Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٨
۔
بکھرتی رات اپنے فسوں خیز لمحوں میں ریشمی رشتے کی لؤ دیتی تمام ہوئی تھی۔۔ وہ اسکے سینے پر سر رکھے دھنک رنگوں کی چادر اوڑھ کر کچھ دلنشیں لمحے اسکے حوالے کئے بےسدھ سو رہی تھی۔۔
نشے کی طلب میں اسکے بےجان ہوتے وجود کو نوح ارسلان نے کس طرح پرسکون کیا تھا۔۔ شبِ وصال قطرہ قطرہ خاموشی سے برس کر گزر گئی تھی۔۔۔ وہ گلاب زادی پورے استحقاق سے اسکے پہلوں میں اسکے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔ وہ کسی جادوئی شہ کی مانند اسے تکتا سحر زدہ سا تھا۔۔۔
وہ سحر زادی اپنے حسن سے اسے مسحور کئے بےخبر پڑی تھی_ اس نے نرمی سے اسکی بند آنکھوں کو لبوں سے چُھوا۔۔ بھوری مائل رنگت لئے وہ خمار خانہ جن میں پور پور ڈوب کر بھی وہ سیر نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ “مائی لیڈی”
پھولے گالوں سے اپنے گال میس کرتا وہ مخمور لہجے میں بولا تھا۔۔ اسکے ہر ہر نقش پر مہر محبت ثبت کرتا وہ پورے دل سے مسکرایا تھا۔۔ اس نے کسمسا کر ذرا کی ذرا پلکیں واں کی تھیں۔۔ نیند کی گلابی ڈورے لئے بھورے نین نوح ارسلان کو سنہری حسین صبح کا سب سے خوبصورت منظر لگے تھے۔۔
“صبح بخیر اہلیہ جانم” بھیگے نین لبوں سے چھوتے دلکش مسکراہٹ لبوں پر لئے وہ اسے تک رہا تھا۔۔ وہ نظریں چراتی دور ہوئی تھی۔۔ سارا منظر واضح ہوتے چہرے پر دھنک رنگ پھیل گئے تھے۔۔ نوح ارسلان کی نگاہوں کے ساتھ دل نے بھی اعتراف کیا تھا۔۔ “رنگوں کا اس قدر حسین امتزاج میں نے آج تک نہیں دیکھا۔۔ ان رنگوں کے آگے تو تتلیوں کے رنگ بھی مدھم ہیں لیڈی”
اسکے چہرے پر بکھرے دھنک رنگ اسکی خماری میں اضافہ کر رہے تھے۔۔ سحر زادی کے لب مسکائے تھے۔۔ دائیں گال پر دهیما سا بھنور بھی ساتھ مسکرایا تھا۔۔۔ نوح کے دل نے شدّت سے خواہش کی تھی۔۔ لہو میں دوڑتی خواھش پر لبیک کہتے اس نے نرمی سے گال پر لب رکھے تھے۔۔۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا ہے”
وہ خود میں سمٹتی کمزور لہجے میں بولی تھی۔۔ اسکے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ یہ شخص مسکراتا بھی کنجوسی سے ہے۔۔
“کیوں لیڈی۔۔ کوئی گناہ سرزرد ہو گیا کیا خادم سے ؟”
وہ بھرپور سنجیدگی سے بولتا اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“میں حواس میں نہیں تھی۔۔۔ آآپ”_ بھورے نین بهیگ کر مزید قیامت خیز منظر پیش کر رہے تھے۔۔ “آپ کے حواس درست کرنے کے لئے ہی یہ اقدام اٹھائے ہیں”
اسکے لہجے کے ساتھ گرفت میں بھی سختی در آئی تھی۔۔۔ اسکی بات پر ازورا نے شرمندگی سے سر جھکایا۔۔
“آئی ایم سوری”_ وہ شرمندگی سے بولی تھی۔۔ اسکی جانب دیکھنے کی غلطی نہیں کی گئی تھی۔۔۔ وہ خاموش ہی رہا تھا۔۔ “جو کچھ ہوا وہ غلط نہیں ہے آپ جانتی ہیں۔۔ آپ کی اجازت کے بغیر ہوا اسکی وجہ سے بھی آپ اچھی طرح واقف ہیں۔۔ مجھے نہیں لگتا مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے”
