60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۴
Second Last Episode 🎉🎉

صبح کی روشنی کمرے کی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی، لیکن اس کی گرمی ازورا لاشاری کے منجمد دل کو پگھلانے سے قاصر تھی۔ وہ بستر پر لیٹی تھی، اس کی آنکھیں بند، لیکن نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ اس کا ذہن اسی کال میں اٹکا ہوا تھا جو شہباز ضمیر نے لیلٰی اور جمال کے گھر ڈنر کے دوران کی تھی۔
اس کا جسم ابھی بھی کانپ رہا تھا، جیسے وہ اس رات کو دوبارہ جینے پر مجبور ہو، جب شہباز نے اس کی روح کو نوچ ڈالا تھا۔ اس کے ہاتھ، جو اب پٹیوں میں لپٹے تھے، وہ زخم جو اس نے خود لگائے تھے، اس امید میں کہ درد اسے اس کے ماضی سے آزاد کر دے گا۔۔
وہ خود بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا۔۔اس کا جسم ایک مجسمے کی مانند ساکت، لیکن اس کی آنکھیں ایک ایسی آگ سے بھری ہوئی تھیں جو شہباز ضمیر کو جلا کر راکھ کر دینے کے لیے کافی تھی۔ وہ جانتا تھا۔ برسوں سے وہ جانتا تھا کہ شہباز ضمیر وہ درندہ تھا جس نے اس کی ماں، روشنی ارسلان، کی زندگی تباہ کی تھی۔ وہ رات، جب شہباز اور رحمان شاہ نے مل کر روشی اور لیلٰی پر ظلم کیا تھا، نوح کے ذہن میں ایک داغ کی مانند کندہ تھی۔ اس کی ماں کی چیخیں، اس کی التجائیں، وہ سب کچھ اس کے دماغ میں اب بھی گونجتا تھا، حالانکہ وہ اس وقت محض ایک بچہ تھا۔ اور پھر، اس کے والد، ارسلان شیروانی، جنہوں نے اپنی بیوی کے اس عذاب کو برداشت نہ کر سکے اور خود کو ختم کر لیا۔ نوح کا ہر سانس اس درد سے بھرا تھا، ہر دھڑکن اس انتقام کی آگ سے جلتی تھی جو شہباز ضمیر کے لیے اس کے دل میں سلگ رہی تھی۔ لیکن اب، جب اس نے ازورا کو اسی درندے کے ہاتھوں ٹوٹتے دیکھا، اس کی بیوی کو، جو اس کی جان تھی، اس کا غصہ ایک ایسی آگ بن چکا تھا جو سب کچھ جلا دینے کے لیے تیار تھی۔
وہ ازورا کی طرف دیکھتا رہا، جو اب نیم غنودگی میں تھی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، اس کی سنہری رنگت ماند پڑ گئی تھی۔ اس کے بال تکیے پر بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے، جیسے اس کی زندگی کے وہ لمحات جو شہباز نے چھین لیے تھے۔ نوح کا دل اسے دیکھ کر ٹوٹ رہا تھا۔ وہ اس کے قریب آیا، اس کے زخمی ہاتھ کو نرمی سے تھاما، اور اس کے ماتھے پر ہلکی سی بوسہ دیا۔۔
“نوح۔ ارسلان کے ہوتے ہوئے وہ آپ کے سائے تک بھی نہیں پہنچ سکتا”_
ازورا کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی، جیسے وہ اس کی آواز کو سن رہی ہو، لیکن وہ جاگنے سے ڈر رہی تھی۔ اس کا جسم اب بھی اس خوف کے زیر اثر تھا جو شہباز کی کال نے اس کے اندر بیدار کیا تھا۔ وہ ویڈیوز… وہ دھمکی… وہ سب کچھ اسے اس رات کی طرف دھکیل رہا تھا جب اس کی عزت کو پامال کیا گیا تھا۔ وہ سسکی، اس کی آواز اتنی کمزور تھی کہ نوح کا دل اسے سن کر پگھل گیا۔۔
“نوح…” اس نے سرگوشی میں کہا، اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔۔
” نوح کی جان”_ نوح نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں نرمی تھی۔۔ “وہ… وہ پھر سے آ گیا…” ازورا کی آواز لرز گئی، اس نے دونوں ہاتھوں سے نوح کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔۔ جیسے وہ اسکی واحد پناہ گاہ ہو۔۔ “اس نے کہا… وہ ویڈیوز… وہ سب کو دکھا دے گا… وہ مجھے کبھی آزاد نہیں ہونے دے گا نوح”
نوح کے جبڑے سختی سے بھینجے۔۔ اس کا خون کھول رہا تھا، لیکن وہ خود کو کنٹرول کر رہا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس وقت ازورا کو اس کے غصے کی نہیں، اس کے پیار کی ضرورت تھی۔ “وہ کچھ نہیں کر سکتا، ازورا۔ وہ ایک بزدل ہے، ایک کیڑا جو رحمان شاہ کے سائے میں چھپتا ہے۔ لیکن اب اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔”
ازورا نے اس کی طرف دیکھا۔۔
