Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۴
۔
رات کا آخری پہر تھا۔۔ سیاہ بادل نے چاند کا رستہ جیسے روکا ہوا تھا۔۔ آسمان پر اکا دکّا ستارے نظر آ رہے تھے۔۔ وہ اب بھی ویران سڑک پر گاڑی دوڑا رہا تھا۔۔
سیاہ تارکول کی سڑک پر اسکی گاڑی پوری سپیڈ سے دوڑ رہی تھی۔۔
“ازورا لاشاری ” زوہیب لاشاری کی بیٹی تھی۔۔
وہ کسی اور کے نکاح میں تھی۔۔ خود سے دوگنی عمر کے شخص کے نکاح میں۔۔
وہ خوش نہیں تھی وہ جانتا تھا۔۔
وہ ازورا لاشاری کی زندگی کے ہر دور سے واقف رہا تھا۔۔ ازورا لاشاری کے متعلق ہر بات جاننے کے باوجود بھی اسے آج محسوس ہوا تھا جیسے کچھ ہے جو وہ نہیں جان پایا۔۔
کچھ بہت درد ناک جو اس سے چھپا ہوا ہے۔۔
۔
“آپ نوح ارسلان کے لئے ایک پہیلی ثابت ہو رہی ہیں ازورا لاشاری “_
ازورا لاشاری آج سے نہیں دس سال پہلے سے اسکی زندگی کا ایک باب بن گئی تھی۔۔
لیکن آج اسے دیکھ لینے کے بعد وہ اسے جلد سے جلد اسے اپنی زندگی میں شامل کر لینا چاہتا تھا۔۔
اسے ازورا لاشاری سے محبت نہیں تھی۔۔ ازورا لاشاری ضرورت تھی اسکی۔۔
یہ بات ہر رات خود کو باور کروا کر وہ خود کو تسلی دیتا تھا۔۔
آج اسے دیکھ لینے کے بعد ایک عجیب سی بےچینی تھی جو رگ و پے میں سرائیت کر گئی تھی۔۔
“یہ تو بس میرے نوح کی ہی ہے زوہیب “_
ارسلان کی شفیق سی آواز اسکے سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔
۔
“وہ تو شہباز ضمیر کی ہیں بابا “_
وہ بےخود سا بڑبڑایا۔۔
نجانے کیوں اس لڑکی کو شہباز کے حصار میں دیکھنا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔
“آئ ایم سوری مم میں نے جان بوجھ کر نہیں۔۔ آئ ایم سوری “_
کتنی ڈری ہوئی تھی وہ۔۔ کتنی خوفزدہ نظروں سے شہباز کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
“تو کیا شہباز اسے کوئی نقصان پہنچاتا ہے ؟
“اگر ازورا کو تیری وجہ سے کوئی تکلیف ہوئی ہوگی تو تیرا حساب دوگنا ہو جائے گا شہباز ضمیر “_
۔
سوچوں کے درمیان وہ گھر پہنچا تھا۔۔ گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے وہ سیدھا ایک کمرے میں آیا تھا۔۔
بہت کم فرنیچر سے آراستہ وہ کافی کشادہ کمرہ تھا۔۔
سامنے ہی بیڈ پر ایک نحیف سا وجود لیٹا ہوا تھا۔۔
وہ آرام سے چلتا بیڈ کے قریب آ کھڑا ہوا۔۔
دھیرے سے انکے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگاتا لب رکھ گیا۔۔
۔
“مل آئے اس سے “_
وہ مسکرا اٹھا۔۔ وہ جاگ رہے تھے۔۔ اسکے آنے سے پہلے سو کیسے سکتے تھے۔۔
“آپ جاگ رہے ہیں اختر صاحب “_
وہ اسکے دادا تھے۔۔ دس سال پہلے اسکے بابا نے خودکشی کر لی تھی۔۔
جب سے وہ بھی بستر پر ہی تھے۔۔ لیکن نوح کے لئے انہوں نے خود کو سنبھالا تھا۔۔
۔
“یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں۔۔ دیکھ آئے اسے۔۔ ؟ اب کیسی ہے وہ ؟ تھی تو پہلے بھی خوبصورت اب تو اور پیاری ہو گئی ہوگی۔۔ دس سال ہو گئے۔۔ ایک بڑا عرصہ ہوتا ہے دس سال نوح “_