وہ سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھتا ہوا بولا تھا۔۔ انداز ہمیشہ کی طرح تحکم بھرا۔۔ انداز وہی ازلی استحقاق لئے۔۔ وہ لب کاٹتی نیر بہا رہی تھی۔۔
“ممم مجھ سے خفا نہیں ہوں۔۔ میں کوشش کروں گی اب نا لوں۔۔ ککک کچھ بھی ہو جائے۔۔ مجھے کتنی ہی تکلیف کیوں نا ہو پپ پر اب سے نہیں لونگی سسس سچ میں”_ وہ اسکے سینے سے لگی سسکتی ہوئی اسے یقین دہانی کرواتی حیران کر گئی تھی۔۔ وہ متحیر نگاہوں سے اسے تک رہا تھا۔۔ تو کیا وہ اس قدر اہم ہو گیا تھا اسکے لئے کے وہ اسکے لئے تکلیف برداشت کرنے پر تیار تھی۔۔ اس نے سختی سے اسے خود میں بھینچا تھا۔۔ محبت لمس میں ڈھل کر اسکے وجود کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئی تھی۔۔ “میں آپ کی ہر تکلیف دور کر دونگا ازورا لیکن اس طرح آپ مجھے کرب میں مبتلا کرتی ہیں”
اسکے بالوں پر لب رکھتے وہ بےبسی سے بولا تھا۔۔ فجر کی اذان کی آواز پر وہ نرمی سے اسے کچھ دور کرتے اٹھ بیٹھا تھا۔۔
ازورا نے حیرانی سے اسے دیکھا اس نے کبھی اسے نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔۔
“آپ نماز پڑھتے ہیں ؟”
وہ حیران سی سوال کر رہی تھی۔۔ نوح نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“ممم میرا مطلب میں نے کبھی آپ کو دیکھا نہیں اس لئے”_ اس نے خود ہی بات بنائی تھی۔۔۔ “بہت گلے ہیں میرے اللّه سے۔۔ بہت شکوے ہیں۔۔ میری نظر میں سب بجا ہیں۔۔ لیکن پھر بھی کبھی اس سے رشتہ نہیں توڑا میں نے۔۔ ٹوٹی پھوٹی نماز کے ذریعے کمزور سا رشتہ ہی صحیح لیکن موجود ہے”
اسکے لبوں پر کرب زدہ سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
“فریش ہو جائیں آپ بھی پڑھ لیں”_
اس نے دھیرے سے کہا تھا۔۔
“ممم میں نہیں پڑھتی نوح”_ اس نے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔۔ وہ رکی نہیں تھی باتھ روم میں بند ہو چکی تھی۔۔۔ اندر نجانے کتنی دیر وہ روتی رہی تھی۔۔ “تو کیا اسکا کوئی رشتہ نہیں رہا تھا اللّه سے ؟” یہ سوچ کر ہی دل بند ہو رہا تھا۔۔ سانسیں تنگ ہو رہی تھیں۔۔ یہ تو اپنی ذات پر ظلم تھا۔۔۔ ہاں ظلم ہی تھا۔۔۔ وہ بھیگا وجود لئے باہر آئی تو وہ جائے نماز پر شاید اسکے ہی انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔ “ہزار شکوے کے باوجود بھی میں جانتا ہوں کے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔ مجھ سے رخ نہیں پھیر سکتا۔۔ اپنا رشتہ اس سے ختم نہیں کریں ازورا ایک کمزور سی ہی صحیح ڈور ضرور ہونی چاہیے اسکے اور آپ کے درمیان”_
سماعت میں اترتی اسکی آواز پر وہ نم آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتی رہی۔۔ کچھ دیر میں وضو کر کے اسکے ساتھ آ کھڑی ہوئی تھی۔۔
