60.2K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“” جانِ ادا “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۵
۔
“آپ کہاں لے کر جا رہے ہیں مجھے ؟”
مسلسل گاڑی کا لاک کھولنے کی کوشش کر کے ناکام ہونے کے بعد وہ اس سے بولی جو اطمینان سے موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا جیسے اسکے علاوہ کوئی موجود ہی نا ہو۔۔
“بہت جلد جان جائينگی آپ “_
آس بے بنا اسے دیکھے کہا تھا۔۔ آج بھی اس نے ازورا لاشاری پر ایک کے بعد دوسری نگاہ نہیں ڈالی تھی۔۔
“پلیز مجھے جانے دو۔۔
اب کی بار وہ التجائیہ انداز میں بولی تھی۔۔ نوح نے ایک تیرچھی نگاہ اس لڑکی پر ڈالی جو کچھ ہی دیر پہلے جوالہ مکھی بنی اس پر جھپٹ رہی تھی۔۔ اور اب اگلے ہی لمحے اس سے التجاء کر رہی تھی۔۔
۔
“دد دار جان لے گا تمہاری۔۔
وہ روتی ہوئی چیخی تھی۔۔
“پپ پلیز جانے دو نا مجھے۔۔ تت تمہاری ڈیل تو شہباز ضمیر کے ساتھ ہے نا۔۔ میرا ان ڈیلز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔ پلیز جانے دو مجھے “_
ساتھ بیٹھا شخص اسکی سسکیوں۔۔ اسکی التجاؤں سے بےنیاز بنا اپنے کام میں مصروف تھا۔۔
“میں کہ رہی ہوں نا تمہیں میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔۔ تت تم اپنے مطلب کے لئے اپنے جیسی کوئی لڑکی دیکھ لو ۔۔ مجھے جانے دو۔۔ میں جان لے لونگی تمہاری “_
اسکے ہاتھوں سے موبائل لے کر پھینکنے کی کوشش کرتی وہ ہذیانی انداز میں چیخی۔۔
“اسٹاپ اٹ “_
اسکی کلائی تھام کر سختی سے اسکے ہاتھ سے اپنا موبائل لیتے وہ سرد انداز میں بولا۔۔
“لسٹن ينگ لیڈی _ اسکے چہرے کو جکڑے وہ اسکے ساتھ کوئی نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔ ” نوح ارسلان اس نوٹ انٹرسٹڈ ان یو ایٹ آل ۔۔ ناؤ لسٹن ٹو می کیئر فلی, آپ خاموشی سے میرے ساتھ جائينگی۔۔ اور تحمل سے میری بات سنینگی۔۔ اس میں آپ کا اور صرف آپ کا فائدہ ہے “
اس نے جتاتے ہوئے کہا۔۔ وہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھی کے اس سب میں اسکے کون سے فائدے کی بات کر رہا تھا۔۔ کس قدر تمسخر تھا نوح ارسلان کے لہجے میں۔۔ اسکے الفاظ میں۔۔ جیسے وہ کوئی اچھوت شہ ہو۔۔
وہ اسے بتا رہا تھا کے وہ اس کی ذات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔۔
وہ شخص جس نے دوسری ملاقات میں ہی اسے زبردستی اپنی گاڑی میں لا پٹخا تھا وہ اسے کہ رہا تھا کے اسے اسکی ذات سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔۔
آنسوں تواتر سے اسکی آنکھوں سے گرتے گال بھیگو رہے تھے ۔۔
کیا تذلیل کے لئے ہر جگہ اسکی ذات ہی رہ گئی تھی۔۔
یا ذلالت نے بس اسکا راستہ ہی دیکھا تھا۔۔
آنسوں کا گولہ حلق میں پھنسنے لگا تھا۔۔اسکے بعد وہ کچھ نہیں بولی تھی۔۔
نوح نے کن انكهیوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
اسے روتے دیکھ ایک پل کو اسکا دل نرم ہوا تھا۔۔ اگلے ہی لمحے وہ لب بھنچے گاڑی سے باہر دیکھنے لگا تھا۔۔
“نوح بیٹا۔۔ گھر پہنچ گئے ہم “_
