60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٢

۔
وہ آہنی دروازہ پار کر کے پارکنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔ بادلوں میں چھپے سورج نے اپنا رخ چھپا لیا تھا۔۔ ٹھنڈی ہوا بدستور چل رہی تھی۔۔ وہ نوح کے ہمراہ چل رہی تھی۔۔ مسکراتی ہوئی اسے آج کے دن کی رواداد سنا رہی تھی۔۔ نوح نے لبوں پر آئی مسکراہٹ روک کر اسے دیکھا۔۔
کتنی پیاری لگتی تھی وہ اس طرح اپنی عمر کی لڑکیوں کی طرح مسکراتی۔۔ خوش ہوتی ہوئی۔۔ اسکی ہنسی کی کھنک ساتھ چلتے شخص کو مسمرائیز کر رہی تھی۔۔
وہ دونوں کانفرنس ختم ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک لیلیٰ اور جمال کے ساتھ باتوں میں مشغول رہے تھے۔۔ اب شام کے اندھیرے چھا رہے تھے تو نوح نے ان سے اجازت لی تھی۔۔
وہ کافی دیر تک جمال سے اپنے بابا کے بارے میں باتیں کرتی رہی تھی۔۔ اتنا بولتے ہوئے تو نوح نے اسے آج تک نہیں دیکھا تھا۔۔ اسکی خوش کی وجہ بھی شاید یہی تھی۔۔
اس نے ایک نگاہ اس پر ڈالی کاسنی رنگ کی سادہ کرتی ہم رنگ کیپری کے ساتھ پہنے۔۔ سرخ اور نارنجی کے امتزاج کا سكارف شانے پر ڈالے۔۔ اسکی دائیں کلائی میں اسکی دی بریسلیٹ جگمگا رہی تھی۔۔ بالوں کا ہمیشہ کی طرح میسی سا جوڑا بنائے وہ اسے بہار کے موسم کا کھلتا ہوا پھول لگی تھی۔۔
ہوا سے کچھ بال رخسار کو چوم کر جاتے نوح ارسلان کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا رہے تھے۔۔
“ازورا”_ اس نے گہری آواز میں اسے پکارا۔۔ وہ جو نان اسٹاپ بول رہی تھی خاموش سی ہوتی اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔ نوح کو یکدم شرمندگی نے آ گھیرا تھا۔۔ “آپ یہ بال۔۔ آئی مین اپنے بال کوور کر لیں”_
وہ اسکے چہرے سے نگاہیں چرا کر کہتا کافی الجھا ہوا لگ رہا تھا۔۔
ازورا نے الجھ کر اسے دیکھا یہ شخص کرنا کیا چاہ رہا تھا اسکے ساتھ اسکے سمجھ سے بالا تر تھا۔۔
“یہ آپ کے چہرے پر آ رہے ہیں”_
وہ گاڑی کا دروازہ کھولتا منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔۔
ازورا نے گہری سانس لی۔۔
“عجیب انسان ہے”_
اسکی پشت کو دیکھتی وہ منہ بسور کر بولی تھی۔۔ لیکن کسی انجانے احساس کے تحت بالوں سے پن نکال کر انہیں ایک بار پھر صحیح سے طرح سے پن اپ کر گئی۔۔
وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔ اسکی جانب نا دیکھ رہا تھا نا اس نے کوئی بات کر رہا تھا۔۔
وہ بھی کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مشغول ہو گئی۔۔ گاڑی میں معنی خیز سی خاموشی کا پہرہ تھا جسے اسکی آواز نے توڑا تھا۔۔۔
۔
وہ اتنی خُوبصورت ہے کہ اُس کے مخملیں تٙن سے
نگاہیں بھی پِھسلتی ہیں!