“مجھے پڑھنا نہیں آتا”_
وہ سر جھکائے کسی معصوم بچے کی طرح بولی تھی جو راستہ بھٹک گیا ہو۔۔
“مجھے بھی نہیں آتا۔۔ لیکن ٹوٹے پھوٹے الفاظ بھی وہ قبول کر لیتا ہے”_
اس نے اطمینان سے کہا تھا۔۔ وہی پرسکوں لہجہ جو اسکا خاصا تھا۔۔ وہ آج سمجھ پائی تھی کے نوح ارسلان کے چہرے پر کس چیز کا اطمینان جهلکتا تھا۔۔ اس نے کبھی اللّه سے رشتہ ختم نہیں کیا تھا پھر کیوں کر پرسکون نہیں ہوتا۔۔۔
“فاصلہ ہمارا اللہ سے ہے، اللہ کا ہم سے نہیں ازورا۔۔ وہ تو سات آسمانوں کے پردے سے بھی وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو ساتھ چلتا انسان نہیں دیکھ پاتا۔۔ جسے ہم میلوں کی دور سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ تو بس ہماری ایک پکار کی دوری پر ہے”__
اس نے جیسے قائل کر لیا تھا اسے۔۔ وہ قائل ہو گئی تھی۔۔
چھ سال بعد وہ آج ایک بار پھر اللّه کے حضور کھڑی تھی۔۔ اسکی امامت میں۔۔ اسکے لفظ لفظ کو دوہراتی۔۔ اسکے پیچھے پڑھ رہی تھی۔۔
اسکی آواز کا سحر تھا یا ان الفاظ کی تاثیر اسکے رگ رگ میں کوئ روشنی بکھرتی چلی جا رہی تھی۔۔
ہر اک منظر نکھرتا چلا جا رہا تھا۔۔
۔
وہ اب آیات پڑھ رہا تھا۔۔۔
وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں ، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہی ہے ۔
(سورة الأنعام – آیت نمبر ١٧)
اسکی آنکھیں ساکت تھیں۔۔ لب خشک اور گالوں پر سالوں کی تھکن اتر آئی تھی۔۔ اسکا نحیف ہوتا ہر لفظ کے ساتھ ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔
اتنے سال وہ کیسے دور رہی تھی اس سے۔۔ اس نے کیوں وہ ڈور نہیں تهامی تھی جسکی دستک کتنے ہی لوگوں نے دی تھی۔۔ دارم نے۔۔۔ امل نے۔۔۔ لیکن اثر انداز نوح ارسلان کے الفاظ ہوئے تھے۔۔
وہ ٹھیک ہی تو کہتا تھا۔۔ وہ اسکے روح سے جڑی تھی۔۔
۔
“جانتی ہیں ان آیات کا مطلب کیا ہے ؟”
اس نے دعا نہیں کی تھی۔۔۔ نماز کے بعد اسکی جانب دیکھتا نرم انداز میں بولا تھا۔۔ اس نے بےخیالی میں نفی میں گردن ہلائی تھی۔۔
وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
۔
اس نے ایک بار پھر وہ آیت پڑھی تھی۔۔ وہ منتظر نگاہوں سے اسے تک رہی تھی۔۔۔
“اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں ، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہی ہے”_ وہ اطمینان سے معنی پڑھ رہا تھا۔۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی بھاری سیل دل سے کسی نے ہٹا دی ہو۔۔ اسکی ساکن آنکھوں میں زندگی کی حرارت ہوئی تھی۔۔ لبوں پر زندگی کی رمق لوٹ آئی تھی۔۔ تکلیف وہ دیتا ہے تو تکلیف کو دور کرنے والا بھی تو وہی ہے۔۔۔ تکلیف میں پکارا ہی نہیں اسے۔۔ وہی تو ہے مشکل کشا۔۔ تکلیف دیتا تو ساتھ خیر بھی دیتا ہے۔۔ وہ تو “عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ” ہے۔۔ ہر شہہ پر قدرت رکھنے والا۔۔۔ گالوں پر آنسوں تواتر سے گر رہے تھے۔۔ تشکر کے آنسوں تھے۔۔ نوح نے اسے روکا نہیں تھا۔۔ وہ خاموشی سے باہر نکل گیا تھا۔۔ جسکے سامنے وہ رو رہی تھی وہ خوب جانتا تھا اسکی تکلیف دور کرنا
