Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۱
۔
رات کی جامد خاموشی میں ہر طرف اندھیرا تھا۔۔ وہ اس اندھیرے میں سفر کرتی جا رہی تھی۔۔ وہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ رونا چاہتی تھی۔۔ خود پر کسی کا دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔۔ کسی نے اسکے لبوں کو قید کر رکھا تھا۔۔ تکلیف سے اسکی روح تک جھنجهنا رہی تھی۔۔
اسکا دماغ سن ہو رہا تھا۔۔ کوئی لفظ یاد تھا تو وہ بس درد تھا _ بے انتہا درد۔۔ اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔۔ اسکا جسم حرکت کر رہا تھا۔۔ لیکن کس طرح کی حرکت وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔ وہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ وہ بھاگنا چاہتی تھی۔۔ پر بھاگ نہیں پا رہی تھی۔۔ جسم کا ہر حصہ جیسے کٹ کر گر رہا تھا۔۔ آنسوں تواتر سے آنکھوں سے گرتے تکیہ بھیگو رہے تھے۔۔ ۔ “آنکھیں کھولو لڑکی۔۔ اپنی بربادی دیکھو۔۔ اپنی آنکھیں بند نہیں کرو “_
ایک کرہییہ سی آواز تھی جو اسکے سماعت میں گونج رہی تھی۔۔
۔
“آنکھیں کھولو “_
وہ اسکے بالوں کو جکڑ رہا تھا۔۔ وہ چیخ رہی تھی۔۔ تکلیف سے۔۔
“دیکھو _ تمہارا باپ بچا نہیں پا رہا تمہیں “
اسکی ذات ختم ہو رہی تھی۔۔ اسکی ذات کا غرور لٹ رہا تھا۔۔
۔
“نہیں۔۔ نہیں پپپ پلیز نہیں۔۔ چھوڑو مم مجھے۔۔ چھوڑو وحشی انسان “_ وہ چیخ رہی تھی۔۔ اور وہ اسکی بےبسی پر قہقہ لگاتا حض اٹھا رہا تھا۔۔ “تمہارے جسم کے ہر حصّہ میں میری نشانی ملے گی تمہیں۔۔ تم چاہ کر بھی مجھے اپنے ذہن سے نہیں نکال پاؤ گی۔۔ ساری زندگی یاد رکھو گی تم مجھے۔۔ رکھو گی نا بےبی “_
وہ آواز اسے اپنے کانوں کا قریب سنائی دی تھی۔۔ اسے کانوں کی لو میں تکلیف کی شدّت اٹھی تھی۔۔
وہ تکلیف کی شدّت سے رو رہی تھی۔۔
۔
” بولو ۔۔ تم ہو بےبس۔۔ تم بہت بےبس ہو میرے آگے۔۔ تم خود کو بچا نہیں سکتی۔۔ تم نہیں بچا سکتی خود کو “_
وہ ایک بار پھر ہار رہی تھی۔۔
“ہاں وہ نہیں بچا پا رہی تھی خود کو “_
“وہ پہلے بھی نہیں بچا پائی تھی “_
وہ مزید شدّتوں سے رونے لگی تھی۔۔
“ہاں وہ نہیں بچا سکتی خود کو اس سے “_
وہ یقین کر چکی تھی کے وہ نہیں بچا سکتی تھی خود کو۔۔ وہ آج بھی جیت گیا تھا۔۔ جیسے وہ ہمیشہ جیتتا آیا تھا۔۔
۔۔
“ککک کیوں ؟۔۔ کیوں ؟؟ میں کیوں ؟”
وہ ہذیانی انداز میں چیختی تڑپ کر رو رہی تھی۔۔
۔
“ازو ۔۔ ویک اپ بےبی۔۔ ویک اپ میری جان ۔۔ کچھ نہیں ہوا ۔۔
شناسا سی آواز جیسے لاشعور میں ابھری تھی۔۔
۔
“ازو ۔۔ ازو اٹھو میری جان۔۔ ازو “_
آہستہ آہستہ اندھیرا چھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ سنہری روشنی میں کسی مہربان کا چہرہ نظر آیا تھا۔۔
“ازو ۔۔
اس نے نرمی سے اسے ساتھ لگایا۔۔
وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔۔ اسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔
۔
“ازو ۔۔ سانس لو۔۔ سانس لو بیٹا “_
۔
