60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٦

۔
تین دن کے بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔۔ وہ ایک بار پھر اسی گھر اسی کمرے میں آ گئی تھی۔۔ اس مکان کے در و دیوار سے اسے خاموش چیخوں کی آواز آتی تھی۔۔ جو کبھی کسی نے نہیں سنے تھے۔۔ جو آج تک اسکے ہی سینے میں دفن تھے۔۔
اسکے کانوں میں وہ بین گونجتے تھے جو کبھی کسی نے نہیں سنے تھے جو اسکی ہی سماعت میں گونجتے اسی کا ضبط توڑ دیتے تھے۔۔
امل اسکی ہر ضرورت کا پہلے سے زیادہ خیال رکھتی تھی۔۔ دارم سے وہ نہیں ملی تھی۔۔ وہ شاید اسکے سامنے ہی نہیں آنا چاہتا تھا فلحال۔۔
۔
دن گزر رہے تھے کبھی برق رفتار سے کبھی سست رفتاری سے۔۔ اسکی عدت کو تین ماہ گزر گئے تھے۔۔ امل اکثر اسکے ساتھ ہی سو جاتی تھی۔۔ وہ اس خیال اسی طرح کر رہی تھی۔۔ بس خود خاموش سی ہو گئی تھی۔۔ لمحوں میں صدیاں کیسے بیتتی ہیں اس پر انکشاف ہوا تھا۔۔
ایک سناٹا سا تھا جو اسکے اندر اتر گیا تھا۔۔
وہ نہیں جانتی تھی آگے کیا ہوگا۔۔
اسے ایک قید سے رہائی مل گئی تھی۔۔ جس نے کبھی سہاگنوں جیسا سکھ پایا ہی نہیں تھا وہ اپنی عدت کے دن پورے کر رہی تھی۔۔
وہ سوچوں میں گم بیڈ کی پشت سے سر ٹکائے کارپیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی جب دروازے پر کسی نے دستک دی۔۔ ان تین ماہ میں وہ خود بہت کم کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔ امل آج کافی دنوں کے بعد یونیورسٹی گئی تھی۔۔ دارم بھی اس وقت ہسپتال میں تھا۔۔
اسکے دل میں یکدم ہی خوف سمٹ آیا تھا۔۔ وہ سب کچھ بھول رہی تھی اسے بس یہ یاد تھا کے وہ اس گھر میں اکیلی ہے۔۔ امل آج کافی دنوں کے بعد یونیورسٹی گئی تھی۔۔ اور دارم ہسپتال میں تھا۔۔ رومیسہ کس وقت ہوتی تھی کس وقت نہیں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھیں وہ۔۔
۔
“ازورا بےبی”_
یہ اسی کی آواز تھی۔۔ سماعتوں میں چبھتی ہوئی آواز۔۔ اسکا تنفس تیز ہو رہا تھا۔۔ شہباز ضمیر آج تین ماہ بعد پھر اسکی بےبسی کا تماشا دیکھنے موجود تھا۔۔
عجیب سی گُھٹن تھی۔۔ سانسوں کے کانٹے سینے میں دُبک کے بیٹھے ہوۓ گوشت کے لوتھڑے کو زخم زخم کرنے میں مگن تھے۔۔
۔
“میں چاہتا ہوں تم میرے لئے خود دروازہ کھولو۔۔ ورنہ آ تو میں سپیر کی کے ذریعہ بھی سکتا ہوں”_
وہ باہر کھڑا اسے دروازہ کھولنے بول رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسوں قطار در قطار بہ رہے تھے۔۔ دماغ جیسے ماؤف ہو رہا تھا۔۔
“ازورا “_ اسے ایک بار پھر اسکی آواز آئی تھی۔۔ ساتھ ہی دروازہ کھولنے کی بھی آواز آ رہی تھی۔۔ اس نے بہتی آنکھوں سے خود پر نگاہ دوڑائی۔۔ وہ پوری آستین کی شرٹ اور ڈھیلی ٹراؤزر میں ملبوس تھی۔۔ اسکے جسم پر دوپٹہ نہیں تھا نا اسکے وارڈراپ میں دوپٹہ تھا۔۔ اسے آج پہلی بار احساس ہوا تھا کے وہ دین سے کتنی دور ہے۔۔ نماز پڑھنا وہ بہت پہلے چھوڑ چکی تھی۔۔ اور دوپٹہ اس نے کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔۔ سامنے دارم کی چادر تھی وہ بہت پہلے اس نے ٹھنڈ کی وجہ سے اسے دی تھی۔۔ اس نے تیزی سے وہ چادر اپنے گرد لپیٹا۔۔ اس نے سوچ لیا تھا اگر وہ آج اندر آ بھی گیا تو وہ بھاگ جائے گی۔۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے دارم کا نمبر ڈائل کر رہی تھی جو مسلسل آف تھا۔۔ شاید وہ ایمرجنسی میں تھا۔۔ اس نے امل کا نمبر ڈائل کیا جو آوٹ آف ریچ بتا رہا تھا۔۔ اسے وحشت ہو رہی تھی۔۔ “تمہیں لگتا ہے تم مجھ سے دور جا سکتی ہو ؟” اسکی آواز پر اس نے وحشت زدہ ہو کر دروازے کی جانب کی دیکھا جو کھل چکا تھا۔۔ وہ چہرے پر وہی کرہیہ مسکراہٹ لئے اپنی داڑھی میں انگلیاں چلاتا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ ازورا کو اسکی نظریں اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔ “تم تو تین مہینوں میں مزید خوبصورت ہو گئی ہو”
وہ بولتے ہوئے اسکے نزدیک آ رہا تھا۔۔
“قریب نہیں آنا میرے۔۔ طلاق دے چکے ہو تم مجھے”_
وہ وحشت زدہ سی چیخی تھی۔۔
“آہ ظالم کیا یاد کروا دیا۔۔ وہ ڈیل ضروری تھی مگر اتنی ضروری نہیں کے اتنا قیمتی خزانہ میں نوح ارسلان کو دے دوں۔۔ ابھی تو میں نے اس خزانے کی پوری قیمت بھی وصول نہیں کی۔۔ میں نے گھاٹے کا سودا کیا”_
وہ بولتے ہوئے اسکے قریب آ رہا تھا۔۔
اسکے وجود میں چونٹیاں سی رینگنے لگی تھیں۔۔
“ممم میرے قریب نہیں آنا ججج جان سے مار دونگی تمہیں”_
وہ كانپتی ٹانگوں سے دور ہٹتی لرزتی آواز میں بولی تھی۔۔
“واہ۔۔ تمہیں تو بولنا آ گیا ہے۔۔ صرف طلاق نے ہی تمہارے منہ میں زبان دے دی ہے”_
وہ اسے بازو سے تھامتا اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔
“چھ چھوڑو مجھے۔۔ ذلیل انسان۔۔ خدا کا خوف نہیں ہے تمہیں”_
وہ بری طرح روتی اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اسکی گرفت کے آگے وہ آج بھی بےبس تھی۔۔
اس ذلیل انسان کے ہاتھوں رسوا ہونے سے بہتر تھا اسے موت آ جاتی۔۔ وہ شدّت سے اپنی موت کی دعائیں مانگ رہی تھی۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے تم آزاد ہو گئی ہو ؟ نوح ارسلان کو جانتی نہیں ہو تم۔۔ تمہیں تمہاری اوقات میں رکھے گا وہ”_
وہ اسکے چہرے کے قریب اسکے کانوں میں صور پھونک رہا تھا۔۔
اسکی نظریں سائیڈ ٹیبل پر رکھے چاکو تک گئی تھی۔۔ جسے اس نے آج تک خود کو نقصان پہنچانے کی ہی غرض سے استعمال کیا تھا آج تک۔۔
اس نے پوری طاقت سے اس چاکو سے اس پر حملہ کیا تھا۔۔
وہ بلبلا کر دور ہوا۔۔ اسکے گمان میں بھی نہیں تھا کے ازورا اس پر حملہ کرے گی۔۔ وہ اسکی شکل دیکھ کر ہی خوف سے زرد پڑھ جاتی تھی۔۔
اسکی آواز سن کر اسکی گھگی بن جایا کرتی تھی۔۔ وہ بےیقینی سے اپنا گهایل کندها دیکھ رہا تھا۔۔
شہباز کا رخ دروازے کی جانب ہونے کی وجہ سے وہ تیزی سے کمرے سے منسلک باتھ روم کی جانب بھاگی تھی۔۔
دروازہ لاک کر کے وہ بری طرح رونے لگی تھی۔۔ اسکا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔۔ باہر سے شہباز کی چیخنے کی آواز آ رہی تھی۔۔ وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
“دار پلیز کال اٹھاؤ”_
وہ روتی ہوئی دارم کو کال کر رہی تھی۔۔ اسکا موبائل سوئچ آف تھا۔۔
یکدم ہی اسکے دماغ میں جھماکا ہوا تھا۔۔ اسکے پاس نوح ارسلان کا بھی تو نمبر تھا۔۔
اس نے کہا تھا وہ پسند کرتا ہے اسے۔۔ اسے بےساختہ وہ دن یاد آیا جب بیک یارڈ میں ڈرگز لیتے اسے نوح ارسلان نے دیکھا تھا۔۔
آج تک اس نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔۔
اس وقت وہی تھا جسے وہ مدد کے لئے کال کر سکتی تھی۔۔ اپنا رویہ۔۔ وہ تھپڑ۔۔ اسکی ڈیل سب بھول گئی تھی۔۔ یاد تھا بس وہ کم از کم شہباز سے بچا لے گا اسے۔۔
اس نے تیزی سے نوح کا نمبر ڈائل کیا۔۔ جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لی گئی تھی۔۔


۔
“اسکی عدت ختم ہو جائے گی چند دنوں میں۔۔ تم یہ کیا کر رہے ہو نوح۔۔ تم نے تو ان تین ماہ میں مجھے تڑپا دیا ہے۔۔ تمہاری اذیت مجھے پریشان کر کے ختم ہوتی ہے کیا۔۔ اتنی سگریٹ ؟؟
دادو نے اس کے روم میں آتے جگہ جگہ بکھری جلی ہوئی سگریٹ کو دیکھتے ہوئے التجا کی ۔۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا۔۔ کالی شرٹ بلیو جینس پر پہنے۔۔ ہاتھوں میں ہمیشہ کی طرح ڈھیروں بینڈز ۔۔ بالوں کو پیچھے کی جانب کرتے سیٹ کر رہا تھا۔۔
سگریٹ تو اذیت کم کرنے کے لئے پیتا ہوں دادو۔۔ خیر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ سب میں خود ہینڈل کروں گا”_
نوح ارسلان نے خود پر پرفیوم کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔۔
۔
“وہ سکون ہے تو اسے لے آؤ نا۔۔ اب شریعت کے خلاف تو نہیں جا سکتے نا۔۔ عدت ختم ہوگی تو ہی لاؤ گے نا اسے”_
وہ فریز ہوا تھا انکی بات پر۔۔ وہ جان گئے تھے کے اسکا سکون ازورا لاشاری میں ہے۔۔
“پہلے تو وہ سکون میری زندگی کا رہا سہا سکون بھی برباد کرے گی دادو”_
اپنے گال پر ہاتھ پھیرتے نوح نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا تھا۔۔ چار ماہ پہلے کا وہ تھپڑ اسے بھولا نہیں تھا۔۔
“وہ بچی بہت ٹوٹی ہوئی ہے نوح۔۔ یہ تم بھی جانتے ہو۔۔ اپنی جنونیت میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا تم”_
وہ اسکا ذکر اتنی محبت سے کر رہے تھے کے نوح کو اپنے آنے والے دن اس گھر میں بہت مختلف نظر آ رہے تھے۔۔
“جادوگرنی “_ وہ کچھ دیر کچھ سوچتا رہا پھر سر ہلا کر مرر کی طرف پلٹا۔۔ آنے سے پہلے ہی اسکے ساتھ دادو کے بھی حواسوں پر سوار ہو گئی تھی وہ تو۔۔ “جادوگرنی “_
اپنی بات کی تائید کرتے اس نے ایک بار پھر اسے دیا لقب دوہرایا۔۔
موبائل کی چنگھارتی آواز پر وہ دونوں ہی متوجہ ہوئے۔۔
“ازورا “_
سکرین پر چمکتا نمبر دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ یہ نمبر اسے ازبر تھا۔۔
“نوح”_
اگلی جانب سے اسکی روتی ہوئی آواز پر نوح نے ہونٹ بھینچ کر خود پر کنٹرول کیا۔۔ اسکی لڑکی کے آنسوں اسکے دل پر تیزاب کی مانند گرتے تھے۔۔ یقیناً وہ کسی بڑی مصیبت میں تھی ورنہ اپنے لئے اسکی نفرت سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔۔
“ازورا میں سن رہا ہوں۔۔ کیا بات ہے ؟ آپ رو کیوں رہی ہیں؟ اور یہ آوازیں کیسی ہیں؟”
اس نے ایک سانس میں ہی اس سے کتنے ہی سوالات اس سے کر ڈالے تھے۔۔ ساتھ ہی گاڑی کی چابی اٹھاتے دادو کو پریشان نا ہونے کا کہتا وہ باہر نکلا تھا۔۔