ڈرائیور کی آواز پر وہ ہوش میں آیا تھا۔۔ اسکا ہاتھ تھامے وہ گاڑی سے نکلا۔۔ وہ اسکے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی۔۔
وسیع راہداری سے ہوتے وہ ایک کشاده کمرے کے باہر آ کھڑا ہوا تھا۔۔
۔
“میری بات غور سے سنیں ازورا لاشاری۔۔ اندر میرے دادو موجود ہیں۔۔ آپ ان سے ملینگی۔۔ اور بہت اچھے سے ملینگی۔۔ آپ کی کسی بھی بات یا حرکت سے انھیں یہ محسوس نہیں ہونا چاہئے کے میں آپ کو زبردستی یہاں لایا ہوں۔۔ ورنہ ۔۔ انجام بہت برا ہوگا “_
اسکا انداز حکمیہ تھا۔۔ جیسے جانتا ہو کے وہ وہی کرے گی جو وہ کہے گا۔۔
“میں انھیں صاف صاف بتاؤں گی جس طرح تم مجھے لے کر آئے ہو “_
آنسوں بیدردی سے رگڑتی وہ بےخوفی سے بولی ۔۔ وہ جو اندر کی جانب بڑھ رہی تھی گردن پر ٹھنڈی نال محسوس کرتے اسکے باقی کے الفاظ اندر ہی کہیں دب گئے تھے۔۔
۔
“اگر میرے دادو کو آپ کی وجہ سے کوئی نئی ٹینشن ملی تو میں آپ کی سانسیں ختم کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاؤنگا ازورا لاشاری “اسکی جان ہوا کر کے وہ اطمینان سے بولا۔۔ “تت تم مجھے مار نہیں سکتے “
وہ چاہ کر بھی اپنے لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو نہیں پا رہی تھی۔۔
“اور آپ کو یہ خوش فہمی یا غلط فہمی کیوں ہے ؟”
وہ اپنے ہاتھوں پر مزید زور دیتے بولا۔۔ اطمینان میں زرا فرق نہیں آیا تھا۔۔
۔
“میں اپنی کہی باتوں کا یقین دلانے والوں میں سے نہیں ہوں ازورا “_
وہ سنجیدہ تھا اسکے لہجے میں مذاق کی رمق تک نہیں تھی۔۔
۔
“تو پھر میری زندہ لاش پر اپنی دو گولیوں کا ضیاع کر لیں نوح ارسلان “_
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بے خوفی سے بولی تھی۔۔
نوح محظوظ ہوا۔۔ چوبیس گھنٹوں میں اس لڑکی کے کتنے ہی روپ آشکار ہوئے تھے اس پر۔۔
یہ تو طہ تھا کے وہ کوئی دبو سی لڑکی نہیں تھی۔۔
پر پھر اچانک وہ خوفزدہ کیوں نظر آنے لگتی تھی۔۔
“جو لوگ موت سے نہیں ڈرتے انھیں زندگی سے خوف آتا ہے ازورا لاشاری۔۔ مجھے مجبور نہیں کریں کے میں آپ کے ساتھ کچھ ایسا کروں “_
وہ اپنی بات مکمّل کرتا اسے لئے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔
سامنے ہی ایک بزرگ ول چیئر پر بیٹھے نظر آئے تھے۔۔
سرخ و سفید رنگت کے مالک حشاش بشاش سے اختر شیروانی جنہیں دیکھ کر ہی انکی نفاست پسند طبیعت کا اندازہ ہو رہا تھا۔۔
۔
“اختر صاحب ۔۔ دیکھیں آپ سے ملنے کون آیا ہے ؟”
اسکا ہاتھ چھوڑتے وہ انکی جانب بڑھ گیا تھا۔۔ اسکی جانب پشت ہونے کی وجہ سے انہوں نے ابھی اسے دیکھا نہیں تھا۔۔
“ازو۔۔ زوہیب کی بیٹی ۔۔
اسکی جانب رخ کرتے انکے لبوں سے نکلا تھا۔۔
ازورا نے حیرانی سے انکی جانب دیکھا۔۔ وہ اسے پہچانتے تھے۔۔ اسکا نام بھی جانتے تھے۔۔
وہ تو آج پہلی بار ان سے مل رہی تھی۔۔
نوح انکی آنکھوں کی چمک دیکھ کر مسکرایا۔۔
“یہاں میرے پاس تو آؤ “_
انکے اشارے سے اپنے پاس بلانے پر وہ دھیرے سے انکے قریب آئی تھی۔۔

“زوہیب کی بیٹی ہو نا تم “_
كانپتے ہاتھوں سے اسکا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کرتے وہ بولے۔۔ خوشی سے انکی آواز کانپ رہی تھی۔۔
