60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١۴
۔
دارم اس وقت کے بعد سے روم میں نہیں آیا تھا۔۔ سچ ہی تو کہا تھا امل نے ازو نا محرم تھی اسکے لئے۔۔ وہ چاہے اس سے جتنی بھی محبت کرتا تھا۔۔ اسے بہنوں کی طرح بعض اوقات بچوں کی طرح رکھا تھا۔۔ مگر وہ اسکا محرم نہیں تھا۔۔ اسکی حقیقت ایک کزن کی ہی تھی۔۔
عجیب سا احساس تھا جو اسکے دل کو لاحق تھا۔۔ دل پر دباؤ سا پڑھ رہا تھا۔۔ اس نے اسکی چھوٹی بڑی ہر ضرورت کا بچوں کی طرح خیال رکھا تھا۔۔ اسکی ہر تکلیف میں اسکے ساتھ کھڑا رہا تھا۔۔ آج وہ اتنی اذیت میں تھی اور وہ اسکے سامنے نہیں جا سکتا تھا۔۔ اسے خود سے لگا کر تسلی نہیں دے سکتا تھا۔۔ کتنا بےبس تھا وہ۔۔ اسے ہوش آئیگا تو وہ کیا ریئکٹ کرے گی۔۔ ازورا کو وہ اب اس گھر میں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔
“ازو کی عدت پوری ہو جائے گی تو میں اسے لیکر شفٹ ہو جاؤنگا”_
اس ناامیدی اور بےبسی میں اس نے جیسے خود کو دلاسہ دیا تھا۔۔
“اس وقت بھی تو وہ میرے لئے نامحرم ہی رہے گی”_
اس گھر میں وہ سب کے ساتھ رہتے تھے۔۔ اسکے اب تک یہاں ہونے کی وجہ بھی شاید ازورا ہی تھی۔۔ وہ رومیسہ کی عزت کرتا تھا۔۔ ان سے محبت بھی کرتا تھا لیکن رومیسہ جانتی تھیں وہ شہباز کو پسند نہیں کرتا۔۔ اگر ازورا وہاں نہیں ہوتی اسکی وہاں رہنے کی کوئی وجہ ہی نہیں بچی تھی۔۔
ذہن کے پردوں پر یکدم ہی نوح ارسلان کا بکھرا کرب زدہ سا عکس لہرایا تھا۔۔۔
“ازورا لاشاری میرا نشہ ہے۔میی رگوں میں اسکا نشہ دوڑ رہا ہے۔۔ وہ نہیں ملی تو میں موت کے دہانے آجاؤنگا”!!
کچھ تو تھا اسکے لہجے میں جس نے دارم کو ٹھٹھکنے پر مجبور کیا تھا۔۔
وہ نوح ارسلان کو جانتا تھا۔۔ جس انسان کے پیچھے میڈیا پاگلوں کی طرح پھرتا تھا۔۔ جو خود پر گرد تک بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔۔ جسکی پرسنلٹی کے کتنے ہی لوگ دلداده تھے وہ اس قدر بکھری حالت میں اس سے گریہ وزاری کر رہا تھا۔۔
اسکی حالت اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔
اسکی باتیں سماعت کے پردوں سے محو نہیں ہو رہی تھیں۔۔ آنکھیں اسکی حالت پر من و عن یقین لا رہی تھیں۔۔ اسکا دل گواہی دے رہا تھا کے وہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا۔۔ اسکی تڑپ جھوٹی نہیں تھی۔۔
لیکن دماغ ماننے سے انکاری تھا۔۔ ہزاروں توجیہات سامنے پیش کر رہا تھا۔۔
“نوح ارسلان اسکی ازو کا خواہش مند کیسے ہو سکتا ہے؟”
۔
“اگر یہ مجھے نہیں ملی تو میں زندہ کیسے رہونگا بولو ؟”
اسکی تڑپ ایک بار پھر اسکی سماعت میں گونجی۔۔ اس وقت اسکی آنکھوں میں جو کرب تھا وہ جھوٹا نہیں تھا۔۔
۔
“وہ ٹھیک ہو جائے گی”_
مدھر شناسہ سی آواز نے اسے خیالوں کی دنیا سے نکال کر حقیقت میں لا پٹخا تھا۔۔
