Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“” #جانِ ادا “”
از قلم #لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳
۔
رات کا اندھیرا ہر سوں پھیل رہا تھا۔۔ وہ بھی امل کے ساتھ تیزی سے کام میں لگی ہوئی تھی۔۔ درام اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا۔۔
اسے شہباز کے مہمان سے کوئی سروکار نہیں تھا لیکن ازو کی وجہ سے وہ وہاں ہمیشہ موجود ہوتا تھا۔۔
۔
“امل یہ دار کو چائے تو دے آؤ ۔۔ میں بس ٹیبل سیٹ کر دیتی ہوں “_
بریانی کو دم پر لگاتی وہ امل سے مخاطب ہوئی۔۔
دارم کا نام سن کر ہی امل کی ساری حساسیت بیدار ہو گئی تھی۔۔
۔
“دارم کک کو۔۔ نہیں ازو تم جانتی تو ہو ۔۔ وو وہ انھیں غصّہ آجائے گا مجھے دیکھ کر “_
اسکے لہجے میں واضح کرب تھا جو ازو نے بھی محسوس کیا تھا۔۔
۔
“کچھ نہیں کہے گا جاؤ دے آؤ “_
اسکے گال تهپتهپآتی وہ محبت سے بولی۔۔ وہ جانتی تھی دارم امل کو پسند نہیں کرتا وجہ شہباز ضمیر ہی تھا۔۔
لیکن اس سب میں امل کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔۔ اور یہی ایک بات دارم کے سمجھ میں نہیں آتی تھی۔۔
دارم کے لئے امل کے جذبات سے ازورا اچھی طرح واقف تھی۔۔
۔
“جاؤ “_
اسکے پرزور انداز میں کہنے پر وہ چائے کا کپ اٹھائے دارم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔ دل تو اس دشمن جاں کو دیکھنے کے لئے ہمک رہا تھا۔۔
اسکے کمرے کے دروازے پر کھڑی شش و پنج میں مبتلا کتنی ہی دیر کھڑی رہی تھی۔۔
“آجاؤ ازو “_
دستک دینے پر اندر سے اسکی بھاری آواز آئی۔۔ وہ ازو کا منتظر تھا۔۔ ایک پل دل میں خوف سا اٹھا تھا۔۔ دل کو مظبوط کرتی کانپتے پیروں سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
اندر داخل ہوتے ہی سگریٹ کے دھواں نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ پورے کمرے میں سگریٹ کی بو پھیلی ہوئی تھی۔۔ وہ بری طرح کھانستی حیران تھی کے یہ شخص سانس کیسے لے رہا تھا۔۔
۔
“آپ ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہیں امل ؟ “_
اسے بری طرح کھانستے دیکھ وہ سرعت سے اٹھا۔۔ لہجے میں دبا دبا غصّہ لئے وہ جارہانہ انداز میں اس سے مخاطب تھا۔۔
وہ آج تک نہیں سمجھ پائی تھی کے دارم اسفہان کی اس سے اتنی نفرت کی وجہ کیا تھی۔۔
“آپ سے سوال کیا ہے میں نے۔ . کیا کر رہی ہیں یہاں ؟ جانتی ہیں نا میری چائے ازو لاتی ہے “_
اسکی کلائی بیدردی سے تھامے اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیا۔۔
اپنے غصّے میں اسے یہ یاد نہیں رہا تھا کے مقابل نازک دوشیزہ ہے جو اسکی فولادی گرفت برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہے۔۔
۔
“دد دارم ازو نے مجھے آپ کی چائے لانے کہا تھا۔۔ پپ پلیز مجھے درد ہو رہا ہے “_