وہ نیم غنودگی میں ہی تھی۔۔ اسکے بازوں میں پھر سے نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی تھی۔۔
اس نے شدّت سے اسکے بالوں پر لب رکھے۔۔ اسکے پٹیوں میں جکڑے ہاتھوں کو چوما۔۔۔ اسکے اندر ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکلا، اپنے فون پر کچھ نمبروں پر کال ملاتے ہوئے۔ اس کا دماغ تیزی سے پلان بنا رہا تھا۔ شہباز ضمیر کوئی عام دشمن نہ تھا۔ وہ ایک ایسی طاقت کا حصہ تھا جو رحمان شاہ کے زیر سایہ چلتی تھی، ایک ایسی طاقت جو معاشرے کے ہر طبقے میں اپنی جڑیں پھیلا چکی تھی۔۔


دروازے پر ناک ہونے پر وہ نرمی سے اسے خود سے دور کرتے اٹھا۔۔ سامنے دارم کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔۔
“ازو کال نہیں رسیو کر رہی تھی دو دن سے۔۔ میں آیا تو دادو نے بتایا اسکی حالت کے بارے میں۔۔ کیا ہوا ہے اسے ؟”
دارم اس سے پوچھتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔۔ اس کا چہرہ تھکن سے بوجھل تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں وہی محبت تھی جو وہ ہمیشہ سے ازورا کے لیے رکھتا تھا۔۔
“ازو”_ “ازو میرا بیٹا”
اسے یوں بےسدھ بیڈ پر لیٹے دیکھ وہ بے اختیار اسکی جانب بڑھا تھا۔۔ وہ اسے اپنی اولاد کی طرح عزیز تھی۔۔ اس کی یہ حالت اس کے لیے ناقابل برداشت تھی۔۔
“نوح۔۔ کیا ہوا ہے اسے۔۔ مجھے بتایا کیوں نہیں کسی نے۔۔ رخصت کیا تھا تمہارے ساتھ۔۔ اپنے ساتھ تعلق توڑا نہیں تھا”_
وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر پاگل ہونے والا ہو رہا تھا۔۔
“شہباز نے اسے پھر سے کال کی تھی۔۔ یہ حالت اس نے خود”_ وہ شکست خوردہ انداز میں بولا تھا۔۔ دارم نے اسکی جانب دیکھا وہ واقعی بہت ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔۔ “نوح”_
اس نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔ پہلی بار ایک دوست کی حیثیت سے۔۔ یا شاید ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے۔۔
“میں کسی کو اس سے بچا نہیں سکا دارم۔۔ ماما۔۔ ازورا۔۔ کسی کو نہیں”_
دارم نے الجھ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی ماما کا شہباز سے کیا تعلق۔۔ نوح کا شکست خوردہ انداز۔۔ اسکا بکھرا لہجہ۔۔ نوح ارسلان جیسا شخص اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹ سکتا تھا۔۔
۔
دارم نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی۔ وہ شہباز ضمیر کی عیاشی سے واقف تھا، لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اس نے ازورا کے ساتھ کیا کیا تھا۔۔
“ازو ککے ساتھ اس اس رات وہ سبب”_
اس کی ادھوری بات چھوڑی۔۔ جیسے وہ یقین نا کرنا چاہ رہا ہو۔۔ اسکی بہن کا مجرم اسکے سامنے رہا اتنے سال۔۔ وہ اسکی موجودگی میں اسکی ازو کو ہراساں کرتا رہا ور دارم اصفہان بے خبر رہا۔۔
وہ دونوں مضبوط تھے۔۔ اپنا اپنا درد چھپا رہے تھے۔۔ یا شاید سامنے بےخبر پڑا وجود ان دونوں کو ہی مضبوط کئے ہوئے تھا۔
۔
“کچھ دیر ازورا کے پاس بیٹھ جاؤ گے۔۔ میں تھوڑی دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں”
۔
دارم خاموشی سے چلتا اسکے قریب آ بیٹھا اس کا ہاتھ نرمی سے تھامے ہوئے۔ اس کی آنکھیں، جو ہمیشہ سے ازورا کے لیے محبت سے بھری رہتی تھیں، اب درد اور بے بسی سے بھیگ رہی تھیں۔ وہ اسے جان سے زیادہ پیاری تھی ، اور اس کی یہ حالت اس کے دل کو خنجر کی طرح چیر رہی تھی۔۔
“ازو…” اس نے مخصوص نرم آواز میں اسے پکارا۔۔
اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی وہ خواب کی گہرائیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔
پاسس بیٹھے دارم کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں بے ساختہ آنسوں بھری تھے۔۔
“دار”_
اس نے بری طرح روتے ہوے اسے پکارا تھا۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا اسکا دار یہاں تھا۔۔ اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔۔
“تم… تم یہاں ہو”_
