60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٧
۔
وہ ضبط سے لب بھینچے اپنی بانہوں میں موجود اسکے گلابی پھولوں سے وجود کو تک رہا تھا۔۔ سانسوں کے زیر و بم سے لرزتا نازک وجود مکمّل طور پر بےخبر ہو چکا تھا۔۔ چاندنی سی وہ لڑکی اسکے ضبط کو آخری حدوں تک آزما رہی تھی۔۔ اسکا سر کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالے وہ ایک ہاتھ بالوں میں پھیرتا بھسم کر دینے والی نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔
“اتنا اعتبار بھی نہیں کیا اس نے اس پر۔۔ اس سے بچنے کے لئے نیند کی گولیاں استعمال کی تھیں اس نے۔۔ وہ تو اس کے وجود کو نگاہوں سے بھی چھونے سے ڈرتا تھا کجا یہ کے اسکی مرضی کے برخلاف اسے قریب آتا۔۔ اس واقت وہ یہ بھول گیا تھا کے وہ معصوم تو سرے سے ہی اسکے جذبات اسکے احساسات سے لا علم ہے۔۔
اس کے ساتھ اس نے جتنا سخت انداز روا رکھا تھا اس کے بعد اسکا یہی ری ایکشن بنتا تھا۔۔
اس سوچ کے آتے ہی اسکا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا۔۔
اس نے آنکھ بھر کر اسے دیکھا۔۔ سامنے بےخبر پڑی لڑکی اسکی دلی مراد تھی۔۔ جو اب اس دسترس میں اسکے رحم و کرم پر تھی۔۔
۔
“اس سب کے باوجود بھی آپ کو یہ جسارت نہیں کرنی چاہئے تھی ازورا نوح ارسلان”_
اسکے گلابی پھولے گالوں کو انگوٹھے سے سہلاتے وہ دبے لفظوں میں یہ شکایت کر رہا تھا۔۔ اسکے گال اس قدر نرم تھے کے دل نے ساختہ ان پر مہر محبت ثبت کرنے کی درخواست کی تھی۔۔ جسے اس نے بےدردی سے رد کر دیا تھا۔۔
بھورے بال آبشار کی مانند اسکے تکیہ پر پھیلے ہوئے تھے۔۔ چاندنی وجود بیڈ کے بیچو بیچ استحقاق سے لیٹا اسکی زندگی میں اپنی آمد کا علان کر رہا تھا۔۔
اور پورے شان سے کر رہا تھا۔۔ اسکا کمرہ آج چاندنی کی مانند چمک اٹھا تھا۔۔ ہوش و خرد سے بےگانہ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی موجودگی کا احساس باخوبی دلا رہی تھی۔۔
۔
اسکے بالوں سے اٹھتی شيمپو اور کنڈیشنر کی مہک اس پر متضاد اس کے وجود سے اٹھتی مدہوش کن خوشبو۔۔۔ اسکے نازک سراپے کی حشر سامانیاں آج نوح ارسلان کا کام تمام کر رہی تھی۔۔
کچھ ملکیت کا احساس بھی تھا۔۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ خود کو روک نہیں پایا تھا۔۔
دھیرے سے جھک کر اسکی بےداغ پیشانی پر شدتوں بھرا محبت کے پہلے لمس سے نواز گیا تھا۔۔
دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔۔
سنہری نتھ اسکے لبوں سے مس ہوتی اسے حسد کا شکار کر رہی تھی۔۔
اگلے ہی لمحے وہ جھک کر نرمی سے اسکے ناک سے وہ نتھ اتار گیا تھا۔۔
کچھ دور ہو کر گہری سانس لے کر بھنویں سکیڑ کر اس نتھ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اسکا رقیب ہو۔۔ بات غلط نہیں تھی چند لمحے پہلے وہ اسے اپنا رقیب ہی معلوم ہو رہا تھا۔۔
دل کی حالت پر وہ خود بےچین سا ہو گیا تھا۔۔
“آپ تو آتے ہی سکون برباد کر دیا ہے لیڈی”_
