Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 9)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 9)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
نیم غنودگی کی حالت میں اسکے کانوں میں کسی کے باتیں کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں،آہستہ آہستہ ذہن بیدار ہوا تو سر درد سے پھٹنے لگا تھا اسکا،آنکھیں بمشکل کھولنے پر سب کچھ دھندلا سا دکھا تھا،کسی کی دھندلی شکل تھی،کوئی اسے ہلکے سے جھنجھوڑ کر اٹھا رہا تھا،شادل نے پلکیں جھپک کر مقابل کو دیکھنے کی کوشش کی،انجانہ چہرہ تھا اس سے پہلے وہ پھر آنکھ بند کرتا کسی نے اسکے چہرے پر پانی سے چھڑکاؤ کیا،دماغ بلکل ماؤف ہونے لگا تھا پھر بھی تھوڑی بہت کوششوں کے تحت وہ اٹھ کر بیٹھنے میں کامیاب ہوا،
“کپڑوں سے تو یہی لگتا ہے کہ کسی اچھے گھرانے کا ہے۔۔۔”
کسی کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ جو خاموشی سے زمین کو گھور رہا تھا نیم وا آنکھیں اٹھا کر دیکھا،چاروں طرف لوگوں کا ہجوم تھا،
“میں۔۔۔کہاں۔۔”
“بیٹا آپ یہاں پر پتا نہیں کب سے بے ہوش پڑے تھے۔۔۔۔میرے بیٹے کی نظر پڑی تو اس نے سب کو آواز دی۔۔۔شکر ہے آپ کو ہوش آگیا ورنہ ہمیں تو لگا تھا کہ آپ۔۔۔۔خیر چھوڑیں یہ بتائیں آپ کون ہیں۔۔۔۔اور کیا ہوا ہے آپ کے ساتھ۔۔۔”
ایک بوڑھے آدمی کے سب بتاکر اب سوال کرنے پر شادل کے دماغ میں یکدم شانزے کا چہرہ لہرایا اور وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا،اسکے لڑکھڑانے پر ان لوگوں نے مدد کی کھڑے ہونے میں،
“آپ لوگ ٹائم بتائیں گے مجھے۔۔۔۔”
شادل کے بےتابانہ انداز پر ان لوگوں کو حیرت ہوئی پھر ان میں سے ایک نے کہا،
“یہی کوئی دیڑھ بجنے کو ہیں رات کے۔۔۔”
اسکا یہ کہنا تھا کہ شادل کا دل دھک سے رہ گیا،کسی انہونی کے ہونے کا سوچ کر وہ جلد ہی بولا،
“دیکھیں۔۔۔آپ لوگ میں سے کوئی بھی مجھے ابھی (۔۔۔۔۔۔) میرج ہال چھوڑ سکتا ہے پلیز۔۔۔”
مخصوص نرم مگر عاجزانہ لہجے میں بولتا وہ بہت بےچین لگ رہا تھا،ان میں سے ایک آدمی نے اسکی بات پر ہامی بھرتے ہوئے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا،شادل کا دل بری طرح گھبرارہا تھا،آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ لوگ ہال پر پہنچے،جلدی سے بائیک سے اترتا وہ ہال کی جانب گیا پر وہاں اندھیرا دیکھ وہ دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیرا،کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا،اپنی زندگی اسے یوں اچانک بدلتی ہوئی لگی،آخر کیا ہوا تھا سب کچھ کیسے بدلا کچھ پلے نہیں پڑ رھا تھا،وہ واپس مڑا اور اس آدمی کو مرتضیٰ ہاؤس کا ایڈریس بتاکر وہاں جانے کی ریکویسٹ کی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔مام نکلیں باہر۔۔۔۔”