۔
وہ واپس آیا تو وہ ہنوز اسی طرح بیٹھی تھی۔۔
“بسس کریں لیڈی” اسکے آنسوں انگلی کے پوروں پر چنتا وہ نرمی سے بولا تھا۔۔۔ وہ اسکے ہاتھوں پر سر ٹکائے سسکنے لگی تھی۔۔ آنکھوں سے بہتا نمکین پانی محبت سے صاف کر کے اس نے اسے حصار میں لیا تھا۔۔ بھیگی پلکوں پر لب رکھے وہ جانے کتنی ہی دیر کھڑا رہا تھا۔۔۔ اسکے سر سے نرمی سے دوپٹہ اتار دیا گیا تھا۔۔ اسکا نم نم سا وجود۔۔ اس وجود سے اٹھتی اسکی خوشبو اسکے حواس معطل کر رہی تھی۔۔ اسکے بالوں سے اٹھتی شیمپو اور کنڈیشنر کی خوشبو سانسوں کے ذریعے اندر اتار رہا تھا۔۔ “آپ کے وجود کی خوشبو آپ کی یہ آنکھیں نوح ارسلان کا نشہ ہیں لیڈی”_ بهیگے بالوں کو ہاتھوں میں لپیٹے اسکی آنکھوں کو لبوں سے چھوتا وہ مخمور نگاہوں سے اسے تک رہا تھا۔۔ حیا کی تمازت لئے گلابی گالوں پر پلکوں کا اٹھتا گرتا رقص مقابل کو محظوظ کر رہا تھا۔۔ ۔ “نوح “_
وہ بمشکل بولی تھی۔۔ اس شخص کی نگاہیں بھی جسم سے روح کھینچ لیتی تھیں۔۔ اپنے لئے اسکی محبت کی شدّت کا اندازہ کرنے کے بعد نگاہ اٹھانا دوبھر ہو رہا تھا۔۔
“آپ بہت حسین ہیں”_ الفاظ بہت سادہ تھے لیکن مقابل کا لہجہ، اسکا انداز اسکے وجود میں خفیف سی لرزش طاری کر گیا تھا۔۔ “اتنی کنفیوژ آپ اس وقت تو نہیں ہوتی تو میری محبوبہ کے خلاف تحزیب کاری کرتی ہیں”
وہ اطمینان سے بولتا گال کے ابھرتے گڑھے پر لب رکھ گیا تھا۔۔ اسکا شدّتوں بھرا لمس اسکی رہی سہی آواز بھی حلق میں دبا گیا تھا۔۔
۔
“یہ آپ کے لئے۔۔ آپ پہنیں گی تو اچھا لگے گا مجھے”_
سونے کی باریک چوڑیاں اسکی جانب بڑھاتے اسکی آنکھوں میں انجانہ سا کرب تھا۔۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ اسکے آگے کئے تھے۔۔
گلابی کلائی میں وہ چوڑیاں سج سی گئیں تھیں۔۔
“یہ میری ماما کی ہیں”_ اسکی کلائی پر ابھری نیلی نبض کو لبوں سے چھو کر وہ جیسے اسے بتا رہا تھا۔۔ ماما کے نام پر ہمیشہ اسکے انداز میں کرب سمٹ جاتا تھا۔۔ “آپ کی ماما کی ڈیتھ کیسے ہوئی نوح ؟” اسکے لبوں سے بےاختیاری میں پھسلا تھا۔۔ اسکے لب یکدم بھینچ گئے تھے۔۔ “ریسٹ کر لیں کچھ دیر۔۔ پھر وکیل کے پاس جانا ہے”
سنجیدگی سے کہتا وہ غلاف میں لپٹی کوئی کتاب لے کر اس سے کچھ دوری پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
وہ بہت دھیمی آواز میں پڑھ رہا تھا۔۔ مدھر آواز بہتے پانی کے سروں سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ ازورا کے دل نے اعتراف کیا تھا اس نے اتنی خوبصورت آواز کبھی نہیں سنی تھی۔۔۔
“آپ مجھے بھی سکھا دینگے یہ پڑھنا ؟”