“اجازت کے بغیر کسی کے کمرے میں داخل نہیں ہوتے۔۔ مگر یہ اخلاقیات میں کسے سمجھا رہا ہوں۔۔ تربیت تو ماں باپ کرتے ہیں۔۔ آپ کا کوئی قصور نہیں، آپ کے باپ نے کچھ سکھایا ہوتا تو آپ جانتی بھی ہوتیں”_
اسکے لہجے کی اتنی نفرت پر امل ششدر سی رہ گئی تھی۔۔ اتنی تلخی۔۔ اتنی کڑواہٹ گھلی تھی اسکے لہجے میں۔۔ لفظوں کے زخم تو وہ شروع سے دیتا آیا تھا۔۔ اسے تو اسکا لہجہ مار گیا تھا۔۔
اسکی بات اسکے دل پر گھونسے کی مانند پڑی تھی۔۔
“تو آج دارم اسفہان نے اسکی تربیت کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا تھا”_
جسکی نرم مزاجی۔۔ خوش اخلاقی کی تعریف سارا حلقہ احباب کرتا تھا۔۔ دارم اسفہان کی نظر میں وہ تو اچھی تربیت سے ہی محروم تھی۔۔
“کاش یہ اخلاقیات آپ دل کو بھی سکھا دیتے۔۔۔ میری اجازت کے بغیر آپ کو اتنا اونچا مسند دے دیا اس نے۔۔ جن کو مسند یہ عطاء کر دے ان سے کوئی سلطنت بھلا کہاں چھین سکتا ہے”_ وہ آرزدہ سی بولی تھی۔۔ وہ تو آج تک اپنا گناہ ہی نہیں جان پائی تھی جسکی پاداش میں دارم اسفہان اسے کند چھوری سے ذبح کرتا تھا۔۔ اسکا لہجہ ایسا ہی تھا۔۔ اسے اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی جیسے جسم سے روح کے جدا ہوتے وقت ہوتی ہے۔۔ ۔ “اس دل کو سمجھا لیں کے جو چیزیں حاصل نا ہوں۔۔ انکی خواہش کرنا بھی گناہ ہے”
پیشانی کی ابھری رگوں پر ہاتھ پھیرتا وہ سپاٹ انداز میں بولا۔۔
امل نے بھیگی آنکھوں سے دیکھا۔۔ دارم کی نظریں بھی عین اسی لمحے اسکی نگاہوں سے ٹکرائی تھیں۔۔ بھیگے نینوں سے بہتے اشک ڈھیروں شکوے لئے اسے تک رہے تھے۔۔
کس قدر سفاک ہوا تھا وہ۔۔ ہاں اسکے معاملے میں تو دارم اسفہان اتنا ہی سفاک تھا۔۔ اس بھی کہی زیادہ۔۔
اسکا تو نرم خو سے دارم سے کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا تھا۔۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ نرمی سے میٹھا بولتا ہوا کیسا لگتا ہے۔۔
وہ تو اسکے نفرت۔۔ بیزاری بھرے لہجے سننے کی عادی تھی۔۔
۔
“میں تو آپ کی محبت کے زندان میں قید ہوں۔۔ اب رہائی ممکن ہے ہی نہیں۔۔ اپنے ہاتھوں سے میری جان لے لیں اسی صورت آزادی نصیب ہوگی۔۔ شاید میری بھی جان خلاصی ہو جائے”_
اسکے بھیگے الفاظ اس پتھر پر پہلا کاری وار کر گئے تھے۔۔
دارم نے دہل کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ اسکے لہجے میں ٹوٹے کانچ کا عکس تھا۔۔
“امل خاموش ہو جائیں”_
وہ اسے مزید سننا نہیں چاہتا تھا۔۔ اسے محسوس ہو رہا تھا وہ مزید بولتی رہی تو وہ اسے سینے سے لگا کر سارے درد اپنے اندر سماں لے گا۔۔
اسکی بھیگی آنکھوں میں ایک بار اور دیکھا تو انکے اشک اپنی پوروں پر چن لے گا۔۔ اور دارم اسفہان مر کر بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