۔
“ہمیشہ سے ہوں، میرا بیٹا۔۔ دار کب اپنی ازو کو اکیلے چھوڑتا ہے”_
دارم نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما، اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے اپنے کرب کو چھپا رہی تھی۔۔
۔
میں نے تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، ازو۔ اور نہ کبھی چھوڑوں گا…”
ازورا کی آنکھوں سے دو آنسو بہہ نکلے، جو اس کے رخساروں پر لکیر بناتے ہوئے تکیے میں جذب ہو گئے۔۔
“وہ… وہ پھر سے آ گیا، دار… اس نے کہا… وہ ویڈیوز… وہ سب کو دکھا دے گا…”
اس کی آواز لرز رہی تھی، اس کا جسم کانپ رہا تھا، جیسے وہ اس رات کو دوبارہ جینے پر مجبور ہو جب شہباز نے اس کی روح کو نوچ ڈالا تھا۔
دارم کا دل اس کی سسکیوں سے چھلنی ہو گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں میچ لیں، اپنے غصے کو دبانے کی کوشش کی۔
۔
“وہ کچھ نہیں کر سکتا، ازو۔ وہ ایک بزدل ہے، ایک کیڑا جو رحمان شاہ کے سائے میں چھپتا ہے۔ لیکن اب اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔”
ازورا نے اس کی طرف دیکھا، اس کی شہدی آنکھوں میں ایک ایسی بے یقینی تھی جو دارم کے دل کو چھید رہی تھی۔۔
“تم… تم اسے روک سکتے ہو؟” اس کی آواز میں ایک ایسی کمزوری تھی جو اسے خود سے بھی چھوٹا بنا رہی تھی۔
“روک سکتے ہیں۔۔
دارم نے ایک گہری سانس لی، اس کی آواز میں ایک عزم تھا جو اس کے اندر کی آگ کو ظاہر کر رہا تھا۔ “ہم اسے ختم کر دیں گے، ازو۔ وہ تمہارا دشمن نہیں، وہ ہم سب کا دشمن ہے۔ وہ اس آٹھ سالہ بچی کا دشمن ہے، جس کا کیس آج آخری سماعت پر ہے۔”
ازورا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“آج… آخری سماعت؟” اس کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی تھی
۔
“ہاں، میری جان۔ العنکبوت نے اس کیس کو اس قدر مضبوط کر دیا ہے کہ رحمان شاہ کا بیٹا، حمزہ، اب نہیں بچ سکتا۔ لیلٰی اور جمال نے رات دن اس کے لیے لڑائی لڑی ہے۔ اور ہم جیتنے والے ہیں”
دارم کی آواز میں ایک ایسی طاقت تھی جو ازورا کے اندر کی کمزوری کو جھنجھوڑ رہی تھی۔
“لیکن… اگر وہ جیت گئے تو؟” ازورا کی آواز لرز گئی، اس کے ہاتھ دارم کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ رہے تھے۔۔
“اگر شہباز نے… اگر اس نے…
”“ششش…” دارم نے اس کی بات کاٹ دی، اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے نرمی سے بولا


عدالت کا کمرہ ایک ایسی جنگ کا میدان تھا جہاں ہر سانس تناؤ سے بھری ہوئی تھی۔ باہر، العنکبوت کے کارکنوں نے احتجاج کا ایک سمندر بپا کر رکھا تھا، ان کے نعرے ہوا کو چیر رہے تھے
“انصاف دو! ظالم کو سزا دو!” ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے، جن پر آٹھ سالہ زینی کی معصوم تصویر چھپی تھی—وہ بچی جس کی زندگی رحمان شاہ کے بیٹے، حمزہ رحمان، نے تباہ کر دی تھی۔۔
سورج آسمان پر چمک رہا تھا، لیکن اس کی روشنی اس درد کو چھو نہ سکی جو اس بچی کے خاندان کے چہروں پر عیاں تھا۔۔
عدالت کے اندر، لیلٰی اپنی وہیل چیئر پر بیٹھی تھی، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی آگ تھی جو برسوں کے درد سے جنمی تھی۔ اس کا چہرہ پتھر کی مانند تھا، لیکن اس کی آنکھیں اس کے اندر کی لڑائی کو عیاں کر رہی تھیں۔ جمال اس کے پیچھے کھڑا تھا، اس کا ہاتھ اس کے کندھے پر، جیسے وہ اسے اپنی خاموش طاقت دے رہا ہو۔ ال انکبوت کا وکیل، ایک جوان عورت جس کی آواز میں ایک عجیب سی شدت تھی، اپنی آخری دلیلوں کو پیش کر رہی تھی۔
“حمزہ رحمان نے نہ صرف اس معصوم بچی کی زندگی تباہ کی، بلکہ اس کے خاندان کے خوابوں کو بھی چھین لیا۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت ہیں—میڈیکل رپورٹس، گواہوں کی شہادتیں، اور وہ ویڈیو فوٹیج جو اس رات کے ظلم کو ریکارڈ کرتی ہے۔ عدالت سے ہم انصاف مانگتے ہیں، نہ صرف زینی کے لیے، بلکہ ہر اس بچی کے لیے جو اس ملک میں محفوظ نہیں!”
