Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
“” جان ِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۳
۔
وہ بے جان سی اسکے روبرو نیم دراز تکیے پر زرا سی کروٹ پر لیٹی تھی، ایک ہاتھ ڈرپ کی زد میں جبکہ بازووں اور رخسار پر سرخی چھائی ہوئی تھی۔۔ وہ دوائیوں کے زیر اثر گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔۔ بیڈ کی پائنتی کے ساتھ لگے وہ نیچے کارپیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔ ہاتھوں میں نرمی سے اسکا ہاتھ تھامے۔۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد سے اب تک وہ اسی طرح بیٹھا یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اسکا سرخ لباس اس نے تبدیل کر دیا تھا۔۔ بال بےترتیب سے تکیہ پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
گلابی رنگت زردی مائل ہو رہی تھی۔۔ شہد رنگ آنکھیں جنوں میں نوح ارسلان فریفتہ تھا اس وقت اس سے رخ موڑے ہوئی تھیں۔۔ ہاتھوں کو اس نے بری طرح زخمی کر لیا جس ر اس وقت پٹی لگی ہوئی تھی۔۔
یہ لڑکی نوح ارسلان کی سانسوں میں بستی تھی۔۔ اسکی ہر تکلیف وہ اپنے دل پر گزرتی محسوس کرتا تھا۔۔
اسکے ساتھ ہی وہیل چیئر پر اختر شیروانی بیٹھے ازورا کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہے تھے۔۔ وقتاً فوقتاً انکی نظریں نوح ارسلان پر پڑ رہی تھیں جو اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔
“اسے کچھ ہو جاتا تو؟ “
وہ بولا تو اسکی آواز بھیگی ہوئی تھی۔۔ ستم تو یہ تھا کے وہ چاہ کر بھی یہ اذیت آنسوؤں کے ذریعے نکال نہیں سکتا تھا۔۔
ایک لمحے میں اسکے سوال نے انکے کو ڈسا، جس کرب سے وہ ان سے پوچھ رہا تھا، خود اختر شیروانی کے دل کو کچھ ہوا۔۔
“اس ناگہانی نقصان کی کیسے تلافی کرتا میں دادو، میں کیا کرتا دادو۔۔ میں کیا کرونگا”_
وہ خود اذیتی کا شکار تھا۔۔ اس نے تو کبھی نہیں سوچا تھا کے اسکی موجودگی بھی اسکی بیوی کی تکلیف کم نہیں کر سکے گی۔۔ جس تکلیف میں وہ تھی وہ کیسے نہیں جان پایا۔۔ یہ خیال ہی اسکی جان نکال رہا تھا۔۔ ازورا لاشاری تو اسکی روح سے جڑی تھی۔۔ تو اسکی تکلیف نوح ارسلان کے اندر کیوں نہیں اتری۔۔
“میرے نوح کے رہتے اسے کچھ کیسے ہو جاتا_ یہ بلکل ٹھیک ہو جائیگی دیکھنا”_
وہ خود بھی ازورا کی یہ حالت دیکھ کر ٹوٹ گئے تھے لیکن اس وقت وہ بکھرتے تو نوح کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔۔ ازورا لاشاری انھیں اتنی ہی عزیز تھی جتنا نوح ارسلان۔۔ یا شاید اس سے بھی کہی زیادہ۔۔۔
نوح”_ اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ وہ دھیرے دھیرے اسے پکار رہی تھی۔۔ “ازورا ! میری بچی آنکھیں کھولو”
نرم شناسا سی آواز پر وہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