نیچے سے آتی آواز پر شانزے جو اسکے روم میں اپنا سر پکڑے بیٹھی تھی جھٹکے سے کھڑی ہوئی،بھاری آواز مقابل کی حالت کی نشاندہی کررہی تھی،چھوٹے قدم اٹھاتے شانزے روم سے نکلی پھر اوپر بنے پِلر کے برابر میں کھڑی ہوئے نیچے دیکھنے لگی،پیام کی لہو رنگ آنکھیں اوپر اٹھیں تو ان میں اور انگارے جلے شانزے کو دیکھ کر،
“مام۔۔۔۔ڈیڈ۔۔۔”
اسے قہر برساتی نظروں سے دیکھ وہ پکار نہیں دھاڑ رہا تھا،تبھی رابیہ بیگم لاؤنج میں آئیں ساتھ ہی انکے مرتضیٰ صاحب بھی تھے جنکی سنجیدہ نظریں پیام پر پڑیں،سرخ چہرہ کشادہ پیشانی پر خراب کیے بال آنکھوں کے کنارے بلکل لال وہ انہیں کافی بکھرا ہوا لگا،
“پیام بیٹا کیا ہوا ہے۔۔۔”
رابیہ بیگم پریشانی سے اسکا سرخ چہرہ چھوتے ہوئے پوچھیں،تو وہ شانزے سے نظر ہٹائے انہیں دیکھنے لگا،
“کیا ہوا ہے۔۔۔کچھ بھی تو نہیں۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔واؤ۔۔۔میری لائف ڈسٹرائے کر کے آپ پوچھ رہی ہیں کیا ہوا ہے۔۔۔”
انکے ہاتھ غصے میں جھٹکتے ہوئے وہ تمسخر زدہ لہجے میں گویا ہوا،
“بھائی چلے گئے تو میری کیا غلطی۔۔۔۔ایک میں ہی دکھا تھا آپ لوگوں کو برباد کرنے کے لیے”۔۔۔اسکی دھاڑ پر رابیہ بیگم نے بےساختہ کانوں پر ہاتھ رکھے،مرتضٰی صاحب ہنوز سنجیدگی سے اسکے بکھرے حلیے کو دیکھ رہے تھے،
اوپر کھڑی شانزے احساسِ تذلیل و ہتک کے زمین پر گڑنے لگی تھی،
“بیٹا ریلیکس ہوجاؤ۔۔۔”
“ارے کیسا ریلیکس۔۔۔۔بھاڑ میں جائے سب۔۔۔پوری زندگی برباد کر کے رکھ دی میری۔۔۔۔لیکن اب بہت کرلی آپ لوگوں نے۔۔۔۔اب میں بولتا ہوں۔۔۔اس لڑکی کو میں کبھی بھی بیوی کا درجہ نہیں دونگا۔۔۔۔بلکہ کچھ ہی دنوں میں ڈیوارس۔۔۔”
پیام کے الفاظ مکمل ہونے سے قبل ہی منہ میں دفن ہوئے جب مرتضیٰ صاحب کا بھاری ہاتھ اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا،شانزے کی ہچکیاں بندھ گئیں،
“مرتضیٰ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔”
رابیہ بیگم بیچ میں آتے ہوئے روکر بولیں جبکہ پیام بےیقینی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا،
“یہ کیا لگا رکھا ہے اس لڑکی وہ لڑکی یا یہ لڑکی۔۔۔۔بیوی ہے وہ تمہاری سمجھے۔۔۔اور ابھی جو لفظ تمہارے منہ سے نکلنے لگا تھا۔۔۔۔وہ آئندہ اگر نکلا تو یقین کرو پیام مرتضیٰ تمہیں میں بخشوں گا نہیں۔۔۔”
غضب زدہ لہجے میں پیام کو آنکھ دکھاتے ہوئے مرتضیٰ صاحب بولے،
“شانزے بیٹی کے ساتھ اگر تم نے کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا تمہارے لیے۔۔۔۔”