دوسری طرف، حمزہ رحمان اپنی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ اس کے وکیل نے آخری کوشش کی، لیکن ان کی دلیلیں کھوکھلی تھیں۔ ال انکبوت نے ہر ممکنہ ثبوت جمع کر لیا تھا—ہر زاویہ، ہر گواہ، ہر دستاویز۔ جج، ایک بزرگ خاتون جن کی آنکھوں میں ایک گہری خاموشی تھی، نے اپنا فیصلہ سنایا۔ “اس عدالت نے تمام ثبوتوں اور گواہوں کی شہادتوں کا جائزہ لیا۔ حمزہ رحمان کو آٹھ سالہ زینی کے ساتھ زیادتی کا مجرم پایا جاتا ہے۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے، بغیر کسی پیرول کے امکان کے۔”
کمرے میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا، اور پھر اچانک تالیاں گونج اٹھیں۔ لیلٰی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے۔ جمال نے اسے مضبوطی سے گلے لگایا، اس کی آواز لرز رہی تھی۔
“ہم جیت گئے، لیلٰی… ہم جیت گئے…”
باہر العنکبوت کے کارکنوں نے فیصلے کی خبر سنتے ہی خوشی سے نعرے لگائے۔ زینی کی ماں، جو عدالت کے باہر کھڑی تھی، روتے ہوئے لیلٰی کے پاس آئی اور اس کے ہاتھ چومنے لگی۔
“آپ نے میری بیٹی کو انصاف دلوایا… آپ نے…”
اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی۔ لیلٰی نے اس کے ہاتھ تھامے، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔
“یہ صرف زینی کا انصاف نہیں، یہ ہر اس لڑکی کا انصاف ہے جو شہباز ضمیر اور رحمان شاہ جیسے درندوں کا شکار ہوئی…”
لیکن یہ جیت صرف ایک شروعات تھی۔ رحمان شاہ کا بیٹا تو سزا پا گیا، لیکن اصل دشمن، شہباز ضمیر، اب بھی آزاد تھا۔ لیلٰی جانتی تھی کہ اس کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔


۔اندھیرا اس قدر گہرا تھا کہ شہباز ضمیر کو لگا جیسے وہ کسی زندہ قبر میں جاگ اٹھا ہو۔ اس کی آنکھیں کھلیں، لیکن روشنی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اس کا جسم سردی سے کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ پاؤں مضبوط رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، اور اس کا منہ ایک گندے کپڑے سے بندھا ہوا تھا جو اس کے حلق میں خون اور پسینے کی بو بھر رہا تھا۔ اس کے جسم میں ایک عجیب سی کمزوری تھی، جیسے اس کا خون اس کی رگ و پے سے نکل چکا ہو۔ اس نے چیخنے کی کوشش کی، لیکن اس کی آواز اس کے حلق میں ہی دم توڑ گئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں موتیوں کی مانند بہہ رہی تھیں۔۔ اسکا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔۔ وہ یہاں کس طرح پہنچا۔۔ وہ تو ایک کال رسیو کرنے باہر نکلا تھا۔۔ اور یہ جگہ۔۔ اسے لگ رہا تھا وہ اس جگہ سے واقف ہے۔۔
اچانک، ایک دھاتی آواز گونجی، جیسے کوئی بھاری دروازہ کھلا ہو۔ روشنی کی ایک پتلی سی لکیر اندھیرے کو چیرتی ہوئی اس کے چہرے پر پڑی، اور اس نے دو سائے دیکھے جو اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کا جسم خوف سے ساکت ہو گیا، اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کا انجام ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ انجام موت سے بھی بدتر ہوگا۔۔ نوح ارسلان کو دیکھتے ہی اسے ساری کہانی سمجھ آ گئی تھی۔۔
“شہباز ضمیر…” نوح ارسلان کی آواز اندھیرے میں گونجی، ایک ایسی سردی کے ساتھ جو موت سے بھی زیادہ خوفناک تھی۔ “تم نے سوچا تھا کہ تم ہمیشہ بچتے رہو گے؟ تم نے سوچا تھا کہ تمہاری عیاشی، تمہاری درندگی کو کوئی نہیں روکے گا؟”
شہباز کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ اس نے اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں سے چھٹپٹانے کی کوشش کی، لیکن رسیوں نے اس کے جسم کو جکڑ رکھا تھا۔ نوح اس کے قریب آیا، اس کا چہرہ روشنی کی لکیر میں عیاں ہوا—ایک چہرہ جو غصے، نفرت، اور ایک ایسی جنونیت سے بھرا ہوا تھا جو شہباز کے دل کو چھید رہی تھی۔ اس کے پیچھے دارم کھڑا تھا، اس کی آنکھوں میں وہی آگ تھی جو نوح کی آنکھوں میں جل رہی تھی، لیکن اس میں ایک عجیب سی خاموشی بھی تھی، جیسے وہ اپنے غصے کو ایک سرد انتقام میں بدل چکا ہو۔
“روشی یاد ہے ؟ روشانے ارسلان…” نوح کی آواز لرز رہی تھی۔۔ لیکن یہ نام۔۔ اس نام نے شہباز کے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ روشانے ارسلان۔۔ تو کیا نوح ارسلان روشانے کا۔۔ روشی کا بیٹا تھا وہ۔۔۔
“ممم میں میں پریگننٹ ہوں۔۔ پپل پلیز مجھے جانے دو”_
برسو پرانی آواز اسکے کانوں میں گونجی تھی۔۔
اس نے سامنے کھڑے نوح کی جانب دیکھا۔۔ سرخ رنگت۔۔ ویسے ہی لب ۔۔ وہی آنکھیں۔۔ وہ وہ روشی کا بیٹا تھا۔۔