“پپپ پلیز مجھے بچا لیں۔۔ شش شہباز۔۔ مم میرے کمرے۔۔ پلیز مجھے بچا لیں نوح۔۔ آپ اس تھپڑ کا بدلہ بھی لے لیں مگر ابھی اس سے بچا لیں مجھے”_
وہ روتی ہوئی نجانے کیا کچھ کہ رہی تھی۔۔ اس نے تو اس سے آگے کچھ سنا ہی نہیں تھا کے شہباز اسکے کمرے میں ہے۔۔
وہ تھپڑ کیا وہ اسکی جان بھی لے لیتی تو بھی وہ شہباز ضمیر جیسے گھٹیا شخص کی نظر اس پر برداشت نہیں کرتا۔۔
“ازورا۔۔ آپ کہاں ہیں اس وقت۔۔ دارم کہاں ہے ؟”
وہ پوری رفتار سے گاڑی ڈرائیو کرتا اس سے پوچھ رہا تھا۔۔
“دار ننن نہیں ہے۔۔ میں باتھ روم میں بند ہوں۔۔ وو وہ دروازہ توڑ دے گا۔۔ پلیز آجائیں۔۔ وہ دروازہ توڑ رہا ہے”_
وہ اسکی آواز کی لرزش پر بھی جان گیا تھا کے وہ کانپ رہی تھی۔۔
“ازورا۔۔ میں بس آ رہا ہوں۔۔ ابھی آ رہا ہوں۔۔ آپ نے اپنی حفاظت کرنی ہے۔۔ کسی قیمت پر بھی شہباز کو حاوی نہیں ہونے دینا ہے۔۔ وہاں آس پاس دیکھیں کوئی وزنی چیز یا کوئی لیکویڈ وغیرہ موجود ہو تو اسے ہاتھ میں لیں”_
وہ ساتھ ساتھ اسے ھدایت بھی کر رہا تھا۔۔
“شہباز اگر تو نے ہاتھ بھی رکھا اس پر میں تجھے کتے کی موت مارونگا”_
اسکی شریانیں پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
اگلی جانب سے شور کی مزید آواز آ رہی تھی۔۔
“ازورا۔۔ ازورا مجھ سے بات کریں۔۔ کیا ہوا ہے۔۔ پلیز بولیں میری جان”_
وہ تڑپ کر اسے پکار رہا تھا۔۔ مگر دوسری جانب سے صرف اسکے چیخنے کی آواز آ رہی تھی۔۔
سانس تھم جانا کسے کہتے ہیں۔۔ زندگی ہاتھوں سے کیسے سرکتی ہے یہ نوح ارسلان آج محسوس کر رہا تھا۔۔
“ازورا۔۔ ازورا پلیز بھاگ جائیں۔۔ اسے قریب نہیں آنے دیں۔۔ اسے جان سے مار دیں۔۔ اسے اپنے قریب نہیں آنے دیں”_
وقت ایک بار پھر بہت پیچھے چلا گیا تھا۔۔
“روشی بھاگ جاؤ۔۔ روشی وہاں سے بھاگ جاؤ۔ ۔ اسے اپنے قریب نہیں آنے دینا روشے میری جان۔۔ یا اللّه میری عزت میری زندگی کو اس حیوان سے بچا لے”_
اسکی سماعت میں اپنے باپ کے کہے جملے گونج رہے تھے۔۔
اب فون کے سپیکر سے ازورا لاشاری کی نہیں روشانے ارسلان کی آواز آ رہی تھی۔۔
“نہیں میں اسے مام کی طرح نہیں جانے دونگا۔۔ ازورا خدا کے لئے اس حیوان سے مقابلہ کریں۔۔ میرا یقین کریں میں بس آپ کے پاس آ رہا ہوں”_
اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ اسے وہاں سے غائب کر دے۔۔ یا خود وہاں اڑھ کر پہنچ جائے۔۔ اگر آج اسے دیر ہو گئی تو وہ زندہ نہیں رہے گا۔۔
چررر کی آواز کے ساتھ گاڑی رکی تھی۔۔ وہ تیزی سے اندر کی جانب بھاگا تھا۔۔ دروازہ اندر سے لاک تھا یعنی وہ جانتا تھا اس وقت گھر پر کوئی نہیں ہے۔۔
“ازورا۔۔ میں آپ کے پاس ہوں”_
دوسری جانب سے اب بھی چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔
بیک یارڈ ایریا جس میں اس روز اسکی ملاقات ہوئی تھی ازو سے۔۔ یاد آتے ہی وہ پیچھے کی جانب گیا تھا۔۔ یہاں سے کودنا آسان تھا کافی۔۔
وہ دیوار پهلانگ کر اندر آیا۔۔ اندر سے اسکی چیخوں کی آواز آ رہی تھی۔۔ وہ تیزی سے آواز کی سمت بھاگا تھا۔۔
سامنے ہی کمرے کا دروازہ کھلا نظر آیا تھا۔۔ اندر کی حالت اسے کسی انہونی کا احساس دلا رہی تھی۔۔
خون کارپیٹ اور بیڈشیٹ پر گرا ہوا تھا۔۔ اس نے باتھ روم دیکھا وہاں بھی خون تھا۔۔ سفید ٹائلز پر خون تیزی سے بہ رہا تھا۔۔ مگر وہ وہاں نہیں تھی۔۔
“دور ہٹو۔۔ دار۔۔ دااار پلیز آجاؤ۔۔ نوح۔۔ نوح۔۔
اسکے رونے کی آواز دوسرے کمرے سے آ رہی تھی۔۔ وہ تیزی سے اس جانب آیا۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کر غم و غصے سے پاگل ہونے والا ہو گیا تھا۔۔
ازورا پوری طاقت سے ایک ہاتھ میں چاکو تھامے اس سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ لیکن وہ اس پر حاوی ہو رہا تھا۔۔
اس نے جنوں کے عالم میں شہباز کو ازورا سے دور کیا تھا۔۔ وہ اسے بری طرح مار رہا تھا۔۔
“ہاتھ کیسے لگایا تو نے اسے”
“تو کیا سمجھا تھا میں اسے تیری ہوس کا شکار ہونے کے لئے چھوڑ دونگا۔۔ تجھے کہا تھا نا میں نے یہ میری ہے۔۔ نوح ارسلان کی ہے یہ۔۔ نظر کیسے ڈالی تو نے اس پر”_
وہ جنون کی کیفیت میں پاس پڑا گدان اسکے سر پر مار رہا تھا۔۔
خون اسکے سر سے نکلتا تالاب کی صورت اختیار کر رہا تھا۔۔
ازورا سہمی ہوئی کونے میں سمٹی رو رہی تھی۔۔ سرعت سے اٹھتی اسکی جانب آئی تھی۔۔ اسکی پشت سے لگی بری طرح رونے لگی تھی۔۔
“تت تم اسے مار دو گے تو یہ میری زندگی برباد کر دیگا۔۔ اسے جان سے نہیں مارو۔۔ یہ مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا”_
اسکے احساس پر وہ ساکت سا ہوا تھا۔۔ آج سے پانچ ماہ پہلے وہ اسی طرح مدہوشی کی حالت میں اسکے سینے سے لگی تھی۔۔
اسکے اندر لگی آگ تھم سی گئی تھی۔۔ اسکا نرم احساس تھا جو ہر جذبہ پر حاوی ہو رہا تھا۔۔