۔
ازورا نے متحیر نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ جو سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔ اس شخص کے چہرے سے اسکے اندر کا احوال پڑھنا اسکے بس کی بات نہیں تھی۔۔ ازورا کو گمان ہوا کے شاید وہ آواز اسکی نہیں تھی۔۔ اتنا سڑیل شخص اتنی خوبصورت نظم کیسے پڑھ سکتا ہے بھلا۔۔۔
اگلے ہی لمحے اسکی غلط فہمی دور ہوئی تھی۔۔ نوح نے انگلی کے پوروں سے اسکی نرم پلکوں کو چھوا تھا۔۔ جیسے محسوس کرنا چاہ رہا تھا۔۔
۔
“قسم ہے ساحلوں کو چُومتی پاگل ہواوں کی،
وہ جب پلکیں اُٹھاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے
سمندر رقص کرتا ہے ۔۔
اور اُس کے رقص کی لَے پر پرندے گیت گاتے ہیں”_ ۔ وہ بھورے نینوں میں جھانکتا دلبرانہ انداز میں بول رہا تھا۔۔ وہ مسحور سی اسے سن رہی تھی۔۔ اور بس اسے ہی سن رہی تھی۔۔ چہرہ پل بھر سرخ قندهاری ہوا تھا۔۔ پلکیں بےساختہ جھک گئیں تھیں۔۔ ۔ “وہ جب پلکیں جھکاتی ہے تو سورج وقت سے پہلے اُفق میں ڈوب جاتا ہے “_
وہ تو آج اسکی جان ہی لینے کے درپے تھا۔۔ شنگرفی لبوں پر بکھرتی مسکراہٹ دباتا وہ اسکا یہ روپ انجوائے کر رہا تھا۔۔
اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔ اس لمحے دل میں اٹھتے تمام خیالات کو تھپکی دے کر سلا دینا چاہتی تھی۔۔ چاہے جانے کا احساس کتنا خوبصورت ہوتا ہے وہ محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔
۔
“قسم اِن طاق میں جلتے ہوئے پانچوں چراغوں کی!
وہ جب بھی مسکراتی ہے،
دھنک کو آٹھ رنگوں کی طلب محسوس ہوتی ہے ⁦
ہوا کچے گلابوں کی مہک میں بھیگ جاتی ہے …
۔
نوح ارسلان کی نگاہوں نے ان گلابی لبوں کی مسکراہٹ کے صدقے اتارے تھے۔۔ دل نے ہمیشہ اسکے مسکراتے رہنے کی دعا کی تھی۔۔ آنکھیں اسے تکتی نہیں تھک رہی تھیں۔۔ دھنک رنگ چہرے پر سجائے
وہ صرف اسکی تھی۔۔
۔
“میں وقت سے پہلے مرنا نہیں چاہتی”_
وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔۔ جیسے اسکی توجہ خود پر سے ہٹا کر ڈرائیونگ پر کرنے کی کوشش تھی۔۔
“میں بھی جینا چاہتا ہوں”__
اسکی آنکھوں میں دیکھتے اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔ مگر لہجہ۔۔ انداز۔۔ وہ تو کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔۔۔


۔
وہ تھکی ہوئی یونیورسٹی سے آئی تھی۔۔
فریج سے پانی کی بوتل نکال کر ہمیشہ کی طرح اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔۔ جب سے دارم نے وہ ویڈیو دکھائی تھی اس دن کے بعد سے اس نے رومیسہ یا شہباز میں سے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔ یونیورسٹی سے آنے کے بعد وہ خاموشی سے کمرے میں بند ہو جاتی تھی۔۔
