک کمفرٹر میں گھسی سو رہی تھی یا شاید ایسا ظاہر کر رہی تھی۔۔ وہ خود بھی چینج کر کے دوسری جانب لیٹ گیا تھا۔۔
اسکے لیٹنے پر بھی اسکے وجود میں ہلچل نہیں ہوئی تو اس نے ہرا اسکی پشت دیکھی۔۔
نرمی سے اسکے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا۔۔
اسکی بھاری سانسیں چہرے پر پڑی تھی۔۔ اتنی جلدی وہ اتنی بےخبر سو گئی تھی نوح کو حیرت ہوئی۔۔ اس نے اسکے ہاتھوں کی جانب دیکھا۔۔ گلابی ہتھیلیاں خالی تھیں۔۔
“نیند کی گولیوں کے بغیر بھی آپ خوب سوتی ہیں”_
اسکی پیشانی چوم کر وہ خود کلامی کے سے انداز میں بولا۔۔


۔
اگلا دن بہت مصروف گزرا تھا۔۔ تمام کام وہ خود ہی دیکھ رہا تھا۔۔ وہ صبح سے کمرے میں نہیں تھا۔۔ وہ اسکی غیر موجودگی میں بہت پرسکون تھی۔۔ شام کے وقت وہ خاموشی سے بیڈ پر بیٹھی دیوار میں نسب ایل آی ڈی میں کارٹون دیکھ رہی تھی۔۔ جو کچھ ہو رہا تھا اسے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا اس سب میں۔۔
اسکی تو یہ سوچ کر جان نکل رہی تھی کے کتنے لوگ ہونگے۔۔ کتنی نظریں۔۔ کتنی طرح کی باتیں۔۔
بزنس ٹائکون نوح ارسلان نے ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کیوں کی۔۔۔ اسکے اثر و رسوخ سے سب واقف تھے۔۔
جسکے پیچھے حسینائیں بچھی جاتی ہیں اسے اسکی ذات میں ایسا کیا نظر آ گیا تھا۔۔
اس نے پرس سے ایک پاؤڈر نکالا۔۔ ہتھیلی میں تھوڑا سا پاؤڈر نکال کر ناک کے قریب کر کے اسے سانسوں کے ذریعے اندر اتارنے لگی۔۔
ساری سوچیں دور جا سوئیں تھیں۔۔ دماغ یکدم ہی مفلوج ہونے لگا تھا۔۔ آنکھوں میں سرخیوں کے ڈورے بڑھنے لگے۔۔
دروازے پر نوک ہونے پر اس نے ایک بار پھر پرس اپنے سینے سے لگایا۔۔
“میم نوح سر نے ہمیں بھیجا ہے۔۔ آپ کو ریڈی کرنے کے لئے”_
دو لڑکیاں اندر داخل ہوئی تھیں۔۔
ایک کے ہاتھ میں خوبصورت ہلکے آسمانی رنگ کی میکسی تھی۔۔ جسکی آستین پر سچے موتیوں کا بھاری کام ہوا تھا۔۔ وہ خوبصورت لباس اپنی قیمت آپ بتا رہا تھا۔۔
اس نے غائب دماغی سے انکی جانب دیکھا۔۔ اس نے اتنی زیادہ ڈرگز نہیں لی تھی کے ہوش کھو بیٹھتی وہ بس خود کو پرسکون رکھنا چاہتی تھی اور اسکے لئے اسکے پاس ڈرگز کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔
“میم میں آپ کی چینج کرنے میں ہیلپ کر دوں”_
وہ لڑکی قریب آئی تھی۔۔
“ننن نہیں۔۔۔
وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی۔۔
“میں خود کر لونگی”_
ڈریس اسکے ہاتھوں سے تقریباً چھین کر وہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کندھے اچکائے۔۔
“نوح ارسلان کی بیوی ہے۔۔ اتنا غرور تو بنتا ہے”_
اسکے رویے سے اپنے مطلب کی بات نکالتے ایک لڑکی نے کہا تھا۔۔
وہ اندر قد آور آئینے میں نظر آتے اپنے وجود کو دیکھ رہی تھی۔۔ پورا جسم داغوں سے بھرا ہوا تھا۔۔
اسکا خوبصورت جسم کسی کے وحشت کے نذر ہو کر داغ دار ہو گیا تھا اور اس اذیت ناک طرح سے ہوا تھا۔۔
اس نے ہاتھوں میں چھپا فاؤنڈیشن نکالا۔۔ بہتی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے وہ تیزی سے اپنی گردن اور گلے پر فاؤنڈیشن لگا رہی تھی۔۔
