Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٦
۔
کالے گھنگھوڑ گھٹائیں ہر طرف چھا رہی تھیں۔۔ اس موسم کا سب لطف اٹھا رہے تھے۔۔ بادل اب برس رہے تھے۔۔ بارش کی ایک بوند اسکے ہاتھ پہ آ کے گری ، اور دیکھتے ہی دیکھتے بارش تیز ہوگئی۔۔۔
“دارم آپ اپنے ہاتھوں سے جان لے لیں میری”_
اسکی بھیگی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔ بارش تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔۔ اسکی نظروں کے سامنے اسکا عکس آ ٹھہرا تھا۔۔
پھولوں سے سجی کتنی خوبصورت لگ رہی تھی وہ۔۔ مگر اتنی ہی اجنبی بھی۔۔
“میرے ہاتھوں میں موت کا پروانہ تھما کر خوش رہنے کی دعا دے رہے ہیں۔۔ تختہ دار پر کھڑا کر کے۔۔ موت کی سزا سنا کر مسکرانے کی درخواست کر رہے ہیں۔۔ اتنے ظالم تو نا بنیں”_ اسکی درد میں لپٹی مسکراتی ہوئی آواز اسکے سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔ مسکراتے ہوئے ہی تو وہ اس پر صور پھونک گئی تھی۔۔ وہ جسکے چہرے پر دارم اسفہان کی خوشبو بھی رنگ لے آتی تھی۔۔ جو اسکی کڑوی کسیلی باتیں بھی یوں سنتی تھی جیسے کوئی مدھر غزل ہو۔۔ محبت کی چاشنی سے بھری غزل۔۔۔ سفیان خاور۔۔۔ اسے اسکے سامنے سفیان خاور کے پہلو میں بیٹھایا گیا تھا۔۔۔ اندر کا قفس بڑھتا جا رہا تھا۔۔ یہ کیا ہو گیا تھا۔۔ گاڑی کی رفتار بڑھا دی گئی تھی۔۔ اندر کی گھٹن کم کرنے کے لئے گاڑی کے شیشے نیچے کر دیے تھے۔۔ سرد ہوا کے ساتھ بارش کی بوندیں اسے بھیگا رہی تھیں۔۔ وہ نہیں جانتا تھا وہ کس جانب جا رہا ہے۔۔۔ اسے بس اسکے عکس سے جان چُھڑوانی تھی۔۔ اسکا روپ۔۔ اسکا حسن۔۔وہ پوری شان سے اسکے لاشعور میں موجود تھی۔۔ ہمیشہ سے۔۔ اس نے اپارٹمنٹ کے سامنے گاڑی روکی تھی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ بارش میں بھیگ چکا تھا۔۔ لڑکھڑاتے قدموں سے وہ اندر داخل ہوا تھا۔۔ وہ اسے ہر کونے میں نظر آتی تھی۔۔ اسکی محبت اسکے اندر اتر تک گئی تھی سزا بن کر۔۔ فریج سے پانی کی بوتل نکالتا ایک ہی سانس میں اندر اتار گیا تھا۔۔ سر ہاتھوں میں گرائے جانے کتنی دیر بیٹھا رہا۔۔ کتنے لمحے سرک گئے تھے۔۔ وہ بیٹھا رہا تھا۔۔ وقت گزر رہا تھا۔۔ منٹ۔۔ گھنٹے۔۔ اور پھر رات۔۔ پوری رات گزر گئی تھی۔۔ دارم اسفہان بیٹھا رہا تھا۔۔ فجر کی ازانوں کو بھی کچھ وقت بیت گیا تھا۔۔ وہ ساکت بےحس و حرکت بیٹھا رہا تھا۔۔ کافی دیر بعد وہ حواسوں میں لوٹا تھا۔۔ وضو کر کے نماز پر کھڑا ہوا تھا۔۔ ہمیشہ کی طرح اطمینان کی نماز۔۔ اسکی نماز ہمیشہ بہت اطمینان لئے ہوتی تھی اور دعا بہت طویل۔۔ ازو ہمیشہ اس سے پوچھا کرتی تھی کے وہ اتنی لمبی دعا میں کیا مانگتا ہے۔۔ وہ خاموش رہا تھا۔۔ اپنا راز کبھی نہیں کھولا تھا۔۔ بھلا جو راز خود سے بھی چھپا ہوا تھا وہ کیسے ازو پر کھول دیتا۔۔۔ مگر جسکے آگے مانگتا تھا وہ تو واقف تھا۔۔ “تجھے نہیں بھی بتایا تو تو جان جائے گا۔۔ تو تو سب جانتا ہے میرے رب۔۔ تو واقف ہے ہر اس راز سے جو خود سے بھی چھپائے ہوا ہوں۔۔ میں نے کبھی تجھ سے اسے نہیں مانگا۔۔ اسکی خوشی مانگی ہے۔۔۔ آج بھی اسکی خوشی مانگ رہا ہوں۔۔ اسکے دل سے میرے ساتھ کا خیال بھی نکال دے یا رب۔۔ اسکے دل سے دارم اسفہان کو کھرچ کر مٹا دے۔۔ اسے اپنی امان میں۔۔ اپنی حفاظت میں رکھ لے۔۔ اسے اپنی حفاظت میں رکھ لے۔۔ تیری امان میں دے رہا ہوں اسے تو رکھ لے”_
