Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
“”جان ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٧
۔
Mega Episode…🎉🎊🎉
شب تاریک سرگوشیاں کرتی گزر چکی تھی۔۔ وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد نجانے کب سے جائے نماز پر یونہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔ جسے دعاؤں میں مانگا کرتی تھی وہ زندگی میں اب کہیں نہیں تھا۔۔ دل خالی سرائے سا محسوس ہو رہا تھا۔۔
“اللّه سے کچھ مانگتی نہیں ہیں آپ ؟”
بھاری مردانہ خوبصورت آواز پر اس نے رخ پھیر کر اسے دیکھا۔۔ سفید شلوار کمیز میں ملبوس شفاف رنگت کا مالک تھا۔۔ شہد رنگ آنکھیں پُر شوخ انداز میں اسے تک رہی تھیں۔۔ وہ حیران تھی شاید اسکے دیکھنے کے انداز سے۔۔ وہ اسے دیکھ نہیں رہا تھا۔۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ اسکا ایک ایک نقش حفظ کر لینا چاہتا ہو۔۔۔
“کک کچھ بچا ہی نہیں مانگنے کے لئے۔۔ اپنی زندگی کے بائیس سال اپنی ہر دعا میں ایک ہی چیز مانگی میں نے۔۔ نا بہترین ہی چاہ کی۔۔ با بہتر کی۔۔ پھولوں کی سیج نہیں چاہیے تھی مجھے۔۔ کانٹوں پر بھی وہ ایک شہہ مل جاتی تو میں تمام عمر کانٹوں پر بسر کر دیتی تھی۔۔
“”دل اس سرائے سا محسوس ہو رہا ہے جسکا مکین ایک عمر گزار کر مکان کو ویرانے میں دھکیل گیا ہو۔۔ وحشت زدہ ویرانہ”_ آنسوں ٹوٹ کر اسکے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔۔ وہ کھوئی ہوئی سی بول رہی تھی۔۔ اسے تو شاید اندازہ ہی نہیں تھا کے وہ کس کے سامنے کیا بول رہی ہے۔۔ وہ اطمینان سے کھڑا اسے سنتا رہا۔۔ پھر آہستہ سے اسکے سامنے دو زانے ہو کر آ بیٹھا۔۔ نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر جیسے اٹھنے کی درخواست کی تھی۔۔ وہ بنا کسی مزاحمت کے اسی خاموشی سے اسکے حصار میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ “ہم نہیں جانتے امل کے اللّه نے ہمیں اگر کسی مشکل میں ڈالا بھی ہے تو کیوں کر ڈالا۔۔ یا شاید وہ مشکل ہوتی ہی نہیں ہے۔۔ بس ہمارے دل و دماغ کا فتور ہوتا ہے”_ اس نے سہم کر اسکی جانب دیکھا۔۔ تو کیا وہ جان گیا تھا۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔ “شاید میرا اندازہ غلط ہو۔۔ شاید آپ کی طبیعت واقعی تھکن سے خراب ہو گئی ہو۔۔ لیکن آپ کی آنکھوں کی یہ ویرانی جو قصہ کہ سنا رہی ہے میں اس پر یقین نہیں کرنا چاہتا امل”_ اسے آگاہی نہیں ہوئی تھی مگر وہ بھانپ گیا تھا۔۔ اسے نرمی سے اپنے قریب کر کے اسکی پیشانی پر لب رکھ گیا تھا۔۔۔ وہ اسکے لمس پر سسک اٹھی تھی۔۔ اسکی کمیز مٹھیوں میں جکڑے وہ پوری کوشش کر رہی تھی کے اس وقت وہ اسکے چہرے پر نظر آنے والی تحریر نا پڑھ پائے۔۔۔ “میرا نزدیک آنا اچھا نہیں لگ رہا آپ کو جانتا ہوں میں”_ وہ کھڑے کھڑے اس کے سر پر بم گرا گیا تھا۔۔ “ننن نہیں۔۔۔ ایسی بب بات نہیں ہے۔۔ پلیز ایسا نہیں سوچیں ایسی کوئی بات نہیں ہے”_ وہ روتی ہوئی اپنی صفائی دے رہی تھی۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی اسکی کسی بھی بیوقوفی کی وجہ سے یہ رشتہ خراب ہو۔۔ اس نے ہوش و حواس میں اپنے تمام تر حقوق اس شخص کے سپرد کیے تھے۔۔ وہ اس پر ہر حق رکھتا تھا وہ جانتی تھی۔۔ “ریلیکس مسز۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔ آپ یوں رو کر کیوں اپنی نازک سی جان ہلکان کرتی ہیں ؟” وہ ہلکا سا ہنستا ہوا آنسوں صاف کر کے بولا۔۔ نازک سی یہ لڑکی کب پورے شان سے دل کی سلطنت پر راج کرنے لگی تھی اسے احساس ہی نہیں ہوا۔۔ اب جب وہ اس پر پورا حق رکھتا تھا۔۔ یوں روتی ہوئی اپنی صفائی دیتی وہ اسے بہت اپنی اپنی سی لگی۔۔ “نماز کے بعد دعا نا چھوڑا کریں امل”_ وہ شرمندہ سی ہوتی سر ہلا گئی۔۔ “کچھ نہیں ہے مانگنے کو تو میرا عمر بھر کا ساتھ مانگ لیں۔۔ میں بھی مانگتا ہوں لیکن دل کو وہ راحت نہیں ملتی جو قبولیت کی سند لگے۔۔ راحت کے لئے تو یہی کافی ہوگا کے آپ میرا ساتھ جنّت تک کے لئے مانگ رہی ہیں۔۔ میرے ساتھ کی اتنی ہی ممتنی ہیں جتنا میں ہوں”
اسکی موہنی سی صورت ہاتھوں میں لئے وہ آنکھوں میں شوق کا جہاں آباد کیے اسے تک رہا تھا۔۔ امل نے بےبسی سے اسے دیکھا۔۔ اس پیارے شخص کے ساتھ وہ کسی قسم کی کوئی بےایمانی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
“آپ میرے نصیب میں ہیں۔۔ اللّه نے آپ کا ہی ساتھ لکھا ہے نا”_ وہ جیسے اسے بہلاوے دے رہی تھی۔۔ اور وہ سب جانتے بوجھتے بھی بہل گیا تھا۔۔۔ “تو پھر مانگیں نا۔۔۔ میں آپ کے چہرے پر وہ رنگ دیکھنا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ کی خواہش پر آپ کے حسین چہرے کو گلنار کر دے”
وہ بچوں جیسے اشتیاق سے بولا تھا۔۔ امل نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔
“مانگیں”_ مقابل جیسے اب بھی انتظار میں تھا۔۔ کوئی زبردستی بھی خود کو اپنے حق میں مانگنے پر مجبور کرتا ہے کیا بھلا وہ سوچ کر رہ گئی۔۔۔ لبوں پر بےاختیار سی مسکان بکھری تھی۔۔
سامنے کھڑے سفیان کے چہرے پر جان دار مسکراہٹ ابھری۔۔ اتنے جتن اس ایک مسکان کے لئے ہی کیے تھے۔۔
“کہہ دینے سے پہلے سن لیتا ہے تو۔۔ سب جانتا ہے۔۔ پھر بھی کہ رہی ہوں۔۔۔ تو ایسے راضی ہے تو میرا دل اپنی رضا کی جانب پھیر دے۔۔ دارم اسفہان کو میری طلب کی خواہشوں سے نکال دے اللّه”
بند آنکھوں سے آنسوں قطار در قطار بہ رہے تھے۔۔
“مجھے اس گناہ میں مبتلا ہونے سے بچا لے کے میرا دل اب اسکی خواہش کرے جب کے وجود تو نے کسی اور کے حق میں رکھا ہے”_ ۔ “مشکل تو تھا جس شخص کو تمام عمر دعاؤں میں مانگا ہو۔۔ اس سے دستبرداری۔۔۔ مشکل تو تھی”_
“میرے رازداں! تومیرے رحمن ہے۔۔۔ مجھے اپنی رحمتوں میں امان دے دے”_ لبوں پر مسکان لئے بهیگے چہرے والی وہ لڑکی سفیان خاور کو مبہوت کر رہی تھی۔۔ “میں نے سنا ہے مُحب کی محبت تو محبوب کو سنوار دیتی ہے۔۔ میں چاہتا ہوں سفیان خاور کی سنگت۔۔ اسکی قربت۔۔ اسکی محبت۔۔ امل شہباز آپ کو سنوار دے۔۔ آپ کو سنورنے کے لئے کسی سنگھار کی ضرورت نا ہو۔۔ میرے قرب کی۔۔ میرے نام کی لالی ہی آپ کا سنگھار ہو”_
سانولا چہرہ شفق کی لالی چرا کر گلال میں ڈھل گیا تھا۔۔ سلونی رنگت کی وہ لڑکی سنہری معلوم ہو رہی تھی۔۔ چاہے جانے کا روپ تو ہر روپ کو مات دیتا معلوم ہو رہا تھا۔۔
