Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١١
۔
دامن خالی، ہاتھ بھی خالی، دستِ طلب میں گردِ طلب،
عمرِ گریزاں! عمرِ گریزاں! مجھ سے لپٹ اور مجھ پر رو !!
۔
وہ بلند اور شاندار عمارت نہایت غرور کے ساتھ شہر کے حدود میں کھڑی ہوئی تھی۔۔ اسکے سامنے کھڑی اسکی سیکرٹری فرحین اسے آج کے دن کا پورا سکیجول بتا رہی تھی۔۔ مگر اسکے سوچوں کے دھارے تو کہیں اور ہی الجھے ہوئے تھے۔۔ اپنے اندر ہوتی ہلچل میں اسے اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کے بیچاری فرحین اسے پورا سکیجول بتا کر اب اسکے بولنے کی منتظر کھڑی تھی۔۔
“تو آپ متوجہ کیوں ہو رہے ہیں ؟”
اسکی غصّے بھری آواز یاد آتے ہی اسکا پرسکوں انداز بھی یاد آیا تھا۔۔
اسکی تفاخر بھری آواز۔۔ اسکا مغرور انداز۔۔
کتنی بےنیازی سے وہ اس سے پوچھ رہی تھی کے وہ اسکی اٹینشن سیکر حرکتوں پر متوجہ ہی کیوں ہو رہا۔۔
کہ تو ٹھیک رہی تھی۔۔ نوح ارسلان متوجہ تو ہو رہا تھا اسکی جانب۔۔
اور پوری شدّت سے ہو رہا تھا۔۔
“جادوگرنی !”
وہ زیر لب بڑبڑآیا تھا۔۔ فرحین نے حیرانی سے اپنے سڑو باس کو دیکھا۔۔ یہ شخص مسکراتا بھی تھا۔۔
اور اتنا پیارا مسکراتا تھا۔۔
اپنی سوچ پر خود ہی چار حرف بھیجتے اس نے پورا زور لگا کر اسے مخاطب کیا۔۔
“جادوگرنی ؟؟”
مگر اسکے اگلے لفظ پر اسکا سارا فسوں ہوا ہو گیا تھا۔۔
“نہیں سر میں تو آج کا شیڈیول بتا رہی تھی آپ کو۔۔ میں نے کوئی جادو نہیں کیا سر “_
وہ جلدی سے بولی تھی۔۔۔ اسے نوح کی ذہنی حالت پر شک ہو رہا تھا۔۔
اسکی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔
ازورا لاشاری اسکے حواسوں پر سوار ہو گئی تھی۔۔
“نہیں۔۔ کچھ کہا کیا میں نے ؟”
اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا وہ لہجے کو سخت بنائے بولا تو وہ گڑبڑا کر نفی میں گردن ہلاتی اسے پھر سے پورا شیڈیول بتانے لگی۔۔
“فرحین ! شہباز ضمیر کی کمپنی کو شپمنٹ جا رہی ہے ہماری اس ویک ؟”
ہاتھ میں موجود پین گھماتے اس نے پرسوچ نگاہوں سے دیوار پر لگی پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔
“جی سر ! پہلی شپمنٹ انکی جانب سے ہماری کمپنی نے دی ہے۔۔ اور سیکنڈ آرڈر بس ایک دو دنوں میں ہم ڈیلیور کر رہے ہیں “_
وہ اسکے آگے فائل رکھتی ہوئی بولی۔۔
“انہیں کینسل کر دیں فرحین “_
سگار سلگاتا وہ اطمینان سے بولا۔۔ فرحین نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔ بلیک شرٹ بلیک پینٹ میں ملبوس شرٹ کی آستین کہنیوں تک فولڈ کیے بالوں کی پیچھے پونی بنائے پرسکون انداز میں چیئر پر بیٹھا یہ شخص اپنے اطمینان سے ہی دوسروں کا اطمینان غارت کرتا تھا۔۔
۔
“سر انھیں بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔۔ اور ساتھ ہمیں بھی کیونکہ اب انکے سکسٹی پرسنٹ شئیر ہمارے پاس ہیں “_
وہ جیسے اسے یاد دلا رہی تھی۔۔
“ہماری کمپنی یہ نقصان برداشت کر سکتی ہے فرحین “_
وہ مسکراتا ہوا اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“لیکن انکی کمپنی نہیں برداشت کر سکتی “_
وہ سمجھنے کے سے انداز میں بولی تھی۔۔
“ایگیکٹلی !”
