Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“”جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۲۹
صبح کی پہلی کرن آسمان پر کسی شرمیلی دلہن کی اوڑھنی کی مانند پھیل رہی تھی۔ کھڑکی سے جھانکتی روشنی کمرے کی دیواروں پر سکون کے رنگ بھر رہی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا، سفید پردوں سے کھیلتی، کمرے میں خوشبو کی مانند پھیل رہی تھی۔۔ اس خوشبو سے اسے انسیت سی ہو گئی تھی۔۔
وہ کھڑکی کے قریب کھڑی تھی، کاٹن کے سادہ پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس، لمبے بال آبشار کی مانند اسکی پشت پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ نظریں اپنی ہتھیلیوں پر جمائے نجانے کیا کھوج رہی تھی۔
دروازہ بنا آہٹ کے کھلا سفیان خاور بہت خاموشی سے اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔۔ سلونی سی یہ لڑکی اسکی دھڑکنوں میں بسنے لگی تھی۔۔ سورج کی کرنیں اسکے چہرے پر پڑتی اسکے سلونے روپ کو مزید دوآتشہ کر رہی تھیں۔۔ امل شہباز کو کسی سنگھار کی ضرورت نہیں تھی۔۔ اسکا سانولا سلونا سا روپ ہی سفیان خاور کو اسکا دیوانہ بنانے کے لئے کافی تھا۔۔
انکے شادی کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا اور اس ایک ہفتے میں سفیان نے اندازہ لگا لیا تھا کے امل شہباز بہت کم بولتی تھی۔۔ وہ ہنستی بھی بہت کم تھی۔۔ یا شاید اسکے ساتھ نہیں بولتی تھی۔۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے کھڑا اُسے دیکھتا رہا۔۔ جیسے ہر صبح، اسی ایک لمحے کا منتظر ہو۔۔ وہ اس خوبصورت صبح کا ہی ایک منظر لگ رہی تھی۔۔ ہوا کے دوش پر اڑتے اسکے بال دھوپ کی تمازت سے سنہرے ہو رہے تھے۔۔ دل نے بےساختہ ان ریشمی زلفوں کی نرمی محسوس کرنے کی خواھش کی تھی۔۔ دل کی آواز پر لبیک کہتے اس نے بہت نرمی سے اسکے بالوں کو چھوا_
اسکے لمس پر چونکتی وہ اسکی جانب مڑی تھی۔۔ اسکے بال اب بھی سفیان کے ہاتھوں میں تھے۔۔
“آپ بہت خوبصورت ہیں”_
اس نے کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں اسکے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتارتے لبوں سے لگائے کہا تھا۔۔
“سفیان”_
امل نے دھیرے سے اسے پکارا۔۔
“جی امل”_ اُس کی آواز میں وہی محبت، وہی نرمی تھی جو پچھلے ایک ہفتے سے اسکے ایک ایک انداز میں جھلک رہی تھی۔۔ وہ فطرتاً نرم خو تھا۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔ کہا کچھ نہیں۔۔ “کہیں نا امل “
ہاتھ بڑھا کر اسے خود سے قریب کرتے اپنے پہلو میں کھڑا کر گیا تھا۔۔
“آپکی خاموشیاں اتنا کچھ کہہ جاتی ہیں امل کہ جی چاہتا ہے آپ کو کسی دریا کی روانی کی طرح سنوں۔۔ بنا رکے۔۔ بنا کچھ کہے، بس آپ کو سنتا رہوں”_