اپنی حالت پر جھنجھلاتے وہ بےبسی سے اسے دیکھتا بولا تھا۔۔
“دور تھیں تو بےسکون تھا۔۔ مگر پاس ہو کر دور رہ کر تو آپ نوح ارسلان کی جان کو آ گئیں ہیں”_
اسکا دوپٹہ نرمی سے سائیڈ پر رکھتا کمفرٹر اچھی طرح اس پر صحیح کر کے وہ کچھ دور بیٹھ گیا تھا۔۔
آج کی رات وہ اسے نظروں کے ذریعے دل میں اتار لینا چاہتا تھا۔۔
سنہرے گیسوؤں کی چھاؤں سے جھلکتے دلکش جھمکوں کی اوٹ میں، وہ خوابوں کو حقیقت بناتی محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے جھمکے اتار کر سائیڈ پر رکھے تھے۔۔
اسکے چہرے پر اب مٹا مٹا سا میک اپ تھا۔۔ آستین پوری تھی بازو پر سنہرا کام ہوا تھا۔۔ صرف اسکی گلابی مٹھی نظر آ رہی تھی جن میں چھپی گولیاں وہ نکال کر پھینک چکا تھا۔۔
اسکی گردن پر بہت مدهم سے نشانات تھے۔۔ لیکن نوح ارسلان کی نظروں سے مخفی نہیں رہے تھے۔۔
اس نے نرمی سے انھیں چھوا لیکن وہ مدهم تھے۔۔ آسانی سے سمجھ نہیں آ رہے تھے کے کس چیز کے ہیں۔۔ یا شاید میک اپ کے ذریعے انھیں مدھم کیا گیا تھا وہ سمجھ نہیں پایا۔۔
اس روز جو شہباز کرنے والا تھا ایسا پہلے کبھی نا ہوا ہو وہ اس روز سے اسی الجھن میں تھا۔۔
شہباز کیسا شخص ہے وہ اچھی طرح جانتا تھا پھر ازورا کا اسکے نکاح میں ہونا۔۔ پیسوں کے لئے اگر نکاح ہوا بھی ہو تو بھی کچھ تو مسنگ تھا۔۔ جو اس وقت وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔ ازورا کا ڈرگ ایڈکٹڈ ہونا۔۔ سموکنگ کرنا اور پھر اس قدر الجھی ہوئی اسکی شخصیت جس میں کبھی خوف نمایاں ہو جاتا تھا اور کبھی وہ بہت بےخوف سی محسوس ہوتی تھی۔۔
بہت سی الجھی گھتائیں تھیں ابھی سلجھانے کے لئے۔۔
۔
“وعدہ ہے نوح ارسلان کا آپ سے جن کی بصارتوں نے آپ کے وجود پر میلی نگاہ بھی ڈالی ہے۔۔ جن کے بیمار ذہنوں میں آپ کو دیکھ کر فتور آیا۔۔ میں ان شخص کو ایسی زندگی دونگا کے موت بھی اس سے پناہ مانگے گی”_
اسکی نرم روئی سی ہتھیلی پر لب رکھتے وہ اسے اپنا وعدہ سونپ رہا تھا۔۔
“کوئی آپ کو سرسری سا بھی دیکھے مجھے گوارا نہیں ہے۔۔ آپ کو چھپا لیگا نوح ارسلان اپنی نظروں میں۔۔ اپنے حصار میں۔۔ کوئی نگاہ آپ پر پڑنے نہیں دے گا۔۔ آپ کی ان الجھنوں کو سلجھانے میں مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ پائینگی آپ مائی لیڈی”_
اسکے ہوش میں وہ شاید یہ باتیں نہیں کر پاتا۔۔ وہ اپنی ذات آشکار کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔ ازورا لاشاری کو اسے یونہی سمجھنا تھا اسکی ذات کے پرت در پرت کھلتے دروں سے۔۔
ایک نگاہ سے مقابل کے اندر تک جھانک لینے والا نوح ارسلان خود پر اطمینان کا ایسا خول چڑھائے ہوا تھا کے دیکھنے والے بس وہی دیکھتے تھے وہ انھیں دکھانا چاہتا تھا۔۔
اطمینان ۔۔ سکون۔۔ اپنے اندر ابلتے لاوے کو اس نے کبھی اپنے چہرے پر ظاہر ہونے نہیں دیا تھا۔۔
ازورا لاشاری بھی اسے آج تک نہایت سکون سے دوسروں کا اطمینان غارت کرتے دیکھتی آئی تھی۔۔


۔
وہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا سست روی سے چلتی سوٸیوں سے تیزی سے بہتے وقت کو دیکھ رہا تھا۔۔ آج وہ رخصت ہو گئی تھی۔۔ اسکے دل کی رونق۔۔ جس سے رشتہ بےنام سا تھا لیکن تعلق بہت گہرا۔۔
اسکی ازو۔۔ اسے یاد تھا جب بچپن میں وہ اسکے گھر جایا کرتا تھا وہ گول مٹول سی گلابی بچی لڑکھتے قدموں سے اسکے پاس آتی تھی۔۔
“دار”_ اس وقت بھی وہ اسے دار کہ کر ہی پکارتی تھی۔۔ آج بھی وہ اسے اتنی ہی معصومیت سے دار کہ کر پکارتی تھی۔۔ وہ جانتا تھا نوح ارسلان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیگا۔۔ اس نے نوح کی آنکھوں میں اسکے لئے محبت دیکھی تھی۔۔ لیکن وہ اسکی جنونی طبیعت سے بھی آگاہ تھا اور اسی جنون کے پیش نظر وہ ازو کی شادی اس سے کرنے پر رضا مند نہیں تھا۔۔ ۔ “تم آج ہی اسکا نکاح مجھ سے کراؤگے۔۔ ورنہ شہباز ضمیر جس حالت میں ہے اسکا ذمہ دار پولیس ازورا لاشاری کو سمجھے گی۔۔ نوح ارسلان کی پہنچ سے تو واقف ہو نا تم”
اسے آج شام کی بات یاد آئی تھی جب وہ اسکے سامنے کھڑا بہت اطمینان سے اسے دھمکا رہا تھا۔۔
۔
“تم مجھے دھمکا رہے ہو ؟”
اس نے یہی تو پوچھا تھا اس سے۔۔
۔
“نہیں میں تمہیں حقیقت بتا رہا ہوں سالے صاحب۔۔ یہ تم بھی جانتے ہو کے میں گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالنا بھی خوب جانتا ہوں۔۔ ان فیکٹ انجوئے کرتا ہوں”_
کتنے اطمینان سے کہتا وہ کمرے نکلا تھا۔۔ وہ جانتا تھا نوح ارسلان یہ کر سکتا ہے۔۔ وہ سرپھرا شخص اپنی ضد کے لئے اس حد تک بھی جا سکتا تھا۔۔ ازو کے لئے مزید کسی طرح کی کوئی مشکل نہیں چاہتا تھا۔۔ دل پر پتھر رکھ کر وہ نکاح اور پھر رخصتی پر بھی مان گیا تھا۔۔
لیکن اب اسکے جانے کے بعد دل میں سو طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔۔
“دار وہ صرف اس تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔۔ ووو وہ ببھی شہباز کی طرح ہے دار”_ ازورا کی بےبسی میں کہے جملے اسکی سماعت میں شور مچا رہے تھے۔۔ “یا اللّه تیری حفاظت میں اس سرپھرے شخص کے حوالے کی ہے اپنی ازو۔۔ تو حفاظت کرنا اسکی”
کچھ سوچ کر وہ اٹھا تھا۔۔ رات کے اس پہر وضو کرنے کے بعد جائے نماز بچھائے اللّه کے حضور جھکا وہ اپنے فیصلے میں اسکے لئے خیر مانگ رہا تھا۔۔
دو نفل ادا کرنے کے بعد اسکے لئے خیر و عافیت کی ڈھیر دعائیں مانگتے ذہن کے پردے پر ایک اور وجود لہرایا تھا۔۔
“دارم پلیز میری مدد کریں”_
اس کا رونا بلکنا یاد آتے ہی وہ بےبسی سے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا گیا تھا۔۔
اس رات وہ اکیلی گئی تھی اسے ہسپتال لے کر۔۔ وہ اس رات کے بعد ایک بار بھی انکے گھر نہیں گیا تھا۔۔
اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔ اٹھ کر خود ہی کچن تک آتا وہ اپنے لئے کافی تیار کرنے لگا۔۔ اسکے لئے کافی یا تو ازو بناتی تھی۔۔ یا پھر امل۔۔
اس نے گہری سانس خارج کی۔۔