سجدے میں گرا وہ چند جملوں کی ہی گردان کر رہا تھا۔۔ اسکی حفاظت۔۔ اسکی خوشی۔۔ اگر امل شہباز یہ جان لیتی کے جسکی محبت کا وہ دم بھرتی ہے وہ اسکی دعاؤں میں رہتی ہے تو خود پر رشک کرتی۔۔ اللّه سے سارے شکوے ختم ہو جاتے۔۔ مگر وہ جانتی ہی تو نہیں تھی۔۔
وہ کبھی نہیں جان سکتی کیوں کے اس راز میں دارم اسفہان نے اللّه کے سوا کسی کو شریک نہیں کیا تھا۔۔
“اور اللّه تو بےشک بہترین رازداں ہے”_
۔
صبح اسکی آنکھ مٹی کی میٹھی سوندھی سی خوشبو کے احساس سے کھلی تھی۔۔ وہ توبہ شکن انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی۔۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔۔خوشبو کے ساتھ سرد ہوا بھی اندر آ رہی تھی۔۔ رات بہت بارش ہوئی تھی، ہر چیز بارش کے بعد نکھر نکھر سی گئی تھی۔۔ اس نے دوسری جانب بےخبر سوئے ہوئے نوح کی جانب دیکھا۔۔
سرخ و سفید رنگت۔۔ کھڑی مغرور ناک۔۔ گھنی مونچھوں تلے بھینچے ہوئے عنابی لب۔۔۔
اسکی پلکیں بہت خوبصورت تھیں۔۔ گھنی مڑی مڑی سی پلکیں۔۔
کسی مرد کی پلکیں اتنی خوبصورت کیسے ہو سکتی ہیں۔۔؟
وہ سوچ کر رہ گئی۔۔ اسکی پلکیں اسکی توجہ اپنی جانب کھینچ رہی تھیں۔۔
وہ کتنے ہی لمحے اسکے خوبصورت چہرے کی جانب دیکھتی رہی تھی۔۔ کالے بالوں سے بھرے سفید توانا بازوؤں سے تکیہ کو دبوچے سو رہا تھا۔۔ اسکی نظریں اسکے بالوں پر پڑی تھی۔۔ وہ سخت بدمزہ ہوئی تھی۔۔ گھنے بال شانوں پر بکھرے اسے اپنی سوکن معلوم ہو رہے تھے۔۔
“بسسس یہ بال نہیں ہوتے”_
اسکے خوبصورت نقوش کو پاس کرتے اس نے بالوں کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا تھا۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں کو چھوا۔۔ نرم ملائم بال انگلیوں کی پوروں سے لگتے اسکے وجود میں سنسنی پھیلا گئے تھے۔۔
“راپنزل”_ وہ منہ ہی منہ بڑابڑائی تھی۔۔ “تمہیں تو میں کسی دن گنجا کر دونگی”_ اسکے گھنے بالوں کو ہلکا سا جھٹکتی وہ آنکھیں چھوٹی کیے انہیں گھورتی ہوئی بولی جیسے سارا قصور ہی ان بالوں کا ہو۔۔ “اچھے خاصے ہینڈسم بندے کو گنڈا بنا کر رکھ دیا ہے”_ وہ بڑبڑاتی ہوئی آہستگی سے چلتی کمرے سے باہر نکلی۔۔ سیڑھیوں سے نیچے آنے پر اسے سامنے ہی اختر شیروانی نظر آئے تھے۔۔ “آج میرا بچہ صبح صبح اٹھ گیا ہے ؟” اسے پاس بلا کر سر پر پیار کرتے انہوں نے اسکے لئے بھی جوس نکالا۔۔ ۔ “نوح سو رہا ہے ؟” اسکے ہاتھ میں جوس کا گلاس دے کر انہوں نے نرمی سے دریافت کیا تھا۔۔ “ہاںاپنی محبوبہ کے ساتھ نیند پوری کر رہے ہیں”_
وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی مگر ان تک بخوبی آواز پہنچ چکی تھی۔۔
“کیا مطلب ؟ کون محبوبہ ؟ میری اجازت کے بغیر کوئی چڑیل اس گھر میں آ کیسے گئی؟”
دادو اپنی وہیل چیئر گھماتے پوری طرح پرجوش ہو کر اس سے پہلے کے نوح ارسلان کو گنجا کرتے وہ جلدی سے آگے آئی تھی۔۔
“نہیں دادو_ کوئی لڑکی نہیں ہے۔۔ میں تو انکے بالوں کی بات کر رہی تھی”
وہ سر پر ہاتھ مار کر بولی تو وہ بھی کچھ پرسکون ہوئے۔۔
“دادو ہم راپنزل کے بال کی کاٹ دیتے ہیں ؟”
جوس کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتے اسے یکدم ہی خیال آیا تھا۔۔ وہ کب اسکی کسی بات سے انکار کرتے تھے۔۔ لمحے میں حامی بھرتے اسے تھمبس اپ کا اشارہ دیا تھا۔۔ وہ قینچی ہاتھوں میں لئے جنگ پر جانے والے کسی جانباز کی طرح ہاتھ میں ہتھیار لئے انکی وہیل چیئر کا رخ کمرے کی جانب کر چکی تھی۔۔
