422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 27)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

بار سے یاور عبید کے ساتھ نکلا تھا،آج کل عبید بہت چپ چپ رہنے لگا تھا،وجہ اسکی منگیتر کا دھوکہ تھا،جس رات وہ الشبہ کو طلاق دیا تھا اس ہی کے کچھ ہفتوں بعد عبید پر یہ راز کھلا تھا کہ اسکی منگیتر آئمہ کا کسی لڑکے کے ساتھ افئیر تھا اور وہ اپنے باپ کے سامنے بضد تھی اس لڑکے سے شادی کرنے کے لیے،جس پر عبید کے باپ کے دوست نے ان لوگوں سے معذرت کرلی تھی،اس وقت عبید کو ٹھکرائے جانے کے درد سے زیادہ یہ احساس ہوا کہ اس رات الشبہ پر کای گزری ہوگی جب وہ اسے طلاق دیا تھا،اپنی غلطی پر وہ بہت نادم ہوا تھا،اسکی کوشش تھی کہ جلد الشبہ سے مل کر اس سے معافی مانگے پر یہ موقع نہیں مل پارہا تھا عبید کو،

“بیٹھ جلدی۔۔۔”

یاور کی آواز پر چونکتے وہ کار میں بیٹھا،

رات دو بجے کے باعث سڑک سنسان ہورہی تھی،ابھی وہ لوگ راستے میں ہی تھے جب پیچھے سے کسی کار کی ٹھوکر پر یاور جو ڈرائیو کررہا تھا اپنی کار ڈس بیلینس ہونے پر بوکھلایا،عبید گھبراکر پیچھے گردن موڑے دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ بلیک فراری دیکھ پہچان گیا کہ اندر کون ہوگا اسکے،

“کون (گالی) ہے یار۔۔۔نشے میں چلارہا ہے ک۔۔۔”

یاور مشکل سے کار کو واپس بیلینس کر کے ڈرائیو کرتے غصے میں بولا پر ابھی اسکی بات بھی مکمل نہ ہوئی کہ ایک بار پھر پیچھے سے وہ کار ٹکرائی،عبید شیشہ نیچے کرتا ابھی گردن نکالا ہی تھا کہ وہ کار اب سپیڈ پکڑ کر ان لوگوں کی کار کے برابر میں آئی اور اس بار کی ٹھوکر جس قدر شدید تھی یاور کی کار سنبھلنے سے پہلے ہی سیدھا سائیڈ پول سے جاٹکرائی،عبید کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا جبکہ یاور کا سر زور دار انداز میں شیشے سے لگنے پر شیشہ ٹوٹا تھا،سر میں شدت بھری لہر اٹھی تھی درد کی ساتھ ہی یاور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا،البتہ عبید اپنے ماتھے پر لگے کٹ کے نشان کو انگلی سے چھوتا شیشے کے اس پار مقابل کار کو دیکھا،

دوسری کار کا شیشہ نیچے ہوا تھا اور وہ مخصوص طنزیہ مسکراہٹ سمیت عبید کو آنکھ مارتا وکٹری کا نشان دکھا کر کار آگے بڑھا لے گیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار بجے مرتضیٰ ہاؤس میں داخل ہوتے اسکے عنابی لب سختی سے بھنچے تھے،یاور کے ساتھ عبید کو دیکھ اسے شدید اشتعال ہوا،مطلب وہ ہمیشہ اسے جھوٹ بولتا کہ یاور سے دوستی ختم کرچکا ہے،پر خیر ان دونوں کو اتنی سزا دے چکا تھا پیام مرتضیٰ جتنی وہ برداشت کرپائیں،اب سبھی سوچ جھٹکتے وہ روم میں انٹر ہوا،نظر سیدھا اس پر گئی جو بےخبر بیڈ پر سورہی تھی،شانزے کو یوں مزے سے سوتا دیکھ ہی اسکے تاثرات تنے تھے،