اس نے سرامیگی کی سی کیفیت میں پوچھا تھا۔۔ نوح نے متحیر نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“آپ قرآن سیکھنا چاہتی ہیں ؟”
اس نے سادہ سے لہجے میں سوال کیا تھا۔۔ وہ سر اثبات میں ہلاتی اسکے نزدیک آ بیٹھی۔۔۔
“اللّه سے رشتہ بنانا چاہتی ہوں۔۔۔ ٹوٹا پھوٹا ہی صحیح”_ اسکی آواز نوح تک بھی بامشکل ہی پہنچی تھی۔۔ “مضبوط وہ خود بنا دیگا”
وہ اسکی سرگوشی میں کہی بات بھی سن چکا تھا۔۔ وہ خاموشی سے چند پل اسے تکتی رہی۔۔ اسکے نزدیک آ کر اسکی گود میں سر رکھے لیٹ گئی۔۔ اس نے خوش گوار حیرت سے اسکی جانب دیکھا پھر جھک کر نرمی سے اسکی پیشانی پر لب رکھے۔۔
“مائی لیڈی”__
اسکے یہ الفاظ ازورا کو اپنے ہر مرض کا دوا معلوم ہو رہے تھے۔۔ وہ تفاخر سے اسے اپنی کہ کر پکارتا تھا۔۔
۔
“میم باہر نوح سر اور انکی مسز آئی ہیں”_
وہ فائل پر جھکی سامنے بیٹھی لڑکی کو کچھ اہم پائنٹس نوٹ ڈاؤن کروا رہی تھیں۔۔ انٹر کام پر موجود لڑکی کا پیغام سن کر اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔
“بھیجیں انہیں اندر”_
انہیں اندر بھیجنے کی ہدایت کرنے کے بعد اس نے سامنے بیٹھی لڑکی کو جانے کا کہا۔۔ چند لمحے ہی گزرے تھے جب نوح کے ساتھ ازورا اندر داخل ہوئی تھی۔۔
“آجاؤ۔۔ تم نے تو اس دن کے بعد ادھر کا رستہ ہی نہیں یاد رکھا۔۔ میں منتظر تھی”_
ازورا کی جانب مسکرا کر دیکھتی وہ دوستانہ انداز میں بول رہی تھی۔۔ نوح نے غیر محسوس انداز میں ازورا کے ہاتھوں پر گرفت مضبوط کی تھی۔۔ ازورا نے نگاہیں پھیر کر اسے دیکھا۔۔ جتنا لاپرواہ وہ دکھتا تھا اتنا تھا نہیں۔۔ ایک عجب سا تحفظ کا احساس تھا اسکے ساتھ_ “بیٹھو”_
لیلیٰ نے سامنے موجود چیئرز پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ اس نے خود بیٹھنے سے پہلے ازورا کے لئے چیئر پیچھے کی تھی۔۔ یہ آج کے دن دوسرا جھٹکا تھا جو نوح ارسلان اپنے ازلی اطمینان سے اسے دے رہا تھا۔۔ لیلیٰ نے لبوں پر ابھرنے والی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔ ازورا کچھ حیران سی بیٹھ گئی۔۔
۔
“آپ کے ساتھ ایک وکیل ہوتی ہیں لیلیٰ۔۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں”_
اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھتا وہ سگریٹ سلگا کر بولا تھا۔۔ لیلیٰ کو وہ آنٹی بولنے کی زحمت کم ہی کرتا تھا۔۔
۔
“وکیل سے ؟ خیریت ہے ؟”
۔
“جی خیریت ہی ہے۔۔ مجھے کیس فائل کرنی ہے شہباز ضمیر پر۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہتا ہوں میرا وکیل اپنا ہوم ورک پورا کر لے”_
سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتا وہ اطمینان سے بول رہا تھا۔۔ ازورا بری طرح کھانس رہی تھی۔۔ کھانسنے کی وجہ سے اسکا چہرہ پوری طرح سرخ ہو چکا تھا۔۔ وہ جانتا تھا اسکی وجہ سگریٹ کا دھواں ہرگز نہیں ہے۔۔