۔
۔
“دارم”_ “دارم۔۔۔ ہسپتال بھی نہیں آئے تم۔۔ کہاں ہو ڈاکٹر”
وہ اپنے مخصوص انداز میں دارم کو پکارتی پورے آپارٹمنٹ میں ڈھونڈ رہی تھی۔۔ دارم کے اپارٹمنٹ کی ایک سپئیر کی اسکے پاس ہمیشہ ہوتی تھی۔۔ وہ کل جلدی ہسپتال سے آ گیا تھا اور آج سورج سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا اور وہ نہیں آیا تو وہ لنچ بریک سے کچھ پہلے اسکے اپارٹمنٹ پہنچ گئی تھی۔۔
یوں بھی وہ دونوں اکثر ہی لنچ ساتھ ہی کرتے تھے۔۔
اسے بہت دھیمی مردانہ آواز آ رہی تھی۔۔ اس نے آواز کی سمت دیکھا۔۔
آواز کمرے کے اندرونی حصّہ میں موجود اسٹڈی روم سے آ رہی تھی۔۔
اسٹڈی کا دروازہ کھولتے اسکا وجود پتھر کا ہو گیا تھا۔۔ اسکے دل نے شدّت سے خواھش کی تھی کے کاش وہ یہ دروازہ نا ہی کھولتی۔۔
وہ کاؤچ پر بےترتیب سا پڑا ہوا تھا۔۔ ارد گرد کتنے کی خطوط بکھرے تھے۔۔۔ اسکی نظریں اسکے ہاتھ میں موجود تصویر پر پڑی تھی۔۔
مایوں کے لباس میں ملبوس امل۔۔ سفیان کے پہلو میں بیٹھی۔۔ آنکھوں میں حسرت لئے وہ اس وقت بھی شاید اسی کو دیکھ رہی تھی جس وقت دارم نے تصویر لی۔۔
چھانکے سے کچھ اندر ٹوٹا تھا۔۔۔
اسکی نگاہیں ارد گرد بکھری تصویروں سے الجھتی چلی گئی۔۔ پاس ہی ایک لیٹر باکس تھا۔۔ خالی لیٹر باکس۔۔
تمام تر خطوط نیچے بکھرے پڑے تھے۔۔ جیسے انہیں نئے سرے سے پڑھا گیا ہو۔۔
اسکی آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔۔ یہ آگاہی کا کونسا لمحہ تھا جو ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔بےخبری کتنی بڑی نعمت ہے یہ رمشا آج سمجھ پائی تھی۔۔
وہ کسی ہارے جواری کی مانند دارم اسفہان کے سامنے بیٹھی تھی۔۔
دھندلی نگاہوں سے اس نے سامنے پڑے خط کو دیکھا۔۔
“امل دارم اسفہان”_ بند خط پر نام کُندہ تھا۔۔ اسکے دل کو کسی نے کند چھوری سے ذبح کرنا شروع کر دیا تھا۔۔ “دارم اسفہان کی جهلی”_
“فیوچر مسز”_ “آپ کی تمام تر اذیتوں کا سدباب ایک ہی بار کرے گا دارم اسفہان فیوچر مسز”
الگ الگ خطوط۔۔
الگ الگ تاریخ۔۔۔
اور ہر خط کے اوپر کندہ مختلف جملے “فیوچر مسز”
وہ زیر لب بڑبڑائی تھی۔۔ تو کیا وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ بدحواسی میں اسے پکار رہا تھا۔۔۔
کتنی ہی تصویریں تھیں۔۔ مختلف انداز میں بیٹھی۔۔ کبھی مسکراتی ہوئی۔۔ کبھی روتی ہوئی ۔۔ اسکا ہر ہر انداز۔۔ اسکی ہر ہر ادا دارم اسفہان نے کیمرے کی آنکھ میں قید کیا ہوا تھا۔۔
“اچھی لگ رہی تھیں آپ۔۔ بہت اچھی”_ اسکی سماعت سے اسکی آواز ٹکرائی تھی۔۔۔ وہ جانتا نہیں تھا کے وہ اسکے سامنے آ بیٹھی ہے۔۔ وہ ہیر نہیں تھی نا وہ رانجھا تھا۔۔ اس نے دارم اسفہان سے کوئی طوفانی عشق نہیں کیا تھا۔۔ لیکن دل تھا جو درد سے بھرتا جا رہا تھا۔۔ “آپ کی آواز بہت پیاری ہے امل۔۔ آپ کے گیت میرے لئے ہوتے ہیں نا اس لئے مجھے اور پیاری لگتی ہے”_
اس کمرے کے در و دیوار بھی دارم اسفہان کے عشق کے گواہ معلوم ہو رہے تھے جو اس نے امل شہباز سے کی۔۔
