Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٩
۔
وہ کس طرح ڈرائیو کر کے گھر آیا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔۔کمرے میں آکر اس نے بورڈ پر ہاتھ مارا اور ساری لائٹس آف کردیں۔
گھپ اندھیرا کر کے وہ اپنے آپ سے بھی چھپ جانا چاہتا تھا۔۔
وہ چلتے ہوئے اپنے بیڈ پر آیا آدھا وجود بیڈ پر تھا اور آدھا زمین پر۔۔
کھڑکی کے پاس لٹکتے جھومر کی لائٹس آن تھیں، اس کی لڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک عجیب ردھم پیدا کر رہی تھیں۔
کھڑکی کے اس پار اداس چاند اپنا عکس اس شخص میں دیکھ رہا تھا۔۔ وہ چاند جیسا ہی تو تھا۔۔ ٹھنڈا۔۔ پرسکون۔۔ ہر ایک کے لئے ٹھنڈی چھاؤں جیسا۔۔
“پھر وہ کیسے ظالموں میں سے ہو سکتا تھا۔۔؟؟”
اس نے بےبسی سے اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے مٹھی بند کی اور پھر کھولی۔۔۔
“مکافاتِ عمل کوئی قابل انتقال چیز نہیں ہے”_
یہی تو تفسیر تھی۔۔ اسے یاد تھی۔۔
اللّه جب اس چیز کا انتقال برداشت نہیں کرتا وہ کون ہوتا ہے کرنے والا۔۔
“میں ظالموں میں سے ہو گیا”_
وہ زیر لب بولا تھا۔۔ یہی خیال تو آ رہا تھا۔۔ بار بار آ رہا تھا کے وہ ظالموں میں سے ہو گیا ہے ورنہ قرآن اسکے دل پر کیونکر نہیں اترتا۔۔
وہ اب بھی مٹھی ہاتھوں کھول بند کر رہا تھا۔۔
ایک بات دو بار سہہ بار…
وہ جیسے اپنے اندر کے کرب کو اپنے ہاتھوں کے راستے باہر نکالنا چاہتا تھا۔
کالی آنکھوں میں بےبسی در آئی تھی عنابی لب بےبسی سے پھڑپھڑا رہے تھے۔
وہ حسن کا مجسمہ جیسے ڈھے جانے کے قریب تھا۔۔
“اگر مجھ سے ان جانے میں کوئی گناہ سرزرد ہو بھی گیا ہے تو میں توبہ کرتا ہوں اللّه۔۔ میں تائب میں سے ہو جانا چاہتا ہوں۔۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہتا جو گناہ کرتے ہیں۔۔ اور پھر اس گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے۔۔ کرتے چلے جاتے ہیں۔۔ پھر ان سے ہدایت چھین لی جاتی ہے کبھی نا دینے کے لئے۔۔ میں تائب ہوں اللّه۔۔ مجھے ہمیشہ ان لوگوں میں سے رکھنا جن کے دلوں پر تو اترتا ہے۔۔ میرے دل پر سیاہی اترنے نہیں دینا مالک”_
گھور سیاہ آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔۔
“اتنی بےسکونی؟ اتنی تو پہلے کبھی نہیں تھی…” وہ نفی میں سر ہلانے لگا
“میں اسے اپنی جانب سے کوئی دکھ نہیں دونگا۔۔ جو تو چاہے۔۔ جیسے تو چاہے انصاف کر میرے مولا”_
دل کی صداوں سے جب وہ تھک کر چور ہوا تو زمین پر قبلہ رو ہوکر گھٹنوں کے بل دوزانو ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔
وہ خوشبووں میں بسا دلنشین مسکراہٹ والا شخص کرب کی انتہاوں پر تھا۔۔۔
اسکی من موہنی سی صورت۔۔ اسکی بےضرر سی خواہشیں۔۔ وہ نرمی سے بھی تو انکار کر سکتا تھا۔۔
مگر ہر بار کا اپنا ترش رویہ۔۔ اسکی نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔۔
ہر بار کی نفی کے بعد بھی اسکا ویسا ہی مدھر سروں سا۔۔ بہتے پانیوں سا لہجہ۔۔
“وہ جانتا تھا وہ اس کی محبت میں سب کچھ ہار سکتی ہے۔۔ تو اس نے اسے شکست دے دی تھی۔۔ وہ جانتا تھا وہ اس پر اپنا سب کچھ وار سکتی ہے۔۔ تو اس نے اس سے جان نہیں مانگی تھی۔۔ جان تو بہت ارزاں سی چیز ہے۔۔ اسکی عزت نفس روند گیا تھا۔۔ مگر یہ سب اس نے کبھی جان کر نہیں کیا۔۔ انجانے میں وہ اس گناہ کا مرتکب ہوا تھا۔۔
امل شہباز نا ہو کر بھی اسکے اندر کہیں موجود تھی۔۔ ابھی سے نہیں ہمیشہ سے۔۔ زبردستی ہی صحیح اسکا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کر کے وہ امربیل کی مانند اپنی جڑیں اسکے دل میں۔۔ اسکی زندگی میں گاڑ چکی تھی۔۔ وہ تو لہو میں اندر کہیں اتر گئی تھی سزا بن کر”_
۔
اسکے کپڑے بارش میں بھیگنے کی وجہ سے بھیگے ہوئے تھے۔۔
سرخ و سپید رنگت میں زردیاں گھلی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
اسکی سانسیں بےربط سی ہو رہی تھیں۔۔
“میں ظالم نہیں ہوں۔۔ میں تائب ہوں”_
وہ زیر لب دوہرا رہا تھا۔۔ امل شہباز کا عکس ہر طرف تھا۔۔ جو کچھ نہیں کہ رہی تھی۔۔ خاموشی سے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“میں ظالم نہیں ہوں۔۔ میں تائب ہوں”_
اس نے جیسے اسکے عکس کو باور کروایا تھا۔۔۔
“میں تائب ہوں”_
وہ چیخ رہا تھا۔۔
“میں نے ظلم نہیں کیا۔۔ میں ظلم کا مرتكب ہوا ہوں۔۔ میں نے توبہ کی ہے۔۔ میں تائب ہوں”_
وہ حسین شہزادہ اپبے رب سے منوا رہا تھا کے وہ ظالم نہیں ہے۔۔ وہ ظالم ہو ہی نہیں سکتا۔۔
ظلم کے مرتكب ہونے میں اور ظلم کرنے میں فرق ہوتا ہے۔۔
۔
خود کو کمپوز کر کے وہ نیچے آئی تھی۔۔ نوح ارسلان پرسکون سا اختر شیروانی کے ہمراہ بیٹھا تھا۔۔
اسکا اطمینان غارت کر کے خود کتنے آرام سے بیٹھا تھا یہ شخص۔۔
“میسنا”_
دل ہی دل میں اسے نئے لقب سے نوازتے
“السلام علیکم”_
اس نے مدهر سی آواز میں سلام کیا تھا۔۔۔ سر جھکائے خاموش کھڑی ہو گئی ہے۔۔
“وعلیکم السلام میری بچی۔۔ آؤ یہاں آؤ میرے پاس۔۔ اتنی سہمی ہوئی کیوں ہے یہ نوح”_
محبت سے اسکی سلامتی کا جواب دیتے وہ خشمگیں نگاہوں سے نوح کو گھورتے ہوئے بولے۔۔ازورا کے چہرے پر خوف وہ باآسانی سے دیکھ سکتے تھے۔۔
“ہاں لمبے بالوں والے باگڑ بلے نے ڈرایا ہے آپ کی معصوم بچی کو”_
اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ جل کر بولا تھا۔۔ کچھ دیر پہلے کی سبکی اسے بھولی نہیں تھی۔۔
۔
“خاموش ہو جاؤ نوح”_
اسے گھرک کر انہوں نے ازورا کو ساتھ لگایا تھا۔۔ ساتھ ہی اسکے بالوں پر پیار کیا۔۔
اسکی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔۔ دارم کے بعد یہ پہلا رشتہ تھا جس نے اس قدر شفقت سے اسے پیار دیا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں چمکتی نمی نوح کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکی۔۔
