Jaan e Aada By Laiba Nasir Readelle50113 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٣
۔
“قسم شب کی سیاہی کی _ کہ جب وہ کاکُلِ پیچاں کی گرہیں کھول دیتی ہے اندھیرا پھیل جاتا ہے”_
۔
وہ ہنستی ہوئی کافی گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی۔۔ بہت خوبصورت تھی اسکی ہنسی۔۔ نوح ارسلان کی ساری کوفت کہیں دور جا سوئی تھی۔۔
“کبھی آنچل ڈھلک جائے اُجالے آیتیں پڑھتے ہوئے باہر نکلتے ہیں ،،
شباب و حسن کے سارے صحیفوں میں تواتر سے جو ملتی ہے ،
وہ ایسی ایک صورت ہے”_ “وہ اتنی خوبصورت ہے “_
“کہا ناں خوبصورت ہے “!!
۔
آنچل سے بےنیاز تمام تر رعنائیاں سمیٹے اسکا وجود ہوش بھلانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔ لیکن وہ نوح ارسلان تھا۔۔ کسی کمزور لمحے کے زیر اثر نہیں آ سکتا تھا۔۔ کم از کم جب تک اس سے جڑی ہر بات نا جان لے۔۔ جب تک تو بلکل بھی نہیں۔۔۔
اسے آج دارم سے ملنا تھا لیکن دارم کے ہسپتال میں مصروفیات کی jوجہ سے اسے رات میں ملنے کا کہ کر وہ ازورا کو لینے آرگنائزیشن چلا گیا تھا۔۔ چہرے پر اطمینان لئے اسے تکتے اسکے دل و دماغ میں سوچوں کی یلغار تھی۔۔
“رات ہو رہی ہے آپ سو جائیں”_
اسکے کہنے پر اس نے رخ پھیر کر اسے دیکھا۔۔ اسکے چہرے پر سنجیدہ تاثرات دیکھ کر اسے احساس ہوا کے شاید وہ زیادہ بول گئی۔۔ وہ کب سے اس سے اتنی بےتکلف ہو گئی۔۔
چہرے کی مسکان پل بھر میں سمٹی تھی۔۔ اور پھر غائب ہو گئی تھی۔۔ اس مسکان کا اسکے چہرے سے اوجھل ہونا نوح کو شدّت سے محسوس ہوا تھا۔۔
“مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔۔ ہو سکتا ہے رات دیر ہو جائے۔۔ کوئی پروبلم تو نہیں ہے ؟”
وہ اب سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔
“ننن نہیں۔۔ کوئی پروبلم نہیں ہے”_
اس نے دھیرے سے کہا۔۔ وہ اسے یہ نہیں بتا سکی کے اکیلے کمرے میں اسے ڈر لگتا ہے۔۔
وہ ہنکارہ بھرتا گاڑی کی چابی اٹھا کر کمرے سے نکل گیا۔۔
“اتنا برا لگ گیا اسے راپنزل کہنا کے کمرہ ہی چھوڑ کر چلا گیا ؟”
وہ اپنے ہاتھوں میں موجود کافی کا مگ دیکھتی ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔۔
۔
گھر میں شادی کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں۔۔ رومیسہ بتا چکی تھیں کے کل سے وہ اسے مایوں بیٹھا رہی ہیں۔۔
اس وقت رات کے نو بج رہے تھے۔۔ وہ مردہ دلی سے کمرے میں اندھیرا کیے لیٹی ہوئی جب ملازمہ نے اطلاع دی۔۔ وہ بےدلی سے اٹھی۔۔ دوپٹہ اٹھا کر شانوں پر برابر کرتے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتے ایک نظر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی۔۔۔
ستا ہوا چہرہ لئے اسکے چہرے پر دُلہناپے کا کوئی روپ نہیں تھا۔۔