اندر داخل ہو کر اس نے نوح کی جانب دیکھا جو ہنوز سو رہا تھا۔۔
“آج تو میں تمہاری اس محبوبہ کو مقتل گاہ پہنچا دونگی نوح ارسلان”_
دبے قدموں بیڈ کی دوسری جانب سے اسکے بالوں کے قریب آتی وہ قینچی ہاتھوں میں تھامے سانس بھی روک گئی تھی۔۔ کسرتی مظبوط بازوؤں میں ابھری نیلی رگیں واضح نظر آ رہی تھیں۔۔
اسکی بھاری گرم سانسیں اسکے چہرے پر پڑتی اسکے وجود میں ایک خفیف سی لرزش طاری کر گئی تھی۔۔
شانوں تک آتے بال بکھرے ہوئے اسکی دہشت میں اضافہ کر رہے تھے۔۔
۔
“دادو_ کہاں سے کاٹنا شروع کروں ؟” اسکے گھنے بالوں کے لچھے ہاتھوں میں لئے وہ سرگوشی میں اختر شیروانی سے پوچھ رہی تھی۔۔ “پورے ہی کاٹ دیتی ہوں”
خود ہی خود بڑبڑاتی اس سے پہلے کے وہ اسکے بالوں کا جنازہ پورے دھوم سے نکالتی وہ کسمسا کر خمار آلود نگاہیں واں کرتا اسے دیکھتا سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔ اسے یوں خود پر جھکے دیکھ کر وہ اسے تیکھے چتونوں سے گھورتا اٹھ بیٹھا۔۔۔
اسکے ہاتھوں میں قینچی دیکھ کر اسے ساری کہانی سمجھ آ گئی تھی۔۔
“آپ دونوں میرے بال کاٹنے جا رہے تھے ؟”
وہ سکتے کی حالت میں بےیقینی سے بولا تھا۔۔ اسکی آنکھوں سے انگارے نکلتے محسوس ہو رہے تھے۔۔
“ممم میں تو۔۔ میں تو ببب بس ٹریمنگ کر رہی تھی تھوڑی سی۔۔ بلکل تھوڑی سی سچ میں”_
اس آگ برساتی نگاہوں سے بچنے کے لئے وہ سر جھکائے پھولے گالوں کے سنگ وہی اپنی ازلی معصومیت سے بولی تھی۔۔
“ٹریمنگ_ سریسلی ؟؟” اسکے ہاتھوں سے قینچی چھینتا وہ دُرشت انداز میں بولا۔۔۔ “نوح کیوں اس معصوم کو ڈرا رہے ہو تم۔۔ وہ سچ کہ رہی ہے”
اختر شیروانی یکدم اسکے دفاع میں آگے آئے تھے۔۔
“آپ بھی انکے ساتھ برابر کے شریک ہیں”_
اسکی توپوں کا رخ اب دادو کی جانب تھا۔۔
“دیکھ نوح۔۔ میں تیرے باپ کا باپ ہوں”_ اس نے آنکھیں چھوٹی کر کے انکے جانب دیکھا۔۔ معصوم صورت بنائے ازورا کے ہی پارٹنر لگ رہے تھے۔۔۔ یہ لڑکی واقعی جادوگرنی تھی۔۔ اختر شیروانی پورے ہی اسکے سگے بن گئے تھے۔۔ اس نے دوسری نگاہ بیڈ کے کنارے پر ٹکی ازورا پر ڈالی جو گال پھلائے نگاہیں جھکائے کھڑی تھی۔۔ “اور آپ کیا کہیں گی ؟” اس نے سرد آواز میں اسے مخاطب کیا۔۔ “دد دیکھیں نوح_ مم میں آپ کے باپ کی بہو ہوں”_
وہ جو زیرلب جواب یاد کر رہی تھی جلدی سے بولی تھی۔۔ وہ سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلاتا ایک ہاتھ سے اپنے بال سنوارنے لگا۔۔
“پرفیکٹ_ میرے باپ کا باپ۔۔ اور میرے باپ کی بہو دونوں ہی معصومیت کی آعلیٰ تصویر ہیں۔۔ ایک انکی اولاد ہی دہشت گرد پیدا ہو گئی ہے”
ان دونوں کی معصوم صورت کی جانب دیکھ کر اسے اپنا آپ دہشت گرد ہی لگا تھا۔۔
“اس میں تو کوئی شک نہیں”_
ازورا نیچے دیکھتی بڑبڑائی تھی۔۔ اختر شیروانی نے اپنی وہیل چیئر کا رخ باہر کی جانب کرنا زیادہ مناسب سمجھا تھا۔۔
“واٹ_ میں آپ کو دہشت گرد لگتا ہوں ؟” وہ اسکی جانب دیکھتا سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔ “دادو۔۔ مجھے دھوکہ دے گئے ؟” اس نے بےیقینی سے بند دروازے کی جانب دیکھا جو اختر شیروانی اپنے پیچھے بند کر گئے تھے۔۔ “میں دہشت گرد لگتا ہوں آپ کو ؟”
وہ اسے شانوں سے تھامتا سرد انداز میں استفسار کر رہا تھا۔۔
“مم مجھے چھوڑیں پلیز”_
اسکے وجود میں لرزش سی طاری ہو گئی تھی۔۔ دھڑکنیں یکدم ہی زور پکڑ رہی تھیں۔۔ اس شخص کی ذرا سی بھی قربت سہارنے کی ہمّت وہ ابھی خود میں نہیں پاتی تھی۔۔
