Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 30)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 30)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
دوپہر کو اچانک رابیہ بیگم کی کال پر شادل آفس سے نکلا تھا،پیام نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ خولہ کی ماں کی طبیعت بگڑی ہے،آفس سے نکل کر وہ رابیہ بیگم کو مرتضیٰ ہاؤس سے پِک کیا تھا لیکن جب تک شادل انہیں لے کر ہاسپٹل پہنچا تب تک خولہ کی ماں کی ڈیتھ ہوچکی تھی،رابیہ بیگم پر یہ غم کسی پہاڑ کے مانند ٹوٹا تھا،پہلے بھانجی اور پھر بہن،انکا رو رو کر برا حال ہوچکا تھا،میت خولہ کے گھر لے جائی گئی،شادل نے پیام کو کال کر کے بتایا جس پر وہ آفس سے مرتضیٰ صاحب کے ساتھ نکلتا گھر سے شانزے اور الشبہ کو بھی لیتا خولہ کے گھر پہنچا تھا،
خولہ کے باپ کا مسلسل شادل سے نظریں چرانا دیکھ پیام تمسخر سے مسکرایا تھا اور اسکا یہ مسکرانا شانزے نے ناگواریت سے دیکھا،شام کو تدفین کے بعد پیام شانزے الشبہ اور مرتضیٰ صاحب کو لے کر مرتضیٰ ہاؤس آچکا تھا چونکہ رابیہ بیگم نے اس وقت آنے سے انکار کردیا تھا تبھی شادل انہیں کے ساتھ رکا،
“وہاں مذاق چل رہا تھا۔۔؟”
روم میں انٹر ہوتے ہی شانزے نے کڑے تیوروں سمیت پیام سے پوچھا،
“کیا مطلب۔۔؟”
وہ انجان بنتا بیڈ پر بیٹھا،
“تم اچھے سے جانتے ہو میرا مطلب۔۔۔اس ماحول میں جہاں ہر کوئی دکھی تھا۔۔۔تم ان لوگوں پر ہنس رہے تھے۔۔۔صرف اس وجہ سے کہ وہ خولہ کی فیملی ہے۔۔۔”
ناجانے وہ کیسے اسکے مسکرانے کا اپنی طرف سے مطلب نکال گئی کہ پیام بھی چونک گیا،
“کچھ بھی۔۔۔”
کچھ دیر تک شانزے کو دیکھتا وہ ہنستے ہوئے بولا،
“پیام میں کوئی لطیفہ نہیں سنارہی ہوں تمہیں۔۔۔تم کس طرح کے انسان ہو۔۔۔جذبات نام کی چیز بھی ہے تم میں۔۔۔دوسروں کی تکلیفوں پر ہنستے زرا شرم نہیں آتی تمہیں۔۔۔”
شانزے کا غصہ پل میں بڑھا تھا اسکے ہنسنے پر،
“وائفی ریلکس۔۔۔تم تو ہائپر ہی ہوگئی۔۔۔لگتا ہے لڑنے کا موڈ ہے۔۔۔پر کوئی نہیں لڑلینا پر پہلے ایک اچھا سا ہگ دو مجھے۔۔۔”
مسکراکر کہتا پیام بیڈ سے اٹھا پھر شانزے کے گرد بازو حائل کرتا اسے سینے سے لگانے لگا پر عین وقت پر شانزے نے اسے زور سے دھکا دیا،
“کیا ہوگیا ہے شانزے۔۔۔اتنا غصہ کیوں آرہا ہے تمہیں۔۔۔”
اسکے یوں دھکا دینے پر ایک قدم پیچھے ہٹتا اب پیام بھی سیریس ہوا تھا،
“تم کیا ہو پیام مرتضیٰ۔۔۔آخر تمہیں بیر ہی کیا تھی خولہ سے۔۔۔جو اسکی ماں کے مرنے کا بھی تم نے لحاظ نہ کیا۔۔۔تم کیوں مسکرا رہے تھے۔۔۔”