وہ تو اپنا روپ رنگ بھی اس سنگدل شخص کی جدائی اور بےاعتنائی میں کھو چکی تھا۔۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھی رومیسہ اسکا ہی انتظار کر رہی تھی جیسے۔۔
۔
“کیا ہو گیا ہے تمہیں امل۔۔ میں نے کہا بھی تھا تمہیں کے پارلر چلے جاؤ۔۔ کٹنگ لو۔۔ اپنی حالت درست کرو۔۔ تین دن بعد شادی ہے تمہاری۔۔ اور آئینے میں شکل دیکھی ہے تم نے اپنی ؟”
وہ اسے دیکھتے ہی شروع ہو چکی تھیں ۔۔ امل نے غائب دماغی سے انکی جانب دیکھا۔۔ سٹائلش نفیس سے جوڑے میں ملبوس۔۔ بالوں کی جدید تراش خراش کئے۔۔ ہلکے ہلکے میک اپ میں وہ اپنی عمر سے کئی زیادہ چھوٹی دکھتی تھیں۔۔ اس نے ہمیشہ سے اپنی ماں کو اسی طرح دیکھا تھا۔۔ اسے نہیں یاد تھا کبھی اسکی ماں سادہ سے گھریلو حلیے میں ایک ماں کی طرح اسکے کام کرتے نظر آئی ہو۔۔ وہ تو بچپن سے ماں سے زیادہ ملازموں سے ساتھ رہی تھی۔۔
اسکے لبوں پر تلخ مسکراہٹ بکھری۔۔ وہ واقعی ان جیسی نہیں تھی۔۔
“پر کاش وہ ان جیسی ہی ہوتی۔۔ سفاک۔۔ بےحس۔۔ تو شاید آج اتنی تکلیف میں نہیں ہوتی”_ اسکی آنکھیں ایک بار پھر بهیگنے لگی تھی۔۔ “آپ نے کیوں بلایا ہے مجھے ؟” اس نے سپاٹ انداز میں سوال کیا تھا۔۔ “سفیان آیا ہے باہر۔۔ اسکے ساتھ جاؤ اور شاپنگ کرو اپنے لئے۔۔ ولیمہ کا جوڑا تمہاری پسند کا لانا چاہ رہا ہے وہ۔۔ تمہاری بری آئے ہوئے دو دن ہو گئے امل۔۔ تم نے پہن کر چیک تک نہیں کیا ہے فٹنگ وغیرہ ٹھیک ہے یا نہیں۔۔ کسی چیز کی کمی تو نہیں ہے۔۔ لڑکیاں اپنی شادی میں کتنی پرجوش ہوتی ہیں تمہارے ساتھ پتا نہیں پروبلم کیا ہے ؟” وہ اسکے چہرے پر آئے بال سنوارتی تاسف سے بول رہی تھیں۔۔ ۔ “کسی چیز پر تو اعتراض نہیں کر رہی میں۔۔ جو آپ کہ رہی ہیں خاموشی سے کر رہی ہوں۔۔ اب کیا شکایت ہے آپ کو مجھ سے ؟ میں جھوٹی خوشی کا دکھاوا نہیں کر سکتی۔۔ آپ بھی جانتی ہیں کے میں خوش نہیں ہوں اس شادی سے۔۔ آپ اپنا فرض پورا کر رہی ہیں میری شادی کر کے۔۔ اور میں اپنا فرض پورا کر رہی ہوں آپ کی بات مان کر۔۔ اس سے زیادہ مجھ سے توقع نہیں رکھے مام”
کب سے روکے آنسوں بھل بھل کرتے گرتے لمحوں میں چہرہ بھیگا گئے تھے۔۔ رومیسہ سمجھ نہیں پائی اسے کیا چیز ہرٹ کر رہی ہے۔۔
انکے مطابق تو لڑکا اچھا تھا۔۔ ویل سیٹلڈ تھا۔۔ سب سے بڑھ کر امل کو پسند کرتا تھا۔۔ امل کسی میں انولو بھی نہیں تھی۔۔ پھر مسئلہ کیا تھا۔۔
“میں نہیں جانا چاہتی کہیں اتنی رات میں ماما پلیز۔۔ آپ ان سے کہ دیں اپنی پسند کا لے لیں جوڑا”_
وہ آنسوں صاف کرتی التجائیہ انداز میں بولی۔۔
“امل نو بجے ہیں ابھی۔۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے بوتیکس اور مالز ساری رات اوپن ہوتے ہیں۔۔ مزید کوئی ایکسکیوز نہیں۔۔ ریڈی ہو کر آؤ شاباش”_