۔
“مگر جانتے ہیں دارم اس اسیری میں بھی میں بہت آزاد ہوں۔۔ میرا روم روم آپ سے محبت کرتا ہے۔۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کیوں کے میں آپ کی طرح اپنے جذبات سے نگاہیں نہیں چراتی”_
وہ زخمی سا ہنسی تھی۔۔ اسکی یہ ہنسی دارم کو بین کرتی معلوم ہو رہی تھی۔۔
۔
“امل جائیں یہاں سے”_
وہ دھاڑا تھا۔۔ وہ اس جهلی لڑکی کو سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔
۔
“میں تو آپ کی اسیری میں بھی مطمئن اور خوش ہوں۔۔ آپ کی دی ہوئی تکلیف محبت کی مہربانی سمجھ کر جھیل رہی ہوں۔۔
“آپ خود سے پیچھے دارم کیا آپ آزاد ہیں؟”
وہ اسے لاجواب کر گئی تھی۔۔
“امل شہباز خاموش ہو جائیں۔۔
وہ بپھرے شیر کی مانند دهاڑا تھا۔۔ اسکا ہاتھ اٹھا تھا۔۔
امل نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔
دارم نے بےبسی سے اسکی جانب دیکھا پھر ہوا میں معلق اپنے ہاتھ کو۔۔ وہ اس پر ہاتھ نہیں اٹھا پایا تھا۔۔ اٹھا ہی نہیں سکتا تھا۔۔
طیش میں دیوار پر مکّا مارتا وہ چیخا تھا۔۔
امل نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو ضبط کی شدّت سے سرخ آنکھیں لئے انگلی کے اشارے سے اسے نکل جانے کہ رہا تھا۔۔
۔
“آزاد تو آپ بھی نہیں ہے دارم۔۔ میری محبت کی کتنی دیواریں آپ کے گرد چنوائی جاچکی ہیں آپ میری محبت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں”_
وہ فاتحانہ انداز میں بولی تھی۔۔
۔
“دارم کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے ؟”
شور کی آواز پر رمشا اندر داخل ہوئی تھیں۔۔ دارم کی سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں دیکھ وہ ایک پل کو ٹھٹھکی۔۔ پھر سامنے نازک سی اس لڑکی کو دیکھتے وہ ناسمجھی سے دارم کی جانب دیکھنے لگی۔۔
امل آج سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔۔ اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔۔
دارم کے حوالے سے تو بلکل بھی نہیں۔۔
اسکی شدّت گریہ سے سرخ ہوتی آنکھیں۔۔ رویا رویا چہرہ رمشا کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
۔
“دارم۔۔ از ایوری تھنگ آل رائٹ ؟”
دارم کے شانے پر ہاتھ رکھتی وہ فکر مندی سے بولی۔۔
امل کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی۔۔ اسکا انداز اس قدر بےتکفانہ تھا یقیناً دارم سے اسکی دوستی کافی پرانی تھی۔۔
“یہ کون ہے ؟”
رمشا نے اسکی جانب دیکھتے استفسار کیا۔۔
امل یک ٹک دارم کو دیکھ رہی تھی۔۔ وہ سننا چاہتی تھی وہ کیا حوالہ دے گا اسکا۔۔
“رومیسہ پھوپو کی بیٹی ہیں”_
اسکا ہاتھ نرمی سے اپنے شانے سے ہٹاتا وہ خود کو کمپوز کرتا بولا۔۔