اسکی خاموشی پر وہ پھر گویا ہوئے،پیام کی بےیقینی پل میں تحیر میں بدلی،
“آپ سے برا کوئی۔۔۔”
“پیام پلیز بیٹا چپ ہو جاؤ۔۔۔”
وہ اور بلند آواز میں بولنے لگا تھا جب رابیہ بیگم اسکے منہ پر ہاتھ رکھتی ریکویسٹ کرنے لگیں،
“امی۔۔۔”
کھوکھلی مگر نرم آواز پر سب ہی چونک کر داخلی دروازے کی جانب دیکھے تھے،شانزے کے آنسو رکے تھے،شادل مرتضیٰ نہایت ہی ملگجے سے حلیے میں وہاں کھڑا تھا،نم پلکیں اسکے رونے کی عکاسی کررہی تھیں جبکہ چہرے پر رقم اذیت اندر کی تکلیف کا پتا دے رہی تھی،صاف واضح تھا کہ وہ ان لوگوں کی کہی ہوئی باتیں سن چکا تھا،وقت اپنا کھیل کھیل چکا تھا اور اسکی محبت اب کسی اور کی محرم بن گئی تھی اور وہ کسی کوئی اور نہیں بلکہ اسی کا چھوڑکٹا بھائی پیام مرتضیٰ تھا،
مرتضیٰ صاحب چند قدم کا فاصلہ طے کر کے اسکے پاس آئے پھر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد انکے تھپڑ نے شادل کو سر جھکانے پر مجبور کردیا،،شانزے کا ہاتھ بےساختہ منہ پر گیا،رابیہ بیگم کے آگے بڑھنے سے قبل ہی انکی آواز گونجی،
“کہاں چلے گئے تھے آپ بتانا پسند کریں گے۔۔۔”
انکے سوال پر شادل اذیت بھری نظریں اٹھائے شانزے کو دیکھا تھا،جو خود بھی تکلیفوں میں گھری تھی اسکے دیکھنے پر وہ نگاہ پھیر گئی،دل میں ٹیس اٹھی کہ آخر کیوں چھوڑ کر گیا تھا وہ اسے،
“میں۔۔۔کہیں۔۔نہیں گیا تھا۔۔۔ڈیڈ وہ۔۔۔کچھ لوگوں نے۔۔۔”
اپنے الفاظ وہ اندر بڑھتی گھٹن کے باعث مکمل نہ کرپایا تبھی گھٹنوں کے بل شکستہ حال میں بیٹھا تھا،جیسے تکلیف برداشت سے باہر ہو،
“کیا ہوا تھا میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔پر اب کیا ہوا ہے۔۔۔۔یہ بھی سمجھ سے پرے ہے۔۔۔”
زمین کو گھورتا وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوا،ایک آنسو اسکی آنکھوں سے نکلتا زمین پر گرا،رابیہ بیگم تڑپ کر آگے بڑھیں،
“میرا بچہ۔۔۔ادھر دیکھو۔۔۔کیا ہوا تھا کہاں تھے تم۔۔۔بتاؤ تو کچھ ہمیں۔۔۔”
اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامے وہ محبت سے پوچھنے لگیں،شادل بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا،پھر یکایک کھوکھلی ہنسی ہنسا،
“چھوڑیں نا۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے کہاں تھا۔۔۔آخر کو جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔۔۔اور اب تو میں تہی داماں رہ گیا تو اب کیا کہنا۔۔۔”
نیچے نظر کیے وہ ان الفاظوں کی ادائیگی سے جیسے خود کو ہی اذیت دینا چاہ رہا تھا،
“شادل۔۔۔”
“امی پلیز۔۔۔میں۔۔۔یہ سب قبول نہیں۔۔۔کرپارہا۔۔۔سب کچھ یوں اچانک۔۔۔مجھے کچھ وقت دیں۔۔پلیز۔۔۔”
انکا ہاتھ تھامے وہ التجا کرنے لگا،لہجہ کافی تھکا ہوا تھا،جس پر وہ دھیرے سے اثبات میں سر ہلانے لگیں،