وہ بولے تو بولتے چلے گئے۔۔ وہ لبوں پر مسکان لئے انھیں سن رہا تھا۔۔ وہ بہت مضبوط تھا اس معاملے میں۔۔ نوح ارسلان اپنے جذبات میں بہت بااختیار تھا۔۔
۔
“ہاں ہے تو پیاری۔۔
وہ بےخود سا بولا۔۔
نظروں کے سامنے چھم سے اسکا سراپا لہرایا تھا۔۔ سکی گہری بھوری آنکھوں میں سیاہ بدلیوں سا وحشت ناک کرب رقصاں تھا۔۔
اور نوح ارسلان اسی کرب پر عاشق ہو رہا تھا ۔۔
“پھر کب لاؤ گے اسے یہاں “_
وہ اشتیاق سے بولے ۔۔
“بہت جلد لے آؤنگا انھیں یہاں۔۔ آپ کے پاس ۔۔ میرے پاس “_
مظبوط لہجے میں کہتا وہ آخری الفاظ زیر لب بڑبڑایا تھا۔۔
۔
اپنے کمرے میں آ کر وہ بیڈ پر چت لیٹا اب بھی اسے ہی سوچ رہا تھا۔۔
بڑی پراسرار لڑکی تھی وہ۔۔ عجب آسیب زدہ سا تھا اسکا لہجہ،
ساکت نقوش ، اس قدر خاموش سی آنکھیں۔۔ نوح ارسلان کو تجسس نے آ گھیرا تھا۔۔
وہ کوئی بھید جیسی لگ رہی تھی۔۔ یا پھر کسی کوئی پہیلی جیسی۔۔
جسے حل نہی ہونا ہو “_
۔
سنہری روشنی آنکھوں میں پڑھتی اسکی نیند میں خلل کا باعث بن رہی تھی۔۔ کوئی مدھر سی آواز تھی جو کانوں میں رس گھولتی محسوس ہو رہی تھی۔۔
نیند کے باعث وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ کس کی آواز ہے لیکن اسے یہ آواز اور یہ الفاظ بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔
۔
وَ لَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُیِّرَتۡ بِہِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِہِ الۡاَرۡضُ اَوۡ کُلِّمَ بِہِ الۡمَوۡتٰی ؕ بَلۡ لِّلّٰہِ الۡاَمۡرُ جَمِیۡعًا ؕ اَفَلَمۡ یَایۡئَسِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ یَشَآءُ اللّٰہُ لَہَدَی النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ وَعۡدُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۳۱﴾٪
” اگر ( بالفرض ) کسی قرآن ( آسمانی کتاب ) کے ذریعہ پہاڑ چلا دیے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں ( پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے ) ، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے ، تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالٰی چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے ۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی تاوقتیکہ وعدہ الٰہی آپہنچے یقیناً اللہ تعالٰی وعدہ ٔخلافی نہیں کرتا “_
(سورت الرعد : آیت نمبر ٣١)
۔
وہ آہستہ آہستہ نیند سے بیدار ہو رہی تھی۔۔
آنکھیں واں کر کے آواز کے سمت دیکھنے لگی۔۔ دارم اسکے سامنے ہی بیٹھا قرآن کی تلاوت کر رہا تھا ۔۔
اسے دیکھ کر مسکراتا ہوا قرآن بند کر کے رکھتا اسکے قریب آیا۔۔
اس پر حصار کرتا وہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔
۔
“کیا کل میں پھر سے ڈر گئی تھی۔۔ ؟”