وہ مسکراتا ہوا دوسرا ہاتھ بالوں پر پھیرتا ہوا بولا۔۔ چشمے کے پیچھے سے ڈارک براؤن آنکھیں بھی مسکرائیں تھیں۔۔ وہ مسکراتا تھا تو اسکی آنکھوں کا رنگ سنہری مائل ہو جاتا تھا۔۔ اسے دروازہ بند کرنے کی ہدایت کرتا نکل گیا۔۔
“جب کمپنی کا دیوالیہ ہی کرنا تھا تو خریدی کیوں۔۔ کتنا ان پریڈکٹیبل شخص ہے یہ۔۔ کیا کرتا ہے کیوں کرتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔ مجھے تو لگتا ہے سر تھوڑے سے کھسکے ہوئے ہیں”_
پیچھے وہ نا سمجھی سے سامان رکھتی بڑبڑآئی تھی۔۔
“وقت آ گیا ہے کے تم نوح ارسلان کی امانت اسکے حوالے کر دو شہباز ضمیر “_
گاڑی میں بیٹھتے وہ زیر لب بولا تھا۔۔ اسکا رخ ازورا کی یونیورسٹی کی جانب تھا۔۔
۔
آج صبح دارم کو جلدی ہسپتال جانا تھا تو اسکے ساتھ اسے بھی وقت سے پہلے ہی یونی آنا پڑا۔۔ دارم اسے ڈراپ کر کے جا چکا تھا۔۔
وہ کندھے پر اپنا وہ کالا لیدر کا بیگ لٹکائے سیدھی پروفیسر جمال اکبر کے روم کے باہر کھڑی تھی۔۔
صبح صبح کا وقت تھا یہی وجہ تھی اکا دکّا سٹوڈنٹ ادھر ادھر ٹہلتے نظر آ رہے تھے۔۔
“کم ان “_
اندر سے اجازت ملنے پر وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو کمپوز کرتی اندر داخل ہوئی۔۔
وہ ٹیبل پر سر جھکائے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔۔
کافی دیر تک کوئی آواز نہیں آئی تو انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔
وہ ببل چباتی انکے سمت ہی دیکھ رہی تھی۔۔ اسے دیکھ کر انہوں نے استقبالیہ مسکراہٹ اسکی جانب اچھالی۔۔
پرپل پوری آستینوں والی ٹاپ اور بلیک جینس میں ملبوس بالوں کا ہمیشہ کی جوڑا بنائے جسکی کچھ لٹیں اسکے گلابی چہرے پر جھول رہی تھیں۔۔ سرخ گالوں والی وہ کوئی گڑیا معلوم ہوتی تھی۔۔
“بیٹھیں ازورا “_
انہوں نے سامنے موجود کرسی کی جانب اشارہ کیا وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔۔
“کوئی کام تھا بچے آپ کو مجھ سے ؟”
کتاب بند کر کے رکھتے انہوں نے شفقت سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“میں چاہتی ہوں آپ مجھے ان لاء کے بارے میں مزید بتائیں۔۔ مطلب سب کچھ بتا دیں۔۔ میں نے خود بھی ری سرچ کی ہے پر میں چاہتی ہوں آپ مجھے تمام قوانین بتائیں اس سے متعلق “_
