Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۲
۔
پردوں سے چھن چھن کر کے آتی چڑھتے سورج کی روشنی کھڑکی کے درزوں سے پار اس پر پڑھ رہی تھی۔۔ دارم کچھ دیر پہلے
وہ پاگلوں کی طرح کمرے میں کوئی چیز تلاش کر رہی تھی۔۔ بیڈ کی چادر نیچے پھینکی ہوئی تھی۔۔
“مم مجھے چاہیے ۔۔ مم مر جاؤنگی ۔۔ وو وہ نہیں ملا تت تو۔۔ پپ پاگل ہو جاؤنگی”_
۔
وہ پاگلوں کی طرح کمرہ تہس نہس کر رہی تھی۔۔ تمام درازوں میں دیکھ لینے کے بعد بیڈ کی میٹریس کارپیٹ پر الٹ چکی تھی۔۔ سامنے ہی اسے اپنی مطلوبہ شے نظر آئی تھی۔۔
کانپتے ہاتھوں سے تیزی سے وہ پاؤڈر اپنے ہاتھوں میں ڈالتی بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔۔ سانسوں کے ذریعے وہ پاؤڈر اندر اتارتی وہ یکدم ہی پرسکوں سی ہو گئی تھی۔۔
ہاتھوں میں بلیٹ لئے بیدردی سے اپنے بازوؤں میں کٹس لگا رہی تھی۔۔ خون فوار کی صورت ہر کٹ سے نکلتا اسکے چہرے پر پڑھ رہا تھا۔۔
خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔۔ عجب وحشت لئے وہ مسکراہٹ جس میں ہر کٹ لگانے کے بعد اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔۔
ایک عجب سا سکوں ملتا تھا اسے اس تکلیف سے۔۔ یہ جسمانی تکلیف اس کے روح پر لگے زخموں کو کچھ دیر کے لئے مدھم کر دیتی تھی۔۔
۔
“تم آج ہی نہیں ہر رات اس اذیت کو سہو گی۔۔ ہر رات یہ اذیت یہ تکلیف تمہارا مقدر بنے گی۔۔ ازورا لاشاری “_ ایک بار پھر وہ آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔ وہ آواز جس سے اسے سب سے زیادہ نفرت تھی۔۔ کاش کے وہ یہ آواز کبھی نہیں سن پاتی۔۔ کاش۔۔ کاش کے وہ اس شخص کا چہرہ کبھی نہیں دیکھ پاتی۔۔ کاش کے وہ زندہ ہی نہیں ہوتی۔۔ یا کاش کے وہ پیدا ہی نہیں ہوتی۔۔ اس زندگی سے تو بہتر تھا کے وہ پیدا ہی نہیں ہوئی ہوتی _
کتنے ہی کاش تھے جو لاشعور میں ابھر رہے تھے۔۔
اسکا ذہن اب بلکل پرسکوں تھا۔۔
کتنے اچھے دن تھے آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس نے جو چہرہ دیکھا تھا وہ امل کا تھا۔۔
اور پھر اسکا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔۔
۔
“ازو ۔۔ ازو کک کیا کر رہی ہو ؟ ازو میری جان چھوڑو یہ “_ یہ امل کی آواز تھی۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اس تک آئی تھی۔۔ “ازو تم نے پھر سے ؟” اسکی حالت دیکھ کر وہ سمجھ چکی تھی کے دارم کی سختی کے باوجود اس نے پھر سے ڈرگز لی تھی۔۔ وہ بے بسی سے روتی ہوئی اپنی ہم عمر اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔ جو رشتے میں اسکے باپ کی بیوی تھی۔۔ وہ چاہ کر بھی اس معصوم لڑکی کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔ اسے ازورا سے ہمدردی تھی۔۔ وہ اس سے محبت بھی کرتی تھی۔۔ لیکن وہ اپنے باپ سے اس سے کہیں زیادہ محبت کرتی تھی۔۔ ۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے تیزی سے کوئی نمبر ملایا تھا۔۔ اگلی جانب سے پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی تھی۔۔ ۔ “جی امل کہو ؟” دوسری جانب سے عجلت میں کہا گیا تھا۔۔ “دارم ۔۔ ازو۔۔ وہ ازو نے پھر سے “