نوح غیر محسوس انداز میں اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“دادو”_ چیخنے کی وجہ سے اسکی آواز اب بہت مشکل سے نکل رہی تھی۔۔ “میرا بیٹا، دادو اپنی چڑیا کے پاسس ہیں نا”
وہ اب بھی اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر رہے تھے۔۔
دادو کی آواز پر اسکے بند آنکھوں سے دو آنسوں تکیہ میں جزب ہوئے تھے۔۔ اگلے ہی لمحے وہ گھٹی گھٹی سسکیاں لیتی رونے لگی تھی۔۔
نوح نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔ اسکی یہ گھٹی گھٹی سسکیاں ایک دن نوح ارسلان کی جان لے لیگی۔۔
“دادو_ وہ وہ پھر سے آ گیا۔۔ انکے ہاتھوں میں چہرہ چھپانے کی کوشش کرتے وہ اس قدر سہمی ہوئی تھی کے نوح ارسلان کو اپنا آپ شوٹ کر دینے کا دل کر رہا تھا۔۔ اسکے ہوتے ہوئے وہ اتنا کیسے سہم گئی۔۔ “کون۔۔ کون آ گیا میرا بچہ “
اختر شیروانی نے ناسمجھی سے نوح کی جانب دیکھ کر اس سے اشاروں میں پوچھا۔۔
“ششش ششباز”_
اسکے لبوں سے سرسراتی ہوئی آواز نکلی تھی۔۔ وہ خوف سے زرد پڑ گئی تھی۔۔ نوح کے دماغ میں جھماکہ سا ہوا تو کیا اسکی بیوی شہباز ضمیر کی وجہ سے رات سے اس قدر اذیت میں تھی۔۔ ضبط سے اسکی رگیں تن سی گئیں تھیں۔۔
اس نے دادو کو التجائیہ نظروں سے دیکھ کر جانے کا کہا۔۔
“تم پھر اس سے سختی سے بات کرو گے”_
وہ کسی صورت اس وقت ازورا کو اسکے حوالے کرنے پر راضی نہیں تھے۔۔
“دادو”_
وہ دونوں ہاتھوں سے انکا ہاتھ تھامے نیند میں بھی انجانے خوف کے زیر اثر تھی۔۔
نوح نے نرمی سے اسکے ہاتھوں سے دادو کا ہاتھ نکال کر انکی وہیل چیئر کا رخ اپنی جانب کیا۔۔
“آپ جانتے ہیں نا میرا یہ جاننا کتنا ضروری ہے۔۔ آپ یہاں سامنے رہیں گے تو وہ کچھ نہیں بتائینگی”_
اس نے انھیں سمجھانے کے سے انداز میں کہا تھا۔۔
“تو تم اسے اپنے انداز میں پوچھنا چاہتے ہو”_
وہ بھی اسکے دادا تھے۔۔ فورا اپنی چیئر لاک کی تھی۔۔
“دادو میری بیوی ہیں وہ۔۔ طریقے سے ہی پوچھونگا “_
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ان دادا پوتی کی محبت میں وہ کیا کر رہا ہے۔۔ ایک وہ تھی جو اسے کچھ بتانے پر راضی نہیں تھی لیکن دادو کو پہلی بار پوچھنے پر ہی بتا دیا تھا۔۔ ایک دادو تھے جو کسی صورت اسے نوح کے پاس اکیلے چھوڑ کر جانے پر راضی نہیں تھے۔۔ اسے اپنا آپ ہی جلاد صفت لگ رہا تھا۔۔
“اگر یہ روئی یا اسکی آواز آئی تو میں پھر آجاؤنگا”_
وہ گویا اسے دھمکا کر گئے تھے کے اگر انہیں اسکے رونے کی آواز آئی تو وہ اسے اپنے کمرے میں لے جائیں گے۔۔
دادو کو انکے روم میں چھوڑ کر آنے کے بعد وہ اسکے قریب بیٹھ کر اسکے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔۔ جو اب نیم غنودگی میں تھی۔۔
“دادو “_