” یاد ہے روشانے ارسلان کی چیخیں سنیں، اس کی التجائیں سنیں، اور پھر تم نے اسے مار ڈالا۔ تم نے میرے باپ کو خودکشی پر مجبور کیا۔ اور اب… میری بیوی… میری ازورا…” اس نے اپنا جملہ مکمل نہیں کیا، اس کی آواز غصے سے بھاری ہو گئی۔ اس نے شہباز کے چہرے پر ایک زور دار مکا مارا، اور اس کی چیخ کپڑے کے نیچے دب کر رہ گئی۔ خون اس کے ہونٹوں سے بہنے لگا، اس کے چہرے پر ایک سرخ لکیر بناتا ہوا۔

دارم نے آگے بڑھ کر شہباز کے بال پکڑے اور اس کا سر اوپر اٹھایا۔ “تم نے سوچا تھا کہ تمہاری عیاشی کو کوئی نہیں روکے گا؟” اس کی آواز میں ایک ایسی نفرت تھی جو برسوں سے دبی ہوئی تھی۔ “تم نے ازورا کو چھوا… میری بہن کو… تم نے اس کی زندگی تباہ کی…” اس نے شہباز کے چہرے پر ایک اور مکا مارا، اور اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔

شہباز کی آنکھوں میں خوف تھا، لیکن اس کے ساتھ ایک عجیب سی ہٹ دھرمی بھی۔ اس نے کپڑے کے نیچے سے کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن نوح نے اسے ایک اور مکا مار کر چپ کرا دیا۔ “ماں تھی وہ ممری ماں تھی…” نوح نے ایک چھوٹا سا چاقو نکالا، جس کی دھار روشنی میں چمک رہی تھی۔ اس نے چاقو شہباز کے بازو پر پھیرا، لیکن اتنی ہلکی سی کہ صرف ایک پتلی سی لکیر بن گئی، خون کی ایک باریک دھار بہنے لگی۔۔۔
“میری ماں تھی وہ”__
وہ جنونی انداز میں کہتا پے در پے چاقو سے وار کرتا اسے لہو لہان کر گیا تھا۔۔ شہباز کی چیخ کمرے میں گونج اٹھی، لیکن اس اندھیرے میں اس کی آواز کوئی نہیں سن سکتا تھا۔۔

“تمہاری موت آسان نہیں ہوگی، شہباز…” نوح نے وحشت زدہ سرگوشی میں کہا، اس کی آواز میں ایک ایسی ٹھنڈک تھی جو شہباز کے خون کو منجمد کر رہی تھی۔ “تم ہر روز مرو گے… ہر سانس کے ساتھ تمہارا وجود اس اذیت کو جھیلے گا جو تم نے میری ماں کو دی، جو تم نے میری بیوی کو دی…”
شہباز کا جسم کانپ رہا تھا، اس کا چہرہ خون اور پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ اس کی آنکھیں التجا کر رہی تھیں، لیکن نوح اور دارم کے چہروں پر کوئی رحم نہ تھا۔ نوح نے اس کے قریب جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ “تم کبھی آزاد نہیں ہو گے، شہباز۔ تم اس اندھیرے میں رہو گے، جہاں کوئی تمہاری چیخیں نہیں سنے گا۔ تمہاری ہر سانس ایک سزا ہوگی۔ تمہارا وجود ایک زندہ لاش بن جائے گا…”
دارم نے ایک سرنج نکالی، جس میں ایک شفاف سی مائع بھری ہوئی تھی۔ “یہ تمہیں زندہ رکھے گی، لیکن تمہاری ہر سانس ایک عذاب ہوگی…” اس نے سرنج شہباز کے بازو میں گھونپ دی، اور اس کی چیخ ایک بار پھر کمرے میں گونج اٹھی۔ مائع اس کی رگ و پے میں پھیل گیا، اس کے جسم میں ایک ایسی آگ بھڑکائی جو اسے اندر سے جلا رہی تھی، لیکن اسے مار نہ سکی۔
“یہ تمہارا انجام ہے، شہباز ضمیر…” نوح نے کہا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی سکون تھا۔ “تم اب کسی کو نہیں چھو سکو گے۔ تم اس اندھیرے میں رہو گے، جہاں تمہاری چیخیں تمہارا ہی مقدر بنیں گی…”
دارم نے ایک آخری بار شہباز کے چہرے پر مکا مارا، اور اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا۔ وہ ہوش میں تھا، لیکن اس کا جسم اب اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ نوح اور دارم نے اسے وہیں چھوڑ دیا، اس اندھیرے میں، جہاں کوئی اسے نہیں مل سکتا تھا۔ شہباز ضمیر اب ایک زندہ لاش تھا، ہر سانس کے ساتھ اپنی ہی اذیت کو جیتا ہوا۔



نوح کا گھر ایک ایسی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا جو دل کو چھیدتی تھی۔ دیواروں پر لگی پرانی تصاویر، جن میں روشنی ارسلان اور ارسلان شیروانی آٹھ سالہ نوح کے ساتھ مسکراتے دکھائی دیتے تھے، اب صرف ایک درد ناک یاد کی مانند تھیں۔ کمرے کی ہوا میں ایک عجیب سی بوجھل پن تھا، جیسے ہر سانس ایک بارِ خاطر ہو۔ لکڑی کا صوفہ، جو کبھی خاندانی ہنسی مذاق سے گونجتا تھا، اب خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھا تھا۔ نوح، ازورا، اور اختر شیروانی اس کمرے میں موجود تھے، ہر ایک اپنے درد کے سمندر میں ڈوبا ہوا، لیکن ایک دوسرے کے وجود سے ایک عجیب سی طاقت پا رہا تھا۔
