60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٨

۔
رات کو وہ کافی دیر تک وہ جائے نماز پر خدا کے حضور جانے سجدے میں وہ کتنے آنسو بہا بیٹھا تھا، جانے خدا سے کون کونسی باتیں کر ڈالی تھیں، اپنے اندر کی ساری بے چینیوں، ساری بے قراریوں بے سکونیوں اور تکلیفوں کو وہ آنسو میں بہا گیا تھا۔۔ اور خدا سے گر گرا کر مانگا تو صرف سکون ۔۔۔ جب خدا کے سامنے دل ہلکا کرد یں اس کے ساتھ راز و نیاز کرلیں اور اسی کی ذات میں دل لگا لیں تو سکون انسان کو اپنے پروں میں چھپا لیتا ہے۔۔۔
اپنا دل ہلکا کرلینے پر وہ خود کافی حد تک تروتازہ محسوس کررہا تھا۔۔۔
فجر کی نماز کے بعد وہ گلاس ڈور سے پردے ہٹا کر باہر خوبصورت صبح کے نور میں ڈوبے اپنے ہرے بھرے لان کو دیکھنے لگا اور ہاتھ بڑھ کر گلاس ڈور کی سلائیڈ پیچھے کرکے دروازہ کھول دیا جس ٹھنڈی تروتازہ ہوا نے اس کا استقبال کیا تھا۔۔
۔
نیلگوں آسمان پر سفید خوبصورت بادل ،تروتازہ ہوا اور ہریالی اس کے دل کو بہت بھلی لگ رہی تھیں ہلکی ہلکی بوند بھی پڑ رہی تھی۔۔ اس کا باہر جاکر باغیچے کے ہری بھری گھاس پر ننگے پاؤں واک کرنے کا ارادہ جسے وہ ملتوی کرکے گلاس ڈور بند کر کے الماری کی طرف بڑھ گیا۔۔
۔
وہ گہرے ویلوٹ کے سبز رنگ کے غلاف میں لپٹی کتاب کو سینے سے لگا کر وہ گلاس ڈور کے نزدیک رکھی کرسی پر جا بیٹھا اور نہایت ادب و احترم کے ساتھ اس کتاب کو غلاف سے نکال کر اسے چوما اور آنکھوں سے لگا نے کے بعد اسے کھول لیا۔۔
یہ تفصیلی تفسیر کے ساتھ قرآن تھا جو اسے اسکی سالگرہ پر امل نے تحفہ میں دیا تھا۔۔ اسکا واحد تحفہ تھا جو دارم نے اسے واپس نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ بچپن سے اسکے ہر سالگرہ پر اسے تحفہ دیتی تھی۔۔ وہ اس سے آٹھ سال بڑا تھا۔۔ بچپن میں اسکی کافی اچھی دوستی ہوا کرتی تھی امل سے۔۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد بھی وہ امل کے ساتھ ٹھیک ہی تھا۔۔ اسکا رویہ تو شہباز کی ازورا سے نکاح کے بعد سے اس سے خراب ہوا تھا اور پھر ہوتا چلا گیا۔۔ وہ جانتا تھا اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔
اسکا قصور صرف یہ تھا کے اسکی رگوں میں شہباز ضمیر کا خون دوڑ رہا تھا۔۔ اور اس ناکردہ گناہ کی سزا وہ اس سے محبت کی صورت بھگت رہی تھی۔۔
وہ جانتا تھا وہ اس سے ایک میسج کی دوری پر ہے۔۔ وہ ایک بار پکارے گا اور وہ اسکے حضور حاضر ہوگی۔۔ وہ شہزادیوں سی لڑکی اسکی محبت میں اسکی داسی بن گئی تھی۔۔
وہ اسے کسی ناکردہ گناہ کی سز نہیں دینا چاہتا تھا۔۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا اسکے آنسوں۔۔ اسکی تڑپ اسے بھی تکلیف دیتے ہیں۔۔ بہت تکلیف دیتے ہیں۔۔ لیکن جب وہ سامنے آتی تھی تو اسکے ذہن کے پردوں پر بس ازو رہ جاتی تھی۔۔ اسکی اذیت۔۔ اسکی تکلیف۔۔ اور اس سب میں امل کی ذات اسکی تڑپ۔۔ اسکی تکلیف بہت پیچھے رہ جاتی تھی۔۔
ایک محبت ازو سے تھی جو سب پر عیاں تھی۔۔ اور شاید زور آور بھی۔۔
اور ایک احساس امل کا تھا جسے وہ ماننے سے خود انکاری تھا۔۔ اندر دل کے تہوں میں کہیں چھپا بیٹھا ہوا۔۔
اس نے قرآن کا جلد کھولا تھا۔۔ اسے پڑھنا شروع کر دیا۔۔ اس نے سنا تھا کے قرآن دلوں پر اترتا ہے۔۔ الہام کی مانند۔۔ وہ قرآن پڑھتا تھا۔۔ قرآن اسکے دل پر نہیں اترتا تھا۔۔ قرآن کی عربی اس نے اور امل نے ساتھ سیکھی تھی۔۔۔ اسے قرآن لفظ با لفظ آتا تھا۔۔۔