“میرے بالوں کے ساتھ دہشت گردی آپ کر رہی ہیں۔۔ اور دہشت گرد میں ہو گیا۔۔ یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہوئی لیڈی”_
گھنیری پلکوں پر پھونک مارتا وہ اپنے ازلی اطمینان سے بولا تھا۔۔
اسکی عطر بیز گرم سانسیں اسکے حواس معطل کر رہے تھے۔۔
“بتایا تو “_ وہ بمشکل بولی تھی۔۔ “کیا بتایا آپ نے جو میں نے نہیں سنا ؟” اسکے لبوں پر دلنشین مسکراہٹ ابھری جسے بہت صفائی سے چھپا گیا تھا۔۔ “کے ٹریمنگ کر رہی تھی”
وہ جلدی سے بولی تھی۔۔ نوح ارسلان کا قہقہا کمرے میں گونجا تھا۔۔ ازورا نے پہلی بار اسے یوں ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔۔ وہ خفت سے سرخ
پڑی تھی۔۔
کیا ضرورت تھی اس طرح شوخی مارنے کی۔۔
“ٹریمنگ کر رہی تھیں یا ٹنڈ ؟”
ٹاول لے کر باتھ روم کی جانب جاتے اس نے میٹھا سا طنز کیا تھا۔۔
“ارادہ تو ٹنڈ کا ہی تھا۔۔۔ ویسے کیسی لگے گی میل ورژن کی گنجی راپنزل۔۔ نوح ارسلان”_
اسکے فرمان اندر جاتے نوح کی سماعت میں بھی پڑ چکے تھے۔۔
وہ تخیل کے پردوں پر نوح ارسلان کو تصور کرتی کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔ اسکی ہنسی کی کھنک اندر موجود شخص کو سرشار کر گئی تھی۔۔
“میل ورژن کی گنجی راپنزل”_
آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتا وہ بڑبڑایا تھا۔۔
“سیریسلی”_
“گنجی راپنزل ؟”
اپنے بالوں کو سنوارتا وہ ہلکا سا ہنسا۔۔۔ ازورا لاشاری ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند آئی تھی اسکی زندگی میں۔۔۔
۔
“سکندر محمود کو سسپینڈ کر دیا گیا ہے۔۔ لیلیٰ جمال کوئی عام عورت نہیں ہے حمزہ۔۔ الیکشنز میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے۔۔ لیلیٰ جمال کی شکل میں یہ اچھی تلوار تم نے میرے سر پر کھڑی کر دی ہے”_ اس عالی شان کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے کا چکر لگاتے رحمٰن شاہ بولے۔۔ “ڈیڈ۔۔۔ مجھے کیا پتا تھا رب نواز کی بیوی لیلیٰ جمال تک پہنچ جائے گی”
وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا۔۔ اسکے چہرے پر بےزاری تھی۔۔ کہیں بھی ندامت کا شائبہ تک نا تھا۔۔
“تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی تھی۔۔ تم نے ہاتھ ڈالا بھی تو ڈرائیور کی بیٹی اور بیوی پر۔۔ یہ چھوٹے لوگ حمزہ انکے لئے یہ بات زندگی موت کا مسئلہ ہوتی ہے۔۔ عزت چلی گئی۔۔ یہ نہیں سوچتے کے عزت تھی ہی کب انکی۔۔ اور اگر لیلیٰ جمال جیسے لوگ انہیں مل جائے تو پھر دیکھو انکا عورت کارڈ”_ وہ لہجے میں تنفر لئے حقارت سے بول رہے تھے۔۔ ایک ایک انداز سے بےزاری جھلک رہی تھی۔۔ “لیلیٰ جمال کتنی ہی پہنچی ہوئی چیز کیوں نا ہو۔۔ ہے تو عورت۔۔ اور آپ سے زیادہ پہنچ تو نہیں سکتی اسکی۔۔ میں جانتا ہوں آپ سب سنبھال لیں گے”
وہ بےفکری سے بولتا انکے ساتھ لگتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ اسے تو یہ اطمینان تھا کے اسکے ڈیڈ سب سنبھال لیں گے۔۔
“اس بار تم نے برا پھنسایا ہے حمزہ۔۔ عورت کے حقوق کی تنظیمیں لیلیٰ جمال کے ایک اشارے کا انتظار کرتی ہیں۔۔ اگر وہ تمہارے خلاف سڑکوں پر نکل آئی نا تو بہت مشکل ہو جائے گا”_
وہ داڑھی کھجاتے دھیرے سے بولے تھے۔۔
“ڈیڈ پلیز آپ یہ سب دیکھ لیں۔۔ اب میری عمر تو نہیں ہے نا کے میں ان بکیھروں میں پڑوں ؟”
وہ ہنستا ہوا بولا تھا۔۔ بیس سالہ وہ لڑکا جسکے چہرے پر معصومیت کا خول چڑھا تھا اندر سے اتنا غلیظ۔۔ اس قدر بدبو دار تھا۔۔