“تو اسے اپنایا کیوں نہیں”_ اسکے لبوں سے الفاظ خارج ہوئے تھے۔۔ وہ جاننا چاہتی تھی۔۔ اتنی چاہت۔۔ اس قدر محبت کے بعد اس نے امل شہباز کو کیسے سفیان خاور کا ہونے دے دیا۔۔۔ “میری نگاہوں کے سامنے آپ کسی اور کے ساتھ رخصت ہو گئیں امل”
اسکی آنکھوں سے دو آنسوں ٹوٹ کر گرے تھے۔۔ رمشا کو اپنے ہاتھ پتھر کے ہوتے معلوم ہو رہے تھے۔۔
اس سے زیادہ برداشت نہیں تھی اس میں۔۔
“دارم”_ تکلیف کی انتہا تھی شاید اسکی آواز اتنی بلند تھی کے دارم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔ “تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
اسکی آنکھوں سے نظریں چراتے وہ تیزی سے تمام تر تصاویر اٹھاتا۔۔ اس باکس میں ڈال رہا تھا۔۔ سارے خطوط ایک ایک کر کے اٹھاتا وہ اسکے ہاتھ میں موجود خط بھی جھپٹنے کے سے انداز میں لیتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
“تم بیٹھو لاؤنچ میں۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔ لنچ تو نہیں کیا ہوگا تم نے آرڈر کر لیتے ہیں۔۔ بلکہ فریش ہو کر آتا ہوں ساتھ چلتے ہیں۔۔ تمہاری فیورٹ پلیس”_ وہ خود کو ہشاش بشاش دکھانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔۔ اور اتنی ہی بری طرح ناکام ہوا تھا۔۔ اسکی آنکھوں کی سرخی۔۔۔ بکھری حالت۔۔ اعلانیہ اسکی حالت کا پتا دے رہی تھی۔۔ ۔ “شادی کیوں نہیں کر لی تم نے اس سے ؟” وہ سپاٹ انداز میں بولی تھی۔۔ “کیوں کے میں اس سے محبت کرتا ہوں”
وہ شکست خوردہ انداز میں بولا تھا۔۔
“آہ۔۔۔ رمشا کو گلے میں آنسوں کا گولہ اٹکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
دارم اسفہان جیسا شاندار شخص اس عام سی معمولی صورت والی لڑکی کے در کا گدا تھا جو خود اسکی داسی بن کر رہنا چاہتی تھی۔۔۔
کتنی عجب داستان تھی۔۔۔
“محبت تھی تو کیسے کسی اور کے نام ہونے دیا اسے”
وہ جرح پر اتر آئی تھی۔۔
“کیوں کے میں اسے اس سے زیادہ اذیت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا تھا اسے۔۔ جو اذیت اسے مجھ سے شادی کے بعد ملتی اس سے بہتر تھا کے اسکی شادی کسی ایسے شخص سے ہو جو اپنی محبت سے میری محبت اسکے دل سے نکال دے۔۔۔ اسے یاد بھی نا رہے کے کوئی دارم اسفہان بھی تھا۔۔۔ میں نہیں چاہتا تھا اسے اپنے نکاح میں لے کر میں اسکے ساتھ کوئی ایسی زیادتی کر جاؤں جسکی بناء پر انکی آنکھوں میں میری محبت نفرت میں بدل جائے”_ وہ سمجھ نہیں پائی وہ کس کی بات کر رہا ہے لیکن اسکا انداز۔۔ اسکا لہجہ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کے وہ معمولی سی لڑکی اس شہزادے کو ہار کر بھی جیت چکی تھی۔۔ وہ جا چکا تھا۔۔ وہ سامنے قد آور آئینے میں نظر آتا اپنا وجود تک رہی تھی۔۔ آئینہ اسے بہت خوبصورت بتا رہا تھا۔۔ اسکا خوبصورت سراپا جگمگ کرتا اسے عجب سے احساس کمتری میں مبتلا کر رہا تھا۔۔ وہ ہیر نہیں تھی۔۔ نا دارم اسفہان رانجھا تھا۔۔ لیکن امل شہباز جیسی جهلی نہیں تھی جو اسکے قدموں کی داسی بن کر اسے اپنے در کا گدا بنا گئی تھی۔۔ لاحاصل محبتوں کے چکی کے دونوں پاٹ میں پستے وہ کتنے ہی وجود سکون کی تلاش میں سرگرداں تھے__
۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا خود پر خوشبو کا بےدریغ استعمال کر رہا تھا۔۔ ساتھ ہی ساتھ آئینے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھ رہا تھا جو انگلیاں مڑوڑتی کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔۔ بالوں کو پچھلی جانب سیٹ کر کے کوٹ کے بٹن لگاتا وہ اسکی جانب آیا۔۔۔
وہ تو خوشبو کے جھونکے پر بدحواس سی ہوتی دور ہوئی تھی۔۔
“کک کم استعمال کیا کریں پرفیوم”_ اسکے ساتھ رہتے ہوئے روز اسے اس طرح تیار ہوتے دیکھ وہ یہ تو جان گئی تھی کے پرفیوم کا بےدریغ استعمال نوح ارسلان کی پسندیدہ مشغلوں میں سے ایک ہے۔۔۔ “آپ کچھ مہربان ہو جائیں تو ان مصنوعی خوشبوؤں کی ضرورت نا پڑے نوح ارسلان کو”_
کمر سے تھام کر کچھ قریب کرتے وہ زو معنی انداز میں بولا تھا۔۔ انداز ہمیشہ کی طرح استحقاق بھرا تھا۔۔ وہ مغرور شہزادہ لفظوں سے نا بھی کہتا لیکن اسکا ہر ہر عمل ازورا لاشاری کو اسکی اہمیت کا احساس بخوبی دلاتا تھا۔۔
“کیا کہنا چاہ رہی ہیں ؟”
اسکی انگلیوں کو ایک ہاتھ سے آزادی دلا کر وہ اطمینان سے بولا تھا۔۔
“ککک کچھ پیسے چاہئے تھے مجھے”_ ہاتھ مسلتی آنکھیں میچ کر وہ آنسوں پینے کی کوشش کرتی بےبسی سے بولی تھی۔۔ اسے اپنا آپ اسکے سامنے ارزاں محسوس ہو رہا تھا۔۔ لیکن اسکا جسم جس چیز کی خواہش کر رہا تھا وہ پوری نا ہونے پر وہ اسکے سامنے مزید بےبس ہو جاتی۔۔۔ نوح کو یکدم ہی شرمندگی نے آ گھیرا تھا۔۔ وہ اسکے نکاح میں تھی۔۔ اسکی ذمہ داری تھی۔۔ اور وہ اس نہج پر سوچ ہی نہیں سکا کے اسے پیسوں کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔۔ اتنا لاپرواہ کیسے ہو گیا وہ۔۔ لب بھینچے سنجیدگی سے چند پل اسے تکتے رہنے کے بعد اسکی جانب پانچ پانچ ہزار کے کئی نوٹ اسکی جانب بڑھائے تھے۔۔ “اتنے۔۔ اتنے سارے نن نہیں چاہئے۔۔ تھوڑے سے چاہئے”
وہ جلدی سے بولی تھی۔۔ اتنے پیسے تو نہیں چاہئے تھے اس سے۔۔
“پورا بندہ آپ کا ہے لیڈی۔۔۔ جتنا ہے سب آپ کا ہے۔۔ آپ کے لئے ہے”_ وہ شان تغافل میں سب کو پیچھے چھوڑ دینے والا نوح ارسلان آج ایک ادا سے اسکے سامنے جھکتا اسے مزید شرمندہ کر گیا تھا۔۔ اگر وہ جان جاتا کے وہ یہ پیسے کیوں مانگ رہی ہے تو
نہیں اسے کیسے پتا چلے گا۔۔ اس نے جیسے خود کو دلاسہ دیا تھا۔۔
اسکی نظریں اسکی گردن پر پڑے اس نشان پر پڑی تھی۔۔ نیلا نشان جو میک اپ نا ہونے کی وجہ سے واضح نظر آ رہا تھا۔۔
بےاختیاری عمل سرزرد ہوا تھا۔۔ وہ اس نشان کو لبوں سے چھو گیا تھا۔۔ اسکے پورے بدن میں کپکپی سی طاری ہو گئی تھی۔۔
“ممم میں بب بس فاؤنڈیشن لگانے والی تھی “
کانپتے لہجے میں بولتی وہ دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔ نا چھپایا کریں خود کو ان مصنوعی تہوں کے پیچھے۔۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے لیڈی”_ انگلی کی مدد سے سہلاتے وہ کرب زدہ لہجے میں بول رہا تھا۔۔ اسکی نگاہوں میں اسکے لئے حقارت نہیں ہوتی تھی۔۔ ہمدردی نہیں ہوتی تھی۔۔ صرف محبت ہوتی تھی۔۔ فقط محبت۔۔۔ “سب عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔۔ آآ آپ کی طرح کک کوئی نہیں دیکھتا نوح”_