ازورا صوفے کے ایک کونے میں سمٹی ہوئی تھی، اس کے ہاتھ اب بھی ہلکی پٹیوں میں لپٹے تھے۔ اس کی شہدی آنکھیں زمین پر جمی تھیں، جیسے وہ اپنے اندر کے طوفان سے بھاگ رہی ہو۔ اس کا چہرہ زرد تھا، اس کی سانس ہلکی، جیسے ہر سانس اس کے وجود سے ایک ٹکڑا چھین رہی ہو۔ نوح اس کے قریب بیٹھا تھا، اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں، اس کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ اس کی ہر سانس کو گن رہا ہو۔ اس کی آنکھیں، جو روشنی کی طرح عنابی تھیں، درد اور غصے سے بھری ہوئی تھیں، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سکون بھی تھا—وہ سکون جو شہباز ضمیر کو سزا دینے کے بعد آیا تھا۔ اختر شیروانی اپنی وہیل چیئر پر بیٹھے تھے، ان کی نظریں روشنی کی تصویر پر جمی تھیں، جیسے وہ اسے واپس بلا رہے ہوں۔
“ازورا…” اختر شیروانی کی آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔ اس کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی جو برسوں کے دکھ کو سمیٹے ہوئے تھی۔
“تم نے جو سہا… وہ وہی درد ہے جو میری روشنی نے سہا تھا… شہباز ضمیر نے اسے چھین لیا… اس کے ساتھ میرا بیٹا، ارسلان…”
ان کی آواز ٹوٹ گئی، اور ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
ازورا نے دھیرے سے نظریں اٹھائیں، اس کی آنکھوں میں خوف اور حیرت کا ایک عجیب سا امتزاج تھا۔ “دادو… آپ… آپ کیسے جانتے ہیں؟” اس کی آواز لرز رہی تھی، جیسے ہر لفظ اس کے حلق سے خون نکال رہا ہو۔
نوح کی آنکھیں میچ گئیں، اس کا ہاتھ ازورا کے ہاتھ پر مضبوطی سے بندھ گیا۔ اس کا دل اس درد سے چھلنی ہو رہا تھا جو اس کی ماں کے ذکر پر اٹھتا تھا۔
“دادو…” اس کی آواز میں ایک ایسی لرزش تھی جو اس کے اندر کے طوفان کو عیاں کر رہی تھی۔
۔
“روشنی… وہ اس گھر کا نور تھی…”
دادو نے دوبارہ کہا، ان کی آواز میں ایک ایسی حسرت تھی جو برسوں سے دبی ہوئی تھی۔
“شہباز ضمیر نے اسے نہیں، ہم سب کو ختم کر دیا تھا۔۔۔
“میں تمہیں اور نوح کو پر سکوں زندگی گزارتے دیکھنا چاہتا ہوں ازور”_
ان کی نظریں ازورا پر ٹھہریں، اور ایک لمحے کے لیے کمرے میں ایک عجیب سی سکون چھا گیا۔



ماضی__

ریستوران کا ہال روشنی ارسلان کی ہنسی سے گونج رہا تھا، جیسے کوئی چاندی کی گھنٹی بج رہی ہو۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھی تھی، اس کا چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا۔ اس کا سرخ دوپٹہ اس کے کندھوں پر لہرا رہا تھا، اور اس کی عنابی آنکھیں، جو نوح کی طرح تھیں، خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔ ارسلان شیروانی اس کے سامنے بیٹھا تھا، اس کی نظریں اپنی بیوی پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کی ہر مسکراہٹ کو اپنے دل میں سمیٹ رہا ہو۔ آٹھ سالہ نوح اپنی ماں کے پاس بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک آئس کریم تھی، اور اس کا چہرہ معصومیت سے بھرا ہوا تھا۔
لیکن اس خوشی کے بیچ ایک سایہ تھا—شہباز ضمیر۔ وہ ریستوران کے ایک کونے میں بیٹھا تھا، اس کی آنکھیں روشنی پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کی نظروں میں ایک ایسی وحشت تھی جو اس کی گندی فطرت کو عیاں کر رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ اپنے ذہن میں کوئی گھناؤنا منصوبہ بنا رہا ہو۔ اس کے ساتھ رحمان شاہ بیٹھا تھا، اس کی آواز دھیمی تھی، لیکن اس کی ہر بات زہر سے بھری ہوئی تھی۔ “شہباز… یہ عورت… روشنی ارسلان… اگر ہم اسے توڑ دیں، تو اختر شیروانی کی سلطنت ہمارے ہاتھ میں ہوگی…”
شہباز نے اپنی شراب کا گلاس اٹھایا، اس کی آنکھیں روشنی پر جمی رہیں۔ “رحمان… یہ عورت میری ہوگی۔ وہ مضبوط لگتی ہے، لیکن ہر عورت ٹوٹ جاتی ہے… بس ہمیں صحیح وقت کا انتظار کرنا ہے…” اس کی آواز میں ایک ایسی ٹھنڈک تھی جو موت سے بھی زیادہ خوفناک تھی۔
نوح نے اچانک شہباز کی طرف دیکھا، اس کی معصوم آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ “ماں… وہ آدمی ہمیں کیوں دیکھ رہا ہے؟” اس نے سرگوشی میں پوچھا، اس کا ہاتھ روشنی کے دوپٹے کو مضبوطی سے پکڑ رہا تھا۔روشنی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ “کچھ نہیں، میرا بیٹا… بس اپنی آئس کریم کھاؤ…” لیکن اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے شہباز سے جا ٹکرائیں، اور اس کے دل میں ایک سردی سی دوڑ گئی۔
ارسلان نے روشنی کی بے چینی بھانپ لی۔ “روشی… کیا ہوا؟” اس کی آواز میں ایک عجیب سی فکر تھی۔“کچھ نہیں، ارسلان…” روشنی نے مسکراتے ہوئے کہا، لیکن اس کی آواز اس کے خوف کو چھپا نہ سکی۔ “بس… یہ جگہ… یہ کچھ عجیب سی لگ رہی ہے…”
۔