“عمر تو تمہاری اسکی بھی نہیں تھی جو تم نے کیا”_
وہ غصے سے اسے دور ہٹاتے ہوئے بولے تو۔۔
“اہ کم آن ڈیڈ۔۔۔ اب آپ بھی یہ کہیں گے”_
ایک آنکھ مارتا وہ یوں بولا جیسے پسندیدہ کھلونے لینے کی کوئی بات ہو۔۔
۔
“سکندر محمود کو سسپینڈ کر دیا گیا ہے”_
اسکے پیروں کو ہاتھ میں لیتے انہوں نے نرمی سے بتایا تھا۔۔ وہ مسکرا اٹھی۔۔ ہلکے گلابی رنگ کے شب خوابی کے لباس میں ملبوس وہ بیڈ پر نیم دراز تھی۔۔
وہ معمول کی طرح اسکے پیروں کا مساج کر رہے تھے۔۔ لمبے بال آج حجاب کے اندر نہیں تھے۔۔
“میں چل نہیں سکوں گی جمال۔۔ آپ کیوں کرتے ہیں اتنی محنت”_
وہ انہیں تاسف سے دیکھ کر بولی تھی۔۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ بلکل ہی ناامید ہو چکی تھی کے کبھی وہ چل بھی سکے گی۔۔ لیکن جمال اکبر بنا تھکے معمول کے مطابق روز اسکے پیروں کا مساج کرتے تھے۔۔
“تم میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔۔ اور مجھے امید ہے کے ایک دن تم کھڑی ہو جاؤگی”_
اسکے بال سنوار کر چوٹی کی شکل دیتے وہ محبت سے بولے۔۔
“اولاد نہیں دے سکتی آپ کو کبھی۔۔ آپ کہ رہے ہیں کمی نہیں ہے”_
وہ پهیكا سا مسکرائی تھی۔۔ اسکی بات پر انکے ہاتھ ایک لمحے کے لئے تھم سے گئے تھے۔۔ اگلے ہی پل وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔
“یہ اللّه کی مرضی ہے لیلیٰ۔۔ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے”_
وہ نرمی سے بولے۔۔ اس کی آنکھیں انکی محبت پر نم ہوئیں تھیں۔۔
“کیوں کرتے ہیں اتنی محبت ؟”
ہمیشہ کی طرح وہ تھک ہار انکے ہی سینے پر سر ٹکا کر بولی تھی۔۔
اسکی تو واحد جائے پناہ وہی تھے۔۔
“وہ ہوتی تو کتنی بڑی ہوتی جمال”_
اسکی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔۔
“اللّه کی امانت تھی میری جان۔۔ اللّه نے لے لی”_
انہوں نے نرمی سے اسے خود میں بھنچ لیا تھا۔۔ اسکے بالوں پر لب رکھتے وہ اپنی آنکھوں کی نمی چھپا گئے تھے۔۔
۔
روشنیوں۔۔ رنگوں کی رنگا رنگ محفل تھی۔۔ ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔ شہناز ضمیر کی بیٹی کی شادی تھی۔۔ ملک کا ہر نام ور شخص وہاں موجود تھا۔۔ طرح طرح کے دیسی بدیسی کھانوں کی اشتہار انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔
رومیسہ اور شہباز کھڑے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔۔
وہ سرخ عروسی لباس اور طلائی زیورات میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑی اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔۔
اتنی حسین۔۔ اس قدر خوبصورت وجود اسکا تھا۔۔ امل شہباز کا۔۔
اس نے کبھی سرخ لباس نہیں پہنا تھا۔۔ آج یہ سرخ رنگ اس پر خوب چھاپ دکھا رہا تھا۔۔
اس نے نم آنکھوں سے اپنی ہاتھوں میں مہندی دیکھی۔۔ کسی اور کے نام کی مہندی۔۔
اسکا پور پور سجایا گیا تھا۔۔ وہ خوشبوؤں میں مہکی کسی اور کے لئے سجائی گئی تھی یہ اذیت کم تھی کیا۔۔
میک کی دبیض تہ بھی آنکھوں کی سرخی چھپا نہیں پائیں تھیں۔۔ کچھ دیر پہلے ہی اسکا نکاح ہوا تھا۔۔ وہ کسی اور کے نام ہو گئی تھی۔۔ دارم اسفہان اب اسکی زندگی میں کہیں نہیں تھا۔۔ اس نے اپنا کہا پورا کر دکھایا تھا۔۔
اسکی آنکھ سے ایک موتی گرتا بےمول ہوا تھا۔۔
دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا۔۔ اس کے نتھوں سے اسکے کلون کی خوشبو ٹکرائی تھی۔۔ اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر آنسوں اندر اتارے۔۔ اس شخص کی تو خوشبو نے بھی اسے اپنا دیوانہ کر رکھا تھا۔۔ آج کے بعد اسے کوئی حق نہیں تھا کے وہ اس خوشبو کو بھی محسوس کرتی۔۔
“دارم”_ اسکے لبوں سے سرگوشی میں نکلا تھا۔۔ دارم کے قدم پتھر کے ہو گئے تھے۔۔ اس نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔۔ “ککک کیوں آئے ہیں_ پلیز آج سامنے نہیں آئیں میرے۔۔ پلیز چلے جائیں دارم”_ وہ اسکی خوشبو اپنے اس پاس محسوس کر کے ہی بکھر گئی تھی۔۔ ۔ “نکاح کی بہت مبارک ہو۔۔ اللّه سے دعا ہے وہ یہ رشتہ آپ کے حق میں بہتر کرے”
اس نے نرمی سے کہا تھا۔۔ پہلی بار اس نے اس سے نرمی سے بات کی تھی اور کی بھی تو کب۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا۔۔ وہی گھائل کرتی مسکراہٹ۔۔ لیکن اسکی سوجی ہوئی سرخ آنکھیں اسکے لبوں کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔۔۔
مسکراہٹ سے گھائل کس طرح کرتے ہیں یہ دارم اسفہان خوب جانتا تھا۔۔
وہ کچھ نہیں بولی تھی۔۔ دل تھا جو مزید درد برداشت کرنے سے انکاری تھا۔۔
“سفیان بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔ آپ کی بہت قدر کرے گا۔۔ آپ کو خوش رکھے گا”_
وہ ایک بار پھر بولا تھا۔۔ وہ روتی ہوئی اسکی جانب پلٹی تھی۔۔۔ اور یہ پلٹنا عذاب ہو گیا تھا۔۔۔ دارم اسفہان کی تو دنیا تلپٹ ہو گئی تھی۔۔۔
ہمیشہ سادہ رہنے والی اس لڑکی پر دلہناپے کا روپ سر چڑھ کر بول رہا تھا اور ستم تو یہ کے یہ روپ اسکے لئے نہیں تھا۔۔۔
“مجھے کوئی اچھا انسان نہیں چاہیے تھا۔۔ مجھے اپنے حق میں بہترین نہیں چاہیے تھا۔۔ مجھے دارم اسفہان چاہئے تھا”_ وہ روتی ہوئی اسکے سامنے آئی تھی۔۔۔ “آپ یہ سمجھ لیں دارم اسفہان آپ کے قابل نہیں تھا۔۔ اسکا ظرف اتنا بڑا نہیں ہو سکا کے آپ کو اپنا نام دیتا”
وہ شکست خوردہ لہجے میں بولا تھا۔۔ آج کے دن اسکا تڑپنا رونا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
“کبھی مہندی نہیں لگائی تھی میں نے دارم_ کبھی لال جوڑا نہیں پہنا تھا”_
دارم نے کرب سے اسے دیکھا لیکن آج روکا نہیں تھا۔۔۔
“آپ کے نام کی مہندی لگانا چاہتی تھی۔۔۔ آپ کے نام کا جوڑا پہننا چاہتی تھی۔۔ آپ میری جان لے لیتے دارم یہ نہیں کرتے میرے ساتھ”_
اپنے مہندی سے سجے ہاتھ اسکے آگے کرتی وہ اپنی حالت پر مسکرائی تھی۔۔۔
“وہ بہت خوش رکھے گا آپ کو امل۔۔ آپ سے محبت کرے گا”_
اس نے بےبسی سے کہا تھا۔۔ وہ کیوں نہیں سمجھ رہی تھی یا وہ سمجھا نہیں پا رہا تھا اسے۔۔
“محبت”_ وہ ہلکا سا ہنسی تھی۔۔ “میں نہیں چاہتا تھا کسی اور کے گناہ کی سزا میں آپ کو دوں۔۔۔ آپ کسی ایسے انسان کو ڈیزرو کرتی ہیں جو آپ کی محبت سے بڑھ کر آپ سے محبت کرے اور وہ میں نہیں ہوں امل”_ آج وہ اسکے سامنے اپنے اس خوف کا اقرار کر گیا تھا جو خود سے کہتے ہوئے بھی وہ سوچتا تھا۔۔۔ “اللّه کی امان میں”
اس نے ایک الوداعی نظر اس پر ڈالی۔۔ وہ تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔۔
وہ اتنی خاص تھی اسکے لئے کے وہ اسے اللّه کی امان میں دے رہا تھا۔۔
“اللّه کی امان میں”
وہ بڑبڑائی تھی۔۔۔ دروازے کے پاس تھم کر دارم نے ذرا کی ذرا رخ پھیر کر ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی تھی جو خود سے بےگانہ بری طرح رو رہی تھی۔۔۔۔
۔
