Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٧
۔
“مجھے تمہاری ڈیل منظور نہیں ہے شہباز ضمیر “_
بنا تمہید باندھے وہ ڈائریکٹ مدعے پر آیا تھا۔۔
کمرے میں اس وقت تین نفوس بیٹھے تھے۔۔ نوح ارسلان نے اپنی تمام تر شرائط شہباز کے آگے رکھ دی تھیں۔۔ اب وہ آرام سے پیر پر پیر چڑھائے بیٹھا سگریٹ سلگائے اس کی بےچینی دیکھ رہا تھا۔۔
شہباز ضمیر بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپ رہا تھا۔۔ اور اپنی تڑپ ظاہر بھی نہیں کر پا رہا تھا۔۔
یہ لڑکا اسکی سوچ سے زیادہ شاطر نکلا تھا۔۔
اسے وہاں لا کر مارا تھا، جہاں وہ سوچ بھی نہیں سکا تھا۔۔
۔
“مگر تم نے فون پر مجھے کہا کے تمہیں ڈیل منظور ہے “_
اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ رومیسہ کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔۔
“یہ ڈیل ہماری کمپنی کے لئے بہت اہم ہے نوح “_
وہ تقریباً گرگرایا تھا۔۔
نوح نے استہزائیہ نظروں سے شہباز ضمیر کو دیکھا تھا۔۔ اس وقت وہ واقعی قابل رحم لگ رہا تھا۔۔ مگر کاش وہ رحم کے قابل بھی ہوتا۔۔
“نوح مجھے معاف کر دینا مجھے بچے۔۔ تمہارے بابا بزدل نہیں ہیں۔۔۔ مگر ان حالات سے ہار گئے “_
اسکی سماعت میں ایک آواز گونجی تھی۔۔
وہ کوٹ کا بٹن بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“میں تمہاری یہ ڈیل منظور نہیں کر سکتا۔۔ مگر میرے پاس تمہارے لئے ایک ڈیل موجود ہے “_
وہ اس پر احسان کرتے انداز میں بےنیازی سے بولا تھا۔۔
“کیسی ڈیل ؟”
وہ دونوں بنا توقف کے بولے تھے۔۔
“I want 60% shares of your company Shahbaz Zameer”
وہ اطمینان سے ان دونوں کے سروں پر بم گراتا ایک اور سگریٹ سلگا چکا تھا۔۔ وہ چین سموکر تھا۔۔ بہت سی بری عادتوں میں یہ بھی اسکی ایک پختہ عادت تھی جس پر اسے ذرا شرمندگی نہیں تھی۔۔
وہ اپنی ہر عادت بہت فخر سے اون کرتا تھا۔۔
مگر نوح ارسلان نے کبھی حرام شے لبوں سے نہیں لگائی تھی۔۔
شراب اور شباب سے وہ ہمیشہ دور رہتا آیا تھا۔۔
۔
“سکسٹی پرسنٹ ؟”
شہباز ہوائیاں اڑاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“کس کے نام پر ہیں وہ سکسٹی پرسنٹ شئیر مسٹر شہباز ضمیر “_
اس نے تیکھی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتے سوال کیا۔۔
“ازورا _ ازورا لاشاری کے “
جواب رومیسہ کی جانب سے آیا تھا۔۔
” وہ سکسٹی پرسنٹ شیئرز بھی ازورا کے نام ہے مگر وہ ازورا کے پچیس سال کی عمر ہونے تک زوہیب لاشاری کے نام رہیں گے “_
۔
نوح نے کچھ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔ براؤن آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔۔
ایک ہاتھ سے بال سنوارتا وہ سر ہلاتا ایک فائل شہباز ضمیر کی جانب بڑھا چکا تھا۔۔
“اٹس اے کنٹریکٹ ۔۔ اس میں شئیر سرٹیفکیٹس بھی ہیں۔۔ اس میں لکھا ہے کے ازورا لاشاری اپنے تمام شئیرز میرے نام کر رہی ہیں۔۔