وہ جو بامشکل چائے کا کپ تهامی ہوئی تھی۔۔
کپ چھناکے سے زمین پر گرتا پاش پاش ہوا تھا۔۔ ساتھ گرم چائے اسکے پیر بھی جھلسا گئی تھی ۔۔
“آئندہ میرے کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے امل شہباز آپ کو۔۔
بلکہ کوشش کیا کریں کے میرے سامنے بھی کم سے کم آئیں “_
چہرہ اسکے قریب کیے وہ جیسے اسے باور کروا رہا تھا۔۔
اسکی کلائی اب بھی اسکی گرفت میں تھی۔۔
دل ایک پل کو کالی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب کر ابھرا تھا ۔۔ لیکن وہ دارم اسفہان تھا کسی کمزور لمحے کی زد میں نہیں آ سکتا تھا۔۔
۔
اسے کمرے سے باہر کرتے اس کے منہ پر دروازہ بند کرتے وہ دروازے کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا تھا۔۔
اسکی سسکیاں اسے کمرے کے اندر سنائی دے رہی تھیں۔۔
وہ یقیناً اب بھی باہر کھڑی رو رہی تھی۔۔
“مم میں اب کبھی آپ کے سامنے نہیں آؤنگی “_
وہ باہر کھڑی اسے سنا رہی تھی یا خود کو تسلی دے رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔۔
۔
“ہو گئیں ساری تیاریاں “_
وہ جو سیلیٹ تیار کر رہی تھی۔۔ اپنے بلکل پیچھے وہ آواز سن کر کانپ سی گئی تھی۔۔ پیچھے مڑنے کی غلطی اس نے نہیں کی تھی۔۔
وہ جانتی کون ہو سکتا ہے۔۔
۔
“ججج جی “_
اس شخص کا لمس اسکی آواز سے اسے کتنی نفرت تھی کاش کے وہ اسے بتا سکتی۔۔
“آج پھر تم دارم کے ساتھ باہر گئی تھی “_
اسکے بالوں کی لٹوں سے کھیلتا وہ پراسرار لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔
“جی “_
اس نے یک لفظی جواب دیا تھا۔۔
۔
“اس دارم کے ساتھ تو خوب باتیں کرتی ہو تم۔۔ شہباز ضمیر تمہیں اتنا برا کیوں لگتا ہے ازورا لاشاری۔۔ آخر کو بیوی ہو میری “_
ایک آنکھ دباتا خباثت سے بولا تھا۔۔
اسکی بات دل پر اوس کی مانند گری تھیں۔۔ کتنے آنسوں اس نے اندر اتارے تھے۔۔
“جانتی ہو نا بےبی مہمان کے سامنے کس طرح آنا ہے “_
۔
“جی جانتی ہوں “_
وہ ایک بار پھر ایک جملے میں بات مکمّل کر گئی تھی۔۔
وہ جیسے محظوز ہوا تھا۔۔ یہی غلامی تو چاہیے تھی اسے۔۔
۔
“لگتا ہے تم سیکھ گئی ہو کے اپنے مجازی خدا سے مخاطب ہوتے ہیں “_
اسکی حالت سے حض اٹھاتا وہ استہزائیہ انداز میں بولا۔۔
“جی “
وہ آنسوں پیتی پھر سے بولی۔۔
“ازورا تمہیں منع کیا ہے اتنے کام نہیں کیا کرو۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا “_
اسکا انداز یکدم ہی بدل گیا تھا۔۔ ازورا نے حیران ہو کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔ اسکی توقع کے عین مطابق دروازے پر امل کھڑی تھی۔۔
یعنی امل کو دیکھ کر وہ اپنا انداز بدل گیا تھا۔۔
“آپ کو کچھ چاہئے بابا “_
خود کو کمپوز کرتی امل ازورا کے پاس ہی آ کھڑی ہوئی۔۔
۔