وہ گناہ گار تھا لیکن اسکی نظر میں اس نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا تھا کے اس سے قرآن چھین لیا جاتا۔۔ قرآن اسکے دل پر الہام بن کر نہیں اترتا۔۔ لیکن ایسا کیا گناہ اس سے سرزرد ہوا تھا کے قرآن نے اس سے منہ موڑھ لیا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔
کچھ دیر تلاوت کرنے کے بعد اس نے قرآن رکھ دیا۔۔ ناشتہ کر کے اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا تھا۔۔
اس روز زور زبردستی میں ازو کے سائیڈ ٹیبل پر لگا وہ بےبی کیمرہ ٹوٹ گیا تھا۔۔ جسکے باعث اس میں پوری ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تھی۔۔ اس میں بس شہباز کا اندر آنا اور ازو کو تھامنا نظر آ رہا تھا۔۔ آواز بلکل نہیں تھی لیکن اتنا سا منظر بھی شہباز کی نیت بتانے کے لئے کافی تھا۔۔
اس نے وہ ویڈیو اپنے موبائل میں ڈالی تھی۔۔ آج اسے ثبوت مل گیا تھا جو ثابت کرتا کے شہباز ضمیر کتنا گرا ہوا شخص ہے۔۔
خود ہسپتال کے لئے تیار ہونے کے بعد اسکا رخ شہباز ضمیر کے گھر کی جانب تھا۔۔۔
۔


۔
“خاور کہ رہا تھا اس مہینے کی آخر تک وہ سفیان اور امل کی شادی کرنا چاہ رہا ہے۔۔ مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ تم کیا کہتی ہو ؟”
ناشتے پر وہ تین نفوس بیٹھے ہوئے تھے۔۔ شہباز اب ٹھیک تھا اسکے سر سے پٹی بھی اتر چکی تھی۔۔ اس واقعے کے بعد اس نے نجانے رومیسہ کو کیا کہانی سنائی تھی کے وہ اسے مزید مظلوم سمجھنے لگی تھی۔۔ وہ تو اسکی محبت کا دم بھرتا تھا بھلا ازورا میں اسے کیا دلچسپی ہوتی۔۔
نوالہ امل کے حلق میں ہی کہیں اٹک گیا تھا۔۔ وہ بری طرح کھانس رہی تھی۔۔ آنکھوں میں ڈھیروں آنسوں جمع ہو گئے تھے جو نکلنے کو بےتاب تھے۔۔ بارہ دن ہو گئے تھے اس سنگ دل نے مڑ کر خبر نہیں لی تھی۔۔ اس رات وہ اسے تنہا چھوڑ گیا تھا۔۔
“ہاں جتنی جلدی ہو سکے امل کے فرض سے فارغ ہو جایئں”_
رومیسہ کو بھلا کیا اعتراض ہونا تھا۔۔
۔
“اس بدکردار کا تو دارم نے نکاح کر دیا اس نوح ارسلان سے۔۔ شادی ہی کرنی تھی سیدھی طرح کر لیتی ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کرنے کی کیا ضرورت تھی میرے سمجھ سے باہر ہے۔۔ جیسی ماں ویسی بیٹی۔۔ بریرہ نے بھی تو کم ڈورے نہیں ڈالے تھے تم پر”_ وہ پتا نہیں کون کون سی بات اٹھا رہی تھیں۔۔ امل نے حیران نظروں سے اپنی ماں کی جانب دیکھا جو کہیں سے بھی ہائی سوسائٹی میں موو کرتی رومیسہ نہیں لگ رہی تھی۔۔ وہ پہلے کب انکے فیصلے کے آگے کچھ بول پائی تھی جو اب بولتی۔۔ ۔ “امل اپنی حالت درست کرو تھوڑی۔۔ پارلر تک جاؤ۔۔ کٹنگ لو بالوں کو کیا بڑھائی جا رہی ہو۔۔ آج کل کون اتنے لمبے بال رکھتا ہے۔۔ اور سکن دیکھو اپنی اتنی ڈل ہو رہی ہے”_
وہ اب امل پر شروع ہو چکی تھیں جو آنسوں پیتی سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔
“امل بابا کی جان جب سے بابا ہسپتال سے آئیں ہیں امل تو بات ہی نہیں کر رہی بابا سے”_
شہباز نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔ اس نے محسوس کیا تھا جب سے وہ آیا تھا امل اس سے دور دور تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں سوال ہوتے تھے جنکا جواب وہ نہیں دینا چاہتا تھا۔۔