“جج جی۔۔
اسکی آواز کانپ سی گئی تھی۔۔ کتنے عرصے بعد اپنے بابا کا نام کسی اور سے سنا تھا۔۔ اسکے بابا کا تو نام بھی لینے کی ممانعت تھی ۔۔
۔
“دیکھو۔۔ وو وہ دیکھو۔۔ آج بھی دیکھتا ہوں میں اسے۔۔ مم میں بھولا نہیں ہوں زوہیب کو “_
اسکی توجہ ٹیبل پر لگی ایک تصویر کی جانب مبزول کرواتے وہ بولے۔۔
اس نے سرعت سے وہ تصویر ہاتھ میں لی تھی۔۔
وہ ایک پرانی تصویر تھی جس میں اسکے بابا اسے گود میں لئے کھڑے تھے۔۔ ساتھ ہی اسکے بابا کے ہی ہم عمر ایک اور شخص تھا۔۔
وہ پہچان نہیں پائی۔۔
وہ تو بس اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی۔۔ اس وقت اسے کچھ یاد نہیں تھا یہ بھی نہیں کے وہ ایک اجنبی جگہ کھڑی ہے۔۔
زوہیب لاشاری کی تصویر سینے سے لگاتی وہ آنسوں ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“آ آپ بابا کک کو کیسے جانتے ہیں ؟”
وہ تصویر اپنے ساتھ لگاتی وہ انکے سامنے گھٹنوں کے بل آ بیٹھی۔۔
“میرے بیٹے_ “دادو ۔۔ ازورا کے کزن انکا انتظار کر رہے ہونگے “
انکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی نوح جلدی سے بولا تھا۔۔ ازورا نے تشویش سے اسے دیکھا۔۔
“ازورا چلیں۔۔
وہ کہنے کے ساتھ ہی اسے بازو سے پکڑے کھڑا بھی کر چکا تھا۔۔
“میں یہ اپنے ساتھ لے جاؤں “_
اس نے تصویر کی جانب اشارہ کر کے اجازت مانگی تھی۔۔
ساتھ ہی وہ تصویر اٹھا بھی لی تھی۔۔ اسکے پاس اسکے بابا یا ماما کی ایک بھی تصویر نہیں تھی۔۔
“لے جاؤ بچے۔۔ تم پھر آؤ گی نا ؟”
انہوں نے خوش دلی سے اجازت دیتے آس سے پوچھا تھا۔۔
ازورا نے گھبرا کر نوح کی جانب دیکھا۔۔ وہ تو اس شخص کی شکل بھی دوبارہ دیکھنے کی خواہاں نہیں تھی۔۔
۔
“ضرور دادو “_
اسکے قریب آتے اس نے اس قدر اطمینان سے کہا تھا کے ایک پل کو وہ خوفزدہ سی ہوئی۔۔
وہ اسے لئے دروازے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔
واپسی پر بھی وہ دروازے سے چپکی بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔ نوح نے اسکی جانب دیکھا جو کھڑکی سے باہر نجانے کیا تلاش کر رہی تھی۔۔
“دیکھیں لیڈی ۔۔ میں کمزوروں پر زور دکھانے کا قائل نہیں ہوں۔۔ میرے دادو کی خواھش تھی آپ کو دیکھنا اور آپ سے ملنا۔ . آپ ایسے مانتی نہیں اس وجہ سے آپ کو اس طرح لانا پڑا مجھے۔۔ معذرت نہیں کر رہا میں کیوں کے میری وجہ سے ہی آپ یہ تصویر لے کر جا رہی ہیں جسکی اہمیت آپ ہی بہتر جانتی ہیں ۔۔
ازورا نے بھنویں سکڑ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ حد درجہ خود پسند انسان تھا یہ شخص۔۔
اسکے فون کی بیل پر دونوں متوجہ ہوئے تھے۔۔
اسکے پک کرنے سے پہلے ہی نوح نے اسکے ہاتھ سے موبائل لے لیا تھا۔۔


۔

وہ یونیورسٹی کی پارکنگ میں کھڑا کافی دیر سے اسکا انتظار کر رہا تھا۔۔ اسے کالز کر رہا تھا پر وہ کالز بھی اٹینڈ نہیں کر رہی تھی۔۔
وہ جس دن لیٹ ہوتی تھی اس دن اسے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی۔۔
اس بے ایک بار پھر اسکا نمبر ملایا۔۔ رنگ جا رہی تھی۔۔