“نہیں میری جان۔۔ وہ تو میں نے ازورا کو اکیلے کام کرتے دیکھا تو اسکے پاس آ گیا۔۔ نازک سی تو ہے۔۔ وہی کہ رہا تھا میں کے اتنے کام نا کیا کرے “_
ازورا نے حیرانی سے اس دوغلے شخص کی جانب دیکھا جو شفقت سے امل سے مخاطب تھا۔۔۔
اسکا لہجہ ، اسکا انداز کہیں سے بھی کچھ دیر پہلے والا نہیں لگ رہا تھا۔۔
وہ آنسوں اندر ہی اندر اتارتی اوپر کی جانب دیکھ کر رہ گئی۔۔
جیسے خاموش نگاہوں سے شکایت کر رہی ہو۔۔
“ازورا تمہاری ایک بہت اہم چیز میرے پاس ہے۔۔ جانتی ہو نا “_
وہ جانتی تھی اسکا اشارہ کس طرف تھا۔۔
وہ آنسوں پیتی سر اثبات میں ہلا گئی۔۔ وہ جانتی تھی یہ محض ایک عام سا جملہ نہیں تھا۔۔
اس جملے کے پیچھے پوری کہانی چھپی تھی۔۔ جس سے اس کے علاوہ اور کون واقف تھا۔۔
۔
۔
شاور لینے کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی آئینے میں نظر آتا اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔۔
اس وقت وہ کالے رنگ کی سادہ سی شرٹ اور ٹراؤزر میں موجود تھی۔۔ گلابی رنگت نکھری نکھری سی لگ رہی تھی۔۔ بھورے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
آنکھوں کے گرد حلقے۔۔ خشک گلابی لب۔۔
وہ ایسی تو بلکل نہیں تھی۔۔ اور کچھ دیر بعد ایسی رہتی بھی نہیں۔۔
“تم جھوٹ بولتے ہو “_
طنزیہ نگاہ آئینہ میں نظر آتے عکس کو دیکھتے وہ بڑبڑآئ تھی۔۔
کنسیلر سے چہرے پر نظر آتے تمام نشانات چھپانے کے بعد وہ فاؤنڈیشن اپلائی کر رہی تھی۔۔
ہلکے گلابی رنگ کا ٹنٹ گال اور ہونٹوں پر لگانے کے بعد۔۔ پلکوں پر مسکارہ لگایا۔۔ بھوری آنکھوں میں کاجل کی لکیر لگاتے انھیں مزید دو آتشہ بنا گئی تھی۔۔
کانوں میں کالے سٹڈس سجانے کے بعد اس نے دوبارہ ایک نگاہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھا۔۔
وہ واقعی بدل گئی تھی۔۔ اسکے سامنے وہ کمزور چہرے اور جسم پر نشانات والی لڑکی نہیں کھڑی تھی۔۔
یہ تو خوبصورت نازک سی دوشیزہ تھی۔۔
بالوں میں کنگھی پھیر کر کھلے ہی چھوڑ دیا تھا۔۔
اب وہ اپنے ہاتھوں کے نشانات کو فاؤنڈیشن کی مدد سے چھپا رہی تھی۔۔
ہاتھوں کے بعد گردن کے نشانات کو۔۔ جسم کے ہر نمایاں ہونے والے نشان کو چھپانے کے بعد اس نے ایک طائرانہ نگاہ اپنے سراپے پر ڈالی۔۔
۔
“وہ شہباز ضمیر کے مہمان کے سامنے جانے کے لئے تیار تھی “_
وہ جانتی تھی ہمیشہ کی طرح یہ بھی کوئی بڑی بزنس ڈیل ہوگی۔۔ وہ جو کوئی بھی ہوگا اسکے وجود کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔۔
اور ہمیشہ کی طرح ڈیل مل جانے پر شہباز ضمیر اسے ” انعام ” دیگا۔۔
۔
“میں نے کہا تھا نا تم جھوٹ بولتے ہو۔۔ میری روح میں پڑے چھالے تم دکھا نہیں پاتے۔۔ تم میں تو میرا یہ حسین روپ نظر آتا ہے جو مجھے روز جلتے انگاروں پر چھوڑ دیتا ہے “_
وہ اب بھی آئینے میں نظر آتے اپنے عکس سے ہی مخاطب تھی۔۔