اسکے گال تهپتهپاتی وہ نرمی سے بولی تھیں لیکن انداز میں تنبیہ واضح تھی۔۔
“جی”_ وہ آنسوں اندر اتارتی روندھی آواز میں بولی۔۔ دھندلی نظروں سے دیکھتی تیزی سے باہر جا رہی تھی جب کمرے میں داخل ہوتے سفیان سے بری طرح ٹکرائی۔۔ “آئی ایم سوری”
سفیان نے گہری نگاہوں سے اسکی روئی روئی سرخ آنکھیں دیکھیں۔۔
“طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اسکی بیٹا۔۔ بس ابھی آ رہی ہے”_
رومیسہ محبت سے اس سے مخاطب ہوئیں۔۔ شاید اندازہ کرنا چاہ رہی تھیں کے اس نے کس حد تک انکی باتیں سنی ہیں۔۔
وہ مسکراتا ہوا آ بیٹھا۔۔
کچھ ہی دیر میں امل واپس آئی تھی۔۔ ٹی پنک کلر کے پرنٹڈ لباس میں ملبوس۔۔ سفید سكارف سے حجاب کیے۔۔ شدّت گریہ سے سرخ ہوتی آنکھیں ۔۔۔ گندمی رنگت میں رونے کی وجہ سے سرخی گھل سی گئی تھی۔۔
“امل آپ ٹھیک ہیں ؟”
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد گلا کھنکھارتے سفیان نے سوال کیا تھا۔۔
“جی”_
یک لفظی جواب دے کر وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جو کے واضح اشارہ تھا کے وہ مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔
وہ اسے لے کر شہر کے مہنگے بوتیک میں آیا تھا۔۔
وہ خاموشی سے اس سے کچھ دوری پر چلتی جو وہ اسکے لئے پسند کر رہا تھا اثبات میں گردن ہلاتی جا رہی تھی۔۔
اسکی عدم دلچسپی کو بھانپتے سفیان نے ایک بھاری کام والا سرخ لباس اسکی جانب بڑھایا۔۔
“جائیں یہ ٹرائے کر کے دیکھیں”_
اسکے ساتھ لگاتا وہ نرمی سے بول رہا تھا۔۔
“بارات کا جوڑا تو آپ کی مما لے کر جا چکی ہیں”_
وہ اس بیش قیمت لباس کو دیکھتی الجھن بھرے انداز میں بولی۔۔
“لیکن میں آپ کو ہماری شادی کے دن اس لباس میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ آپ دیکھ لیں اگر آپ کو پسند آ رہا ہے تو ؟”
اس نے دوبارہ نرم لہجے میں کہا تھا۔۔ وہ حقیقتاً نرم طبیعت کا مالک تھا۔۔
“جو آپ کو بہتر لگے”_
اس نے مختصر جملے میں جیسے بات ختم کی تھی۔۔
اسکے بعد اس نے اور بھی بہت سے کپڑے پسند کئے اس کے لئے۔۔ وہ ہر لباس اسکے ساتھ لگا کر دیکھ رہا تھا۔۔ وہ خاموشی سے چابی کی گڑیا کی مانند اسکے پسند کے ملبوسات کو ڈن کرتی رہی۔۔
زندگی میں آج تک اسے کون سی چیز اپنی پسند کی ملی تھی جو اب ملتی۔۔ جب ہمسفر ہی من چاہا نہیں تھا تو وہ ان چیزوں پر کیا کرتی۔۔۔
اسکی ذات میں آیا خسارہ یہ بیش قیمت کپڑے اور زیور پورا نہیں کر سکتے تھے۔۔ اسکا خسارہ بہت بڑا تھا۔۔ اور ستم تو یہ کے سب انجان تھے۔۔۔
اور جو جانتا تھا وہ تو اسکی ذات سے ہی غافل تھا۔۔
۔
“زری بیٹا۔۔ میری طرف دیکھو “_