۔
“ازو۔۔ کہاں ہو بیٹا ؟ کب سے کالز کر رہا ہوں تمہیں۔۔ آدھا گھنٹے سے پارکنگ میں کھڑا ہوں۔۔ کوئی پروبلم تو نہیں ہے ؟”
وہ ایک ہی سانس میں تمام سوالات کر گیا تھا۔۔
۔
” اٹس نوح ارسلان “_
ازورا کی جگہ کسی مرد کی آواز سن کر اسکی رگیں تن گئی تھی۔۔ دل میں بےشمار خدشات نے سر اٹھایا تھا۔۔
“کون ہو تم۔۔ ازو کہاں ہے ؟”
اس نے ضبط سے پوچھا تھا۔۔
“آپ کی کزن محفوظ ہیں۔۔ آپ کو لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں۔۔ آپ انھیں پک کر لیں “_
اسکی بات کا جواب دے بغیر ہی اگلے نے اپنی کہ کر فون بند کر دیا تھا۔۔
چند لمحے بعد ہی میسج کی بپ پر اس نے دیکھا۔۔
وہ اسے لوکیشن سینڈ کر چکا تھا۔۔
اگلے پندرہ منٹ میں وہ اسکی بتائی لوکیشن پر موجود تھا۔۔
کچھ ہی دوری پر اسے ازورا نظر آئی تھی۔۔
وہ سرعت سے اسکی جانب بڑھا۔۔
“ازو۔۔ بچے ٹھیک ہونا تم ؟”
اسکی روئی روئی آنکھیں دیکھ کر ہی اسکے حواس گم ہونے لگے تھے۔۔
۔
“دار “_
دارم کو دیکھتے ہی وہ اسکے سینے سے لگی تھی۔۔
نوح اطمینان سے کھڑا ان دونوں کا اموشنل سین دیکھ رہا تھا۔۔
۔
“یہاں کیوں آئی بیٹا تم۔۔ مجھے بتایا کیوں نہیں ؟”۔
اسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے وہ نرمی سے بولا۔۔ جواباً ازورا بے نوح کی جانب دیکھا جو دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے اطمینان سے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔
دارم نے اسے پہچان لیا تھا۔۔ وہ شہباز ضمیر کے معاملات میں نہیں بولنا چاہتا تھا پر یہاں معاملہ اسکی ازو کا تھا۔۔
۔
“کہاں لے کر گئے تھے آپ اسے؟”
وہ اسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔۔
“میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں مسٹر دارم۔۔ آپ کی کزن آپ تک صحیح سالامت پہنچ گئیں ہیں کیا یہ بہت نہیں ہے ؟
وہ اپنے ازلی خود سر لہجے میں بولا تھا۔۔
“مروت نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں اس شخص میں “_
ازو نے نتھے پھولائے اسکی جانب دیکھا۔۔ کیا تھا جو وہ دارم کو بتا دیتا۔۔
“دار یہ مجھے اپنے دادا سے ملوانے لے کر گئے تھے “_
دارم کے شانے پر ہاتھ رکھتے ازورا نے نرمی سے کہا _ نوح کے چہرے پر ناگواری ابھری تھی۔۔ “آپ دونوں یہاں پبلک پلیس میں شوق سے اپنے گھریلو معاملات ڈسکس کریں۔۔ مجھے اجازت دیں “
طنزیہ لہجے میں کہتا وہ ازورا کو اپنی گاڑی کے دروازے سے سائیڈ ہٹا کر گاڑی میں بیٹھتا گاڑی زن سے بھگا گیا۔۔
پیچھے وہ دھواں کی وجہ سے بری طرح کھانسنے لگی تھی۔۔
“جاہل۔۔ خود پسند آدمی “_
وہ باآواز بلند بولی تھی۔۔ لیکن سننے والا کون تھا۔۔
“تم ٹھیک ہو ؟”
دارم اسے اپنی گاڑی کی جانب لے آیا۔۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی بیٹھ گئی۔۔
۔
“وہ کیا کہ رہا تھا ازو۔۔ اور تم اسکے ساتھ کیسے چلی گئی “_
وہ ڈرائیو کرتا ساتھ ساتھ اس سے سوال بھی کر رہا تھا۔۔
“میں گئی نہیں تھی زبردستی لے کر گیا تھا مجھے وہ “_
اسکی حرکت یاد آتے ہی اسے نئے سرے سے غصّہ آیا تھا۔۔