اس نے ایک بار پھر انہیں پکارا۔۔ نوح نے بنا کچھ کہے جھک کر اسکے ماتھے پر لب رکھے۔۔ اسے کچھ کہنے ضرورت نہیں تھی۔۔ اسکے لمس پر ہی اسکی موجودگی محسوس کرتی وہ خود میں سمٹی۔۔
اس نے دھیرے سے آنکھیں واں کی تھیں۔۔ بلکل سامنے نوح ارسلان کو دیکھ کر اسکا حلق خشک ہوا تھا۔۔ تمام خوف ایک بار پھر عود آیا تھا۔۔
اس نے کچھ کہا نہیں تھا۔۔ احتیاط سے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے گہری نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“یوں قسطوں میں میری جان لے کر کون سی تسکین حاصل کرتی ہیں آپ _
وہ بہت آہستہ لیکن سرد انداز میں بول رہا تھا۔۔ ازورا کو اپنا آپ ہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہوا، وہ تو بس اسکے پہلے جملے سے ہی مجسمہ بن گئی تھی، اس جملے کو ادا کرتے وقت اس شخص کی تکلیف نے اس کی دھڑکنیں جکڑی تھیں۔۔ وہ خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھتی لب کاٹ رہی تھی۔۔
“شہباز ضمیر سے آپکی بات کب ہوئی ازورا، اور کیا کہا اس نے ایسا جو آپ نے یہ حالت کر لی اپنی ؟’
ابھی پچھلا صدمہ کم ہوا ہی تھا کہ نوح ارسلان نے اگلا سوال داغا تھا، اس کی آنکھوں میں جو اس حوالے پر خون اترا تھا وہ ازورا کی نظروں سے چھپ نہ سکا تھا۔۔
“ممجھے کوئی کیس نہیں کرنا”
نقاہت کے باعث اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔
وہ اتنی سہمی ہوئی بولی تھی کہ نوح کے صبر کا شیزارہ بکھیر کر رکھ گئی، اسکے جواب کے اندر موجود وحشت اس کی آنکھوں کے کنارے سرخ کر گئی۔
“اصل بات بتائیں ازورا؟”
تحمل سے برداشت کیے وہ جبڑے بھینچ کر بولا۔۔
وہ ایک بار پھر گھٹی گھٹی سسکیاں لے رہی تھی۔۔ وہ ہوش گنوائے یہ تک نہ دیکھ پائی کہ وہ نوح ارسلان پر کیسے کیسے قہر ڈھا رہی ہے۔۔
“سٹاپ دس ازورا “_
وہ جو فاصلہ بڑھا چکا تھا، اسکے رونے پر بیچ کا فاصلہ گھٹائے قریب آیا تو وہ اسے پرے دھکیلتی مزید سسکنے لگی، طبعیت کی خرابی کے باوجود اسکے آنسو چینخوں میں بدلے۔۔ نوح نے مزید قریب بڑھ کر اسے پکڑا اور اپنے سینے سے لگایا، یہ وہ بے ارادہ کر بیٹھا تھا مگر اس لڑکی کے بچوں کی طرح رونے نے نوح پر کئی پس پردہ معاملات کھولے، اگر وہ اسکی وجہ سے روتی تو اسے دھکے دیتی مگر وہ اسکے سینے میں چھپی شاید رونے کے لیے ایسی ہی کسی پناہ کی طلب گار تھی، خود نوح کا سارا غصہ اسکے کانپتے وجود اور گھوٹی کراہٹیں دیکھ کر فکر میں بدلا۔۔ وہ بے ساختہ روتی گئی، وہ پہلے بوکھلایا پھر آہستہ سے اسکو تھپکنے لگا۔
اسکو اس جنونی کیفیت سے نکالے وہ وہیں بیڈ پر اسکے قریب بیٹھ گیا۔۔ وہ بمشکل ہچکیاں بھرے سانس لیتی اسکا دل بھی دہلا رہی تھی۔۔
“م۔۔۔مجھے جانے دو پ۔۔پلیز۔۔۔ “
بمشکل سانس کھینچتی وہ جس طرح سسکنے لگی، نوح نے اسکے گرد بازو حائل کیے خود سے لگایا۔۔