انکی ٹیبل پر موجود تصویر کو بغور دیکھتے اس نے اپنی بات مکمّل کی۔۔
“کس سے متعلق بچے “_
وہ انجان بنے۔۔ وہ اس سے کیوں پوچھنا چاہتے تھے۔۔ لیکن انہوں نے پوچھا کچھ اور تھا۔۔
“جنسی تشدد اور_ اسکی آواز روندھ گئی تھی۔۔ حلق سے آنسوں اتارتے وہ چند ثانیے ٹھہر کر بولی۔۔ “ریپ ۔۔ سے متعلق “
اس نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔
“آپ کے کورس کے ساتھ تمام قوانین پڑھائے جائینگے بیٹے آپ کو”_
انہوں نے نرمی سے کہا۔۔
“پروفیسر۔۔ مجھے دوسرے کسی قوانین کے بارے میں نہیں جاننا آپ پلیز بس مجھے اس سے متعلق بتا دیں “_
وہ جھنجھلائی تھی۔۔
“پرسکوں ہو جائیں ازورا۔۔ کلاس میں جائیں۔۔ ہم بات کرینگے اس سے متعلق بچے “_
انہوں نے نرمی سے کہا تھا۔۔
“Please professor I wanna know, I’ve to know all about this”_
اسکی آواز میں نمی گھلنے لگی تھی۔۔
“ازورا ہم ضرور ڈسکس کریں گے بچے۔۔ بی کالم “_
انہوں نے نرمی سے اسے سمجھایا۔۔ وہ کچھ پرسکوں ہوئی تھی۔۔ جتنا وہ جانتی تھی وہ کافی نہیں تھا۔۔ اسے مزید معلوم کرنا تھا۔۔
وہ جڑ تک جانا چاہتی تھی۔۔
جمال اکبر حیران تھے کیوں کے وہ کبھی بھی ایسی سٹوڈنٹ نہیں رہی تھی جسے کسی ٹاپک کو اتنا ڈیپ پڑھنے کا شوق ہو۔۔ وہ تو پڑھائی سے جان چھڑوانے والوں میں سے تھی۔۔
“تھنکس آ لوٹ “_
وہ تشکر آمیز لہجے میں بولی۔۔
“یہ آپ کی وائف ہیں “_
انکی ٹیبل پر رکھی اس تصویر کو دیکھتی وہ اشتیاق سے بولی۔۔
وہ عورت جو بھی تو بہت خوبصورت تھی۔۔
“جی یہ میری وائف ہیں۔۔ لیلیٰ جمال اکبر “_
وہ مسکرائے تھے۔۔ لیلیٰ کے ذکر پر وہ اسی طرح مسکرا دیا کرتے تھے۔۔
محبت بھی کیا چیز ہے۔۔ محبوب کے ذکر پر چہرے پر آنے والے رنگ بھی اسکا پتا دے دیتے ہیں۔۔ انکی محبت بھی بنا کچھ کہے شور مچا دیتی تھی۔۔
ازورا پہلی نہیں تھی۔۔ انکے کمرے میں آنے والے بہت سے سٹوڈنٹ ان سے اس تصویر کے متعلق پوچھتے تھے۔۔
“اللّه آپ کی محبت سلامت رکھے پروفیسر “_
وہ نہیں جانتی تھی وہ یہ الفاظ کیوں کہ رہی تھی۔۔ لیکن پروفیسر جمال کی نظریں اس تصویر پر دیکھنے والا کوئی بھی شخص انھیں یہ دعا دیے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔۔
یہ اسکی لیلیٰ جمال اکبر سے ہوئی پہلی ملاقات تھی۔۔ ایک تصویر کے ذریعہ۔۔ لیلیٰ جمال سے پہلا تعارف !!