افسوس بھری نظروں سے پیام کو دیکھتی وہ بولی،
“واٹ رابش یار۔۔۔ایک چھوٹی سی بات کو تم نے ہیڈ اِک بنالیا ہے شانزے۔۔۔جسٹ لیوو اِٹ۔۔۔کونسا میرا کوئی عزیز مرا تھا جو میں بیٹھ کر ٹسوے بہاتا۔۔۔”
پیام جھنجھلاکر بولا جس پر تاسف سے اسے دیکھتی شانزے روم سے نکلنے لگی،
“شانزے۔۔۔یار کیوں ہر چھوٹی بات پر ناراض ہوجاتی ہو۔۔۔کسی اور کی وجہ سے کیوں ہر بار ہمارے ریلیشن کو خراب کرتی ہو۔۔۔”
اسکے بازو کا تھامتا وہ شانزے کو خود سے قریب کیے بولنے لگا،
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔۔۔کس قدر جذبات سے عاری انسان ہو تم۔۔۔تمہیں زرا افسوس نہیں انکی ڈیتھ کا۔۔۔”
پیام کی باتوں کو نظرانداز کرتی وہ بپھری،
“نہیں ہے افسوس۔۔۔اب کیا کروں۔۔”
کندھے اچکاکر کہتا وہ ایک آبرو اٹھایا تھا،شانزے لب بھینچتی پھر روم سے جانے لگی،
“شانزے یار۔۔”
ایک بار پھر اسے روکنے کے لیے پیام نے ہنستے ہوئے شانزے کو پکڑا پر اب جھٹکے سے مڑتی وہ ہاتھ اٹھائی تھی پیام مرتضیٰ پر،شانزے کا ہاتھ سیدھا پیام کے گال پر لگتا آگر عین وقت پر وہ اسے نہ پکڑ لیتا،لمحے کے ہزارویں حصّے میں پیام مرتضیٰ کے تاثرات بدلے،جبڑے بھینچتا وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے شانزے کو گھورا جو اپنے ہاتھ اٹھانے پر شاید خود بھی حیران پریشان ہوئی تھی،
“سوری پیام پتا نہیں کیس۔۔۔۔آہ۔۔۔”
وہ جو اسے پریشان ہوکر وضاحت دے رہی تھی پیام کے ہاتھ میں رکھے اپنے ہاتھ کے مڑنے پر کراہ کر رہ گئی،شانزے کو گھورتا وہ مروڑا تھا اسکی کلائی،
“کہا تھا نا کہ حد میں رہو۔۔۔”
درشتگی سے کہتا وہ شانزے کی تیزی سے نم ہوتی آنکھوں میں دیکھا تھا،
“میرا ہاتھ چھوڑو پیام۔۔۔درد ہورہا۔۔۔آہ۔۔”
وہ جو بھیگے لہجے میں اس سے بول رہی تھی اچانک دبی آواز میں چیخی جب مقابل نے کلائی کو ایک مرتبہ پھر زور سے مروڑا مگر اس بار شدت اتنی تھی کہ لچک کی آواز آنے پر شانزے اپنے آنسوؤں کو روک نہ پائی،
“آئندہ ہاتھ اٹھانے سے پہلے یہ یاد رکھنا۔۔۔”
اسکی کلائی آگے کرتا وہ سخت لہجے میں بولا ساتھ ہی شانزے کے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہوا،کچھ دیر اسے خود کو نارمل کرنے میں لگی پھر لب دبائے اپنے غصے کو کنٹرول کرتا وہ واپس شانزے کی طرف متوجہ ہوا جو اپنی کلائی پکڑے رو رہی تھی،
“دیکھو شانزے۔۔۔ہر بار یو اِشو۔۔۔”
“تم بہت بدتمیز انسان ہو۔۔۔”
پیام کی بات کاٹ کر پیچھے ہٹتی وہ روتے ہوئے بولی،
“شانزے۔۔۔اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ہوں میں بدتمیز۔۔۔لاؤ ہاتھ دکھاؤ اب۔۔۔”