“کیا ہوا ازو کو ؟ میں بس ابھی آ رہا ہوں۔۔ امل خدارا اسکا خیال رکھو۔۔ میں بس ابھی پہنچ رہا ہوں “_
ازو کا نام سنتے اسکے لہجے۔۔ اسکے انداز میں جو فکر، جو محبت آتی تھی وہ امل سے مخفی نہیں تھی۔۔
۔
اگلے پندرہ منٹ میں وہ گھر پر موجود تھا۔۔امل اسکے ہاتھوں پر پٹی کئے خون روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کمرے کی حالت دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کے کیا ہوا ہوگا۔۔
۔
“میرے کمرے سے میرا فرسٹ ایڈ باکس لے آؤ امل “_
اسے بازوؤں میں اٹھائے صوفہ پر لیٹانے کے بعد وہ امل سے مخاطب ہوا تھا جو اب سسک رہی تھی۔۔
“دد دار “_
وہ نیم بےہوشی میں اسے پکار رہی تھی۔۔ اس کے ہاتھوں کی بینڈج کر کے وہ پرسوچ نگاہوں سے کمرے میں ارد گرد دیکھ رہا تھا۔۔
پردے زمین پر پڑے تھے۔۔ بیڈ کا میٹریس بھی زمین پر الٹا پڑا تھا۔۔
کچھ ہی دوری پر اسے وہ پاؤڈر بھی نظر آ گیا تھا۔۔
“دار کا بچہ ۔۔ میرا بیٹا “_
اسکی پکار پر وہ پل بھر میں اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔
“تت تم پھر سے آ گئے “_
نیم واں آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتی وہ مسکرائی تھی۔۔ دارم تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
یہ لڑکی اپنی تکلیف سے انہیں ضبط کی آخری حدوں تک آزماتی تھی۔۔
دروازے پر کھڑی امل بغور انہیں دیکھ رہی تھی۔۔
گندمی رنگت اور گہری سیاہ آنکھوں کا مالک ، اپنے کام سے کام رکھنے والا دارم اسفہان کب چھپکے سے اسکے دل میں آ بسا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔۔
لیکن اب وہ مغرور شہزادہ پوری شان سے اسکے دل کی سلطنت پر راج کرتا تھا۔۔
وہ کبھی اس سے ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔۔ وہ ان دونوں کا ہی کزن تھا لیکن ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی وہ دونوں اجنبیوں جیسے جوان ہوئے تھے۔۔
مگر ہاں ازورا سے وہ گھنٹوں باتیں کیا کرتا تھا۔۔ اسکے تقریباً کام خود کرتا تھا۔۔ تین سال پہلے ہی
وہ ازورا سے حسد کا شکار نہیں تھی وہ جانتی دارم اسے بہن کہتا ہی نہیں سمجھتا بھی ہے۔۔
مگر وہ ازورا کے ساتھ اسے بھی بہن کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا۔۔ اور یہ بات امل سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔۔
۔
وہ اس وقت رف سے حلیہ میں موجود تھا۔۔ آستین ہمیشہ کی طرح کہنیوں تک فولڈ کی ہوئے ۔۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے حد سے زیادہ سرخ آنکھوں کے کنارے جو اسکی ذہنی حالت کا پتہ دے رہے تھے۔۔ تین سال اسکی پڑھائی مکمّل ہوئی تھی اور اب وہ ایک بڑے ہسپتال میں ڈاکٹر تھا۔۔
مضبوط ہاتھوں میں ازورا کا نازک ہاتھ تھامے وہ نرمی سے سہلا رہا تھا۔۔
