60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13


“”جانِ ادا””
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٣
۔
“ازو۔۔ ازو آنکھیں کھولو”_
اسے ہوش و حواس سے بےگانہ دیکھ امل کے حواس خطا ہو رہے تھے۔۔ پہلے شہباز کا اچانک ازورا کو طلاق دے دینا اور اسکی یہ حالت وہ تو سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کے انکے ساتھ ہوا کیا ہے_ “ہٹیں آپ۔۔ خبردار جو آپ میں سے کوئی بھی اسکے قریب آیا تو”
امل کو جھٹکے سے ازورا سے دور کے وہ ان تینوں سے مخاطب تھا۔۔ انداز واضح وارننگ دیتا ہوا تھا۔۔
اسکا سینے کی بائیں جانب رکھا ہاتھ دیکھ اسے اندازہ ہو گیا تھا کے ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔
“ازو۔۔ مجھے سن رہی ہو نا۔۔ آنکھیں کھولو بیٹا دار کو دیکھو”_
وہ پاگلوں کی طرح اسے بازوؤں میں اٹھائے باہر کی جانب لپکا تھا۔۔
امل نے شکوہ کناں نظروں سے شہباز کی جانب دیکھا۔۔
آج ازورا کی اس حالت کا ذمہ دار وہی تھا۔۔۔
شہباز ضمیر کو پہلی بار تکلیف کا مطلب سمجھ آیا تھا۔۔ یہ بات سچ تھی امل میں اسکی جان بستی تھی۔۔
وہ ساری دنیا کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ سکتا تھا لیکن امل کو آنکھوں میں ہلکورے لیتی نمی بھی اسکی جان نکال دیتی تھی۔۔
“گاڑی میں ڈرائیو کر دیتی ہوں”_
وہ دارم کے پیچھے آئی تھی۔۔
“خبردار جو آپ میرے یا اسکے قریب بھی آئیں تو۔۔ اسکے لئے بس دارم اسفہان کافی ہے”_
اسے دھکا دیتے اس نے گاڑی سے دور کیا تھا۔۔ وہ نیچے فرش پر گری تھی۔۔ بازو میں شدید درد کی لہر اٹھی تھی۔۔
“دارم پلیز”_
اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی ازورا کو پچھلی سیٹ پر احتیاط سے لیٹاتا وہ ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھنے لگا۔۔
امل تیزی سے اٹھ کر پچھلی سیٹ پر ازورا کے ساتھ ہی بیٹھنے لگی۔۔
“میں نے کہا ہے آپ سے اس سے دور رہیں آپ”_
اسے بازو سے تھام کر گاڑی کے ساتھ لگاتا وہ غرایا۔۔
“میں نہیں رہ سکتی دور اس حالت میں اس سے ۔۔ جتنی محبت آپ کرتے ہیں۔۔ اتنی ہی محبت میں بھی کرتی ہوں اس سے “_
وہ روتی ہوئی خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتی بولی تھی۔۔
“میں جان لے لونگا آپ کی اگر آپ اسکے قریب بھی آئی تو۔۔ جو کرنا تھا وہ آپ کا باپ کر چکا ہے اسکے ساتھ”_
اسکے شانوں پر دباؤ ڈالے وہ اسکی جانب جھکتا ہوا بولا تھا۔۔ امل نے بھیگی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔۔ کوئی احساس نہیں۔۔
گاڑی کا دروازہ اتنی زور سے بند کیا کے وہ خوف سے چیختی اچھل پڑی تھی۔۔
اگلے ہی لمحے گاڑی دھواں اڑاتی اسکے سامنے سے نکلی تھی۔۔
“میں اس حالت میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی”_
وہ ہاتھوں کی پشت سے آنکھیں رگڑتی اپنے دوپٹہ کو ہی صحیح طرح سے خود پر کوور کر کے دروازے سے نکل گئی تھی۔۔ آج سے پہلے اسے یا تو ڈرائیور چھوڑتا تھا یا شہباز۔۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا وہ ازورا کو اس حالت میں نہیں چھوڑے گی۔۔ وہ جانتا تھا وہ اسکے پیچھے ہسپتال آئیگی۔۔ لیکن پھر بھی وہ اسکے ساتھ یہ سلوک کر کے گیا تھا۔۔
وہ روتی ہوئی اسٹاپ کی جانب قدم بڑھا رہی تھی۔۔ وہ نہیں جانتی تھی شہباز نے ایسا کیوں کیا۔۔ لیکن ازورا اسے بہت عزیز تھی۔۔
ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی تھی جب کالی گاڑی اسکے آگے رکی۔۔
گاڑی کا شیشہ بری طرح ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے اسے سامنے ہی نوح ارسلان بیٹھا نظر آیا تھا۔۔