شانزے کی لال ہوتی کلائی کو دیکھتا وہ بول کر آگے بڑھا،
“دور رہو مجھ سے۔۔۔تم میں کسی چیز کی تمیز نہیں۔۔۔کون کب ہرٹ ہو تم سے۔۔۔تمہیں کوئی پرواہ نہیں۔۔۔اگر تمہیں پرواہ ہے تو بس اس چیز کی۔۔۔کہ تم جسے چاہو وہ تمہیں اویل ہو وقت پر۔۔۔”
“شانزے۔۔۔”
اپنی کلائی پکڑے وہ جو اس پر بھڑاس نکال رہی تھی پیام کی دھاڑ پر سہمی،اس کے دونوں بازوؤں کو جکڑتا پیام اسے زور سے دیوار سے لگایا کہ شانزے کی ہلکی چیخ منہ سے برآمد ہوئی،کلائی میں درد ہونے کے باعث وہ اب تک اسے تھامے رکھی تھی،
“یہ جو تم بار بار اس طرح کہ ٹونٹ کرتی ہو۔۔۔بتانا پسند کروگی مطلب کیا ہوتا ہے اسکا۔۔۔”
اسکے بازوؤں پر گرفت سخت کیے وہ غرایا تھا،گھبراہٹ کا شکار ہونے کے باعث شانزے کی بھیگی پلکیں جھکی تھیں،
“ادھر دیکھو۔۔۔بتاؤ۔۔کیا مطلب جسے میں چاہوں وہ اویل ہو۔۔”
شانزے کی تھوڑی دبوچے وہ پھر پوچھا تھا،اس بار لہجے میں عجیب کرختگی تھی کہ شانزے کو پھر رونا آیا،
“تم مجھے ہرٹ کررہے ہو۔۔۔”
مقابل کے غصے سے ڈرتی وہ اسکے سینے پر سر رکھنے لگی مگر تبھی پیام جھٹکے سے اسے دور کیا تھا خود سے،
“پیام۔۔۔میں۔۔”
“نہ۔۔۔ہر بار یہ سب نہیں چلے گا۔۔۔ایک ہی مرتبہ ڈیسائیڈ کرو کہ چاہتی کیا ہو۔۔۔”
وہ جو بھرائی آنکھوں سمیت اسکے قریب ہورہی تھی پیام پیچھے ہو کر دونوں ہاتھ اوپر کرتا آبرو اٹھاکر بولا ساتھ ہی ایک سخت نظر اس پر ڈالتا روم سے باہر نکل گیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ہونے کو آئی تھی پر شادل اب تک رابیہ بیگم کو لے کر نہیں آیا تھا،وہ شادل کی غیر موجودگی کے باعث ازکیٰ کو اپنے ساتھ ہی روم میں رکھی تھی،اسے فیڈر پلاکر سلانے کے بعد جب الشبہ بور ہونے لگی تو اٹھ کر وارڈروب کی طرف گئی،شادل کے سلیقے سے ہینگ ہوئے کپڑوں کو دیکھتی وہ پریس کرنے کے غرض انہیں نکالی تھی پر تبھی چونکی،جب کچھ کپڑے ہٹانے پر پیچھے سے ایک اینولپ دکھا اسے،
“لگتا ہے شادل کے کام کا ہوگا۔۔۔”
اینولپ کو دیکھتی وہ بڑبڑائی،
“پر کام کا ہے تو اتنا چھپا کر کیوں رکھا گیا ہے۔۔”
حیرت سے کہہ کر آخر کار تجسس کے ہاتھوں مجبور وہ اینولپ اس نے اٹھالیا،کپڑے بیڈ پر رکھ کر وہ اینولپ اس نے کھولا،اس کے اندر کچھ پیپرز رکھے تھے،اچھنبے میں گھری وہ پیپرز نکال کر پڑھتی الشبہ اکبر کو بہت برا جھٹکا لگا سامنے ٹائٹل پر واضح الفاظ لکھے تھے “ڈیوارس پیپرز”،بےیقینی میں پیپرز بغور پڑھتے ہوئے اسکی نظر شادل اور خولہ کے ناموں پر گئی،الشبہ کا ہاتھ بےساختہ منہ پر جالگا،کیا مطلب تھا ان پیپرز کا اسے کچھ سمجھ نہ آیا،کیا شادل اور خولہ کے ناموں کے نیچے ان کے سیگنیچرز بھی تھے،