اسکے ہاتھ تھم سے گئے تھے۔۔
“ازورا آپ عدت میں ہیں”_
خود پر ضبط کے پہرے بیٹھاتا وہ آنکھیں میچ کر بولا تھا۔۔ دل چیخ چیخ کر اسے سینے سے لگا لینے کی گزارش کر رہا تھا۔۔
لیکن وہ ہوش و حواس میں تھا۔۔
“ازورا آپ کی عدت میں ابھی کچھ دن رہتے ہیں”_
کچھ لمحے تھمے تھے اسکی بھاری آواز ایک بار پھر آئی تھی۔۔
وہ تیزی سے اس سے دور ہوئی۔۔ وہ اسکی جانب دیکھ بنا اس سے فٹ دوری پر گیا تھا۔۔
“اس کمرے سے جائیں آپ”_
وہ ایک بار پھر بولا تھا۔۔ نظریں اسکی آدھی زمین کو چھوتی چادر پر تھی۔۔ اس نے کبھی اسے چادر یا دوپٹے میں نہیں دیکھا تھا۔۔
وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔۔ دارم kکے بعد آج پہلی بار اسے کسی مرد کے ساتھ تحفظ کا احساس ہوا تھا۔۔
۔
“گھبرائیں نہیں مرا نہیں ہے وہ۔۔ اور اگر مر بھی گیا تو قتل کا الزام میرے سر ہوگا۔۔ جب تک آپ کا دار نہیں آجاتا میں یہاں موجود ہوں”_
وہ جیسے اسکے کہے بنا ہی سب جان گیا تھا۔۔
وہ لرزتے قدموں سے دارم کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔
دارم کے کمرے میں آ کر اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا تھا۔۔ وہ دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی۔۔
نوح کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔ دل دُکھ رہا تھا کسی پھوڑے کی مانند۔۔ وہ دروازے کے اس پار بیٹھا اسکی موجودگی کا احساس اندر اتار رہا تھا۔۔


وہ ایک میجر آپریشن سے کے بعد اب اپنے روم میں آیا تھا۔۔
موبائل وہ ہمیشہ آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے آف کر دیتا تھا۔۔
“شکر ہے آپریشن کامیاب رہا ورنہ میں تو آج ڈر ہی گئی تھی”_
رمشا بولتی ہوئی ہاتھ واش کر رہی تھی۔۔ کوٹ وغیرہ وہ پہلے ہی اتار چکی تھی۔۔
“اللّه کا کرم ہوا ہے”_
وہ ہلکی سی مسکان اسکی جانب اچھالتا نرمی سے بولا۔۔ وہ اچھی لڑکی تھی۔۔ سادہ لوح سی۔۔ وہ اپنے لئے اسکی پسندیدگی سے آگاہ تھا۔۔ لیکن وہ اسکی واحد دوست تھی۔۔ وہ اسے دکھی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
“دارم۔۔ ازو کیسی ہے ؟”
اسکے پوچھنے پر اسے ازورا کا خیال آیا۔۔ روز آنے سے پہلے وہ ٹیکسٹ کر دیا کرتا تھا۔۔ اسکی ضرورت کے بارے میں دریافت کر لیتا تھا۔۔ آج بھی وہ اسے بتا کر ہی آیا تھا۔۔ رمشا سے اس نے اسکی عدت سے متعلق ذکر نہیں کیا تھا۔۔
“ٹھیک ہے ازو”_
وہ اسکے ازو کہنے پر مسکرایا تھا۔۔ اسکے انداز میں بھی اسکی ازو کے لئے محبت تھی۔۔ شاید اسکی ہی وجہ سے ۔۔
“ہسپتال نہیں آئی نا وہ کافی دن ہو گئے”_
وہ اب نڈھال سی کرسی پر گرتی ہوئی بولی تھی۔۔ دارم نے نفی میں گردن ہلاتے اسے دیکھا۔۔ وہ بب جلدی تھک جاتی تھی ایسا اسکا ماننا تھا۔۔
“مجھے ایسے نہیں دیکھو۔۔ تم تو انسانوں کے کنبے میں سے لگتے ہی نہیں ہو۔۔ دو تین کیسز کے بعد بھی ڈاکٹر دارم فل آن ایکٹو ملتے ہیں”_
وہ اسکے اس طرح دیکھنے کا مطلب سمجھ گئی تھی۔۔
“ڈاکٹرز مسیحا ہوتے ہیں۔۔ جانتی ہو نا مسیحا کسے کہتے ہیں ؟ مسیحا تھکتا نہیں ہے رمشا۔۔ اسے تھکنا نہیں چاہئے۔۔ اللّه کے حکم سے اسکے ہاتھوں میں زندگیوں کا کھیل ہوتا ہے۔۔ اس پروفیشن میں آنے سے پہلے میں نے خود سے عہد کیا تھا۔۔ مجھے کبھی تھکنا نہیں ہے۔۔ جانتی ہو جب ماما بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا اس دن ہولی ڈے تھا۔۔ بڑے بڑے ہسپتال میں بھی بہت کم ہی ڈاکٹر تھے۔۔ اور جو تھے وہ رات کے اس پہر تھکن کا شکار ہو گئے تھے جب ماما بابا کو لایا گیا۔۔ انکا کیس کریٹیکل تھا۔۔ بہت سے ہسپتال نے تو لینے سے ہی منع کر دیا۔۔ اور جہاں ہم لے کر گئے وہاں کا مسیحا تھک چکا تھا”_ اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔ تین سال سے وہ اسکے ساتھ کام کر رہی تھی۔۔ اس نے آج پہلی بار اپنی فیملی کا ذکر کیا تھا۔۔ وہ آج سمجھی تھی کے دارم اسفہان ہر لمحے اپنے مریضوں کے لئے تیار کیوں رہتا ہے۔۔ “وہ خود کو مسیحا جانتا تھا اور مسیحا کبھی تھکتا نہیں ہے۔۔ وہ تو اللّه کا خاص ہوتا ہے جسکے ہاتھوں میں اللّه نے وصف دیا ہوتا ہے۔۔ اللّه کے نوازے لوگوں پر تھکنا کیا جچتا تھا”_
وہ موبائل آن کر رہا تھا۔۔ ازو کی اتنی کالز دیکھ کر اس نے فکر مندی سے اسے کال کی جو کے اب اوٹ آف ریچ بتا رہا تھا۔۔
“ازو اتنی کالز کر رہی تھی”_
وہ زیر لب بڑبڑآیا۔۔
“تم گھر چلی جاؤ۔۔ اگلی شفٹ شروع ہو رہی ہے۔۔ اور پلیز وہاں بتا بھی دو کے میں جا رہا ہوں “_
وہ اسے ہدایت کرتا تیزی سے نکلا تھا۔۔ دل شدّت سے اسکے ٹھیک ہونے کی دعا کر رہا تھا۔۔
اس نے امل کو کال کی ازو کے بارے میں اسے پتہ ہونا چاہیے تھا۔۔
وہ بھی کال ریسیو نہیں کر رہی تھی۔۔
چند لمحے گزرے تھے جب امل کی کال آئی تھی۔۔