وہ اسکی جانب دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“نہیں میری عادت ہو گئی ہے نا اصل میں روز تمہارے پاس آنے کی “_
چہرے پر بکھرے بھورے بالوں کو سنوارتے وہ نرمی سے بولا۔۔
۔
وہ مسکرا دی۔۔ جانتی تھی وہ کبھی اقرار نہیں کرے گا کے اسکی ازو نیند میں ڈر جاتی ہے۔۔
“آج بھی نماز چھوڑ دی تم نے “_
وہ روز کی طرح آج بھی اسے یاد دلانا نہیں بھولا تھا۔۔
۔
“جانتے ہو دار جو کچھ ہو چکا ہے نا اسکے بعد میں پتھر ہو گئی ہوں۔۔ پتھروں کے دیس میں قید ہو گئی ہوں ۔۔ اس رات میں نے سب کو پکارا تھا دار اور اللّه کو سب سے زیادہ پکارا تھا۔۔ لیکن اس نے مدد نہیں کی میری۔۔ وہ کہتا ہے وہ کسی پر اسکی سکت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔ اسے بتاؤ دار کے ازورا کی سکت ختم ہو گئی۔۔ یہ بوجھ اب واپس لے لے۔۔
اسکے لہجے میں کرب بول رہا تھا۔۔
۔
“اللّه سے بدگمان نہیں ہوتے ازو۔۔ اس سے جیسا گمان رکھو گی وہ ویسا ہی ملے گا۔۔
وہ رسانیت سے سمجهاتا اسے بیٹھا چکا تھا۔۔
وہ پیروں میں چپل اڑستی باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
وہ بھی اسکے جانے کے بعد کمرے سے نکل گیا۔۔
۔
سیاہ جینس کے ساتھ اؤشین بلیو فل سلیوز شرٹ میں ملبوس بالوں کا میسی سا جوڑا بنائے یونیورسٹی کے لئے تیار ہو کر وہ نیچے آئی۔۔ شہباز سے سامنا نا ہونے پر شکر ادا کرتی وہ باہر کی جانب بڑھنے لگی تھی جب پیچھے سے رومیسہ نے اسے پکارا۔۔
“سنو لڑکی۔۔ یونیورسٹی کب اوف ہوتی ہے تمہاری ؟”
۔
“دو بجے اوف ہوتی ہے۔۔ دار مجھے ڈراپ کر دیگا “_
وہ دروازے پر ہی کھڑی بولی۔۔
“جلدی آ جایا کرو۔۔ اور یہ کپڑے ذرا ڈھنگ کے پہنا کرو۔۔ غضب خدا کا یہاں بھی کوئی نیا چاند نہیں چڑھا دینا تم۔۔ پڑھنے بھیجتے ہیں ہم عیاشی کرنے نہیں “_
اسکی بات پر وہ جلتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
وہ بھی تو ایک عورت تھی۔۔ لیکن اسے احساس تک نہیں ہوتا تھا کے وہ اپنے الفاظ سے سامنے والے کی ذات کی دھجیاں بکھیر دیتی ہے۔۔
وہ اسے بتانا چاہتی تھی کے اصل عیاشی کون کر رہا ہے۔۔
لیکن پھر خاموش ہوتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔۔
اسکی یونیورسٹی کا آخری سال تھا۔۔ وہ ایل ایل بی کے آخری سال میں تھی۔۔۔ دارم کی ہی وجہ سے وہ یونیورسٹی تک پہنچ پائی تھی ورنہ رومیسہ تو کالج کے بعد ہی اسکی تعلیم کے حق میں نہیں تھی۔۔
آج دارم کو ہسپتال لیٹ جانا تھا اس وجہ سے وہ ڈرائیور کے ساتھ جا رہی تھی۔۔
۔
“فرحین آج کی ساری میٹنگ ایک بجے کے بعد کی رکھیں” ۔
اس نے بلیک کافی کا مگ پکڑتے ہوئے اپنی سیکرٹری کو ہدایت دی تھی۔۔
“اوکے سر “۔۔
فرحین نے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ بندہ کب کیا کہہ دے کوِئی پتا نہیں ہوتا تھا ۔
“اب آپ جا سکتی ہیں ” ۔۔
اس نے فائل کا مطالعہ کرتے ہوئے اسے جانے کی ہدایت دی ۔۔ وہ سر ہلاتی ہوئی باہر چلی گئی ۔۔
“فرحین !!