“دادو کے ساتھ ناشتہ کرو میرے بچے۔۔ اپنے بچے کی راہ تک رہا تھا میں۔۔ کیا کھاتی ہو تم یہ تو مجھے پتہ نہیں تھا لیکن کوشش کی ہے کے تمہیں پسند آئے”_
اسکا ہاتھ تھام کر اپنے برابر بیٹھاتے انہوں نے سب سے پہلے انار کا جوس نکال کر اسکے سامنے رکھا تھا۔۔
“مجھے بہت پسند ہے یہ جج جوس۔۔ ااا آپ جانتے تھے ؟”
وہ حیران نظروں سے ٹیبل پر موجود چیزیں دیکھ رہی تھی۔۔ تقریباً چیزیں اسکی پسند کی ہی تھیں۔۔ وہ تو بھول ہی گئی تھی کے اسکی بھی کوئی پسند ہے۔۔ یا اسکی بھی مرضی ہو سکتی ہے۔۔
اسکی پسند ہمیشہ سے کچھ الگ رہی تھی۔۔ انار اسے ہمیشہ سے بہت پسند تھے لیکن ایک عرصہ ہوا تھا اس نے تو اپنی پسند کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔
“تمہیں پسند آیا ؟”
انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔۔ اس نے جلدی سے اثبات میں گردن ہلائی۔۔
“بہت “_ نوح خاموشی سے ناشتہ کرتا اتنی محبت کے یہ مظاہرے دیکھ رہا تھا۔۔ “آپ بہت اچھے ہیں”
وہ ناشتہ کرتی بھرے بھرے منہ کے ساتھ بولی تھی۔۔
“دادو کہو مجھے”_
انہوں نے مزید چیزیں اسکے پلیٹ میں ڈال کر کہا تھا۔۔
“دادو میں دار سے ملنے چلی جاؤں ؟”
وہ جلدی سے بولی تھی۔۔ نوح کی جانب دیکھنے کی غلطی نہیں کی گئی تھی۔۔
“بلکل جاؤ میرے بچے۔۔ نوح لے جائیگا تمہیں”_
وہ خوشی سے بولے۔۔ وہ پہلے ہی دن ان سے گھل مل گئی تھی یہ بات انھیں خوشی دے رہی تھی۔۔
“اختر صاحب۔۔ آفس جانا ہے مجھے”_
وہ سنجیدگی سے بولتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“ازورا کو دارم کے پاس ڈراپ کرتے ہوئے چلے جاؤ”_
انہوں نے آسان حل پیش کیا۔۔
“ایک ہی دن میں آپ نے پارٹی بدل لی ہے اختر صاحب”_
وہ بولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“آجائیں آپ لیڈی”_
ساتھ ہی اسے بھی باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔
“کھا تو لینے دو بچی کو”_
ازورا کا یوں ناشتے پر سے اٹھنا انھیں بلکل پسند نہیں آیا تھا۔۔
وہ ان سے پیار لیتی باہر آئی۔۔۔ گاڑی میں بیٹھتے نوح کی رگیں تنی تھی۔۔
باہر ملازموں کی پوری فوج کھڑی تھی۔۔ وہ گلابی شفون کی آنچل اسکا حسن چھپانے کی بجائے مزید عیاں کر رہا تھا۔۔ اس نے کبھی دوپٹہ نہیں لیا تھا تو یہ آنچل اس سے یوں بھی سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔۔
اس نے بہت سی نظریں یکدم اس پر اٹھتی دیکھی تھیں۔۔
وہ تیر کی سی تیزی سے اسکی جانب آیا تھا۔۔ بازو سے تھام کر اسے اندر لے کر گیا تھا۔۔
“اوپری خانہ کیا بلکل خالی ہے آپ کا ؟ اس طرح باہر آئی ہیں آپ”_
وہ دبے دبے لفظوں میں دھاڑا تھا۔۔
“اور کس طرح جاؤں ؟”
وہ اسکے غصہ کرنے کی وجہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔ اب ایسا کیا کر دیا تھا اس نے۔۔ اسکی آواز میں نمی محسوس کر کے اسکی گرفت کچھ نرم پڑی۔۔
