422K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 15)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

“ہے جاناں۔۔۔تم نے کھانا کھالیا۔۔۔؟”

تحریم جو باسط کی چیخ و پکار کی منتظر تھی،اسکی نرم آواز پر جھٹکے سے وہ سامنے دیکھی،واشروم لے گیٹ پر کھڑا وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا،

“ارے تم ہی سے مخاطب ہوں۔۔۔”

اسے یوں حیرت کا مجسمہ بنے دیکھ وہ چند قدم آگے بڑھتا بولا،

“آ۔۔ہا۔۔۔ہاں۔۔کھالیا۔۔میں نے کھانا۔۔۔”

وہ جیسے اب بھی اسکے لہجے پر یقین نہیں کرپارہی تھی،

“اوکے۔۔۔تو پھر اینرجی بھی ٹھیک ٹھاک بھر چکی ہوگی تم میں۔۔۔”

وہ پھر نرم لہجے میں پوچھا جس پر تحریم ناسمجھی میں سر ہلایا،

“اب اس اینرجی کو کہیں یوز بھی تو کرو۔۔۔ چلو۔۔۔ایسا کرو کہ ابھی یہ جتنا بھی پھیلاوا تم نے کیا ہے نا۔۔۔ان سب کو سمیٹ دو۔۔۔”

دونوں ہاتھوں کو مسلتا وہ چاروں طرف آنکھوں سے اشارہ کیے بولا،تحریم نے بےاختیار چہرہ بگاڑا،

“او مسٹر۔۔۔میں کچھ بھی نہیں کرنے والی۔۔۔”

“پہلے بیڈ سیٹ کرو کیونکہ مجھے سونا ہے۔۔۔”

اسکی بات کو ان سنا کیے باسط نارملی بولا،

“تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں وہ سب کروں گی جو تم کہہ رہے ہو۔۔۔”

اسے یوں اپنی بات کہہ کر پرسکون سا ہوتے صوفے پر اپنے برابر بیٹھے دیکھ تحریم ایک آئبرو اٹھا کر پوچھی،

“تمہیں کرنا پڑے گا جاناں ورنہ۔۔۔”

اسکے پوچھنے پر سنجیدگی سے کہتا باسط یکدم سرک کر اسکے قریب ہوا،وہ فوراً سے پہلے اور برابر میں ہوئی پر باسط اسکا بازو پکڑے اپنے قریب کیا تھا،لائٹ براؤن آنکھوں میں اچانک خوف چھایا تھا،اسکے چہرے کے بلکل قریب اپنا چہرہ کیے وہ بغور تحریم کا ایک ایک نقش دیکھنے لگا پر تبھی باسط کے باریک لب مسکرائے،تحریم کی بیٹ مِس ہوئی تھی اسکی دلکش مسکراہٹ دیکھ،

“ورنہ میں تمہارے تمام بیگز میں رکھے سامان کا حشر خراب کردوں گا۔۔۔”

اسکے چیلنجنگ انداز میں کہنے پر تحریم ہوش کی دنیا میں لوٹی،

“ہاں۔۔۔کیا۔۔۔”

یوں پوچھا جیسے وہ سنی ہی نہ ہو اسکی بات،

“جاناں۔۔۔اچھی بیویوں کی طرح یہ پھیلاوا سمیٹو نہیں تو میں بہت برے شوہروں کی طرح پیش آؤں گا۔۔۔”

تحریم کا یوں بناپلکیں جھپکائے خود کو دیکھنا باسط کو برا لگا تھا تبھی سیریس تاثرات سمیت کہتا وہ صوفے پر سے اٹھا اور اسکا ایک بیگ کھولا،اندر بہت سے کپڑے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے پر اگلے ہی لمحے باسط نے وہ پورا بیگ الٹ دیا،تحریم جو اب تک محو سی اسے دیکھ رہی تھی باسط کے اس عمل پر بوکھلا کر کھڑی ہوئی،

“یہ کیا کررہے ہو تم۔۔۔”

وہ پریشانی سے بول کر اپنے بیگز کی طرف بڑھی پر تبھی باسط کی گھوری پر قدم روک گئی،

“بہت تمیز سے بات کرلی تم سے۔۔۔صحیح اندازہ تھا میرا۔۔۔تم جیسی لڑکیاں اس قابل ہی نہیں ہوتی کہ ان سے طریقے سے بات کی جائے۔۔۔”

