60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“” جان ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۰

نوح ارسلان بنا پلکیں جھپکائے اسے تک رہا تھا۔۔ سرخ رنگ کسی پر اس قدر بھی سج سکتا ہے۔۔آنچل سر پر لے کر ہنستی ہوئی وہ اس قدر پیاری لگی کے کتنے ہی لمحے بے خود سا دنیا و جہاں کی سب سے پیاری حسینہ کو دیکھتا رہ جاتا۔۔ وہ مخمور سے پیا کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتی، کندھے سے ہلا کر خوابناک کا سفر طے کرتے نوح ارسلان کو واپس دنیا تک لائی تھی۔۔
غازے کی لکیر اسکی شہد رنگ آنکھوں کو وہ جلا بخش رہی تھیں جو صدیوں قائم رہ سکتی تھیں۔۔
“مائی لیڈی”_ اسکی آنکھوں میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے وہ محبت سے بولا تھا۔۔ “کاش ستارے میری دسترس میں ہوتے تو میں آپ کو ستارے توڑ کر لا دیتا کہ آپ اپنی ٹمٹماتی، شہد رنگ آنکھوں میں بھر لیتیںکسی رات چپکے سے آسمان کا لافانی سا چاند توڑ لاتا اور ازورا لاشاری کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا۔۔ آپ نہیں جانتی ازورا آپ میرے لیے دنیا بھر کی روشنی کا اک مرکز ہیں، میری عمر بھر کی ریاضت کا انعام ہیں آپ”_
“یہ بھی پہنا دیں “_
نوح کے ہاتھوں میں سونے کی باریک چوریاں تھمائی جو اس نے اسے اس روز دی تھیں۔۔ وہ چوریاں دیکھ کر ٹھٹکا۔۔ یہ چوریاں روشانے کی تھیں۔۔ وہ اکثر مخصوص موقعوں پر انہیں پہنا کرتی تھیں۔۔ کتنی ہی یادیں وابستہ تھیں اسکی ان سے_ اس نے نظر اٹھا کر ازو کی جانب دیکھا۔۔ وہ خوش تھی۔۔ بہت دل سے تیار ہوئی تھی۔۔ وہ زخمی سا مسکرایا۔۔ “ان آنکھوں کی روشنی پر۔۔ ان لبوں پر نوح ارسلان کی جان صدقے_ سو بار صدقے”_ آپ جو چاہیں گی نوح ارسلان سب کرے گا، آپ کی ہر خواہش سر آنکھوں پر”_
اسکی خوبصورت کلائی میں وہ چوریاں سج سی گئیں تھیں۔۔ اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگائے اس نے ازورا کی آنکھوں میں جھانکا جہاں اس مان پر زندگی مسکائی تھی۔۔۔
“چلیں_ پروفیسر صاحب انتظار کر رہے ہونگے “
اپنے لمبے بال پیچھے کی جانب سیٹ کرتے اس نے نرمی سے کہا۔۔
ازورا اثبات میں گردن ہلاتی سینڈل ہاتھوں میں لے کر بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی۔۔ اگلے لمحے جو ہوا وہ ازورا لاشاری کے وہم و گماں سے پرے تھا۔۔
نوح ارسلان گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھتا اسکے ہاتھوں سے سینڈل لے کر اب اسکے گلابی پیروں میں پہنا رہا تھا۔۔ ازورا لاشاری اس سے کچھ بھی امید کر سکتی تھی پر یہ_ نہیں نوح ارسلان جیسا انا پرست_ اس قدر شاندار شخص یوں اسکے قدموں میں بیٹھا_ اس سے پہلے کے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی نوح نے اسکے آگے چٹکی بجائی۔۔ “کس مراقبے میں چلی گئیں ہیں لیڈی”_