وہ اس وقت ہسپتال اس بچی کے روم میں موجود تھا۔۔ اسکی بیک بون مکمّل طور پر ڈیمج ہو چکی تھی۔۔ یہاں تک کے گردن کی ہڈی تک ٹوٹ گئی تھی۔۔
“اتنی اذیت۔۔۔ اس قدر وحشت۔۔ ؟؟”
کس طرح سہی ہوگی اس ننھی سی جان نے سوچ کر اسکے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔۔
اسکی آواز پر وہ بچی نظروں کا رخ پھیر کر اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔ یہ اسکی محنت کا نتیجہ تھا جو وہ پچھلے دس دنوں سے کر رہا تھا کے اب وہ اس سے ڈرنے کی بجائے اسکی آواز پہچاننے لگی تھی۔۔
دارم نے لب بھینچ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ اس بچی کی آنکھوں میں زندگی کی رمق تک نہیں تھی۔۔
“دیکھو ادا تمہارے لئے کیا لائے ہیں۔۔ اسے دیکھو۔۔ تم کھیلتی تھی نا گاڑیوں سے”_
اس نے رمشا کے ہاتھوں سے دو چھوٹی چھوٹی گاڑیاں لے کر اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی آنکھوں میں چمک نہیں آئی تھی جو عموماً بچوں کی آنکھوں میں کھلونے دیکھ کر آیا کرتی ہے۔۔
رمشا کی آنکھوں میں نمی چمکی تھی۔۔
“اس درندے نے اسکا بچپن چھین لیا ہے دارم۔۔ یہ کھلونے اب کبھی اسکی دلچسپی حاصل نہیں کر سکیں گے۔۔ یہ اب کبھی پہلی جیسی نہیں ہو سکے گی”_
وہ آنسوں پیتی اس چھ سالہ بچی کی جانب دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔۔ جسکی خاموش نگاہیں دارم کے چہرے پر ٹکی تھیں۔۔
وہ آنکھیں۔۔ ان سے بہتے آنسوں۔۔ خاموشی میں التجاء کرتے معلوم ہو رہے تھے۔۔
سوال کرتے ہوئے معلوم ہو رہے تھے۔۔ انسانیت کا۔۔ انصاف کا۔۔۔
۔
اسکے موبائل کی بپ پر اسکی نظروں کا ارتكاز ٹوٹا۔۔
“میں ریسٹورانٹ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں”_
نوح کا میسج تھا ساتھ ہی لوکیشن بھی سینڈ کی گئی تھی۔۔ وہ کچھ سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ رمشا کو اس بچی کی میڈیسنز کے متعلق بتا کر اسکا رخ اپنے روم کی جانب تھا۔۔
۔
آدھے گھنٹے میں وہ نوح کی بتائی ہوئی لوکیشن پر پہنچ چکا تھا۔۔ وہ ایک لوکل ریسٹورانٹ تھا۔۔ میڈیا کے ڈر سے نوح اکثر اسی طرح کے جگاہوں پر پایا جاتا تھا وہ جانتا تھا۔۔
ابھی وہ اینٹرنس پر کھڑا آس پاس دیکھ ہی رہا تھا جب ایک بار پھر موبائل کی سکرین بلنک ہوئی۔۔
“اپنے دائیں جانب دوسری ٹیبل پر آجاؤ”_
دارم نے دائیں جانب دیکھا۔۔ وہ اس سے پہلے سے موجود تھا۔۔
“یقیناً تم ڈنر یہاں سے جانے کے بعد کرو گے سالے صاحب ؟”
ہالف سیلیویز شرٹ میں ملبوس بالوں کی پونی بنائے وہ اس طرح بیٹھا ہوا تھا اسکا چہرہ اندھیرے کی وجہ سے واضح نظر نہیں آ رہا تھا۔۔
دارم نے نفی میں گردن ہلاتے اس بےمروّت شخص کی جانب دیکھا۔۔
اسکا کوئی حال نہیں تھا۔۔
“نہیں میں ڈنر کر چکا ہوں رمشا کے ساتھ”_
اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا جو کوئی محلول گھونٹ گھونٹ اندر اتار رہا تھا۔۔
“اس طرح نہیں دیکھو مجھے۔۔۔ ویسے تو مجھے تمہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ سوفٹ ڈرنک ہے۔۔ ہزار بری عادتیں ہونگی مجھ میں لیکن حرام شہہ کبھی لبوں سے نہیں لگائی نوح ارسلان نے”_
وہ لاپرواہ سے انداز میں بولا تھا۔۔ دارم کے لبوں پر مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔۔ اتنا مشکل نہیں تھا نوح ارسلان جتنا خود کو ظاہر کرتا تھا۔۔
“سیدھے مدعے پر آتے ہیں۔۔ ازورا کے ہاتھوں میں۔۔ بازوؤں میں نشانات ہیں۔۔ سگریٹ سے جلائے گئے نشانات۔۔ وہ ڈرگز لیتی ہیں۔۔ خود کو کٹس لگاتی ہیں۔۔ راتوں کو ڈر کر اٹھ جایا کرتی ہیں۔۔ وہ نیند میں بری طرح خوفزدہ ہوتی ہیں اور جب جاگتی ہیں تو انہیں کچھ یاد نہیں ہوتا۔۔ تم جتنا کچھ جانتے ہو مجھے لفظ با لفظ سچ بتاؤ دارم اسفہان۔۔ میری بیوی سے متعلق ایک بات بھی مجھ سے مخفی نہیں رہنی چاہئے”_
وہ ہمیشہ کی طرح ایک ہاتھ اپنے بالوں پر پھیرتا ٹھہر ٹھہر کر لفظ ادا کر رہا تھا۔۔ سرد برفیلا انداز دارم کو باور رہا تھا کے وہ کسی بھی قسم کی کوئی بات اس سے مخفی نا رکھے۔۔۔
“میں تمہیں ہر ایک بات بتاؤنگا نوح۔۔ مگر پلیز ان باتوں کے بعد یہ یاد رکھنا کے اس سب میں ازو کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔ حکم نہیں تم سے التجاء ہے میری۔۔ حقیقت جاننے کے بعد میری بہن کے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہیں کرنا”_
دارم نے ایک نظر اس کے سپاٹ چہرے کی جانب دیکھا۔۔
“ازورا میری بیوی ہیں دارم۔۔ میں شروع سے جانتا تھا کے وہ ڈرگ ایڈکٹڈ ہیں۔۔۔ میں اپنی بیوی کی تکالیف کی وجہ جاننے آیا ہوں تمہارے پاس۔۔ اسکی تکلیف میں اضافہ کرنے کے لئے نہیں”_
“ازو دس سال کی تھی جب بریرہ پھوپو اور اسکے فادر کی ڈیتھ ہوئی۔۔ اسکے بعد سے وہ ہمارے ساتھ ہی رہتی تھی۔۔ خاموش خاموش سی۔۔ میں نے بہت مشکل سے اسے خود سے مانوس کیا تھا۔۔ سب سموتھلی چل رہا تھا۔۔ وہ چودہ سال کی تھی اس وقت جب میں نے ہاؤس جاب سٹارٹ کی تھی۔۔ ہمارا ایک بہت بڑا فنکشن تھا اسلام آباد میں۔۔ میں ازو کو ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا پر اس نے کہا اسکے امتحانات ہیں۔۔ دو دن بعد میں جب آیا میں نے اپنی ازو کھو دی تھی۔۔ ایک بے جان مورت ملی مجھے اپنی ازو کی جگہ۔۔
وہ مٹھیاں بھینچے ضبط سے گلابی پڑتے آنکھوں کے کنارے صاف کرتا شاید الفاظ یکجا کر رہا تھا۔۔۔
“شی واز ریپڈ”_
بولتے بولتے اسکی آواز کانپ گئی تھی۔۔ مضبوط مردانہ ہاتھ ٹیبل پر مٹھیوں کی صورت بندھے کانپ رہے تھے۔۔ ٹیبل کی سطح پر شفاف انمول قطرہ گرا تھا۔۔ شاید آنسوں۔۔ ہاں آنسوں ہی تھا۔۔