“شہباز ضمیر ؟”_ لیلیٰ کی سرسراتی آواز سرگوشی کی صورت نکلی تھی۔۔ تو کیا وقت آ گیا تھا رحمن شاہ اور شہباز ضمیر جیسے درندوں کا سامنا کھل کر کرنے کا۔۔ “نوح شہباز ضمیر، رحمن شاہ کا خاص آدمی رہ چکا ہے۔۔ مذہبی سیاسی پارٹیز کا اہم کارکن شہباز ضمیر ؟؟” اس نے جیسے اسے حالات کا اندازہ کروانا چاہا تھا۔۔۔ ایک کیس وہ آل ریڈی لڑ رہے تھے رحمن شاہ کے بیٹے کے خلاف۔۔ “لیلیٰ”
اسکی آواز معمول سے کچھ زیادہ بلند تھی۔۔ ازورا سہم کر چیئر سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ وہ اسے گھر والا نرم انداز والا نوح ہرگز نہیں لگا تھا۔۔ وہ تو وہی مغرور شخص بن گیا تھا جو ایک کے بعد دوجی نگاہ کسی پر ڈالنا گوارہ نہیں کرتا تھا۔۔
لیلیٰ البتہ اسی طرح اطمینان سے بیٹھی رہی تھی جیسے عادی ہو نوح ارسلان کے اس رویہ کی۔۔
“روشانے ارسلان اور ازورا نوح ارسلان کا مجرم شہباز ضمیر۔۔۔ دس سال کسی مذہبی پارٹی میں گزار لینے سے کیا اسکے گناہ ختم ہو گئے؟ دس سال پہلے اور پھر اب تک اس نے کیا کیا آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی۔۔ وہی شہباز ضمیر جس نے پہلے میری ماں اور پھر میری بیوی پر ہاتھ ڈالا ہے۔۔ نوح ارسلان کی محبت پر ہاتھ ڈالا ہے۔۔ اسکا مطلب سمجھ رہی ہیں آپ ؟”
اسکے سامنے جھکا ایک ہاتھ سے سختی سے ازورا کی کلائی تھامے وہ لہو رنگ آنکھوں سے اسے تکتا پوچھ رہا تھا۔۔
“ازورا پر ؟ ازورا کے ساتھ “
لیلیٰ بےربط سے جملے ادا کرتی اسے تک رہی تھی۔۔ جسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔
“آج ہی میرے آفس بھیجیں اپنی وکیل کو۔۔ میں ہائیر کرنا چاہتا ہوں۔۔ آپ جانتی ہیں لیلیٰ نوح ارسلان اپنی بیوی کے لئے ملک کا سب سے مہنگا وکیل بھی ہائیر کر سکتا ہے۔۔ لیکن اس معاملے میں مجھے خود سے زیادہ آپ پر بھروسہ ہے۔۔ اس لئے وکیل آپ بھیجیں گی”_ اس نے ازورا کا ہاتھ اب بھی تھاما ہوا تھا۔۔ وہ تکلیف سے لب بھینچے اسکے ساتھ خاموش کھڑی تھی۔۔ لیلیٰ نے اسے ایڈووکیٹ صباء طاہر کا نمبر دیا ساتھ ہی پوری پروفائل بھی۔۔ “یہ بات یاد رکھنا نوح کے رحمٰن شاہ کے بیٹے پر آل ریڈی “العنکبوت” کی جانب سے کیس چل رہا ہے۔۔ ایک چھ سالہ بچی کے ریپ کا کیس۔۔ تمہارے کسی بھی ایکشن کی وجہ سے ادارہ کا نام بیچ میں نہیں آنا چاہئے ورنہ اس معصوم کو انصاف نا ملنے کی ایک اور توجیہہ سامنے آ جائے گی “
وہ ازورا کو ساتھ لئے کمرے سے نکل رہا تھا۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر گہری سانسیں بھرنے کے بعد اس نے اسکی جانب دیکھا جو خاصی سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔۔ شاید اسکے انداز سے۔۔ پچھلے کچھ عرصے میں وہ اسکے ہر بچکانی حرکت پر اسکا ساتھ دے رہا تھا آج اسکے انداز میں بدلاؤ اسے خوفزدہ کر گیا تھا۔۔