تین روز بعد اسکی شادی تھی۔۔ اور وہ زندہ لاش کی مانند تیار تھی۔۔
اسکی دوست۔۔ اسکی ہمراز اسکی ازو اسکی ساتھ نہیں تھی۔۔
گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔۔
اور وہ دشمنِ جاں بھی تو نہیں تھا۔۔ وہ چینج کرنے کے بعد معمول کے مطابق دارم کے کمرے میں آ گئی تھی۔۔
جب سے وہ شفٹ ہوا تھا یہی اسکا معمول تھا۔۔
اسکی خوشبو آج بھی اس کمرے کی ہر چیز سے آتی تھی۔۔ اس نے روز کی طرح وہ کبرڈ کھولا۔۔ سامنے ہی ان چیزوں کا ڈھیر تھا۔۔
جنہیں وہ پچھلے پندرہ دنوں سے دیکھتی آ رہی تھی۔۔
خوبصورت پیکنگ میں پیک وہ سارے مہنگے گفٹس تھے۔۔ لیکن وہ حیران تو اس لئے تھی کے وہ سارے ہی لیڈیز گفٹس تھے۔۔۔
“ایک سرخ شفون کی ساڑھی”_ “دو گجرے جو سوکھ چکے تھے۔۔ لیکن گلاب کے پھولوں کی خوشبو اب بھی آ رہی تھی۔۔۔ ایک جوڑا جھمکا جو نجانے کتنا پرانا تھا کے کالا پڑ گیا تھا۔۔۔ پہلے پہل اسے لگا تھا کے دارم نے وہ چیزیں ازورا کے لئے خریدی ہیں۔۔۔ مگر ازورا کے لئے خریدی چیزیں تو وہ ازورا کے حوالے کر دیتا تھا۔۔ اور پھر اسکے وارڈراپ میں ان چیزوں کا چھپا ہونا۔۔ اسکے دل میں ایک پھانس سی چبھی تھی۔۔ کیا دارم کی زندگی میں کوئی تھا؟” آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ “وہ مجھے مل نہیں سکتا تو اسکی طلب بھی مٹا دیں اللّه۔۔۔ ورنہ ایک روز اسکی طلب میری جان لے لیگی”
ان چیزوں کو دیکھتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔
اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا کے وہ اسکے دید کی پیاسی اسکی دیوانی اسے دیکھے بنا کیسے زندہ ہے۔۔
“کوئی جذبہ نہیں ہے میرے لئے آپ کے دل میں دارم ؟”
دیوار پر لگی اسکی مسکراتی ہوئی تصویر کو دیکھتی وہ گلوگیر لہجے میں بولی تھی۔۔
“کسی اور کے نام ہونے سے پہلے میں مر جاؤنگی دارم”_
مضبوط لہجے میں بولتی وہ اسکی تصویر سے مخاطب تھی۔۔
محض تین دن بعد وہ کسی اور کی ہونے جا رہی تھی، صرف اسے دیکھنے کا حق ہی تو تھا وہ بھی ختم ہونے جا رہا تھا۔۔


۔
“دارم یہ میڈیکل رپورٹ ہے زری کی”_
رمشا نے اسکے سامنے فائل رکھتے کہا تھا۔۔ ساتھ ہی اس پر ایک نظر ڈالی جو آستین کہنی تک فولڈ کیے کوئی کیس اسٹڈی کر رہا تھا۔۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔

“ہاں یہ ‘ ال عنکبوت’ بھیج دو”_
اس نے مصروف انداز میں کہا تھا۔۔ نظریں اٹھا کر اسے دیکھا بھی نہیں۔۔ اسکی یہی بےنیازی تو تھی جو اسے مزید پرکشش بناتی تھی۔۔ دل میں ایک تسلی تھی کے اسکی جانب متوجہ نہیں ہے۔۔ تو کسی اور کی جانب بھی تو نہیں دیکھتا۔۔۔