اسکی نیلی ابھری رگیں اسکے ضبط کو ظاہر کر رہی تھی۔۔ ۔۔ لب اس قدر سختی سے بھینچے تھے کے خون اسکے لبوں سے نکلتا بئیرڈ میں جذب ہو رہا تھا۔۔ اسکی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔۔ وہ ضبط سے بیٹھا تھا شاید وہ اپنا ضبط آخری حد تک آزمانہ چاہتا تھا۔۔ وہ اس پر بیتی ہر ایک ظلم کی داستان سننا چاہتا تھا۔۔
“ایک رات میں اس سے دور ہوا نوح اور اس رات نے ہماری زندگی بدل دی۔۔ اسے کسی وحشی درندے نے بری طرح بھنبھوڑ دیا تھا۔۔ اسکے پورے جسم پر اتنے نشانات تھے جنکا شمار نہیں ہو سکتا تھا۔۔ اسے جلایا گیا تھا سگریٹ سے۔۔ اسے کاٹا گیا تھا۔۔ دو مہینے تک وہ کچھ نہیں بولی تھی۔۔ اور اسکے بعد سے آج تک وہ بھیانک رات ہماری زندگی میں ہر رات موجود ہوتا ہے۔۔ میں نے اس سے بہت پوچھنے کی کوشش کی۔۔ شروع میں وہ ڈر جاتی تھی۔۔ روتی تھی۔۔ اسے فیٹس پڑتے تھے۔۔
اور پھر اس نے کہا وہ نہیں جانتی کے وہ کون تھے۔۔ میرے آنے سے پہلے ہی پھوپو نے اسکا نکاح شہباز سے کر دیا تھا۔۔ میں نے بہت کوشش کی اسے شہباز سے دور رکھوں۔۔ وہ ہمیشہ مجھے یہی کہتی کے وہ نہیں چاہتی شہباز سے طلاق لینا۔۔ ڈرگز پتا نہیں اس نے کس طرح لینا شروع کر دیا۔۔ مجھے بہت دیر سے پتا چلا کے ازو ڈرگز لیتی ہے اور اس وقت سے میں اسکا علاج کروا رہا ہوں۔۔۔
وہ بہت تکلیف میں ہوتی ہے نوح۔۔
میں اسکی حفاظت نہیں کر سکا۔۔
وہ اونچا لمبا مرد دارم اسفہان اسکے سامنے بیٹھا بری طرح رو رہا تھا۔۔
“میں اپنی بچی کی حفاظت نہیں کر سکا نوح”_ نوح اب بھی لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ آنکھوں کے کنارے گلابی ہوتے سوج گئے تھے وہ تو دارم کی طرح آنسوں کے ذریعے اپنی اذیت نکال بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ “میں ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر سکتا۔۔ اس رات میں ازو کو اپنے ساتھ لے جاتا تو وہ رات اپنی اتنی بھیانک چھاپ ہماری زندگیوں پر نہیں چھوڑتی”_
وہ کہیں نا کہیں خود کو قصوروار سمجھتا تھا جو کچھ ہوا اس سب کے لئے۔۔
“میں اپنی بیوی کے مجرم کو پاتال سے بھی ڈھونڈ لونگا دارم اسفہان”__
اسکی آواز بھیگی ہوئی تھی مگر آنکھیں خشک تھیں۔۔
اس نے دارم کو کوئی دلاسا کوئی تسلی نہیں دی تھی۔۔ اسکا تو اپنا دل پھٹ رہا تھا۔۔
کتنی وحشت ناک ہوگی وہ رات جسے یاد کر کے وہ آج بھی اتنی بری طرح ڈر جاتی ہے۔۔۔
کتنی تکلیف سہی ہوگی اس نے۔۔ کتنا پکارا ہوگا مدد کے لئے۔۔۔
اسے اپنی دماغ کی رگیں پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
وہ نجانے کس طرح ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
گاڑی خالی سڑک پر تیز رفتار سے دوڑ رہی تھی۔۔