“اوه تمہاری کزن۔۔ میں تو ڈر کر آئی کے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔۔ ازورا کے لئے پریشان نا ہوں امل ٹھیک ہو جائے گی وہ”_
وہ خوش دلی سے بولتی اسکا ہاتھ بھی تھام گئی تھی۔۔
“جی”_ وہ یک لفظی جواب دے کر جلتی آنکھوں سے دارم پر ایک نظر ڈال کر وہ تیزی سے کمرے سے نکلی تھی۔۔ “ازورا کی وجہ سے پریشان ہوگی۔۔ فکر مند تو میں بھی ہوں دارم۔۔ اتنی چھوٹی عمر میں اتنا سیویئر اٹیک، اتنا سٹریس کس بات کا لیا ہوگا اس نے”
وہ خود ہی خود بولتی چلی جا رہی تھی۔۔ دارم سے اسکی دوستی اچھی تھی۔۔ لیکن وہ ہر رشتہ ایک حد میں رکھنے کا قائل تھا۔۔ ازورا کے معاملات وہ اس سے کبھی ڈسکس نہیں کرتا۔۔
“تم ازو کو دیکھ لینا پلیز۔۔ اسکا بہت خیال رکھنا”_
وہ تھکن زدہ سے انداز میں بولتا کرسی پر بیٹھتا اسکی پشت سے سر ٹکا گیا۔۔
“تم نہیں جا رہے اسکے پاس “_
رمشا نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ازورا کو کسی اور کی ذمہ داری پر وہ بھلا لب چھوڑتا تھا۔۔ وہ اسکے ذرا سے رونے پر ہسپتال چھوڑ کر چلا جاتا تھا۔۔
“رمشا میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں”_
یہ واضح اشارہ تھا کے وہ مزید اسکی موجودگی برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی نکل گئی۔۔


“آنکھیں کھولو لڑکی۔۔ اپنی بربادی دیکھو”_ وہ اندھیرے میں سفر کر رہی تھی۔۔ اسکی آنکھیں کالی گھور سیاہ رات کے سوا کچھ نہیں دیکھ پا رہی تھیں۔۔ اسکی سماعت میں ایک ہی شخص کی آواز گونج رہی تھی۔۔ “تم نہیں جانتی شوہر کی بات کیسے مانی جاتی ہے”
کوئی اسکا چہرہ دبوچے خباثت سے بول رہا تھا۔۔
“تم کسی کو نہیں بتاؤ گی کے اس رات کون تھا ورنہ”_
اسکے آگے ڈیوائس لہراتے وہ اسکی حالت سے مزہ لے رہا تھا۔۔۔۔
“تم سیکھ گئی ہو کے شوہر کی بات کیسے مانی جاتی ہے۔۔ اچھی بات ہے۔۔ گڈ گرل”_
اسکے اپنے گال پر وہ غلیظ لمس محسوس ہو رہا تھا۔۔ وہ کھرچ کر نکال دینا چاہتی تھی ہر وہ حصّہ جہاں اس نے چھوا تھا۔۔
۔
“میں تمہارے وجود میں ہر جگہ اپنی نشانی چھوڑنگا۔۔ تم جب جب خود کو دیکھو گی تمہیں میں یاد آؤنگا۔۔ میری قربت یاد آئیگی”_
اسے اپنی گردن پر شدید جلن کا احساس ہو رہا تھا۔۔
وہ تکلیف کی شدّت برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔ سر ادھر ادھر پٹخ رہی تھی۔۔
آکسیجن ماسک کی وجہ سے اسکے منہ سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں۔۔
“ازو۔۔ ازو کیا ہوا۔۔ ازو میری جان۔۔ ازو پلیز ریلیکس ہو جاؤ”_
اسے کسی نرم آواز آ رہی تھی۔۔ شناسہ آواز تھی۔۔
“میں تمہیں کسی اور کے لائق نہیں چھوڑونگا۔۔ تمہیں خود کو دیکھتے ہوئے خود پر ہی ترس آئیگا۔۔
وہی جلن اب اسے اسکے بازو پر ہو رہی تھی۔۔ سگریٹ سے جلائے جانے کی جلن۔۔