“ایک کام کرتے ہیں۔۔۔”
اچانک پیام کے بولنے پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے،
“دیکھیں جو میں ابھی بولوں گا پہلے تحمل سے آپ لوگ سنیں۔۔۔اس میں سب کی ہی بھلائی ہے۔۔۔کیوں نہ ایسا کریں کہ میں اس لڑکی کو۔۔۔”
بولتے ہوئے رک کر وہ ایک نظر مرتضیٰ صاحب کو دیکھا تھا جنکی ناگوار نظریں اسی پر تھیں،
“تحمل سے ڈیڈ۔۔۔تحمل سے سنیں۔۔۔میں کہہ رہا ہوں۔۔۔کہ میں اس لڑکی کو ڈیوارس دے دوں پھر شادل بھائی کی آپ لوگ اس سے شادی کروادیں۔۔۔یوں سب چیزیں اپنی جگہ پر آجائے گی۔۔۔”
اسکی سوچ پر شانزے نے کراہیت آمیز نظروں سے پیام کو دیکھا،ایک طرف مرتضیٰ صاحب کو جہاں افسوس ہوا وہی شادل نے نفی میں سر ہلایا،خود کو بمشکل سنبھالے وہ اٹھ کر پیام کے سامنے آیا تھا،
“میرے بھائی۔۔۔وہ لڑکی ہے۔۔۔کھلونا نہیں کہ جب دل چاہے کسی سے شادی کردو پھر کہو کہ غلطی ہوئی اب ڈیوارس دو اور دوسرے سے شادی کرو۔۔۔۔اور چلو مان لیا ایسا کرتے بھی ہیں تو فائدہ کس کا ہوگا۔۔۔۔میرا ہوگا اور تیرا ہوگا۔۔۔شانزے کا تو نقصان ہی ہوا نا۔۔۔۔طلاق یافتہ کا الگ دھبہ لگے گا اس پر۔۔۔۔”
پیام کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ نرمی سے اسے سمجھایا تھا جبکہ پیام حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھنے لگا،شادل کی صحیح بات کو اپنی ہی سوچ میں رکھتے ہوئے وہ سوچا کہ کیا ہے وہ انسان،اپنی ہی محبت کو اب قبول کرنے سے انکاری تھا،اوپر کھڑی شانزے کو بےساختہ ترس سا آیا تھا شادل پر،اسے یہی بات تو شادل کی پسند تھی کہ اور مردوں کی طرح وہ کسی چیز کو نیگیٹیوو نہیں لیتا تھا بلکہ ہر بات کو وہ پوزیٹیوو وے میں سوچتا،
“میں نہیں جانتا کہ کس نے مجھ سے کیا دشمنی نکالی۔۔۔میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ جیسے بھی۔۔۔پر اب وہ تیری بیوی ہے میرے بھائی۔۔۔اور اسکی عزت تیری عزت ہے۔۔۔اسے تُو کسی کو بانٹ یا دے نہیں سکتا۔۔۔تُو سمجھ رہا ہے نا۔۔۔”
پیام کی مسلسل خاموشی پر وہ اسکا کندھا ہلکے سے ہلاتا ہوا آرام سے پوچھا تھا پر اچانک وہ ایک قدم پیچھے ہوا جب پیام غصے میں اسکا ہاتھ جھٹکتا اوپر گیا،اسے اوپر جاتا دیکھ شادل نے ایک نظر شانزے کو دیکھا پھر تھکان زدہ سا مسکراتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا،مرتضٰی صاحب نے بھی اپنے کمرے کا رخ کیا البتہ رابیہ بیگم روم میں جانے سے پہلے ایک نفرت بھری نظر سے شانزے کو گھورنا نہ بھولیں۔۔۔