وہ چیخنا چاہتا تھا۔۔ چیخ کر اپنی تکلیف کا اظہار کرنا چاہتا تھا مگر ہر چیخ حلق میں ہی کہیں اٹک رہی تھی۔۔۔
اسکا دل اس تکلیف پر جیسے پگھل کر پانی ہو رہا تھا اور وہ پانی بےبس سی کیفیت میں آنکھوں کے کنارے سرخی میں آ ٹھہرا تھا۔۔۔
وہ بیچ سڑک پر گاڑی روکے بلند آواز میں چیختا اپنی تکلیف کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
ساری رات وہ اسی طرح تنہا اس آگ کی بھٹی میں جلتا رہا تھا۔۔۔ اس وقت وہ ازورا کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
فجر کی اذان کی آواز پر اس نے گھر کا رخ کیا تھا۔۔۔
۔
۔
اس کی آنکھ کھلی تو اس نے بوجھل آنکھوں سے ارد گرد دیکھا وہ کمرے میں کہیں موجود نہیں تھا۔۔ وہ سرعت سے اٹھی۔۔
“واش روم میں بھی نہیں تھا تو کیا وہ کل رات گھر ہی نہیں آیا”۔۔۔ اسے تشویش نے آں گھیرا۔۔۔
“اتنا برا لگ گیا باگڑ بلے کو راپنزل نام۔۔ وہ تو اتنی کیوٹ تھی”_
وہ اپنے آپ میں بڑبڑاتی فریش ہونے چلی گئی۔۔۔
شاور لینے کے بعد فاؤنڈیشن لئے وہ ہمیشہ کی طرح ان نشانات کو چھپا رہی تھی۔۔ وہ تو عادی ہو گئی تھی یہ سب کرنے کی۔۔
اپنے کام سے مطمئن ہو کر اس نے آئینے میں نظر آتا اپنا عکس دیکھا۔۔۔
کالی پوری آستین کی کرتی اور کالے ہی ٹراؤزر میں ملبوس۔۔ سرخ رنگ کی چھوٹی سی خوبصورت شال جو اس سوٹ کے ساتھ ہینگ تھی۔۔
وہ یہ ڈریسنگ نوح کی پسند کی وجہ سے نہیں کرتی تھی۔۔ اپنا آپ محفوظ لگتا تھا اسے اس لباس میں۔۔ اب شہباز نہیں تھا اسے مجبور کرنے والا کے وہ وہی لباس پہنے جو وہ اسے دیتا ہے۔۔
وہ سوچ کر ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
کمرے میں آ کر ڈریسنگ سے بالوں کی پن اٹھائی۔۔
۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا لیڈی”_
کمر پر بکھرے بھورے بالوں کو جوڑے میں قید کرنے لگی تھی جب سرسراتی آواز پر کانپ سی گئی۔۔۔ وہ بلکل اسکے پیچھے صوفے پر بیٹھا ہوا سگریٹ سلگا رہا تھا۔۔
“ککک کیا اچھا نہیں کیا ؟”
اسکی لہو رنگ اس قدر سوجی ہوئی آنکھیں ازورا کی پورے وجود میں سنسنی سی پھیل گئی تھی۔۔
“ننن نوح۔۔ آپ کو برا تو میں آئندہ کبھی نہیں کہونگی آپ کے بالوں کو کچھ بھی”_
اسکی آنکھیں اسے خوف میں مبتلا کر رہی تھیں۔۔ وہ جو سمجھ آیا بول گئی۔۔ وہ سگریٹ پیروں تلے مسلتا اسکی جانب آیا۔۔۔
۔
“شال اتاریں _ شرٹ ہٹائیں کندھوں سے اپنی “
اسکا ہاتھ پکڑ کر آئینے کے سامنے کھڑے کرتے وہ لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھتے بولا۔۔
۔
“نوح۔۔
اس نے بےیقینی سے سامنے کھڑے اکھڑ، حد درجہ ہٹ ڈھرم انسان کو دیکھا۔۔ اب کیا کرنے جا رہا تھا وہ ۔۔
اسے بےیقینی سے اپنی جانب دیکھتے پا کر اس نے خود ہی اسکا رخ اپنی جانب کرتے اسکی شال اسکے تن سے جدا کرتے بیڈ پر پھینکی تھی۔۔