یعنی اب سے رولز کے مطابق کمپنی کا اونر میں ہوں کیوں کے سکسٹی پرسنٹ شیئر کا مالک میں ہوں۔۔ اور باقی فورٹی پرسنٹ آپ کی مسز یعنی ازورا لاشاری ہیں ۔۔
اپنی بات مکمّل کر کے اس نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا۔۔
“پیسے میں آپ کو آپ کی سوچ سے زیادہ دونگا شہباز ضمیر “_
وہ استہزآئیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھتے بولا تھا۔۔
“مگر تم یہ کمپنی کیوں لینا چاہتے ہو ؟”
شہباز نے کھوجتی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔
لیکن مقابل کے سپاٹ چہرے سے کچھ بھی اخذ کرنے سے قاصر تھا۔۔
اس شخص کے چہرے سے کبھی پتہ نہیں چلتا تھا کے اس کے اندر کیا چل رہا ہے۔۔
“بزنس مین ہو بنا فائدہ کے کوئی سودا نہیں کرتا میں “_
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“مجھے منظور ہے “_
اگلے ہی لمحے شہباز ضمیر کا جواب آ گیا تھا جو اسکے توقع کے عین مطابق ہی تھا۔۔ اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔
“مگر شہباز “_
رومیسہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن شہباز اسے پہلے ہی روک چکا تھا۔۔
“جلدی نہیں ہے۔۔ آپ وقت لے لیں اطمینان سے سوچ لیں۔۔ اپنی وائف سے بھی پوچھ لیں آخر سگنیچر تو انکے ہی آنے ہیں۔۔
وہ اطمینان سے بولتا ایک اور سگریٹ سلگا کر کھڑا ہو چکا تھا۔۔
“مجھے منظور ہے “_
وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا تھا۔۔
“بہت اچھے۔۔ کل میرا مینیجر آپ کو پیپرز دے جائے گا سگنیچر کے لئے “_
وہ بولتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔۔
پیچھے شہباز ضمیر پرسوچ نگاہوں سے اسکی پشت دیکھ رہا تھا۔۔
وہ بلیو توتھ کانوں میں لگائے کسی سے بات کرتے باہر کی جانب جا رہا تھا جب لان کے پچھلے حصے میں بینچ پر اسے ازورا کی پشت نظر آئی تھی۔۔
وہ وہاں سے گزر جانا چاہتا تھا لیکن پھر کچھ سوچ کر اسکی جانب قدم بڑھائے۔۔ آگے کا منظر نوح ارسلان کے حواس جهنجهنا گیا تھا۔۔
وہ ایک پرانے ہٹ کے ساتھ ٹیک لگائے دونوں پیر سمیٹے بیٹھی تھی۔۔
وہ ہاتھوں میں پاؤڈر لئے اسے سونگ رہی تھی۔۔
نوح کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی تھی وہ پاؤڈر نما چیز کیا تھی۔۔
“یہ ڈرگرز بھی لیتی ہیں ؟”
وہ زیر لب بڑبڑآیا۔۔
اس لڑکی نے ایک بار پھر اسے حیران کر دیا تھا۔۔
وہ پاگلوں کی طرح اس پاؤڈر کو ناک کے ذریعہ سانسوں میں انڈیل رہی تھی۔۔ سامنے ہی جلی، ادھ جلی سگریٹس بھی پڑی تھیں یعنی وہ نا صرف ڈرگرز لیتی تھی بلکے سموکنگ بھی کرتی تھی۔۔
وہ اب چلتا ہوا اسکے نزدیک آ کھڑا ہوا تھا۔۔
اسکی نظریں اپنے سامنے جوتوں پر پڑی تھیں۔۔
جوتوں سے ہوتی اب اسکی نظریں سینے پر گئیں تھی۔۔ وہ سینے پر دونوں بازو بندھا کھڑا چشمے کے پیچھے براؤن آنکھوں میں غیض لئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“ازورا “_
اس نے نرمی سے اسے پکارا تھا۔۔