چند ہفتوں بعد، شہباز ضمیر نے اپنی سازش کا جال بننا شروع کر دیا۔ وہ ایک ویران گودام میں رحمان شاہ کے ساتھ بیٹھا تھا، جہاں ہوا میں گرد اور دھول کے ذرات رقص کر رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی، جس میں روشنی اور لیلٰی کی تصاویر تھیں، ان کی روزمرہ زندگی کی تفصیلات تھیں۔ “رحمان… یہ عورتیں اختر شیروانی کی طاقت ہیں۔ اگر ہم انہیں توڑ دیں، تو وہ خود بخود گر جائے گا…” اس کی آواز میں ایک ایسی وحشت تھی جو اس کی گندی فطرت کو عیاں کر رہی تھی۔
رحمان نے ایک گہری سانس لی، اس کی آنکھوں میں لالچ کی چمک تھی۔ “شہباز… لیکن ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔ ارسلان شیروانی کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ اور لیلٰی… وہ ایک جنگجو ہے۔”
شہباز نے ایک زہریلی ہنسی ہنسی۔ “جنگجو؟ وہ ایک عورت ہے، رحمان۔ اور عورتیں… وہ ہمیشہ ٹوٹ جاتی ہیں۔ بس ہمیں ان کے لیے صحیح جال بچھانا ہے…” اس نے فائل کھولی، جس میں روشنی کی ایک تصویر تھی—وہ ایک خیراتی تقریب میں مسکراتی ہوئی۔ “یہ عورت… یہ میری ہوگی۔ اور اس کے ساتھ اس کا خاندان بھی تباہ ہو جائے گا…”
رحمان نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ “شہباز… اگر ہم پکڑے گئے تو؟”“پکڑے جانے کا سوال ہی نہیں ہے…” شہباز نے کہا، اس کی ہنسی کمرے میں گونج اٹھی۔ “ہم انہیں بدنام کریں گے، ان کی عزت کو پامال کریں گے۔ اور جب وہ ٹوٹ جائیں گی، تو کوئی ان کی بات پر یقین نہیں کرے گا…”
۔
ایک شام، شہباز ضمیر ایک خیراتی تقریب میں موجود تھا، جہاں لیلٰی اور جمال بھی موجود تھے۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھا تھا، اس کی نظریں لیلٰی پر جمی ہوئی تھیں، جو ایک سادہ سی ساڑھی میں اپنی تنظیم، ال انکبوت، کے لیے فنڈز اکٹھا کر رہی تھی۔ جمال اس کے قریب کھڑا تھا، اس کی نظریں ہر اس شخص پر تھیں جو لیلٰی کے قریب آتا تھا۔
شہباز نے آگے بڑھ کر لیلٰی سے بات کی، اس کی آواز میں ایک ایسی چکناہٹ تھی جو اس کی گندی فطرت کو چھپا رہی تھی۔ “لیلٰی صاحبہ… آپ کی تنظیم بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ لیکن… کیا آپ کو کبھی ڈر نہیں لگتا؟ اس دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو آپ جیسوں کو پسند نہیں کرتے…” اس کی آواز میں ایک ایسی دھمکی تھی جو لیلٰی کے دل میں ایک سردی سی بھر رہی تھی۔
لیلٰی نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی شدت تھی جو اس کے خوف کو چھپا رہی تھی۔ “شہباز صاحب… ڈر وہ لوگ لگاتے ہیں جو خود ڈرتے ہیں۔ اور میں… میں ڈرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔”
شہباز نے ایک شیطانی مسکراہٹ دی۔ “بہت اچھا، لیلٰی صاحبہ… لیکن یہ دنیا… یہ بہت خطرناک ہے۔ آپ جیسوں کے لیے خاص طور پر…” اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی، لیکن اس کی نظریں لیلٰی کے چہرے پر جمی رہیں، جیسے وہ اسے اپنی گرفت میں لینا چاہتا ہو۔
جمال نے آگے بڑھ کر لیلٰی کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اس کی آواز میں ایک ایسی شدت تھی جو شہباز کو جھنجھوڑ رہی تھی۔ “شہباز صاحب… اپنی باتوں کو سنبھال کر کہیں۔ لیلٰی اکیلی نہیں ہے۔”
شہباز نے ایک زہریلی ہنسی ہنسی۔ “جمال صاحب… میں تو بس خیر خواہی کر رہا تھا…” لیکن اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو اس کی شیطانی نیت کو عیاں کر رہی تھی۔ اس رات جو ہوا وہ ان سب کی زندگی ختم کر گیا۔۔
لیلیٰ اور روشی اس تقریب سے واپس آ رہی تھیں جب حادثے کی شکل دے کر شہباز ضمیر اور رحمان شاہ نے اپنا مقصد پورا کر لیا تھا۔۔


شہباز ضمیر ایک ٹی وی چینل پر بیٹھا تھا، اس کا چہرہ ایک جھوٹی ہمدردی سے بھرا ہوا تھا۔ “یہ الزامات… یہ سب جھوٹ ہیں…” اس کی آواز میں ایک ایسی مصنوعی نرمی تھی جو اس کی گندی فطرت کو چھپا رہی تھی۔ “روشنی ارسلان اور لیلٰی… وہ خود اس رات وہاں تھیں… وہ اپنی مرضی سے… یہ سب ان کی غلطی ہے…”
اس کی باتوں نے میڈیا میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ لوگوں نے روشنی اور لیلٰی پر الزامات لگانا شروع کر دیے، ان کی عزت کو پامال کیا۔ شہباز کی ہنسی اس وقت اور بلند ہوئی جب اس نے دیکھا کہ اس کی سازش کامیاب ہو رہی ہے۔ “دیکھا، رحمان… یہ عورتیں اب کبھی سر نہیں اٹھا سکیں گی…” اس نے رحمان شاہ سے کہا، اس کی آواز میں ایک ایسی فتح تھی جو اس کی گندی فطرت کو عیاں کر رہی تھی۔
لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اس کی یہ حرکت نوح کے دل میں ایک ایسی آگ بھڑکائے گی جو اسے تباہ کر دے گی۔


