Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢١
Mega Episode …. 🎊🎉
۔
“ازورا اسٹاپ اٹ”_
سرد انداز میں اسے وارن کرتی نگاہوں سے دیکھتا بولا تھا۔۔ جو بےقابو ہوتی کسی بھی طرح بس اسکے ہاتھ سے وہ انجکشن لے لینا چاہتی تھی۔۔
“ددد دیکھو۔۔ سانس نہیں۔۔ ننن نہیں آ رہی۔۔ مم میں مر جاؤنگی۔۔ یہ دد دے دو”_
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ ہی کہاں رہی تھی۔۔ اسکی نگاہیں تو بس مضبوط مردانہ ہاتھوں میں بند اس انجکشن پر تھی۔۔ جس میں اسکا سکوں تھا۔۔ اسکی تمام تکلیفوں کا علاج تھا۔۔
“آئی سیڈ اسٹاپ اٹ لیڈی”_
وہ دبے دبے لفظوں دھاڑا تھا۔۔ باہر پورا میڈیا ایک چٹپٹی خبر کے انتظار میں موجود تھا۔۔ ایسے میں اسکی آواز اگر باہر جاتی ہے یا کسی کو اسکی کنڈیشن سے متعلق بھنک بھی پڑتی تو کتنا بڑا میس کرئیٹ ہو جائے گا۔۔
صرف نوح کے لئے ہی نہیں۔۔ خود اسکے لئے بھی۔۔
مگر اس وقت اسے کسی چیز کا ہوش ہی کہاں تھا۔۔
“پپپ پلیز مجھے یہ دے دو”_
اس نے بےبسی سے روتی بلکتی ازورا کو دیکھا۔۔ نشے کے لئے یوں گرگراتی وہ اسکا دل چیر رہی تھی۔۔
“ازورا۔۔ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔۔ یہ نقصان دہ ہے۔۔ میں نہیں دے سکتا آپ کو یہ”_
وہ اسے اب نرم لہجے میں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
۔
“ننن نہیں۔۔ اس سے سسس سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔۔ یہ ددد دے دو۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ پھر وہ مجھے نوچے گا بھی نا مجھے محسوس نہیں ہو گا۔۔ میں جنّت میں چلی جاؤنگی”_
اسکے سینے سے لگی بولتی وہ اسکا دماغ ماؤف کر گئی تھی۔۔
کون نوچے گا؟؟
“کس کی بات کر رہی تھی وہ ؟”
وہ یہ سب بتانے کی کنڈیشن میں نہیں تھی اس وقت۔۔
۔
“پلیز مجھے دے دو۔۔ او اور نہیں دد دے سکتے تو مار دد دو۔۔ مم مجھے مار دو”_
وہ اب ہذیانی انداز میں چیختی خود کو نوچ رہی تھی۔۔
“ازورا اسٹاپ اٹ لیڈی۔۔ ہوش میں آئیں”_
وہ اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں دلا رہا تھا۔۔ نوح کو محسوس ہو رہا تھا کوئی اسے کند چھوری سے آہستہ آہستہ ذبح کر رہا ہے۔۔ اسے کبھی اس حال میں بھی دیکھے گا یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔۔
اسکے دیکھتے ہی دیکھتے نجانے کہاں سے بلیڈ نکالتی آستین کے اوپر سے ہی اپنے ہاتھوں میں گہرے کٹ لگانے لگی۔۔
“آر یو میڈ لیڈی۔۔ چھوڑیں اسے”_
وہ تڑپ کر اسکے ہاتھوں سے بلیڈ لینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ اسکے قریب آنے پر وہ مزید خود کو نقصان پہنچا رہی تھی۔۔ آسمانی آستین لمحوں میں خون سے رنگنے لگی تھیں۔۔
“ممم مجھے وہ دو”_
اس نے جیسے نوح ارسلان کو وارن کیا تھا کے وہ انجکشن اسکے حوالے کر دے۔۔
“میں دے رہا ہوں آپ کو انجکشن۔۔ آپ یہ میرے ہاتھ میں دیں”_
اسکے کہنے پر اس نے اگلے ہی سیکنڈ ہاتھوں سے دو بلیڈز اسکے آگے کر دی تھیں۔۔
“مم مجھے بس یہ دے دو۔۔ پلیز دے دو”_
اسکے چہرے پر تکلیف تھی لیکن وہ ان زخموں کی نہیں تھی جو خود کو دے رہی تھی۔۔ وہ بس اس طلب کی تھی جو پوری نا ہونے پر اسکی جان لے رہی تھی۔۔
وہ شکست خوردہ سی گہری سانس خارج کرتا اسکے قریب آیا تھا۔۔
“ننن نہیں۔۔ انجکشن دد دو”_
اسے ادھ کھولی نگاہوں سے دیکھتی وہ بدک کر پیچھے ہوئی تھی۔۔ ساتھ ہی بلیڈ ایک بار پھر اپنے ہاتھوں پر پھیرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“نو۔۔ ڈونٹ ڈو ڈیٹ لیڈی”_
نوح ارسلان زندگی میں پہلی بار خود کو اس قدر بےبس محسوس کر رہا تھا۔۔ بھل بھل بہتا اسکا خون اسکی جان نکال رہا تھا اور وہ تھی جو تکلیف سے بےنیاز خود کو مزید تکلیف پہنچانے کی درپے تھی۔۔
احتیاط سے اسکا بازو تھاما تھا۔۔ وہ الرٹ ہوئی دوسرے ہاتھ میں بلیڈ ہنوز تھامے ہوئی تھی۔۔
“میں دے رہا ہوں انجکشن آپ کو۔۔ یہ مجھے دے دیں لیڈی”_
اس نے التجائیہ انداز میں اس سے کہا تھا۔۔
“کیا خبر وہ اسکے حوالے کر دے”_