وہ آنسوں پیتی انجانے میں اقرار کر گئی تھی۔۔ اسے نوح ارسلان کی طرح ہوئی نہیں دیکھتا تھا۔۔
“کیوں کے آپ پر نوح ارسلان کا حق ہے میری جان۔۔ آپ کو سب کی نظروں کی فکر کیوں ہے جب میری نگاہوں میں آپ کو اپنے لئے دیوانگی نظر آتی ہے”_
وہ اسے اب بھی یونہی تک رہا تھا جیسے کوئی بچہ اپنی پسندیدہ ترین شے کو تکتا ہو۔۔ اسکی نگاہیں اسکے سر پر محبت کے تاج سجاتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
“کوئی آپ کو اس طرح نہیں دیکھ سکتا جیسے نوح ارسلان دیکھتا ہے۔۔۔ نوح ارسلان آپ کو روح میں اترتی نگاہوں سے دیکھتا ہے”_ وہ اسکے کانوں میں صور پھونک رہا تھا۔۔ وہ ساحر ہی تو تھا۔۔ لفظوں کا سحر پھونک رہا تھا۔۔ “کیا سب کو آپ کی روح تک رسائی حاصل ہے ؟”_
اسکی گرم سانسیں اسے واقعی اپنی روح میں اترتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ یہ شخص نگاہوں سے روح میں اترنے کا ہنر جانتا تھا۔۔۔
اسکی گردن بےاختیار نفی میں ہلی تھی۔۔
“تو کوئی کیسے آپ کو نوح ارسلان کی نظروں سے دیکھ سکتا ہے۔۔۔ مائی لیڈی”_ ٹھنڈا لہجہ۔۔ نرم انداز۔۔ لیکن اسکے وجود میں حرارت سی پیدا کر گئے تھے۔۔ “مائی لیڈی”
یہ لفظ اسے دنیا کا حسین ترین لفظ لگا تھا۔۔ باقی سب محو ہو گیا تھا۔۔
“ممم مجھ سے کک کوئی غلطی ہو گئی تو بھی آپ اسی طرح محبت کریں گے نا مجھ سے”
وہ کسی انجانے خدشہ کے تحت پوچھ رہی تھی۔۔
“آپ پر نوح ارسلان کا خون بھی معاف ہے”_ چشمہ کے پیچھے سے ڈارک براون آنکھیں چمکتی ہوئی سنہری رنگت لئے اسے تک رہی تھیں۔۔ نوح ارسلان اپنی جان وار بیٹھا تھا اس پر۔۔ کیا اس سے زیادہ خوش بخت بھی کوئی تھا_
“یونی کے لئے لیٹ ہو رہے ہیں”_ اسکی نظریں زیادہ دیر برداشت نہیں ہو پائیں تھیں اس سے
“اسکا حساب لونگا میں آپ سے”_
وہ سرگوشی کرتا دور ہوا تھا۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پرس میں بیگ میں پیسے ڈالے۔۔ پانچ ہزار۔۔۔ دس ہزار۔۔۔ دو نوٹ ڈال کر باقی رقم وہ سائیڈ ڈرول میں ڈال گئی تھی۔۔
نیچے آ کر اس نے دادو سے پیار لیا۔۔
“میں ابھی اوپر ہی آنے والا تھا”_
وہ اپنی وہیل چیئر کی سیٹنگ چینج کرتے بولے ۔۔۔
نوح مسکراتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ اپنی برائی کے لئے دونوں کو کچھ وقت دے گیا تھا۔۔
“ازورا۔۔۔ آج لیو ایپلیکیشن دے دیں یونی میں۔۔ کل ہم لائیر کے پاس جا رہے ہیں”_
یونی کی پارکنگ میں گاڑی روک کر اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔
“کس لئے؟”
اس نے حیرانی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“وہ کل جان جایئنگی آپ”
وہ نرمی سے بولا تھا۔۔
وہ سر ہلا کر بیگ تھامتی نکل گئی۔۔
۔
وہ نوح کے آنے سے پہلے ہی کیمپس سے نکل آئی تھی۔۔ آخری کے دو کلاسز بھی چھوڑ آئی تھی۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتی وہ پارکنگ میں آئی تھی۔۔ کیب نظر آتے ہی اسے اشارہ کرتی بیٹھ گئی۔۔
ٹیکسی ایک سائیڈ ایریا میں رکی تھی۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اندر کی جانب بڑھی۔۔ دل اندر ہی اندر اس حرکت کے لئے سرزنش کر رہا تھا۔۔