گہری سانس لے کر غصہ اندر اتارتا ایک ہاتھ بال میں پھیر رہا تھا۔۔
“چادر لے لیں پہلے”_
اسکے وجود سے نظریں چراتے وہ نرمی سے بولا۔۔
“نہیں ہے میرے پاس کوئی چادر۔۔ ی یہ شامیانہ لیا ہوا تو ہے”_
وہ روتی ہوئی بولی تھی۔۔ ایک دم سے ساری چیزیں اسے خود پر مسلط ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ نوح نے اسکی جانب دیکھا وہ واقعی دوپٹہ میں ہی اتنی الجھی ہوئی تھی۔۔
“ازورا۔۔ آپ پر جتنی نظریں اٹھينگی۔۔ اسکا گناہ صرف آپ کے نہیں میرے اعمال نامے میں بھی لکھا جائیگا۔۔ اور میں اتنا بےغیرت نہیں ہوں کے اپنی عزت کو یوں لوگوں کے سامنے دعوت نظارہ دینے کے لئے پیش کر دوں۔۔ آپ کو دیکھنے کا۔۔ آپ کو محسوس کرنے کا حق صرف نوح ارسلان کے پاس ہے۔۔ کوئی اور نگاہوں سے بھی آپ کو چھوئے مجھے اچھا نہیں لگے گا”_
اب کی بار اسکا انداز نرم تھا۔۔ انگوٹھے سے اسکے آنسوں صاف کرتا وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔۔
“میرے پاس کبھی بھی نہیں تھی چادر۔۔ مجھے پہننا بھی نہیں آتا”_
وہ آہستہ سے بولی تھی۔۔
“گاڑی میں بیٹھیں میں آتا ہوں۔۔ شیشے اٹھا لیجیے گا”_
اسکے نرم لہجے میں کہنے پر وہ سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلاتی گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔۔
کچھ دیر میں وہ ہاتھوں میں خوبصورت سی سفید اور سیاہ رنگ کی چادر لئے آیا تھا۔۔
ڈرائیونگ سیٹ میں بیٹھ کر اس نے اسکا رخ اپنی جانب کرتے چادر سے اسکا وجود ڈھانپ دیا تھا۔۔
ازورا نے حیرانی سے دیکھا۔۔ وہ حیران تھی شہباز نے تو ہمیشہ اسے دوپٹے چادر جیسی چیزوں سے دور رکھا تھا۔۔
وہ تو فخر سے دوست احباب میں اسکا خوبصورت وجود دکھاتا تھا۔۔ لوگوں کی آنکھوں میں اسکے لئے ستائش محسوس کر کے خوش ہوتا تھا۔۔
نوح ارسلان اسے چھپانا چاہتا تھا۔۔ کسی قیمتی چیز کی مانند۔۔
“یہ میری ماما کی ہے”_
چادر میں دمکتا چہرہ دیکھتا وہ آہستگی سے بولا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں حزن تھا۔۔ ملال تھا۔۔ ازورا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔
“آپ اسے استعمال کرینگی؟”
وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔ نجانے اسکے لہجے میں ایسا کیا تھا اس نے بےاختیار اثبات میں گردن ہلائی تھی۔۔
۔
عشق تو وہ ہے !
جو عاشق کو دشتِ نینوا میں لا کر
شدت ِ پیاس سے میزبانی کرے
اور بدلے میں لہو مانگے۔۔۔
۔
وہ اسکے لمبے بالوں کو تین تہوں میں لپیٹتے چٹیا کی شکل دے رہے تھے۔۔ وہ آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے آئینے میں نظر آتے ان دونوں کے عکس کو دیکھ رہی تھی۔۔ اسکے لمبے بال ہاتھوں میں لئے نرمی سے چھوتے وہ محبت سے سنوار رہے تھے۔۔
۔
عشق تو وہ ہے !