“کل میں لیلیٰ جمال اکبر سے ملنا چاہ رہا ہوں۔۔ تم سمبھال لو گی نا سب ؟”
اس نے ذرا کی ذرا نگاہیں اٹھائیں تھیں۔۔ مصروف انداز میں اس سے پوچھا گیا تھا۔۔۔
“ہاں سنبھال لونگی سب”_
اس نے بھلا کب انکار کیا تھا اسے جو اب کرتی۔۔
اسکی تائید پر دارم نے چونک کر اسے دیکھا۔۔ اسے رمشا نظر نہیں آئی تھی۔۔ رمشا سے آگے تو اسکا عکس تھا۔۔۔
“امل شہباز کا”_
وہ بھی تو اسکی ہر بات اسی طرح مانتی آئی تھی۔۔۔ اس نے تو انکار کرنا سیکھا ہی نہیں تھا “دارم اسفہان” کو۔۔ وہ اگر دن کو رات بولتا تو وہ مانتی کے ہاں رات ہی ہے۔۔۔
“کہاں سے آجاتی ہیں ہر خیال کے بیچ۔۔ جان چھوڑ کیوں نہیں دیتیں ؟”
وہ بےبسی سے بولا تھا۔۔
رمشا نے اچھنبے سے اسے دیکھا کس کی بات کر رہا تھا وہ۔۔
“دارم کون آ جاتی ہے ؟”
اسکے سوال پر وہ ہوش میں آیا۔۔
“نہیں کچھ نہیں تم جاؤ یہ فائل بھیج دو پلیز”_
وہ ابھی اسے جواب دینے کی کنڈیشن میں نہیں تھا۔۔۔
وہ کرسی کی پشت پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گیا۔۔۔ وہ جتنی کوشش کرتا تھا کے وہ خوابوں خیالوں میں بھی نا آئے۔۔ وہ اتنے ہی دھرلے سے چلی آتی تھی۔۔
آنکھوں کے پردوں کے پیچھے چھم سے اسکا سراپا آ ٹھہرا تھا۔۔
دارم نے وحشت زدہ ہو کر آنکھیں کھولیں۔۔۔
وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔۔


۔
“ایک۔۔ دو۔۔۔ تین “_ “آپ تو ہار گئے دادو”
اختر شیروانی کی آخری گوٹ بھی مارتی وہ خوشی سے اچھل رہی تھی۔۔
“میرا بیٹا جیت گیا ہے”_
وہ اسے خوش دیکھ کر خود بھی بہت خوش تھے۔۔ اسکی صورت انکے گھر کی رونق لوٹ آئی تھی ورنہ اتنے سڑے ہوئے پوتے نے تو انکے گھر کو ہوسٹل بنا دیا تھا۔۔۔
“اب بس کریں آپ دونوں اتنا شور۔۔ اور ازورا اب آپ اٹھ جائیں۔۔ دو گھنٹے ہو گئے یونیورسٹی سے آئے ابھی تک اسی طرح بیٹھی ہیں۔۔ جائیں چینج کریں”_
وہ شاور لے کر نکلا تھا۔۔ لاؤنچ سے شور آواز پر انکی جانب چلا آیا تھا۔۔ پچھلے دو گھنٹوں سے وہ دونوں لڈو کھیل رہے تھے۔۔ اور حیرت تھی دونوں میں سے کوئی تھکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔ اسکے گھر میں کب اس طرح شور شرابا ہوا تھا اب اچانک سے یہ تبدیلی اسکی برداشت سے باہر تھی۔۔۔
ازورا نے منہ بنا کر اسے گھورا۔۔ سڑو انسان خود تو تھا ہی سڑا ہوا دوسروں کی زندہ دلی بھی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔
۔
“دل دل میں مجھے بعد میں کوس لیجیے گا۔۔ ابھی جائیں چینج کریں اور فریش ہو جائیں”_
ہالف سیلویز شرٹ سے اسکے کسرتی بازو واضح نظر آ رہے تھے۔۔ ٹاول سے بالوں کو جھٹکتا وہ اختر شیروانی کی وہیل چیئر لے کر انکے کمرے کا رخ کر چکا تھا۔۔
۔
“رہنے دیتے نا اسے کھیل رہی تھی۔۔ کتنی اچھی لگ رہی تھی کھیلتی ہوئی”_