“دار “_
اسکی آواز پر جہاں امل ہوش میں آئی وہیں دارم بھی اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔
وہ اب مکمّل طور پر ہوش میں تھی۔۔
دارم اور امل کو اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی کے امل نے دارم کو بلایا ہے۔۔
اسے پوری طرح ہوش حواس میں آتے دیکھ دارم یکدم سنجیدہ ہوا تھا۔۔ دارم کو اپنی جانب خفگی سے تکتے پا کر وہ پھولے گالوں سے اسکی جانب دیکھتی دھیرے سے مسکرائی تھی۔۔ مسکراتے ہوئے گال میں پڑھتا وہ گڑھا بھی ساتھ مسکرا اٹھا تھا۔۔
۔
“امل اسکا کمرہ درست کر کے اسے دوائی کھلا دینا۔۔ انجکشن میں نے دے دیا ہے۔۔ یوں بھی اسے تکلیف نہیں ہوتی۔۔ یہ بس خوشی محسوس کرتی ہے ہمیں تکلیف میں مبتلا کر کے “_
اسکی معصوم صورت سے نظریں پھیرتے وہ سنجیدگی سے بولتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ ازورا کی تو جان پر بن آئی تھی۔۔
اسے خفا نہیں کر سکتی تھی وہ۔۔ دارم اور امل ہی تو تھے اسکی زندگی میں ۔۔ ور کون تھا۔۔ اگر انہیں خفا کر دیتی تو مر جاتی۔۔ مگر چاہ کر بھی انھیں وہ تمام سچائی نہیں بتا سکتی تھی۔۔
۔
“امل اسے کہ دو یہ مجھ سے کوئی بات نا کرے۔۔ دارم نا آج سے اسکا دوست ہے اور نا بھائی “_
امل کے ساتھ اسکا کمرہ درست کرواتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
امل ان دونوں کے بیچ مسکرا ہی سکی تھی۔۔ وہ جانتی تھی نا دارم اپنی ازو سے ناراض رہ سکتا تھا۔۔ اور نا ازو کا گزارا تھا اپنے دار کے بغیر۔۔
۔
“امل سے کیوں۔۔ مجھ سے کہو نا کے مجھ سے بات نہیں کرنی ہے۔۔ ایک بار کہ دو نہیں بات چاہتے۔۔ باخدا آئندہ کبھی تمہارے سامنے نہیں آئگی ازورا لاشاری “_
وہ اب اسکے آگے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔
۔
“ہسپتال سے آیا ہوں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔ میرا دماغ خراب نہیں کرو۔۔ اپنی شکل گم کرو یہاں سے ازورا لاشاری “_
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا تھا۔۔ اسکے منع کرنے کے باوجود وہ ڈرگز لیتی رہی تھی۔۔ سوچ کر ہی اسے افسوس ہو رہا تھا۔۔
۔
“تم بہت تکلیف دیتی ہو ہمیں ازو “_
امل نے بھی افسوس سے اسکی کلائی کو دیکھتے کہا تھا جس پر ابھی دارم نے پٹی کی تھی۔۔
“دار ۔۔ میں اب سے نہیں لونگی۔۔ دار میری بات سنو نا میرے ہاتھ پاؤں کھینچ رہے تھے۔۔ مجھے درد ہو رہا تھا۔۔ میں نہیں لیتی تو مر جاتی دار ۔۔ پلیز اس طرح مجھ سے خفا ہو کر نہیں جاؤ “_ وہ دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھامے شرمندگی سے بولی تھی۔۔ اسکی آواز میں نمی محسوس کرتے ہی دارم کا سارا غصّہ جھاگ کی طرح بیٹھتا چلا گیا۔۔ “وعدہ کرو اب نہیں لوگی ڈرگز۔۔ میں مدد کر رہا ہوں نا تمہاری۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں ازو ہمیشہ۔۔ ہم علاج بھی تو کروا رہے ہیں نا “
اسے ساتھ لگاتے وہ محبت سے بولا۔۔