۔
۔
وہ نیچے آئی تو ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز آ رہی تھی۔۔ یقیناً سب ڈرائنگ روم میں موجود تھے۔۔
گہری سانس لے کر خود کو تیار کرتی وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔۔
اسکی توقع کے برعکس وہاں شہباز کی عمر کا کوئی شخص موجود نہیں تھا۔۔
وہ تو تیس ، بتيس سالہ خوبرو مرد تھا۔۔ انگلیوں میں سگریٹ دبائے شہباز سے کوئی سوال کر رہا تھا۔۔ اونچا لمبا قد۔۔ وہ کچھ زیادہ ہی چوڑا تھا۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔ اسکی رنگت کافی صاف تھی۔۔
چشمے کے پیچھے سے اسکی ڈارک براؤن آنکھوں سے سرخی جھلک رہی تھی۔۔
کالی شلوار کمیز میں ملبوس پیروں میں کھیری پہنے ازورا کو وہ کوئی وڈیرہ ٹائپ لگا۔۔ اسکی کلائی میں مختلف بینڈ بندھی ہوئی تھیں۔۔
دوسرے ہاتھ سے وہ وقتاً فوقتاً اپنے گهنگھریالے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔
اسکی شخصیت کافی الجھی ہوئی تھی ۔۔
“خیر اسے کیا۔۔ اسکی تو زندگی ہی الجھی ہوئی تھی “_
سر جھٹکتے وہ آگے بڑھ گئی۔۔
شہباز سے بات کرتے ہوئے اس شخص کی نگاہیں ازورا پر پڑییں۔۔
ازورا کو وہ نظریں خود میں گڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
اسکی نظروں کی تعاقب میں شہباز نے دروازے کی جانب دیکھا۔۔ دروازے پر استداء ازورا کو دیکھ کر اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔
ازو اس مسکراہٹ کو اچھی طرح پہچانتی تھی۔۔
اس شخص نے دوبارہ اسکی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔ لیکن اب بھی ازورا کو اس کی نظریں خود پر ہی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
۔
“یہ ہیں ازورا لاشاری۔۔ میری بیوی “_
اسے اپنے حصار میں لئے شہباز فخر سے اس شخص کے سامنے آ بیٹھا تھا۔۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کم عمر اور خوبصورت بیوی کو اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔۔
سامنے خاموش بیٹھا دارم لب بھینچ کر رہ گیا۔۔
سامنے بیٹھے شخص کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
“اور یہ ہیں نوح ارسلان ۔۔ ہمارے انویسٹر۔۔ ارسلان گروپ اوف کمپنیز کے مالک ہیں یہ “_
ازورا کو کوئی دلچسپی نہیں تھی کے سامنے بیٹھا شخص کون اور کیا تھا۔۔ وہ تو بس اس غلیظ آدمی کے حصار سے دور جانا چاہتی تھی۔۔
اور سامنے بیٹھے نوح ارسلان کی زیرک نگاہیں اسکی یہ مشکل بھانپ گئی تھیں۔۔
“یہ غالباً آپ کی بھانجی ہیں مسز شہباز۔۔ تو یہ آپ کے شوہر کے نکاح میں کیسے “_
ایک گہری نگاہ سامنے بیٹھی ازورا پر ڈال کر اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔۔
“اسکی ماں۔۔ مطلب بریرہ لاشاری میری سگی بہن نہیں ہے۔۔ ہمارے بیچ محبت اتنی تھی کے بہت کم لوگوں کے ہی علم میں ہے یہ بات۔۔ وہ میرے والد کے دوست کی بیٹی تھیں ۔۔ جسے میرے والد نے گود لیا تھا “_
رومیسہ نے ایک ایک لفظ ازورا کو دیکھ کر کہا تھا۔۔
۔
“مطلب ازورا لاشاری آپ کی سگی بھانجی نہیں ہیں ؟”
ازورا کو اب الجھن ہو رہی تھی۔۔ یہ شخص اسکے بارے میں ہی جاننے کا کیوں خواہاں تھا۔۔
“مم میں ڈنر دیکھ لیتی ہوں “_
اس نے یہاں سے اٹھنا چاہا۔۔ لیکن شہباز نے اسکا ہاتھ تھام کر اسکی کوشش ناکام بنا دی تھی۔۔
۔
“ابھی بیٹھو ازورا۔۔ یہ سارے کام تو امل دیکھ ہی لیتی ہے “_
اس نے لفظوں ہی لفظوں میں جیسے اشارہ کیا تھا کے وہ اب یہاں اٹھنے کی غلطی نا کرے۔۔
نوح کی دلچسپی وہ ازورا میں بھانپ گیا تھا۔۔ اسے یقین تھا وہ یہ ڈیل اسے ہی دیگا۔۔
“عمر میں کافی چھوٹی لگتی ہیں آپ کی دوسری بیوی آپ سے شہباز صاحب ۔۔ اور رشتے کی ہی صحیح بھانجی بھی تھیں۔۔ پھر بھی آپ کی ان سے شادی۔۔
اس نے ایک بار پھر دانستہ بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔ وہ یہ گھتی سلجھا کر ہی جانا چاہتا تھا۔۔
ازورا کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کے وہ جو نظر آ رہی ہے وہ ہے نہیں۔۔ اور نا شہباز وہ تھا جو خود کو ظاہر کر رہا تھا۔۔
کہیں کچھ تو مسنگ تھا۔۔
“عمروں کے فرق سے کیا ہوتا ہے۔۔ باہمی محبت ہونی چاہیے “_
شہباز کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولا تھا۔۔
اسے معلوم ہوتا یہ شخص اتنا تیز ہوگا تو وہ احتیاط کرتا۔۔ لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا۔۔ نوح ارسلان کے پاس اسکی بہت اہم ڈیل تھی۔۔
جو ہر حال میں اسے چاہئے تھی۔۔
۔
کھانے کی ٹیبل پر بھی ازورا کو اس شخص کی نظریں خود پر محسوس ہوئی تھیں۔۔ اس نے اسکی جانب دیکھا تو پوری طرح کھانے میں مگن تھا جیسے اس سے اہم کام ہی کوئی نا ہو۔۔
۔
“دد دار “_
ازورا نے دھیرے سے دارم کو پکارا تھا جو اسکی دوسری جانب بیٹھا ہوا تھا۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں لکھی تحریر سمجھ چکا تھا۔۔
۔
“ازو ۔۔ امل کے پاس جاؤ بیٹا آپ “_
اگلے ہی لمحے کمرے کی خاموشی میں دارم کی آواز گونجی تھی۔۔ وہ سب ہی انکی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔
ازورا جانتی تھی دارم کے سمبے شہباز کچھ نہیں کہ سکتا تھا۔۔
وہ سرعت سے اٹھتی جانے لگی۔۔
اسی اثناء میں وہ ٹیبل سے ٹکرائی تھی۔۔ نتیجتا قورمہ کا باول نوح کے کپڑوں پر الٹ گیا تھا۔۔
۔
“آئی ایم سوری۔۔ آئی ایم رئیلی سوری۔۔ مم میں نے جان بوجھ کر نہیں۔۔ آئی ایم سوری “_
وہ بری طرح گھبراتی رونے لگی تھی۔۔ وہ جانتی تھی اب شہباز اسکے ساتھ کیا کرے گا۔۔
“کوئی بات نہیں لیڈی۔۔ یہ صاف ہو جائے گا۔۔ آپ کو یوں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے”_