“تو کیا ان کا ڈیوارس ہوچکا تھا۔۔۔لیکن خولہ کی تو ڈیتھ۔۔۔”
ہلکی آواز میں اپنے آپ بڑبڑاتی الشبہ بلکل کنفیوز ہونے لگی تبھی اسکی نظر بیڈ پر رکھے اسی کھلے ہوئے اینولپ پر پڑی جس میں سے ایک پیپر آدھا باہر نکلا تھا،جلدی سے وہ پیپر نکالے الشبہ دیکھی،یہ ایک چھوٹا فولڈ ہوا پیپر تھا جس میں کچھ لکھا تھا شاید کوئی خط۔۔۔،
بےچینی سے وہ پیپر سیدھا کر کے اپنے سامنے کیے پڑھنے لگی،
“ڈئیر شادل،
“میں جانتی ہوں تم اس وقت بہت خوش ہو اور ہو گے بھی کیوں نا۔۔۔آخر کو باپ جو بننے جارہے ہو۔۔۔میں نہیں چاہتی تھی کہ ایسے وقت میں تمہیں اداس کروں پر مجبوری ہے۔۔۔حالات ہی کچھ یوں ہے کہ مجھے یہ سب اب بتانا پڑ رہا ہے۔۔۔دیکھو شادل۔۔تم ایک مضبوط انسان ہو۔۔۔کافی ہمت رکھتے ہو۔۔ضرور اس لیٹر کو پڑھنے کے بعد تم اداس ہوگے پر جلد سنبھل بھی جاؤ گے۔۔۔ویسے بھی تمہیں مجھ سے کوئی لگاؤ تو ہے نہیں۔۔۔حیرت ہوگی تمہیں یہ بات جان کر۔۔۔پر میں یہ بہت پہلے سے جانتی تھی کہ تمہیں مجھ میں زرا سا بھی انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔اور نہ ہی مجھے تم میں۔۔۔تمہاری پرسنیلٹی دیکھ میں معیوب ضرور ہوئی تھی تم سے تبھی ماما کو کہا کہ تم سے شادی کرنی ہے۔۔۔ان دنوں اتفاق بھی کچھ یوں ہوا کہ تمہاری شادی نہ ہوسکی اور میں تمہاری قسمت میں ہی لکھی گئی۔۔۔لیکن صرف کچھ عرصے کے لیے۔۔۔شادل جانتے ہو شروع میں مجھے تمہارا خاموش رہنا،کم بولنا بہت اچھا لگتا میں خوش ہوتی کہ تم ایک سنجیدہ انسان ہو پر آہستہ آہستہ کر کے مجھے تمہاری خاموشی وحشت میں مبتلا کرنے لگی،شادل میں ایک اوپن مائینڈ لڑکی ہوں مجھے پارٹیز پسند ہیں دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا لانگ ڈرائیو پر جانا،آزادی یہ سب مجھے بےحد عزیز ہے۔۔۔پر تمہارا مجھے ٹوکنا میرا صبر آزماتا تھا،تم جو ہر بار مجھے یہ کہتے کہ کہیں جانا ہے تو میرے ساتھ چلو۔۔۔یہ سب مجھے قید سا لگتا۔۔۔،ظاہر سی بات ہے اب میں ہر جگہ تم جیسےبورنگ انسان کو تو لے جانے سے رہی۔۔۔،آہاں۔۔بورنگ سے یاد آیا واقعی سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ تم ایک بہت بورنگ انسان بھی ہو جسکے ساتھ میں تو کیا۔۔،شاید کوئی لڑکی بھی نہ رہ سکے،یو نو واٹ مجھے تو لگتا ہے کہ شانزے کی اگر تم سے شادی ہوتی تو وہ بھی جلد اکتا جاتی تم سے،مطلب کوئی انسان اتنا تنہائی پسند خاموش طبع کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔،کبھی کبھی تو تم میں مردوں سا گمان ہوتا تھا مجھے،جب دیکھو آفس کا کام کوئی میگزین۔۔۔