ہسپتال کا کمرہ ایک ایسی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا جو موت سے بھی بدتر تھی۔ روشنی بستر پر لیٹی تھی، اس کا چہرہ زرد، اس کی آنکھیں خالی۔ اس کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے، لیکن اس کے دل کے زخم اس کے جسم سے کہیں زیادہ گہرے تھے۔ ارسلان اس کے قریب بیٹھا تھا، اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں، اس کی آنکھیں سرخ اور بھیگی ہوئی تھیں۔ آٹھ سالہ نوح ایک کونے میں کھڑا تھا، اس کی معصوم آنکھیں اپنے والدین کے درد کو دیکھ رہی تھیں، لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا ہوا۔
“روشی… کون تھا وہ روشی ؟” ارسلان کی آواز ٹوٹ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے وجود کو چھید رہی تھی۔روشنی نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “ارسلان… وہ… وہ شہباز …” اس کی آواز ایک سرگوشی سے زیادہ نہ تھی، لیکن اس میں ایک ایسی اذیت تھی جو کمرے کو بھاری کر رہی تھی۔
نوح نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا۔ “مما… آپ ٹھیک ہو نا؟” اس کی معصوم آواز نے روشنی کے دل کو چھید دیا۔ اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک ایسی محبت تھی جو اس کے درد کو چھپا رہی تھی۔ “ہاں، میرا بیٹا… میں ٹھیک ہوں…” لیکن اس کی آواز اس کے جھوٹ کو عیاں کر رہی تھی۔
ارسلان نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا، اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ “میں… میں تمہیں بچا نہ سکا، روشی… میں…” اس کی آواز دم توڑ گئی، اور نوح نے اپنے والد کی طرف دیکھا، اس کی معصوم آنکھیں اس درد کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں جو اس کے والدین کو کھا رہا تھا۔
۔۔
روشی کی موت اس گھر کے لیے ایک ایسی رات تھی جو کبھی ختم نہ ہوئی۔ وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹی تھی، اس کا جسم اب صرف ایک خول تھا۔ اس کی آنکھیں، جو کبھی نوح کی دنیا تھیں، اب خالی تھیں۔ اس کا ہاتھ نوح کے ہاتھ میں تھا، لیکن اس کی گرفت کمزور پڑ رہی تھی۔ ارسلان اس کے قریب بیٹھا تھا، اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں، اس کا چہرہ ایک ایسی اذیت سے بھرا ہوا تھا جو اسے اندر سے کھا رہا تھا۔
“روشی… مت جاؤ…” ارسلان کی آواز ایک التجا تھی، اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ “ہمارے بیٹے کے لیے… نوح کے لیے… رہ جاؤ…”
روشنی نے ایک کمزور سی مسکراہٹ دی، اس کی آواز ایک سرگوشی سے زیادہ نہ تھی۔ “ارسلان… میرا بیٹا… اسے سنبھالنا… اسے بتانا… کہ اس کی ماں اس سے بہت پیار کرتی تھی…” اس کی آنکھوں سے ایک آخری آنسو بہہ نکلا، اور پھر اس کی سانس تھم گئی۔
نوح نے اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا، اس کی چیخ کمرے میں گونج اٹھی۔ “ماں! ماں! مت جاؤ!” اس کی معصوم آواز نے ارسلان کے دل کو چھید دیا، لیکن وہ اپنے بیٹے کو کچھ نہ کہہ سکا۔ وہ صرف روشنی کے بے جان جسم کو دیکھتا رہا، جیسے اس کی اپنی زندگی اس کے ساتھ ختم ہو گئی ہو۔


روشی کی موت کے چند ہفتوں بعد، ارسلان شیروانی کا دل ایک ایسی تاریکی میں ڈوب گیا تھا جو اسے نگل رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک چاقو تھا، اس کی نظریں روشنی کی تصویر پر جمی ہوئی تھیں۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی تھی جو موت سے بھی بدتر تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اس کے چہرے پر ایک ایسی اذیت تھی جو اس کے وجود کو چھید رہی تھی۔
“روشی…” اس کی آواز ایک سرگوشی تھی، اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں। “میں تمہیں بچا نہ سکا… میں… میں اپنے بیٹے کو کیا منہ دکھاؤں گا…” اسنے چاقو اپنی کلائی پر رکھا، اس کی آواز میں ایک ایسی بے بسی تھی جو اس کے دل کے زخموں کو عیاں کر رہی تھی۔ “میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتا…”
اس نے ایک گہری سانس لی، اور پھر چاقو اس کی کلائی پر پھیر دیا۔ خون فرش پر بہنے لگا، اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہوئیں۔ اس کے آخری لمحوں میں، اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سکون تھا، جیسے وہ اپنی روشنی کے پاس جا رہا ہو۔
نوح، جو اپنے کمرے میں سوتا تھا، اچانک جاگ اٹھا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ اپنے والد کے کمرے کی طرف بھاگا، اور جب اس نے دروازہ کھولا، تو اس کی چیخ فضاؤں میں گونج اٹھی۔ “بابا!” اس کا معصوم دل اس درد کو سمجھ نہ سکا، لیکن اس کی آنکھوں نے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔۔ اسکے باپ کی خون میں لپٹی لاش۔۔