دوسرے بیگ کو کھولتا وہ کرخت لہجے میں بولا،تحریم کو ہمیشہ کی طرح اسکا “تم جیسی” کہنا چبھا تھا،دوسرے بیگ سے بھی اسے ایک ایک کر کے سامان ہر طرف پھینکتا دیکھ تحریم چیخی تھی،

“بس کرو۔۔۔کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔کیوں کررہے ہو ایسے۔۔۔”

اسکا لہجہ بھیگا تھا یہ پوچھتے،آنکھوں میں بےساختہ نمی جھلکی،

“یہی سوال اگر میں تم سے پوچھوں۔۔۔کہ تم نے کیوں کیا ایسا۔۔۔”

اپنا ہاتھ روکے وہ اس سے سخت لہجے میں پوچھا پر تحریم کو نظر چراتے دیکھ حیران ہوا،وجہ تب سمجھ آئی جب نظر اپنے رکے ہاتھ میں گئی جس میں تحریم کا پرسنل سامان تھا،فوراً سے وہ بیگ میں ڈالے باسط نے تحریم کی طرف دیکھا جسکے گال بری طرح دہک رہے تھے،

“کمرہ صاف کرو ورنہ سارا سامان جلا ڈالوں گا تمہارا۔۔۔”

نگاہ پھیرتے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا،تحریم نے بےبسی سے ایک نظر نیچے پھینکے اپنے کپڑوں پر گئی۔۔۔

“جلادو سب۔۔۔نہیں پرواہ مجھے۔۔۔”

بھرائی آواز میں غصے سے کہتی وہ واپس صوفے میں بیٹھی،

“اوکے تو پھر ساتھ ہی یہ موبائل بھی جلا ڈالتا ہوں۔۔۔جو شادل بھائی نے دیا تھا مجھے۔۔۔”

اسے ضد دکھاتے دیکھ باسط جیب سے تحریم کا موبائل نکالا تھا،اور بس۔۔۔وہ دیکھنا تھا کہ تحریم جھٹکے سے کھڑی ہوئی،

“نہیں۔۔میرا موبائل۔۔۔دیکھو تم۔۔۔موبائل کے ساتھ کچھ نہیں کرو گے۔۔۔”

ایک تو پہلے ہی اسکا یہاں دل نہیں لگ رہا تھا اوپر سے اب اسکا موبائل آیا تو وہ بھی پہلے اس سڑک چھاپ کے ہاتھوں،

“چلو جاناں۔۔۔بہت ہوئی باتیں۔۔۔اب روم سیٹ کرو۔۔۔پھر بعد میں واشروم۔۔۔”

اسکی کمزوری پکڑتا وہ مسکرایا تھا تبھی تحریم کا موبائل ہاتھ میں اچھالتا مزے سے کہہ کر صوفے پر بیٹھا تھا،کچھ نہ سمجھ آنے پر بےبسی سے تحریم نے زمین پر پیر پٹخا تھا پھر روتے ہوئے سہی پر باسط کے کہنے پر کمرے کی صفائی کرنے لگی،پہلی بار یہ کام کررہی تھی تبھی کچھ چیزیں وہ سیٹ کرنے کے بجائے غلطی سے بگاڑ جاتی،اسے یوں کرتا دیکھ باسط نفی میں سر ہلاتا اٹھا پھر خود تحریم کے ساتھ ہی مِل کر روم سیٹ کرنے لگا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں بپھری بیٹھی تھی دوپہر سے اسے یہاں چھوڑے وہ گھر سے کب کا نکلا ہوا تھا اور اب رات دو بجنے کو تھے پر اسکی واپسی کا اتا پتا ہی نہ تھا،شانزے کو شدید غصہ آرہا تھا،آخر وہ اسے لایا ہی کیوں تھا واپس،اسکے آنے پر وہ پیام کو ٹھیک ٹھاک سنانے کا ارادہ رکھتی تھی،تبھی روم کا گیٹ کھاٹ سے کھولتا وہ اندر داخل ہوا جسے دیکھ کر پہلے تو شانزے کا چہرہ بگڑا پھر چند قدم چل کر وہ اسکے پاس آئی،