یہ تعارف اسے کہاں اور کتنی ہمّت دینے والا تھا یہ تو وقت کے پنوں کے پلٹنے پر ہی پتا چلتا۔۔
وہ بیگ اٹھائے کمرے سے نکل گئی۔۔ وہ خوش تھی کیونکہ وہ جانتی تھی پروفیسر جمال اکبر اسکی مدد کریں گے۔۔
وہ پہلے جاننا چاہتی تھی۔۔ پرکھنا چاہتی تھی۔۔ قانون کو۔۔
اس ملک کے قانون کو۔۔
پروفیسر بھی اسکے ساتھ ہی کلاس سے نکلے تھے۔۔
“آپ کی وائف بہت خوبصورت ہیں پروفیسر “_
وہ ان سے کچھ دوری پر چلتی مسکراتی ہوئی بولی۔۔
“جی وہ خوبصورت ہیں “_
وہ خود بھی مسکرائے۔۔ وہ آہستہ آہستہ انکے ساتھ فرینڈلی ہوتی جا رہی تھی۔۔
شاید انکی شفقت تھی۔۔
“ہم کلاس کے بعد کا کوئی وقت رکھ لیتے ہیں جب آپ فری ہوں۔۔ جو جو آپ جاننا چاہتی ہیں ہم ڈسکس کر لینگے “_
وہ دونوں سیدھ میں چل رہے تھے۔۔
وہ انکی بات پر خوش ہوتی اثبات میں گردن ہلا گئی۔۔ وہ اسے وقت بتا کر اپنی کلاس کی جانب چل دیے۔۔
جبکے وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب چل دی۔۔ اسکی نظریں سامنے سے آتے نوح پر پڑی تھیں۔۔ وہ اسکے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہی مخالف سمت سے چلا آ رہا تھا۔۔
نوح اسے بہت پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔۔
پروفیسر سے مسکراتی ہوئی بات کرتی وہ اسے دور سے ہی نظر آ چکی تھی۔۔
وہ سامنے سے آتا عین اسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔۔
ازورا نے اسے دیکھ کر برا سا منہ بنایا۔۔ ازورا کے کچھ کہنے سے پہلے اس کی کلائی تھامتا وہ اسے تقریباً کھینچتا ہوا پارکنگ کی جانب آیا تھا۔۔
“پروفیسر تھے یہ غالباً ۔۔ کلاس سے پہلے آپ انکے ساتھ کیا کر رہی تھیں “_
اسکی جانب طنزیہ نظروں سے دیکھتا وہ جواب دہی کرتا ازورا کا دماغ گھما گیا تھا۔۔ وہ تو اسکی بات پر سلگ ہی گئی تھی۔۔
“میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں۔۔ اور آپ کے پاس اپنا کوئی کام شام نہیں ہے۔۔ روز او میری یونی آ جاتے ہیں “_
وہ یہ بات نہیں بھولی تھی اس انسان نے اس کی کمپنی کے سکسٹی پرسنٹ شیئر ہتھیائے تھے بقول اسکے۔۔
اس نے تو شہباز کے کہنے پر صرف سائن کیے تھے۔۔ یوں بھی اسے ان معاملات سے ذرّہ برابر دلچسپی نہیں تھی۔۔
لیکن وہ نوح ارسلان کی اپنی ذات میں دلچسپی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
“بہت جلد آپ مجھے۔۔ صرف مجھے ہی جواب دہ ہونگی”_
وہ نجانے کیا جتانا چاہ رہا تھا لیکن ازورا کو اسکے ارادے ٹھیک نہیں لگے۔۔
وہ اپنی بات مکمّل کر کے جانے لگا تھا وہ تیزی سے اسکے پیچھے آئی تھی۔۔
“کیا۔۔ کیا مطلب ہے اس بکواس کا”_
اسکے بازو پر پورا زور لگا کر اپنے جانب اسکا رخ کرتی وہ غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔۔
“زیادہ دیر نہیں۔۔ بس آج شام ہی آپ جان جائينگی “_
وہ جیب میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے بولا۔۔ ازورا تلملا کر رہ گئی۔۔