“موبائل آپ کو آپ کے منگیتر کے لئے نہیں دیا گیا۔۔ کچھ ضروری کالز سننے کی زحمت بھی کر لیا کریں”_
چھوٹتے ہی اس نے طنز کے تیر برسائے تھے جو اگلی جانب سے خندہ پیشانی سے برداشت کئے گئے تھے۔۔
“دارم سگنلز پروبلم کر رہے تھے۔۔ ازو کے بھی کالز ہیں۔۔ میں بس گھر جا رہی ہوں”_
اس نے اپنے ازلی نرم لہجے میں جواب دیا تھا۔۔
“کیا مطلب گھر پر نہیں ہیں آپ۔۔ اس قدر خود غرضی کا مظاہرہ کیسے کر سکتی ہیں آپ۔۔ آپ کے بھروسہ چھوڑا تھا میں نے اپنی بچی کو”_
وہ غصے سے پھٹ پڑا تھا۔۔
“دارم ماما بابا تھے گھر پر۔۔ میری بہت امپورٹنٹ اسائمنٹ سبمٹ کروانی تھی۔۔ آج لاسٹ ڈیٹ تھی۔۔ ورنہ میں کبھی نہیں چھوڑتی اسے اکیلے۔۔ اس نے خود مجھے کہا تھا کے میں سبمٹ کروا آؤں”_
اس نے ہمیشہ کی طرح اسے اپنی صفائی دینی چاہی۔۔ مقابل پر اسکی باتیں اثر انداز ہی کب ہوتی تھیں۔۔
“دفع کریں یار اپنے بابا کو۔۔ مجھے بس میری بچی سے سروکار ہے جسے میں آپ کے بھروسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔ یاد رکھیں میں آپ کی زندگی عذاب بنا دونگا امل شہباز اگر اسے تھوڑا بھی نقصان ہوا تو”_
وہ وارننگ دیتے انداز میں بولا تھا۔۔ اسکی یونیورسٹی راستے میں ہی پڑتی تھی۔۔ کچھ سوچ کر اس نے رخ اسکی یونی کا کیا تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اسے باہر آتی نظر آئی تھی۔۔ سفید سادہ سے جوڑے میں ملبوس براون چادر سے خود کو چھپائے ہاتھ میں پانی کی بوتل لئے دوسرے ہاتھ سے موبائل چیک کرتی چل رہی تھی۔۔
وہ یقیناً ازو کے ہی کالز چیک کر رہی تھی۔۔ وہ دور سے بھی اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ سکتا تھا۔۔
وہ جانتا تھا وہ اپنی پڑھائی کے لئے کتنی حساس تھی۔۔ اسکا دل کچھ نرم ہوا اگلے ہی لمحے اسکے چہرے پر ایک بار پھر پتھریلے تاثرات پھیلے تھے۔۔
امل اپنی بےدھیانی میں کسی شخص سے ٹکرا چکی تھی جو اتفاقاً سفیان خاور تھا۔۔ وہ اب اس سے معافی مانگتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔
اس نے گاڑی اسکے آگے لا کر روکی۔۔
وہ حیرانی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دارم کو دیکھ رہی تھی جو پتھریلے تاثرات چہرے پر سجائے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔
اسکے نا بیٹھنے پر اس نے ہارن پر ہاتھ رکھا اور شاید ہٹانا بھول گیا تھا۔۔ وہ خائف سی ہوتی پیچھے بیٹھی تھی۔۔
“آپ کے باپ نے ڈرائیور نہیں رکھا مجھے آگے بیٹھیں”_
وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولا ۔۔
وہ افسوس سے اسے دیکھتی اسکے برابر آ بیٹھی۔۔ منع کرنے پر وہ مزید اسکے باپ کو برا بھلا بولتا اس سے بہتر یہی تھا۔۔
“چند دن باقی تھے اسکی عدت ختم ہونے میں۔۔ مزید انتظار کر لیتیں۔۔ یا مشکل پیش آ رہی تھی انتظار کرنے میں چاہنے والوں سے ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی ؟”
اسکے بیٹھنے پر گاڑی فل سپیڈ پر چھوڑتا وہ پھر شروع ہو چکا تھا۔۔
اس نے ایک بار پھر اسکی جانب شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا۔۔ بولی اب بھی کچھ نہیں۔۔


گھر کے اندر غیر معمولی خاموشی محسوس کر کے ان دونوں نے ہی ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔ دونوں کی آنکھوں میں کئی سوال نے سر اٹھایا تھا۔۔
“ماما”_
اسکے لبوں سے بےآواز نکلا تھا۔۔ وہ جانتی تھی رومیسہ کسی بھی وقت اپنی پارٹیز اور سوشل ایکٹویٹیز کے لئے نکل جاتی ہیں۔۔ انھیں کسی خاص وقت کا انتظار نہیں رہتا تھا۔۔
نوح کو اس طرح اپنے کمرے کی باہر بیٹھے دیکھ دارم طیش میں اسکی جانب بڑھا۔۔
“تم گھٹیا انسان یہاں کیا کر رہے ہو ؟ کیا کیا ہے تم نے میری ازو کے ساتھ ؟”
اسے گریبان سے پکڑے وہ دهاڑا تھا۔۔
“مجھ سے سوال کرنے سے پہلے اندر جا کر اسکا حال دیکھو جسکے سہارے چھوڑ کر گئے تھے اپنی ازو کو تم۔۔ خود کو اندر بند کر کے مجھے کال کی تھی اس نے کے بچا لوں اسے۔۔ اس وقت کہاں تھے تم”_
اسکا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا وہ بھی بلند آواز میں بولا تھا۔۔
دارم نے کھا جانے والی نظروں سے امل کی جانب دیکھا جو خود ناسمجھی سے ارد گرد دیکھتی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
نوح نے استہزائیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔آنکھیں سرخ یوں تھیں کہ جیسے دماغ میں کئی زخم رس رہے ہوں۔۔ لیکن چہرے پر وہی بلا کا اطمینان۔۔
۔
“اور گھٹیا ؟؟ کیا خوب کہا دارم اسفہان۔۔ اتنا ہی گھٹیا اور موقع پرست ہوتا نا نوح ارسلان تو کھلی تجوری کی مانند ملی تھی کچھ دیر پہلے تمہاری بہن مجھے۔۔ موقع تھا میرے پاس کیا کر لیتے تم میرا ؟ لیکن یہ نوح ارسلان کا معیار نہیں ہے۔۔ میری ہی ہے وہ۔۔ پورے حق سے نکاح کر کے لے کر جاؤنگا اسے گواہان کی موجودگی میں۔۔ اینڈ ڈونٹ وری تم بھی ان میں سے ایک گواہ ہوگے”_