سب کے جانے کے بعد وہ بھی لہنگا سنبھالتی مڑی اور پیام کے روم میں آگئی،کمرہ خالی تھا،ڈریسنگ ٹیبل پر جاکر اس نے سب سے پہلے خود کو بھاری جیولری سے آزاد کیا پھر دوپٹے کی پن نکال کر بیڈ پر جا بیٹھی،اسکے ذہن میں شادل کے الفاظ گونجے تو گہرہ سانس بھرتے ہوئے وہ خود کو بھی اس رشتے کے لیے تیار کرنے لگی،جانتی تھی بہت مشکل ہوگا یہ سب پر شوہر کی شکل میں جس بدتمیز شخص سے اسکا پالا پڑا تھا وہ پریشان بھی تھی اپنی سوچوں کو جھٹکتی ابھی شانزے لیٹنے ہی لگی تھی کہ بالکنی میں وہ جو سیگریٹ پھونک رہا تھا اب وہی پر پھینکتا کمرے میں آیا،شانزے کو اپنے بیڈ پر بیٹھا دیکھ وہ بپھر ہی گیا،
“اے لڑکی۔۔۔اٹھو فوراً۔۔۔”
سخت لہجے میں کہتے وہ گھورا اسے،اسکی آواز پر شانزے چونکی،
“کیوں۔۔”
وہ حیرت سے پوچھی تھی،
“کیوں کیا مطلب۔۔۔وہاں پر جاکر سو۔۔۔یہ میری جگہ ہے اور میں بیڈ پر اکیلے سونے کا عادی ہوں۔۔۔”
پیام کو اسکا سوال غصہ دلاگیا تبھی تاثرات تنے رکھے وہ صوفے کی طرف اشارہ کیے بولا،شانزے نے صوفے پر نظر ڈالے واپس اسے دیکھا،
“پر میں صوفے پر نہیں سو سکتی۔۔۔۔”
ہلکی آواز میں بولتے وہ کمفرٹر پکڑی،
“کیوں۔۔”
“میری عادت نہیں ہے نا وہاں سونے کی۔۔۔”
پیام کے سوال پر وہ اچانک جھنجھلاکر بولی تھی،
“ہٹو بھئی یہاں سے۔۔۔میرا بیڈ ہے یہ۔۔۔”
اب کی بار پیام بلند آواز میں جھلا کر بولا،پہلے ہی اسکا موڈ سخت خراب تھا اوپر سے شانزے کی ہٹ دھرمی پر سر میں الگ درد ہونے لگا تھا،دوسری طرف شانزے نے میک اپ سے لبریز شہد رنگیں آنکھوں سے اسے گھورا،ساری تکلیفیں ایک طرف پر وہ کم از کم صوفے پر نہیں سو سکتی تھی،اسکی عادت ہی نہیں تھی،ایک نظر پھر صوفے پر ڈال کر وہ بولی،
“بھئی میں نہیں سوؤنگی وہاں پر۔۔۔۔تم خود ہی سوجاؤ۔۔۔”
جلدی سے اپنی بات مکمل کرتی وہ بیڈ پر لمبی تان کر لیٹی ساتھ ہی کمفرٹر اوڑھ لیا،
پیام نے پہلے تو منہ کھولے اسے اپنے ہی بیڈ پر یوں سکون سے لیٹا دیکھا پھر غصے میں پیر زور سے زمین پر مارا،
“ابے یار یہ کیسی مصیبت مجھ پر مسلط کر دی گئی ہے۔۔۔”
اسکی بےبسی بھری روہانسی آواز کمفرٹر کے اندر شانزے نے سنی تو چہرہ بگاڑے اسکی نقل اتارتی وہ دوسری کروٹ لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی،
“لڑکی سنو۔۔۔میں آخری مرتبہ بول رہا ہوں۔۔۔اٹھ جاؤ۔۔۔”
اب کی بار پیام کا انداز وارننگ دینے والا ہوا پر وہ بھی ٹس سے مس نہ ہوئی،
“ٹھیک ہے تو پھر۔۔۔”
ہلکے سے بڑبڑاتے وہ بھی بیڈ پر آلیٹا شانزے کے برابر میں،
“کیا مصیبت ہے۔۔۔”
جھٹکے سے اٹھتی شانزے اس پر دھیمی آواز میں چیخی جس پر دل جلانے والی مسکراہٹ سمیت پیام نے اسے دیکھا،
“کیا ہوا۔۔۔سورہا ہوں میں تو۔۔۔”
اسکے اور قریب ہوتے پیام نے واپس اپنی ٹون میں آکر مزے سے کہا،
“تم۔۔۔چھچھورے۔۔۔دور ہٹو۔۔۔”
اچانک پیچھے سے ایک تکیہ اٹھا کر بیچ میں رکھتے وہ اسے آنکھ دکھا کر گویا ہوئی،