کندھوں پر۔۔ ہر جگہ جو اس ڈریس سے نظر آ سکتی تھی وہ فاؤنڈیشن لگا چکی تھی۔۔ اس نے ایک نظر آئینے پر ڈالی تمام نشانات چھپ چکے تھے۔۔ آستین پوری تھی اسے بازو اور کلائی پر سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔۔
اپنا عکس دیکھتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔
کیا تھا اسکا اصل۔۔
اسکی حقیقت۔۔۔
میک اپ کے تہوں میں چھپے اتنے داغ۔۔ اتنا داغ دار وجود۔۔
کیا ہوگا جب نوح ارسلان کو حقیقت کے متعلق علم ہوگا۔۔
دارم کو تو اس نے روک دیا تھا حقیقت بتانے سے۔۔ لیکن وہ کب تک اسے دور رکھ سکتی تھی۔۔
کبھی نا کبھی تو اسے ساری حقیقت معلوم ہو جائے گی۔۔ اور پھر ۔۔۔
پھر کیا ہوگا۔۔
وہ قبول کرے گا ایک داغ دار لڑکی کو۔۔
جتنی اذیت میں وہ تھی اسکا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا تھا۔۔
آنسوں صاف کر کے اس نے وہ لباس پہنا تھا۔۔ آئینے اسے جھوٹ بولتا نظر آ رہا تھا۔۔۔
اتنی حسین۔۔۔
اتنی خوبصورت۔۔۔
وہ لباس اسے یوں سج گیا تھا جیسے بنا ہی اسکے لئے ہو۔۔ آستین کے علاوہ پورا لباس سادہ تھا۔۔
صرف دامن پر نفیس باریک سا موتیوں کا کام ہوا تھا۔۔
وہ باہر نکلی تو ان دونوں کی آنکھوں میں بھی اسے دیکھ کر ستائش ابھری تھی۔۔
“آپ کو تو ان مصنوعی چیزوں کی ضرورت ہی نہیں ہے”_
وہ بولتی ہوئی اسے سجا رہی تھیں۔۔
اسکی قسمت پر رشک کر رہی تھیں۔۔ اسکی غیر معمولی خوبصورتی کو سراہ رہی تھیں۔۔

۔
وہ انہیں بتانا چاہتی تھی کے اسکے بخت کتنے سیاہ ہیں۔۔ اسکی غیر معمولی خوبصورتی کی اس نے کتنی بڑی قیمت ادا کی ہے۔۔
وہ انکی باتوں پر قہقہ لگانا چاہتی تھی۔۔ مگر خاموشی بیٹھی انہیں خود کو سجاتے دیکھ رہی تھی۔۔
بھاری کام دار دوپٹہ سیٹ کر کے اسکا لک فائنلائز کر رہی تھیں۔۔
وہ بت بنی آئینے میں نظر آتی اس حسین مورت کو دیکھ رہی تھی۔۔ جسکی قاتل آنکھیں سرخ آنسوں رونا چاہتی تھیں۔۔
“میم آپ بب پیاری لگ رہی ہیں”_
وہ دو لڑکیاں مبہوت سی اسے دیکھ رہی تھیں۔۔ وہ اس سے نظریں نہیں ہٹا پا رہی تھیں۔۔ نوح ارسلان کا کیا حال ہوگا انہیں اندازہ ہو رہا تھا۔۔
“کام ہوا آپ لوگوں کا کے نہیں ؟
بلیک ٹیکسیڈو میں ملبوس خوشبوئیں بکھیرتا نوح ارسلان اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا۔۔ بالوں کو جیل لگا کر پیچھے سیٹ کیا گیا۔۔ چشمہ سے جھانکتی ڈارک براؤن گہری آنکھیں سنجیدگی لئے دیکھ رہی تھیں۔۔
آئینے میں نظر آتے اس سحر زادی پر نظر پڑھتے ہی تمام باتیں سارے اسباق جیسے بھول گئے تھے۔۔
ہمیشہ سادہ سی رہنے والی ازورا لاشاری کا یہ دو آتشہ روپ تو اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔۔
میکسی میں ملبوس تمام تر ہتھیاروں سے لیس۔۔ تیکھے نقوش میک اپ سے مزید قاتل ہو گئے تھے۔۔
ہاتھ کے اشارے سے ان لڑکیوں کو باہر جانے کہا تھا۔۔
اس حسین مورت نے نگاہ اٹھا کر اسکی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔ وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا۔۔
“لیڈی”_ اسکی گلابی کلائی ہاتھوں میں لئے وہ سحر زدہ سا بولا تھا۔۔ اسکے کلون کی سٹرونگ خوشبو ازورا کے حواس معطل کر رہی تھی۔۔ اسکی کلائی تھامے وہ جھک کر ڈراز سے کچھ نکال رہا تھا۔۔ “یہ آپ کے لئے شادی کا تحفہ”_
