60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٦
۔

وہ روتی ہوئی کمرے میں آئی تھی۔۔ آج تک یہ بھرم تو قائم تھا کے وہ جانتا ہی نہیں اسکے جذبات سے متعلق مگر آج یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا تھا۔۔
وہ واقف تھا اسکے جذبات سے۔۔ اسکی حالت سے۔۔
نا صرف واقف تھا بلکے محظوظ بھی ہوتا تھا۔۔
“یعنی امل شہباز آج یہ طہ ہو گیا کے تم ساری زندگی اس شخص کی استہزائیہ نظروں کو سہو گی۔۔ اقرار نا کر کے بھی واقف ہو گئے ہیں ۔ اور جان کر بھی اقرار کا حق نہیں دیا”_
آنکھوں سے آنسوں نکلتے حجاب میں جزب ہو رہے تھے۔۔
دارم اسفہان واقف تھا کے اسکی سانسیں اسکی مرہون منت ہیں۔۔ اور اب وہ ہر طرح سے اسکی سانسیں تنگ کریگا۔۔
اسے اس شخص سے کسی نرمی کی امید بھی نہیں تھی ۔۔۔
ہاتھوں کی پشت سے گال رگڑتی وہ حجاب سے پنس نکالنے لگی۔۔ دل کا درد تھا جو ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔۔
بچپن سے خود کو جس انسان کے لئے سینچ سینچ کر رکھتی آئی تھی۔۔ وہ سرے سے اسکی محبت سے انکاری تھا۔۔
۔
“امل “_
“امل دار کہ رہا ہے ہمارے ساتھ کھانا کھا لو “_
ازورا کی آواز پر اسے مزید رونا آنے لگا ۔۔
وہ اس وقت کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ دارم کا تو بلکل نہیں۔۔
“امل ۔۔
ازو کی گھبرائی ہوئی آواز پر خود کو کمپوز کرتی وہ دروازہ کھولنے لگی۔۔
“ازو بھوک نہیں ہے۔۔ یونی میں لنچ کر لیا تھا۔۔ پلیز تم لوگ کھا لو “_
اس نے ازورا سے نظریں نہیں ملائی تھیں۔۔
“آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں ؟ تم روئی ہو کیا “_
ازورا نے تشویش سے اسکی حد سے زیادہ سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتے سوال کیا۔۔
“نہیں۔۔ بس سر میں درد ہے تم جاؤ۔۔ دار۔۔ دارم انتظار کر رہے ہونگے تمہارا “_
اسکے پھولے گالوں پر پیار کرتی وہ نرمی سے بولی۔۔
“اچھا “_
وہ اداس سی ہوتی کمرے سے نکل گئی۔۔
وہ فریش ہو کر ٹیبل پر آیا تو صرف ازو کو ٹیبل پر محو انتظار دیکھ کر ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا۔۔
“امل کہاں ہیں ازو ؟”
اسکی غیرموجودگی اسے اچھی نہیں لگی۔۔
جانتا تھا وہ کمرے میں بند رو رہی ہوگی۔۔ پھر بھی انجان بنا ازو سے پوچھنے لگا۔۔
“اسکی طبیعت نہیں ٹھیک دار۔۔ میں روم میں کھانا لے جاؤنگی اسکے لئے “_
اسکی پلیٹ میں چاول ڈالتے ازورا نے اسے بتایا۔۔
“تم شروع کرو بیٹا میں آتا ہوں “_
اسے کھانے کا اشارہ کرتے وہ آستین فولڈ کرتا امل کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔
اس وقت وہ گھر کے شلوار کمیز میں موجود تھا۔۔
دروازہ لاک نہیں تھا۔۔ اسکے ہلکا سا دکھیلنے پر ہی دروازہ کھل گیا تھا۔۔آہستگی سے دروازہ کھولتا وہ اندر کمرے میں داخل ہوا۔۔