ہاتھ میں لی رپورٹ بیڈ پر پھینکتا وہ وارڈروب کی طرف گیا،پینٹ کی پوکٹ سے چھوٹی ڈبی نکالی جس میں وہ قیمتی پینڈنٹ شانزے کو گفٹ کرنے کے لیے خریدہ تھا وہ بوکس دراز میں رکھنے کے بعد کپڑے لے کر اب اسکا رخ ڈریسنگ روم کی طرف ہوا،کچھ دیر بعد چینج کر کے باہر آیا پھر سائیڈ ٹیبل سے سیگریٹ اور لائٹر نکالنے لگا تبھی نگاہ ناچاہتے ہوئے بھی اس بےخبر پری وش پر گئی،گال پر سوکھے آنسوؤں کے نشان دیکھ پیام کو دکھ ہوا تھا،آہستگی سے بلکل اسکے برابر میں بیٹھتا وہ دونوں ہاتھوں کو بیڈ پر رکھے تھوڑا جھکا اور بغور شانزے کا خوبصورت چہرہ دیکھنے لگا،پیام کے غصے پر وہ شاید بری طرح ڈری تھی جو نیند میں بھی خوبصورت چہرے پر خوف کے اثرات رقم تھے،پیام جھک کر نرمی سے اسکے نرم گال پر اپنے لب رکھا تھا پر اچانک ذہن میں شانزے کا تھپڑ آیا تو جھٹکے سے دور ہوتا وہ کھڑا ہوگیا،

دکھ کی جگہ اب ناگواریت نے لے لی تھی،ترچھی نظروں سے اسے گھورتا وہ صوفے پر جا بیٹھا،لائٹر سے سیگریٹ سلگاتے ایک بات پھر زیرک نظروں میں شانزے مرتضیٰ کا وجود تھا،اسکی نیند حرام کر کے وہ اب کتنے سکون سے سورہی تھی،ایک پل کو اسے سوتا دیکھ پیام مرتضیٰ کا دل چاہا کہ جھنجھوڑ کر رکھ دے شانزے کو،پھر اپنی سوچ کی نفی کر کے ارادہ بدلتے وہ سموکنگ کے دوران مسلسل اسے دیکھتا رہا،نیند تو اب آنی ہی نہیں تھی،محترمہ کا تھپڑ جب جب یاد آتا الگ ہی غصہ اسے آلیتا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تھوڑا باپ کو بھی وقت دے دیا کریں بات کرنے کا۔۔۔”

صبح آفس میں شادل مرتضیٰ صاحب کو ایک ایمپورٹنٹ فائل کی تفصیلات دے کر اٹھا تھا ابھی وہ انکے کیبن سے نکلتا کے مرتضیٰ صاحب نے کہا جس پر چونک کر وہ پلٹا،

“ایسی کوئی بات نہیں ہے ڈیڈ۔۔۔”

انکی بات پر وہ دھیمی مسکان زبردستی لبوں پر سجائے بولا تو مرتضیٰ صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا،واپس مڑ کر انکے سامنے رکھی چئیر پر شادل بیٹھا تھا،

“آپ روز بروز ایسے کیوں ہوتے جارہے ہیں شادل۔۔؟”

وہ باپ تھے اچھے سے سمجھ چکے تھے اسکے لبوں پر سجی زبردستی کی مسکراہٹ،

“مجھے۔۔۔کیا ہوا۔۔۔”

ان سے پوچھنے سے زیادہ شادل مرتضیٰ یہ سوال خود سے کیا تھا جس پر تاسف سے اسے دیکھ کر مرتضیٰ صاحب گویا ہوئے،

“دیکھیں شادل۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔۔آپ خولہ کی ڈیتھ سے بہت دکھی ہیں۔۔۔”

مرتضیٰ صاحب کی اس بات پر شادل کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ ٹہری،پیپر ویٹ کو گھورتا وہ خاموش رہا،

“بیٹے۔۔۔جانے والے کو روکا نہیں جاسکتا۔۔۔”

ٹہرے ہوئے لہجے میں انہوں نے کہا،

“ٹھیک کہا ڈیڈ۔۔۔جانے والے کو۔۔۔روکا نہیں جاسکتا۔۔۔”

اچانک ان کی بات دہرائے وہ جیسے خود کو اذیت دینے کے لیے یہ الفاظ ادا کیا تھا،

“میں جانتا ہوں آپ کو دکھ ہے بہت لیکن۔۔۔شادل ابھی کچھ ختم تو نہیں ہوا نا میرے بیٹے۔۔۔۔آپ تو بہت صابر اور شاکر ہیں۔۔۔پھر یوں ناامید کیوں ہو بیٹھے ہیں۔۔۔”