“واٹ ہپپین لیڈی ؟ خوفزدہ کیوں ہیں اتنی ؟”
تمام تر غصہ ضبط کرتے وہ اسکی جانب رخ کرتا بولا تھا۔۔ آج کے دن کم از کم وہ اسے یوں سہمی ہوئی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
نظریں اسکے بھینچے لبوں سے پھسلتی اسکی کلائی پر پڑی تھیں۔۔ اس نے سرعت سے اسکا ہاتھ تهاما۔۔ اسکی کلائی پر تازہ سگریٹ سے جلا نشان دیکھ کر اس نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
“یہ کیسے ہوا ازورا ؟”
احتیاط سے اسکا ہاتھ تھامے وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔۔
“آپ کے ہاتھ میں سگریٹ تھی جس وقت آپ نے ہاتھ پکڑا”_ وہ جتاتی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی تھی۔۔ اسکا ارادہ اسے شرمندہ کرنا ہی تھا۔۔ اور حیرت انگیز طور پر وہ شرمندہ ہو بھی گیا تھا_
“معاف کر دیں مجھے”_ نوح ارسلان کے لبوں سے نکلنے والے اگلے جملے نے اسے ایک اور شدید جھٹکا دیا تھا۔۔ وہ اس سے لاعلمی میں ہوئے عمل کی معافی طلب کر رہا تھا۔۔ “ککک کچھ نہیں ہے۔۔ زیادہ نہیں لگی۔۔ یہ اس طرح کے زخم تو میں خود بھی “
وہ کچھ کہتے کہتے اسکے بھینچے لبوں پر نظر پڑتے ہی ٹھہر گئی تھی۔۔
“ممم میرا مطلب ہے اس طرح کے زخم مجھے تکلیف نہیں دیتے”_
اس نے جلدی سے اپنی بات کو گویا کوور کیا تھا
“مجھے دیتے ہیں۔۔ مجھے آپ کا ہر زخم۔۔ ہر تکلیف۔۔ آپ کے وجود پر لگا ہر داغ مجھے تکلیف دیتا ہے”_ اسکے ہاتھ پر آئینٹمنٹ لگاتا وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔ جو بھی تھا اس شخص کی اپنے لئے شدّت وہ محسوس کر چکی تھی۔۔ ۔ “مجھے دار کے پاس ہسپتال ڈراپ کر دیں”_
وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔۔
۔
“یہ رنگ آپ پر پیارا لگتا ہے”_
اسکی بات نظر انداز کرتا وہ بہت سلو میوزک گاڑی میں پلے کر کے اسکی جانب دیکھے بنا ہی بولا تھا۔۔
سنگر کی مدھر آواز میں گیت کے بول معنی خیز سی خاموشی میں بھی بھلے لگ رہے تھے۔۔
۔
“کونسا رنگ پہنا ہے میں نے ؟”
اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔۔
۔
“آپ کے چہرے پر میری محبت کے سارے رنگ حسین لگ رہے ہیں”__
نجانے اقرار کر رہا تھا یا مانگ رہا تھا لیکن اسے اندر تک سرشار کر گیا تھا۔۔
ان رنگوں کو چھپانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی وہ مزید رنگوں میں نہا گئی تھی۔۔ نوح ارسلان اسکے گلنار ہوتے روپ کو نگاہوں سے نہارتا وہ لبوں پر بےساختہ آنے والی مسکراہٹ کوشش کے باوجود چھپا نہیں سکا تھا۔۔
۔
“کس کے انڈر تھا پیشنٹ ؟”
چھوٹے بچے کی نبض چیک کرتا وہ سنجیدگی سے مخاطب تھا۔۔ وہ اپنے کام کو لے کر کس حد تک سیریس تھا اسکے ساتھ کام کرنے والا پورا سٹاف جانتا تھا۔۔
“میرے انڈر ابزرویشن تھا یہ پورا وارڈ دارم”_
رمشا نے دھیمی آواز میں جواب دیا تھا۔۔ دارم اسفہان خوش قسمت تھا اپنی ذاتی زندگی کو پروفیشنل سے دور رکھنا خوب جانتا تھا یا شاید عادی تھا اس تکلیف کا۔۔