وہ شہباز ضمیر کی کمپنی کے سکسٹی پرسنٹ شئیر کا مالک تھا۔۔ شہباز ضمیر جیسا مطلبی اور لالچی شخص تھا وہ اس سے کسی ڈیل کے لئے کیا کچھ کروا سکتا تھا ازورا کو اندازہ تھا۔۔
“تمہاری مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ہے نوح ارسلان “_
اس نے لمحوں میں آپ سے تم تک کا سفر کیا تھا۔۔
نوح اسکے انداز سے محظوظ ہوا تھا۔۔
“بلکل ۔۔۔ دشمنی نہیں ہے یہی وجہ ہے آپ کو بچانا چاہ رہا ہوں میں “_
وہ اب سنجیدہ تھا۔۔
“میں نہیں سمجھی “_
وہ اب روہانسی ہو رہی تھی۔۔
“اچھی لگتی ہیں آپ مجھے۔۔ نکاح کرنا چاہتا ہوں آپ سے “_
سنجیدگی سے بولتا وہ اسکے دماغ کے چولے ہلا گیا تھا۔۔
“دماغ جگہ پر ہے تمہارا۔۔ میں شہباز ضمیر کی بیوی ہوں۔۔ جانتے ہو نا اسے۔۔ بیوی ہوں میں اسکی۔۔ نکاح میں ہوں اسکے۔۔ تم ایک شادی شدہ عورت کو نکاح کا پیغام دے رہے ہو۔۔ آر یو ان یور سینسز ؟”
وہ غصے سے پاگل ہونے والی ہو رہی تھی۔۔ جبکے وہ اطمینان سے پاس رکھے بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔
اس پاس اکا دکّا سٹوڈنٹس تھے جو آتے جاتا ان پر بھی نظر ڈال رہے تھے۔۔
اس شخص کا دماغ خراب تھا کیا۔۔ یقیناً وہ ہوش میں نہیں تھا۔۔
اور شہباز وہ کیا حال کرے گا اسکا اگر اسے اسکے ارادوں کا علم ہو گیا تو۔۔
“میری زندگی کو مزید جہنم نہیں بناؤ۔۔ خدا کے لئے۔۔
وہ اب رونے والی ہو گئی تھی۔۔ شہباز ضمیر کے متعلق سوچ کر ہی وہ خوف سے زرد پڑھ رہی تھی۔۔
“آپ خوش نہیں ہیں شہباز ضمیر کے ساتھ۔۔ وجہ جو بھی ہو آپ کے اس سے نکاح کی۔۔ میں کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کرونگا نا محبت کے وعدے، دعوے کرنے والا شخص ہوں میں۔۔ لیکن یہ سچ ہے آپ اچھی لگتی ہیں مجھے۔۔ اور نکاح کرنا چاہتا ہوں میں آپ سے۔۔ وہ شخص آپ کے قابل نہیں ہے ازورا “_
وہ اسے کیا بتاتی کے اس شخص کی اتنی حقیقت سے تو وہ بھی واقف نہیں ہوگا جتنا وہ اسے جانتی تھی۔۔
لیکن وہ اس قید سے آزاد نہیں ہو سکتی تھی۔۔
وہ اب موبائل نکالے کسی کو کال ملا رہا تھا۔۔
اسکے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ اسکے ساتھ کھڑا ہوا ایک ہاتھ اگے کی جانب کر کے سکرین ان دونوں کی جانب کر چکا تھا۔۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھ پاتی وہ کسی کی ویڈیو کال تھی۔۔ شہباز ضمیر کا چہرہ سکرین پر شو ہوتے دیکھ اس نے بےیقینی سے نوح کی جانب دیکھا۔۔ جسکے چہرے پر کوئی الجھن۔۔ کوئی پریشانی نہیں تھی۔۔
“نوح ارسلان۔۔ تم ازورا کے ساتھ۔۔ ازورا تم اسکے ساتھ کیا کر رہی ہو ؟”
شہباز کی آواز پر اسے لگا اسکی موت قریب ہے۔۔
“اپنے میلز چیک کرو شہباز ضمیر”_
وہ اطمینان سے بولنے کے ساتھ ازورا کا ہاتھ بھی تھام چکا تھا۔۔ ازورا کے وجود بلکل ساکت تھا۔۔
آج اسے اپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی۔۔
اسکی بات پر شہباز نے الجھ کر سامنے پڑے لیپ ٹاپ میں میلز چیک کی۔۔
“تم پاگل انسان تم نے وہ شپمنٹ رکوا دی “_
وہ غصّے سے پاگل ہونے والا ہو رہا تھا۔۔
نوح کا قہقہا گونجا۔۔
“تم آج ازورا کو طلاق دو گے “_