اپنے نام کی پکار پر اس نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ بھوری آنکھوں میں حد سے زیادہ سرخی گھلی ہوئی تھی۔۔
آنکھوں کے کنارے سوجے ہوئے تھے۔۔ بھورے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ اسے صحیح سلامت دیکھ کر گیا تھا۔۔۔
وہ پھولے گالوں سے کے سنگ آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق تک نہیں تھی۔۔
وہ ایک گھٹنا نیچے رکھتا اسکے مقابل بیٹھ گیا۔۔
وہ حواس میں ہوتی تو اب تک حیرت کی زیادتی سے بےہوش ہی چکی ہوتی۔۔ نوح ارسلان جس نے آج تک اپنے کپڑوں پر ہلکی سی دھول بھی برداشت نہیں کی تھی وہ یوں اسکے لئے گھاس پر بیٹھا ہوا تھا۔۔
۔
“اٹھیں کھڑی ہوں “_
نرمی سے اسے بازوؤں سے تهامتا وہ اسے کھڑا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“ڈڈ ڈونٹ۔۔
وہ اسکے لمس سے خوفزدہ سی ہوتی ہلکی آواز میں چیخی تھی۔۔
“پپ پلیز ڈڈ ڈونٹ ٹچ می۔۔ پپ پلیز۔۔
وہ دھیرے دھیرے بولتی اس سے پیچھے ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
اسکے چہرے پر جو اذیت کی داستان رقم تھی وہ ارسلان نے باآسانی پڑھ لی تھیں۔۔ لیکن وہ وجہ جاننے سے قاصر تھا۔۔
۔
“ازورا ۔۔ یہ میں ہوں۔۔ نوح ارسلان ہوں میں ازورا۔۔ میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤنگا۔۔
اسے یقین دلانے پر بھی وہ پرسکوں نہیں ہو رہی تھی۔۔
“نہیں۔۔ مم میرے ساتھ نہیں۔۔ میرے ساتھ نہیں پلیز نہیں۔۔ میں یہ لونگی۔۔ یہ یہ ڈرگرز لونگی۔۔ پپ پر یہ نہیں۔۔ مم میرے ساتھ نہیں “_
وہ بری روتی نوح کا چہرہ نوچ رہی تھی۔۔
۔
“میں کچھ نہیں کرونگا۔۔ میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤنگا لٹل گرل “_
اپنے چہرے پر ہونے والی جلن کو نظر انداز کرتا وہ نرمی سے اسے سینے سے لگا گیا تھا۔۔
وہ اسکے ساتھ لگانے پر وہ بری طرح رونے لگی تھی۔۔
“ددد دار۔۔ بہت درد ہوا تھا۔۔ داررر کک کسی نے نہیں بچایا “_
وہ اسے دارم سمجھ رہی تھی۔۔ اسکا اتنی بری طرح رونا۔۔ اسکی باتیں۔۔ اسکی آنکھوں کی وحشت اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔
شور کی آواز پر شہباز اور روميسہ بھی لان میں آ گئے تھے۔۔
نوح کے سینے سے لگی ازورا کو دیکھ کر انکی چہرے پر ہوائیاں اوڑھ گئی تھیں۔۔۔
امل بھی اپنے کمرے سے نیچے آ گئی تھی۔۔
“بسس ۔۔ کچھ نہیں۔۔ کچھ نہیں ہوا “_
اسکے بالوں کو سہلاتا وہ نرمی سے بول رہا تھا۔۔
۔
“ازو۔۔ کیا ہوا اسے۔۔ کیا کیا آپ نے ؟”۔
وہ سرعت سے انکے قریب آئی تھی۔۔ اسکی یہ حالت دیکھ کر اس نے تشویش سے نوح کی جانب دیکھا۔۔
“شہباز صاحب آپ کی وائف کسی سے بہت زیادہ ڈری ہوئی ہیں۔۔ کیا کوئی واقعہ پیش آیا ہے ایسا ؟”_
وہ بہت کچھ جتاتی نظروں سے شہباز کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ شہباز نے بےساختہ نظریں چرآئیں تھیں۔۔
“ازو۔۔ میری جان۔۔ میں ہوں امل۔۔ دیکھو میری طرف “_