وائٹ گولڈ کی نازک سی بریسلیٹ اسکی کلائی کی زینت بنا کر اس نے اسکی کلائی کی ابھری نیلی رگ پر اپنا لمس چھوڑا تھا۔۔
“آپ فلک سے اتری ہیں نوح ارسلان کے لئے زمین والوں سے کوئی تعلق نہیں ہے آپ کا”_
اس نے نرمی سے اسکی بوجھل پلکیں بھی چومی تھیں۔۔
بھوری مہ خانے کی شراب سی آنکھوں کے در آج بھی نوح ارسلان پر بند تھے۔۔
“باہر میڈیا ہے۔۔ میں ذرا ان سے نپٹ کر آتا ہوں”_
۔
وہ ہولے سے اسکے کانوں کے قریب جھکا بولا تھا۔۔ اس نے اضطرابی کیفیت میں اثبات میں ہلایا۔۔
وہ مسکراتا ہوا باہر نکلا تھا۔۔
اسکے جانے کے بعد وہ گہری سانسیں لیتی خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اسے اب شدّت سے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔۔ اپنے سکون کے لئے اس نے تھوڑا سا نشہ استعمال کرنا چاہا تھا جسکی طلب اب بڑھ کر اسکا ہوش حواس میں رہنا ناممکن کر رہی تھی۔۔
اسے اپنی سانسیں کھینچتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
طلب مزید بڑھی تھی اسکا پورا جسم کھینچ رہا تھا۔۔ بلآخر وہ ٹیبل پر جھکی تھی۔۔ پرس سے انجکشن نکال کر اس نے کانپتے ہاتھوں سے انجکشن بھری۔۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا”_
“بببب بس تھوڑا سا”_ وہ اپنے آپ میں بولتی دو انجکشن فل کر چکی تھی۔۔ اس وقت اسکے ذہن سے سب نکل محو ہو گیا تھا یاد تھا تو بس یہ کے طلب ہے اسکی جسے اسے ہر حال میں پوری کرنا ہے۔۔ “ازورا۔۔۔ باہر ویٹ کر رہے ہیں سب”_
وہ بولتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔۔ سامنے کا منظر اس نے بےیقینی سے دیکھا۔۔ ابھی تو وہ اسے ہوش میں چھوڑ کر گیا تھا اور اب_ ۔ “امپریسیو لیڈی۔۔۔ آئی ایم امپریسڈ اپنے ولیمے کے دن اپنی دلہن کو ڈرگز لیتے دیکھنے کا شرف بس مجھے ہی حاصل ہوا ہوگا”_
اندر کا منظر دیکھ کر وہ طنزیہ لہجے میں بولا تھا۔۔ ٹیبل پر موجود پاؤڈر دیکھ کر ضبط سے اسکی رگیں تنی تھیں۔۔ اسکا سجا سنورا روپ قہر برپا کر رہا تھا۔۔ لیکن اس حرکت نے نوح ارسلان کا فشار خون سو گناہ بڑھا دیا تھا۔۔
ازورا نے نگاہیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکا انجکشن تھاما ہاتھ ایک پل کو تھم سا گیا تھا۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے نوح کو سرے سے نظرانداز کر کے وہ انجکشن اپنے بازو میں پیوست کر گئی تھی۔۔
وہ متاسف انداز میں اسے دیکھتا سرعت سے قریب آیا تھا۔۔
“اٹھیں کھڑی ہوں”_
سنجیدگی سے کہتے بازو سے تھام کر اسے کھڑا کیا جسکے چہرے پر سرور کی سی کیفیت چھا رہی تھی۔۔ وہ اسے یہاں اپنے ساتھ محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔
سختی کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ ہوش میں ہوتی تو خوفزدہ یا کم از کم شرمندہ ہوتی۔۔
“ننن نہیں۔۔ میرے اندر سوئی چبھتی ہے۔۔ تت تمہیں نہیں پتہ۔۔ مجھے بہت دد درد ہوتا ہے۔۔ مم میری ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔۔ یہ مم مجھے دے دو پلیز”_
اسے اپنے ہاتھ سے دوسری انجکشن لیتے دیکھ وہ منتوں پر اتر آئی تھی۔۔