اسکے بالوں کی خوشبو وہ اب بھی بہت نزدیک سے محسوس کر رہا تھا۔۔ وہ آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کئے اسے ہی تک رہا تھا۔۔ اسکا دیکھنے کا انداز امل شہباز کو الجھن میں مبتلا کر دیتا تھا وہ اسے یوں دیکھتا تھا جیسے ایک ایک نقش کو آنکھوں سے چوم رہا ہو۔۔
امل کا دل دھڑکا۔ آنکھوں کی نمی ایک بار پھر بات کرنے کو بےتاب ہوئی تھی۔۔ سفیان نے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر نرمی سے اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔
“آپکا چہرہ، آپ کی آنکھیں وہ منظر ہیں جنہیں دیکھ کر سفیان خاور کبھی سیر نہیں ہو سکتا۔۔ آپ کو دیکھنے کی اور دیکھنے رہنے کی تشنگی میرے دل میں بڑھتی ہی جاتی ہے۔۔
امل کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔ اتنی محبت ، اس قدر چاہت۔۔ تو کیا اللّه نے اسکی قسمت میں اتنا مان اتنی محبت رکھی تھی۔۔ اس قدر چاہنے والا اتنا قدردان ہمسفر رکھا تھا۔۔ دل میں عجیب سا اطمینان اترا تھا۔۔ جیسے اللّه نے اس کی خاموش دعاؤں کو ہنستے چہرے کے ساتھ لوٹا دیا ہو۔۔
اس نے بھیگتی آنکھوں سے سفیان کی جانب دیکھا تھا۔۔ اس نے جھک کر اسکی آنکھوں پر لب رکھے۔۔
“میری دعا ہے امل کہ اللّه آپ کے لمس کو، آپکی محبت کو عبادت بنا دے… تاکہ میں آپ کو چاہوں تو وہ بھی ثواب ہو جائے”_
اور اس لمحے میں دعا، عشق اور بندگی، ایک ہی سانس میں سمٹ گئے تھے۔ سفیان خاور امل شہباز کو دھیرے دھیرے فتح کر رہا تھا۔۔
العنکبوت آفس، اسلام آباد
شیشے کی دیواروں میں بند العنکبوت کی عمارت، اُس دن کچھ زیادہ ہی سنجیدہ محسوس ہو رہی تھی۔ اندر سفید حجاب میں ملبوس، نرم مگر پراعتماد لہجے میں بات کرتی لیلیٰ جمال اپنے مخصوص انداز میں موجود تھیں۔۔ وہ آج کچھ زیادہ ہی خاموش تھیں، پر ان کی آنکھیں۔۔ وہ دہکتے انگارے جیسے لگ رہی تھیں۔ ویل چیئر پر بیٹھی، ہاتھوں میں کیس کی فائل دبا کر، وہ مکمل توجہ سے وکیلوں کی گفتگو سن رہی تھیں۔۔
بہت سے رپورٹرز، وکیل، سوشل ورکرز، اور میڈیا ٹیمیں اس ھال میں جمع تھیں۔
لیلیٰ کی ویل چیئر کانفرنس ہال کے بیچ میں رکھی گئی تھی۔ جمال اکبر انکی دائیں جانب پہلی نشست پر بیٹھے تھے۔۔
“یہ صرف ایک کیس نہیں ہے۔ یہ ایک چھ سال کی معصوم بچی کی بقا، ایک ماں کے صبر، اور ایک پورے نظامِ عدل کے ضمیر کی آزمائش ہے۔”
وہ بول رہی تھی۔۔ اس کی آواز میں ایک تڑپ تھی، وہ تڑپ صرف ایک عورت کی تڑپ نہیں تھی۔۔ وہ تڑپ ایک ماں کی تھی۔۔ لیلیٰ جمال وہ عورت تھی جو خود صبر کے کئی امتحانات سے گزر چکی تھی۔۔
۔
ہال کے اندر چاروں طرف فائلیں، لیپ ٹاپس، اور چہروں پر گہری فکر سجی ہوئی تھی۔
“ریمانڈ کی درخواست تو مسترد ہو گئی ہے، لیکن FIR کا ریکارڈ اور DNA ثبوت ہمارے حق میں مضبوط ہیں۔”
یہ العنکبوت کی لیگل ڈائریکٹر عاصمہ کی آواز تھی۔۔