“امل”_ اسکے لبوں سے اسکا نام خارج ہوا تھا۔۔ اس نے بے یقینی سے ارد گرد دیکھا۔۔ وہ ہمیشہ یونہی آس پاس ہوتی تھی۔۔ سوچوں میں کہیں۔۔ اندر دل کے خانوں میں کہیں چھپی بیٹھی ہوئی۔۔ نکلتی نہیں تھی۔۔ جکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی دل کو۔۔ “میں نہیں چاہتا اپنے باپ کا کیا آپ کے آگے آئے اور اسکے لئے ضروری ہے آپ مجھ سے دور رہیں امل”
وہ تخیل کے پردوں پر نظر آتے اسکے عکس سے مخاطب ہوا تھا۔۔
رمشاء نے اسے بتایا تھا کے وہ اب بھی ہسپتال میں تھی۔۔ شہباز کو ہیڈ انجری زیادہ تھی لیکن اب وہ بہتر تھا۔۔ رومیسہ اسے کال کرتی رہی تھیں لیکن اس نے انکی کال ریسیو نہیں کی تھی۔۔
وہ شہباز کے مکمّل صحت یاب ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔۔ وہ جائے گا ضرور۔۔ مگر یہ پوچھنے کے لئے کے اس روز جب گھر پر کوئی نہیں تھا۔ تو وہ ازورا کے کمرے میں کیوں گیا تھا۔۔
وہ وجہ معلوم کرنا چاہتا تھا اور اسکے لبوں سے اسکی نیت کا اعتراف سننا چاہتا تھا


۔
سیاہ راستوں کی تاریکی اسے چبانے کی بہت کوشش کر رہی تھی اندھیرے نے ایک ڈراٶنے ہیولے کی شکل اختیار کر لی تھی۔۔ اسے اپنے وجود پر دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔۔ اسکا جسم جھٹکے کھا رہا تھا۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پسینہ میں شرابور ہو رہی تھی۔۔ جسم ٹھنڈا پڑھ رہا تھا۔۔ کوئی اسے سگریٹ سے جلا رہا تھا۔۔ اسے نوچ رہا تھا۔۔
اسکے لبوں پر ہاتھ رکھے اسکی چیخوں کا گلہ گھونٹ رہا تھا۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ پیر چلاتی خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
نوح نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“ازورا”_
نرمی سے اسکا نام پکارتے وہ اسکے قریب آیا تھا۔۔
۔
“ننن نہیں۔۔ پپپ پلیز نہیں”_ اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔۔ وہ بری طرح لرزتی سسک رہی تھی۔۔ “ازورا۔۔ کیا ہوا۔۔ آنکھیں کھولیں۔۔ مجھے بتائیں کیا ہوا”
وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔۔ وہ اسکی گرفت میں نہیں آ رہی تھی۔۔ وہ شاید بھاگنا چاہ رہی تھی لیکن نیند کی گولیوں کا اثر تھا وہ آنکھیں بھی نہیں کھول پا رہی تھی۔۔
۔
“ننن نہیں۔۔ میرے پاس نہیں۔۔ مجھے نہیں۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے۔۔
وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔۔ نوح کے لئے یہ صورت حال سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے کس طرح ہینڈل کرے۔۔
“ممم مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔۔ دار۔۔ دااار “_
وہ تکلیف سے بلبلاتی دارم کو پکار رہی تھی۔۔
“ازورا کہاں درد ہو رہا ہے۔۔ مجھے بتائیں نا جاناں”_
وہ اسکے ہاتھوں کو ٹٹول کر دیکھتا اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے پوچھ رہا تھا۔۔ جو واقعی تکلیف سے رو رہی تھی۔۔۔
۔