اسے اپنے ہاتھوں سے اسے یہ زہر دینا نا پڑے۔۔
نجانے کب سے وہ اس موزی لت میں مبتلا تھی اتنی آسانی سے وہ ٹھیک نہیں ہوتی۔۔
“سس سب ٹھیک ہو جائیگا۔۔ ابھی ٹھیک ہو جائیگا”_
نظریں نوح پر جمائے وہ خود کو تسلی آمیز الفاظ کہ رہی تھی۔۔
“پپپ پلیز”_ بھوری سرخ نگاہوں سے اسے تکتی وہ بھی تو التجا کر رہی تھی کے وہ یہ محلول اسکے اندر اتار کر اسکی زندگی آسان کر دے۔۔ نوح نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔ دونوں لب باہم پیوست کئے اسکے بازو میں انجکشن دیا۔۔ آنکھیں شدّت ضبط سے سرخ انگارہ ہو گئیں تھی۔۔ “کیا خبر تھی کے کبھی زندگی اس نہج پر بھی لے آئیگی۔۔ اپنے ہاتھوں اسے یہ زہر دینا کیسا تھا کوئی اس سے پوچھتا۔۔۔ اسکے چہرے پر سکون تھا۔۔ گہری بھوری آنکھوں میں وحشت ناک سناٹا۔۔ کمرے میں گہرا سکوت چھا گیا۔۔۔ نوح نے اسے دیکھا۔۔ جو اسکے سینے سے لگی اب ہوش حواس کھو رہی تھی۔۔ اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا اسکے قریب ہو کر اسکی کلائی پر باندھی۔۔ “تت تم ببب بھی تو چھوڑ دو گے مجھے نوح ارسلان۔۔ پپ پھر سے اس زندان میں چھوڑ آؤ گے”
وہ بےہوشی میں دهیمی آواز میں کہ رہی تھی۔۔
اسکے چہرے پر خوف کے گہرے سائے تھے۔۔ وہ اسکے سینے سے یوں لگی تھی جیسے تھوڑی سی بھی گرفت ڈھیلی پڑی تو کوئی اسے نوح سے دور کر دیگا۔۔
۔
“نننن نہیں جاؤ۔۔ مم مجھے چھوڑ کے”_
اسکا خود سے دور ہونا محسوس کرتی وہ کرب سے بولی تھی۔۔
“آپ کے پاس ہی ہوں۔۔ باہر جو رائتہ پھیلا ہے وہ سمیٹ لینے دیں لیڈی”_
اسے نرمی سے حصار میں لے کر بیڈ پر لیٹا کر اس نے اسکے بازو کا جائزہ لیا۔۔ باندھنے کی وجہ سے خون رک گیا تھا لیکن کٹ گہرے تھے۔۔
ساتھ ہی وہ ان کونشئس تھی اس وقت۔۔
وہ کوٹ درست کرتا کمرے سے باہر نکلا۔۔
“سر !! میم کو لے آؤں۔۔ سب ویٹ کر رہے ہیں انکا”_
کیمرے کے چکا چوند روشنی میں فرحین (سیکریٹری ) چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی تھی۔۔
“انکی طبیعت نہیں ٹھیک وہ نہیں آ سکیں گی”_
وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا تھا۔۔ فرحین نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“سر۔۔ بس کچھ دیر کے لئے میم کو لے آئیں۔۔ بہت باتیں بنیں گی”_
وہ کسی مصلحت کے تحت بولی تھی۔۔ وہ اچھی طرح جانتی اس وقت اگر یہ آناؤس کریں گے کے دلہن نہیں آ رہی ریسیپشن پر تو کیا ہوگا۔۔
اس نے لب بھینچ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ جو اور بھی کچھ کہ رہی تھی اسکی انگارہ ہوتی نگاہیں دیکھ کر سن رہ گئی۔۔
تھوک نگلتے اس نے اسکی جانب دیکھا۔۔
“میری بیوی کی طبیعت نہیں ٹھیک۔۔ آپ چاہتی ہیں محض لوگوں کی باتوں کی وجہ سے میں انہیں اس حال میں انکے سامنے انکے سوالوں کے جواب کے لئے لا کھڑا کروں ؟”
وہ سنجیدہ تاثرات چہرے پر سجائے بولا۔۔
“نوح کیا بات ہے۔ ازورا کہاں ہے۔۔؟”
دارم سے بات کرتے اختر شیروانی معاملے کی سنگینی بھانپتے انکے قریب آئے تھے۔۔
“ازورا کی طبیعت نہیں ٹھیک۔۔ وہ باہر نہیں آ سکیں گی۔۔ آپ ڈنر سٹارٹ کروائیں انہیں فارغ کریں”_
وہ مہمانوں سے بھرے ہال پر ایک نگاہ ڈال کر بولا۔۔
“کیا ہوا ازو کو ؟
دارم نے کسی انہونی کے خدشے کے تحت اسے دیکھا۔۔
“تمہاری دوست بھی تو آئیں تھی نا تمہارے ساتھ ؟”
اسکے سوال کو نظر انداز کر کے وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔ دارم نے ناسمجھی سے اشارے سے رمشاء کو بلایا۔۔
“اندر ازورا کو چیک کریں۔۔ اور انکی چینج کرنے میں ہیلپ کر دیں”_
وہ ناسمجھی سے دارم کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
“اوپر فرسٹ رو میں دوسرا کمرہ”_
اسکی آواز ایک بار پھر آئی تھی۔۔
۔
ڈنر سرو کروا دیا گیا تھا۔۔ نوح ارسلان کی بیوی اپنے ہی ریسیپشن پر موجود نہیں تھی۔۔ کتنے ہی سوال تھے جنکے جواب وہ اپنے ازلی پرسکون انداز میں دے رہا تھا۔۔
ایک گھنٹہ میں مہمان آدھے سے بھی کم رہ گئے تھے۔۔ میڈیا کو تو اس نے پہلی فرصت میں ہی انکے جواب دے کر فارغ کیا تھا۔۔