لیلیٰ نے ہاتھوں میں موجود فائل بند کی۔۔ اپنے مخصوص پرسکون انداز میں گویا ہوئیں۔۔ یہی تو لیلیٰ جمال کی خاصیت تھی۔۔ وہ اپنے اندر کا شور چھپانا خوب جانتی تھی۔۔
“یہ صرف قانون کا مقدمہ نہیں ہے۔ یہ معاشرتی ضمیر کا مقدمہ ہے۔۔ ایک چھ سالہ بچی کی چیخیں اس ملک کی عدالتوں تک نہیں، عرشِ خدا تک گئی ہوں گی۔۔ اور جو انصاف ہم یہاں نہ دے سکے۔۔ اُس کا حساب ہمیں وہاں دینا ہوگا، جہاں استثنیٰ نہیں چلتا۔”
سب کی نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں۔۔
“رحمان شاہ کی طاقت مجھے خوفزدہ نہیں کرتی۔ وہ پارلیمنٹ کا رکن ہو سکتا ہے، لیکن انسانیت کا نہیں۔ اور اس کا بیٹا۔۔ وہ کسی ماں کے جسم کو چیر کر، انسانیت کو روند چکا ہے۔ مگر یاد رکھو، العنکبوت صرف داد رسی کا ادارہ نہیں۔۔ یہ ایک انتقام ہے — خاموشی کے خلاف، ظلم کے خلاف، قانون کے ان اندھوں کے خلاف جو صرف دولت پہ دیکھتے ہیں۔”
وہ بولی تو اسکی آواز میں ٹوٹے کانچ کی سی چبھن تھی۔۔ ماضی کے کئی جھروکے آنکھوں کے سامنے لہرائے تھے۔۔ اگلے ہی لمحے وہ خود کو کمپوز کر چکی تھی۔۔
“میم، اگر عدالتی دباؤ بڑھے تو ہمیں بیک اپ پلان رکھنا ہوگا۔”
سوال ایک جونیئر وکیل کی جانب سے آیا تھا۔۔
لیلیٰ نے سر ہلایا:
“اگر عدالتیں بند ہو جائیں تو ہم سڑکوں پر مقدمہ لڑیں گے۔ اگر میڈیا بک جائے تو ہم اپنے الفاظ خود دیواروں پر لکھیں گے۔۔
جمال نے مسکراتے ہوئے اسکی جانب دیکھا پر وہ جانتے تھے، لیلیٰ اب صرف ان کی بیوی نہیں۔۔ ایک صدی کی تحریک بن چکی تھی_
“کیا آپ کو علم ہے؟
Pakistan Penal Code
کے سیکشن 376 کے تحت ریپ کا مجرم عمر قید یا موت کی سزا کا مستحق ہے… لیکن کیا انصاف صرف کاغذوں پر ہونا چاہیے؟
کیا ہماری عدالتیں، پولیس، سیاست سب خاموش تماشائی بن جائیں کیونکہ مجرم کے والد کی اسمبلی میں 87 نشستیں ہیں؟”
ایک رپورٹر نے سوال کیا، “محترمہ لیلیٰ، آپ کو دھمکیاں مل رہی ہیں؟”
وہ مسکرائی۔ لیلیٰ جمال کی مسکراہٹ۔۔ ایک ایسی مسکراہٹ جس کے پیچھے زخم بھی تھے، جبر بھی، اور حوصلہ بھی۔
“ہم نے اس کیس کو FIR درج ہونے کے 72 گھنٹوں کے اندر عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ DNA رپورٹ، CCTV فوٹیج، اور متاثرہ خاندان کی مکمل قانونی معاونت العنکبوت دے رہی ہے۔”
وہ ایک لمحے کو رکی۔
“یہ ادارہ صرف ریپ یا تشدد کا شکار خواتین کے لیے نہیں… یہ اس ملک کے ہر کمزور کے لیے ہے جو طاقتور کے سائے میں مر جاتا ہے۔”
وہ اب بھی اپنے مخصوص پرسکون انداز میں بول رہی تھی۔
“ہم نے Parliament کو درخواست دی ہے کہ Child Protection Act کو Federal Level پر مؤثر بنایا جائے، تاکہ کسی چھ سالہ بچی کو انصاف کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا نہ لینا پڑے۔”