وہ نہیں جانتی تھی کب قرآن کے سائے میں اسے سفیان خاور کے ہمراہ رخصت کیا گیا تھا۔۔ ہوش میں تو وہ سفیان کی آواز پر آئی تھی جو اسے گاڑی سے باہر آنے کہ رہا تھا۔۔
لہنگا بہت بھاری تھا وہ بہت مشکل سے کیری کیے ہوئی تھی۔۔ قدم باہر رکھتے ہی وہ ایک جانب کو گرنے کو تھی جب مضبوط سہارے نے اسے تھام لیا تھا۔۔
“آرام سے مسز”_
مردانہ نرم آواز پر اسکے وجود میں کپکپی سی دوڑ گئی تھی۔۔ اسکے وجود کی کپکپاہٹ مقابل بھی محسوس کر چکا تھا۔۔
گھر میں داخل ہونے پر اس نے ایک نگاہ عالیشان محل نما گھر پر ڈالی۔۔ شاید اسی امارت کو شہباز اسکی خوشیوں کی ضمانت سمجھ رہا تھا۔۔ اسکے لبوں طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔۔
“تھک گئی ہیں ؟”
ایک بار پھر گھمبیر آواز سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔ اس نے سر ہلانے پر اکتفاء کیا تھا۔۔ وہ نہیں جانتی تھی اس نے کیا کہا لیکن کسی بھی رسم کے بغیر اسے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔۔
اس نے بھیگی آنکھوں سے ارد گرد دیکھا۔۔ گلاب کے پھولوں کی خوشبو۔۔ کینڈلز۔۔ اسے وسیع و عریض کمرے میں بھی گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔۔
قدموں کے چاپ پر وہ مزید سمٹ سی گئی تھی۔۔
“السلام علیکم”_ بھاری گھمبیر آواز اسکے بہت قریب سے آئی تھی۔۔ وہ لب کاٹتی خاموش رہی تھی۔۔ “کیا کوئی ناراضگی ہے مجھ سے ؟” اسکی خاموشی کو جانے اس نے کیا سمجھا تھا۔۔ وہ نوٹ کر رہا تھا وہ پورے فنکشن میں بھی خاموش سی تھی۔۔ یا تو فطرتاً خاموش طبع تھی یا پھر کوئی اور وجہ تھی وہ سمجھ نہیں پایا۔۔۔ “بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ”
اپنے منتخب کردہ لباس میں اسے پور پور اپنے لئے سجی دیکھ مقابل کی آنکھوں میں عجب سی چمک بہار دکھا رہی تھی۔۔
وہ اگر اسکی جانب دیکھ لیتی تو اسکی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر اسے ضرور حیران کر دیتا۔۔
بہت نرمی سے اسکے گود میں رکھے ہاتھ کو اس نے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔
“ان ہاتھوں میں اپنے نام کی مہندی کی بہار دیکھنے کے لئے کتنا انتظار کیا ہے میں نے”_
وہ بہت نرمی سے بات کر رہا تھا اس سے۔۔ ضبط کے باوجود بھی ایک آنسوں اسکے ہاتھوں پر گرا تھا۔۔
“امل۔۔۔ کیا ہوا ؟ آپ ٹھیک ہیں ؟”
نرمی سے اسے ساتھ لگاتے اس نے فکر مندی سے سوال کیا تھا۔۔
وہ سہارا پاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔ اسے تو کبھی اتنے مان سے یہ سہارا دیا گیا ہی نہیں تھا۔۔
“امل۔۔ پلیز اس طرح نہیں روئیں”_
“کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے شئیر کریں”_
نئی نویلی دلہن کے اس بری طرح رونے پر وہ گھبرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ تو رخصتی پر بھی اس بری طرح نہیں روئی تھی۔۔
“امل۔۔ پلیز نا روئیں۔۔ مجھے بتائیں کیا بات ہے ؟”
اس کی سسکیاں کچھ تھمی تو اس نے نرمی سے سوال کیا تھا۔۔۔
اپنی بےاختیاری پر خجل سی ہوتی وہ فوراً اس سے دور ہوئی تھی۔۔
“کیوں رو رہی ہیں ہے اس طرح۔۔ پلیز یہ نا کہیے گا کے مام یاد آ رہی ہیں”_
اسکے آنسوں صاف کر کے وہ شرارت سے بولا تھا۔۔ اس نے محسوس کیا تھا وہ اس سے کچھ سہمی سہمی سی تھی۔۔ یہ فطری شرم و حیا ہرگز نہیں تھی۔۔ یہ گریز تھا۔۔
“مم میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔ آئی رئیلی ہیو فیور”_