سنجیدگی سے کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ اسی شان سے جو اسکی ذات کا خاصا تھا۔۔ وہ یوں ظاہر کر رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔ یہی تو اسکی ذات کا خاصا تھا۔۔
“نوح ارسلان کا دل کس وقت کن جذبات سے لبریز ہے یہ صرف نوح ارسلان جانتا تھا۔۔ اسکا دل کبھی اسکے دماغ پر حاوی نہیں ہوا تھا۔۔۔
وہ اسکا چہرہ تکتی تکتی اسکی سنگت میں مسسمرائیز سی چلتی آ رہی تھی۔۔ جو اب گاڑی سے ٹیک لگائے رک چکا تھا، یکدم جیسے ہوا کی رفتار نے بھی شدت اوڑھی تھی۔۔ سرد جھونکے بالوں سے اٹکیلیاں کرنے لگے۔
“نوح راستے سے کچھ سویٹس لے لینگے”_
خود کی سمت مخمور نگاہیں گاڑے وہ نوح ارسلان کے بے خود ہونے پر سمٹا سا مسکرا دی۔۔۔
اسکی اتنی محبت پر وہ شرمندہ سی ہوئے جا رہی تھی۔۔ کتنا ستایا تھا اس نے اس پیارے شخص کو۔۔ اور وہ آج بھی اسکی ڈھال بنا اسکے ساتھ کھڑا تھا۔۔
“میں نے بہت ستایا ہے ناں آپکو نوح، کتنا ہرٹ کیا ہے۔۔ ولیمے کے دن ڈرگز لے کر ہمارا پورا ایونٹ خراب کر دیا تھا۔۔ پھر اس دن”_ اس نے شرمندگی سے دانستہ بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔ تھکے تھکے نڈھال لہجے میں کہتی وہ موسم کی راعنائی اور دلکشی سے بے نیاز سی بس نوح کو دیکھتی بول رہی تھی۔۔ اسکا انداز اس قدر معصوم تھا کے نوح ارسلان اپنا دل ڈوبتا محسوس کر رہا تھا۔۔ نوح نے محسوس کیا کہ ازو کی تان آجکل بس اسی بات پر ٹوٹتی ہے۔ وہ اسے اس احساس جرم میں نہیں رہنے دے سکتا تھا۔۔ “ہاں ستایا ہے اور میرے دل پر کئی زخم بھی لگائے لیکن اب کسی تکلیف کا کوئی احساس باقی نہیں۔ مزید اگر آپ نے ایک بار بھی اس بات کو دہرایا تو نوح ارسلان شرافت بھول کر آپ کے تمام مظالم کے چن چن کر بدلے لینے لگے گا پھر مجھے مت کہنا” ساری نرمی ایک طرف کیے وہ برہم ہوئے ابرو اچکاتا ازورا کی ساری اداسی خفیف سے صدمے میں بدل گیا تھا۔۔ ایک لمحہ لگتا تھا اس شخص کو اپنے اصل پر آنے میں۔۔ “نوح_
صدمے سے پھٹی آواز کے سنگ منمناتے ہوئے وہ نوح سے جا لپٹی تھی۔۔ اسکا جاندار سا قہقہہ مانو اسکی حالت مزید غیر کر گیا تھا۔۔
“نوح چلیں دیر ہو رہی ہے”_ وہ حواس باختہ سی بولی تھی۔۔ پس لب تبسم دباتا وہ فوری حواس باختہ ہوتی اپنی زندگی پر قربان ہوا، اسے ازورا کی کیفیت پر بہت پیار آیا۔۔ فرمابرداری سے اسکی سمت کا ڈور اوپن کیے ہنوز زیرلب تبسم دباتا اسے بیٹھائے خود بھی ازورا کی بے حال کیفیت پر اک بار کھل کر مسکراتا دوسری طرف جا بیٹھا۔ تمام رستہ وہ جس طرح وہ بوکھلائی شرمائی سی تھی یہ نوح کی زندگی کا حسین ترین وقت تھا_
کاش وقت یہیں تھم جاتا اور وہ اس گلاب زادی کو گلال میں اترتے فرصت سے دیکھتا اور دیکھتے رہتا۔۔۔
________________________________________ “لیں لیلیٰ یہ ہو گیا آپ کا حجاب پریس “__
وہ اپنی وہیل چیئر پر بیٹھیں ڈائننگ ٹیبل پر پھولوں کا گلدستہ سیٹ کر رہی تھی جب جمال نے ہلکے آسمانی رنگ کا حجاب انکے ہاتھوں میں تھمایا تھا۔۔ ہلکے آسمانی رنگ کے ہی خوبصورت جوڑے میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح خوبصورت ہی لگ رہی تھیں۔۔ آج انہوں نے نوح ور ازورا کو کھانے پر دعوت دی تھی۔۔ انکی شادی کی خوشی میں۔۔ نوح نے ازو سے جن حالات میں نکاح کیا تھا وہ دونوں ہی جانتے تھے۔۔ یہ لڑکی یوں بھی لیلیٰ کو اپنے دل کے بہت قریب لگتی تھی۔۔

“نوح تو اس سے پہلے بھی کئی بار آ چکا ہے اسکی پسند کے حوالے سے تو پھر بھی جانتی ہوں میں بسس ازورا کو پسند آجائے سب”_
وہ یہ بات کوئی چھٹی بار کہ رہی تھیں۔۔ جمال تو انکی خوشی دیکھ کر ہی خوش ہو رہی تھے۔۔
“مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے جمال کے ہم کیسز اور آرگنائزیشن کے علاوہ بھی پرسنل لیول پر مل رہے ہیں ان سے”_
وہ اپنی خوشی کا اظہار کرتی مسکرائی تو وہ بھی بدلے میں فون سائیڈ پر رکھتے نثار سی نگاہ لیلیٰ پر ڈالے اپنی ہتھیلی کھولے اسکی سمت پھیلا گئے جسے لیلیٰ نے فوری تھامے پہلو میں ہی براجمانی کی۔۔
“خوش تو میں بھی ہوں، کچھ لمحے تو مجھے لگتا ہے وہ نوح نہیں ارسلان ہے۔۔ ہمارا دوست۔۔
ماضی کی یاد نے انکے لبوں پر زخمی سی مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔۔
اپنے بے حد قریں آباد ہوتی لیلیٰ کا مرمریں سا ہاتھ جکڑ کر سینے سے جوڑے وہ اک آس اور امید کا سہارا لئے اسکی آنکھوں میں جھانکا جو جمال کے دل کی دھڑکن کا ہر ڈھنگ بخوبی جانتی تھی۔
کب انکا دل خوشی میں ہوتا اور کب دکھ میں، وہ اسکے ہر رنگ کی بھیدی تھی۔
زندگی سے بھرپور مسکراہٹ دیے وہ انکے چہرے سے ہتھیلی جوڑے بلا تکلف زرا سی اٹھ کر دوسری ہتھیلی بھی چہرے کی دوسری طرف رکھے انکی پیشانی چوم کر اپنے سب سے اچھوتے رنگ سے مسکائی۔
جیسے اسکی یہ مسکراہٹ ہی انکا حوصلہ ہو۔۔ یہ سچ ہی تو تھا۔۔
گاڑی کی آواز پر وہ دونوں چونکے۔۔
جمال مسکراتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھے تھے۔۔ ان دونوں کا خوش گوار انداز میں ویلکم کیا تھا۔۔ نوح گاہے بگاہے ازورا کی جانب دیکھ رہا تھا جو یہاں آ کر بھی بہت خوش لگ رہی تھی۔۔ وہ واقعی خوش تھی یہ رشتے یہ مان یہ محبت اسے پہلی بار مل رہا تھا۔۔
خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا۔۔ لیلیٰ بار بار ازورا کی پلیٹ میں کچھ نہ کچھ ڈال رہی تھیں۔۔
“بسس کریں لیلیٰ کتنا پروٹکول دینگی انہیں”_
کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر اس نے سگریٹ جلاتے ہوئے کہا تھا۔۔ لیلیٰ اور جمال کے آگے وہ اسی طرح بےتکلف سا تھا۔۔
“اٹھانے دو لیلیٰ کسی کسی کے لاڈ اٹھاتی ہیں”_