جو صحرا میں اپنے عاشق کے
دل کے ٹکڑوں سے
اپنی ویرانیاں آباد کرے_ ۔ “پروفیسر صاحب۔۔ آپ لیٹ ہو جائینگے یونیورسٹی کے لیے”
انہیں اپنے بالوں سے کھیلتے دیکھ وہ شائستگی سے بولی۔۔
۔
“کوئی لیٹ نہیں ہوتے ہم۔۔ ایک دن آپ کے بال میں نہیں سنواروں تو آپ حشر کر لیتی ہیں بالوں کا”۔۔
وہ اب نرمی سے اسکے چہرے پر کریم لگا رہے تھے۔۔ وہ آنکھیں میچیں انکی انگلیوں کا لمس محسوس کر رہی تھی۔۔
ہیڈ سكارف پہنا کر سٹالر اسکے چہرے کے گرد لپیٹتے وہ اس حسین عورت کی جانب دیکھ رہے تھے جسے انہوں نے ٹوٹ کر چاہا تھا۔۔
عشق تو وہ ہے !
جو اپنی آتش سے
قلبِ عاشق میں بیقراری کو
شاد رکھتے ہوئے
اک چنگاری کو سُلگتا رکھے_
۔
اسکی وہیل چیئر پر رکھے پیروں کو ہاتھوں میں لئے نرمی سے اسے جوتے پہنا رہے تھے۔۔ وہ مردوں کی اس قسم سے تھے جو بیوی کی خدمت کرنا اپنے شان کے خلاف نہیں گردانتے تھے۔۔ ایک عرصے سے یہ شخص اسکی اسی طرح خدمت کر رہا تھا۔۔ اور کرتا جا رہا تھا۔ ۔
وہ تھک جاتی تھی اسے اس طرح دیکھ کر۔۔
مگر وہ اس سے محبت کرتے تھکتے نہیں تھے۔۔
“جمال مجھے آرگنائزیشن ڈراپ کر دیں”_
وہ محبت سے انہیں تکتی بولی تھی۔۔
“جو حکم !!”
وہ ہنستے ہوئے بولے تو وہ بھی ہنس دی۔۔
۔
۔
وہ نوح کے ہمراہ ہسپتال گئی تھی وہاں دارم کی غیر موجودگی سن کر اسے حیرت ہوئی تھی۔۔ وہ جانتی تھی دار کبھی ہسپتال سے آف نہیں لیتا۔۔۔ اسکے رونے پر نوح اسے اس فلیٹ میں لے آیا تھا جہاں دارم رہائش پذیر تھا۔۔
وہ نوح کو دروازے پر چھوڑ کر ہی خود بھاگتی ہوئی اندر آئی تھی۔۔
وہ اسے بےمروت کا لقب دیتا خود اسکے پیچھے آیا۔۔
کمرے کا دروازہ لاک نہیں تھا۔۔ ہلکا سا دھکیلنے پر کھلتا چلا گیا۔۔
وہ اندر داخل ہوئی تو اسے غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔
کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا۔۔ بیڈ سے نیچے کشن یہاں وہاں بکھرے پڑے ہوئے تھے۔۔
وہ آدھا بیڈ پر تھا اور آدھا دھر کارپیٹ پر تھا۔۔ جوتے ہنوز پیروں میں موجود تھے۔۔
مدھم سی روشنی میں اسکا چہرہ واضح تھا۔۔
“دار”_ “دار کیا ہوا تمہیں ؟” وہ سرعت سے اسکے نزدیک آئی تھی۔۔ چادر ڈھلک کر شانوں پر آ گئی تھی۔۔ شکن آلود بھیگے کپڑے۔۔ نم آنکھیں جو بےتحاشا سوجی ہوئی تھیں۔۔ حلیہ بکھرا سا۔۔ اسکا دل کٹ کر رہ گیا تھا اسے اس حالت میں دیکھ کر۔۔ “دار۔۔ دار پلیز مجھے دیکھو۔۔ مجھ سے بات کرو نا۔۔ نوح پلیز میرے دار کو ٹھیک کر دیں”
وہ روتی ہوئی اسکے گال تھپتھپا رہی تھی۔۔ کبھی اسکے ہاتھ آنکھوں سے لگاتی اسے آواز دے رہی تھی۔۔ ایک ہی تو رشتہ تھا اسکے پاس۔۔ اسکا دار۔۔ وہ اس حال مم کیسے آ گیا تھا۔۔