“اتنی دیر سے کیوں آئے ہو گھر۔۔۔؟”

سینے پر بازو باندھے کھڑی وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے پوچھی،پیام نے پہلے تو حیرت سے اسے دیکھا پھر کہا،

“یہ ٹیپیکل بیویوں والے سوالات نہیں کیا کرو مجھ سے وائفی۔۔۔اور ویسے بھی پوچھ تو یوں رہی ہو جیسے کتنی پرواہ ہے میری۔۔۔”

اسے جھڑک کر آخر میں بڑبڑاتا وہ وارڈروب کی طرف گیا تھا،

“تمہاری نہیں اپنی پرواہ تھی مجھے۔۔۔سوال یہ کرنا ہے کہ تم مجھے واپس کیوں لائے ہو۔۔۔؟”

اسے اپنی باتیں ان سنا کیے ڈریسنگ روم میں داخل ہوتا دیکھ شانزے کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،غصہ بڑھا تو وہ ڈریسنگ روم کے دروازے کو زوروں سے بجانے لگی،

“کیا پروبلم ہے وائفی۔۔۔دل نہیں لگ رہا کیا میرے بنا۔۔۔آرہا ہوں بس دو منٹ میں۔۔۔”

اندر سے آتی پیام کی آواز پر وہ ایک مکا دروازے پر ماری پر پچھلی بار کی طرح اس بار بھی زور سے ہاتھ پر لگی تھی،

تبھی ڈریسنگ روم سے وہ نکلا،

“ہاں بولو وائفی۔۔۔کیا ہے۔۔؟”

وہ جو اپنا ہاتھ سہلارہی تھی پیچھے سے آتی اسکی آواز پر پلٹی،

“میں یہ کہہ۔۔۔”

بےساختہ شانزے بات روکتی بوکھلا کر نظریں پھیری،وہ بنا شرٹ کے ہی باہر نکلے اس کے سامنے تھا،

“چھی۔۔۔تم کتنے بےشرم ہو۔۔۔”

اپنا رخ دوسری طرف موڑے وہ چڑ کر بولی،

“میں اس سے بھی زیادہ بےشرم ہوں وائفی۔۔۔شکر کرو کہ تم اب تک بچی ہوئی ہو پیام مرتضیٰ سے۔۔۔”

اس کی اس بات پر شانزے شرم سے اسے گھور بھی نہ سکی،تبھی جھنجھلاکر سیدھا بیڈ پر جاکر لیٹی،

پیام ٹی شرٹ پہنتا اسی کے برابر میں آکر لیٹا پر فوراً ہی شانزے اٹھ کر روز کی طرح اسکے اور اپنے بیچ دو تکیے رکھنے لگی،

“پِلوز تو ایسے رکھتی ہو جیسے یہ تمہیں بچالیں گے مجھ سے۔۔۔”

لیٹ کر ہاتھوں کو اپنے سر کے نیچے رکھتا وہ تیڑھی نظروں سے شانزے کو دیکھتا بولا تو وہ گھور کر رہ گئی اسے،

“ایک بات بتاؤ۔۔۔”

کچھ یاد آنے پر شانزے نے اس سے پوچھا تو وہ سوالیہ نظروں سے دیکھا،

“تم کوئی کام وام نہیں کرتے کیا۔۔۔میرا مطلب۔۔ابو اور شادل جس طرح روز آفس جاتے ہیں تو تمہیں تو میں نے کبھی کچھ کرتا نہیں دیکھا۔۔۔”

وہ حیرت سے اس سے دریافت کرنے لگی،

“ہیں۔۔۔مجھے کیا ضرورت کمانے کی۔۔۔”

وہ لاپرواہی سے جواب دیا تھا،

“مطلب۔۔؟”

“مطلب کہ۔۔۔میری ایک لوجک ہے اس میں۔۔۔”

اپنی بات کہے وہ آنکھیں موندا،

“کیا لوجک۔۔؟”

شانزے اب بھی نہیں سمجھ پارہی تھی اسکی بات،جس پر پیام لیٹے سے اٹھتا اسکی طرف منہ کر کے بیٹھا پھر گہری سانس لیا،

“اب میری بات سنو۔۔”