نرمی سے اسے کہتے نوح نے خود کو کوسا۔۔ وہ جانتا تھا وہ اسکی نظروں سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔۔
۔
“اندھی ہو کیا۔۔ کوئی کام ڈھنگ سے کیا ہے تم نے ؟”
رومیسہ مہمان کا لحاظ کیے بغیر شروع ہو چکی تھیں۔۔
۔
“میں نے کہا نا کوئی بات نہیں “_
اسکے لہجے میں کچھ ایسا تھا کے رومیسہ کے ساتھ شہباز بھی ایک پل کو ٹھٹھک سا گیا۔۔
اسے اب نوح کو ڈنر پر بلانے کا فیصلہ درست نہیں لگ رہا تھا۔۔ اس نے باقیوں کی طرح اسکی بیوی کے حسن سے متاثر ہو کر اسکی ڈیل سائن نہیں کی تھی۔۔ وہ تو انکے گلے کو آ رہا تھا۔۔
۔
“آپ مجھے واش ایریا دکھا دیں “_
وہ ایک بار پھر ازورا سے مخاطب ہوا تھا۔۔ جو ڈری سہمی سی شہباز کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ وہ کمرے میں اس سے مختلف تھی۔۔ خود کو کافی پراعتماد ظاہر کر رہی تھی۔۔
۔
“میں لے چلتا ہوں آپ کو ۔۔ ازو آپ اندر جاؤ بیٹا “_
دارم کو ازورا کا اس کے ساتھ جانا مناسب نہیں لگا تھا۔۔ جو بھی تھا وہ تھا تو شہباز کے ہی سرکل کا۔۔ اور اجنبی بھی۔۔
وہ یو ازورا کو کبھی ان مردوں کے سامنے نہیں آنے دیتا لیکن یہ حق ہی تو شہباز کے پاس تھا۔۔
۔
۔
نوح کے چلے جانے کے بعد دارم نے ازورا کو فورا کمرے میں بھیج دیا تھا۔۔ وہ پانی کی بوتل لینے کچن میں آیا تو لاؤنچ کی مدهم روشنی میں صوفہ پر دونوں پیر اوپر کیے امل بیٹھی ہوئی ۔۔ اسے نظر انداز کیے جانے لگا۔۔
لیکن پھر اسکی سسکی سن کر وہ تهما تھا۔۔ شام کا اپنا رویہ یاد آنے پر اسے ایک لمحے کے لئے افسوس ہوا۔۔
کچھ سوچ کر وہ اسکی جانب بڑھا۔۔ وہ اپنے پیروں پر شاید کوئی مرہم لگا رہی تھی۔۔ شاید اسی وجہ سے تکلیف سے سسک رہی تھی۔۔
۔
“کیسے ہوا یہ ؟”
اپنے پیچھے سے بھاری آواز ابھرنے پر اس نے گردن موڑھ کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“آپ نہیں جانتے کیسے ہوا یہ ؟”
ناچاہتے ہوئے بھی لبوں پر شکوہ در آیا تھا۔۔ اسکے الفاظ یاد آتے ہی آنکھیں آنسوں سے بھر گئی تھیں۔۔
“دکھائیں مجھے “_
وہ اسکے سامنے آ بیٹھا۔۔
“رہنے دیں پلیز “_
اسکی آواز رندھ سی گئی تھی۔۔
“خاموشی سے بیٹھی رہیں۔۔ اپنی ڈاکٹری نہیں کیا کریں۔۔ اس طرح کوئی بھی مرهم لگا زخم خراب کرينگی “_
زبردستی اسکے پیر اپنے ہاتھوں میں لیتے وہ اب نرمی سے زخم صاف کر رہا تھا۔۔
وہ آنسوں بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ خود زخم دیا تھا اب خود ہی اسکی مسیحائی کر رہا تھا۔۔
۔
“لیں یہ لگا لیں۔۔ اور آئندہ احتیاط کیجیے گا۔۔ جہاں جھلس جانے کا خدشہ ہو اپنی نازک جان کو اس آگ کے قریب ڈال کر ہلکان کرنے سے “_
اپنے کمرے سے آئینٹمنٹ لا کر اس کے ہاتھ میں تهماتے وہ اگلے ہی لمحے اجنبی ہوا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