نوح نے لب باہم پیوست کئے ایک نظر کمرے کی حالت پر ڈالی۔۔ دوسری نگاہ ہوش و حواس سے بےگانہ دارم اسفہان پر۔۔ ضرور کوئی بڑی بات ہوئی تھی ورنہ دارم مضبوط اعصاب کا شخص ہے وہ جانتا تھا۔۔
اسے اس سے کوئی دلی وابستگی نہیں تھی۔۔ لیکن وہ اپنی بیوی کو کسی کے لئے بھی اس طرح تڑپ کر روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔
جو اب کارپیٹ پر بیٹھی دارم کے جوتے کھول رہی تھی۔۔
اسکے رگ و پے میں غصّہ سرائیت کر گیا تھا۔۔
“ہٹیں پیچھے آپ۔۔ میں دیکھتا ہوں”_
اسے اس تیزی سے انکے قریب آیا تھا جیسے دارم کوئی اچھوت شہ ہو۔۔ جس نے کبھی ملازموں کو بھی جوتے چھونے نہیں دیا تھا وہ کیسے اپنی بیوی کو کسی کے قدموں میں بیٹھے دیکھ سکتا تھا۔۔
ازورا نے دکھ اور جھنجھلاہٹ سے اسکی جانب دیکھا۔۔
وہ خود جھک کر اسکے جوتے کھول رہا تھا۔۔
ازورا کو دور ہونے کا کہ کر اس نے اسکی شرٹ کی اوپری بٹن بھی کھول دیے تھے۔۔
اسکا جسم آگ کی مانند تپ رہا تھا۔۔ نوح نے کان قریب کر کے سنا وہ مسلسل کچھ بول رہا تھا۔۔
“میں ظالموں میں سے نہیں ہوں۔۔ میں تائب ہوں”_
اس نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا۔۔ کسی بات کو اس قدر خود پر سوار کیسے کر لیتے ہیں یہ بہن بھائی۔۔
وہ زیر لب بولا تھا۔۔ وہ ازورا کی طرح پریشان نہیں تھا اب بھی پرسکون انداز میں دارم کو ہوش میں لینے کی تدبیر کر رہا تھا۔۔
“دارم۔۔ پرسکون ہو جاؤ”_
اسکے قریب بیٹھا وہ نرمی سے بولا۔۔ وہ نیم بےہوشی میں پوری بات اسے بتا رہا تھا۔۔
۔
‘وَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ‘
(اور اللہ پر بھروسہ رکھو )
۔
اس نے اسکے کانوں کے قریب پڑھا تھا۔۔ ازورا خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ یہ شخص بہت ان پریڈکٹیبل تھا۔۔ کس وقت کیا کر جاتا۔۔
۔
“وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيۡلًا “
(اور کام بنانے کے لیے اللہ بالکل کافی ہے)
الاحزاب ۔ 3
وہ اب بھی پڑھ رہا تھا۔۔
“تمہارے دل پر قرآن نہیں اترتا تو وہ باتیں بھی تمہارے دل پر نہیں اترتی دارم۔۔ جو ظالموں میں سے ہو جائیں انہیں پھر ہدایت نہیں ملتی۔۔ وہ توبہ نہیں کرتے”_
وہ دھیرے دھیرے بولتا اسے پرسکون کر چکا تھا۔۔ ازورا خاموش کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی یہ پہلی بار تھا جب نوح ارسلان اسے اچھا لگا تھا۔۔ بہت اچھا۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ آنکھیں کھولتا اٹھ بیٹھا تھا۔۔ نوح اور ازورا کو یوں دیکھ کر اس نے حیرانی سے ارد گرد دیکھا۔۔
“دار۔۔ کیا ہوا تمہیں ؟”