اسکے ہاتھ اپنی شرٹ کی جانب بڑھتے دیکھ وہ روتی ہوئی نفی میں گردن ہلاتی بدک کر پیچھے ہوئی۔۔
“نوح۔۔ کیا کر رہے ہیں؟”
آنسوں روانی سے گال بھگو رہے تھے۔۔
۔
“کھڑی رہیں۔۔ ایک لفظ نہیں “_
اسکے شانوں میں پنجے گاڑھتے وہ حکمیہ لہجے میں دهاڑا تھا۔۔
وہ اسکے قریب تھا۔۔ سگریٹ اور مردانہ پرفیوم کی سٹرونگ خوشبو اسکے حواس معطل کر رہی تھیں۔۔
۔
“نوح کل رات کے لئے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں۔۔ پپ پلیز یہ نہیں کریں۔۔ آ آپ کک کیا کر رہے ہیں “_ وہ تڑپ کر روتی اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی التجائیہ لہجے میں بول رہی تھی۔۔ اسکی سسکیاں ان سنی کرتا وہ اسکے کندهوں سے شرٹ سرکائے آئینے میں نظر آتا اسکے عکس میں کچھ تلاش کر رہا تھا۔۔ جو خوف اور شرمندگی سے کانپ رہی تھی۔۔ تذلیل کا احساس تھا۔۔ وہ سر جھکائے سسک رہی تھی۔۔ ۔ “میک اپ کس چیز سے ریموو کرتی ہیں آپ “
وہ خاموش سر جھکائے کھڑی سسک رہی تھی۔۔ جب وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
۔
” ازورا ۔۔۔ میک اپ کس چیز سے ریموو کرتی ہیں آپ “_
اسکی حالت سے انجان بنا وہ سرد آواز میں دھاڑا تھا۔۔
“میک اپ ریموور سس سے “_ اسکی دھاڑ پر وہ اچھل پڑی تھی۔۔کانپتے ہاتھوں سے باتھروم سنک کی جانب اشارہ کرتے وہ آنکھیں میچ کر کھڑی بری طرح سسک رہی تھی۔۔۔ “تو کیا وہ سب کچھ جان گیا تھا۔۔ اب کیا ہوگا۔۔ وہ بھی وہی سلوک کرے گا جو شہباز نے کیا تھا۔۔ “لے کر آئیں ابھی”
انداز اب بھی تحکم بھرا تھا۔۔
“نن نوح پلیز مم میری بات سن لیں۔۔ پلیز ککک کچھ نہیں ہے میک اپ ریموور سے ککک کیا کرینگے۔۔ پلیز مم میرا یقین کریں”_ وہ اب بھی اس سے چھپانا چاہ رہی تھی۔۔ اسے بس یہی خوف تھا کے اگر وہ حقیقت جان گیا تو وہ بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کرے گا۔۔ آخر کو تھا تو وہ بھی شہباز ضمیر کے ہی سرکل کا۔۔ وہ بری بدگمان ہو رہی تھی۔۔ “میک اپ ریموو کریں ازورا”_
اسکے ہاتھوں میں ریموور تھماتے وہ اب کی بار کچھ نرمی سے بولا۔۔ لیکن وہ تو اسکے الفاظ پر ہی صدمہ کی سی کیفیت میں تھی کے وہ سب جان گیا ہے۔۔
“وہ اس شخص کی آنکھوں میں اپنے لئے تذلیل نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔ نا ہمدردی۔۔ نا ترس۔۔ جو وہ سب کی نظروں میں دیکھتی آئی تھی”_ “صرف محبت دیکھنا چاہتی”_
“فقط محبت دیکھنا چاہتی تھی”_
اسے یہ خوف تھا کے اگر وہ اسکی حقیقت جان گیا تو وہ کبھی ان آنکھوں میں محبت نہیں دیکھ سکے گی۔۔
چاہے جانے کا جو سرور وہ محسوس کر رہی ہے اس سے محروم ہو جائے گی۔۔۔ وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
وہ بےدم سی ہوتی لہرا کر کارپیٹ پر گری تھی۔۔۔