۔
“آپ ازو کے کمرے میں کیوں گئے تھے بابا ؟”
آخر اتنے دنوں سے پنپتا سوال اس نے پوچھ ہی لیا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں صرف سوال ہی نہیں تھا شک بھی تھا جس نے شہباز ضمیر کو جلتے انگارے پر پھینک دیا تھا۔۔
وہ پوری دنیا کے آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ سکتا تھا لیکن امل کی آنکھوں میں سوال بھی اسکی جان نکال دیتا تھا۔۔۔
۔
“مجھے اس کے چیخنے کی آوازیں آئی تھیں بیٹا۔۔ گھر پر کوئی نہیں تھا اسے دورے پڑ رہے تھے۔۔ مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں چلا گیا۔۔ مجھے کیا پتہ تھا نیکی میرے گلے کو آجائے گی”_
اس نے اسکے شکوک کو دور کرنا چاہا۔۔
“پھر اس نے آپ سے ڈر کر نوح کو کیوں بلا لیا بابا ؟”
اسکی آنکھوں میں اب آنسوں تھے۔۔
“بیٹا نوح ارسلان خود آیا تھا میری جان۔۔ بابا کا بچہ”_
وہ تڑپ کر اسے ساتھ لگا گیا تھا۔۔
“امل اس بد ذات لڑکی کے لئے اپنے باپ پر شک نہیں کرو۔۔ اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے تم جانتی ہو۔۔ اس وقت میں نے اپبے دل پر پتھر رکھا تھا۔۔ شہباز نے اپنا نام دیا تھا اسے “_ رومیسہ کو امل کا اس طرح سوال کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ ۔ “السلام علیکم !!” دارم کے بلند آواز میں سلام کرنے پر گہری خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔ امل نے بہتی آنکھوں سے اس دشمن جاں کو دیکھا۔۔ لگ رہا تھا کتنے عرصے بعد اسکی دید میسر آئی ہے۔۔ آنکھوں اسے دیکھ کر سیر نہیں ہو رہی تھیں۔۔ اپنی جانب یوں وارفتگی سے تکتے پا کر دارم نے لب بھینچے۔۔ وہ دیوانی ہی تو تھی اسکی۔۔ اسکی ایک نگاہ کے لئے صدیوں اسے تک سکتی تھی۔۔ “آ گئی تمہیں مام کی یاد۔۔ کتنی کالز کی میں نے تمہیں دارم”
اسکا ماتھا چوم کر اسے ساتھ بیٹھاتی رومیسہ نے شکوہ کیا۔۔
“کافی دنوں پہلے ہی آتا مگر لیپ ٹاپ خراب ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔۔۔ اور بنا ثبوت کے میں آنا نہیں چاہ رہا تھا پھوپو اماں۔۔
رومیسہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ آج وہ اسے مام کہ کر نہیں پکار رہا تھا۔۔
اس نے موبائل نکال کر ویڈیو پلے کر کے عین ٹیبل کے وسط میں رکھا تھا۔۔ ویڈیو میں صاف نظر آ رہا تھا اندر ازورا کس طرح خوفزدہ تھی۔۔ کس طرح شہباز لاک کھول کر اندر آیا وہ اسے قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
باقی کی ویڈیو نہیں تھی۔۔۔
“کیوں گئے تھے تم ازو کے کمرے میں ؟”
سارا لحاظ ایک طرف رکھ کر وہ شہباز سے مخاطب ہوا تھا۔۔
“دارم اس لڑکی کو ہمیشہ کی طرح دورے پڑھ رہے تھے۔۔ شہباز اسکی مدد کے لئے گئے تھے وہاں”_
رومیسہ کی جانب سے جواب آیا تھا۔۔
“دیکھو اس ویڈیو کو غور سے”_
۔
“میں دیکھ چکا ہوں پھوپو۔۔ آپ دیکھیں اور آنکھیں کھولیں”_
اس نے ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا۔۔ امل بےیقینی سے کبھی موبائل پر ویڈیو کو دیکھ رہی تھی اور کبھی شہباز کی جانب۔۔
۔
“میرے قریب نہیں آئیں بابا”_
وہ روتی ہوئی پیچھے کی جانب ہٹی تھی۔۔ شہباز نے جلتی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ کیا کچھ نہیں تھا اسکی آنکھوں میں۔۔ شکوہ۔۔ دکھ۔۔