یہ بات کہتے مرتضیٰ صاحب کے لہجے میں دکھ تھا،انہیں بہت کھلتا شادل کا کھویا رہنا،

“میں۔۔نااُمید نہیں ہوں۔۔۔پر پہلی بار مجھے رشک آیا ہے اپنے چھوٹے بھائی پر۔۔۔”

وہ دھیمے لہجے میں بولا تھا،مرتضیٰ صاحب چونکے یہ بات سن کر،

“شروع میں۔۔۔مجھے افسوس ہوتا پیام کو دیکھ ڈیڈ۔۔۔کہ اس نے اپنی زندگی کن فضول مشاغل میں لگائے رکھی ہے۔۔۔۔ایسے اسکی قسمت خراب ہوگی اور کچھ نہیں۔۔۔۔مگر اب۔۔۔اب مجھے رشک ہوتا ہے اس پر۔۔۔کہ اسے آسانی سے زندگی ہر کچھ دے دیتی ہے جو وہ چاہتا ہے۔۔۔اور میں۔۔۔میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ڈیڈ جو میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔۔۔”

پوری بات ختم کرکے آخر میں شادل چہرہ اٹھا کر تکلیف سے اپنے باپ کو دیکھا تھا،وہ چپ ہوئے تھے اسکی بات پر،

“زندگی کی ایک تلخ حقیقت جانتے ہو۔۔۔۔یہ اچھے لوگوں سے امتحان بہت سخت لیتی ہے۔۔۔”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ آہستگی سے بولے تو شادل اذیت سے ہنس کر بولا،

“اور زندگی کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی کو بنا چاہے سب کچھ مل جاتا ہے تو کوئی ایک خوشی کی چاہت کے بدلے کئی غم سہتا ہے۔۔۔”

یہ بات کہتے مرتضیٰ صاحب کو وہ بہت ٹوٹا ہوا لگا،تبھی انہوں نے کہا،

“خدا تمہیں صبر دے میرے بچے۔۔۔”

نرمی سے کہہ کر وہ شادل کو چند پل دیکھتے رہے،پھر گویا ہوئے،

“کیا آپ میری ایک بات مانیں گے۔۔۔”

مرتضیٰ صاحب کے بات بدلنے پر شادل واپس خود پر سنجیدگی کا خول چڑھائے اثبات میں سر ہلایا،

“شانزے کی چھوٹی بہن۔۔۔الشبہ۔۔۔آپکی ماں۔۔۔اور ہمیں پسند ہے۔۔۔آپ کے لیے۔۔۔”

اور اس بات پر شادل مرتضیٰ کو اس قدر برا جھٹکا لگا کہ وہ چئیر چھوڑ کر کھڑا ہوگیا،بےیقین نظروں سے اپنے باپ کو وہ دیکھتا رہا،

“شادل۔۔۔جو کہہ رہا ہوں میں۔۔۔وہ آپ تحمل سے سنیں۔۔۔بیٹھیں۔۔”

اسکی حالت سمجھتے وہ آرام سے بولے،

“ڈیڈ۔۔۔آپ لوگوں نے ایسا سوچا بھی کیوں۔۔۔”

وہ بےیقینی سے کہتا اپنے قدم پیچھے لیا تھا،

“شادل آپ بیٹھیں۔۔۔میری بات سنیں پوری۔۔۔ازکیٰ کو آپ اکیلے کیسے سنبھالیں گے۔۔۔ایک ماں کی ضرورت ہے اس بچی کو۔۔۔اور یقیناً شانزے کا اخلاق جتنا اچھا ہے ہم سب سے رابیہ بیگم کو پورا یقین ہے کہ انکی بہن بھی بہت اچھی ہوگی۔۔۔”

تحمل سے شادل کو سمجھانے کی کوشش کرتے وہ سیدھے ہوبیٹھے،

“نہیں ڈیڈ۔۔۔میری بیٹی کے لیے میں ٹھیک ہوں اکیلا۔۔۔اور شانزے سنبھال تو رہی ہے اسے۔۔۔پھر۔۔۔اور ویسے بھی ضروری نہیں کہ شانزے اچھی ہو تو اسکی بہن بھی۔۔۔”

مرتضیٰ صاحب کو بتاکر الشبہ کا سوچتے ہی اسکے لہجے میں ناگواری گھلی تھی،

“میں مانتا ہوں شانزے بہت اچھے سے خیال رکھتی ہے ازکیٰ کا پر کیا وہ ہی ساری زندگی اسکا خیال رکھیں گی۔۔۔۔شادل بیٹے سمجھیں بات کو۔۔۔”

“ڈیڈ میری بات آپ سمجھیں۔۔۔وہ لڑکی بہت چھوٹی ہے۔۔۔”

بہت سوچنے پر شادل کو صحیح بہانہ ملا تھا وہ بلکل بھی الشبہ سے شادی کا روداد نہ تھا،اس لڑکی سے تو وہ دور ہی رکھنا چاہتا تھا اپنی بیٹی کو،

“میں بات کرچکا ہوں اکبر صاحب سے۔۔۔وہ راضی ہیں۔۔۔اور آنے والے جمعہ کو انکے کہنے پر آپ کا اور الشبہ کا سادگی سے نکاح ہوگا۔۔۔”

شادل کے مسلسل انکار پر مرتضیٰ صاحب اب کی بار دوٹوک لہجے میں اسے بولے کم اور بتائے زیادہ تھے،شادل کی آنکھیں پتھرائیں،

“ڈیڈ۔۔۔لائف ہے میری۔۔۔کھلونا نہیں۔۔۔آپ لوگ کیسے کرسکتے ہیں یہ۔۔۔بنا مجھ سے پوچھے۔۔۔”

وہ پریشانی سے بولا،غصہ بہت آیا تھا ماں باپ کے اس اچانک فیصلے پر،پچھلی بار بھی ان لوگوں نے اس سے اجازت لینا تو کیا بتانا بھی ضروری نہ سمجھا اور اس بار بھی،

“اچھا تو اب ہر کام مجھے تم سے پوچھ کر کرنا ہوگا۔۔۔”

دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے وہ بھاری لہجے میں اسے دیکھتے بولے،

“میرا وہ مطلب نہیں تھا ڈیڈ۔۔۔میں۔۔۔”

اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے،باہ سے بدتمیزی اسکا شیوہ نہ تھی،شادل بےبسی سے انہیں دیکھتا رہ گیا پھر کیبن سے نکلتا آفس ہی سے باہر چلاگیا،یکدم اسکا دم گھٹنے لگا تھا،وہ کس اذیت میں تھا کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا،دل میں پھر ہزاروں شکوے لیے وہ ایک بار پھر ساحل سمندر کی طرف نکلا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازکیٰ کو بخار ہونے کی وجہ سے رابیہ بیگم پیام کے ساتھ اسے ہاسپٹل لے کر گئی تھیں،شانزے کو یہ صحیح موقع لگا تھا وہ رپورٹ چیک کرانے کا،صبح اٹھنے پر رپورٹ جب بیڈ پر پڑی ملی تو وہ اسے اٹھاکر جلدی سے وارڈروب میں کپڑوں کے نیچے رکھی تھی اور اب ڈرائیور کو ہاسپٹل کا بول کر وہ کار میں بیٹھی تھی،

بیس منٹ بعد وہ ہاسپٹل میں پہنچی تھی،جلدی سے کار سے نکل کر وہ اندر داخل ہوتی ریسیپشن پر گئی،اسے کچھ دیر انتظار کا کہا گیا تھا،ویٹنگ ایریا پر بیٹھے ابھی شانزے کو کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب رابیہ بیگم اور پیام ازکی کو لیے وہاں سے باہر کی طرف گزرتے اسے دیکھے تھے،

“شانزے تم۔۔۔”

رابیہ بیگم کی آواز پر چونک کر جب اس نے ان کی طرف دیکھا تو گھبراکر اٹھی،شانزے کے ہاتھ میں وہ رپورٹ پیام کی نظروں سے مخفی نہ رہ سکی،اسکا رنگ فق ہوا تھا پیام کے خطرناک حد تک سخت چتونوں کو دیکھ،رپورٹ کو پرس میں چھپاتی وہ چھوٹے قدم اٹھاتی ان لوگوں کے پاس آئی،

“امی۔۔ط۔۔طبیعت۔۔تھوڑی خراب تھی۔۔۔بس اسی لیے۔۔۔”

اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کرتی وہ بولی،مقابل کی تیز نظریں خود پر اب تک محسوس ہورہی تھیں اسے،

“بتاتی تو مجھے۔۔۔چلو اب تمہارا بھی چیک اپ کروالیں۔۔۔”

رابیہ بیگم نارملی کہہ کر اسکا ہاتھ پکڑیں،

“نہ۔۔نہیں امی۔۔۔اب ٹھیک ہوں۔۔۔بہتر ہے طبیعت۔۔۔”

پل میں اسکی چہرہ پسینہ پسینہ ہوا تھا،ڈر تھا چوری نہ پکڑی جائے،

“لڑکی چلو۔۔۔اب آ ہی گئی ہو تو کروالو چیک اپ۔۔۔”

رابیہ بیگم بضد ہوئی تھیں جبکہ پیام اب تک خطرناک تیوروں سمیت جبڑے بھینچتا اسے دیکھ رہا تھا،

“امی۔۔۔نہیں۔۔۔میں کہہ رہی ہوں نا۔۔ٹھیک ہے طبیعت میری۔۔۔”

بولتے ہوئے اسے رولائی آنے لگی،ایک تو رابیہ بیگم کی ضد اوپر سے پیام کی نظریں وہ بہت ڈری ہوئی تھی ابھی،ادھر رابیہ بیگم اسکی رونے والی صورت دیکھ ہنس دی،

“ٹھیک ہے نہیں کرواؤ چیک اپ۔۔۔ پر رونے کیوں لگی ہو۔۔۔؟”

ہنس کر وہ حیرت سے پوچھیں،شانزے نے انکے مان جانے پر ازکیٰ کو انکی گود سے لیا تھا،

“نہیں۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔پتا نہیں۔۔۔”

پیام کی سخت نظروں سے خائف ہوتی وہ جو منہ آیا بولنے لگی،جس پر مسکراتی رابیہ بیگم ہاسپٹل سے نکلیں،انہیں کے پیچھے وہ ایک چور نظر پیام پر ڈالی،ایک عجیب سا خوف محسوس ہوا تھا اسے پیام مرتضیٰ کا غصے سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ،

پورے راستے پر تھوڑی دیر بعد اسے پیام کی نظریں بیک ویوو مرر سے خود پر محسوس ہوتی رہی جس پر وہ کچھ نہ کرتے پہلو بدل کر رہ جاتی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمیلہ بیگم سے کافی ریکویسٹ پر اسے اجازت ملی تھی آج کالج جانے کی،اس میں بھی اکبر صاحب اسے خود اپنے ساتھ لے کر گئے تھے،مجبوری کہ اسے مارک شیٹ لینی تھی،وہ اچھے سے جانتی تھی کہ جمعے کو اسکا نکاح ہے شادل کے ساتھ،جمیلہ بیگم کے یہ بتانے پر اسکے دل میں جیسے کوئی احساس ہی نہیں تھا سوائے ندامت کے،انکے فیصلے پر وہ اپنی غلطی کے ازالے کا سوچ سر تو جھکا گئی تھی پر شادل کا سامنا کرنے کی سوچ ہی اسے شرمندہ کردیتی،اس انسان کے سامنے تو وہ سر اٹھانے کے قابل بھی نہ رہی تھی کجا کہ اسکی بیوی کے عہدے پر فائز ہوتی،

کئی طرح کی سوچوں کے گرد وہ کالج سے مارک شیٹ لے کر نکلی تھی،اکبر صاحب کالج کے باہر اسکا انتظار کررہے تھے،ان دنوں پڑھائی پر دھیان نہ رہنے کی وجہ سے الشبہ کے کچھ خاص اچھے مارکس نہیں آئے تھے،اپنی مارک شیٹ دیکھتی الشبہ بھیڑ سے گزر کر اکبر صاحب کے پاس جارہی تھی تبھی کوئی اسکا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر کرتا لے گیا،الشبہ گھبرائی تھی پر کالج کے قریب ہی درخت کے پاس مقابل ہاتھ چھوڑتا اسکی طرف مڑا تو وہ چونک کر رہ گئی،

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔”

وہ غصے میں عبید کو دیکھتی بولی،

“الشبہ۔۔۔میری بات سن لو۔۔۔اسے ریکویسٹ سمجھو پلیز۔۔۔میں صرف کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔اسکے بعد تم بھلے چلے جانا۔۔۔”

وہ نادم سا ہوتے بولا تھا،الشبہ ایک نفرت بھری نظر سے اسے دیکھ کر کہنے لگی،

“تمہیں جو کرنا تھا تم کر چکے ہو۔۔۔لہذہ اب اپنی شکل مت دکھانا مجھے۔۔۔پہلے ہی بہت بدنامی اٹھائی تمہاری وجہ سے۔۔۔۔اب جو بکواس کرنی ہے کرتے رہو۔۔۔مجھے نہیں سننا کچھ بھی۔۔۔”

اسے جھڑک کر وہ جانے لگی تبھی عبید جلدی سے اسکے سامنے آیا،

“الشبہ پلیز۔۔۔یار معاف کردو مجھے۔۔۔آئی سوئیر میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔بس ایک بار کہہ دو کہ معاف کردیا تم نے پھر میں خود ہی چلا جاؤں گا۔۔۔”

پشیمانی سے کہتے عبید کی آنکھوں میں نمی جھلکی،دوسری جانب ساحل سمندر سے واپسی پر اب شادل کی کار کا رخ آفس کی طرف تھا،راستہ الشبہ کے کالج سے ہوتا،اس نے کار روکی تھی درخت کے پاس کھڑی الشبہ کو عبید کے ساتھ دیکھ کر،شادل بےیقین ہوا،کیا وہ لڑکی اس قدر بےوقوف تھی کہ عبید سے دھوکہ کھانے پر بھی نہیں سدھری،

وہ اپنا مقام پہلے ہی گراچکی تھی شادل مرتضیٰ کی نظروں سے پر آج شادل کو شدید نفرت محسوس ہوئی اس لڑکی سے،یقیناً وہ کبھی نہ سدھرنے والی تھی،

“نہیں کروں گی تمہیں معاف۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔سن لیا۔۔۔اب جان بخش دو میری۔۔۔”

اسے جھاڑ پلاکر کہتی الشبہ وہاں سے گئی تھی پھر اس سے پہلے کے عبید پھر اس کو روکتا وہ جلدی سے اکبر صاحب کے پاس پہنچ گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو پیام کھانا بھی نہیں کھایا تھا،شانزے کا دل نہیں چاہا روم میں جانے کا،اسے پتا نہیں لیکن بہت ڈر لگ رہا تھا پیام سے،ازکیٰ کو سلاکر وہ شادل کے کمرے میں سلائی تھی پھر سب کے روم میں جانے کے بعد ہمت کرتے خود بھی لاؤنج سے اٹھتی اوپر گئی،کمرے میں داخل ہوئی تو پیام کی نظر گیٹ پر ہی پاکر گھبرائی،پھر خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی کوشش کیے وہ وارڈروب کی طرف جانے لگی پر تبھی پیچھے سے کمر پر مضبوط بازو کی گرفت محسوس کیے بوکھلائی،ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ پیام جھٹکے سے اسے دیوار سے لگایا کچھ یوں کہ شانزے کا چہرہ دیوار پر لگا،

پیام کا بھاری ہاتھ اپنی گردن پر لگتے ہی وہ مچلی پر تبھی وہ ہاتھ کی گرفت سخت کیا تھا،

“اتنا بھروسہ دکھانے کے لیے تھینکس۔۔۔”

شانزے کے کان میں سرگوشی کرتے پیام کا اشارہ ہاسپٹل والی بات پر تھا،اس کی سانسیں جب شانزے کو گردن پر محسوس ہوئی تو کوشش کے باوجود وہ رونے لگی،

“میں صرف۔۔۔کنف۔۔کنفرم۔۔۔”

“ششش۔۔۔”

شانزے کی بات کاٹ کر کہتا وہ اسکی گردن پر گرفت پل پل بڑھا رہا تھا،شانزے کا دم گھٹنے لگا تبھی پیام کی درشت آواز ابھری،

“مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔؟”

یہ سوال پوچھتے ہی وہ شانزے کا رخ جھٹکے سے موڑا ساتھ ہی اسکی تھوڑی دبوچی،آنسو روانی سے شانزے کے گال پر پھسلنے لگے،پیام کا ہاتھ تھوڑی سے ہٹانے کی کوشش کرتے وہ دبی آواز میں بولی،

“پی۔۔۔پیام۔۔۔مج۔۔مجھے د۔۔۔درد۔۔۔ہور۔۔۔رہا ہے۔۔۔”

تھوڑی پر گرفت سخت ہونے کے باعث اس سے بولا نہیں جارہا تھا،اپنے جبڑے شانزے کو ٹوٹتے محسوس ہوئے،

“مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔؟”

اسکے خوبصورت چہرے سے اپنا وجیہہ چہرہ کرتے پیام اب تیز آواز میں پوچھا تھا،

“پلی۔۔پلیز۔۔۔چھ۔۔چھوڑ۔۔دو۔۔۔پیا۔۔۔”

“میں نے پوچھا مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔؟”

تھوڑی سے ہٹاتے شانزے کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتا پیام جیسے ضد پر اڑا تھا جواب سننے کے لیے تبھی شانزے دبی آواز میں چیخی،

“مجھے۔۔۔نہیں معلوم۔۔۔”

شانزے کے جواب پر پیام کی گرفت تھوڑی پر ڈھیلی ہوئی تھی،وہ شعلہ بار نگاہوں سے گھورا تھا شانزے کو،

گرفت ڈھیلی ہونے پر شانزے اسے دھکا دے کر ڈریسنگ روم کے جانب بھاگی مگر پیام اسکا بازو دبوچے سامنے لاکر شانزے کو جھٹکتے کے انداز میں چھوڑا تھا،بمشکل خود کو گرنے سے بچائے وہ ابھی سیدھی ہوئی تھی کہ پیام کو خود کے نزدیک پاکر لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے بیڈ پر گری،

“پیام۔۔۔مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔میں کیسے۔۔۔وہ رپورٹ۔۔۔۔پلیز پیام۔۔۔”

پیام کی آنکھوں میں اترتا خون دیکھ وہ اپنی بات اسے بتا نہیں پارہی تھی،لرز کر بےبسی سے روتی شانزے اور بھی کچھ بولتی کہ اسکے کندھے کو اپنے بھاری ہاتھ سے جکڑ کر پیام کھینچا تھا اپنے جانب ساتھ ہی شانزے کے کپکپاتے ہونٹ پر اپنے لب رکھ کر اسے خاموش کراگیا،وہ تڑپ ہی تو گئی تھی پیام کے سخت لمس پر،دل کی دھڑکن جیسے بند ہونے کو تھی،تبھی اس سے چہرہ دور کرتے پیام دھکا دیا تھا شانزے کو بیڈ پر،

“تم نے اچھا نہیں کیا شانزے مرتضیٰ۔۔۔پیام مرتضیٰ پر بھروسہ نہ کر کے تم اپنے لیے ہی گڑھا کھودی ہو۔۔۔۔بہت بخش دیا تمہیں۔۔۔اب نہیں۔۔۔”

شانزے کو پیچھے ہوتے دیکھ وہ اس پر جھکتا بولا،لہجہ انگارے برسارہا تھا،شانزے بےساختہ نفی میں سر ہلائی تھی،

“تم۔۔۔ایسا نہیں کروگے۔۔۔”

لہجے کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے وہ کہنے لگی ساتھ ہی بیڈ سے اترنے لگی پر پیام اسکی نازک کمر کو اپنی گرفت میں لیتا شانزے کو تقریباً پٹخا تھا بیڈ پر،سر میں درد کی ایک لہر اٹھی تھی،لیکن اگلے ہی لمحے جب پیام جھک کر اسکی سانسیں روکا تب شانزے مچل کر پیام کی شرٹ دبوچی تھی اپنی مٹھی میں،

“پیام۔۔۔۔د۔۔دور۔۔ہٹو۔۔مجھے۔۔سانس۔۔۔”

اسکے لبوں کو بخشتا جب وہ شانزے کا دوپٹہ ہٹا کر اسکی گردن پر جھکا تب شانزے نڈھال لہجے میں بولی،پہلے ہی سر میں درد ہورہا تھا اوپر سے اسکے سخت لمس پر اب شانزے کو سانس خود پر تنگ لگی،

شانزے کی بات اگنور کرتے پیام اسکی گردن سے تھوڑا نیچے اپنے دانت گاڑا تھا،بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں دبوچے وہ ضبط کرنے کے چکر میں اپنے لب سختی سے پیوست کی تھی ایک دوسرے میں،تکلیف جب حد سے بڑھی تو وہ بھرائی آواز میں کہی تھی،

“مجھے۔۔سانس نہیں۔۔۔آرہی۔۔۔پیام۔۔۔پلی۔۔۔پلیز د۔۔دور ہو۔۔۔”

گلا رندھنے لگا تھا حلق میں جیسے آنسو کا گولا اٹکا تھا،گردن کو چھوڑ وہ اب کندھے پر دانت کا دباؤ بڑھائے پوری کوشش کیا تھا مقابل کو تکلیف دینے کی پر شانزے کی آواز کے ساتھ ساتھ جب مزاحمت بھی بند ہوئی تب چونکتے ہوئے ہوش میں آکر اٹھتا پیام اسکا چہرہ دیکھا تھا،

خوبصورت چہرے پر اذیت کے آثار صاف دکھ رہے تھے،لب کو دانتوں سے کچلے وہ ضبط سے لیٹی جیسے تھک کر خود کو اسکے حوالے کرچکی تھی،بےاختیار پیام کی انگلیاں شانزے کی ناک پر گئی،اسکی سانسیں۔۔۔۔،ہاں وہ بہت دھیمی سانس لے رہی تھی،جھٹکے سے پیام بیڈ سے اٹھ کر ریموٹ اٹھایا تھا ساتھ اے سی فُل پر کر کے واپس شانزے کے پاس آیا،جو تقریباً بےہوش ہونے لگی تھی،اسے اٹھاکر بیٹھاتے وہ اپنے سینے میں بھینچ گیا،

“ریلیکس۔۔۔نہیں کررہا کچھ۔۔۔”

آہستگی سے شانزے کی پشت سہلاتے پیام اسکے کان میں سرگوشی کیا تھا،جب کہ نیم غنودگی میں بھی ہچکیاں لیتی وہ ہلکی آواز میں رورہی تھی،

ابھی اسکی بگڑتی حالت دیکھ پیام اسے سزا دینے کا اپنا ارادہ ملتوی کیا تھا،پر وہ اتنی آسانی سے شانزے کو معاف نہیں کرنے والا تھا،کچھ دیر بعد نارمل ہوتی شانزے اس ہی کی باہوں میں سوچکی تھی،ادھر پیام مرتضیٰ نے اسے اپنی گرفت میں لیے ایک اور رات آنکھوں میں کاٹی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ٹھیک چھ دن بعد جمعے کو شادل اور الشبہ کا نکاح تھا،نکاح بھلے سادگی سے تھا پر گھر میں ہنوز صبح سے گہما گہمی تھی،مرتضی صاحب نے صرف چند قریبی رشتے داروں کو دعوت دی تھی،اکبر صاحب کے گھر جانے کے لیے سب ہی تیاری میں مگن تھے،اس رات کے بعد سے پیام نے اسے ان چھ دنوں میں ایک مرتبہ بھی مخاطب نہیں کیا تھا،دوسری جانب شانزے بھی پیام سے ناراض تھی اس رات کے رویے پر،

ڈریسنگ کے سامنے اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیتی وہ مڑنے لگی تھی کہ پیچھے سے آکر پیام اسے کندھوں سے تھاما،شانزے کی نظریں یوں ہی اٹھیں پر ساکت رہ گئی آئینے میں اس کا عکس دیکھ کر،سفید شلوار اور قمیض پر بالوں کو جیل سے سیٹ کرنے کے باوجود ہمیشہ کی طرح چند بال ماتھے پر بکھرے تھے،وہ نکھرا نکھرا سا بےحد وجیہہ لگ رہا تھا،اتنا کہ شانزے اسے بناپلک جھپکائے دیکھتی رہ گئی،جبکہ وہ شانزے کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا تھا،

ہوش میں شانزے تب آئی جب پیام اسکی گردن پر وہ پینڈنٹ پہنایا تھا،اس قدر نازک اور خوبصورت پینڈنٹ اپنی گردن پر سجے دیکھ کر وہ ابھی اسے چُھوتی کہ پیام پیچھے کھینچا تھا پینڈنٹ کو،گردن پر یکدم خراش پڑنے سے شانزے آنکھیں میچ کر سسکی،

“کھوکھلے بھروسے اور جھوٹی محبت سے تم پیام مرتضیٰ کی محبت خود سے کم نہیں کرسکتی۔۔۔۔شانزے مرتضیٰ۔۔۔”

اسکے کان میں سرگوشی کرنے کے بعد وہ شانزے کے کان کی لُو پر لب رکھ کر دور ہوا،ساتھ ہی روم سے نکلتا چلاگیا،ادھر شانزے کی آنکھیں نم ہوئیں مقابل کے تحفہ دینے کے اس انداز پر،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