اسکے کندھوں سے نادیدہ گرد صاف کرتے وہ اطمینان سے بولتا اسے آگ لگا گیا تھا۔۔
“کہاں ہے میری بہن ؟”
دارم نے دانت پیس کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“اندر محفوظ ہے تمہاری بہن۔۔ نگاہوں سے بھی نہیں چھوا نوح ارسلان نے اسے”_
وہ اپنے ازلی مغرور انداز میں کہتا باہر نکل گیا تھا۔۔
“ازو۔۔ مجھے سن رہی ہو ؟”
دارم نے باہر سے ہی اسے پکارا۔۔
“دار میں ٹھیک ہوں “۔۔
اسکی دھیمی آواز باہر نکلتے نوح کے پردوں میں بھی پڑی تھی۔۔
“اب اسے کسی محفوظ مقام پر لے جاؤ۔۔ ہر بار نوح ارسلان سے سامنا نہیں ہوگا”_
اس نے جاتے جاتے بھی دارم کو آگ لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا۔۔
۔
“دارم بابا۔۔ وو وہاں اندر۔۔ انکی حالت بہت خراب ہے پلیز انھیں ہسپتال لے چلیں”_
امل اندر سے روتی ہوئی آئی تھی۔۔
“آپ کو اب بھی اندازہ نہیں ہوا کے آپ کا باپ کس لئے اسکے کمرے میں گیا تھا”_
دارم نے افسوس سے اسکی جانب دیکھا جو اپنے بابا کو اس حالت میں دیکھ کر بری طرح تڑپ رہی تھی۔۔
“دارم پلیز انھیں ہسپتال لے جائیں۔۔ آپ کو اللّه کا واسطہ ہے میری مدد کریں”_
وہ روتی ہوئی کبھی بےہوش پڑے شہباز کی جانب جا رہی تھی کبھی اسکے پاس آ رہی تھی۔۔
“امل میرا ظرف اتنا بڑا نہیں ہے کے میں اسکی مدد کروں۔۔ یہ اس حال میں ازو کے کمرے میں موجود ہے اسکا مطلب سمجھ رہی ہیں آپ”_
اسے اسکا تڑپنا اچھا نہیں لگ رہا تھا لیکن اسکا ظرف واقعی اتنا بڑا نہیں تھا کے اس بےغیرت شخص کی مدد کرتا۔۔
“دارم پلیز”_
وہ روتی ہوئی دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھام گئی تھی۔۔
“امل میں اپنے دل میں اسکے لئے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا۔۔ ہم آج ہی آپ کے گھر سے شفٹ کر لیں گے۔۔ میں ایک لمحہ بھی مزید ازو کو اس گھر میں نہیں رکھونگا”_
وہ کہتا ہوا گیسٹ روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔
وہ بےیقینی سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔ پھر اپنے بابا کے پانی کی طرح بہتے خون کو۔۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا وہ اس قدر سنگ دل ہے۔۔
وہ بھاگتی ہوئی گھر سے باہر آئی تھی۔۔ کچھ دیر بعد وہ کسی شخص کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھی جو ڈرائیور معلوم ہو رہا تھا۔۔
“انکل پلیز میرے بابا کو ہسپتال لے چلیں”_
وہ اندر کمرے میں بھی اسکی تڑپ باآسانی سن رہا تھا۔۔ اسے تکلیف ہو رہی تھی اسکے تڑپنے سے مگر جس شخص کے لئے وہ رو رہی تھی اس کے متعلق سوچ کر ہی وہ پرسکون ہو گیا تھا۔۔
اب اندر سناٹا تھا۔۔ سکوت تھا۔۔
کوئی ہلچل نہیں تھی۔۔ کوئی شور نہیں تھا۔۔


وہ کچھ گھنٹوں میں ہی ازورا کے ساتھ اپنے آپارٹمنٹ میں شفٹ ہو چکا تھا۔۔ وہ سر تا پیر اسکی چادر میں چھپی اپنے چند ضروری سامان کے ساتھ اسکے آپارٹمنٹ آ گئی تھی۔۔
وہ خود بھی وہاں رہنا نہیں چاہتی تھی۔۔
دارم نے اسے ماسٹر بیڈ روم دے دیا تھا۔۔ خود وہ باہر لاؤنچ میں رہ رہا تھا۔۔ دوسرے دن اس نے میڈ بھی ارینج کر دی تھی۔۔
خود وہ ہسپتال سے جلدی واپس آ جاتا تھا۔۔ جب تک ازورا کے ساتھ میڈ رہتی تھی۔۔ شہباز سے متعلق نا ازو نے اس سے کچھ پوچھا تھا نا اس نے خود اسے بتایا۔۔
بتایا تو اس نے ازورا کو یہ بھی نہیں کے نوح ارسلان کے دادا اختر شیروانی ایک دن پہلے اسکے ہسپتال آئے تھے۔۔
چند دن بھی بےکیف سے گزر ہی گئے تھے۔۔ آج اسکی عدت مکمّل ہو گئی تھی۔۔ وہ ابھی نہا کر نکلی تھی۔۔ بلیو جینس پر آف وائٹ کلر کی ٹاپ میں ملبوس لمبے بھورے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
“ازو میں آجاؤں بیٹا”_
اس کے اجازت لینے پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئی تھی۔۔
“ہاں آجاؤ نا دار”_
وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔۔
“کیسا ہے دار کا بیٹا ؟”
اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا وہ محبت سے بولا۔۔
“ٹھیک ہوں دار”_
وہ بھی زبردستی مسکرائی تھی۔۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نگاہیں چرا رہے تھے۔۔
“ازو بچے تم جانتی ہو نا دار تمہارے لئے کوئی غلط فیصلہ نہیں کرے گا”_
اسکے پوچھنے پر اس نے ناسمجھی سے دارم کی جانب دیکھا۔۔ کیا کرنے جا رہا تھا وہ۔۔
اس نے تیزی سے نفی میں گردن ہلائی تھی۔۔
“نوح ارسلان تم سے نکاح کا خواہش مند ہے۔۔ اور اس وقت تمہارے لئے اس سے بہتر انسان کوئی نہیں لگ رہا مجھے”_