“اے۔۔۔چھچھورا نہیں بولا کرو مجھے۔۔۔”
سیریس ایکسپریشن دکھا کر وہ بھی بولا
“کیوں۔۔۔اپنی اصلیت جان کر برا لگتا ہے۔۔۔”
ایک آئبرو اٹھا کر وہ اس پر طنز کی تو پیام لب بھینچ گیا،
“دیکھو۔۔۔میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔”
کچھ نہ بن پڑا تو غصے میں بول کر وہ دوسری کروٹ لیتا سویا،اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورتے شانزے نے ایک اور تکیہ پیچھے سے اٹھایا پھر ٹھیک سے دونوں تکیوں کو بیچ میں سیٹ کیے وہ دوسری طرف لیٹی،پر اگلے ہی لمحے اسے جھٹکا لگا جب پیام نے اس پر سے کمفرٹر پورا کھینچ کر خود اوڑھ لیا،
شانزے اٹھ کر اس سے کمفرٹر چھینی تھی،بہت کوشش کے بعد آدھے سے زیادہ کمفرٹر ہاتھ لگا تو وہ خود کو لپیٹے لیٹ گئی،پیام نے مڑ کر اسے گھورتے ہوئے واپس کمفرٹر کھینچا تھا،پوری رات یونہی کمفرٹر کی چھینا چھینی میں دونوں سوئے تھے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات اس نے آنکھوں میں گزاری تھی کتنا مشکل ثابت ہوا تھا اسے سب کے سامنے ہمت سے کھڑے رہنا اپنی محبت کو یوں غیر ہوتا دیکھ کتنی تکلیف ہوئی تھی پر وہ ایسا تو نہیں تھا جو ان سب کے بعد کوئی غلط راستہ اختیار کرتا وہ تو قسمت کے فیصلوں کو ماننے والا تھا،دل میں یک گونہ شکایت تھی کہ اس نے کونسا کسی کا کچھ بگاڑا تھا جو اسکے ساتھ یہ سب ہوا پھر خود پر جبر کرلیا یہ سوچ کر کہ وہ کون ہوتا ہے رب کے فیصلے کے آگے اپنی چلانے والا،رات کاٹنا مشکل تھی پر وہ کاٹ گیا اور صبح ایک نئی زندگی شروع کرنے کا سوچ وہ تیار ہوا تھا،وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ کسی بھی بات کو وہ اب سر پر سوار نہیں کرنے والا،جانتا تھا اس فیز سے نکلنا تھوڑا مشکل ہوگا پر وہ تو کرہی سکتا تھا یہ سب،آخر کو شادل مرتضیٰ ایک پوزیٹیوو سوچ کا مالک تھا،
مرتضیٰ صاحب کو اس نے رات کے واقعے کا بتایا تو وہ بھی کچھ حیران ہوئے تھے لیکن اپنے بڑے بیٹے کی ہمت اور صبر کو وہ داد دیے بغیر نہ رہ سکے،آفس کے لیے وہ جلد ہی نکل گیا تھا ساتھ ہی مرتضیٰ صاحب نے اسے یہ بات بتائی تھی کہ آج رات وہ مرتضیٰ ہاؤس ہی میں چھوٹی سی ولیمہ کی تقریب رکھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“واٹ ولیمہ۔۔۔پر کیوں۔۔۔”
صبح نیچے آنے پر پیام کو جب سے یہ خبر ملی تھی تب سے وہ بپھرا ہوا تھا،اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ خاموشی سے سر جھکائے ناشتہ کرتی شانزے کا سر پھاڑ کر رکھ دے،
“آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ویسے بھی شادی ہوچکی ہے۔۔۔”
اپنا ناشتہ ختم کر کے مرتضیٰ صاحب نے تحمل سے اس سے پوچھا،