وہ تیزی سے اسکے پاس آئی تھی۔۔ اسکے ساتھ لگی روتی ہوئی بولی۔۔
نوح نے ناپسندیدگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ جو بھی ہو دارم اسفہان کے قریب اس طرح اسکا جانا اسے پسند نہیں تھا۔۔
دارم بھی اسکی نظروں کی تحریر سمجھ گیا تھا۔۔
اب ازورا کا اسکے ساتھ ایک حد تک فاصلہ ضروری تھا۔۔
“میں ٹھیک ہوں ازو۔۔ شاید بارش میں بهیگ گیا تھا”_
نظریں چراتا وہ نرمی سے بولا ساتھ ہی غیر محسوس انداز میں اسے کچھ دور کیا تھا۔۔
“ہاں نوح نے تمہاری ہیلپ کی۔۔ تم تو بهیگے کپڑوں میں پڑے تھے۔۔ اتنا تیز بخار بھی ہو رہا تھا تمہیں۔۔ ایک دن میں تم یہ کیا کیا ہے”_
وہ بڑی بوڑھیوں کی طرح اسے ڈپٹ رہی تھی۔۔
دارم اسکے انداز پر مسکرا اٹھا۔۔ نوح کی جانب دیکھا جو یوں بےنیاز بنا کھڑا تھا جیسے وہ یہاں موجود ہی نا ہو۔۔
“شکریہ میری مدد کے لئے بھی۔۔ اور میری ازو کا خیال رکھنے کے لئے بھی”_
پہلی بار دارم نے نرمی سے اس سے بات کی تھی۔۔ ازو کا نکھرا نکھرا سراپا اس بات کی گواہی دے رہا تھا کے نوح ارسلان نے اسکے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہیں کیا تھا۔۔
“میری بیوی تمہارے لئے بہت رو رہی تھی تو مجھے کرنی پڑی مدد تمہاری”_
وہ بیوی پر زور دے کر بولتا ازو کو بازو سے تھام کر غیر محسوس انداز میں اس سے کچھ دور کیا۔۔
“میرے علاوہ کوئی تھا نہیں اسکی زندگی میں اس لئے حساس ہے میرے لئے۔۔ اور کوئی بات نہیں”_
اس نے اپنے تہہ اس تک بات پہنچا دی تھی۔۔ وہ بھی سر ہلا گیا۔۔
۔
“ازورا کو تمہارے پاس ہی چھوڑ کر جا رہا ہوں شام تک پک کر لونگا۔۔ یہ تمہارے ساتھ تی سپینڈ کرنا چاہ رہی تھیں”۔۔
اسکا انداز سادہ سا تھا۔۔ اسے پہلے ہی دیر ہو رہی تھی لیکن دارم کی اس وقت جو حالت تھی وہ ازورا کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لئے ٹھہرنا پڑا۔۔
ازورا ایک بار پھر دارم کے پاس آ گئی تھی۔۔
نوح نے گہری سانس لی۔۔ اسے وقت لگنا تھا اپنے اور دارم کے درمیان فاصلہ رکھنے میں۔۔
“اور تم خود تھوڑا کم سوچا کرو سالے صاحب۔۔ کوئی اتنی آسانی سے ظالموں میں سے نہیں ہو جاتا۔۔ اس کے لئے توبہ کا در خود پر بند کرنا پڑھتا ہے۔۔ اتنا بڑا گناہ نہیں کیا تم نے کے توبہ کا در تم پر بند ہو جاتا۔۔
اللّه اتنی سی بات پر قرآن نہیں چھینتا۔۔ اس کے لئے دل پر سیاہی کی مہر لگانی پڑھتی ہے۔۔۔ تم ابھی اس سے محفوظ ہو۔۔ بار بار توبہ کر کے پھر سے اسے چاہنے والوں میں شمار ہو سکتے ہو”_
وہ طمانیت سے کہ کر رکا نہیں تھا۔۔ ازورا پر ایک نظر ڈال کر کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔
۔