“پر کیوں ؟”
دارم نے حیرانی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“اپنے دادو سے ملوانے کے لئے۔۔
وہ گہری سانس لیتی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتی آنکھیں بند کر گئی۔۔ وہ تصویر اب بھی اسکے ہاتھ میں ہی تھی۔۔
“دار۔۔ وہ بابا کو جانتا ہے “_
وہ دھیمے سے بولتی اسے تصویر دکھانے لگی۔۔
“پر کیسے ؟”
حیران تو وہ بھی تھا۔۔ زوہیب لاشاری کے بہت سے بزنس فرینڈز تھے۔۔ ہر ایک کو تو وہ نہیں جانتا تھا۔۔
“بزنس کی وجہ سے شاید “_
وہ خود ہی اندازہ لگا گیا تھا۔۔
“ہاں شاید “_
ازورا نے بھی حامی بھری۔۔ اسکے بابا کے بہت سے بزنس فرینڈز تھے وہ ان میں سے چند ایک کو ہی جانتی تھی۔۔ نوح ارسلان کا تعلق بھی ان میں سے کسی فیملی سے ہوگا۔۔
خود کو تسلی دیتی وہ ایک بار پھر آنکھیں موند کر سیٹ سے ٹیک لگا گئی۔۔
گاڑی گھر کی پارکنگ میں کھڑی کرتے دارم کی نظر دوسری جانب گیٹ سے داخل ہوتی امل پر پڑی۔۔
“ازو۔۔ تم فریش ہو کر کھانا نکالو ساتھ ہی کھائینگے “_
ازورا کو اندر جانے کا کہ کر وہ اسکی جانب آیا تھا۔۔
وہ بھی شاید یونیورسٹی سے ہی آ رہی تھی۔۔ وہ اسکی روٹین سے متعلق بہت کم ہی جانتا تھا۔۔
“کہاں سے آ رہی ہیں۔۔ پیر کیسا ہے اب آپ کا ؟”
اپنے پیچھے بھاری مردانہ آواز سن کر امل نے ٹھہر کر اسکی جانب دیکھا۔۔
بلیک شرٹ اور پینٹ میں ملبوس۔۔ آستین کہنیوں تک فولڈ کیے وہ اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔ بال ہمیشہ کی طرح آج بھی ماتھے پر بکھرے ہوئے اسکی توجہ کھینچ رہے تھے۔۔
اسکی نظروں کے ارتکاز پر وہ ایک ابرو اٹھائے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔ جیسے نگاہوں ہی نگاہوں میں اسکی خواھش پڑھ لینا چاہتا ہو۔۔
اس نے فورا سے پہلے نگاہیں جھکا لیں تھیں۔۔ وہ اس شخص کو اپنے دل کے حال سے واقفیت نہیں دینا چاہتی تھی۔۔
دارم کے لبوں پر پل بھر میں مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔۔
“آپ کو لگتا ہے آپ نگاہیں جھکا کر ان سے جھلکتے جذبات مجھ سے چھپا لینگی ۔۔
اسکے لہجے میں مسکان بول رہی تھی۔۔ دھیرے سے دو قدم مزید قریب آتے وہ اطمینان سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
سرمئی رنگت کی سٹائلش سی کرتی اور ہم رنگ ٹرآوزر میں ملبوس۔۔ لمبے کالے بالوں کی چوٹی کیے وہ نکھری شفاف سی اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔
بڑی بڑی آنکھیں۔۔ جن پر لرزتی پلکیں اسکے دل کی حالت کا پتہ دے رہی تھیں۔۔ اسکی رنگت بہت زیادہ صاف نہیں تھی۔۔ اسکے مقابلے میں وہ سانولی سی معلوم ہوتی تھی۔۔ مگر یہ سلونہ روپ امل شہباز پر سجتا تھا۔۔
“آپ کا روم روم میری آمد پر رقص کرتا مجھے آپ کے جذبات کی خبر دے دیتا ہے۔۔ لیکن انہیں الفاظ دینے کی کبھی کوشش نہیں کیجیے گا امل “_
اسکی بات پر گلال میں ڈھلتا اسکا چہرہ یکدم ہی تاریک ہوا تھا۔۔
وہ واقف تھا اسکے جذبات سے مگر پھر بھی انکاری تھا۔۔
کتنا ظالم تھا وہ۔۔
کتنا سفاک تھا۔۔وہ روتی ہوئی اندر کی جانب گئی تھی۔۔