وہ نگاہیں جھکائیں منمنائی تھی۔۔ اسے خوف تھا اگر وہ اسکی آنکھوں میں سوگوایت دیکھ کر سوال کر لے تو وہ کیا جواب دے گی اسے۔۔
“آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا”_
وہ فکرمند سا پیشانی پر ہاتھ کی پشت رکھتا ہوا بولا تھا۔۔
“اتنا تیز بخار ہے آپ کو”_
وہ واقعی بخار میں تپ رہی تھی۔۔
“چینج کر کے آرام کر لیں۔۔ میں میڈیسن بھی دیتا ہوں”_
سنجیدگی سے کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
لہنگا سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ بھاری دوپٹہ بہت مشکلوں سے پن سے آزاد کرنے کے بعد وہ ایک ایک کر کے تمام زیور اتار رہی تھی۔۔
وہ صوفہ پر بیٹھا اسکی تمام تر کروائی اطمینان سے دیکھ رہا تھا۔۔
اسکے ہاتھوں کی لرزش بتا رہی تھی کے اسکی نظروں کی تپش سے اچھی طرح واقف ہے۔۔
وہ ہمیشہ سے صنف نازک سے ایک فاصلے پر رہا تھا۔۔ امل کو دیکھ کر اس نے ڈائریکٹ شادی کا فیصلہ کیا تھا۔۔ وہ کافی میچیور انسان تھا شادی سے پہلے عشق معشوقی کے معاملات نا اسے پسند تھے نا وہ افورڈ کر سکتا تھا۔۔
نازک وجود اسکی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔۔
وہ سخت جھنجھلائے ہوئے انداز میں ناک سے نتھ اتارنے کی کوشش کر رہی تھی جو شاید اسکی جلد بازی کی ہی وجہ سے نکل نہیں رہی تھی۔۔
وہ گہری سانس لے کر مسکراتا ہوا اسکے قریب گیا تھا۔۔
“میں کچھ مدد کر دوں۔۔ ورنہ آپ تو میری بیوی کو ناک سے محروم کر دینگی”_
اسکی سرخ ہوتی ناک کو دیکھتا وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔ وہ بےبسی سے رو دینے والی ہو رہی تھی۔۔ اس کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ کچھ دوری سے اسکی ناک سے نتھ نکالنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔
“بس ہو گیا”_
اس نے جیسے اسکی پریشانی کم کرنے کی غرض سے کہا تھا۔۔ وہ تو جیسے اسی انتظار میں تھی۔۔ اسکی جانب دیکھے بغیر ہی باتھ روم میں بند ہوئی تھی۔۔
کچھ دیر بعد وہ بھیگے چہرے کے ساتھ سادہ سے لباس میں باہر آئی تھی۔۔ اسے بیڈ پر نیم دراز دیکھ کر وہ خواہ مخواہ ہی لہنگا ہینگ کرنے میں مصروف ہو گئی تھی۔۔
“امل یہاں آئیں۔۔ ان کاموں کے لئے ملازمہ ہیں وہ کر لینگی”_
اب کی بار اسکے انداز میں سنجیدگی تھی۔۔ وہ من من بھر کے قدم بھرتی بیڈ کے کنارے آ ٹکی تھی۔۔
“یہ کھا کر میڈیسن لے لیں”_
اس نے سائیڈ ٹیبل پر موجود کھانے کی جانب اشارہ کیا جو شاید اس نے کچھ دیر پہلے ہی منگوایا تھا۔۔ اس نے بےبسی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اس وقت وہ بس اس سب سے دور چلی جانا چاہتی تھی۔۔ اسکا نرم۔ انداز اسکی جھنجھلاہٹ میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔۔
اسے اپنی جانب منتظر نگاہوں سے دیکھتے پا کر اس نے کھیر کا پیالہ اپنی جانب کیا تھا۔۔
“یہ لیں”_ اسے کھیر ختم کرتے دیکھ اس نے پانی کے ساتھ میڈیسن بھی اسکی جانب بڑھائی تھی۔۔ جو اس نے خاموشی سے لے لی۔۔ ملازم کو بلا کر ٹرے اسکے حوالے کرنے کے بعد وہ آیا تو وہ آنکھیں بند کیے ایک کنارے پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ “شب بخیر”_
اسکی پیشانی کو نرمی سے چھو کر اس نے پہلے لمس سے آشنائی دی تھی۔۔ وہ کمفرٹر مٹھیوں میں جکڑے کانپ سی گئی تھی۔۔ وہ رخ پھیر کر کب کا سو گیا تھا یا شاید ایسا ظاہر کر رہا تھا۔۔ اسے اپنی پیشانی اب بھی اسکے لمس سے جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔
