422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 24)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

مرتضیٰ ہاؤس کا ماحول اب دن بدن بہتر ہونے لگا تھا،رابیہ بیگم اس واقعے کے بعد سے کبھی شانزے کو پریشان نہ کرتیں البتہ اب انہوں نے اس سے ہلکی پھلکی بات کرنی شروع کردی تھی،شانزے بھی انکا رویہ ٹھیک دیکھ کر اب پرسکون سی ہوچکی تھی،پر ایک پریشانی تھی جو رابیہ بیگم کو کھلنے لگی تھی اور وہ خولہ کی روز بروز بڑھتی خاموشی،ناجانے اچانک ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اکثر چپ رہنے لگی تھی جس کے باعث اس نے شانزے کو پریشان تو کیا بلکہ کلام تک ترک کردیا تھا،جیسے جیسے مہینے گزررہے تھے ویسے اسکی طبیعت کچھ خراب رہنے لگی تھی،ایسے وقت میں شادل مرتضیٰ نے اسکا بہت خیال رکھا،وہ ہر ممکن کوشش کرتا کہ خولہ کو کسی طور تکلیف نہ ہو،کبھی اسے باہر لے جاتا گھمانے تو کبھی آفس نہ جاکر سارا دن اسکے ساتھ بتاتا،اس سے باتیں کرتا دل بہلانے کے لیے،پر خولہ پر عجیب ہی اداسی چھائی تھی،راتوں کو اکثر وہ شادل کو سوتے خاموشی سے دیکھتی تو کبھی کسی سوچ میں گم ہوتی،اچانک ہی اسکا یہ رویہ سب کو عجیب لگنے لگا تھا سوائے پیام کے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ سب کیا ہے شادل۔۔؟”

خولہ حیران نظروں سے باہر سے ایک بڑا کارٹن لاتے دو آدمیوں کی طرف دیکھتے شادل سے پوچھی جو ان لوگوں کو اپنے روم میں کارٹن رکھنے کے لیے جگہ کا بتا کر آیا تھا،

“تھوڑا صبر کرو۔۔۔پھر خود ہی دیکھ لینا۔۔۔”

مسکاتی نظروں سے اسے دیکھتا وہ بول کر روم میں چلاگیا،رابیہ بیگم کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی جیسے پہلے سے جانتی ہوں کہ اس باکس میں کیا ہے،

کچھ دیر بعد روم میں سیٹنگ کروا کر ان آدمیوں کے جانے کے بعد شادل باہر آیا پھر رابیہ بیگم سمیت خولہ کو تھامے روم میں لے گیا،وہاں کارنر پر رکھا ایک خوبصورت سا ووڈن بےبی کوٹ تھا،

“کیسا ہے۔۔۔؟”

خولہ جو محو تھی اس کوٹ کو دیکھنے میں شادل کی آواز پر چونک کر اسے دیکھی،

“بہت خوبصورت۔۔۔”

آہستگی سے کہتے اسکے لبوں پر آسودہ مسکراہٹ آئی،

“واقعی بیٹا یہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔”

رابیہ بیگم نے کوٹ کو دیکھ خوشی سے کہا جس پر شادل مسکرادیا،ان دونوں پر ایک نظر ڈال کر رابیہ بیگم دعا دیتی روم سے نکلی تھیں تبھی خولہ شادل کی طرف مڑ کر چند پل خاموشی سے اسکے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھتی رہی،

“تم خوش ہو۔۔۔؟”

پتا نہیں کیوں وہ یہ سوال اس سے کر بیٹھی تھی،شادل نے اسکے دونوں بازوؤں کو نرمی سے تھام کر اسے خود سے قریب کیا،

“میں۔۔۔بہت۔۔۔زیادہ خوش ہوں۔۔۔۔اتنا کہ بیان نہیں کرپارہا اپنی خوشی۔۔۔۔خولہ۔۔۔بہت بہت۔۔۔شکریہ مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کے لیے۔۔۔۔”

انتہائی جذب بھرے لہجے میں بولتا وہ خولہ کے دونوں گال چوم گیا پر تبھی چونکا اسے روتا دیکھ،

“خولہ۔۔۔ارے۔۔لڑکی کیا ہوا۔۔۔”

ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ تھامے وہ پیار سے پوچھا تھا،خولہ نے نفی میں سر ہلایا پھر سیدھا اسکے سینے میں منہ چھپاگئی،شادل تشویش میں اسے تھام کر بیڈ پر بیٹھایا تھا،

“اب بتاؤ۔۔۔رو کیوں رہی ہو۔۔؟”

خولہ کے سامنے بیٹھتا وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامے استفسار کیا،

“شادل مجھے نہیں پتا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔۔۔۔۔بس یوں لگنے لگا ہے جیسے میں اب نہیں۔۔۔۔”

گلا رندھنے پر وہ بات مکمل نہ کرپائی،شادل جو اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامے بیٹھا تھا یکدم خولہ کے قریب ہوتے اسکی پیشانی چومی،

“کچھ نہیں ہوگا۔۔۔تم بس ڈر رہی ہو۔۔۔تبھی یہ سب کہہ رہی ہو۔۔۔ہمم۔۔”

اسکا چہرہ ایک ہاتھ میں تھام کر وہ نرمی سے سمجھایا پر خولہ تھکے ہوئے انداز میں سر نفی میں ہلانے لگی،یہ وہ بھی نہیں جان پارہی تھی کہ اتنے دنوں سے کیوں اسکا دل عجیب سا ہو رہا ہے،

“ایک بات کہنی ہے۔۔۔۔اسے ریکویسٹ سمجھنا۔۔۔۔شادل۔۔۔۔ہمارے بچے کا خیال رکھنا۔۔۔میرے بعد۔۔۔”

“خولہ پلیز۔۔۔!”

ناجانے وہ کس خدشے کے تحت روتے ہوئے ہچکیوں کے دوران بولنے کی سعی کر رہی تھی شادل بےچین سا ہوکر اسکی بات کاٹتا خولہ کو اپنے سینے میں بھینچ گیا،وہ بھلے ناپسند تھی پر اتنے مہینوں میں شادل مرتضیٰ کو عزیز ہوچکی تھی،دل دعا گو تھا کہ کم از کم اسے کچھ نہ ہو،شادل کے کالر کو دبوچے خولہ اب بآواز رونے لگی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج رات باسط تحریم اور فرزانہ بیگم کو لے کر باہر نکلا تھا،اب بہت حد تک تحریم فرزانہ بیگم سے فرینک ہو چکی تھی،ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد وہ لوگ تحریم کے کہنے پر مرتضیٰ ہاؤس گئے تھے،اتنے دنوں بعد اپنے ماں،باپ اور بھائی سے مل کر وہ بہت خوش ہوئی تھی،رابیہ بیگم کا رویہ فرزانہ بیگم کے ساتھ اچھا نہیں تو برا بھی نہیں تھا،باسط کو دیکھ پیام کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح تمسخر مسکراہٹ چھائی لاؤنج میں بیٹھا وہ جب سے موبائل میں مصروف تھا البتہ مرتضیٰ صاحب اور شادل باسط کو اچھی کمپنی دے رہے تھے،طبیعت خرابی کی وجہ سے خولہ اپنے روم میں ہی تھی،

کچھ دیر بعد لاؤنج سے اٹھتا پیام کچن میں داخل ہوا تھا جہاں شانزے ملازمہ کے ساتھ ریفریشمنٹ تیار کررہی تھی،ملازمہ کو کچن سے جانے کا اشارہ کر کے وہ شانزے کی طرف بڑھا جو اسکی موجودگی سے بےخبر کام میں مصروف تھی،لب دباتے وہ آہستگی سے اسکے برابر میں کھڑا ہوتا اچانک جھک کر پھونک مارا تھا شانزے کے کان میں،اچانک بوکھلاتے ہوئے شانزے پیچھے ہٹی،پیام کو دیکھ وہ لب بھینچتی اسے گھورنے لگی،جو اب مزے سے مسکرارہا تھا،

“یہاں کیا کرنے آئے ہو۔۔۔؟”

اسے گھور کر باؤلز سیٹ کرتی وہ پوچھی تو پیام آہستہ سے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا،

“وہاں بور ہورہا تھا۔۔۔”

مختصر جواب دے کر وہ پیچھے سے شانزے کے گرد بازو حائل کیا تھا،

“پیام۔۔۔کیا بدتمیزی ہے۔۔۔پیچھے ہٹو۔۔”

اسکی حرکت پر بوکھلاکر کچن کے داخلی حصے پر دیکھتے شانزے نے غصے سے دبی آواز میں کہا،

“بدتمیزی ابھی کی کہاں ہے۔۔۔”

اپنی بات کہتا وہ شانزے کے سر پر قرینے سے سیٹ ہوا دوپٹہ سرکاتے اسکے گال پر لب رکھا تھا،

“ہر جگہ شروع مت ہوجایا کرو۔۔۔کوئی آجائے گا۔۔۔چھوڑو۔۔۔”

اپنے گرد حائل اسکے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کرتی وہ گردن گھوما کر پیام کو آنکھ دکھائی تھی،

“کیا وائفی۔۔۔کہتی تو ایسے ہو جیسے روم میں بڑا کچھ کرنے دیتی ہو۔۔۔”

پیام کے بےباکی سے بولنے پر شانزے کا چہرہ تمتمانے لگا تھا،گھنیری پلکیں لرز کر رہ گئیں،سرخ چہرے سمیت اسے گھورتی وہ ابھی کچھ بولنے لگی تھی جب کچن میں تحریم داخل ہوئی،

“اوپس۔۔۔”

اسکی آواز پر دونوں چونکے،پیام جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا،

“آپ لوگ کنٹینیو کرو۔۔۔میں بعد میں آتی ہوں۔۔۔”

ہنس کر کہتی وہ پلٹنے لگی تبھی شانزے گھبراکر بولی،

“نہی۔۔۔نہیں تحریم۔۔آجاؤ۔۔۔پیام تو ہیلپ کروارہے تھے میری۔۔۔”

تحریم کو روکتی وہ فوراً بولی،تحریم جہاں اسکی بات پر مسکراہٹ چھپائی تھی وہی پیام اچھنبے سے اسے دیکھا،

“میں نے کب کروائی مدد۔۔۔؟”

وہ نارملی پوچھا تھا شانزے شرم سے گھور بھی نہ سکی اسے،

“ت۔۔تم۔۔باہر جاؤ ابھی۔۔۔”

کام کی طرف متوجہ ہوئے وہ چڑ کر بولی تھی پیام کو پر ادھر وہ تحریم کو کھڑا خاموشی سے دیکھ رہا تھا،

“جاؤ۔۔۔”

کچھ دیر بعد وہ تحریم سے بولا تو شانزے سمیت تحریم بھی چونکی،

“میں تحریم کو نہیں۔۔۔تمہیں کہہ رہی ہوں۔۔۔”

تحریم کی موجودگی کا لحاظ کرکے وہ چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے دانت پیستے بولی،

“میں کیوں جاؤں باہر۔۔۔غلط وقت پر میں تھوڑی یہ آئی تھی۔۔۔”

اور پیام کی اس بات پر شانزے کا منہ کھلا تھا،تحریم کا چہرہ ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہوا تھا،

“پیام۔۔۔تم۔۔۔تم۔۔۔”

اسے سمجھ ہی نہ آیا مقابل کھڑے اپنے شوہر کے درجے پر فائز اس بےشرم انسان کو اور کس القابات سے نوازے،

“میں کیا۔۔۔؟”

سلیپ سے ٹیک لگائے وہ پرسکون سا پوچھا،

“شادل۔۔۔۔”

خولہ کی اچانک زور دار چیخ پر وہ تینوں چونکے،تیزی سے کچن سے نکلتے وہ لوگ لاؤنج میں آئے جہاں سے شادل بھی کمرے کی طرف بھاگا تھا،خولہ کی طبیعت اچانک بگڑی تھی،کچھ ہی دیر میں وہ رابیہ بیگم اور فرزانہ بیگم کے ساتھ خولہ کو لیے ہاسپٹل کے لیے نکلا تھا،پورے راستے خولہ اسے نیم غنودگی میں کسی اینولپ کا کہہ رہی تھی،ہاسپٹل میں پہنچتے اسے وارڈ میں لے جانے کا انتظام ہونے لگا تھا،تبھی خولہ نے شادل سے ایک بار پھر اس اینولپ کا ذکر کیا،خولہ چاہتی تھی کہ شادل ابھی گھر جاکر بیڈ پر اسکا رکھا گیا وہ اینولپ پڑھے،شادل کے لاکھ انکار پر بھی جب وہ ضد میں آکر رونے لگی تب رابیہ بیگم نے تسلی دے کر شادل کو بھیجا،راستے میں وہ اپنی ساس یعنی خولہ کی ماں کو انفارم کرچکا تھا،مرتضٰی ہاؤس پہنچنے پر اس نے بنا کہیں اور دیکھے جلدی سے اپنے کمرے کا رخ کیا تھا،

بیڈ پر سامنے ہی ایک اینولپ رکھا تھا،شادل کا ارادہ اسے لے کر ہاسپٹل جانے کا تھا پر جب خولہ کی بات یاد آئی تو وہ مجبوراً وہی کھڑا ہوکر اینولپ کھولا،اس میں فولڈ ہوا پیپر جس میں کچھ لکھا تھا،وہ لیٹر شادل جیسے جیسے پڑھنے لگا تھا ویسے ویسے اسکے تاثرات بدل رہے تھے اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ مکمل پڑھنے کے بعد شادل مرتضیٰ کو اپنے پیروں پر کھڑا رہنا دنیا کا مشکل ترین کام لگا،بےساختہ شفاف آنکھیں نم ہوئیں تھی،جن سے نکلنے کو بےتاب آنسو پلک جھپک کر بمشکل اس نے اندر دھکیلے،دل میں بری طرح درد ہوا تھا،جسے ضبط کرنے کے چکر میں اسکا چہرہ پل میں سرخ ہوا،اسے اپنا آپ آج نہایت کمزور لگا،کپکپاتے ہاتھوں سے وہ لیٹر واپس فولڈ کیے اینولپ میں ڈال کر اس نے سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھا،ایک بار پھر اپنے اندر کے ٹوٹے ٹکڑوں کو جوڑتا وہ خود کو مضبوط دکھانے کے لیے چہرے پر سپاٹ تاثرات لے کر روم سے نکلا تھا،اسکی یہ کاروائی دو زیرک آنکھوں سے مخفی نہ رہ سکی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کو ہاسپٹل میں وہ مردہ قدموں سے داخل ہوا جیسے پہلے سے ہی معلوم ہو کہ کیا انہونی ہونے والی ہے،رابیہ بیگم اور مرتضٰی صاحب کی کتنی کالز آئی تھیں اسکے پاس پر ایک بھی ریسیو نہیں کی اس نے،خولہ کے ساتھ آتے وہ خوشی جو اندر تھی،کیا الگ ہی خوشی تھی باپ بننے کی پر وہ سب جیسے پل میں ختم ہوئی،جیسے پہلے ہوئی تھی،آخر یہی تو ہوتا آرہا تھا اسکے ساتھ،جب خوش ہونے لگتا تب غموں کے ڈھیر لگتے زندگی میں،جب مسکرانے لگتا تکلیفیں ڈیرہ جمالیتی،

تھیٹر کے باہر رابیہ بیگم مسلسل رورہی تھیں جنہیں چپ کرواتی فرزانہ بیگم بھی مایوس تھیں، شانزے،باسط،تحریم حتہ کہ مرتضیٰ صاحب بھی سر جھکائے بکھرے حلیے میں آتے شادل کی طرف متوجہ ہوئے،خولہ کی ماں چپکے سے آنسو بہائے شادل کو دیکھ رہی تھیں،بچے کے رونے کی آواز پر نظریں اوپر کرتے شادل نے انکے ہاتھ میں دیکھا،گود میں روتا وہ بچہ دیکھ ایک بار پھر آنکھیں بھرائیں،پر وہ رویا نہیں آنسوؤں کو پیتا یونہی خاموشی سے بینچ پر تھکے انداز میں بیٹھا تھا،

“شادل۔۔۔خولہ۔۔۔”

رابیہ بیگم اسے دیکھتے ہی اٹھ کر شادل کے پاس آتے رندھے ہوئے لہجے میں بولیں،ایک نظر انکے بھیگے چہرے کو دیکھ کر شادل آگے بڑھ کر انہیں گلے لگاگیا،سینے میں تڑپتا دل ایک بات پھر مچلا تھا شکایت کے لیے کہ آخر صرف اس ہی کے ساتھ کیوں ایسا ہوتا،کیوں اسکی تقدیر میں ہی اذیتیں لکھیں تھی لیکن لب پر ہمیشہ کی طرح قفل لگا تھا،آخر کیسے شکایت کرسکتا تھا،وہ تو تقدیر میں لکھا قبول کرنے والا تھا،پھر کیوں کچھ بولتا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتہ ہوچکا تھا خولہ کی ڈیتھ کو،مرتضٰی ہاؤس میں ہُو کا عالم تھا،رابیہ بیگم اکثر روتے رہتی آخر کو انہیں اپنی اکلوتی بھانجی سے بےحد محبت جو تھی،خولہ کی ڈیتھ کے دوسرے دن ہی خولہ کی ماں اسکی بیٹی کو مرتضیٰ ہاؤس میں چھوڑ کر جاچکی تھیں،بقول انکے وہ جب اسے دیکھتی انہیں اپنی بیٹی یاد آتی،تب سے خولہ کی بیٹی شانزے اپنے ساتھ ساتھ رکھتی،وہ ہر طرح سے اسکا خیال رکھتی چونکہ شادل نے ایک مرتبہ بھی اپنی بیٹی کو دیکھا تک نہ تھا کجا کہ اسے گود میں لیتا،تبھی وہ زیادہ تر شانزے اور پیام کے روم میں پائی جاتی،گھر میں سبھی شادل کے اس عجیب رویے سے پریشان تھے،ڈیتھ لے دو دن بعد ہی وہ خولہ اور اپنی تمام تصاویر اپنے کمرے سے نکال کر سٹور روم میں رکھوا چکا تھا اور روز کی اسکی روٹین کچھ یوں تھی کہ صبح کا گیا آفس وہ رات کو گھر آتا اور سیدھا اپنے روم میں چلے جاتا،وہ ہنس مکھ مزاج نرم طبیعت کا شادل جیسے گم ہی ہو چکا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