“امل یوں نہیں کرو میری جان”_
۔
“بابا پلیز میرے قریب نہیں آئیں”_
وہ روتی ہوئی باہر کی جانب بھاگی تھی۔۔ باہر ہوتی ہلکی ہلکی بارش نے اب زور پکڑ لیا تھا۔۔
“جان گئیں نا آپ اپنے بابا کی اصلیت۔۔ دعا کریں کے جہاں تک میں سوچ رہا ہوں وہاں تک کچھ نا ہوا ہو۔۔ کیوں کے اگر اس رات ازو کا مجرم اگر یہ نکلا تو میں آپ سب کی زندگی پاتال بنا دونگا امل شہباز”_ وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں نظریں گاڑھے بولا تھا۔۔ وہ دونوں ہی بارش میں کھڑے مکمّل طور پر بھیگ گئے تھے۔۔ “بابا اگر گناہ گار ہوئے بھی ازو کے تو اس میں میرا قصور کہاں نکلتا ہے دارم۔۔ اور اس وقت جب یہ ثابت بھی نہیں ہوا کے اس رات بابا ہی تھے”
وہ اسکے آگے آ کھڑے ہوئی تھی۔۔ مہرون پھولدار جوڑے میں ملبوس تھی۔۔ دوپٹہ شانے پر بکھرا پڑا تھا۔۔ بالوں سے پانی کی بوندیں چہرے پر گر رہی تھیں۔۔
“امل میرے راستے سے ہٹیں”_
وہ ضبط سے لب بھینچے بولا تھا۔۔
“نہیں مجھے جواب دیں دارم۔۔ مجھے کس گناہ کی سزا دے رہے ہیں آپ اور ازو”_
وہ آج اپنے ہوش میں نہیں تھی۔۔ اسکے سامنے کھڑی جواب دہی کر رہی تھی۔۔
“آپ کا گناہ یہ ہے آپ شہباز ضمیر کا خون ہیں”_
وہ سفاک ہوا تھا۔۔
“اللّه کسی کے گناہ کا بوجھ کسی پر نہیں ڈالتا دارم اسفہان تو آپ کیوں کر رہے ہیں یہ ؟”
بارش زور پکڑ چکی تھی۔۔ پانی کی بوندوں سے ساتھ اسکی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔۔ دارم اسفہان تفریق کر سکتا تھا اسکے آنسوں اور بارش کی بوندوں کے درمیان۔۔۔
۔
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ عَلَیۡہَا مَا اکۡتَسَبَتۡ ؕ

“اللہ تعالٰی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ، جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لئے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے”
۔
” ہر آدمی انعام اسی خدمت پر پائے گا جو اس نے خود انجام دی ہو ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص کی خدمات پر دوسرا انعام پائے”_
۔
‘ اور اسی طرح ہر شخص اسی قصور میں پکڑا جائے گا جس کا وہ خود مرتکب ہوا ہو ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے قصور میں دوسرا پکڑا جائے ۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ایک آدمی نے کسی نیک کام کی بنا رکھی ہو اور دنیا میں ہزاروں سال تک اس کام کے اثرات چلتے رہیں اور یہ سب اس کے کارنامے میں لکھے جائیں ۔ اور ایک دوسرے شخص نے کسی برائی کی بنیاد رکھی ہو اور صدیوں تک دنیا میں اس کا اثر جاری رہے اور وہ اس ظالم اول کے حساب میں درج ہوتا رہے ۔ لیکن یہ اچھا یا برا ، جو کچھ بھی پھل ہوگا ، اسی کی سعی اور اسی کے کسب کا نتیجہ ہو گا”_
۔
وہ آیت پڑھ رہی تھی۔۔ دارم حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ وہ دونوں قرآن کی عربی جانتے تھے۔۔ وہ جانتا تھا وہ اسے کیا بتا رہی ہے۔۔ سورہ بقرہ کی آیت تھی۔۔
اسکا دل جامد ہونے لگا۔۔ آنکھوں میں نمی آنے لگی۔۔
یعنی اللہ کے ہاں انسان کی ذمہ داری اس کی مقدرت کے لحاظ سے ہے ۔ اپنی مقدرت کا فیصلہ کرنے والا انسان خود نہیں ہے ۔ اس کا فیصلہ اللہ ہی کر سکتا ہے کہ ایک شخص فی الحقیقت کس چیز کی قدرت رکھتا تھا اور کس چیز کی نہ رکھتا تھا ۔۔