“نہیں۔۔ میں آہستہ آہستہ چھوڑ دونگی”_ اس نے جیسے خود کو دلاسہ دیا تھا۔۔ دل مطمئن نہیں تھا لیکن اس نے چپ سادھ لی تھی۔۔ ایک پرانے سے دوکان کے سامنے رک کر اس نے پانچ ہزار کا نوٹ اس آدمی کے سامنے رکھا۔۔ “اتنے میں تو ایک دن کا حصّہ بھی تمہیں نہیں ملے گا”_
وہ شخص ہنستا ہوا بولا تھا۔۔ اس نے دوسرا پانچ ہزار کا نوٹ بھی اسکے سامنے کیا تھا۔۔
“اور نہیں ہیں میرے پاس۔۔ جلدی کرو پلیز”__
وہ سنجیدگی سے بولی تھی۔۔ اس آدمی نے کولڈ ڈرنکس کے پیچھے سے پاؤڈر نکالنا شروع کیا۔۔ اسکے ہاتھوں میں انجکشنز اور دوائیں دے کر دو پیکٹ پاؤڈر تھمائے۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھاما تھا۔۔ وہ آج خوفزدہ نہیں تھی۔۔ شرمندہ تھی۔۔ وہ نوح کو دھوکہ نہیں دینا چاہتی تھی لیکن یہ نشہ تھا جو اسے ہر حال میں چاہیے تھا۔۔ ہفتہ بھر اس کے جسم کو وہ نشہ نا ملتا تو اسکی حالت ابتر ہو جاتی۔۔ دو ہفتوں سے اسے اسکی مطلوبہ شہہ میسر نہیں آئی تھی۔۔ اس سے زیادہ کنٹرول نہیں کر سکتی تھی وہ۔۔۔
وہ کیب لیتی گھر کا پتا بتاتی بیٹھ گئی۔۔ نوح کو اس نے ٹیکسٹ کر دیا تھا وہ گھر جا رہی ہے۔۔ اسکے بعد سیل آف کر کے بیگ میں ڈال دیا تھا۔۔ وہ جانتی تھی وہ اسے اکیلے آنے کی اجازت نہیں دے گا۔۔ وہ اس سے پہلے گ پہنچ جانا چاہتی تھی۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوئی تو اس وقت گھر میں خاموشی کا راج تھا۔۔ وہ جانتی اس وقت اختر شیروانی آرام کر رہے ہوتے تھے۔۔ وہ لان کے پچھلے جانب آ گئی تھی۔۔ عشقِ پیچاں کی بیل لان کے دیوار سے دور تک چمٹی ہوئی تھی۔۔ اسکے پھولوں پر شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔۔ وہ انجکشن ہاتھوں میں لئے دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتی غور سے درخت کو دیکھ رہی تھی جو دیوار سے چمٹی دیوار کے تمام تر داغ تمام تر بدصورتی کو اپنی خوبصورت بیل تلے ڈھانپ لیا تھا۔۔
“نوح”_ اسکی نگاہوں کے سامنے بےساختہ نوح ارسلان کا عکس لہرایا تھا۔۔ اس نے بھی تو اسکے داغ دار وجود کو اسی طرح اپنے شاندار وجود سے ڈھانپ لیا تھا۔۔ انجکشن بازو میں پیوست کرتے آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر اسکے گال بھگو رہے تھے۔۔ “ازورا”
“ازورا” وہیر آر یو لیڈی ؟” “ازورا۔۔۔ اسٹاپ اٹ ہنی۔۔ کہاں ہیں آپ ؟” نوح کی آواز پر اس نے سہم کر ارد گرد دیکھا۔۔ اس سے پہلے کے وہ اٹھتی یا انجکشن چھپآتی وہ اسکے سر پر آ پہنچا تھا۔۔ “ازو
اسکے ہاتھ میں موجود انجکشن دیکھ کر اسکے باقی الفاظ حلق میں ہی دم توڑ گئے تھے۔۔ وہ ایک ہی جست میں اسکے قریب آیا تھا۔۔
اسکے میسجز کے رپلائے نا کرنے پر وہ اپنی میٹنگ کینسل کر کے آیا تھا۔۔ دوپہر سے وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا۔۔ اور اب شام ہو چلی تھی۔۔
“اس لئے آپ جلدی آئی تھیں ؟”
اسکی جانب دیکھتے اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔۔ اسے کلائی سے تھام کر اندر کی جانب بڑھا۔۔ جو بنا کچھ کہے اسکے ساتھ چلتی چلی گئی۔۔