۔
“تم مجھے بتاؤ گے کیا ہوا ہے ازو کو ؟”
دارم بےچینی سے اس کے قریب آیا۔۔
“نہیں میں نہیں_ تم تم مجھے بتاؤ گے دارم اسفہان کے ازو کو کیا ہوا ہے ؟”
وہ لفظوں پر زور دیتے ایک انگلی سے اسکے سینے پر زور دے کر بولا تھا۔۔
“ابھی میری بیوی کی حالت اس بات کی اجازت نہیں دے رہی کے میں تم سے سوال جواب کروں۔۔ کل میں تمہارے پاس آؤنگا اور تم لفظ با لفظ مجھے سچ بتاؤ گے۔۔ ازورا کب سے ڈرگز لے رہی ہیں۔۔ کیوں لے رہی ہیں ؟
وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔۔ تو کیا وہ سب جان گیا تھا دارم کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔
“تم نے ایک کنٹریکٹ کے بنا پر اس سے نکاح کیا۔۔ میں پھر بھی تمہیں سب بتانا چاہتا تھا لیکن جس روز تم نکاح کے لئے آئے تم نے میری کوئی بات نہیں سنی۔۔ اور اسکے بعد ازو نے کہا وہ نہیں چاہتی تمہیں کچھ پتہ چلے۔۔ خدا کے لئے اسے کچھ نہیں کہنا نوح”
وہ نجانے کیا سمجھ بیٹھا تھا۔۔ اسکی جانب دیکھتے وہ التجائیہ انداز میں بول رہا تھا۔۔
“وہ ڈرگز لیتی ہیں میں جانتا تھا”_
نوح آہستگی سے بولا۔۔
دارم نے اچھنبے سے اسکی جانب دیکھا تو کیا وہ ڈرگز کی بات کر رہا تھا۔۔
“اور بھی باتیں ہیں جو تم نہیں جانتے۔۔ میں چاہتا ہوں تمہیں سب پتہ ہو۔۔ اس روز اگر تم مجھے دھمکا کر نہیں نکاح کرتے ازو سے۔۔ یا ازو مجھے منع نہیں کرتی تمہیں بتانے سے تو میں سب پہلے ہی بتا دیتا”_
۔
“میں نے ڈریسنگ کر دی ہے۔۔ اتنی ہیوی ڈوز لی ہیں اس نے ڈرگز کی کے میں کوئی اور میڈیسن نہیں دے سکی اسے”_
رمشا کے آنے وہ دونوں خاموش ہو گئے۔۔
“میں دیکھ لوں اسے ؟”
دارم نے اجازت طلب نظروں سے نوح کی جانب دیکھا تھا۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتا اختر شیروانی کی جانب چل دیا۔۔ جو اکّا دکّا مہمان باقی تھے وہ بھی جا رہے تھے۔۔
۔
“دار”_ اسکے قریب آنے پر وہ دھیرے سے بولی تھی۔۔ دارم کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔ اسکے دونوں ہاتھوں پر پٹی بندهی ہوئی تھیں جو ابھی رمشا کر کے گئی تھی۔۔ “دار کی جان۔۔ میرا بیٹا”
اسکے ماتھے پر کب رکھ کر اس نے نرمی سے پیار کیا۔۔
“ووو وہ بھی چھوڑ دے گا۔۔ سسس سب جان کر وو وہ بھی چھوڑ دے گا دار”_
وہ تڑپتی ہوئی بول رہی تھی۔۔ دارم نے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی تڑپ بتا رہی تھی وہ نوح ارسلان سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی۔۔
“دار وعدہ کر رہا ہے بچے وہ نہیں چھوڑے گا میری ازو کو”_
نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔ جو اب بھی جوڑے میں بندھے ہوئے تھے۔۔
“ووو وہ ابھی بھی چلا گیا ہے دار۔۔ وہ چھوڑ دے گا نا مجھے”_
وہ تکیہ میں سر پٹخ رہی تھی۔۔
“رمشا انتظار کر رہی ہیں تمہارا”_ نوح کی آواز پر اس نے اسکی جانب دیکھا۔۔ “پلیز اسکا خیال رکھنا۔۔۔ گو کے وہ جانتا تھا وہ خیال رکھے گا اسکا لیکن پھر بھی اسکی حالت کے پیش نظر بول گیا۔۔ وہ سر ہلا گیا بولا کچھ نہیں۔۔۔ اسکے جانے کے بعد وہ اسکے قریب آیا۔۔ کوٹ اتار کر صوفہ پر پھینکنے کے بعد شوز بھی وہیں رکھے۔۔ نظریں اس پر ہی تھیں جو اب بھی مدھر آواز میں کچھ کہتی تکیہ پر سر پٹخ رہی تھی۔۔ چند پل وہیں بیٹھے سر میں ہاتھ پھیرتے رہنے کے بعد وہ اسکے نزدیک آیا۔۔ بنا پلکیں جھپکائے اسے تک رہا تھا۔۔ کچھ دیر پہلے کتنی پیاری لگ رہی تھی کے اسکی اپنی ہی نگاہیں نہیں ٹھہر رہی تھیں۔۔ رمشا نے اسے چینج کروا دیا تھا۔۔ اس وقت وہ ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس تھی۔۔ ہاتھوں میں پٹی۔۔ متورم آنکھیں۔۔ بھیگی پلکیں۔۔ “It destroyed my inner self Lady, your condition torn me into pieces”
اسکی انگلیوں کو چومتے وہ دھیرے سے بولا۔۔
اسکا سسکنا پل بھر کے لئے تھم سا گیا تھا۔۔ زخم کا جائزہ لیتے اسکی نظریں اوپر کی جانب نشان پر پڑی۔۔اسکے بازو میں مزید اسی طرح کے نشان تھے۔۔
اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔
کلائی سے آستین اوپر کرتے اسکی نظریں کئی اسی طرح کے نشانات پر پڑی تھیں۔۔
بازو تک جاتے جاتے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔
اسکے بازو پر صرف کٹس کے نشان نہیں تھے۔۔ دودھیا بازو پر جا بجا سگریٹ سے داغے گئے نشانات تھے۔۔ کچھ نئے۔۔ کچھ پرانے۔۔ گلابی رنگت پر وہ نیلے نشانات واضح نظر آ رہے تھے۔۔
“تت تم بھی تو چھوڑ دو گے نا۔۔۔ سسس سب پتا چل گیا تو تم بھی تو چھوڑ دو گے”_ وہ اب بھی بول رہی تھی۔۔ “نوح ارسلان کبھی نہیں چھوڑے گا آپ کو۔۔ ساری دنیا آپ کی مخالف ہو جائے جب بھی مجھے ساتھ پائیں گی آپ”
بالوں سے پن نکالنے کے بعد اسکے کانوں سے جھمکے بھی اتار دیے۔۔ اب محض ہاتھوں میں اسکا دیا بریسلیٹ جگمگا رہا تھا۔۔
اسے ساتھ لگانے پر وہ پرسکون ہوتی چلی گئی۔۔
جب کے اسکی آنکھوں سے نیند کہیں کھو گئی تھی۔۔
۔
آذان کی میٹھی آواز پر بھی اسکے وجود میں جنبش نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ ہنوز اسکا سر اپنے شانے پر ٹکائے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
جو اب آنکھیں کھول کر اطراف میں دیکھتی کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
“مہمانوں کو ڈھونڈ رہی ہیں کیا ؟”
بہت قریب سے آتی آواز پر رخ پھیر کر اسے دیکھا جو اب بھی اسی طرح اطمینان سے لیٹا ہوا تھا۔۔ اسکی آواز پر پورے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔۔ ذہن کے پردوں پر کتنے ہی لمحات واضح ہوتے چلے گئے۔۔
اس نے بےساختہ اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا جس پر پٹی کی گئی تھی۔۔ ندامت تھی شاید اسکی جانب دیکھنے کی جسارت نہیں کر پا رہی تھی۔۔
“وہ انجکشن۔۔۔۔
اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔۔
وہ اسکا شرمندگی سے جھکا سر دیکھ رہا تھا۔۔
مگر نجانے کیوں نوح ارسلان کو اسکا شرمندہ ہونا اچھا نہیں لگا تھا۔۔ شرمندگی سے جھکی اسکی نظریں اس کے دل پر گراں گزر رہی تھیں۔۔ چند مہینے پہلے اسی بات پر وہ اسے شرمندہ کرنا چاہتا تھا اس وقت کتنی دلیری سے اس نے کہا تھا کے وہ نا صرف ڈرگز لیتی ہے بلکے سموکنگ بھی کرتی ہے۔۔ اس روز اسکے انداز میں کہیں بھی شرمندگی کا عنصر تک شامل نہیں تھا۔۔
آج اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ سر اور نگاہیں جھکائے شرمندہ سی ندامت میں گھری اسکے سامنے بیٹھی تھی تو اب بھی دل کو چین نہیں تھا۔۔
“آپ کے پاس کہاں سے آئیں وہ چیزیں ازورا ؟”
اسکے نرمی سے سوال کرنے پر وہ بھیگی نگاہیں اٹھا کر گویا مقابل کو مزید مشکل میں ڈال گئی تھی۔۔
“ممم میرے پاس موجود تھیں وہ۔۔ میں ککک کل اپنے کمرے سے لے کر آئی تھی”_
اسکا جھکا سر مزید جھک گیا تھا۔۔ اگر وہ چیختا۔۔ اس پر اپنا غصّہ نکالتا تو شاید وہ اس قدر شرمندہ نا ہوتی جتنی ابھی اسکی نرمی پر ہو رہی تھی۔۔
اسکی وجہ سے کل اسے سب کے سامنے کتنی سبکی ہوئی ہوگی اسے اندازہ تھا۔۔
“تو آپ نے ارادتاً کیا وہ سب ؟”
وہ اطمینان سے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا یوں پوچھ رہا تھا جیسے اسکی نہیں کسی اور کی بات ہو رہی ہو۔۔
“نہیں۔۔ میں سچ کہ رہی ہوں میں نے ارادتاً ایسا کچھ نہیں کیا۔۔ میں ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی”_
اسکے ہاتھوں پر سر رکھے وہ بری طرح رو دی تھی۔۔ اسکے لہجے میں ندامت کے ساتھ خوف بھی تھا۔۔
“ڈرگز کب سے لیتی ہیں آپ ؟”
اس نے اگلا سوال کیا تھا۔۔۔ اسکی حالت آپ بیاں کر رہی تھی جواب تو۔۔
وہ کچھ نہیں بولی۔۔
“کل پہلی اور آخری بار تھا کو آپ نے میرے سامنے خود کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔ اس طرح کٹس لگا کر۔۔ سمجھ رہی ہیں نا ؟”
اسکا انداز اب بھی نرمی لئے ہوئے تھا وہ بہت نرمی سے اسکے بال سنوار رہا تھا۔۔ لیکن لہجے کی سرد مہری محسوس کرتی وہ کانپ سی گئی تھی۔۔
“سپیک اپ لیڈی !!”
اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“ججج جی سمجھ گئی”_
آنسوں اندر اتارتی وہ دھیرے سے بولی تھی۔۔ یہ بولنا اسے کس بری طرح سیکھایا گیا تھا سوچ کر ہی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔۔ آنسوں کا گولہ حلق میں پھنس سا گیا تھا۔۔
“رونا نہیں ہے۔۔ اس طرح کی حرکت کے بعد آپ کیا ایکسپیکٹ کر رہی تھیں کے آپ سے باز پُرس کئے بنا ہی میں آپ پر محبت نچھاور کرونگا ؟”
وہ سخت لہجے میں بولا تھا۔۔ اس وقت یہ سختی ضروری تھی ورنہ وہ ہمیشہ اسی طرح خود کو نقصان پہنچاتی۔۔۔
“مم میں نے ایسی کوئی امید نہیں لگائی آپ سے”_
اسکے خفگی سے کہنے پر نوح نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا۔۔ یہاں تو وہ حساب ہو رہا تھا کے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔
“جو حرکت آپ نے کی ہے اسکے لحاظ سے تو میں بہت نرمی سے پیش آ رہا ہوں آپ کے ساتھ لیڈی۔۔ پھر یہ رونا اور یہ خفگی کیسی ؟”
آنسوں صاف کرتا وہ قدرے سختی سے بولا۔۔ اسے نہیں کہ پایا کے اسکا رونا اسے تکلیف دے رہا ہے۔۔
۔
“آئی ایم سوری !”
وہ اسکے ہاتھ اپنے بالوں سے ہٹاتی دھیرے سے بولی۔۔ نوح نے تعجب بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ وہ اس سے کچھ بھی ایکسپیکٹ کر رہا تھا مگر سوری نہیں۔۔۔
وہ اس طرح معافی مانگے گی یہ اس نے کب سوچا تھا۔۔
۔
“اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کے جسم میں زہر انڈیلنا کیسا ہوتا ہے ازورا نوح ارسلان ؟”
اسکے بالوں کو ایک بار پھر ہاتھوں میں لئے وہ متاسف انداز میں بول رہا تھا۔۔ اب کی بار گرفت نرم نہیں تھی۔۔
ازورا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔
“کیا ابھی نوح ارسلان نے اسے اپنی زندگی کہا ہے؟”_ ۔ “تکلیف ہوتی ہے نا ؟” اسکی گرفت مزید مضبوط ہوئی۔۔ وہ درد برداشت کرنے کی کوشش میں کچھ آگے ہوئی تھی۔۔ بولی کچھ نہیں۔۔ “مجھے بھی بہت تکلیف ہوئی تھی آپ کے جسم میں وہ زہر انڈیل کر۔۔ اس تکلیف کا مداوا آپ کی معافی نہیں کر پا رہی۔۔ جو اذیت گزشتہ رات آپ نے مجھے دی ہے خود کو تکلیف پہنچا کر اسکا ازالہ آپ کا یہ ایک لفظ کسی صورت نہیں کر سکتا ازورا نوح ارسلان”
اسکے الفاظ کی تپش جہاں اسے انگاروں پر پھینک گئی تھی وہیں اسکے جملے کا مطلب سمجھ آنے تک وہی انگارے پھولوں کی مانند لگنے لگے تھے۔۔
“وہ اسے زندگی کہ رہا تھا”_
اس نے تو بس یہی سنا تھا۔۔ باقی تمام الفاظ بےمعنی معلوم ہو رہے تھے۔۔۔
۔
“بتائیں کس طرح ازالہ کریں گی میری اس تکلیف کا جو آپ نے گزشتہ رات مجھے دی ؟”
وہ اب ٹلتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا۔۔ اس نے آنکھیں میچ کر بات بدلی۔۔
“میں یونیورسٹی جوائن کرنا چاہتی ہوں”_
اسکے جملے پر نوح نے ماتھے پر بل ڈالے اسے گھورا۔۔
“آج حالت دیکھیں اپنی”_
اسکے بولنے پر وہ بےچین سی ہوتی قریب آئی۔۔
“پلیز مجھے آج سے ہی جوائن کرنی ہے۔۔ پہلے ہی ایک سیمسٹر فریز ہو گیا ہے میرا”_
نوح نے ایک نظر اس پر ڈالی۔۔
“ٹھیک ہے”_
وہ مختصراً بولا۔۔
۔
اختر شیروانی کے منع کرنے پر بھی اس نے ان سے بات کی کے گھر پر بیٹھے بیٹھے اسکی طبیعت مزید خراب ہو جائے گی لہٰذا اسے جانے دیں۔۔ وہ بھی بلآخر راضی ہو گئے تھے۔۔
خود بھی آفس کے لئے تیار تھا۔۔ آج آفس سے پہلے وہ دارم کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔ اسے معلوم کرنا تھا کہ آخر وجہ کیا تھی ازورا کے ڈرگ ایڈکٹڈ ہونے کی۔۔۔
وہ سوچوں میں گم تھا جب وہ فرنٹ ڈور کھولتی اسکے ساتھ بیٹھی۔۔ پوری آستین کی کرتی اور کیپری میں ملبوس تھی۔۔ نوح نے آج غور کیا تھا کے وہ ہمیشہ ہی پوری آستین پہنتی تھی اسکی وجہ وہ کل جان گیا تھا لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔
آج وہ کچھ الگ سی لگ رہی شاید سكارف کے اضافے کی وجہ سے جو اس نے اسکے ڈریس کے ساتھ ہینگ کی تھی۔۔
بالوں کا آج بھی میسی سا جوڑا بنایا ہوا تھا۔۔ میک سے مبرا چہرہ۔۔ البتہ ہلکی سی جھلکتی گردن میں نوح کو آج بھی کسی مدھم سے نشان کا گمان ہوا تھا جو آج بھی واضح نہیں تھا۔۔
۔
“پروفیسر کون ہیں آپ کے ؟”
اس کے بیٹھنے پر نوح نے یونہی پوچھا تھا۔۔ وجہ یہی تھی وہ خود بھی اسے اپنے ساتھ نارمل کرنا چاہ رہا تھا جسکی اجازت حالات نہیں دے رہے تھے۔۔
“پروفیسر جمال اکبر “_
وہ دھیرے سے بولی۔۔ ساتھ ہی اپنے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی۔۔
“اسٹاپ اٹ۔۔ کاٹ کر چین نہیں ہے۔۔ مزید اذیت دے رہی ہیں”_
اسکے ہاتھ نرمی سے اپنی گرفت میں لیتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
ازورا نے اسکے مضبوط ہاتھ میں قید اپنے دونوں ہاتھ دیکھے۔۔ اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھر کر معدوم ہوئی۔۔
اسے یہ قید بری نہیں لگی تھی۔۔
“پروفیسر جمال اکبر ؟”
اس نے دوبارہ نام دوہرایا۔۔۔۔
“جی”__
وہ یک لفظی جواب دے کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔ ہاتھ البتہ اسکے ہاتھ سے نکالے نہیں تھے۔۔
۔
“ازورا بچے آپ”_
وہ لیکچر سے فارغ ہو کر اپنے آفس میں آئے تھے جب وہ انہیں بیٹھی نظر آئی تھی۔۔
“السلام علیکم پروفیسر !!”
وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔۔
“وعلیکم السلام۔۔ بچے کہاں ہیں آپ۔۔ میں نے کتنے لوگوں سے معلوم کیا۔۔ پھر مجھے معلوم ہوا کے سیمسٹر فریز کر لیا آپ نے۔۔ خیریت ہے؟”
وہ فکرمندی سے بولتے چیئر پر آ بیٹھے تھے۔۔
۔
“میری شادی ہو گئی ہے”_
اس نے مختصراً کہا۔۔
“ماشاءالله !! یہ تو خوشی کی خبر ہے”_
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ جواباً وہ بھی ہنس پڑی۔۔
۔
“اب کنٹینیو تو کرنا ہے نا ؟”
انہوں نے کسی خدشے کے تحت پوچھا تھا۔۔ جس پر وہ مسکراتی ہوئی اثبات میں گردن ہلا گئی۔۔
“آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا پروفیسر کے آپ مجھے ان تمام لاء کے بارے میں ڈیٹیل بتائینگے”_
وہ انہیں چار ماہ پرانا عہد یاد دلا رہی تھی۔۔
۔
“آپ نے کلاس آج سے جوائن کرنی ہے کیا ؟؟ اگر نہیں تو میرے ساتھ چلیں۔۔ میں آپ کو ایک ایسی شخصیت سے ملوا سکتا ہوں جو آپ کو مجھ سے بہتر سمجھ بھی سکے گی اور سمجھا بھی سکیں گی”_
انہوں نے پیش کش کی۔۔ جس میں کچھ توقف کے بعد اس نے حامی بھر لی تھی۔۔
“میں کل سے جوائننگ دونگی”_
لمحوں میں فیصلہ ہو گیا تھا۔۔
“پھر آجائیں_ کسی سے اجازت لینا چاہتی ہیں تو لے لیں۔۔ اور ہاں اگر آج ان سے ملنے کے بعد آپ آرگنائزیشن میں شامل ہونا چاہیں گی تو بلا جھجھک کہ سکتی ہیں”
وہ ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بول رہے تھے۔۔ اس لڑکی کو وہ اس طرح نہیں سمجھ سکتے تھے جس طرح لیلیٰ سمجھ سکتی تھی۔۔
اور اسے سمجھا بھی سکتی تھی۔۔
اس نے انکے ساتھ چلتے چلتے ہی نوح کو ٹیکسٹ کیا تھا۔۔
۔
انکی گاڑی ایک پُرشکوہ عمارت کے آگے رکی تھی۔۔ جسکے ماتھے پر جلی حرفوں میں “” ال عنکبوت “” لکھا جگمگا رہا تھا۔۔
پارکنگ لاٹ کا آدھا ایریا مختلف میڈیا چینلز کی گاڑیوں سے بھرا تھا۔۔
بڑی بڑی بیش قیمت گاڑیاں_ کروفر سے چلتے امیر زادے
آدھی آستین اور پرکٹے بالوں کے سنگ عورتیں جو عورتوں کے وجود کو شرماتی انکے ہی حقوق کی علمبردار بنی وہاں موجود تھیں۔۔۔
۔
“یہ ایک لائیو کانفرنس ہے۔۔۔ اس آرگنائزیشن کی اونر لیلیٰ جمال اکبر کی جانب سے”_
وہ اسکے کانوں کے قریب سرگوشی میں بولے تھے۔۔ ازورا نے حیرانی سے انکی جانب دیکھا۔۔
اسکی حیرانی سمجھتے وہ مسکرا دیے۔۔
اندر آ کر ایک لڑکی سے انہوں نے کچھ کہا تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ لڑکی اسے سیٹ دے چکی تھی۔۔ وہ جانتی تھی یہ ایک سیٹ کس قدر قیمتی تھی۔۔ اس نے تشکر آمیز نگاہوں سے پروفیسر کی جانب دیکھا۔۔
۔
“اگر تمہیں لگے کے تم کسی بھی سوال کا جواب دے سکتی ہو تو بلا جھجھک دے دینا۔۔۔ لیلیٰ کو میں تمہارے متعلق پہلے ہی بتا چکا ہوں”_
وہ ایک بار پھر بولے تھے۔۔ راستے میں ہی انہوں نے لیلیٰ کو ٹیکسٹ کر دیا تھا کے آج کے کانفرنس میں وہ اپنی سٹوڈنٹ کو بھی لا رہے ہیں۔۔
اس نے خود سے چار کرسیاں چھوڑ کر بیٹھی لیلیٰ جمال اکبر کی جانب دیکھا۔۔
نیوی بلیو کلر کی ویل میں ملبوس آسمانی رنگ کا حجاب چہرے کے گرد لپیٹے شفاف چہرہ۔۔ اور پراعتماد انداز۔۔۔
“لیلیٰ جمال اکبر “
اس نے دل ہی دل میں اعتراف کیا تھا حسن اور وقار کا اس قدر خوبصورت امتزاج اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
لیلیٰ نے اسے دیکھ کر سمائل پاس کی جیسے اشارہ ہو کے وہ پرسکون ہو جائے۔۔۔
وہ پہلی بار دل سے مسکرائی تھی۔۔
کچھ ہی دیر میں حال بھرنے لگا تھا۔۔ میڈیا ریپوٹرز اپنے اپنے کیمرے سیٹ کر رہے تھے۔۔ اس نے دیکھا تمام خالی نشتیں بھرنے لگی تھیں۔۔
اسکی نظریں لیلیٰ کی دوسری جانب موجود عورت پر پڑی۔۔۔۔
سكارف سے چہرہ چھپائے بیٹھی آرزو۔۔۔