اسکے یوں کہنے پر شانزے مکمل اپنی توجہ اسکی طرف کیے بیٹھی،

“دیکھو۔۔۔ڈیڈ آفس جاتے ہیں۔۔۔بھائی آفس جاتے ہیں۔۔۔۔تو یار اگر میں بھی ان لوگوں کے ساتھ آفس ہی جانے لگا تو ان کے پیسوں پر عیش کون کرے گا۔۔۔۔؟”

وہ جو بغور اسکی باتیں سن رہی تھی،پیام کی پوری بات مکمل ہونے پر تاسف سے سر نفی میں ہلائی تھی،جبکہ پیام آئبرو اچکائے اسے داد ملنے والی نظروں سے دیکھا تھا،

“میں بھی کس سے سمجھداری کی باتوں کی امید لگائے بیٹھی تھی۔۔۔۔”

اسکے وجیہہ چہرے کو ناگواری سے دیکھ شانزے بولی،پیام کی آبرو بھنچیں اس بات پر،

“مجھے زہر لگتے ہیں ایسے مرد جو فالتو گھر میں بیٹھتے ہیں۔۔۔کوئی نام نہیں کرتے۔۔۔”

سیدھی بات کہتے شانزے لیٹی تھی ساتھ ہی دوسری کروٹ لے گئے پر پیام حیرت کا شکار ہوا،اسے شانزے کا فالتو کہنا بہت عجیب لگا اور یہاں پیام مرتضیٰ نے بیٹھے بیٹھے منٹوں میں ایک فیصلہ لیا تھا،

“سنو وائفی۔۔۔”

وہ جو اتنی دیر میں اب نیند کی وادیوں میں پہنچ چکی تھی پیام کے جھنجھوڑنے پر اٹھی،

“کیا مصیبت ہے۔۔۔سکون سے سونے تو دیا کرو۔۔۔”

نیند ٹوٹنے پر وہ جھنجھلائی تھی جس پر پیام نے کچھ دیر اسے دیکھا،

“کل مجھے جلدی اٹھا دینا۔۔۔۔آ۔۔۔آفس کے لیے۔۔۔”

اپنی بات کہہ کر وہ بھی دوسری کروٹ پر لیٹ گیا،شانزے کی نیند بھک سے اڑی تھی اسکی بات پر،

“کیا مطلب۔۔۔سنو۔۔تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔”

وہ بےیقینی کا شکار جلدی سے آگے ہوکر پیام کو ہلائی،یقین کرنا ہی مشکل تھا کہ وہ گھمنڈی انسان کبھی اتنی جلدی بھی اسکی بات سنے گا،پر کیوں،

“کیا مصیبت ہے۔۔۔۔سکون سے سونے تو دیا کرو۔۔۔”

اسکی چند پل کہی جانے والی بات اس ہی پر لوٹاتا وہ سوتا بن گیا،شانزے نے ایک گھوری اسکی پشت کو نوازی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن منٹوں کے حساب سے گزرنے لگے تھے،گھر میں سبھی کو معلوم ہوچکا تھا شادل اور خولہ کی شادی کے بارے میں،مرتضٰی ہاؤس میں زور و شور سے تیاریاں ہورہی تھیں ایسے میں رابیہ بیگم نے مرتضیٰ صاحب کے ٹوکنے کے باوجود تحریم کو بلوالیا تھا کچھ دنوں کے لیے دوسری طرف باسط نے بھی اسے روکا نہیں،وہ تو خود ہی چاہتا تھا کہ تحریم کچھ دنوں کے لیے وہاں جائے تاکہ وہ سکون سے رہ سکے،ان دنوں پیام میں سب کو زیادہ تو نہیں پر تھوڑا بہت بدلاؤ محسوس ہوا تھا اور وہ بدلاوا یہی تھا کہ اب وہ کبھی کبھار آفس چلے جایا کرتا تھا،شانزے نے اسے روز جانے کا کہا پر آگے سے صاف جواب حاضر تھا کہ زیادہ ضد کی تو ابھی جو کبھی کبھار جارہا ہوں وہ بھی نہیں جاؤں گا اور اس بات پر شانزے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی،آج شادل اور خولہ کی مایوں ساتھ ہی مرتضیٰ ہاؤس میں رکھی گئی تھی،سبھی کاموں میں ہر طرف صبح سے افراتفری مچی تھی ایسے میں شانزے نے رابیہ بیگم سے کچن کا کام خود سنبھالنے کا کہا جس پر رابیہ بیگم کا دل تو چاہا کہ منع کردیں اسے پر اور بھی بہت سے کام جو کہ ان پر تھے اس کی وجہ سے وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس پر کچن کا کام دیکھنے کی ذمہ داری چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئیں،کچن میں سب کام نپٹانے اسے شام ہوچکی تھی،مہمانوں کو آتا دیکھ رابیہ بیگم نے اسے کچن چھوڑ کر تیار ہونے بھیجا تو وہ بھی اثبات میں سر ہلاتی اوپر روم میں آئی،ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی اسے تیار ہونے میں جب پیام تیزی میں روم میں آیا تھا اور سیدھا واشروم میں گھسا،کچھ دیر بعد وہ نہاکر نکلا،ڈریسنگ روم سے چینج کرنے کے بعد وہ اب ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا تھا پر وہاں شانزے کو اب تک میک اپ کرتا دیکھ تپ گیا،