انہوں نے اپنی خفگی کا اظہار کیا۔۔ نوح نے ابرو سکیڑ کر انکی جانب دیکھا۔۔ اسکے آنے کے بعد وہ تو بھول ہی گئے تھے کے انکا ایک پوتا بھی ہے۔۔۔
“دادو وہ بچی یہیں رہے گی آب کھیل لیجیے گا اس کے ساتھ”_
اس نے جل کر کہا۔۔


۔
وہ فریش ہو کر کمرے میں آئی تو وہ ہاتھوں میں بڑا سا مگ تھامے کھڑکی کے قریب کھڑا تھا۔۔ جھری سے آتی میٹھی چاندنی اسکے چوڑے وجود سے ٹکراتی اندر آنے سے قاصر تھیں۔۔
۔
“اس انسان کی تو زلفیں ہی نہیں سنبھلتیں۔۔ بال نہیں ہو گئے محبوبہ ہو گئی”_ وہ ہوا کے دوش پر اڑتے اسکے بالوں کو دیکھتی بڑبڑائی تھی۔۔ کھڑکی سے سرد ہوا کمرے میں بھی داخل ہو رہی تھی۔۔ ہوا کے ساتھ ہی پھولوں کی بھینی بھینی سی خوشبو کمرے کو معطر کر رہی تھی۔۔ اسکے حواس تو اس شخص کی خوشبو معطل کر رہی تھی۔۔ ہالف سیلویز شرٹ میں ملبوس رف سے حلیے میں بھی وہ اسے کافی اچھا لگ رہا تھا۔۔ ۔ “آپ کیا جیلس ہیں میری زلفوں سے۔۔ آئی مین میری محبوبہ سے ؟”۔۔ وہ اسکی جانب رخ پھیرے بنا ہی بولا تھا۔۔ ساتھ ساتھ بقول ازورا کے اپنی محبوبہ کو سنوارنے کا عمل جاری تھا۔۔ “مجھے کیا ضرورت ہے آپ سے جیلس ہونے کی۔۔ ویسے بھی جتنا خیال آپ رکھتے ہیں ان زلفوں کا اکیسویں صدی کی راپنزل آپ ہی ہونگے”_
وہ انگلیوں سے کھیلتی آنکھیں پٹپٹا کر بولی تھی۔۔
۔
“واٹ ؟؟ سیریسلی لیڈی_ راپنزل ؟؟” نوح تو اسکے خطاب پر اچھل ہی پڑا تھا۔۔ “راپنزل سیریسلی لیڈی ؟؟
وہ ایک ہی جست میں اسکے قریب آیا تھا۔۔۔ بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اپنی سماعت پر شک ہو۔۔
“میرا مطلب ہے اسکا میل ورژن”_
وہ معصومیت سے بولتی بھی نوح کو ذرا معصوم نہیں لگی۔۔ وہ سرخ و سفید رنگت کا مالک۔۔ ساحر آنکھوں والوں حسن و وجاہت کا شاہکار۔۔ نوح ارسلان

“راپنزل کا میل ورژن”_
“واٹ ربش”_ “باگڑ بلّا۔۔۔ جنگلی بھالو اور اب راپنزل۔۔۔ بہت خوب۔۔ اتنی ترقی”_ خود کو ان الفاظ کے ساتھ تصور کر کے ہی اس نے جھرجھری لی تھی۔۔ جبکے وہ اس قدر خوبصورت الفاظ میں اسکے بالوں کی تعریف کرنے کے بعد اب اطمینان سے کھڑکی پر رکھی اسکی کافی پی رہی تھی۔۔ اسکے چہرے پر وہی اطمینان تھا وہ نوح ارسلان کا خاصا تھا۔۔۔ ۔ “آپ نہیں پی رہے تھے۔۔ ٹھنڈی ہو جاتی”
اس نے پرسکون انداز میں جواز پیش کی۔۔
دوسروں کا سکون بہت اطمینان سے غارت کرنے والے نوح ارسلان کا اطمینان اسکی اپنی بیوی نے غرک کیا تھا۔۔ اور کیا خوب کیا تھا۔۔۔
۔
“اكیسویں صدی کی راپنزل”_
کیا خوب اکیس توپوں کی سلامی دی تھی اسکی بیوی نے اسے۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ جو اطمینان سے گھونٹ گھونٹ کافی اندر اتار رہی تھی۔۔
۔