اسکے دوسری جانب ایک کامیاب وکیل بیٹھی تھیں وہ انہیں اکثر ٹی وی پر دیکھتی رہی تھی۔۔
“حال ہی میں کچھ ماہ قبل ہم نے اسی طرح کی ایک پریس کانفرنس بلوائی تھی۔۔ جس میں آج ہی کی طرح ملک کے بڑے عہدیداران حضرات بھی تھے۔۔ مختلف این جی وز کے اونر بھی۔۔ خواتین کے حقوق کی کچھ علمبردار بھی۔۔۔۔ غرض ایک گرم ماحول اور بہت سے دلائل کے بعد بھی چار ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس آٹھ سالہ بچی کے مجرموں کو سزا نہیں مل سکی۔۔ کیس ابھی عدالت میں ہی تھا کے وہ غائب ہو گئے اور کسی کو کان و کان خبر نہیں ہوئی۔۔ کل ہمیں پتہ چلا کے وہ تو بیرون ملک چھٹیاں منا رہے ہیں”_ اس نے دوسری جانب ازورا سے چند فٹ کی دوری پر بیٹھی بچی کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ “اس بچی کو یہاں بٹھانے کا یہ مقصد ہے کے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھے کے بروز محشر اسے آپ میں سے کن لوگوں کا گریبان پکڑنا ہے”_
اسکی مستحکم آواز کتنے ہی لوگوں پر لرزاں طاری کر گئی تھی۔۔۔
۔
“اس روز مجھے کسی نے بہت کروفر سے کہا تھا کے پنجاب حکومت نے سب سے پہلے چائلڈ ابیوز کے لئے لاء بنائے ہیں۔۔۔ تو آج میں سوال کر رہی ہوں کے اس وقت وہ لاء۔۔ اور لاء بنانے والے کہاں مر گئے تھے جب حکومتی ادارے ہمیں تاریخ پر تاریخ دیتے رہے اور اس معصوم کے مجرم فرار ہو گئے”_ ہال میں محض اسکی آواز گونج رہی تھی۔۔ ازورا نے بھیگی آنکھوں سے اس بچی کی جانب دیکھا جو ساکت نگاہوں سے ہال میں بیٹھے لوگوں کو دیکھتی شاید انسان ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ ۔ “کیا ہوا ؟؟ کہانی ختم ؟؟ نہیں ٹھہرئیے” _
“فقط نام تبدیل ہوا ہے۔۔ وہی جرم اور وہی درندے۔۔۔ چھ روز قبل ہمارے ادارے میں ایک بار پھر وہی کیس آیا ہے۔۔۔ چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔۔ اسکی ماں کو فون کر کے بلایا گیا اسکے سامنے اعتراف جرم کرنے والا وہ مجرم صرف وہ نہیں تھا۔۔۔ آپ سب لوگ بھی تھے۔۔۔ جنکی وجہ سے اسے اتنی ہمّت ملی کے اس ماں کی بچی کو روند کر وہ سینہ تان کر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔۔
کیوں کے وہ جانتا ہے کے اگر وہ گرفتار ہو بھی جاتا ہے تو اسکا باپ اسے مہمان خانے میں رکھے گا۔۔۔ عدالتیں ہمیں تاریخ پر تاریخ دينگی اور وہ کسی بیرون ملک ویکیشن منانے چلا جائے گا۔۔۔۔
پنجاب میں اس وقت ریپ کے کیسز کا ریشو سب سے زیادہ ہے۔۔۔
“”گزشتہ سال کے پچھلے چھ مہینوں میں 497 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔۔ جس میں سے 57% کیسز پنجاب کے رپورٹ ہوئے۔۔ جب کے باقی 32℅ سندھ کے۔۔ اور 6℅ خیبر پختوں خواہ کے۔۔۔ 32 کیسز اسلام آباد کے۔۔ 22 بلوچستان کے۔۔ 10 آزاد کشمیر کے اور ایک گلگت بلتستان کے رپورٹ ہوئے””_ (In the report of SAHIL’s “Cruel Number” he said,, as of June this 497 children were sexually abused,, most of the cases were in Punjab_ with 57℅ ratio.. And the rest were in Sindh with 32℅ ratio.. And Khyber Pakhton Khuwa with 6% ratio.. More than 32 were reported in Islamabad, 22 in Balochistan, 10 in Azad Kashmir and one in Gilgit Baltistan)_ Reference : Child Protecting N.G.O Sahil report published Last year at September ۔ “اب آپ بتائیں محفوظ کس جگہ ہیں یہ”_
اسکے سوال پر ہال میں موت کا سا سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔
“میم یہ کیسز شہروں میں زیادہ ہوتے ہیں”_
سامنے بیٹھی ایک کم عمر ری پورٹر نے کہا تھا۔۔۔ اسکی بات پر لیلیٰ مسکرا اٹھی۔۔