“یہی بات تو میں بھی کہہ رہا ہوں ڈیڈ۔۔۔کہ شادی تو ہو ہی چکی ہے نا تو پھر یہ فضول سا ولیمہ کیوں۔۔۔”
اسے اپنا آپ بےبس لگ رہا تھا یہ بولتے ہوئے،
“شام سے مہمان آنا شروع ہو جائیں گے۔۔۔۔رابیہ بیگم باقی انتظامات آپ دیکھ لیجیے گا۔۔۔میں زرا ایک کال کر لوں۔۔۔”
اسکے اعتراضات کو خاطر نہ لاتے ہوئے وہ پیام کو بول کر آخر میں رابیہ بیگم کو بتاکر اٹھے تھے،
“دل تو چاہ رہا ہے تمہارا منہ توڑ کر رکھ دوں۔۔۔”
مرتضیٰ صاحب کے جانے کے بعد پیام شانزے کے جھکے سر کو خونخوار نظروں سے گھورتا غرایا تھا،
“ہاتھ بھی لگا کر دکھا دو۔۔۔”
اسے ناگواریت سے دیکھتے وہ لٹھ مار لہجے میں بولی،
“اے لڑکی۔۔۔شوہر ہے تمہارا۔۔۔عزت سے بات کرو۔۔۔”
رابیہ بیگم کو اسکا زبان چلانا کھلا تبھی روعب دہ آواز میں کہتے ہوئے وہ پیام کی طرف اشارہ کیں،
“شوہر اگر عزت دینے والا ہوتا تو میں بھی ضرور دیتی عزت۔۔۔”
چئیر سے اٹھتے وہ سنجیدگی سے بول کر سیڑھیوں کی جانب گئی،رابیہ بیگم کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جبکہ پیام گردن گھوما کر اسکی پشت کو گھورا تھا،
“یہ تو آپ ہی کی طرح نکلی مام۔۔۔”
تحریم آئبرو اچکاکر طنزیہ مسکراہٹ سمیت بولی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمہ کی تقریب میں مرتضیٰ صاحب نے کافی مہمانوں کو مدعو کیا تھا،گرے کلر کی میکسی میں بالوں کا جوڑا بنائے وہ سوفٹ میک اپ پر نہایت حسین لگ رہی تھی،جمیلہ بیگم تو اس سے ملتے ہی رونے لگی تھیں،پر شانزے نے انہیں دلاسہ دیا کہ یہاں سب ٹھیک ہے تو انکی پریشانی تھوڑی کم ہوئی ورنہ اصل تو انہیں یہی ڈر تھا کہ سب شانزے کے ساتھ ناجانے کیسا رویہ رکھیں گے،بلیک پینٹ کوٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے وہ ایک مرتبہ پھر اپنی وجاہت پر سب کو مات دے رہا تھا،مرتضٰی صاحب کی وارننگ کے باوجود وہ شانزے سے بلکل الگ تھلگ اپنے دوستوں میں کھڑا تھا،اسکا سجا خوبصورت روپ بھی پیام نے ناگواری سے دیکھا تھا،پتا نہیں وہ لڑکی اسے کیوں اتنی زہر لگتی تھی،دوسری طرف وہ رشتے دار جو شادل سے ہمدردی کرنے کا سوچ کر آئے تھے یہاں آکر شادل مرتضیٰ کو سب کے ساتھ مسکراکر ملتے دیکھ کافی حیران ہوئے،یوں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسے کوئی دکھ ہے،اسکا یوں خوش اسلوبی سے سب سے ملنا سبھی کا منہ بند کراگیا،
کل کی ناکامی کے بعد آج وہ مرتضیٰ ہاؤس آیا تھا یہاں کا ماحول دیکھنے،پر اسکی توقع کے بلکل برعکس سب کچھ نارمل تھا،لیکن ان سب کو دیکھنے کے باوجود باسط زبیر کو پیام مرتضیٰ کا شانزے کے ساتھ سرد تعلق دیکھ اندرونی خوشی ہوئی تھی،اسے کہیں نہ کہیں ابھی بھی امید تھی،یعنی اگر شانزے کا شوہر ہی اس رشتے کو قبول نہیں کرتا تو اسکے لیے آسان تھا آگے کا کام،بس اگلا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے اسے ایک ہستی کی ضرورت تھی اور وہ اسے فوراً ہی نظر آگئی،