وہ بیدردی سے اپنے بازو نوچ رہی تھی۔۔
“ازو ڈرپ لگی ہوئی ہے۔۔ ازو پلیز نہیں کرو’_
امل اسے بےقابو ہوتے دیکھ روتی ہوئی بول رہی تھی۔۔
اسے امل کی آواز آ رہی تھی۔۔ مگر امل کی آواز اس آواز کے آگے دب سی جا رہی تھی۔۔
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”_
مگر پھر وہ اندھیروں میں کھونے لگی۔۔
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”_
اسکی ذات کو رسوا کر کے۔۔ اسے داغ دار کر کے۔۔ اس پر طلاق کی مہر بھی لگا دی گئی تھی۔۔
وہ الٹی سانسیں لے رہی تھی۔۔ ڈاکٹر رمشا اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔
“ازو۔۔ ازو سانس لو۔۔ ازو پلیز سانس لو۔۔ ون۔۔ ٹو۔۔ تھری۔۔ ازو سانس لو”_
اسے یاد آیا تھا کے دارم اسے اسی طرح کنٹرول کرتا تھا۔۔
“ازو سانس لو۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ سب ٹھیک ہے”_
وہ جیسے جیسے بولتی جا رہی تھی وہ آہستہ پرسکون ہو رہی تھی۔۔
آکسیجن ماسک صحیح کرتے رمشا نے اسکے بازو پر انجکشن دیا۔۔
وہ اس کے بازو پر وہ نشانات دیکھ کر ٹھٹھکی تھیں۔۔
وہ ہمیشہ پوری آستین پہنتی تھی۔۔ آج سے پہلے انہوں نے کبھی اسکے ہاتھ نہیں دیکھے تھے۔۔
“یہ یہ نشان کیسے ہیں اسکے بازو پر”_
اس نے تشویش سے امل سے سوال کیا۔۔
“She had an accident”_
وہ مختصراً بولی تھی۔۔ رمشا پوری بات سمجھی نہیں تھی لیکن اسکی بات پر سر ہلا گئی۔۔
“یہ اس طرح فیٹس اسے ہمیشہ پڑھتے ہیں “_
انہوں نے امل کی جانب دیکھتے دوسرا سوال کیا تھا۔۔ وہ ڈاکٹر تھیں انکی زیرک نگاہوں سے ازورا کی حالت مخفی نہیں تھی۔۔
“کبھی کبھی جب یہ ڈر جاتی ہے۔۔ یا دارم اسکے پاس نہیں ہوتے جب”_
اسکی پیشانی چوم کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی امل دھیرے سے بولی۔۔
انہوں نے مزید کوئی سوال نہیں کیا تھا وہ بس ازورا کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔ انکی آنکھوں میں اسکے لئے ہمدردی تھی۔۔


۔
اپنے کمرے کے گلاس ڈور کے آگے ویل چیئر میں موجود وہ وجود شیشے کے اس بار نظر لان میں نظر آتے پودوں کو تک رہا تھا۔۔
رنگ برنگی پھول جنکی خوشبو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ اندر کمرے میں بھی آ رہی تھی۔۔
وہ تیس سال کے قریب ایک خوبصورت عورت تھی۔۔
ویل چیئر پر بیٹھی تھی۔۔ اسکے لمبے کالے بال زمین کو چھونے کے قریب تھے۔۔ اسکی رنگت صاف تھی۔۔ گلاب سی رنگت کی مالک تھی وہ۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک تھی جو کسی کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی تھی۔۔
اسکے چہرے میں سب سے خوبصورت اسکی ناک تھی۔۔ پتلی کھڑی ناک جو اسکے نقوش کے تیکھے پن کو ابھار رہی تھی۔۔
اسکی ناک میں ہیرے کی لونگ جگمگا رہی تھی۔۔