یہ فیصلہ کرنے والا تو اللّه تھا کے کون کس کے قابل ہے اور کون نہیں۔۔
یہ اللّه ہے طہ کرنے والا لے کون گناہ گار ہے۔۔ کسے سزا دینی ہے۔۔
اسکا رواں رواں کانپ رہا تھا۔۔
۔
“امل خاموش ہو جایئں”_
وہ تڑپ کر بولا تھا۔۔ مگر وہ آج اسکی سن ہی کہاں رہی تھی۔۔
۔
۔
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ

“اے ہمارے رب اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا”_
۔
وہ روتی ہوئی اسے یاد دلا رہی تھی۔۔ جو وہ بھول گیا تھا۔۔ وہ اسے بتا رہی تھی کے
“یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ جس بھلائی یا جس برائی میں آدمی کی نیت اور سعی و عمل کا کوئی حصہ ہی نہ ہو ، اس کی جزا یا سزا اسے مل جائے”،
“”مکافات عمل کوئی قابل انتقال چیز نہیں ہے””_ جس نے کیا ہو اسی کے آگے آتا۔۔ اللّه کسی جان کا بوجھ کسی دوسرے جان پر نہیں ڈالتا۔۔ کسی کے گناہ کا نہیں۔۔ اور کسی کے نیکی کا صلہ بھی کسی دوسرے کو نہیں ملتا۔۔ دارم کے پورے جسم میں کپکپی سی طاری ہو گئی تھی۔۔ وہ قرآن کو صرف پڑھتی نہیں تھی وہ قرآن کو جانتی تھی۔۔ قرآن سے دوستی تھی اسکی۔۔ اس لمحے دارم کو وہ خود سے بہت اونچی لگی۔۔ اپنا آپ اسکے آگے بونا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ۔ “امل خدا کے لئے خاموش ہو جائیں”
وہ مزید نہیں سن سکتا تھا۔۔۔ اسکا دل دھڑکنے سے انکار کر رہا تھا۔۔ سانسیں بےسبب معلوم ہو رہی تھیں۔۔۔
مگر وہ خاموش نہیں ہوئی تھی۔۔
۔
رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۸۶)
۔
“اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا مالک ہے ، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما “_ وہ اب بھی پڑھ رہی تھی۔۔ بارش مزید تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔ آج اس نے دارم اسفہان کو وہ سبق یاد دلایا تھا جو عرصہ ہوا وہ بھول بیٹھا تھا۔۔ دارم کو اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔ نازک سی وہ لڑکی لرز رہی تھی۔۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی۔۔ لیکن آج اس نے اسے جلتے انگاروں پر پھینک دیا تھا۔۔ وہ جان گیا تھا کے قرآن اسکے دل پر کیوں نہیں اترا اور امل کے دل پر کیوں اتر گیا تھا۔۔ “قرآن کبھی ظالموں کے دلوں پر نہیں اترتا”
وہ بھی تو انجانے میں ظالموں میں سے ہو گیا تھا۔۔
اس برستی بارش میں ہر شہ نکھر رہی تھی۔۔ اسکے دل پر پڑی وہ کالک بھی بھی شاید دھل رہی تھی۔۔
دارم کو اپنا چہرہ اس کالک میں سیاہ ہوتا نظر آ رہا تھا۔۔
“وہ ظالموں میں سے ہو گیا تھا”_ “قرآن اس پر الہام کی صورت نہیں اتر سکتا تھا”_
“وہ ظالموں میں سے ہو گیا تھا”__
انہی جملوں کی بازگشت تھی۔۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔
پیچھے امل برستی بارش میں وہیں بیٹھتی چلی گئی۔۔
آسمان کی جانب چہرہ کے وہ روتی ہوئی فریاد کر رہی تھی۔۔
اس روز ازو کا مجرم اسکا باپ نا ہو۔۔
جس انسان کو آج تک وہ رہبر مانتی آئی تھی بہت اذیت ناک تھا اسکی ذات کا سیاہ پہلو دیکھنا۔۔۔
زندگی کا جیسے مقصد ختم سا ہوگیا تھا۔۔۔
فراق کا دور کاٹنا آسان نہیں تھا۔۔
بارش کی یہ بوندیں جسم جلاتی محسوس ہو رہی تھی۔.