“دار۔۔ دااار ۔۔ مجھے بچا لو۔۔ دار ممم درد”_ وہ روتی ہوئی اسکی گرفت میں مچل رہی تھی۔۔ “ازورا۔۔ آنکھیں کھولیں شباش۔۔ آنکھیں کھولیں دیکھیں آپ محفوظ ہیں۔ یہاں کوئی نہیں ہے”
پانی کی بوندیں اسکے چہرے پر مارتا وہ نرمی سے بولا۔۔ بامشکل آنکھیں واں کرتی وہ اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
دارم کی جگہ اسکا چہرہ دیکھتی وہ پہنچاننے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“نوح “_ اسکے لبوں سے اپنا نام سن کر نوح کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔ “مجھے سانس۔۔ سانس نہیں آ رہی”
وہ اسے دیکھتی بتانے لگی۔۔ نوح نے دیکھا اسے واقعی سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔۔
“ون۔۔ ٹو۔۔ تھری ۔۔۔
وہ گہری سانس لیتی کاؤنٹنگ کر رہی تھی۔۔ وہ لب بھینچے اپنی بانہوں میں اپنی زندگی کو سانس سانس کے لئے جتن کرتے خاموشی سے تک رہا تھا۔۔
دھیرے دھیرے وہ کچھ پرسکون ہوئی تو دکھتے سر کو تھامے ارد گرد دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“سو جائیں۔۔ نیند کی گولیاں لی ہیں آپ نے”_
اسے اپنے بہت قریب سے سرگوشی سی آواز آئی تھی۔۔ یعنی وہ جان گیا تھا وہ تڑپ کر دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔ بھوری آنکھوں گلابی ڈوریں مدہوش کن منظر پیش کر رہی تھیں۔۔
“آپ یہ جتن نہیں بھی کرتی تو بھی جب تک آپ کی اجازت نہیں ہوتی میں قریب نہیں آتا آپ کے۔۔ اب سو جائیں صبح بات ہو گی آپ کی اس حرکت سے متعلق”_ اسکے سر اپنے سینے سے لگاتا وہ سرزنش کرتے لہجے میں بولا۔۔ اس میں اتنی ہمّت نہیں تھی کے مزاہمت کرتی۔۔ ادھ کھلی آنکھوں سے اسکی خود پر نظریں محسوس کر رہی تھی۔۔ جھنجھلا کر نرم ہاتھوں سے اسکے چہرے کا رخ دوسری جانب کر گئی۔۔ وہ اسکی حرکت پر حیران ہوتا مسکرایا تھا۔۔ وہ یقیناً نیند میں تھی۔۔ “آپ تو نشہ بن جائینگی”
وہ زیر لب بڑبڑآیا تھا۔۔
۔
“میں نے کبھی حرام شے لبوں سے نہیں لگائی۔۔ شراب کا ذائقہ تُرش ہوتا ہے۔۔۔ اور شراب حرام بھی ہے”_
اسکی دراز پلکوں کو انگلی کے پور سے چھو کر وہ مخمور لہجے میں نجانے کیا بتانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
“نوح ارسلان نے اپنے نشے کے لئے آسان حل نکالا ہے۔۔ میرے بہکنے اور ہر شے سے ماورا ہونے کے لیے آپ کی یہ آنکھیں شراب سے ہزار گُنا بہتر ہیں۔۔ یہ بھوری کانچ کے نین کٹورے دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا ہے میں تو کائنات کی وسعتوں سے نابلد شخص ہوں۔۔ سمندر کی گہرائی کا اندازہ تو ان میں ڈوبنے کے بعد ہوگا”_
اس نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھیں۔۔ بھوری کانچ سی نینوں کر در خود پر بند ہوتے دیکھ وہ مسکرا کر اسکی آنکھوں پر لب رکھ گیا تھا۔۔
۔
“سو جائیں اب۔۔ خوفزدہ ہوئے بغیر”__
اسکا سر نرمی سے تھپکتا وہ خود گہری سوچ میں اتر گیا تھا۔۔ وہ نیند کی دوا کے زیر اثر لمحوں میں محو خواب ہوئی تھی۔۔ جب کے وہ اسکی حالت کے متعلق سوچتا اسے تک رہا تھا۔۔