“ان میں سے 62℅ کیسز گاؤں دیہات یعنی رورل ایریا میں رپورٹ ہوئے ہیں”_ جواب لیلیٰ کی جانب سے نہیں آیا تھا۔۔ جواب غیر متوقع طور پر کب سے خاموش بیٹھی ازورا کی جانب سے آیا تھا۔۔۔ پچھلی نشت میں بیٹھے نوح نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کے وہ یہاں موجود ہے وہ تو اسکا میسج دیکھ کر آیا تھا کے وہ پروفیسر جمال اکبر کے ساتھ انکے آرگنائزیشن جا رہی ہے۔۔ وہ جانتا تھا پروفیسر جمال اسے کس آرگنائزیشن لے کر جائیں گے۔۔ ساتھ ہی سب کی نظریں بھی۔۔ کیمروں کا رخ تیزی سے اس چھوٹی سی لڑکی کی جانب ہوا تھا۔۔ جو شکل سے ہی سٹوڈنٹ لگ رہی تھی۔۔ کتنی ہی سرگوشیاں ابھری تھیں۔۔ کچھ آنکھوں میں فخر لئے اسے دیکھ رہے تھے۔۔ اور کچھ بھسم کر دینے والی نگاہوں سے۔۔۔ ۔ “ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کے ہم اسے گناہ سمجھیں۔۔ کہاں ہوا۔۔ کس کے ساتھ ہوا۔۔ جسکے ساتھ ہوا اسکا کردار کیسا تھا۔۔ جہاں ہوا جو جگہ کیسی تھی یہ سب سوچنے اور کہنے کی بجائے یہ سوچیں کے جس کے ساتھ بھی ہوا۔۔ جہاں بھی ہوا غلط ہوا ہے۔۔ اور جس نے کیا ہے اسے ہر صورت سزا ملنی چاہیے”
وہ اب مزید بول رہی تھی۔۔ سب دم سادھے اسے سن رہے تھے۔۔
“Out of the total cases from Sahil’s report,, 62℅ were reported in rural areas and 38℅ were recorded in urban areas”_ ہال میں اب اسکی آواز گونج رہی تھی۔۔ لیلیٰ نے مسکرا کر جمال کی جانب دیکھا۔۔ اس نے اس رپورٹ پر اسٹڈی کی ہوئی تھی۔۔ اسکے بعد بھی لیلیٰ بہت سی باتوں میں اسکی رائے بھی شامل کرتی رہی تھی۔۔ کانفرنس کے اختتام پر کیس رپورٹ کرنے کے ساتھ ہی ساتھ دینے کا بھی وعدہ کرتے بہت سے لوگ ازورا لاشاری کے بابت پوچھنا نہیں بھولے تھے۔۔۔ یہ “ازورا لاشاری ” کی “لیلیٰ جمال اکبر ” سے پہلی روبرو ملاقات تھی۔۔ لیلیٰ جمال اسکی زندگی کے چند ایک اہم لوگوں میں جلد شمار ہونے والی تھی۔۔ “ویری نائس ٹو میٹ یو ازورا۔۔۔۔ لیلیٰ نے بات ادھوری چھوڑی۔۔۔ وہ اسکا پورا نام نہیں جانتی تھی۔۔ “لاشا
ابھی وہ پورا نام بتانے ہی والی تھی جب پیچھے سے بھاری مردانہ آواز آئی تھی۔۔
“نوح ارسلان۔۔۔ شی از ازورا نوح ارسلان”
وہ مسکراتے ہوئے بولتا آگے آیا تھا۔۔۔ ازو نے حیرت سے اسے دیکھا تو اس نے فون میں میسج کی جانب اشارہ کیا۔۔۔
“نوح۔۔۔۔
لیلیٰ نے خوش گوار حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“یہ تمہاری وائف ہے؟”
وہ خوشی سے بولی تھی۔۔
ازورا حیران نظروں سے ان دونوں کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔
“نوح ازورا تمہاری وائف ہیں ؟”
جمال اکبر حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“یہ میری وائف ہی نہیں۔۔ زبیر لاشاری کی بیٹی ازورا لاشاری ہیں”_
نوح کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔۔ کرب زدہ سی مسکراہٹ۔۔ ازورا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔۔
جمال اکبر کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔۔
“بریرہ اور زبیر کی بیٹی۔۔۔۔ ازورا لاشاری”_ وہ بےیقینی سے بولے تو نوح نے مسکرا کر اثبات میں گردن ہلائی۔ ۔۔ ۔ “یہ آپ کے بابا کے دوست ہیں”_ نوح نے مختصر لفظوں میں اسکی الجھن دور کی تھی جو کے شاید دور تو نہیں ہوئی تھی لیکن وہ سر ہلا گئی۔۔۔ جب کے لیلیٰ اور جمال اکبر اسے یک ٹک یونہی دیکھ رہے تھے۔۔ جمال اکبر کو اب سمجھ آئی تھی اس لڑکی سے انہیں انسیت سی کیوں محسوس ہوتی تھی۔۔ وہ انکے محسن کی بیٹی تھی۔۔۔ وہ زبیر لاشاری کی بیٹی تھی۔۔۔ “ازورا لاشاری جو اب ازورا نوح ارسلان تھی”_
۔