“سانس نن نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں آآ رہی “_ وہ سانس نہیں لے پا رہی تھی۔۔ ۔ “ازو ۔۔ ہاں سانس لو ۔۔ اسکے ساتھ گہری سانسیں لیتے وہ بلآخر اسے نارمل کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔ “ٹھیک ہو ؟ اسکے پوچھنے پر اثبات میں سر ہلاتی وہ گہری سانس لیتی خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ ۔ “تم تم کک کیسے آ گئے ؟” حواس بحال ہونے پر دارم کی جانب دیکھتی وہ دھیرے سے بولی ۔۔ اسکا گلابی چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔ چہرہ آنسوں سے تر تھا ۔۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔۔ جواب میں دارم نے خاموشی سے اسکے بیڈ سائیڈ پر موجود بےبی کیمرا کی جانب دیکھا۔۔ اسکا لنک دارم کے لیپ ٹاپ سے جڑا تھا۔۔ جسے وہ فراموش کر گئی تھی۔۔ اسکے ساتھ والا کمرہ ہی دارم کا تھا۔۔ جو کچھ آج ہوا وہ روز ہوتا تھا۔۔ وہ ہر رات اسی طرح خوفزدہ ہو کر اٹھ جایا کرتی تھی۔۔ اس وقت دارم ہی تھا جو اسکے لئے موجود ہوتا تھا۔۔ ۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔ “بسسس۔۔ بسس میرا بیٹا “
اسے ساتھ لگا کر محبت سے اسکا سر چومتا وہ نرمی سے بولا۔۔ وہ بتیس سالہ ایک
وہ واقف تھا اسکے ساتھ ہوئے سانحے سے۔۔ اسکی ہر تکلیف سے۔۔
۔
“تت تم بب بھی نفرت کرو دد دار۔۔ میں محبت کے قابل نن نہیں ہوں۔۔
تم بھی محبت نہیں کرو مجھ سے “_
وہ ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی۔۔
۔
“تم کس قابل ہو یہ میں جانتا ہوں۔۔ ایسی باتیں کر کے مجھے تکلیف دیتی ہو تم ازو “_
اس کے آنسوں صاف کر کے وہ خفگی سے بولا تھا۔۔
“سو جاؤ ۔۔ کوئی نقصان نہیں پہنچائیگا تمہیں “__
اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے وہ نرمی سے بولا۔۔ چھ سال پہلے جو ہوا وہ آج تک نہیں بھولی تھی۔۔ اور نا بھول سکتی تھی۔۔
بھولا تو وہ بھی نہیں تھا لیکن خود کو سنبھال چکا تھا اسکے لئے ۔۔
اپنی ازو کے لئے۔۔
۔
۔
صبح کی کرنیں ہر سوں پھیلنے لگی تھی۔۔ وہ اب بھی اسکے سامنے بیڈ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ انکی ہر صبح اسی طرح ہوتی تھی۔۔ وہ اسی طرح اسکے سامنے بیٹھے آدھی رات گزارتا تھا۔۔
گلابی رنگت کی مالک وہ گلاب سی نازک گڑیا _ اسکے گال بے حد پھولے ہوئے تھے۔۔ بھرے بھرے گلابی لب۔۔ درمیانہ قد۔۔ اسکے بھورے بال تکیہ پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ بھوری آنکھیں جو اس وقت بند تھیں۔۔ وہ حسین چندر مکھی دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھامے سو رہی تھی۔۔ ۔ اسکے چہرے سے ہوتے اسکی نظریں اسکے گردن پر پڑی تھیں۔۔ اسکے گردن میں کافی نشانات تھے۔۔ دودھیا بازوؤں میں بھی جابجا کٹس کے نشانات تھے ۔۔ پیروں کے نظر آتی پنڈلیوں میں بھی نشانات تھے۔۔ اسکے پورے جسم میں جابجا ایسے ہی نشان تھے۔۔ کسی کے وحشت میں چھوڑے ہوئے وہ نشانات جو ازورا لاشاری کی زندگی کا حصّہ بن گئے تھے۔۔ اس کے کسمسا کر آنکھیں کھولنے پر وہ مسکرا کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔ “نماز بھی چھوڑ دی تم نے “
اسکی بالوں کو نرمی سے سنوارتے وہ دھیرے سے بولا۔۔
۔
“نہیں پڑھنی نماز “_
وہ سر جھٹک کر باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
وہ افسوس سے سر نفی میں ہلاتا اسکے کمرے کی بکھری حالت درست کرتا اسکے آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔
۔
آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنا آپ دیکھ رہی تھی۔۔ ہمیشہ کی طرح فل سیلویز شرٹ اور جینس میں ملبوس بالوں کو رف سے جوڑے میں قید کئے ہوئی تھی۔۔ شرٹ سے اسکی گردن بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔
گلا آہستہ سے سرکا کر اس نے اپنی گردن پر وہ نشان دیکھا۔۔
کتنے ہی نشانات تھے ایسے۔۔
دھیرے سے مخروطی انگلیاں ان پر پھیرتی وہ اذیت سے مسکرائی تھی۔۔
رو نہیں سکتی وہ۔۔ اسکا تو حق ہی نہیں تھا۔۔
“خدا صدیوں سے خاموش ہے
اب کوئی آیت نہیں اترے گی
تمہارے بارے میں فیصلے
تمہارے پیدا ہونے سے سے پہلے ہوچکے ہیں
تم کسی کی محبت کی نشانی نہیں
بلکہ انسانی جبِلّت کا نتیجہ ہو
اس بات پرجتنا جلدی ہو سکے
یقین کر لو “
تمہیں پناہ چاہیے
آؤ میری نظم میں چھپ جاؤ
اس کے دامن سے اپنے آنسو پونچھو
اور سنو
خواب دیکھو
مگر ان میں زندگی اور ان پر بھروسہ مت کرو
اگر کوئی دلنشیں خواب دیکھو تو صبح جاگتے ہی اس کو بھولنے کی کوشش کرو
ورنہ تمہاری یادداشت چھین لی جائے گی
آئینہ خواب سے زیادہ بھروسہ مند ہے
تمہارے مخملی گالوں پر انگلیوں کے نشان سچ ہیں
تمہارے جسم پر انگاروں سے داغے گئے نشان عمر بھر کے لیے طعنہ بن سکتے ہیں
اپنے برتنوں کو کھلا مت چھوڑو
ورنہ کوئ آوارہ کتا انہیں چاٹے گا
جو کسی کی ملکیت نہیں ہوتا
ہوا کے ساتھ اڑ کر آنے والے سوکھے پتوں کو پہلی فرصت میں جھاڑو کے ساتھ اپنے آنگن سے باہر نکال دو
دولت کا ڈھیر دیکھ کر پتھر بن جانے والے پر اپنا قیمتی خون مت چھڑکو
تم کبھی کسی کی محبت نہیں رہی ہو”__
(منقول)
۔
وہ زیر لب بڑبڑا رہی تھی۔۔
“میں ہی کیوں ؟”
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ شکوہ اسکے لبوں پر آیا تھا۔۔
خود کو پرسکوں کرتی وہ نیچے کی جانب بڑھ گئی۔۔ جانتی تھی دارم ناشتہ اسکے بغیر نہیں کرتا تھا۔۔
مگر دارم کے علاوہ اور کوئی تو نہیں کرتا تھا۔۔
وہ ٹیبل پر آئی تو سب ناشتے میں مصروف تھے۔۔ سربراہی کرسی پر بیٹھے اس شخص کو دیکھ کر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔۔
کتنے ہی مناظر نظروں کے سامنے آئے تھے۔۔ قدم جامد ہو گئے تھے۔۔
۔
وہ سامنے تھا۔۔ اسکا گنہگار ۔۔ لیکن دنیا کے سامنے ایک شریف النفس انسان۔۔ جسکا گھناؤنا چہرہ اسکے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا تھا۔۔
ساتھ ہی اسکی خالہ بیٹھی تھی ۔۔ دوسری جانب دارم بیٹھا شاید اسکا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔ دارم کے دوسری جانب امل بیٹھی تھی۔۔
اسکی کزن ۔۔
“ازورا ۔۔ آؤ ناشتہ کرو ہمارے ساتھ “_
وہ بظاہر بہت محبت سے بولا تھا۔۔ لیکن اسکے لہجے کی خباثت اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا۔۔
اس کی آنکھیں پل بھر میں نمکین پانی سے بھرنے لگی تھیں۔۔
۔
“ازو ۔۔ یہاں میرے پاس آؤ ۔۔
دارم کی آواز پر اسکی جان میں جان آئی۔۔ اس وقت وہ اسے کوئی فرشتہ لگا تھا۔۔
وہ خاموشی سے دارم کے برابر آ کر بیٹھ گئی۔۔
۔
” سنو لڑکی۔۔ آج گھر پر مہمان آ رہے ہیں ۔۔ آج تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ ویسے بھی باہر جا کر منہ ہی کالا کروگی ۔۔
خالہ کی بات پر وہ سر جھکائے آنسوں بہا رہی تھی۔۔
۔
“مام ۔۔
دارم نے افسوس سے انکی جانب دیکھا۔۔
“تم اچھے سے مہمان کا استقبال کرو گی۔۔ جب تک تم سے نا بولا جائے تم کچھ نہیں کہو گی ۔۔ سمجھ گئی ۔۔
دارم کی توجہ اسکی جانب نا پا وہ خباثت سے اسکی جانب دیکھتے سرگوشی میں بول رہا تھا۔۔
“سمجھ گئی “_
اسکے ہاتھ پر گرفت سخت کرتا وہ کرخت لہجے میں بولا۔۔
۔
“ججج جی سمجھ گئی “_
وہ آنسوں پیتی بولی تھی۔۔ ہاں یہی تو وہ اسے سکھاتا آ رہا تھا۔۔
“” تابعداری “”_ “غلامی “
