60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۲
۔
تم مجھے اکیلا مت چھوڑو
ورنہ تنہائی مجھے نگل جائے گی
دیواریں ہراساں کریں گی
دروازے کی آہٹ دل میں اک خوف پیدا کرے گی
کھڑکیوں سے وحشت جھانکے گی
میرے کاندھوں پر تعینات فرشتے مجھے چھیڑیں گے
کمرے میں دھری ہر ایک شے اپنی شکل تبدیل کرلے گی
یہ دیکھو آئینہ
کسی چڑیل کی شکل بنا کر مجھے ڈرا رہا ہے
وہ درخت ایک آدمی کی شکل میں مجھے گھور رہا ہے
اسکی ٹہنیاں مجھے ہراساں کر رہی ہیں
دیوار پر چڑھی بیل کی اوٹ سے گاؤں کے آوارہ گرد مجھے لیٹی ہوئی کو دیکھ رہے ہیں
چھت پر رکھی ہوئی ٹینکی نے ایک موٹے پیٹ والے آدمی کی شکل اختیار کرلی ہے
تکیے پر کاڑھی گئی بیل گھنے جنگل کی طرح پھیل گئی ہے
پنکھے کے پر ہوا کو کاٹتے ہوئے
عجیب سرگوشیوں کی آواز پیدا کر رہے ہیں
چھت پر جانے والی سیڑھیوں سے مسلسل لوگ اتر رہے ہیں
جن کے چہرے بالکل اجنبی ہیں
طاقچہ کسی گنجے آدمی کا سر معلوم ہورہا ہے
مجھے ان سب سے خوف آرہا ہے
میں اپنے تمام مشاہدات اور تجربات کو نظم کی کھونٹی پر نہیں لٹکا سکتی
رو سکتی ہوں
تم کہیں بھی مجھے اکیلا مت چھوڑو

نگاہیں جھکائے، فریادی بنی وہ اپنی آنکھیں آنسووں سے دھندلا کر بے خود سی سب کہہ رہی تھی، اس وقت اس کی ساری سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں مفلوج تھیں۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے تو اس رات کا وحشت ناک منظر تھا۔۔ اور وہ اس وحشت میں سفر کرتی جا رہی تھی۔۔ وہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ رونا چاہتی تھی۔۔ وہ چیخ چیخ کر سب کو بتانا چاہتی تھی کے اسے کتنی تکلیف ہوئی تھی۔۔
وہ اپنے روح پر پڑے چھالے دکھانا چاہتی تھی۔۔
اسے آج پھر کسی کا دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔۔ کسی نے اسکے لبوں کو قید کر رکھا تھا۔۔ تکلیف سے اسکی روح تک جھنجهنا رہی تھی۔۔
اسکا دماغ سن ہو رہا تھا۔۔ کوئی لفظ یاد تھا تو وہ بس درد تھا _ بے انتہا درد۔۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔۔ “آآااہ ۔۔۔۔ چھچھوڑ چھوڑو ممجھے”
“ویڈیو دیکھی ہے نا تم نے”
اسے ایک اور آواز آئی تھی۔۔ اس نے بیدردی سے خود کو نوچنا شروع کر دیا تھا۔۔ جسم کا ہر حصہ جیسے کٹ کر گر رہا تھا۔۔ آنسوں تواتر سے آنکھوں سے گر رہے تھے۔۔ بہت ارمان سے لگایا وہ کاجل لکیر کی صورت اسکے چہرے پر بکھر رہا تھا۔۔
شورر۔۔۔ اتنا شور تھا۔۔ ہر طرف وہی تھا۔۔ اسی کی آوازیں تھیں۔۔
اس نے بےدردی سے لبوں پر لگی سرخی صاف کرنا شروع کیا۔۔
“آنکھیں کھولو لڑکی۔۔ اپنی بربادی دیکھو۔۔ اپنی آنکھیں بند نہیں کرو “_ ایک کرہییہ سی آواز تھی جو اسکے سماعت میں گونج رہی تھی۔۔ ۔ “آنکھیں کھولو “
وہ اسکے بالوں کو جکڑ رہا تھا۔۔ وہ چیخ رہی تھی۔۔ تکلیف سے۔۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال نوچنا شروع کر دیا تھا۔۔
“دیکھو _ تمہارا باپ بچا نہیں پا رہا تمہیں “
اسکی ذات ختم ہو رہی تھی۔۔ اسکی ذات کا غرور لٹ رہا تھا۔۔
۔