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر جوس گرانے کی۔۔۔”
لیڈی سرونٹ کو ڈانٹتی تحریم کو باسط نے ناگواری سے دیکھا تھا،
“سوری میم۔۔۔”
وہ سر جھکائے بولی،
“سوری مائے فٹ۔۔۔یُو ایڈیٹ میری پوری ڈریس خراب کر دی تم نے۔۔۔۔کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔”
اسکے سر اٹھانے پر وہ اور بلند آواز میں چیخی تھی،اسکے لہجے میں جس قدر غرور چھلک رہا تھا باسط کے لبوں پر اتنی ہی طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،
“بیٹا کیا قیامت ٹوٹ پڑی جو اتنا چیخ رہی ہو۔۔۔”
رابیہ بیگم تحریم کے پاس آتی دھیمے لہجے میں بولیں،مہمانوں کو اپنی طرف متوجہ پاکر وہ اسکا بازو پکڑے سائیڈ میں لے گئیں،
“مام۔۔۔اس کی حرکت نہیں دیکھی آپ نے مجھ پر۔۔۔تحریم مرتضیٰ پر جوس گرایا۔۔۔مام پوری ڈریس کا حشر دیکھیں میری۔۔۔”
اپنی میکسی کو ایک نظر دیکھتی وہ پیر پٹخی پھر انکے سمجھانے پر اگنور کرتی اپنے روم میں چلی گئی چینج کرنے،
باسط نے اسے روم میں جاتا دیکھا پھر کچھ سوچ کر تمسخر زدہ سا مسکرایا،
تقریب ختم ہونے پر پیام جتنا بےنیاز بنا رہا اتنا ہی اس نے ایک چیز نوٹ بھی کی اور وہ تھا باسط کو ہر تھوڑی دیر بعد شانزے کی طرف دیکھنا،اسکی آنکھوں میں خود ہی ناگواری در آئی تھی باسط کے یوں بار بار شانزے کو دیکھنے پر،کچھ سوچتا وہ چند قدم چل کر باسط کے سامنے آیا تھا،
“کون ہے تُو۔۔۔”
باسط جو خاموشی سے پیام کو دیکھ رہا تھا اسکے پوچھنے پر طنزیہ مسکرایا،
“شانننزے کی خالہ کا بیٹا۔۔۔۔”
انتہائی نرمی سے شانزے کا نام لیتے ہوئے وہ بولا
“کزن۔۔۔”
پیام نے ساتھ ہی تصحیح کی،
“اہمم۔۔۔کزن نہیں ہوں۔۔۔کچھ اور ہی ہوں۔۔۔”
اسکو شک میں مبتلا کرنے کے لیے وہ معنی خیزی سے بولا،
“اوہ اچھا۔۔۔تو پھر منہ بولا بھائی ہوگا۔۔”
باسط کے لہجے کی معنیٰ خیزی وہ اچھے سے سمجھا تھا پھر بھی انجان بنتا کہنے لگا،جس پر باسط کی مسکراہٹ پل میں ہوا ہوئی،
“کون ہوں۔۔۔جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔۔۔”
سنجیدگی سے کہتے ساتھ ہی وہ واپس جانے کے لیے گیٹ کی جانب گیا،جو چاہ رہا تھا ہو ہی گیا،آخر کار پیام نے اسے پکڑ ہی لیا تھا شانزے کو دیکھتے ہوئے،پر اس سے بات کر کے باسط کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہوا تھا کہ وہ یقیناً ایک شاطر مرد تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