“مجھے بتائیں ازورا۔۔ کچھ کہا ہے اس نے آپ سے۔۔ کوئی دھمکی دی ہے۔۔۔ میری طرف دیکھیں، ایک بار دیکھیں میری طرف”۔۔
جب کسی صورت وہ نہ سنبھلی تو نوح کو زبردستی اسکا چہرہ اپنی سمت کرنا پڑا۔۔
“میری طرف دیکھیں لیڈی۔۔ مجھے بتائیں۔۔ کال کی اس نے آپ کو ؟ کوئی دھمکی دی؟ کیا کہا ایسا اس ذلیل انسان نے ازورا۔۔ ٹیل می پلیز، تاکہ میں آپکی تکلیف دور کر سکوں”۔
بےبسی کیا ہوتی کوئی اس وقت نوح ارسلان سے پوچھتا اسکے ہاتھوں میں اسکی زندگی سسکیاں بھر رہی تھی وہ وجہ جاننے سے قاصر تھا۔۔
“ممجھے کچھ ننہیں بتانا”_ یکدم اپنی ٹوٹتی بکھرتی حالت سنبھالتی وہ اسے خود سے پرے دھکیلتی اٹھ کر جیسے ہی میڈیسن باکس کی سمت بڑھی، نوح اسکے ارادے جان کر اٹھ کر اسکے پیچھے ہی لپکا۔۔ “آپ اسے بالکل ہاتھ نہیں لگائیں گی” میڈیسن لے کر واپس رکھتا وہ اسکی بازو پکڑے اپنے حصار میں لیے گھورا تو وہ ایسی وحشی ہو کر اسکے سینے پر مکے برسانے لگی جیسے کسی ضدی بچے سے اسکا من پسند کھلونا چھین لیا جائے۔۔ “م۔۔مجھے دے دو یہ منحوس، میں تمہیں مار دوں گی”۔۔ وہ روتی روتی اس سے میڈیسن لینے کو تڑپی وہ جانتا تھا ڈرگز کی عدم موجودگی میں وہ ہیوی ڈوز میڈیسن کس طرح نشے کی صورت استعمال کرنے لگے گی۔۔۔ “دے دو پلیز۔۔۔۔” نوح کو بے رحم بنتا دیکھ کر وہ منت کرتی منمنائی۔۔ نقاہت اس قدر تھی کے وہ کھڑی بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔۔ اس نے واپس اسے پکڑے سینے سے لگایا اور شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس کی اجازت کے بنا اسکے حصار میں ہل بھی نہ سکتی تھی۔۔ “میرے ہوتے ہوئے آپ کسی دوسرے سکون کے ذریعے کا نہیں سوچ سکتیں ازورا، کیا بات ہے شئیر ود می۔ میں آپکی ہر بات سنوں گا، روئیں مت، میرے ہوتے ہوئے آپ ان سکون پہنچاتے میڈیسن۔۔ یہ ڈرگز۔۔ یہ انجکشنز لیں، ہرگز برداشت نہیں کر سکتا”۔۔ وہ سب بھول گیا تھا، یاد تھا تو بس یہ کہ کیسے اور کس طرح اس لڑکی کو اپنا سکون سونپ دے، وہ خود بھی گہرے گہرے سانس لیتی اپنی سسکیاں گھوٹنے پر مجبور تھی۔۔ ۔ مم ممجھے ننن نہیں بتانا ہے۔۔ کچھ نہیں بتانا چاہتی میں۔۔ تت تم تم جاؤ۔۔ پلیز چلے جاؤ “_
اسکی گرفت جھٹک کر وہ پرے سرکتی اسکی طرف اس طرح بےبسی سے دیکھتی بولی نہیں آزیت سے چینخ پڑی تھی۔۔ نوح بےبس سا ہوتا اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔ اس لڑکی کے اندر بڑھتے بے اعتباری کی حد ختم ہو چکی تھی۔۔
“آپکا سانس رکنے دوں گا،کسی غلط فہمی میں مت رہیے گا۔۔ کیوں اس طرح اذیت دے رہی ہیں خود کو بھی۔۔ مججھے بھی۔۔ میں نے آپکے ساتھ ہر نرمی اختیار کی ہے ازورا۔۔ کیا کوئی درد دیا بولیں”