وہ سیدھا مدعا پر آیا تھا۔۔ ازورا نے تڑپ کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“دار وہ اس تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا ہے بس۔۔ ووو وہ شہباز کی طرح ہے “_
وہ اسکے ساتھ لگی بےیقینی سے بولی تھی۔۔ اسکے دار کو وہ شخص اسکے لئے موضوع کیسے لگ سکتا ہے۔۔
“بات اگر صرف ڈیل کی ہوتی تو میں کبھی تمہیں کہ سکتا تھا اس سے نکاح کے لئے”_
دارم کے کہنے پر اس نے بےساختہ نگاہیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
تو اور کیا بات تھی۔۔
“وہ باہر کھڑا ہے”_
دارم نے اسکے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔
“اپنے دار پر یقین کر لو”_
اسکا سر چومتا وہ مان سے بولا۔۔ وہ سر جھکائے اسکے سینے پر ٹکا گئی تھی۔۔
“رمشا تمہیں تیار کر دے گی”_
نرمی سے کہنے پر وہ اب بھی اسکی جانب بےیقینی سے دیکھ رہی تھی۔۔ ایسا کیا کہ دیا تھا نوح ارسلان نے اسکے دار کو راضی کر گیا تھا۔۔
“کیا ہوا سالے صاحب؟ بیوی کہاں ہے میری ؟”
دارم کے اکیلے باہر آنے پر اختر شیروانی کے ہمراہ لاؤنچ میں بیٹھا نوح دل جلاتی مسکان لبوں پر سجائے بولا تھا۔۔ کالی شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو پیچھے کی جانب سیٹ کئے آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے وہ چہرے پر اطمینان لئے بیٹھا تھا جو اسکا خاصا تھا۔۔
دارم نے غصے سے اسکی جانب دیکھا۔۔ نوح کی جانب سے چند ایک لوگ مزید موجود تھے۔۔ جب کے دارم نے رمشاء کو کال کر کے بلایا تھا۔۔ ازورا کی جانب سے بس وہی دونوں تھے۔۔
۔
“دارم وہ بہت ڈری ہوئی ہے۔۔ ہم جلدی تو نہیں کر رہے”_
رمشا نے دبے دبے لفظوں میں دارم سے کہا تھا۔۔
“آج یہ ازو کے لئے ہی ضروری ہے۔۔ میں خود بھی نہیں چاہ رہا تھا ایسا کچھ”_
وہ کھا جانے والی نظروں سے نوح کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ جسکے چہرے پر اس وقت فاتحانہ مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔۔
اسے اچھی طرح یاد تھا کل وہ اسے کس طرح دھمکا کر گیا تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اسکے پہلو میں بیٹھا دی گئی تھی۔۔ وہ چند انچ کے فاصلے پر سے بھی اسکے وجود کی لرزش محسوس کر سکتا تھا۔۔ یہ فطری تھا لیکن ازورا لاشاری اس وقت فطری شرم و جھجھک کا شکار نہیں تھی۔۔ وہ صحیح معنوں میں اس وقت اس سے سخت خوفزدہ تھی۔۔
تین الفاظ الحمداللہ کے ساتھ ادا کرتے وہ اسے اپنے نام کر گیا تھا۔۔
“نوح ارسلان بھی تمہیں تمہاری اوقات میں رکھے گا”_
اسکے ذہن میں تو بس شہباز کے کہے جملے گردش کر رہے تھے۔۔
۔
اسے وحشت اس وقت ہوئی جب میں نے اپنے نام کی پکارا اسکی سماعت میں گونجی۔۔ اسکی جانب سے کوئی جواب نہ آیا مولوی کے سوال کرنے پر بھی وہ خاموش رہی تھی۔۔
“سے ڈیٹ لیڈی”_
اسکی سماعت سے نوح کی آواز ٹکرائی تھی۔۔ اس نے اپنے سر ور کوئی شفقت بھرا ہاتھ محسوس کیا جو اختر شیروانی تھے۔۔
“قبول ہے”_
اس کے لبوں دے پھنسی پھنسی آواز نکلی تھی۔۔ اپنی ذات کے ہجوم میں بھی وہ تنہا تھی۔۔ اسکے سامنے کئی عکس تھے سب عکس اسکے تھے اور سب عکس خاموش تھے۔۔
اسی خاموشی میں اپنی ہی آواز اسکی سماعت میں گونجی تھی۔۔
“قبول ہے”_
آنسوں آبشاروں کی مثل بہہ رہے تھے۔۔
یہاں اسکے سوا کوئی نہیں تھا اسکی پوریں اسکے اپنے لہو سے تر تھیں بالکل بے رنگ لہو سے۔۔
“قبول ہے”_
اپنے تمام حقوق اس شخص کو سونپ گئی تھی۔۔ یہ فیصلہ غلط تھا یا صحیح یہ تو وقت کے ساتھ ہی پتہ چلتا۔۔
مبارک سلامت کے شور میں بھی اس نے سر اٹھا کر اسکی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔ ہوش میں تو وہ رخصتی کے مطالبے پر آئی تھی۔۔
“دار۔۔ ننن نہیں مجھے اسکے ساتھ نہیں جانا۔۔ پپپ پلیز دار۔۔ مجھے تمہارے پاس رہنا ہے”_
وہ اسکے سینے سے لگی تڑپ کر بلک رہی تھی۔۔ نوح نے ناپسندیدگی سے اسے دارم کے سینے سے لگے دیکھا۔۔
وہ چادر میں چھپی ہوئی تھی۔۔
“ازو۔۔ دار ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے میری جان۔۔ نکاح کیا ہے تمہارا خود سے الگ نہیں کیا۔۔ تم تو میرے دل کا ٹکرا ہو میرا بچہ۔۔ بس ہمیشہ یاد رکھنا کے دار نے تمہاری بھلائی کے لئے کیا ہے یہ”_
محبت سے اسے خود سے لگائے وہ اس سے سرگوشی میں بول رہا تھا جو کے کچھ دوری پر کھڑا نوح باآسانی سن رہا تھا۔۔
“اگر میری بہن کی آنکھ میں تمہاری وجہ سے ایک آنسوں بھی آیا تو با خدا تمہیں سانس سانس کے لئے تڑپا دونگا میں نوح ارسلان”_
جتنی نرمی ازورا سے بات کرتے وقت تھی اسکی جگہ اب چٹانوں سی سختی در آئی تھی۔۔
نوح کے چہرے پر اب بھی مطمئن سی مسکان بکھری تھی۔۔
پورے استحقاق سے ازورا کا ہاتھ تھامے وہ اسکے سامنے سے اسے لے کر گزرا تھا جیسے کچھ جتا رہا ہو۔۔
وہ تمام راستے گاڑی کے دروازے سے لگی روتی رہی تھی۔۔ نوح نے بھی اسے نہیں چھیڑا تھا۔۔