،اب تم سوچو گے کہ تم نے اتنا وقت بھی تو دیا تھا مجھے،تو تمہیں بتاتی چلوں شادل مرتضیٰ کہ تم نے مجھے اپنا قیمتی وقت دینا تب شروع کیا جب تمہیں میری پریگنینسی کا معلوم ہوا،تم اتنے خود غرض تھے کی اپنے بچے کے لیے تم نے میری پرواہ کرنی شروع کی،اور ایسی پرواہ پر میں لعنت بھیجتی ہوں۔۔۔دیکھو شادل میں یہ نہیں کہتی تم بہت برے ہو۔۔۔بس اتنا کہوں گی کہ تمہارا ساتھ چھوڑنا مجھے دکھ دیا تھا تھوڑا کیونکہ باقی خامیوں کے ساتھ تم میں ایک خوبی ہے کہ تم جلد لوگوں سے امید باندھ لیتے ہو۔۔۔،جو تمہیں اپنا لگتا ہے وہ تمہیں عزیز بیت ہوتا ہے تم اس پر بھروسہ کرنے لگتے ہو اور پھر۔۔۔،پھر بھروسہ ٹوٹنے پر تم دکھی ہوجاتے ہو۔۔۔،بہت دکھی،میں تمہیں یوں چھوڑنا نہیں چاہتی تھی پر میں تمہارے ساتھ قید میں رہ بھی نہیں سکتی،بلکہ میں تو کیا۔۔،تمہارے ساتھ کوئی لڑکی نہیں رہ سکتی،مجھے اپنے آزادی چاہیے پر اس آزادی کے لیے میں اپنی ایک عزیز چیز قربان کررہی ہوں اور وہ ہے میرا بچہ۔۔۔،
میرا بچہ مجھے بہت عزیز ہے پر میری آزادی سے زیادہ نہیں۔۔۔،امید ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔۔۔اینولپ میں ڈیوارس پیپرز رکھیں ہیں۔۔،میں سائن کر چکی ہوں،تم بھی کردینا۔۔۔،ڈیلیوری کے دو دن بعد میں واپس لندن چلی جاؤں گی۔۔،ڈاکٹرز صاف سب کو کہہ دیں گے کہ کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے میری ڈیتھ ہو چکی ہے،اس بارے میں صرف تمہیں اور اپنے ماما پاپا کو بتایا ہے میں نے۔۔۔،میں یونہی چلی جاتی پر تم سے ڈیوارس لینا تھا تب ہی ہیں سب بتانا پڑا۔۔۔،میرے پیچھے مجھے بدنام نہ ہونے دینا پلیز۔۔۔،اس راز کو راز ہی رکھنا کہ میں زندہ ہوں۔۔۔!”
خولہ،
مکمل خط پڑھنے کے بعد الشبہ جیسے کوئی مجسمہ بن چکی تھی،کیسے وہ لڑکی سب کو بےوقوف بنا گئی تھی،جو شادل مرتضیٰ کو خود غرض کا ٹیگ لگائی تھی دراصل وہ خود کتنی خود غرض تھی کہ اپنی آزادی کے لیے بیٹی کی شکل تک نہ دیکھی،کوئی ماں ایسے کیسے کرسکتی تھی،اور شادل۔۔۔،کس طرح کے الفاظ استعمال کیے تھے خولہ نے اس خط میں شادل کے بارے میں،اوران سب کے باوجود وہ انسان اس لڑکی کی عزت سب سے بچانے کے چکر میں اب تک خاموش رہا تھا،
لیٹر تھامے ہی وہ وارڈروب کے پاس گئی تھی،فلحال شادل کے آنے سے پہلے وہ اینولپ واپس رکھنا تھا لیکن وہ جلد ہی اس سے لیٹر کے بارے میں پوچھنے کا ارادہ رکھتی تھی،
“الشبہ۔۔!”