یہ سچ تھا وہ ہر طرح سے اسکے ساتھ ہوتا تھا۔۔ اسکی مدد کرتا تھا۔۔
وہ رات میں ڈر کر اٹھ جایا کرتی تھی اس وجہ سے دارم نے اسکے کمرے میں بےبی کیمرہ لگایا ہوا تھا۔۔
وہ بار بار لیپ ٹاپ میں چیک کرتا تھا۔۔ رات میں جب بھی وہ جاگتی تھی دارم اسکے پاس آجاتا تھا۔۔
“میں آپ دونوں کے لئے کھانا لا رہی ہوں “_
ان دونوں کو مصروف دیکھ کر امل کو اپنا آپ عجیب خالی خالی سا لگا تھا۔۔
“نہیں میں ازو کو لے کر جا رہا ہوں باہر۔۔ ہم لنچ کر لینگے “_
دارم نے سہولت سے انکار کیا تھا۔۔ یوں بھی وہ ازو کیساتھ کچھ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
“تم بھی چلو امل “_
اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی ازورا نے اسے بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔۔
“نہیں بابا کے مہمان آئینگے نا آج۔۔ میں گھر پر ہی رکتی ہوں۔۔ اور تم بھی جلد ہی آجانا جانتی ہو نا مہمان کے سامنے وہ تمہارے ساتھ ہی جائینگے “_
اپنی بات مکمّل کر کے اس نے انکی جانب دیکھا۔۔ ازورا کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔ جب کے دارم کے بھینچے لب اسکے ضبط کو ظاہر کر رہی تھے۔۔
وہ جانتی تھی دارم اب نفرت کرتا ہے اسکے باپ سے۔۔
وہ اس گھر میں صرف ازورا کی وجہ سے رہتا تھا۔۔
ازورا لاشاری شہباز کی بیوی تھی۔۔ اپنی خالہ کی سوکن۔۔ چھ سال پہلے اس ایک رات میں ایسا کیا ہوا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔۔
“تم جا سکتی ہو یہاں سے “_
ازورا کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لئے چلتا وہ امل کو قہر باز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا تھا۔۔
وہ آنسوں پیتی اسکی پشت دیکھتی رہ گئی۔۔ وہ جانتی تھی دارم کو نفرت ہے اسکے باپ سے بھی اور ازورا اور انکے درمیان رشتے سے بھی۔۔
۔
“میری سمجھ میں نہیں آتا تم یہ زبردستی کا رشتہ کیوں نبھا رہی ہو ۔۔ میں اس رات وہاں موجود ہوتا تو تمہیں اس ان چاہے رشتے میں بندھنے ہی نہیں دیتا ازو۔۔ وہ شخص تمہارے باپ کی عمر کا کہاں سے تمہارے قابل ہے۔۔
اسکا غصّہ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔۔
۔
“میری مجبوری ہے دار۔۔ تم اس سے متعلق نہیں پوچھو گے کچھ تم نے وعدہ کیا ہے “_
وہ اذیت سے کہتی گاڑی کی جانب بڑھی تھی۔۔دماغ ایک بار کتنی سوچوں میں گھر گیا تھا۔۔ رات سے پہلے وہ ان سوچوں سے دور دارم کے ساتھ کچھ وقت گزار لینا چاہتی تھی۔۔
۔
کتنے اچھے دن تھے وہ جب وہ اپنے مما بابا کے ساتھ اپنے گھر پر رہتی تھی۔۔زوہیب لاشاری اور بریرہ لاشاری کی محبت کی نشانی ازورا لاشاری۔۔ جس میں ماں باپ دونوں کی جان بستی تھی۔۔
رومیسہ اسکی خالہ تھیں ۔۔ اسکی ماں اور اسکی خالہ کی شادی ایک ساتھ ہوئی تھی۔۔ اسکی خالہ نے اپنے پسند سے اپنے کلاس فیلو شہباز سے شادی کی تھی۔۔ شادی کے ایک سال بعد ہی ان دونوں کی زندگیوں میں معصوم پریوں کا اضافہ ہوا تھا۔۔
رومیسہ کی گود میں امل آئی تھی اور بریرہ کی گود میں ازورا ۔۔