گھر پہنچ کر اس نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔ ازورا کے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگی تھیں۔۔ اس نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا۔۔
“دَسترس کس قدر بُری شے ہے ینگ لیڈی یہ شاید آپ نہیں جانتیں۔۔ میں نے تمام زندگی آپ کی جستجُو کی ہے۔۔ اور اب آپ پر مکمّل دسترس رکھتا ہوں۔۔ سو ڈونٹ یو ڈئیر تو ڈو دس اگین”_
اسکی کلائی کو مظبوطی سے تھامے اس نے جیسے وارن کیا تھا۔۔
“انہیں کمرے میں لے جائیں نگہت بی”_
اختر شیروانی کو نگاہوں سے اسے کچھ کہنے سے روکتا وہ ملازمہ سے مخاطب ہوا تھا۔۔
“ویٹ فار می”_
وہ اسکی سرگوشی پر کانپ سی گئی تھی۔۔ فلحال تو وہ بس اسکی نگاہوں سے دور ہو جانا چاہتی تھی۔۔
“نوح یہ کیا طریقہ ہے نئی دلہن سے مخاطب ہونے کا”_
وہ اسکے جاتے ہی پھٹ پڑے تھے۔۔
“دادو اس نے ذہنی طور پر خود کو تیار نہیں کیا ہے۔۔ میں نہیں چاہتا تھا وہ آپ سے کوئی بدکلامی کرے”_
وہ صاف گوئی سے بولا تھا۔۔ اس سے نکاح اس نے کتنے جتن کے بعد کیا تھا یہی ایک الگ کہانی تھی۔۔
کافی دیر تک وہ اختر شیروانی کو مطمئن کرتا رہا تھا کے وہ اس بچی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرے گا۔۔ اسے اپنا آپ کسی ظالم شہزادہ جیسا لگ رہا تھا۔۔ اختر شیروانی کی ساری ہمدردی اس ابھی ابھی آئی بچی کے لئے تھی۔۔ انہوں نے بہت جلدی پارٹی بدلی تھی۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسے آئینے کے آگے کھڑی ملی تھی۔۔
دُودھیا چاندنی پہنے وہ گلابی لڑکی جسکی آواز بھی پگلھلی ھُوئی چاندنی لئے محسوس ہوتی تھی۔۔
آئینے کے آگے کھڑی وہ سنگِ مَر مَر کے تراشے ہوئی بت لگ رہی تھی۔۔
وہ روائیتی دلہنوں کے لئے تیار نہیں ہوئی تھی۔۔ وہ سادہ سے سنہری رنگت کے جوڑے میں ملبوس تھی جس پر چاندنی کا کام تھا۔۔
زیور کے نام پر اسکی ناک میں نتھنی تھی جو اسکے گلابی لبوں سے چھیڑ خانی کرتی اس پر سحر طاری کر رہی تھی۔۔ سنہرا دوپٹہ کندھوں سے جھولتا آدھا زمین پر پڑا تھا۔۔
اسکے سامنے ہی پانی کا گلاس بھی پڑا تھا۔۔ اسکی نظر اسکی ہاتھوں کی بنی مٹھی پر گئی۔۔ وہ یقیناً کچھ چھپا رہی تھی۔۔
۔
“تمہیں لگتا ہے تم جیت گئے ؟”
وہ بوجھل ہوتی آنکھیں زبردستی اس پر ٹکائے اسے تک رہی تھی۔۔ جو سپاٹ چہرہ لئے کھڑا تھا۔۔ اسکا حشر برپا کرتا سراپا۔۔ اسکے وجود کی حشر سامانیاں مقابل پر اثر انداز نہیں ہوئی تھیں۔۔
ہاں مگر اسکا دبنگ لہجہ اسے ضرور متاثر کر رہا تھا۔۔ وہ جانتا تھا وہ خوفزدہ ہے، مگر یہ اچھی بات تھی کے وہ اس پر اپنا خوف ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
“آپ کو اگر یہ میری شکست لگ رہی ہے تو میں شکست تسلیم کرتا ہوں”_
اسکے آگے سر تسلیم خم کرتے وہ فاتحانہ انداز میں اسے تکتا ہوا بولا۔۔ وہ لفظوں سے اپنی فتح کا اعلان نہیں کر رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں کی سرشاری، اسکی فتح کا جشن منا رہی تھی۔۔ اسکا انگ انگ ظاہر کر رہا تھا کے وہ فاتح ٹھہرا ہے۔۔
“شوہر ہوں آپ کا، عزت کرنا سیکھ لیں۔۔ اس لہجے کا عادی نہیں ہوں میں نا کسی کو اجازت ہے کے اس انداز میں بات کرے مجھ سے۔۔ آپ کہنے کی عادت ڈال لیں اور ساتھ عزت کرنے کی بھی”_
اسکی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔۔ انداز میں واضح استحقاق تھا۔۔
وہ غصّے سے سرخ ہو رہی تھی یا حیا کی تمازت تھی مگر مقابل کو اسکے گلاب چہرے پر کھلے یہ رنگ بہت بھا رہے تھے۔۔
اسکے لئے تو وقت ان رنگوں میں ہی ٹھہر گیا تھا۔۔
سنگِ مَر مَر سے تراشی گئی وہ بت بولتی تھی اور کیا خوب بولتی تھی۔۔
تمتماتے ھیں سلگتے ھوئے ، رُخسار ترے
آنکھ بھر کر کوئی دیکھے گا تو ، جل جائے گا۔۔
اسکے سرخ گال کو چھوتے وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔ وہ تڑپ کر اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ مگر اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔۔ وہ اپنا وزن بھی نہیں سمبھال پا رہی تھی۔۔
۔
اتنا سیال ھے یہ پل ، کہ گُماں ھوتا ھے
میں ترے جسم کو چھو لوں تو ، پگھل جائے گا”_
اسکے کانپتے سراپے پر چوٹ کرتا وہ اپنے قاتل لہجے میں بولا تھا۔۔ نوح نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا۔۔ اگلے ہی لمحے ضبط سے اسکی رگیں تنی تھیں۔۔ اسکا ہوش کھوتا وجود اب اسکے سینے سے لگا تھا۔۔
اس نے اسکی گلابی مٹھی میں چھپی وہ گولیاں دیکھیں۔۔
مطلب اس سے بچنے کے لئے نیند کی گولیوں کا سہارا لیا گیا تھا۔۔
اسکے وجود کو خود محلول کرنے کی ضد کرتے چیختے چلاتے دل کو تھپکی دے کر سلاتے اسکے ہوش و خرد سے بےگانہ وجود کو جہازی سائز بیڈ پر لیٹایا تھا۔۔