اسکے لبوں پر بہت حسین مسکراہٹ تھی۔۔ مسکراتی ہوئی وہ اپنی جنّت دیکھ رہی تھی۔۔
اسکا گھر۔۔ اسکی جنّت۔۔ اس جنّت سے باہر کی دنیا بہت ظالم تھی۔۔ آپ کا ایک غلط رخ۔۔ اور آپ سیدھے اس دنیا کے خود ساختہ بنائے جہنم میں۔۔ جسکی تپش تمام عمر آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔
“اتنی خاموشی سے کیا دیکھ رہی ہیں بیگم”_
اسکے بالوں میں چہرہ چھپائے اس شخص کی محبت بھری آواز آئی تھی۔۔
وہ دلکشی سے مسکرا اٹھی۔۔
“اپنی جنّت دیکھ رہی ہوں”_
وہ بھی محبت سے بولی تھی۔۔
“یارا پھر تو یہاں مجھے دیکھیں۔۔ آپ کی جنّت تو میں ہوں”_
اسکا رخ اپنی جانب کرتے وہ جذبات سے چور انداز میں بولے۔۔
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔
وہ اسکی ہنسی کی کھنک میں گم دل سے مسکرائے تھے۔۔
“پروفیسر صاحب۔۔ یہ رومینس آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔۔ بوڑھے ہو گئے ہیں آپ”_
وہ شرارت بھرے لہجے میں بولی تھی۔۔
“چیلنج نہیں کریں۔۔ آپ کے شوہر اب بھی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں”_
اسکی ناک کو چوم کر وہ اسکی ویل چیئر موو کرتے گلاس ڈور اوپن کر کے اسے لان میں لے آئے تھے۔۔
“آج پھر ایک کیس آیا تھا”_
اپنے شانے پر رکھے اسکے ہاتھ پر سر رکھتی وہ دکھی ہوئی تھی۔۔
“جانتے ہیں جمال آٹھ سالہ بچی تھی وہ۔۔ اسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوا اگر ہماری بیٹی زندہ ہوتی تو شاید اسی کے عمر کی ہوتی۔۔ اسے نوچ ڈالا انہوں نے جمال۔۔ بببب بلکل اسی اسی طرح ججج جس طرح ممم مجھ”_ اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں پر قفل لگاتے ساتھ لگا گئے تھے۔۔ وہ انکے سینے سے لگی گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی۔۔ “لیلیٰ کچھ نہیں ہوا۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔ میں ہوں یہاں تم ہو۔۔ ہم اپنی جانب سے مدد کر رہے ہیں جتنی ہم سے ہو سکتی ہے۔۔ ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اس ظلم کو روکنے کے لئے۔۔ تم بہت مضبوط ہو لیلیٰ۔۔ تم لیلیٰ جمال اکبر ہو۔۔ تمہیں میرے لئے مضبوط رہنا ہے”
اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ مظبوط انداز میں بول رہے تھے۔۔
پروفیسر جمال اکبر کو اتنا مضبوط بننے میں آٹھ سال لگے تھے۔۔ بہت کچھ کھویا تھا انہوں نے۔۔
“ایک لڑکی ہے یونیورسٹی میں ازورا۔۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بول رہے تھے۔۔
“ازورا لاشاری۔۔ کہتی ہے پروفیسر مجھے پورا کورس نہیں پڑھنا آپ مجھے بس یہ والا قانون پڑھا دیں۔۔ جانتی ہو لیلیٰ اسکی آنکھوں میں بھی وہی کرب ہے جو میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتا ہوں۔۔ میرا دل شدّت سے دعا کرتا ہے وہ کسی ایسے ظلم سے نا گزری ہو جسکے ہم شکار ہوئے۔۔ مگر نجانے کیوں دل اپنی ہی دعا کی صداقت پر یقین نہیں کر پا رہا”_