اس کے حصار سے ازورا کو لیتی امل اپنے ساتھ لگائے اس سے کچھ دور ہوئی تھی۔۔
“امل “_
وہ ڈری سہمی سی امل کی جانب دیکھنے لگی۔۔ جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔۔
“ہاں امل ہوں نا میں۔۔ دیکھو مجھے۔۔ میری جان ۔۔
آنسوں سے چپکے بالوں کو اسکے چہرے سے ہٹاتے وہ اسے پیار کرتی کہ رہی تھی۔۔
“امل۔۔ اس اسکے پاس نہیں۔۔ امل پپ پلیز۔۔ مم مجھے نہیں جانا “_
امل کے سینے میں چہرہ چھپاتی وہ شہباز کی جانب دیکھتی بول رہی تھی۔۔
۔
“یہ یہ اکثر اس طرح ڈر جاتی ہے۔۔ آپ جائیں نوح۔۔ ازورا میری بچی وہ دارم نہیں ہے “_
روميسہ بری طرح گھبرا کر آگے آئیں تھیں۔۔ نوح کو صفائی پیش کرتیں ازورا کو ساتھ لگانے لگیں۔۔ جو مزید امل کے ساتھ لگ رہی تھی۔۔
وہ پرسوچ نگاہوں سے ازورا کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
۔
“امل اسے اندر لے جاؤ “_
رومیسہ نے امل سے کہا۔۔ لہجے میں واضح تنبیہ تھی۔۔ وہ کسی بھی طرح فلوقت ازورا کو نوح کی نظروں سے دور کرنا چاہ رہی تھیں۔۔
اگلے ہی لمحے وہ ہوش و حواس سے بےگانہ ہوتی گھاس پر گری تھی۔۔
امل اسے سنبھال نہیں پائی تھی۔۔
“ازورا۔۔ میں لے جاتا ہوں اسے کمرے میں امل تم چھوڑو “_
کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی شہباز نے اسے بازوؤں میں اٹھایا تھا۔۔
نوح کی آنکھوں میں مرچیں سی بھرنے لگیں۔۔
شہباز کا اس قدر استحقاق سے اسے حصار میں لینا اسکے اندر آگ بھڑکا رہا تھا۔۔
وہ خالی خالی نظروں سے شہباز کو اسے لے کر جاتے دیکھ رہا تھا۔۔
وہ اسے چھین لینا چاہتا تھا۔۔ اسے کہیں چھپا لینا چاہتا تھا جہاں شہباز ضمیر یا کوئی بھی اسے دیکھ بھی نا سکے۔۔
مگر حقیقت تو یہ تھی کے شہباز ضمیر اسے پورے حق سے اسکی نظروں کے سامنے سے لے گیا تھا۔۔
رومیسہ کھا جانے والی نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
امل نے گہری سانس لیتے اندر کی جانب قدم بڑھا دے۔۔
دارم ہوتا تو ازو کو سنبھال لیتا۔۔
“بابا بھی ازو کو نقصان تو نہیں پہنچائینگے”_
یہ اسکی سوچ تھی۔۔ حقیقت سے برعکس ۔۔۔
وہ اسے اپنے کمرے میں لے کر آیا تھا۔۔ اگر اپنی بےہوشی میں اس نے نوح ارسلان کو کچھ بتا دیا ہوتا تو اس سے آگے وہ سوچ بھی نہیں سکا تھا۔۔ اپنا جو مہربان ۔۔ انسان دوست امیج اس نے اتنے سالوں سے بنا رکھا تھا وہ ایک لمحے میں ختم ہو جاتا۔۔۔
وہ اسکے بےخبر وجود پر نظریں ٹکائے انجکشن تیار کر رہا تھا۔۔
گرے گرم سوٹ میں ملبوس تھی۔۔ ہمیشہ کی طرح آستین پوری تھیں۔۔
اس نے دھیرے سے اسکی آستین بازو سے اوپر کی جانب کیں۔۔
اسکی کلائی۔۔ بازو پر کتنے ہی نشان تھے۔۔
یہ سب اسکی وحشت کی داستان سنا رہے تھے۔۔
“تم میری ہو ازورا لاشاری ۔۔۔
ہر نشان پر انگلی پھیرتا وہ زیر لب بولا تھا۔۔
“دیکھو بریرہ۔۔ تمہاری لاڈلی۔۔ تمہاری گڑیا ۔۔ کتنا خیال رکھتا ہوں میں اسکا “_