وہ تو دارم اسفہان کی داسی تھی۔۔ اسکی محبت میں اسکے حکم کی غلام۔۔
جلنا تھا سڑنا تھا یا مرنا تھا…
اس عشق کے تکون کے گرد ہی رہنا تھا۔۔۔


۔
بارش کی میٹھی میٹھی پھوار جب سورج کی کرنوں میں سے ڈوب کر گرتی ہے تو ایک مسحور کن نظارہ بصارت کو مہیا کر رہی تھیں۔۔۔
زمین پر موتیوں کی لڑیوں کی صورت گرتی ہے تو دیکھنے والی آنکھ کو مصور کی آنکھ سا محسوس ہو رہا تھا آج تو ہر چیز کی خوبصورتی محسوس ہو رہی تھی۔۔ سارا کمال پہلو میں سوئی اس خوبصورت جادوگرنی کا تھا جس نے اپنے جادو کا پٹارہ کھول رکھا تھا۔۔
گھڑی کی سوئیاں دس بجا رہی تھی۔۔ وہ شاور لے کر فریش ہو چکا تھا۔۔ آئینہ کے سامنے کھڑا بالوں میں برش پھیر رہا تھا جب آئینہ میں نظر آتے اس دشمن جان کے عکس پر نظر پڑی تھی۔۔
وہ توبہ شکن انگڑآئی لیتی اٹھنے لگی تھی۔۔ بوجھل سی ہوتی نگاہوں سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔
رات کا منظر واضح ہوتے ماتھے پر بل ڈالے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“اتنا بھی کیا خوف کے نیند کی گولیاں استعمال کرنے کی نوبت آجائے”_
اس نے آئینے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔
ازورا کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزرا تھا۔۔ وہ مکمّل طور پر اسکے رحم و کرم پر تھی وہ جو چاہے کر سکتا تھا۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا تھا۔۔
۔
“کیا ہوا ڈر لگ رہا ہے ؟”
اسکی سرد آواز پر ظاہری طور پر خود کو مظبوط ظاہر کرنے کے باوجود کانپ کانپ سی گئی تھی۔۔
۔
“حیرت ہے۔۔ ازورا لاشاری کو ڈر لگ رہا ہے۔۔ اپنے شوہر سے ڈر رہی ہیں آپ ؟ چچ چچ کتنے افسوس کی بات ہے “_ اسکے کانپتے سرآپے کو استہزائیہ نظروں سے دیکھتے وہ مصنوعی افسوس سے بولا۔۔۔ لہجہ صاف مذاق اڑاتا ہوا تھا۔۔ اسکے شانوں پر نرمی سے دباؤ ڈالتا اسے بیڈ پر بیٹھاتے وہ یوں کہ رہا تھا جیسے اسے واقعی بہت افسوس ہو۔۔ ۔ “اس رات سب کے سامنے تھپڑ مارتے ہوئے آپ خاصی پراعتماد نظر آ رہی تھیں۔۔ آج وہ خود اعتمادی کہاں ہوا ہو گئی ازورا لاشاری ۔۔ اسکی گرفت اب بھی نرم تھی۔۔ وہ تو محض لفظوں سے ہی اسکی جان نکال رہا تھا_
اسکے قریب کھڑے ہونے پر اسکے پرفیوم کی سٹرونگ خوشبو اسکے حواس پر طاری ہو رہی تھی۔۔
“پلیز “_
وہ روندھی آواز میں بولی تھی۔۔ صبح صبح وہ یوں جان کو آجائے گا اسے اندازہ نہیں تھا۔۔ ورنہ تھوڑی زیادہ گولیاں کھاتی۔۔
“جو حرکت آپ نے رات کی وہ پہلی اور آخری بار تھی۔۔ یاد رکھیں آئندہ میں اس طرح کی کوئی حرکت برداشت نہیں کرونگا”_
اسکے قریب جھکے وہ سرد انداز میں بول رہا تھا۔۔۔
۔
“ججج جی”_ اسکے لبوں سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔۔ “آپ کے حق میں یہی بہتر ہے۔۔ اب جائیں شاور لیں۔۔ فریش ہو کر نیچے آئیں پانچ منٹ میں”
اسکے پھولے گال کو سہلاتے اسکا انداز تحکم بھرا تھا۔۔
اسے کہنے کے بعد وہ کمرے سے نکلا تو ازورا نے سکون کی سانس لی۔۔
۔