کچھ ہی دیر میں کچھ یاد آنے پر اس نے انٹر کام سے اسے دوبارہ بلایا۔۔
“جی سر “_
وہ فورا اسکے آفس میں آئی۔۔
۔
“شہباز ضمیر کی جو ڈیل ہمارے پاس آئی ہے۔۔ اسکے پائنٹس بنائے آپ نے ؟ اینولی کتنا پرافٹ ہو سکتا ہے ہمیں “_
اس نے تیکھی نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے سپاٹ سے انداز میں پوچھا۔۔
“سر شہباز ضمیر کی کمپنی تقریباً دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔۔ پچھلے تین سالوں سے وہ مسلسل لوس پر ہیں۔۔ کچھ بڑی کمپنیز نے اس سے ڈیل کی تھیں لیکن وہ پانچ چھ مہینوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔۔ اس وقت انکے پاس اتنے ایسٹس بھی نہیں ہیں جنہیں سیل کر کے کمپنی بچا سکیں “_
یہ تو وہ اچھی طرح جانتا تھا کے وہ یہ ڈیلز کیسے لیتا ہے۔۔
” همممم ۔۔
پنسل انگلیوں میں گھماتے ہوئے اس نے ہنکارہ بھرا تھا۔۔
“اس میں سے ازورا لاشاری کے شئیرز کتنے ہیں ؟”
“فورٹی پرسنٹ ہیں سر “_
وہ فورا بولی۔۔
“باقی سکسٹی پرسنٹ کس کے نام پر ہیں ؟”
اس نے اچھنبے سے پوچھا۔۔۔
“سر وہ سکسٹی پرسنٹ بھی شہباز ضمیر کے نام نہیں ہیں۔۔ مگر یہ نہیں پتہ کے کس کے نام پر ہیں “_
۔
“ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں “_
وہ پرسوچ انداز میں اسے جانے کا کہتا خود بھی گاڑی کی چابی اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“روم لاک کر دیجیے گا فرحین۔۔ میں دو گھنٹوں میں آتا ہوں “_
اسکا رخ یونیورسٹی کی جانب تھا۔۔
۔
اپنی کلاسز ختم ہونے کے بعد وہ پارکنگ میں کھڑی دارم کا انتظار کر رہی تھی جب بلیک چمچماتی گاڑی یونی کی پارکنگ میں رکی تھی گارڈ نے بھاگ کر اس کی گاڑی کا ڈور کھولا وہ بلیک کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوا باہر نکلا _ کتنی ہی لڑکیوں نے اس دیوتا حسن کے مالک انسان کو رشک سے دیکھا تھا جو بے نیازی سے چلتا ہوا کان میں بلو توٹھ لگائے کسی سے بات کرتا ہوا عین اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ ” گاڑی میں بیٹھیں آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں میں “
اسکے سامنے کھڑا ایک ہاتھ جیب میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے اپنے بال سنوارتا وہ دو ٹوک انداز میں بولا۔۔
۔
“جی !!
ہونق سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس شاندار سا شخص پہلی ملاقات میں ہی اسے پراسرار سا لگا تھا۔۔
۔
“زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔ گاڑی میں بیٹھیں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں میں “_
چہرہ اسکے قریب کرتے وہ یوں بولا جیسے خدشہ ہو کے وہ کم سنتی ہے۔۔
“دور ہو کر بات کریں۔۔ آواز آتی ہے مجھے۔۔ سماعت سے محروم نہیں ہوں میں “_
وہ اس بدتمیز شخص کی خوبصورتی اور امارت سے ذرا متاثر نہیں ہوئی تھی۔۔
“ازورا لاشاری۔۔ آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں میں گاڑی میں بیٹھ جائیں “_
وہ اب کی بار تھوڑا تحمل سے بولا تھا۔۔
“آپ مسٹر ایکس۔۔ وائی۔۔ زی۔۔ جو بھی نام ہے آپ کا۔۔ میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانے والی۔۔ دار مجھے پک کرنے آ رہا ہے۔۔ اب آپ راستہ چھوڑیں میرا۔۔ میں بلکل انٹرسٹڈ نہیں ہوں آپ سے کوئی بھی بات کرنے میں “_
وہ بھی اسی کے انداز میں بولی تھی۔۔ نوح کو وہ کل والی ڈری سہمی لڑکی سے کافی مختلف لگی۔۔
“مجھے زبردستی پر مجبور نہیں کریں ازورا۔۔ میری بات سن لیں پھر بےشک جسکے ساتھ جانا چاہتی ہیں جائیں “_
وہ اس لڑکی کے سامنے کافی ضبط کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔
کوئی دوسرا اسکی جگہ ہوتا تو اب تک نوح ارسلان اسے دو لگا کر گاڑی میں بیٹھا چکا ہوتا۔۔
لیکن اب اسکی ہمّت جواب دے رہی تھی۔۔
اسکی کلائی تھامے وہ جھٹکے سے اسے سیٹ پر پٹخنے کے سے انداز میں گاڑی میں ڈالتا اپنا کوٹ درست کرتا دوسری جانب سے خود بھی آ بیٹھا۔۔
۔
“مجھے ایسی ویسی لڑکی نہیں سمجھو۔۔ جان لے لونگی میں تمہاری۔۔ ذلیل کمینے انسان۔ . نکلے نا تم بھی شہباز ضمیر کے ہی سرکل کے۔۔ چھوڑو مجھے۔۔ جانے دو۔۔
وہ ہاتھ پیر چلاتی مسلسل اسے کوس رہی تھی۔۔ مقابل کوئی اثر لئے بغیر دلچسپی سے اسکا یہ انداز بھی دیکھ رہا تھا۔۔
۔
“خان بابا گھر لے چلیں گاڑی “_
اس پر ایک نظر ڈالتا وہ پر سکوں سا بولا۔۔