وہ جو حجاب اتار کر اب بیڈ پر چت لیٹی ہوئی تھی۔۔ دونوں پیر بیڈ سے لٹکائے نیچے کارپیٹ پر رکھے ہوئے تھے۔۔
غیر محسوس سے انداز پر امل نے آنکھیں واں کیں۔۔
سامنے ہی وہ کھڑا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اسے یوں سامنے موجود دیکھ کر وہ جھٹکے سے اٹھی تھی۔۔
“آ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں “_
اسکی آواز بھاری ہو رہی تھی جو بہت سارا رونے کی چغلی کر رہی تھی۔۔ پاس پڑا ڈوپٹہ شانوں پر اچھی طرح پھیلاتی وہ خفت سے سرخ پڑتا چہرہ لئے رخ موڑھ گئی۔۔
دارم نے بغور اسکی جانب دیکھا۔۔ رونے کی وجہ سے ناک حد سے زیادہ سرخ ہو رہی تھی۔۔حجاب اتار دینے کی وجہ سے ریشمی بال اسکی کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔۔
“کھانے پر کیوں نہیں آئیں آپ ؟”
سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھتے وہ بےتاثر لہجے میں بولا۔۔ “مجھے بھوک نہیں ہے “_
اس نے اسکی سوالیہ نظروں کے جواب میں کہا۔
” پانچ منٹ میں حالت درست کریں اپنی اور آئیں ٹیبل پر “_
اس نے سنجیدگی سے اسکے بکھرے سراپے پر چوٹ کی تھی۔۔
وہ خفت سے سرخ پڑھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اس شخص کی نظریں بہت کچھ بولتی تھیں۔۔
اسکی باتیں اسکی آنکھوں کا ساتھ نہیں دیتی تھیں۔۔ نجانے وہ واقعی اتنا سفاک تھا یا بنتا تھا۔۔
اس نے ہونٹ کاٹتے ہوئے ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا۔
“جلدی کریں۔۔ محبت کی حکایت نہیں سنا رہا آپ کو جو آپ شرمانے لگ پڑی ہیں۔۔
اسکے چہرے کے گلال کو نظر انداز کرتا وہ کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔
امل نے حیرت سے اسکی پشت دیکھی وہ اس شخص کو سمجھنے سے قاصر تھی۔۔
اتنی گہری چوٹ دے کر سوگ منانے کا حق بھی نہیں دیتا تھا۔۔
دروازے پر جا کر وہ رکا۔
ساتھ امل کی سانسیں بھی تھمی تھیں۔۔
“فورا آئیں ٹیبل پر انتظار کر رہا ہوں میں “_
اپنی عادت کے مطابق ہاتھ پیچھے کی جانب باندھے وہ اپنی بات مکمّل کر کے پھر سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔
وہ آنسوں صاف کرتے اسکے پیچھے خود بھی باہر آئی تھی۔۔
یہی تو بات تھی وہ محبوب تھا اسکا۔۔ محبوب کی کوئی بات کیسے رد کر سکتی تھی وہ۔۔
وہ اسکے پیچھے ہی ٹیبل پر آئی تھی۔۔ ازو نے سمائل پاس کرتے اسکی پلیٹ میں بھی کھانا سرو کیا۔۔
رومیسہ دن کا کھانا کافی پہلے ہی کھا لیتی تھیں اس وقت وہ آرام کر رہی تھیں۔۔ جبکے شہباز اس وقت آفس میں ہوتا تھا۔۔
امل نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا وہ بےنیاز بنا اپنی پلیٹ پر جھکا کھانا کھا رہا تھا جیسے اس سے زیادہ کوئی اہم کام ہی نا ہو ۔۔
۔
“کھانے سے فارغ ہو کر کافی لے کر میرے کمرے میں آئیں امل ۔۔ اور ازو تم کچھ دیر اپنے کمرے میں آرام کر لو میرا بیٹا “_
ازو کے بالوں پر پیار کرتے وہ حکم صادر کرتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔
امل نے الجھ کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“مم میں کک کیسے ؟”
وہ سہمی ہوئی بولی تھی۔۔ اس دن اسکے کمرے میں جانے پر اس کا رویہ اسے بھولا نہیں تھا۔۔
۔
“میرا بھائی اتنا ڈراؤنہ نہیں ہے امل جتنی خوفزدہ تم ہوتی ہو اس سے “_
ازورا شرارت سے اسکی جانب دیکھتی بولی تھی۔۔
“تمہارا انکی جلاد والی صفات سے پالا نہیں پڑا نا ازو “_
وہ بولتی ہوئی کوفی میکر کاؤنٹر پر رکھتی کوفی تیار کرنے لگی۔۔
۔
گرم بھانپ اڑاتی کوفی لئے اسکے کمرے کے باہر کھڑی وہ پہلے اپنی سانس بحال کر رہی تھی۔۔ ہلکا سا ناک کرنے پر اندر سے اسکی بھاری گھمبیر آئی تھی۔۔
“کم ان “_
اجازت ملنے پر وہ خود کو مضبوط ظاہر کرتی اندر داخل ہوئی تھی۔۔
سامنے ہی ایزی چیئر پر بیٹھا جھولتا نظر آیا تھا۔۔
“کوفی آپ کی “_
وہ دھیرے سے بولی تھی۔۔ کمرے میں اس کے کلون کی مہک پوری پھیلی ہوئی تھی۔۔ اسکی محصور کن خوشبو امل کے حواس معطل کر رہی تھے۔۔
” آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا “_
اس نے کوفی کا کپ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا۔۔
کوفی کا کپ لبوں سے لگاتے دارم نے بغور اسکی جانب دیکھا جو بالوں کی لٹ کان کے پیچھے کرتی پزل سی ہو رہی تھی۔۔
وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
“اتنی گرم کوفی کس قدر اطمینان سے اپنے اندر انڈیل رہا تھا وہ۔۔
“جبھی تو ہر وقت آگ اگلتے ہیں “_
وہ صرف سوچ ہی سکی تھی۔۔ بولنے کی ہمّت تو خیر نہیں تھی اس میں۔۔
وہ سنجیدگی سے گہری سانس لیتا جیسے اسکے چہرے کے تاثرات سے اسکی سوچ پڑھنا چاہ رہا تھا۔۔
“بیٹھیں یہاں “_
اس نے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے کہا۔
وہ اٹھا۔۔ پھر فرسٹ ایڈ باکس لیکر اسکی جانب آیا۔۔
اسے نرمی سے بیڈ پی بیٹھا کر اسکا دایاں پیر احتیاط سے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔
امل نے حیران نظروں سے اسے دیکھا ۔
“دارم ۔۔ یہ کک کیا کر رہے ہیں آپ ؟”
وہ لرز اٹھی تھی۔۔
“انتہائی بیوقوف احمق لڑکی ہیں آپ۔۔ جلے ہوئے پیر پر موزے کون پہننتا ہے “_
اسکے پیر کے زخم کا جائزہ لیتا وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔
“انداز ویسا ہی حکمیہ تھا جو اسکا خاصا تھا۔۔
امل کو خوش گوار سی حیرت ہوئی۔۔ مطلب وہ اسکی ذات سے اتنا بھی انجان نہیں تھا جتنا ظاہر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔۔
۔
وہ لبوں پر ہلکی سی مسکان لئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ گھر کے رف سے حلیہ میں موجود۔۔ ماتھے پر بکھرے بال جو اس وقت بھی نم سے تھے۔۔ شاید کھانے سے پہلے اس نے شاور لیا تھا۔۔
اسکے ماتھے پر بکھرے بالوں کو دیکھتے اسکے دل میں شدّت سے خواھش اٹھی تھی انھیں اپنے ہاتھوں سے سنوارنے کی۔۔
کٹاو گلابی ہونٹ بھینچے جن پر سموکنگ کی وجہ سے سیاہی اتر رہی تھی وہ خود پر اسکی نظریں محسوس کر سکتا تھا ۔۔۔
۔
“دوسرے پیر کو بھی صاف کر کے اس پر میڈیسن لگانے کے بعد دارم نے اسکی جانب دیکھا۔۔
ایک پل کو وہ بھی ٹھٹھک گیا تھا۔۔
وہ تکلیف سے بےنیاز اسکی جانب بےخود سی دیکھ رہی تھی۔۔
“جائیں۔۔ اور اب موزے نہیں پہنیے گا۔۔ جب تک یہ ٹھیک نہیں ہو جائے”_
وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔ مسکرانے سے اسکی آنکھیں چھوٹی ہو جاتی تھیں۔۔ امل بےخود سی اسکی مسکراہٹ میں کھو سی گئی تھی۔۔
شاید پہلی بار وہ اسکے سامنے مسکرایا تھا۔۔
اس قدر دلکش مسکراہٹ تھی اسکی۔۔
۔
“اب جائیں اپنے کمرے میں “_
اسکی محویت پر وہ پھر سے سنجیدہ ہوتا برہمی سے بولا۔۔۔
وہ تیزی سے بھاگی تھی مباده اس روز کی طرح کمرے سے ہی نا نکال دے۔۔ اسکا کوئی بھروسہ بھی نہیں تھا۔۔
۔


۔
اپنے کمرے میں آ کر وہ کتنی ہی دیر بابا کی تصویر سینے سے لگائی بیٹھی رہی تھی۔۔
نوح ارسلان انجانے میں ہی اسے قرضدار کر گیا تھا۔۔
اس تصویر کے لئے تو وہ جان بھی دے دیتی۔۔
“پر انکے پاس کیسے تھی یہ تصویر “
وہ اب بھی الجھی ہوئی تھی۔۔ جو بھی تھا اسکے بابا کی ایک نشانی اب اسکے پاس تھی۔۔
“آپ کی ازو بلکل اکیلی ہو گئی ہے بابا۔۔ آپ نہیں جانتے آپ کی ازو کیساتھ کیا کیا ہوتا ہے۔۔ مجھے بھی اپنے پاس بلا لیں نا بابا “_
انکی تصویر پر لب رکھتی وہ سسک رہی تھی۔۔
آہٹ پر اس نے جلدی سے تصویر تکیہ کے نیچے چھپائی۔۔
۔
“سنو لڑکی ۔۔ آج ڈینر پر خصوصی تیاری کرنا ۔۔ رومیسہ نے اسے دیکھ کر ایک نیا آرڈر دیا تھا۔۔
“کیا کوئی مہمان آرہا ہے ؟”
اس نے سرسری انداز میں پوچھا۔۔
“ہاں نوح ارسلان آ رہا ہے۔۔ اس نے ڈیل منظور کر لی ہے۔۔ شہباز نے ڈنر کا احتمام کرنے کہا ہے اسکے لئے “_
وہ بے تاثر لہجے میں کہتی ہوئی چلی گئی۔۔
جبکہ اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔۔ وہ اس خود پسند شخص کی شکل بھی دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔
رف سے بالوں کا اونچا سا جوڑا بنائے گرئے گرم سوٹ پہنے وہ سخت پریشان سی نظر آرہی تھی ۔۔
مرتا کیا نہیں کرتا کے مصداق وہ اٹھ کر کچن کی جانب آ گئی۔۔
رات کی سچویشن کو لے کر اسے ابھی سے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
۔
اس نے بے دلی سے فریج سے گوشت کا پیکٹ نکالا۔۔ باقی لاوازمات بھی کاؤنٹر پر رکھتی وہ ڈنر کی تیاری میں لگ گئی تھی۔۔ ۔


وہ شہباز ضمیر کی کمپنی کی تمام ڈیٹیلز کے نوٹس بنا رہا تھا جب