“اور حمزہ رحمان کو کٹہرے میں لانے کے لیے ہم عدالت میں Writ Petition داخل کر چکے ہیں۔۔ یہ کیس اب عوام کا ہے یہ خاموش نہیں ہوگا۔”
تالیاں بجنے لگیں۔ رپورٹرز نے کیمرے اسکی جانب گھما لیے تھے۔۔
ہلکے ہلکے سرد موسم کے آغاز کی ایک اور صبح اپنی باہیں پھیلائے اتری تھی۔۔ نرم دھوپ کھڑکی کے پردے سے چھن کر سامنے بیڈ پر بیٹھے دارم اسفہان پر پڑتی اپنے آنے کی خبر دے رہی تھی۔۔ کھدر کی کالی قمیض شلوار میں ملبوس، کندھے پر روایتی براؤن شال ڈالے وہ بہت انہماک سے کچھ لکھ رہا تھا۔۔ دبیز سناٹے میں وہ کسی سنسان وادی کا باشندہ لگتا تھا۔۔ خود ساختہ تنہائی میں مقید بقاء کی جنگ لڑتا وہ تھک سا گیا تھا۔۔ اسکے ارد گرد آج بھی خطوط بکھرے تھے۔۔ وہی خطوط جو وہ سالوں سے امل شہباز کے لئے لکھتا آیا تھا۔۔ جسکی امل کو خبر تک نہیں تھی۔۔ وہ جهلی خوشی سے مر ہی نہ جاتی اگر جان جاتی شہزادہ زمین زادی پر دل ہار گیا ہے اور بری طرح ہارا ہے۔۔ سلونی سی وہ لڑکی جو سالوں اسکی محبت بھری ایک نگاہ کے لئے تڑپتی رہی تھی اور بلآخر کسی اور کی ہو گئی تھی۔۔
“امل شہباز پوری شان سے دارم اصفہان کے وادی دل کی مسند پر براجمان تھی”_ وہ دایاں ہاتھ دل پر رکھے شاید دھڑکنوں کا شور کم کرنا چاہ رہا تھا۔۔ امل کی مسکراتی ہوئی تصویر اسکے ہاتھوں میں تھی۔۔ “آپ کے پاس موسم کیسا ہے امل ؟” اس طرح خود سے بات کرتے کوئی اسے دیکھ لیتا تو پاگل ہی خیال کرتا۔۔ اسے خود بھی محسوس ہو رہا تھا اپنی تنہائی سے لڑتا بلآخر اسکا انجام شاید یہی ہونا ہے۔۔ اس نے دھیرے سے تصویر سے جھانکتی اسکی خوبصورت آنکھوں پر لب رکھے تھے۔۔ “آپ کے دل کا موسم کیسا ہے؟” مضبوط انگلیاں نرمی سے تصویر کو چھوتیں شاید اسکے نقوش محسوس کرنا چاہ رہی تھیں۔۔ ” کتنی حسرت لئے آنکھوں میں مجھے دیکھا کرتی تھیں آپ امل جیسے کہنا چاہ رہی ہو، “دارم ہاتھ بڑھائیں اور تھام لیں مجھے امل آپ کی ہی ہے”_
اور دارم اصفہان ہر بار اسی بیدردی سے ٹھکرا دیا کرتا تھا آپ کی محبت_ دیکھیں امل میرے پاس آئیں مجھے دیکھیں میں تڑپ رہا ہوں امل، آپ کی آنکھیں، آپ کی ان آنکھوں میں اپنی محبت، اپنے لئے حسرت دیکھنے کو تڑپ رہا ہوں”
اونچا لمبا وہ شاندار مرد اسکی تصویر لبوں سے لگائے بچوں جیسے سسسک رہا تھا۔۔ اسکی دلسوز سسکیاں ویران دیواروں سے ٹکراتیں دم توڑ رہی تھیں۔۔
“امل آپ میرے پاس بیٹھتی کیوں نہیں اب؟ میں معافی چاہتا ہوں امل آپ کو یاد ہے کیسے بچپن میں ایک بار میں نے آپ کو بالوں سے پکڑ لیا اور آپ گر گئی تو مجھے دُکھ ہوا تھا آپ کی چوڑیاں ٹوٹنے کا، اور میں مارکیٹ سے آپ کے لیے جامنی رنگ میں چوڑیاں لے کر آیا ہوں_ دیکھیں۔۔ سمجھ نہیں آرہی کیسے دوں آپ کو”_
وہ شاید خود بھی نہیں جانتا تھا وہ کیا کہ رہا تھا۔۔