اسکی گردن کے نشانات کو دیکھتا وہ سفاکیت سے قہقہا لگاتا ہنستا چلا گیا۔۔اسکے جسم کوئی ایسا حصّہ نہیں تھا جہاں شہباز ضمیر نے اپنی درندگی کا نشان نا چھوڑا ہو۔۔
“میں اسے عبرت بنا دونگا۔۔ شہباز ضمیر کو انکار کرنے والے مرنے کے بعد بھی پرسکون نہیں رہ سکتے۔۔ اپنی لاڈوں میں پلی بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر تم تو قبر میں بھی پرسکوں نہیں رہ سکتی بریرہ لاشاری “_
وہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہنس رہا تھا۔۔
۔
وہ ابھی آپریشن سے فارغ ہو کر ابھی اپنے روم میں آیا تھا۔۔
گلوز اتار کر ہاتھ واش کرنے کے بعد ازوکو لیٹ ہو جانے کے متعلق وائس میسج کر کے وہ تھکا تھکا سا چیئر پر بیٹھتا اسکی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موند گیا تھا۔۔
چھم سے اسکا سراپا نگاہوں کے سامنے آیا تھا۔۔ سلونی رنگت میں گھلی سرخیاں۔۔ وہ بے اختیار مسکرا اٹھا۔۔
کیسے فقط ایک جملے سے ہی وہ گلال میں نہا گئی تھی۔۔
اسے بے ساختہ چند دنوں پہلے کی اسکی حرکت یاد آئی تھی۔۔ جب رات وہ چائے پیتا فون پر بات کر رہا تھا۔
بلیک پینٹ پر بلیک ہی شرٹ پہنے وہ اپنی چمکتی رنگت سے اسے چونکا گیا تھا ۔۔
وہ گال پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتی جا رہی تھی ۔
وہ ٹہلتا ہوا ایک ہاتھ پاکٹ میں گھسائے دوسرے سے فون کان سے لگائے بات کر رہا تھا۔۔ اسکے اس طرح دیکھنے پر وہ فون بند کرتا پلٹا ۔وہ ریڈ ویلوٹ سوٹ پہنے اوپر ریڈ ہی شال اوڑھے وہ بالوں کی جھومتی لٹوں سمیت معصومیت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔اس کے دیکھنے پر بھی اس نے اپنی نظروں کا زاویہ نہیں بدلا تھا ۔۔
وہ دھیمے دھیمے قدموں سے چلتا اسکی طرف بڑھا ۔۔
وہ چونک کر خیالوں کی دنیا سے واپس آئی تھی ۔۔
اسے اپنے سے کچھ قدم کے فاصلے پر کھڑے دیکھ کر وہ جلدی سے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔
اسکی آنکھیں آج بھی اسی طرح مسکرا اٹھی تھیں۔۔
یہ لڑکی اپنی بےخود محبت کے آگے دارم اسفہان کو زیر کر سکتی تھی۔۔۔
ازو کے رپلائے کا کافی دیر سے انتظار کر رہا تھا وہ۔۔
اسکا رپلائے نہیں آیا تو کچھ سوچ کر اس نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا۔۔
دل نجانے کیوں اسکی جانب سے گھبرا رہا تھا۔۔
دارم کے میسج کا جواب تو پہلی فرصت میں دیتی تھی۔۔
لیپ ٹاپ کی سکرین پر اب ازورا کا کمرہ نظر آ رہا تھا۔۔ وہ اپنے کمرے میں نہیں تھی۔۔ خالی کمرہ دیکھ کر اسے مزید پریشانی ہونے لگی۔۔
وہ مسلسل کال ملا رہا تھا لیکن وہ کال بھی پک نہیں کر رہی تھی۔۔
“امل کے ساتھ ہوگی “_
اس نے جیسے خود کو تسلی دی تھی۔۔
“کہیں طبیعت نا بگڑ گئی ہو “_
دل میں ایک اور خیال نے سر اٹھایا تھا۔۔ اسے یہاں سے نکلتے نکلتے کافی دیر ہو جاتی۔۔ اس وقت اسکے علاوہ کوئی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں تھا وہ اس طرح ہسپتال کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔۔
اچھا ہوتا کے وہ ازو کو ساتھ لے آتا۔۔ اس سے پہلے بھی وہ ایسا کر چکا تھا۔۔
اس نے جلدی سے امل کے فون پر کال ملائی۔۔ امل بھی کال نہیں پک کر رہی تھی۔۔
“امل پلیز ازو کا خیال رکھ لیں۔۔ اسکے پاس رہ جائیں آج رات جب تک میں نہیں آتا۔۔ پلیز امل خدارا اسے اکیلے نہیں چھوڑیے گا وہ بہت ڈر جاتی ہے رات میں “_
امل کو وائس میسج بھیج کر اس نے ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی سکرین کی جانب دیکھا جہاں اب بھی کمرہ خالی تھا۔۔
۔
وہ ایک بار ان اندھیروں میں کھو رہی تھی۔۔ وحشت بھری وہ رات اسے ایک بار پھر یاد آ رہی تھی۔۔حلق میں آنسوں کا گولہ سا پھنسنے لگا تھا۔۔
“دار ۔۔ دار کک کہاں ہو تم۔۔ دار پلیز آجاؤ “_
وہ تکیہ میں سر پٹختی دارم کو پکار رہی تھی۔۔
“شششش !! بےبی ۔۔ دیکھو میں ہوں یہاں۔۔ دار کیوں ۔۔ شہباز کہو “_
وہ اسکے کانوں کے پاس غرایا تھا۔۔
وہ نیم بےہوشی میں بھی اسکی آواز سنتی خوف سے کانپنے لگی تھی۔۔ وہ اسکے لرزتے وجود کو دیکھتا محضوظ ہوا تھا۔۔
“ننن نہیں پلیز۔۔ میں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔۔ کک کچھ نہیں۔۔ میں نے دار کو بھی نہیں بتایا۔۔ پلیز مجھے جانے دیں “_
اول روز کی طرح آج بھی خوف غالب آ گیا تھا۔۔ وہ بری طرح کانپتی دکھتے سر کو تھامتی اٹھ بیٹھی تھی۔۔
سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔ مشکل سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔
کمرے کو دیکھتی ہی وہ خوف سے چیخنے لگی تھی۔۔
“پپپ پلیز۔۔ دار ۔۔ دار کک کہاں ہو۔۔ پپ پلیز مم مجھے جانا ہے “_
وہ تیزی سے بھاگنے لگی تھی۔۔
“ششش ! تم بھول گئی ہو ۔۔ مجھے تیز آواز پسند نہیں ہے “_
اسے بیڈ پر دهکیلتا وہ غرایا تھا۔۔
“ممم مجھے جانا ہے۔۔ پلیز مجھے جانا ہے “_
وہ دونوں ہاتھوں کو لبوں پر جمائے بری طرح روتی ہوئی ملتجی انداز میں بولی تھی۔۔ اسے لگ رہا تھا سامنے بیٹھا درندہ کسی بھی وقت اس پر حملہ ور ہو جائے گا۔۔
وہ بس اسکی نظروں سے دور جانا چاہتی تھی۔۔
“بیوی ہو تم میری۔۔۔ ازورا بےبی۔۔ بیوی ہو جانتی ہو نا “_
وہ اسکا چہرہ جکڑے اسے یاد دہانی کروا رہا تھا۔۔ اپنا اور اسکا رشتہ یاد دلا رہا تھا۔۔
“یاد ہے نا ؟”
اسکے کچھ نا بولنے پر اسکی گرفت مزید سخت ہوئی تھی۔۔
“جج جی یاد ہے “_
وہ جلدی سے بولی تھی۔۔ وہ اسکی فرمانبرداری پر مسکرا اٹھا۔۔
“گڈ گرل ۔۔ مجھے لگا تم بھول گئی ہو۔۔ میں تو آج تمہیں یاد دلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔
وہ وحشت زدہ سی اسکی جانب دیکھتی اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ وہ آنکھیں میچیں خوف سے کانپتی اپنی موت کی دعا مانگ رہی تھی۔۔
جب اچانک ہی شہباز کے فون کی رنگ ہوئی تھی۔۔۔
وہ مغلظات بکتا اسکے بال چھوڑ کر کمرے سے نکلا تھا۔۔ وہ تیزی سے اسکے کمرے سے نکلتی اپنے کمرے میں بھاگی تھی۔۔