جب تک اسکی ماں زندہ تھی رومیسہ اکثر انکے گھر آیا کرتی تھیں۔۔ اسکی ماں اور اسکی خالہ کے نیچر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔
مگر اسکی ماں کو اپنی بہن سے بہت محبت تھی۔۔
مگر ایک رات کسی فنکشن سے واپسی پر انجان افراد نے انکی گاڑی پر فائرنگ کی اور اسکے نتیجے میں اسکی ماما اور بابا دونوں موقعے پر ہی دم توڑ گئے تھے۔۔
وہ اس وقت دس سال کی تھی۔۔
اسکے بابا کے کوئی بھائی بہن نہیں تھے۔۔ اسکی مما کی فیملی میں صرف رومیسہ ہی تھیں۔۔
رومیسہ اسے اپنے گھر لے آئی تھیں۔۔ ماں باپ دونوں کے اچانک چلے جانے پر اسکی شخصیت میں یوں بھی ایک تناؤ سا آ گیا تھا۔۔
یہاں آ کر امل کے ساتھ وہ کافی حد تک اٹیچ ہو گئی تھی۔۔
اور دارم بھی تو تھا۔۔
دارم ان دونوں کا ماموں زاد کزن تھا۔۔ بچپن میں ہی اسکے ماں باپ کی طلاق ہو گئی تھی۔۔ دارم دس سال کا تھا تو اسکے بابا اسفہان صاحب کا بھی انتقال ہو گیا۔۔
اس وقت امل اور ازورا دو سال کی تھیں۔۔
بھائی کی اکلوتی اولاد ہر بہن کی طرح انھیں بھی بہت پیاری تھی۔۔
بریرہ کے بہت اصرار کرنے پر بھی رومیسہ دارم کو اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہتی تھی۔۔
بہن کی محبت میں بریرا بھی خاموش ہو گئیں۔۔ یوں دارم رومیسہ کا ہی بیٹا بن گیا تھا۔۔
اور پھر بریرہ کے انتقال کے بعد ازورا بھی انکے ہی پاس آ گئی تھی۔۔
یوں وہ ان تینوں کو ہی ماں بن کر پالنے لگی تھیں۔۔
شروع میں انکا سلوک ازورا کے ساتھ بہت اچھا تھا۔۔ لیکن شہباز سے وہ شروعات سے ہی بہت دور رہتی تھی۔۔ وہ سر پر ہاتھ بھی پھیرتا تو اس پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی۔۔
اسے انکے ساتھ رہتے ہوئے چھ سال ہو گئے تھے۔۔حد سے زیادہ خاموش طبیعت اور سب کیساتھ لئے دئیے انداز میں رہنے والا دارم آٹھ سال بڑا ہونے کے باوجود ازورا کا سب سے اچھا دوست تھا۔۔
امل بھی اس سے بہت محبت کرتی تھی۔۔
زندگی معمول پر آ گئی تھی۔۔
اسے آہستہ آہستہ خوبصورت بھی لگنے لگی تھی۔۔ سب اس سے بہت محبت کرتے تھے۔۔ رومیسہ ۔۔ امل ۔۔ اور دارم جو ہر وقت اسکے ساتھ سایہ کی طرح رہتا تھا۔۔ اسے شہباز کی نظریں اپنی ازو پر بلکل پسند نہیں تھیں۔۔ وہ اسکی چھوٹی سی گڑیا تھی۔۔ اسکی بہن تھی۔۔
شہباز اسکا پھوپھو کا شوہر تھا۔۔ اور ازورا اسکی دوسری پھوپھو کی بیٹی ۔۔ شہباز بظاھر بہت شریف النفس انسان تھا لیکن پھر بھی نجانے کیا وجہ تھی اسے وہ اپنی ازو کے قریب بہت برا لگتا تھا۔۔
یوں ازورا اس سے سب سے زیادہ اٹیچ ہو گئی تھی۔۔
صرف ایک رات وہ اسے گھر پر چھوڑ کر شہر سے باہر گیا تھا اور اس ایک رات نے ازورا سمیت ان سب کی زندگی بدل دی تھی۔۔
ازورا نے اسے اس رات کی بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔۔ وہ نہیں جانتا تھا اسکی ازو کا گنہگار کون ہے۔۔ لیکن وہ جو کوئی بھی دارم اسفہان اسے پاتال سے ڈھونڈ نکالے گا یہ اس نے خود سے عہد کیا تھا۔۔