کمرے کا دروازہ بند کے کے وہ گہری سانس لے کر اسکی جانب دیکھ رہا تھا جو ناخن سے ہتھیلی کو کھرچ ڈالنے کا ارادہ کئے ناخن گاڑے کھڑی تھی۔۔۔
اس نے بنا کچھ کہے اسکے ہاتھ سے انجکشن لے کر پھینکا تھا۔۔۔
“کچھ رہتا ہے یا سب لے لیا”
بازو سے آستین اوپر کرتا وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔ وہ آنسوں پیتی نفی میں گردن ہلاتی کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ وہ اسے تکلیف دینا نہیں چاہتی تھی۔۔ لیکن پھر بھی اسکے لئے تکلیف کی باعث بن رہی تھی۔۔
“مم میں نن نہیں لیتی تت تو مر جاتی”_ وہ نہیں جانتی تھی وہ اسے صفائی کیوں دے رہی ہے۔۔ لیکن اسکی آنکھوں کی بےاعتباری اسے تکلیف دے رہی تھی۔۔۔ اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں لیکن وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔۔ “ممم میں نہیں لوں تو جسم کھنچتا ہے”
وہ خاموشی سے اسے سن رہا تھا۔۔
“اور یہ لے کر پل پل۔۔ دھیرے دھیرے۔۔ مجھے کند چھوری سے ذبح کرتی ہیں آپ”
وہ سرد انداز میں بولا تھا۔۔ نظریں بازو سے بہتی خون کی لکیر پر ٹکی تھیں۔۔
“پپپ پلیز۔۔ ممم میں ککک کم لونگی”_ اسکے ہاتھ سے پاؤڈر لینے کی کوشش کرتی وہ حواس کھو رہی تھی۔۔ اس نے اسے جتایا نہیں تھا لیکن وہ سمجھ گیا تھا اسے اچانک پیسوں کی ضرورت کیوں آ پڑی تھی۔۔ کیوں وہ انا زادی اپنی عزت نفس مجروح کرتی اسکے سامنے آئی تھی۔۔ “ازورا_ میری طرف دیکھیں۔۔ آپ بس مجھے دیکھیں کچھ نہیں ہوگا۔۔ کچھ نہیں ہوگا میری جان۔۔ آپ کو اسکی ضرورت نہیں ہے”_ اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ محبت بھرے انداز میں سمجھا رہا تھا۔۔ “نننن نہیں دے دو۔۔ پلیز دے دو نا۔۔ ببب بس آج”
وہ بےچین سی ہوتی اسکے بیگ سے مزید پاؤڈر کی شکل کے پیکٹس نکال رہی تھی۔۔ نوح نے تیر کی سی تیزی سے اسکے ہاتھوں سے وہ بھی جھپٹا تھا۔۔۔
“پلیز دے دو۔۔ دد دیکھو۔۔ میری سانس۔۔ سانس رک رہی ہے۔۔ نہیں آ رہی “_
وہ بول ہی نہیں رہی تھی۔۔ اسکی سانسیں واقعی تھمتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
“ازورا۔۔
وہ تیز آواز میں بولا تھا۔۔ وہ متوحش نگاہوں سے اسے تکتی بلک رہی تھی۔۔ نوح بےبسی سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
“ازورا۔۔۔ آپ مجھے دیکھیں نا میری جان۔۔ اور کچھ یاد نہیں رکھیں”_
نرمی سے اسکی آنکھوں کو چومتے اس نے یقین دلایا۔۔ لمحوں میں فیصلہ کر گیا تھا۔۔
“آآپ کے پاس رہنا ہے۔۔ اس نے یہ۔۔ یہ دیا تھا۔۔ اب آپ نہیں دیتے تو مم مم مجھے خود لینا پپ پڑا”_ وہ اسکے سینے سے لگی روتی ہوئی بےربط سے جملے کہ رہی تھی۔۔ “شش_ سب ٹھیک ہے۔۔ کوئی نہیں ہے یہاں۔۔ صرف ازو ہے۔۔ اور میں ہوں آپ کے ساتھ۔۔ آپ جانتی ہیں نا میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا آپ کو ؟”
اسے پرسکون کرتا وہ سرگوشی کی سی آواز میں بول رہا تھا۔۔ وہ نفی میں گردن ہلاتی پرسکون ہونے لگی تھی۔۔
“ازو آپ کے ساتھ ہے”__
اسکے حواس کھونے سے پہلے آخری جملے سے نوح ارسلان کے اندر تک سکون سرایت کر گیا تھا۔۔