بھاری مانوس آواز پر الشبہ کے قدم رکے،پر اس بار وہ ڈری نہیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابیہ بیگم کو گھر لانے کے بعد وہ انہیں روم تک چھوڑنے گیا،انکی طبیعت خراب ہونے لگی تھی رو رو کر تبھی سلیپنگ پلز دے کر شادل کچھ دیر ان کے پاس بیٹھا رہا پھر رابیہ بیگم کے سونے کے بعد مرتضیٰ صاحب سے کچھ دیر بات کر کے وہ نکلا تھا،اب اسکے قدم اپنے روم کی طرف تھے،اندر داخل ہوتے ہی سامنے دکھتا منظر شادل مرتضیٰ کو غصہ دلانے کے لیے کافی تھا،وہ اینولپ جو اس نے سب سے چھپائے رکھا تھا اب الشبہ کے ہاتھ میں تھا جس کے قدم وارڈروب کی جانب تھے،
“الشبہ۔۔!”
کرخت آواز میں اسے پکارتا وہ تیزی سے آگے بڑھا،الشبہ نے گردن گھوما کر اسے دیکھا،
“تم میں مینرز نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔آئندہ بلااجازت میری چیزیں مت لینا۔۔۔”
دھیمے لہجے میں غصہ کرتا شادل جھپٹنے کے انداز میں اس کے ہاتھ سے وہ لیٹر چھینا تھا،الشبہ کی ساکت آنکھوں کو دیکھ وہ نگاہ چراگیا جبکہ الشبہ اپنے سامنے کھڑے اس انسان کو دیکھتی رہ گئی،غم کا کتنا گہرہ سمندر اپنے اندر چھپائے وہ کیسے سب کے سامنے نارمل رہنے کی کوشش کرتا تھا،آخر کتنا صابر تھا وہ شخص،
الشبہ کے برابر سے ہوتا وہ وارڈروب کے پاس جانے لگا پر تبھی شادل مرتضیٰ کے قدم تھمے جب الشبہ کی بےیقین آواز اسکے کانوں میں سنائی دی،
“خولہ زندہ ہے۔۔۔”
اور باوجود کوشش کے بھی اس بار شادل مرتضیٰ اپنے آنسوؤں کو نہ روک پایا،ایک موتی ٹوٹ کر گرا تھا اسکی سختی سے میچی گئی آنکھوں سے،
“پلکوں کی حد کو توڑ کر دامن پہ آگِرا،
ایک آنسو میرے صبر کی توہین کرگیا۔”
“آپ نے یہ بات سب سے کیوں چھپائے رکھی۔۔۔”
شادل کے سامنے آتی وہ بےچینی سے پوچھی جس پر اس نے ایک بےتاثر نگاہ الشبہ پر ڈالی،پھر ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتا وارڈروب میں وہ لیٹر اینولپ میں کر کے رکھا،
“شادل بتائیں۔۔”
اس کا یوں نظر انداز کرنا الشبہ کو کھلا تبھی پھر پوچھی،
“کیا کرتا سب کو بتاکر۔۔۔خولہ واپس آجاتی۔۔اور اگر وہ آ بھی جاتی تو کیا ہوتا۔۔۔سب کے سامنے بدنامی ہی ہوتی اس کی۔۔۔”
سپاٹ تاثرات سمیت کہتا وہ الشبہ کو دیکھا جس کی آنکھوں میں ترحم تھا شادل کے لیے،
“آپ کیسے۔۔۔یہ سب برداشت۔۔۔”
“پلیز الشبہ۔۔۔یہ جھوٹی ہمدردیاں مت جتلایا کرو مجھ سے۔۔۔”
وہ جو آہستگی سے بول رہی تھی شادل کے چڑچڑے لہجے پر چپ ہوئی،انجانے میں ہی پر وہ ایک بار پھر اسکے بھرے زخم ادھیڑ چکی تھی،خود پر ضبط کرتا شادل نکلا تھا مرتضیٰ ہاؤس سے،کار میں بیٹھتے اسکے آنکھوں کے کنارے پھر بھیگنے لگے تھے پر وہ رونا نہیں چاہتا تھا تبھی پلکیں جھپکتا کار سٹارٹ کیا،خولہ کے چھوڑ کر جانے کا اسے اتنا دکھ نہ ہوا تھا جتنا خولہ کے الفاظوں پر وہ دکھی تھا،وہ کتنی آسانی سے اسے بول گئی تھی کہ اس جیسے بور انسان کے ساتھ کوئی لڑکی نہیں رہ سکتی،کیا وہ واقعی اتنا برا تھا اتنا خود غرض تھا کہ خوشیوں پر کوئی حق ہی نہ رہا تھا اس کا،ہر بار ایک خوشی کے بدلے کیوں اسے کئی غم سہنے پڑتے،کیوں اسکے حصّے میں ہی تکالیف آتیں،جسے پسند کرتا تھا تقدیر نے اسے ملایا نہیں پھر جسے تقدیر کا فیصلہ سمجھتے قبول کیا وہ خود ہی چھوڑ کر چلی گئی،الشبہ سے شادی کرنے پر بھی وہ ڈرا تھا کہ کہیں پھر خوشیاں نہ چھین لی جائیں اس سے،ہاں وہ ڈرچکا تھا بہت،وہ بس اپنی بیٹی کے ساتھ رہنا چاہتا تھا،الشبہ کو قبول نہ کرنے کی دو ہی وجہ تھی اسکے پاس،پہلا یہ کہ وہ لڑکی بھی خولہ کی طرح دھوکے باز تھی اور دوسرا وہ اپنی قسمت سے ڈرنے لگا تھا،دماغ یہی سوچ رہا تھا کہ اگر وہ سب کچھ بھلائے ایک بار پھر خوش ہونا چاہے گا تو یقیناً پھر دکھ اسکے نصیب میں آئیں گے۔۔۔،اور شادل مرتضیٰ اور اذیتیں اور تکالیف برداشت نہیں کرسکتا تھا،
ساحل سمندر کے پاس کار روکتا وہ دور پانی کی لہروں کو دیکھنے لگا،ہمیشہ سے سب کو نرم،خوش مزاج اور صابر دکھنے والا شادل مرتضیٰ اچانک سٹئیرنگ پر سر رکھے آج اپنا صبر کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔،ہاں وہ رویا تھا بری طرح،اپنی قسمت پر بھروسہ ٹوٹنے پر زندگی سے ملی گئی اذیتوں پر،
بآواز روتے اس نے اپنے بال جکڑے تھے،وہ کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا الشبہ اکبر کو،یقیناً وہ لڑکی بھی آگے جاکر اس سے تنگ آجائے گی اور پھر وہ بھی اسے چھوڑ دے گی آخر کو اس نے اپنے ماں باپ کو بھی تو چھوڑا تھا،پھر شادل مرتضیٰ کو چھوڑنا کون سی بڑی بات ثابت ہونی تھی،
اسے بےساختہ الشبہ کی ترحم بھری نظریں یاد آئیں،اسے ترس آیا تھا شادل مرتضیٰ پر اور یہی ترس شادل مرتضیٰ کو تڑپا گیا،آخر کیوں وہ اتنا کمزور ہونے لگا تھا کہ مقابل ترس کھارہا تھا اس پر،ابھی تو یہ بات الشبہ کو پتا چلی ہے۔۔۔