اسکے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔ ہاتھوں سے خون بہ رہا تھا۔۔ وہ بےتاثر نظروں سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ وہ شاید انکے گھر کی ہی جانب جا رہا تھا۔۔ اسٹاپ پر موجود امل کو دیکھ کر اس نے گاڑی روکی تھی۔۔
امل کو اسکی آنکھوں سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں کے کنارے حد سے زیادہ سوجی ہوئی تھیں۔۔ جب کے ڈارک براؤن آنکھوں میں گھلی سرخی اسکے وجود میں کپکپی طاری کر گئی تھی۔۔
“یہی وہ شخص تھا جسکی وجہ سے شہباز نے دارم کو طلاق دی۔۔ جسکی وجہ سے دارم نے شہباز پر ہاتھ اٹھایا۔۔ جسکی وجہ سے ازو ہسپتال میں تھی۔۔
بھیگی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتی وہ تنفر سے رخ پھیر گئی۔۔
“لڑکی یہاں کھڑی رو کیوں رہی ہو ؟”
اسکا انداز بھی اسکی آنکھوں جیسا ہی تھا بےتاثر، سپاٹ۔۔
“آپ کی وجہ سے میری ازو ہسپتال میں ہے۔۔ آپ کی ڈیل کی وجہ سے بابا نے اسے طلاق دی ہے۔۔ نفرت کرتے ہیں ہم آپ سے نوح ارسلان”_
اسکی آنکھوں سے ہی نہیں لفظوں سے بھی نفرت جھلک رہی تھی۔۔
وہ اس شخص کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔
“ازورا۔۔ ہسپتال میں”_
وہ زیر لب بڑبڑآیا تھا۔۔
“کیا ہوا ازورا کو۔۔ کیوں ہیں وہ ہسپتال میں”_
اسکے لہجے کی تڑپ پر امل نے استہزآئیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“آپ کی مہربانی کی وجہ سے۔۔ پیسے سے سب کچھ خرید لینا چاہتے ہو تم”_
اسکی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہ رہے تھے۔۔
“نام بتاؤ مجھے کون سے ہسپتال میں ہے وہ “_
اسکی بات نظر انداز کرتے وہ بےچینی سے بولا۔۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے سانسیں تنگ ہو رہی ہوں۔۔
اس نے اس طرح تو کچھ نہیں چاہا تھا جس طرح سب ہو رہا تھا۔۔
وہ خاموش کھڑی رہی تھی نوح نے تاسف سے اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ چاہتا تو ساری ویڈیوز اسے دکھا کر ایک لمحے میں اسکا سارا غرور خاک میں ملا دیتا۔۔ مگر وہ نوح ارسلان تھا ایک بیٹی کا باپ پر سے بھروسہ اتنی آسانی سے اٹھا سکتا تھا۔۔
اسے ہر اس انسان کا خیال تھا جس سے ازورا لاشاری پیار کرتی تھی۔۔
“اس خالی سڑک پر کوئی ٹیکسی اس وقت نہیں آتی۔۔ آوارہ لڑکے وقتاً فوقتاً یہاں پائے جاتے ہیں۔۔ تم جانا چاہو تو پیچھے بیٹھ جاؤ اور مجھے ہسپتال کا پتہ بتا دو۔۔ اور اگر نہیں جانا چاہتی تو یہاں کھڑی ہو کر انتظار کرو”_
ایک نظر اس پر ڈال کر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
امل نے ایک نظر سڑک پر ڈالی جو دور دور تک سنسان پڑی تھی۔۔ کہ بھی وہ ٹھیک رہا تھا۔۔۔
غصہ۔۔ نفرت۔۔ غم ساری چیزوں کے باوجود بھی اسے عزت زیادہ عزیز تھی۔۔ وہ کہ پیچھے کا دروازہ کھولتی اسکی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔
“دارم اسے اپنے ہسپتال لے کر گئے ہیں”
بیٹھ کر وہ روندھی آواز میں بولی تھی۔۔ نوح نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
وہ ہاتھوں کی پشت سے بار بار امڈ آنے والے آنسوں صاف کر رہی تھی۔۔
یہ آنسوں اب اسکا مقدّر تھے۔۔ دارم اسفہان ازورا سے جتنی زیادہ محبت کرتا تھا اس سے اتنی ہی زیادہ نفرت تھی اسے۔۔
اس شخص کی محبت میں اسکا وجود آنسوں کی نذر ہو جائے گا وہ جانتی تھی۔۔


۔
ہسپتال پہنچنے پر امل تو ڈائریکٹ دارم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔ جب کے وہ ریسیپشن پر ازورا لاشاری کے نام کی بابت دریافت کرنے لگا۔۔ نرس کے بتانے پر وہ تیزی سے ایمرجنسی کی جانب بڑھا تھا۔۔
امل بھی اسے وہیں کھڑی ملی تھی۔۔
ایک نظر اس پر ڈالتا وہ بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرتا یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔۔
امل بینچ پر بیٹھی دعائیں پڑھ رہی تھی۔۔ دارم اندر ہی تھا شاید۔۔ انہیں اس وقت اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔
ہاتھوں کی مٹھی بنائے وہ شیشے کے اس دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا جسکے اس پار وہ بےخبر پڑی تھی۔۔ اس انتظار میں اسکی رگوں سے جان سرک رہی تھی۔۔
ایک گھنٹہ یوں ہی گزر گیا تھا۔۔ ایک گھنٹے بعد دارم اور چند ڈاکٹر باہر آئے تھے۔۔ امل کو دیکھ کر اسے حیرت نہیں ہوئی تھی وہ جانتا تھا وہ جیسا بھی رویہ اختیار کر لے وہ ہسپتال تک ضرور آئیگی۔۔
‘تم کیوں آئے ہو یہاں ؟”
وہ اسکے قریب آتا غرایا تھا۔۔ اندر ازورا جس حالت میں تھی اسکی وجہ یہ شخص بھی تھا۔۔
“کیا ہوا ہے ازورا کو ؟”
دارم کا آگ اگلتا لہجہ نظر انداز کرتا وہ اس کمرے کی جانب بڑھا تھا جہاں وہ مصنوعی سانس لے رہی تھی۔۔
دارم نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا تھا۔۔
“دور رہو میری ازو سے۔۔ ہارٹ اٹیک ہوا ہے اسے “_
وہ اسے جلا کر بھسم کر دینے والے انداز میں دیکھتا ہوا بولا تھا۔۔ اسکی سرخ انگارا ہوتی آنکھیں بتا رہی تھی وہ اس وقت ضبط کے کن مراحل سے گزر رہا تھا۔۔
“دیکھو دارم۔۔ مجھے ازورا کو دیکھنا ہے۔۔ مجھے ایک بار اسے دیکھ لینے دو میں چلا جاؤنگا”_
نوح نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔ ازورا کی دارم کے ساتھ اٹچمنٹ اس سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔۔
دارم نے ایک نگاہ اسکی بکھری حالت پر ڈالی۔۔۔
“جو تم کر چکے ہو اسکے بعد میں تمہارا سايہ بھی اپنی ازو پر نہیں پڑھنے دونگا۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے لاوارث ہے وہ”_ وہ سنجیدگی سے بولتا لفظوں کا زہر اسکے اندر انڈیل رہا تھا جو خود کرب کے دہانے پر کھڑا تھا۔۔ “ازو کیسی ہے ؟” امل اسکے قریب آئی تھی۔۔ دارم نے ایک نگاہ اس ڈالی۔۔ کچھ کہے بناء ہی آگے بڑھ گیا۔۔ اس وقت وہ ان دونوں میں سے کسی کی جانب دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔ اسکے جانے کے بعد نوح اندر کی جانب بڑھا۔۔ سامنے ہی وہ دشمنِ جاں سٹریچر پر بےسدھ پڑی تھی۔۔ اسے یوں دیکھ کر نوح کو اپنی رگیں خون سے خالی ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ وہ آزردگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اسکے بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی۔۔ اس وقت مصنوعی سانسوں کے ذریعہ سانس لے رہی تھی۔۔ وہ لب بھینچے اسے تک رہا تھا۔۔ جو آنکھیں موندے اسکی ذات سے بے خبر اس سے منہ موڑے غافل سی پڑی تھی۔۔ یہ معصوم سی لڑکی اسکی زندگی تھی لیکن وہ اسے بتانے سے قاصر تھا۔۔ “تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ میں نے تم سے کہا ہے نا ازو سے دور رہو”
دارم کی آواز پر اس نے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکا غصّہ بجا تھا۔۔ اسکا طریقہ غلط تھا لیکن ارادہ نہیں۔۔
“تم نے کبھی نشے کے عادی کسی شخص کو دیکھا ہے دارم اسفہان ؟ جب اسے اسکی مطلوبہ شہہ نہیں میسر ہو تو وہ اسکی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں۔۔ جسم کھینچنے لگتا ہے۔۔ دل دھڑکنے سے انکاری ہو جاتا ہے۔۔ وہ موت کے دہانے کھڑا ہوتا ہے۔۔ اس وقت وہ اپنے نشے کے لئے ہر اس انسان کے جان کا دشمن بن جاتا ہے جو اس کے اور اس نشے کے درمیان آتا ہے۔۔
اسکی جانب دیکھتے وہ کرب سے بولا تھا۔۔ اسکی سوجی ہوئی آنکھیں شاید رونا چاہتی تھیں۔۔ لیکن رونے سے قاصر تھیں۔۔ دارم نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔۔ اسکی نگاہوں میں ازورا لاشاری کا ہی عکس تھا۔۔
صرف اسکا عکس۔۔
ایک پل کو دارم ٹھٹھکا تھا۔۔
“ازورا لاشاری میرا نشہ ہے۔میی رگوں میں اسکا نشہ دوڑ رہا ہے۔۔ وہ نہیں ملی تو میں موت کے دہانے آجاؤنگا “!!