جواب جمال کی جانب سے آیا تھا۔۔ ازورا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔ اسکی نظر بلینک کرتے اپنے فون پر پڑی تھی۔۔ کوئی نیا نمبر تھا۔۔ وہ ان سب سے ایکسکیوز کرتی قدرے خاموش گوشے میں آ گئی تھی۔۔
“ہیلو”_ وہ اب بھی ہنس ہی رہی تھی۔۔ “ہیلو ازورا بےبی “
اگلی جانب سے آتی کرہیہ آواز وہ ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔ یہ آواز وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔
“کککو کون ؟
نہیں۔۔ پھر نہیں۔۔ یہ وہ نہیں ہو سکتا۔۔ اب نہیں۔۔
“اتنی جلدی بھول گئی مجھے ازو بےبی”_ اگلی جانب سے خباثت بھری آواز آئی تھی۔۔ ازورا کو لگا وہ اگلی سانس نہیں لے سکے گی۔۔ یہ آواز۔۔ یہ وحشت بھری سرگوشی۔۔ اسکے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی۔۔ “فون کاٹنے کی نہیں کرنا ڈارلنگ۔۔ تمہارے ساتھ گزارے حسین لمحات میرے پاسس اب بھی قید ہیں۔۔ قسم سے بہت یاد آ رہی ہو تم”
اسے لگا وہ اگلی سانس نہیں لے سکے گی۔۔ اسکی سانس اکھڑ رہی تھی۔۔
“چلو کام کی بات پر آتے ہیں۔۔ میں نے سنا ہے تمہارا شوہر العنکبوت کے لائر کے ساتھ مجھ پر کیس کر رہا ہے۔۔ ازو بےبی جانتی ہے نا اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا”۔۔
“جج جی”_
اسکے منہ سے بےاختیار نکلا تھا۔۔ اس فرمانبرداری کی عادت کس طرح دلائی گئی تھی اسے۔۔
“تم روز اسی طرح میری وحشت کا نشانہ بنو گی”_
سالوں پہلے یہی آواز بہت قریب سے آئی تھی۔۔ اسے اپنے ارد گرد اس شخص کا مکرو چہرہ نظر آ رہا تھا۔۔
اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔۔
کال اب کٹ ہو گئی تھی۔۔ وہ کتنی ہی دائر وہاں کھڑی رہی تھی۔۔ خود کو سمبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔ بڑی مشکل سے خود کو کمپوز کرتی اندر آئی تھی۔۔ نوح نے بغور اسکی جانب دیکھا۔۔ اشارے سے دریافت کیا۔۔ وہ اجنبی نظروں سے اسکی جانب دکھتی رہی۔۔ شروع میں وہ جتنی چہک رہی تھی آخر تک اخیر افسردہ تھی۔۔ وجہ وہ سب جاننے سے قاصر تھے۔۔
وہ بہت خاموشی سے نوح کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ ذہن میں شہباز کے کہے جملے اسکے دماغ میں ہتھوڑے کی مانند برس رہی تھے۔
“پوری دنیا تمہاری بربادی دیکھے گی۔۔ نوح ارسلان خود تمہیں میرے قدموں میں پھینکے گا”_
اس نے سہمی ہوئی نظروں سے نوح کی جانب دیکھا۔۔
“ازورا سب ٹھیک ہے بیٹا۔۔ اچانک اتنی خاموش کیوں ہو گئی ہیں آپ”_
لیلیٰ نے محبت سے سوال کیا تھا۔۔
“میں شہباز ضمیر پر کیس نہیں کرنا چاہتی”_
یہ جملہ نہیں تھا ایک بم تھا جو ان تینوں نفوس پر گرا تھا۔۔ نوح نے بےیقینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ یہ کیا کہ رہی تھی وہ۔۔
“ازورا آپ ہوش میں ہیں “_
اس نے سنجیدگی سے اسے پکارا تھا۔۔
“میں مکمل ہوش و حواس میں کہ رہی ہوں لیلیٰ مجھے شہباز ضمیر پر کیس نہیں کرنا ہے”__
اس نے نوح کی جانب ایک نگاہ بھی نہیں کی تھی۔۔


جاری ہے۔