،کہیں وہ کسی اور کو بتادی تو اس طرح سب پھر اسے ترحم نظروں سے دیکھیں گے،اپنی بےبسی پر غصے میں شادل نکلا تھا کار سے،اسکے من من بھاری ہوتے قدم لہروں کی سمت تھے،تنگ آچکا تھا وہ ان سب سے،جیسے چھٹکارا پانا چاہ رہا تھا سبھی تکالیف سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے تقریباً آٹھ مہینے ہوچکے تھے یہاں پر رہتے ہوئے،لندن آنے کے ایک دن بعد ہی جس فضل نامی شخص کے ہاتھوں وہ اپنا سامان منگوائی تھی وہ ناجانے کہاں غائب ہوچکا تھا،خولہ نے اسے کافی کالز کی پر دوسری جانب سے نمبر بند جاتا،جب اسے کافی دن ہوگئے تب خولہ پر یہ آشکار ہوا کہ وہ شخص بھاگ چکا ہے اسکا سامان لے کر،پر کیوں۔۔۔،اس نے تو فضل کو اچھے خاصے پیسے دیے تھے پھر کیسے وہ اسکا سامان لے کر بھاگ سکتا تھا،ان سامان میں اسکے کافی کاغذات اور پیسے تھے،پر اب وہ سب پیسے چلے گئے تھے،کچھ پیسے جو اسکے اکاؤنٹ میں تھے ان پیسوں سے وہ ایک ہوٹل میں روم بک کی تھی،پر اب وہ بھی پیسے ختم ہونے کے بعد اس نے اپنے باپ کو کال کی تھی،یہ خبر سن کر کہ اسکی ماں کی ڈیتھ ہوچکی ہے خولہ جو کوئی خاص فرق نہ پڑا،اس نے اپنے باپ سے پیسوں کا مطالبہ کیا ساتھ ہی انہیں اپنے سامان کا بتایا جس پر وہ بھڑک ہی گئے،وہ بےیقین تھے کہ خولہ ان ہی کی بیٹی ہے،جسے اپنی ماں کے مرنے کا دکھ ہونے کے بجائے پیسوں کی ٹینشن تھی،غصے میں اسے کھری کھری سناتے وہ کال کاٹے تھے جس پر لب بھینچتی خولہ ہوٹل سے نکل کر کچھ دور پارک میں آئی،بینچ پر بیٹھی وہ جب سے پریشان یہی سوچ رہی تھی کہ کاش وہ فضل پر بھروسہ نہ کرتی،پر اب پچھتانے کا کیا فائدہ،باپ نے بھی واضح الفاظوں میں اس سے رشتہ ختم کردیا تھا جسکی اسے کوئی پرواہ تو نہ تھی پر ابھی اسے اشد ضرورت تھی پیسوں کی،وہ کہاں سے انتظام کرتی پیسوں کا،بہت سوچنے کے بعد آخر کار خولہ کے ذہن میں شادل مرتضیٰ آیا،اور اسکے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،بھلے وہ اس سے طلاق لے چکی تھی ہر اتنا تو خولہ کو یقین تھا کہ اگر وہ دو بول روتے ہوئے بےبسی کے شادل کے سامنے بولے گی تو اس نرم دل انسان نے پگھل کر فوراً اسکے اکاؤنٹ میں پیسے ڈلوادینے ہے،شاطرانہ انداز میں مسکراتے وہ موبائل نکال کر شادل کا نمبر ڈائل کی تھی،کچھ ہی بیل پر کال ریسیو کرلی گئی،خولہ نے جلدی سے لہجے کو تکلیف میں گھولا،
“ہیلو۔۔۔شادل۔۔”
کس قدر میٹھا مگر تکلیف بھرا لہجہ تھا اس کا،
“جی بھابھی جی۔۔۔”
اور دوسری جانب سے آتی بھاری مردانہ مسکاتی آواز پر خولہ کو بہت برا جھٹکا لگا،چہرے پر بےساختہ خوف سا چھلکا تھا مقابل کی آواز پر،جھٹکے سے موبائل کان سے ہٹا کر چہرے کے سامنے کرتی وہ بغور نمبر دیکھی،ہاں وہ شادل کا ہی نمبر تھا پر کون تھا مقابل،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