“پانچ منٹ میں فریش ہو کر آئیں۔۔ بول تو ایسے رہا ہے جیسے خود ایک منٹ میں نہا لیتا ہے۔۔۔ جنگلی بھالو”_ وہ بلند آواز میں بڑبڑاتی پیر پٹختی باتھ روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ ۔ “ایک منٹ تو نہیں مگر خادم بھی دس پندرہ منٹ میں اپنا کام کر لیتا ہے۔۔ آپ سے پانچ منٹ اس لئے کہا ہے کیوں کے لڑکیوں کا پانچ منٹ آدھا گھنٹہ ہوتا ہے”_
ڈریسنگ روم سے بھاری مردانہ آواز پر ازورا اچھل پڑی تھی۔۔
مطلب وہ سن چکا تھا اسکے فرمان۔۔۔
وہ اسکے نکلنے سے پہلے باتھ روم میں بند ہوئی تھی۔۔
نوح نے کڑے تیوروں سے بند دروازے کو گھورا۔۔
“کپڑے باہر چھوڑ گئیں ہیں آپ لیڈی”_ وہ اطمینان سے بولا تھا۔۔ اسکی توقع کے عین مطابق دروازہ کھلا تھا۔۔ وہ سر جھکائے ہوئی باہر نکلی تھی۔۔ “میرا مطلب تھا بھالو بہت کیوٹ ہوتے ہیں نا”
معصومیت سے بولتی پھولے گال مزید پھولائے سر جھکا کر ہی اسکے سامنے آتی اسکے ہاتھوں سے اپنے کپڑوں کا ہینگر لینے کے بعد وہ اسی انداز میں پھر غرآپ سے اندر بند ہوئی تھی۔۔ اسکی جانب دیکھنے کی غلطی نہیں کی گئی تھی۔۔
نوح تو اسکی معصوم صورت دیکھتا رہ گیا۔۔
اسے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کے اسی لڑکی نے کچھ دیر پہلے اسے جنگلی بھالو کہا تھا۔۔
“عجیب لڑکی ہے”_
وہ یہی بول پایا تھا۔۔


۔
“تم اکیلے ہی آ گئے ہو۔۔ پہلا دن ہی اس بچی کا اسے ساتھ لے کر آنا چاہئے تھا نا”_
اسے ازورا کے بغیر ٹیبل پر موجود دیکھ اختر شیروانی نے اسے ٹوکا تھا۔۔
“آ رہی ہیں وہ”_
وہ انکے ہاتھوں کا بوسہ لیتا نرمی سے بولا۔۔
“آپ بتائیں ناشتہ کیوں نہیں کیا آپ نے۔۔ آپ کو میڈیسن لینی ہوتی ہے اختر صاحب”_
وہ ہشاش بشاش سے لہجے میں بولا تھا۔۔
انہوں نے محبت پاش نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ کتنے دنوں بعد وہ پرانا والا نوح لگ رہا تھا۔۔
“آج اپنی بچی کے ساتھ کرونگا ناشتہ”_
انکے انداز میں صرف محبت تھی۔۔
“نوح تمہیں دارم کو اس طرح دھمکانا نہیں چاہئے تھا۔۔ اس نے خوشی سے رخصت نہیں کیا ہے ازورا کو تمہارے ساتھ۔۔ تمہارے دباؤ میں آ کر کیا ہے”_
انہوں نے دبے دبے لفظوں میں اسے گھڑکا تھا۔۔
“دادو وہ سیدھی طرح رازی ہی نہیں ہوتا”_
اسکے انداز میں اب بھی اطمینان تھا۔۔
“جو بھی تھا تم اس سے اعتماد میں لیتے پہلے۔۔ پھر ازورا سے شادی کی بات کرتے”_
انہیں نوح کی یہ حرکت اچھی نہیں لگی تھی۔۔
“پہلے میں اپنی بیوی کی الجھنیں دور کر لوں دادو پھر سالے صاحب کو بھی اعتماد میں لے لینگے”_
سیب کا ٹکڑا منہ میں ڈالتا وہ دروازے کی اوٹ میں چھپا دھانی آنچل دیکھ چکا تھا۔۔ یعنی وہ انکی باتیں سن رہی تھی۔۔
اسکے لبوں پر دلکش مسکراہٹ بکھری۔۔
“ازورا ابھی تک آئی نہیں جاؤ دیکھو کسی چیز کی ضرورت نا ہو اسے”_
دادو کے کہنے پر وہ اچھا کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
۔
“آنے تو دو اس لمبے بالوں والے بلّے کو۔۔ میرے دار کو دھمکایا اس نے”_
وہ کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے چکر کاٹتی غصے سے لال پیلی ہوتی اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
“سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔ مجھے ڈرا دھمکا کر رکھ لے گا۔۔ میرے دار کو دھمکا کر نکاح کیا اس نے مجھ سے۔۔ آجاؤ نوح ارسلان تم۔۔ میں بال کاٹ دونگی تمہارے”_
تصور میں اسکے بالوں کا حشر نکالتی وہ باآواز بلند بڑبڑا رہی تھی۔۔
اسے تو کل سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی دارم نوح ارسلان سے اسکا نکاح کرنے پر راضی کیسے ہو گیا تھا۔۔ حقیقت تو آج کھلی تھی۔۔۔
“خادم حاضر ہے آپ کی خدمت میں”_
بھاری گھمبیر آواز پر ازورا کو سو واٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔ لمبے بالوں والا وہ باگڑ بلا یعنی نوح ارسلان سفید شلوار قمیض میں ملبوس دائیں ہاتھ میں ڈھیروں بینڈز پہنے۔۔ کندھوں تک آتے بالوں کی پیچھے کی جانب پونی کئے وہ پرسکون انداز میں سر تا پیر اسکا جائزہ لیتا اب اسکے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔۔
“لمبے بالوں والا بلّا حاضر ہے۔۔ کیا کرنا چاہتی ہیں آپ خادم کے بالوں کے ساتھ”_
اسکے آگے سر تسلیم خم کرتے وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔۔ لبوں پر آئی دلکش مسکراہٹ بہت صفائی سے چھپا گیا تھا۔۔ اسکے بالوں کی لٹ کو ہلکے سے کھینچتے اس نے ابرو اچکا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
“گنجا کرنا چاہتی ہوں”_ وہ جل کر زیر لب بڑبڑآئی تھی۔۔ لیکن نوح ارسلان اس کے لبوں کی حرکت پہچان لیتا تھا۔۔۔ دھانی اور گلابی رنگ کے خوبصورت لباس میں ملبوس نکھری نکھری سی وہ اسکا ضبط آزما رہی تھی۔۔ “دیکھ لیں۔۔ پھر آپ کو کوئی مسلہ در پیش نا ہو گنجے شوہر سے”
اسکی خوشبو اندر اتارتا وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔
۔
“ددد دور رہ کر بات کریں”_
وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولتی پیچھے ہوئی تھی۔۔ کچھ دیر پہلے کئے سارے دعوے اسے نوح ارسلان کی طرح ہی خود پر مسکراتے محسوس ہوئے۔۔ وہ اسکے انداز تخاطب پر دل سے مسکرایا تھا۔۔ اسکی بھوری کانچ سی آنکھیں جو پھیلی ہوئی گلابی ڈورے لئے مزید خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔
۔
“آپ کی آنکھیں اس جہان کی نہیں ہیں”_ کانچ سی آنکھوں میں جھانکتا وہ بےخود ہوا تھا۔۔ “نوح۔۔ پلیز دور ہو کر بات کریں”
اسے گھٹن سی ہو رہی تھی۔۔ وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی تھی۔۔

آپ کی آنکھیں اتنی دلکش ہیں کے خوبصورتی کے آٹھوں پرت ان آنکھوں میں موجود ہیں”_
ہلکی ہلکی نمی چنتا وہ اب بھی بےخودی کے عالم میں بول رہا تھا۔۔
“نوح پلیز پیچھے ہو کر بات کریں”_ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ دونوں ہاتھوں سے اسے دور دھکیلتی گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔ نوح نے لب بھینچ کر اسے دیکھا۔۔ ساری خماری پل میں ہوا ہوئی تھی۔۔ “نیچے آئیں فورا دادو کو انتظار کروانا پسند نہیں ہے مجھے”
سنجیدگی سے بولتا وہ باہر نکلا تھا۔۔۔
۔
“ون۔۔۔
ٹو۔۔۔
تھری۔۔
پیچھے وہ گہری سانس لیتی دارم کے انداز میں کاؤنٹنگ کرتی اپنی سانسیں ہموار کر رہی تھی۔۔۔
“شہباز تم مر جاؤ”__
اسکے لبوں سے سسکیوں کے ساتھ الفاظ خارج ہوئے تھے۔۔