وہ ہر ممکنہ نرمی اختیار کیے اسکا کانپتا ہاتھ تھامے ٹوٹ کر بکھرتی اپنی قیمتی متاع کو قائل کرنے کی سر توڑ کوشش میں ملائم لہجہ اختیار کیے ہوئے بول رہا تھا مگر اس لڑکی کی ضد نے نوح کو عاجز کر دیا، سرخ پڑتی زرا زرا کپکپاتی وہ اسکا ضبط آخری حد تک آزما رہی تھی۔۔
“تم تم کچھ نہیں کر سکتے نوح ارسلان۔۔ تم تم نہیں تھے اس رات میرے پاس۔۔ ککوئی نہیں تھا۔۔ میں نے سب کو آواز دی تھی۔۔ دار کو ۔۔ بابا کو۔۔ کوئی نہیں تھا میرے پاسس”_ وہ بولی تو نوح ارسلان کو ساخت کر گئی تھی۔۔ جو اذیت جو تکلیف اتنے سالوں سے اندر تھا وہ آج نکل رہا تھا۔۔ “وہ وہ اس نے مجھے مار دیا تھا نوح۔۔ اس نے اس رات مجھے مار دیا تھا۔۔ ددد دیکھو۔۔ دیکھو ” اپنے گردن پر ہاتھ پھیرتی۔۔ بازو ۔۔ اسے اپنا آپ دکھاتی وہ ہوش میں نہیں تھی۔۔ نوح نے اسے قریب کرنے کی کوشش کی۔۔ وہ ایک جھٹکے میں اس سے اپنا آپ دور کر گئی تھی۔۔ “اس نے کہا تھا میں بےبس ہوں۔۔ اس نے کہا میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔ میں سچ میں نہیں کر پائی کچھ۔۔ کوئی میرے لئے کچھ نہیں کر پایا ۔۔ سات سال۔۔ سات سال نوح ارسلان وہ ہر دن ہر رات ہر لمحہ مجھے یاد دلاتا رہا کے میں اسکی ملکیت ہوں۔۔ وہ مجھے بتاتا رہا کے میں اسکی دسترس میں رہوں یا نا رہوں میرے جسم پر یہ نشان یہ داغ ہمیشہ مجھے بتاتے رہیں گے کے میں اسکی ملکیت میں تھی۔۔ وہ مجھے باور کرواتا رہا نوح ارسلان۔۔ وہ مجھے باور کرواتا رہا کے مجھے اس سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔ دیکھو مجھے۔۔ دیکھو نا۔۔۔ وہ ہزیانی انداز میں بولتی نوح کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔ “تم نے کبھی ڈیڈ باڈی دیکھی ہے۔۔ ازورا لاشاری کو ڈیڈ باڈی بنا دیا اس نے۔۔ میرے شکستہ دل کے باہر کوئی باغیچہ نہیں ۔ بلکہ اندر بہت اندر اندھیر نگری کے بیچ ایک خودرو کیاری ہے ۔۔۔جہاں نہ روشنی نہ پانی۔۔۔صرف بیج بمشکل پھٹ کٹ جاتے ہیں۔۔۔ اور پھر خود ہی اپنا نشان چھوڑ کر دفن بھی ہو جاتے ہیں”_
۔
“بسسس بس کریں۔۔ اس طرح نہیں روئیں “_
نوح نے بڑھ کر اسکو واپس اپنے نرم حصار میں لیتا اسکی آنکھوں میں جھانکے اپنے ہاتھ کی نرم پوریں اسکے بھیگے رخساروں سے میکانکی انداز میں سہلائے سرگوشی میں بولا۔۔
وہ بالکل بے جان سی ہوتی اس میں جائے پناہ تلاش کرتی چھپی تھی۔۔ وہ اسکی بکھری ، ریت ہوئی حالت پر اسکے ہاتھ اپنے ہاتھ میں استحقاق کے سنگ لیا اور بالکل ویسے اسکی ہتھیلی اپنے ہونٹوں سے چومیں۔۔ اس کے آنسو اسکے ہر عمل پر تیز ہو کر بہنے لگتے اور گھوٹی سسکیاں بھی کمرے میں ارتعاش برپا کرنے لگیں۔۔
“تم مجھے اس سے نہیں بچا سکتے۔۔
“مجھے اس سے کوئی نہیں بچا سکتا”_
وہ روتے ہوئے نفی میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