لیکن وہ تو نہیں تھی۔۔ وہ تو اس صبح کے بعد سے ہی ایسی اپنی ذات میں الجھی تھی کے نکل ہی نہیں پا رہی تھی۔۔ اپنے سامنے اپنے من چاہے شخص کو کسی اور کی محبت میں تڑپتا دیکھنا آسان تو نہیں تھا۔۔
“ڈاکٹر رمشا اندازہ ہے آپ کو کتنی ہیوی ڈوز دی گئی ہے اس بچے کو۔۔ آپ کا پیشہ آپ کو اس لاپرواہی کی اجازت تو نہیں دیتا”_
اسکے چہرے پر وہی سنجیدگی تھی۔۔ یہ پہلی بار تھا جب وہ رمشا سے اس طرح مخاطب ہوا تھا۔۔
“آئی ایم سوری سر”_ ایک نگاہ آس پاس کھڑے سٹاف پر ڈال کر وہ بھیگی آواز میں بولی تھی۔۔ آنکھیں تو آج یوں بھی بات بے بات بهیگ رہی تھیں۔۔ “خیال رکھیں۔۔ تھوڑی سی لاپرواہی بڑے نقصان سے دو چار کر سکتی ہے۔۔ اسے ٹریٹ کریں۔۔ ہیوی ڈوز کی وجہ سے ہوش میں نہیں ہے یہ”
وہ اس بچے کی جانب اشارہ کر کے نکل کمرے سے نکل گیا تھا۔۔
وہ خود کو کمپوز کرتی اس بچے کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔۔
۔
پورے وارڈ کا راؤنڈ کرنے کے بعد وہ ایک نظر رمشا پر ڈال کر وہ باہر نکل گیا تھا۔۔ اسے بعد میں احساس ہوا تھا کے وہ سختی کر گیا تھا۔۔
وہ زری کی امپرومنٹ نوٹ کر رہا تھا جب وہ بھی کمرے میں آئی تھی۔۔
“زری کو چیک کر لیا تم نے ؟”
اس نے پرانے انداز میں اسے مخاطب کیا تھا۔۔ اپنے رویہ پر وہ اچھا خاصا نادم تھا۔۔ لیکن ندامت کا اظہار کرنا دارم اسفہان کو کبھی نہیں آیا تھا۔۔
“جی”_ وہ یک لفظی جواب دے کر جانے لگی تھی۔۔ “رمشا سنو یارا”_
وہ بےاختیار اسے پکار گیا تھا۔۔
“آئی ایم سوری۔۔ اس طرح بات نہیں کرنی چاہئے تھی”_
وہ واقعی نادم تھا۔۔
“میں عادی نہیں ہوں تمہارے اس لہجے، اس انداز کی دارم”_
وہ بری طرح رو پڑی تھی۔۔ کچھ صبح کا غبار بھی تھا جو اب اسکی ذرا سی نرمی پر نکل رہا تھا۔۔ ٹھیک ہی تو کہ رہی تھی وہ۔۔ وہ کب عادی تھی اسکے اس انداز کی۔۔ اسکا یہ انداز تو بس امل کے ساتھ ہی روا ہوتا تھا۔۔ باقی سب کے لئے تو وہ ٹھنڈی چھاؤں جیسا تھا۔۔
“آئی ایم سوری۔۔ تم رو تو نہیں یار”_
جو بھی تھا اسکا اپنی وجہ سے رونا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔
“سوری نہیں کہو”_ آنسوں صاف کر کے سوں سوں کرتی وہ کافی کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔ “پھر کس طرح مداوا کروں تم بتاؤ”
اسے نارمل ہوتے دیکھ وہ بھی گہری سانس لے کر بولا۔۔
“ڈنر”_ اس نے جلدی سے کہا تھا۔۔ “خدا کا خوف کرو ڈاکٹر۔۔ روز لنچ میں تم مجھ غریب کی جیب خالی کرتی ہو”_ اسکے انداز میں اس سے مخاطب ہوتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔ “اپنا راشن کا بل ذرا چیک کرنا”_ وہ اطمینان سے بولی تھی۔۔ دارم کا قہقہا گونج اٹھا۔۔ وہ جانتا تھا اسکے راشن کا بل اکثر وہی پے کرتی تھی۔۔ اسے تو اندازہ ہی نہیں تھا گھر داری کا