اسکے ذکر پر وہ ہلکا سا ہنسے تھے۔۔ پاگل سی وہ لڑکی انھیں منفرد لگتی تھی۔۔
“اسے بتاؤ جمال کے یہ قانون کی کتابیں پڑھ کر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔ اسے بتاؤ یہاں اجلے چہروں کے پیچھے بھیڑیے چھپے ہیں۔۔ آعلیٰ عہدوں پر گدھ بیٹھے ہیں۔۔ یہ اسے نوچ کھائینگے۔۔ قانون کی یہ موٹی موٹی کتابیں جو سکھاتی ہیں اس ملک کا قانون اس سے بہت الگ ہے۔۔ یہاں قائد اعظم کو ایک مخصوص طرح کے کاغذ پر زیادہ عزت ملتی ہے۔۔ جسکے جیب میں جتنی موٹی اسامی وہ اتنا ہی بڑا کھلاڑی”_
وہ منتفر تھی اس ملک سے۔۔ اس ملک کے قانون سے۔۔
۔
“یہاں وہ لوگ بھی بستے ہیں جو اسی مٹی کے لئے اپنی جان دیتے ہیں۔۔ معاشرہ میں ہوتے ظلم کی وجہ سے ہم ملک سے منتفر نہیں ہو سکتے میری جان”_
وہ نرمی سے اسکے آنسوں چنتے ہوئے بولے تھے۔۔
بھیانک ظلم کا شکار ہونے کے بعد بھی جمال اکبر کی حب الوطنی میں فرق نہیں آیا تھا۔۔ شاید مزید اضافہ ہو گیا تھا۔۔
“اسی ملک میں رہ کر اسی قانون کے ساتھ ہم انھیں جہنم وصل کریں گے۔۔ تم دیکھو گی لیلیٰ”_
وہ جانتے تھے اسکے ساتھ جو ہوا اسکے بعد وہ اس ملک سے محبت کا دعوا نہیں کر سکتی تھی۔۔
“یہ مرد نہیں ہیں یہ جنگلی کتے ہیں جمال ۔۔۔ یہ بھونکتے ہیں۔۔ یہ نوچتے ہیں۔۔ یہ کھال ادھیڑ لیتے ہیں۔۔ یہ روح زخمی کر دیتے ہیں”_
وہ گھٹی گھٹی آواز میں سسک رہی تھی۔۔ وہ چاہ کر بھی کچھ بھول نہیں سکتی تھی۔۔
“میں نہیں بھول سکتی جمال کے میری اولاد کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم کر دیا ان ظالموں نے۔۔ میں نہیں بھول سکتی وہ اذیت جب وہ مجھے نوچ رہے تھے۔۔ جب میں رو رو کر اپنے ساتھ ہوا ظلم بیان کر رہی تھی۔۔ اور جب عدالت نے انھیں یہ کہ کر رہا کر دیا تھا کے میرے گواہ کمزور ہیں۔۔ ظالم کا ساتھ دینے کے لئے انکے گواہ کمزور نہیں ہوتے جمال۔۔ یہ بس مظلوم کا ساتھ دیتے یہ تاویلیں دیتے ہیں”_
وہ تڑپ رہی تھی اپنی اس اولاد کے لئے جو دنیا میں آئی ہی نہیں۔۔
ان تمام اذیتوں کے لئے جو اس نے سہی تھیں۔۔
وہ لب بھینچے اسے سینے سے لگائے کھڑا تھا۔۔ یہاں آ کر وہ لاجواب ہو جاتے تھے۔۔
یہاں آ کر وطن کی محبت کے باوجود وہ اسے یہ امید نہیں دے پاتے تھے ایک دن انہیں سزا ضرور ملے گی۔۔
ایک دن یہی قانون انھیں سزا ضرور دے گا۔۔
یہ تو بس ایک مبہم سی امید تھی۔۔ نجانے کب تک سلامت رہتی۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے انکی یہ امید ٹوٹے۔۔
وہ “لیلیٰ جمال اکبر” کے مجرموں کو سزا ملتے دیکھنا چاہتے تھے۔۔ اسی قانوں کے ذریعہ سزا ملتے دیکھنا چاہتے تھے۔۔