“میں چاہتا ہوں کہ آپ کے سینے پر سر رکھ کر رووں، آپ سے گلے ملوں۔ جانتی ہیں امل جب سے آپ گئیں ہیں جب سے میرے سر میں شدید درد ہے”_
اس نے یوں سر تھام کر بتایا تھا جیسے وہ واقعی سامنے بیٹھی سن رہی ہو۔۔
“مجھے معاف کر دیں امل”_ اسکے لبوں سے نکلا۔۔
“مجھے ہماری محبت کا قتل معاف کر دیں امل “_
اب کی بار تصویر میں منہ چھپائے سرگوشی کی گئی تھی_
وہ بین کر رہا تھا۔۔
اپنے نقصان پر_ دارم اصفہان کے حصّے آئی خسارے کی گہرائی پر
دل دھڑک رہا تھا بسس دھڑکنوں کی شدّت ہی تو بڑھی تھی_ کیا تھا جو آنکھوں سے گرم سیال بہ رہا تھا یہ تو شاید اب مقدر تھا۔۔
اپنے سارے زخم سمیٹ لئے تھے اس نے۔۔ اس میں تو مہارت حاصل تھی دارم اصفہان کو_ آنکھوں سے بہتے گرم سیال کو صاف کرتے اسکے لبوں پر ہمیشہ کی طرح وہی نرم مسکراہٹ تھی جو اسکی ذات کا خاصا تھی
اس نے تمام خطوط سمیٹ کر اس ڈبے میں ڈالے_ اس میں آج کے لکھے ایک اور تازہ خط کا اضافہ تھا۔۔ وہ ایک عرصے سے امل سے ان ہی خطوط کے ذریعے باتیں کرتا آیا تھا_ وہ باتیں جو امل شہباز تک کبھی پہنچی ہی نہیں تھیں۔۔
“اک نگاہ روشن بھری”
سرخ جوڑے میں ملبوس زیبا!
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی شہد رنگ زلفیں سنوار رہی تھی۔۔ ایک نظر آئینے میں نظر آتے حسین مکھڑے کو تکتے غازے کی تیز دھار اپنی شہد رنگ نین میں ڈالے۔۔ نوح ارسلان آنکھوں میں شوق کا جہاں آباد کیے اسے یوں سجتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ آج لیلیٰ اور جمال کے گھر انوائٹڈ تھے۔۔ لیلیٰ نے انھیں شادی کی دعوت دی تھی۔۔ جسکے لئے ازورا بہت دلجمی سے تیار ہو رہی تھی۔۔
سرخ رنگ کے خوبصورت جوڑے میں ملبوس وہ کھلتا گلاب ہی لگ رہی تھی۔۔ نوح ارسلان کی نگاہیں تھیں یا اسکی چاہت وہ دھیرے دھیرے سرخ پڑ رہی تھی۔۔
اپنی آنکھوں میں روشنیوں کو بھرتی ہے نوح کے دل کے قافلوں کو لوٹتی اک حسینہ نو رسیدہ ہی تو تھی وہ۔۔
“جادوگرنی “_ وہ زیر لب بڑبڑایا ۔۔ نوح ارسلان کی سنگت میں نکھرتی حسین سے حسین تر ہوتی جا رہی تھی۔۔ اس کے سورج جیسے سنہرے گیسو سورج مکھی کے پھولوں سے بھی زیادہ نشاط آور ہیں اور ڈوبتے خورشید کی آخری روشنی اور بکھیرتے رنگوں کی طرح اپنا اثر دیکھنے والے کی آنکھ میں چھوڑ رہے تھے۔۔ وہ قدم اٹھاتا اسکے بلکل پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹیکائے اسکی خوشبو اپنے اندر اترتا اسکی ہاتھوں کی لرزش نظر انداز کر گیا تھا۔۔ ازورا اب میک اپ سے اپنی گردن پر نظر آتے وہ داغ چھپا رہی تھی۔۔ وہ بہت نارمل تھی اسے تو عادت تھی۔۔ نوح نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔ “کیا میری محبت اب تک یہ بتانے میں کامیاب نہیں ہو سکی کے آپ کو ان داغوں کو میک اپ کی تہوں کے نیچے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے” ۔۔ اسکی گھمبیر آواز پر ازورا کے تیزی سے چلتے ہاتھ ایک لمحے کو تھمے۔۔ “یہ داغ دار وجود آپ باہر ساتھ لے کر چلتے اچھے نہیں لگیں گے نوح_