“نہیں۔۔ نہیں پپپ پلیز نہیں۔۔ چھوڑو مم مجھے۔۔ چھوڑو وحشی انسان “_ وہ چیخ رہی تھی۔۔ اور وہ اسکی بےبسی پر قہقہ لگاتا حض اٹھا رہا تھا۔۔ “تمہارے جسم کے ہر حصّہ میں میری نشانی ملے گی تمہیں۔۔ تم چاہ کر بھی مجھے اپنے ذہن سے نہیں نکال پاؤ گی۔۔ ساری زندگی یاد رکھو گی تم مجھے۔۔ رکھو گی نا بےبی “_
وہ آواز اسے اپنے کانوں کا قریب سنائی دی تھی۔۔ اسے کانوں کی لو میں تکلیف کی شدّت اٹھی تھی۔۔
اس نے دوپٹہ خود پر سے نوچ کر دور پھینکا”_
وہ اپنی گردن نوچتی میک اپ اتار رہی تھی ۔۔ اسکے جسم کے داغ واضح ہونا شروع ہو گئے تھے۔۔
ٹھیک تو کہتا تھا شہباز ضمیر اس نے اسکے جسم کے ہر حصے پر اپنی نشانی چھوڑی تھی۔۔ وہ اسکی روح چھلنی کر گیا تھا۔۔
وہ تکلیف کی شدّت سے رو رہی تھی۔۔
۔
” بولو ۔۔ تم ہو بےبس۔۔ تم بہت بےبس ہو میرے آگے۔۔ تم خود کو بچا نہیں سکتی۔۔ تم نہیں بچا سکتی خود کو “_
وہ ایک بار پھر ہار رہی تھی__
وہ اس روز بھی ہار گئی تھی۔۔ وہ آج بھی اس سے ہار گئی تھی۔۔

“وہ پہلے بھی نہیں بچا پائی تھی “_
وہ مزید شدّتوں سے رونے لگی تھی۔۔
“ہاں وہ نہیں بچا سکتی خود کو اس سے “_
وہ یقین کر چکی تھی کے وہ نہیں بچا سکتی تھی خود کو۔۔ وہ آج بھی جیت گیا تھا۔۔ جیسے وہ ہمیشہ جیتتا آیا تھا۔۔ وہ ہمیشہ جیت جائیگا۔۔
۔۔
“ککک کیوں ؟۔۔ کیوں ؟؟ میں کیوں ؟”
وہ ہذیانی انداز میں چیختی تڑپ کر رو رہی تھی۔۔
اس نے بیڈ کے فوم کے کنارے اٹھاتے تیز دھار بلیڈ نکالی تھی۔۔
اس نے بےدردی اور مہارت سے کلائی پر کٹ لگانا شروع کیا۔۔
“ایک۔۔ دو۔۔ تین۔۔ بار بار متعدد بار_ “اس بار نہیں۔۔ اس بار تممم نہیں جیت پاؤگے “
وہ سرگوشیوں میں ڈھلتی اسکی آہوں کا شور تھا۔۔
گھٹن اور وہشت نے اس کی سانس روکنی چاہی تو وہ لڑکھڑا کر بیڈ کے کنارے لڑھکی۔۔
دونوں ہاتھوں کو اپنے پیروں کے درمیان دباتی وہ پیروں کو خود میں سمیٹے بیٹھی۔۔
پھر سے آنسو_ قہر ناک_ دردناک__
سانس بند ہو رہی تھی، دل راہ میں آرہا تھا۔”
درد دیتے تاثر کے سنگ اس کے چہرے پر بھی گویا صدیوں کی تھکن اتر آئی۔


وہ نہیں جانتا وہ کتنی دیر سگریٹ پھونکتا لان کے چکّر لگاتا رہا تھا۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اس حد تک قربت کے بعد بھی وہ اس لڑکی جو جان نہیں پایا تھا۔۔ اسے خود پر افسوس ہو رہا تھا۔۔ اسکی یہ اعتباری، بے اعتنائی کی وجہ کیا تھی آخر۔۔ کچھ تھا جو اچانک وہ اس طرح بیہو کر رہی تھی لیکن اس نے اسے کیوں نہیں بتایا۔۔ کیا چھپا رہی تھی وہ۔۔ وہ اسے کس طرح بتاتا کے شہباز ضمیر نے اسکی زندگی میں اسکے ماں باپ کی زندگی میں کس طرح زہر گھولا تھا۔۔ اسکا بھی تو مجرم تھا وہ۔۔ اسکی بیوی کا مجرم تھا۔۔ وہ کیوں اسے بچانا چاہ رہی تھی۔۔ سوچ سوچ کر اسکی رگیں تن گئی تھیں۔۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔ وہ تھک گیا تھا۔۔۔ ماضی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے نوح ارسلان تھک چکا تھا_ نجانے رات کا کونسا پہر تھا جب اس نے مین ڈور کھولا۔۔ گہرا سا سانس لیے خود کو کمپوز کیے وہ بیڈ روم کی طرف بڑھا، لیکن اندر کا منظر نوح ارسلان کی سانسیں تنگ کرنے کے لئے کافی تھا۔۔ وہ دروازہ دھکیلتا ہوا سرعت سے آگے بڑھا تھا۔ اسکا حسین چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔ بہت محبت سے لگایا ہوا کاجل اسکی قسمت کی سیاہی کی طرح اسکا چہرہ بھی سیاہ کر رہا تھا۔۔ اسکی حالت نوح ارسلان کا دل چیر تھی۔۔ “اگر اسکے پیچھے تیرا ہاتھ ہوا شہباز نوح ارسلان تیری بوٹیاں نوچ کھائیگا۔۔ وہ اسکے سامنے آیا_
“ددیکھو۔۔ یہ یہ رہے بابا”_ “ممجھے مجھے بچانے نہیں آئے دد ددیکھو سو سو رہے ہیں”
وہ کارپیٹ کی جانب اشارہ کرتی بولی۔۔
وہ ہوش میں کہاں تھی اسکے سامنے تو کفن میں لپٹی بابا کی لاش تھی۔۔ اسکے سامنے اسکا بھیانک ماضی تھا_ سفید لبادے میں لپٹے ہوئے اس وجود کو دیکھتی، پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔ نوح نے ضبط سےمٹھیاں بھینچیں۔۔ آنکھوں کے کناروں سے گویا لہو امڈ رہا تھا۔۔۔ وہ ہار گیا تھا۔ بدقسمتی جیت گئی۔ یہ خواب نہیں حقیقت تھی۔۔ تاریک رات کی بھیانک حقیقت اسکے سامنے تھی۔۔ “نوح ارسلان اسے سنبھال نہیں پا رہا تھا۔۔ نوح ارسلان_ اپنی اور روشی کی ازو کو نہیں سنبھال پا رہا تھا۔۔ وہ تو گویا مر ہی گیا تھا۔۔اسکے سامنے ہی بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگائے وہ بےجان سی بیٹھی تھی۔۔ یقیناً اس نے ڈرگز لئے تھے۔۔ نوح کو لگ رہا تھا وہ ایک بار وہیں آ کھڑا ہوا ہے جہاں سے وہ چلے تھے۔۔ درمیان کے تمام دن تو بس خواب تھے۔۔ ساری تکلیف، سارا غصہ جھاگ کی طرح ثابت ہوا تھا۔۔ یہی تو ہوتا تھا اسکے سامنے آتے ہی نوح ارسلان کو بس وہ یاد رہتی تھی۔۔
وہ اب تک اسی سرخ لباس میں ملبوس تھی۔۔ بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ آنکھیں حد سے زیادہ سرخ تھیں۔۔ لپسٹک بری طرح اسکے لبوں کے گرد پھیلی ہوئی تھی۔۔ دوپٹہ اسکے پیروں پر پڑا تھا۔۔
اس نے دونوں ہاتھ پیروں کے درمیان چھپائے ہوئے تھے۔۔
کتنی حسین لگ رہی تھی وہ کچھ لمحوں پہلے۔۔ اور اب_ نوح نے دیکھا وہ زیر لب کچھ کہ رہی تھی۔۔ “ککو کوئی۔۔ کوئی نہیں تھا”
“بابا_ بابا پلیز مجھے بچا لیں۔۔ بابا”
وہ بند ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتی بڑبڑا رہی تھی۔۔
“ازورا “_
اسکی رنگت زرد ہو رہی تھی۔۔نوح نے دھیمی آواز میں اسے پکارا۔۔
وہ تو اسکی جانب دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔۔
“ازورا “_ اس نے نرمی سے اسکے دہکتے سرخ گال سہلائے۔۔ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی۔۔ نوح ارسلان کے دل پر گھونسا پڑا تھا۔۔ اس کا دل واقعی اس وقت یہی چاہ رہا تھا کہ اسکے دماغ کی کوئی نس پھٹے اور وہ اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا پا لے۔۔ “ازورا۔۔ میری جان میں ہوں نا”
اسے بازوؤں سے تھامتے اس نے نرمی سے خود میں بھینچا تھا۔۔ وجہ کوئی بھی تھی۔۔ وہ اسکی ازورا تھی۔۔ اسکا وجود اسکے لئے نشے کی مانند تھا اس پر تو نوح ارسلان کا قتل بھی معاف تھا۔۔ شناسا لمس پا تے ہی وہ بری طرح روئی تھی۔۔