اسکی ڈرپ لگی ہتھیلی کلائی کو دیکھتا وہ بےخود سا بول رہا تھا۔۔
اس نے رخ موڑھ کر دارم کی جانب دیکھا۔۔
“ازورا لاشاری میری رگوں میں خون کی جگہ دوڑتی ہے۔۔ جانتے ہو نا رگیں خون سے خالی ہو جائیں تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا”_
اس وقت وہ کوئی دیوانہ معلوم ہو رہا تھا۔
“اگر یہ مجھے نہیں ملی تو میں زندہ کیسے رہونگا بولو ؟”
اسکی نگاہیں اب بھی ازورا کے سراپے میں الجھی ہوئی تھیں۔۔ لیکن سوال وہ دارم سے کر رہا تھا۔۔
دارم اسکے لفظوں کی سچائی محسوس کر رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں بھی وہی کرب تھا جس کرب سے وہ گزر رہا تھا۔۔ جس سے اسکی ازو گزر رہی تھی۔۔
“یہ محبت نہیں ہے میری نشہ بن گئی ہے”_
وہ اب بھی اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔۔
“تم اسکے اور میرے درمیان آئے تو میں تمہاری بھی جان لے لونگا دارم اسفہان”_
اگلے ہی لمحے اسکا چہرہ سپاٹ ہوا تھا۔۔ دارم نے آگے سے کچھ نہیں کہا تھا وہ بس سنجیدگی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ نہیں کرنا چاہتی تم سے شادی۔۔ اور کوئی اس سے زبردستی نہیں کر سکتا”_
اسکے نکلنے سے پہلے دارم نے کہا تھا۔۔
نوح ارسلان جا چکا تھا۔۔ وہ دھیرے سے قدم اٹھاتے اسکے قریب آیا۔۔ وہ دواؤں کے زیر اثر تھی۔۔
قدموں کی چاپ پر اس نے رخ نہیں پھیرا تھا وہ جانتا تھا پیچھے امل تھی۔۔
“نوح ارسلان کو ازو سے متعلق آپ نے بتا کر اچھا نہیں کیا ہے۔۔ ٹیکسی لے کر گھر چلی جائیگا۔۔ ازو اب اس گھر میں نہیں جائے گی”_
وہ اسکی جانب دیکھے بغیر بول رہا تھا۔۔
“میں جانتی ہوں آپ ازو سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔ لیکن ازو اب عدت میں ہے۔۔ اور نا آپ محرم ہیں اسکے اور نا نوح ارسلان۔۔ تو اب سے جب تک اسکی عدت پوری نہیں ہوتی آپ اسکے سامنے آنے سے احتیاط کریں دارم۔۔ اور جب تک اسکی عدت مکمّل نہیں ہوتی یہ اسی گھر میں رہے گی۔۔ اسکے بعد آپ چاہیں تو اسے شفٹ کر سکتے ہیں “_
ازورا کی پیشانی چومتی وہ بہت سے تلخ حقائق دارم پر واضح کر گئی تھی۔۔ جنہیں وہ ازورا کی حالت کے پیش نظر نظر انداز کر گیا تھا۔۔
وہ لب بھینچے اسکی بات سنتا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