وہ خود اذیتی سے مسکرائی تھی۔۔ اسکی یہی مسکراہٹ یہی اذیت تو نوح ارسلان کو کند چھری سے ذبح کرتی تھی۔۔
دھیرے سے اسکا رخ اپنی جانب کرتے اسکی جانب جھکتے ان داغوں کی مسیحائی کی تھی۔۔ وہ شفا کی مانند اس پر برسا تھا۔۔ اور وہ اسکی محبت میں بھیگتی چلی گئی تھی۔۔
“آپ کی مورت گلاب کےخمیر سے گوندھی گئی ہے اور آپ لالگی جوڑا پہنے اک گلاب کا پھول لگتی ہیں۔۔۔ بہت حسین۔۔ بہت خوبصورت۔۔ مائی لیڈی “_ کتنے مان سے وہ سے اپنی صرف اپنی کہ کر پکارتا تھا۔۔ “وہ مجھ سے پوچھتی ہے نظم کیا ہے “
میں اُس سے کہتا ہوں
خوب صورت گُلابی لفظوں سے ایسا دلکش حسین منظر تراش دینا
کہ پڑھنے والا خود اپنی آنکھوں میں سارا منظر گزرتا دیکھے
مگر فقط نظم یہ نہیں ہے۔۔
اس کے وجود پر خوشبوں بکھیرتے وہ دلکشی سے بول رہا تھا_ ۔۔ وہ اپنے نازک نفیس چہرے سے کھیلتی اِک حسین لٙٹ کو بڑی ادا سے ہٹا کے کہتی ہے اور کیا ہے میں اُس کی جُھک کر سٙخُن اُٹھاتی حسین آنکھوں کی وُسعتوں میں اُترتا اُس کے حنائی ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کے کہتا ہوں نظم یہ ہے۔۔ اسکے ہاتھوں کو لبوں سے چھوتے وہ بولا
۔۔
وہ فاتحانہ سا مُسکراتی
نفیس ہاتھوں کی اُنگلیوں پر مہکتے ناخن کی نیل پالش کو دیکھتی ہوئی گُداز لہجے میں پوچھتی ہے
تو نظم یہ ہے
میں اُس کے کانوں کے گوشواروں کو چھیڑتا ہوں
وہ میری اُنگلی کی اِس شرارت پہ جھینپتی ہوئی
خفیف لہجے میں پوچھتی ہے
بتائیں بھی ناں کہ نظم کیا ہے “
۔۔
میں اُس کی ٹھوڑی پہ جھلملاتے سیاہ تل کو
نظر نظر میں ہزار سمتوں سے چومتا ہوں
میں اُس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں
ذرا سا اُس کو قریب کر کے
میں مُسکراتے سے دھیمے لہجے میں بولتا ہوں۔۔
اسکی آنکھوں کو چومتا تھوڑی کے خم پر سر خم کرتا وہ نظم مکمّل کر رہا تھا_
حیا سے خود میں سمٹتی لڑکی
یہ مصرع مصرع بدن تمہارا بذاتِ خود ہی بتا رہا ہے کہ نظم کیا ہے
وہ ایک بھر پور قہقہہ سا اُچھالتی ہے
تو شام کے ملگجی اندھیرے میں جیسے خوشبو سی پھیلتی ہے
وہ شوخ سا اِک حسین لمحہ مِرے لبوں پر اُتارتی ہے
وہ میرے بالوں کو مہکی مہکی سی اُنگلیوں سے سنوارتی ہے
اور شانے پہ سر ٹِکا کر
خُمار آلود بھیگے لہجے میں دھیمے دھیمے پُکارتی ہے
تو نظم یہ ہے
اسکی خوبصورت ہنسی جلترنگ کی مانند کمرے میں گونج اٹھی تھی۔۔ نوح نے محبت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اس گلاب زادی کو ہوتی ہر تکلیف نوح ارسلان اپنے دل پر محسوس کرتا تھا۔۔ اسکی ہنسی نوح ارسلان کو موسیقی جیسی خوبصورت معلوم ہوتی تھی۔۔۔