“وہ وہ وہ ویڈیوز ہیں اس کے پسسس “_ نوح کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ اب آئی تھی بلی تھیلے سے باہر۔۔ “ایسا آپ سے شہباز نے کہا ہے “
وہ سہمی سی اثبات میں سے ہلا گئی۔۔
“اور یہ کال اس نے آپ کو اس وقت کی جب ہم لیلیٰ اور جمال کے گھر ڈنر پر گئے تھے”_
وہ ایک بار پھر سے سر ہلا گئی۔۔
نوح نے گہری سانس بھری۔۔ ساری کڑیاں اب مل رہی تھیں۔۔
“اتنا اعتبار بھی نہیں تھا میرا کے آپ مجھے بتا سکتیں ۔۔۔”
اپنے ہاتھ کی نرم پوروں کو اسکے رخساروں سے جوڑتا وہ جس طرح پیار سے دیکھتے افسردہ سے لہجے میں بولا، ازورا نے کرب سے اپنی رکتی سانس کھینچی جو اس شخص کے قریب ہونے سے گھٹ رہی تھی۔۔
“اس اس نے کہا آپ بھی ممجھے چھوڑ”_ اسکی بات نوح نے مکمّل نہیں ہونے دی تھی۔۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی نوح ارسلان کا کلیجہ چیڑ گئی، ” بسسس یہی تھی نوح ارسلان کی اوقات کے اس نے بول دیا اور آپ نے یقین کر لیا”_ اسکا دل تک زخمی ہوا تھا۔
تو تمام تر واویلے، احتجاج اس لئے تھے۔۔ اسے لگ رہا تھا کے نوح اسے چھوڑ دیگا۔۔
“آپ میرا نشہ ہیں ازورا۔۔ میری زندگی ہیں۔۔ آپ کی تو صرف بےرخی نوح ارسلان کو زندہ درگور کر دیتی ہے۔۔
وہ اسکی بے خود بوجھل سرگوشیوں پر دم سادھے بنا کوئی اعتراض کیے سرخ ڈوروں والی جان لیوا آنکھیں لیے پلٹی تو ڈوبی سوجھی آنکھیں بے اختیار نوح کی آنکھوں سے جا ملیں جو اسکی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ ویڈیو وائرل کر ددے دیگا “_
وہ ایک بار پھر سسكی تھی۔۔ نوح نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔
شہباز ضمیر کے تابوت میں یہ آخری کیل تھی۔۔
وہ سختی سے اسے خود میں بھینج گیا تھا۔۔ اس نے اتنی مضبوطی سے اسے گلے لگایا تھا کے اسے اپنی ہڈیاں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں۔۔
“نوح ارسلان نے ہر شہ سے زیادہ آپ کو چاہا ہے ازورا۔۔ آپ میری ہیں۔۔ میری آنکھوں میں دیکھیں خود کو۔۔ مجھے تو دنیا میں بھی آپ چاہیے اور آخرت میں بھی آپ ہی چاہیے۔۔ آپ سے دستبردار ہونا بہت دور کی بات ہے میں نظروں سے آپ کو دور نہیں ہونے دے سکتا۔۔
آپ کی عزت میں ہوں ازورا۔۔ آپ مجھ سے جانی جاتی ہیں۔۔ ازورا نوح ارسلان ہیں آپ۔۔ یقین کریں میرا کسی کا سایہ بھی آپ تک نہیں پہنچ سکتا “_
اسکی سسکیاں اب تھم سی گیں گئیں تھیں۔۔
“ابھی سو جائیں۔۔ شہباز ضمیر کو سزا میری بیوی خود دیگی”__
اسکا سر تکیہ پر رکھتے دھیرے سے بالوں پر لب رکھے اس نے اسکے بالوں میں انگلیاں پھریں۔۔ اسکا دماغ تیزی سے آگے کا پلان طے کر رہا تھا۔۔ شہباز ضمیر کا وقت ختم ہو گیا تھا۔۔ پہلے جو کام وہ قانوناً طور پر کرنے کی سوچ رہا تھا وہ اب اپنے طریقے سے کریگا۔۔ اسکی بیوی کو دوبارہ کال کر کے شہباز ضمیر نے اپنی اذیت ناک موت کی وحشت مک مزید اضافہ کیا تھا۔۔
جاری ہے۔