دادو اپنی ول چیئر پر اسکے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔
“اختر صاحب آپ اس وقت “_
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا حیرانی سے بولا۔۔
“تم گھر پر نہیں ملتے نا اس وقت آج موجود ہو تو مجھے حیرانگی ہو رہی ہے میرے بچے “_
انہوں نے اس کے بروان بالوں کو سنوارتے ہوئے پیار سے کہا تھا۔۔
“آپ جب چاہیں آ سکتے ہیں “_
انکے ماتھے پر پیار کرتا وہ ان سے نرم سے لہجے میں بولا۔۔
“دوبارہ کب لاؤ گے اسے “_
وہ جلد ہی اپنے مطلب کی بات پر آئے تھے۔۔ نوح مسکرا اٹھا۔۔
“وہ آج ہی مل کر گئی ہے آپ سے اختر صاحب “_
وہ ہنستا ہوا بولا۔۔ اسکے دادو تو اس لڑکی کے پیچھے دیوانے ہو رہے تھے۔۔
“تم نے مجھے بتانے سے کیوں روکا اسے۔۔ وہ جاننا چاہتی تھی “_
انھیں نوح کی اس حرکت کی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔
“ابھی انکا جاننا ٹھیک نہیں ہے دادو ۔۔ انھیں انجان ہی رہنے دیں”_
وہ پر سوچ انداز میں بولا تھا۔۔
آج رات اسے شہباز ضمیر کے گھر جانا تھا۔۔
لیکن نجانے کیوں دل میں غبار سا بھر رہا تھا۔۔
وہ اسے شہباز ضمیر کے حصار میں نہیں دیکھنا چاہ رہا تھا۔۔
وہ آج رات کے لئے تمام ڈاکومنٹس تیار کر رہا تھا۔۔
شہباز ضمیر خود اپنے ہی جال میں پھنسنے والا تھا۔۔


ہسپتال سے دارم کی نائٹ شفٹ کی کال آ گئی تھی اس وجہ سے اسے جانا پڑا تھا۔۔ ڈنر تقریباً وہ تیار کر چکی تھی۔۔
گھر آ کر جو اس نے گرم سوٹ پہنا تھا وہ اب بھی اسی میں ملبوس تھی۔۔ ہمیشہ کی طرح اسکی سیلوز آج بھی فل تھی جو اسکے بازو چھپائے ہوئی تھی، گلہ گردن کو ڈهانپ رہا تھا۔۔ جسکی وجہ سے جسم کے نشانات نظر نہیں آ رہے تھے۔۔ بال رف سے جوڑے میں مقید تھے۔۔
اس نے سوچ لیا تھا آج وہ سامنے نہیں جائے گی آج ویسے بھی ڈیل فائنل ہونی تھی اسکا کوئی کام نہیں تھا۔۔
وہ سوچ ہی رہی تھی جب گاڑی پورچ میں آ کر رکی تھی۔۔
کچھ سوچ کر وہ پارکنگ کی جانب بڑھی۔۔
“سنیں !!”
ہمیشہ کی طرح چہرے پر کرخت تاثرات لئے وہ اندر کی جانب بڑھ رہا تھا جب پیچھے سے اسکی مدھر آواز آئی۔۔
یہ آواز تو وہ ہزاروں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔
رک کر اس نے ایک نگاہ اسکی جانب کی۔۔ ایک نگاہ میں ہی وہ اسکا تفصیلی جائزہ لے چکا تھا۔۔
رف حلیہ میں وہ زیادہ کیوٹ لگتی تھی۔۔
“مجھے تھنکس کہنا تھا اس تصویر کے لئے “_
وہ سادہ سے لہجے میں بولی تھی۔۔
“نو نیڈ “_
وہ سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھا ۔
“پر میں تو تھنکس کرنا چاہتی ہوں ” ۔۔
وہ پھر سے بولی۔۔
“کہہ تو لیا ہے آپ نے “_
وہ کہتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا۔۔
“کس قدر مغرور شخص ہے یہ “_
اسکی بےنیازی پر وہ زیر لب بڑبڑآئی تھی۔۔