وہ پرسکوں سا بولا تھا۔۔
۔
“تم ہوش میں تو ہو نوح۔۔ بیوی ہے وہ میری۔۔ میں کیوں طلاق دونگا اسکو “_
شہباز کا بس نہیں چل رہا تھا موبائل سے نکل کر اسے آگ لگا دے۔۔
“کیوں کے تمہارے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے شہباز ضمیر۔۔ اگر دو دن میں شپمنٹ نہیں گئی تو تمہاری کمپنی کا دیوالیہ ہو جائے گا۔۔ تم سڑک پر آ جاؤ گے۔۔ تو بہتر نہیں ہے کے تم میری بات مان لو “_
وہ دونوں ہی اس طرح بات کر رہے تھے جیسے کوئی بزنس ڈیل ہو۔۔ ازورا کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔
کیا یہ حیثیت تھی اسکی۔۔ وہ جانتی تھی لاکھوں کی مالیت کے شئیرز کے آگے شہباز ضمیر کے سامنے اسکی کوئی حیثیت نہیں تھی۔۔
مگر نوح وہ یہ کیا کر رہا تھا۔۔
وہ اسے پسند کرتا ہے تو کیا اس طرح اسے حاصل کرے گا۔۔
۔
“میں وہی کہ رہا ہوں جو تم سن رہے ہو۔۔ اس ڈیل کے بدلے مجھے ازورا لاشاری اپنے نکاح میں چاہئے۔۔ تم آج اسے طلاق دو گے”_ وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا اطمینان سے انکے پیروں تلے زمین کھینچ رہا تھا۔۔ ابھی وہ نوح کی بات پر صدمہ سے نہیں نکلے تھے جب ماحول میں پھیلے سکوت کو تھپڑ کی گونج نے توڑا تھا۔۔ “نوح ارسلان اتنے گرے ہوئے ہو تم ؟ میری۔۔ میری قیمت لگا رہے ہو یہاں تم ؟ بکاؤ مال سمجھ رکھا ہے مجھے”
نوح اس تھپڑ کے لئے تیار نہیں تھا۔۔ اسکی آواز اتنی تیز ضرور تھی کے اس پاس سے گزرتے لوگوں نے رک کر دیکھا تھا۔۔ نوح ارسلان کو کون نہیں جانتا تھا۔۔ لوگ اب مجمعے کی شکل میں جمع ہونا شروع ہو رہے تھے۔۔ سٹوڈنٹس۔۔ پارکنگ میں کھڑے لوگ۔۔ انکی نظریں۔۔ لوگوں کی سرگوشیاں۔۔
وہ پتھریلے تاثرات لئے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو چند سیکنڈ پہلے اسکے گال پر تھپڑ رسید کر چکی تھی۔۔ اسے ازورا سے کم از کم تھپڑ کی امید تو نہیں تھی۔۔ اس نے نوح ارسلان کو نہیں اسکی مردانگی کو تھپڑ مارا تھا۔۔ شہباز ضمیر کی تمسخر بھری نظریں اسکے اندر حشر برپا کر رہی تھیں۔۔۔
اپنی حرکت کی سنگینی کا احساس اسے بھی جلد ہی ہو گیا تھا۔۔نگاہیں اسکی ضبط سے سرخ ہوتے چہرے سے ٹکرائیں تو دل یکدم اچھل کر حلق میں آ گیا۔۔ یہ کیا کر دیا تھا اس نے۔۔
“کل سے اپنی عدت کے دن پورے کرنا شروع کر دیں۔۔ جس دن آپکی عدت پوری ہوگی۔۔ اسی روز آپ نوح ارسلان کے نام ہو جائينگی۔۔۔
اس تھپڑ کو بھولونگا نہیں ازورا لاشاری۔۔ بھولیں گی تو آپ بھی نہیں”_
اسے اچھی طرح باور کروا کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔
اسکے جانے کے بعد مجمعہ بھی چھٹنے لگا۔۔ وہ شل کھڑی اپنے سن ہوتے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس حرکت کا خمیازہ کیا ہو سکتا تھا اسے اندازہ تھا۔۔
اسے کچھ احساس نہیں تھا کے وہ یونی میں کھڑی ہے۔۔ یہ سارا تماشا یونی کی پارکنگ میں ہوا ہے۔۔
اسے اب بس اپنے انجام کی فکر تھی۔۔
شہباز کیا کرتا اسکے ساتھ۔۔ اور نوح وہ اب کیا کرے گا۔۔
وہ سڑک پر بیٹھتی چلی گئی۔۔