۔۔
”نوح مجھے بچا لیں”_
وہ روتے ہوئے اچانک حلق بل چیخ رہی تھی۔۔
“وہ اپنی زندگی، اپنی آزادی کیلئے مم میرا میرا سب سب کچھ برباد کر دیگا”_
نوح نے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھاما تھا۔۔ اس مانوسی سی آواز پہ اس نے سسکتے ہوئے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
اسے یہ ڈر نہیں تھا کہ اسکا راز کھل جائیگا، یہ بھی ڈر نہیں تھا کہ وہ لوگ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اسکے ساتھ کیا کریں گے۔ وہ بس دنیا کی اس بھیڑ میں ملے اپنے واحد رشتے کو نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔ اس کو دیکھتی وہ مزید شدّت سے روئی تھی۔۔
”میری جان۔۔ یہ ظلم نا کریں۔۔ ازورا یوں نا روئیں”_
یہ کیا ستم ڈھا دیا تھا اسکے دل نے اس پر ، اسے محسوس ہوا جیسے اس لڑکی کی سسکیاں اسکی جان ہتھیلی میں دبوچ کر جا رہی ہے۔۔
وہ اسکا سوگ اپنے دل پر محسوس کر رہا تھا ، اسکی آنکھیں لہو رنگ سی بھیانک ہو رہی تھیں۔۔
زندگی میں پہلی بار نوح ارسلان تکلیف کی شدّت سے لرز رہا تھا۔۔
وہ اس طرح وہ سالوں پہلے لرزہ تھا جب اسکے باپ نے خودکشی کی۔۔
جب اسکی ماں کی لاش اسکے سامنے تھی۔۔
اس نے مضبوطی سے اسکے شانوں کو تھاما۔۔
اسکا لرزتا نازک وجود سختی سے خود میں سمیٹے وہ خود بھی لرز رہا تھا۔۔ کیسے پلک جھپکتے، مستقبل کی روشن کرن، تاریک رات نگل گئی۔ وہ ویسا ہی خالی ہاتھ رہ گیا جیسے سالوں پہلے خالی ہاتھ اس سفید بنگلے سے نکل کر بھاگا تھا۔۔
نوح نے محسوس کیا اسکا وجود یکدم بےجان ہو گیا تھا۔۔۔
اس نے خوفزدہ انداز میں اسے خود سے الگ کیا ۔۔ وہ ڈال سے ٹوٹتی شاخ کی مانند اسکی گود میں گری تھی۔۔ اسکی دونوں کلائیوں پر گہرے کٹ لگے ہوئے تھے۔۔
روح جسم سے کیسے نکلتی ہے۔۔ سانسیں حلق میں کیسے تنگ ہوتی ہیں۔۔ انسان پل پل کیسے مرتا تھا۔۔۔ تمام تر جملے اس وقت نوح ارسلان کو سمجھ آئے تھے۔۔
“ازورا “_ “دادو”_
“دادو ازورا”_ وہ بےربط سے جملے ادا کرتا اسے گود میں بھرے پاگلوں کی طرح رو رہا تھا۔۔ ہم جیسوں کو “خواب ” سہانے نہیں آتے، ہماری آنکھیں وحشت کے اشک بہانے کے لئے وجود میں آتی ہیں، حسین خوابوں کا گزر اُن میں نہیں ہوتا_
ہمارے جسموں کے زخم مندل پڑ بھی جائیں تو،
ہماری روحیں تاعُمر زخمی رہتی ہیں،
ہمارا داغ دار وجود ہمارے اُجلے دلوں پر بازی لے جاتا ہے،
شہزادی !!
ہم ایسوں کے بخت سیاہ ہوتے ہیں،
ہمارا حُسن سراہا نہیں جاتا_ ہماری بخت کی سیاہی میں ہمارے نقوش کی خوبصورتی سیاہ پڑ جاتی ہے_
ہمارا بچپن گڑیوں سے کھیلتے نہیں گزرتا،
وحشت زدہ راتیں ہماری جوانی کھا جاتی ہیں،
ہماری تنہائی حسین یادوں میں نہیں گزرتی_ وحشت ناک سناٹے کی نذر ہوتی ہیں، ہماری ہنسی میں كهنک نہیں ہوتی
ہمارا قہقہے وحشت زدہ ہوتے ہیں_
زندگی ہم پر مسکراتی ہوئی مہربان نہیں ہوتی،
نیند آور دوائیاں ہماری سہیلیاں ہوتی ہیں_
اور وحشت ناک سپنے ہمارے ساتھی_
(از قلم لائبہ ناصر )