“ابے بھئی ہٹو یہاں سے۔۔۔”

اسے برابر میں دھکیلے پیام نے کہا پھر جلدی سے برش اٹھاتا بال سیٹ کرنے لگا،شانزے جو بہت آہستگی سے لائینر لگارہی تھی اسکے دھکیلنے پر وہ آئی لائنر لمبائی میں لگتا اسکے گال اور ناک پر لگا تھا،اتنی دیر سے خود پر کی گئی محنت یوں لمحوں میں ضائع ہوتے دیکھ اسکا فیس رونے والا بنا،کھاجانے والی نظروں سے وہ پیام کو گھوری تھی،جو مزے سے تیار ہونے میں مگن تھا،

“تم بدتمیز انسان۔۔۔تھوڑی دیر بعد نہیں آسکتے تھے کیا۔۔۔ہٹو یہاں سے۔۔۔”

غصے سے بولتے وہ پیام کو دونوں ہاتھوں سے دھکا دے کر سائیڈ میں کی تھی،

“جب سے تیار ہورہی ہو۔۔۔اب بھی کمی رہ گئی ہے۔۔۔تم لڑکیاں تو ساری زندگی بھی میک اپ کرو تو کم رہتا ہے تم لوگوں کے لیے۔۔۔جاؤ ڈریسنگ روم میں جاکر ہوجاؤ۔۔۔فلحال ہٹو میرے سامنے سے۔۔۔کہیں میں مرہی نہ جاؤں اتنی خوفناک شکل دیکھ کر۔۔۔”

اسکے فیس پر لائینر لگنے پر چوٹ کرتا وہ اسے برابر میں کیے بولا،

“یہ خوفناک شکل تمہاری وجہ سے ہی بنی ہے اور بےفکر رہو۔۔۔برے لوگ اتنی جلدی نہیں مرتے۔۔۔”

اس پر چیختی وہ غصہ میں پیام کے بازو پر دموہکہ جڑتی ڈریسنگ روم میں گئی پھر وہاں نسب آئینے میں دیکھتے جلدی سے میک اپ سیٹ کرنے لگی،

چند منٹ بعد تیار ہوکر وہ ڈریس چینج کرے باہر نکلی تو پیام جو اسے تپا کر اب مزے سے تیار ہوتا نیچے جارہا تھا ڈریسنگ روم کا گیٹ کھلنے پر رک کر مڑا تھا اور اسکی آنکھیں ساکت ہوئی تھی،پیلے کلر کی لمبی نیٹ کی فراک پر بالوں کی چوٹی بنائے وہ سوفٹ سے میک اپ پر پیام مرتضیٰ کو اپنے دل کے بےحد قریب لگی،دوپٹہ ندار تھا،

وہ جو پرسکون سی تیار ہو کر نکلی تھی اس اثنا میں کہ جناب اتنی دیر میں نیچے جاچکے ہونگے پر اسے گیٹ پر کھڑے دیکھ شانزے ٹھٹھکی پھر جلدی سے ڈریسنگ روم میں رکھا اپنا دوپٹہ لینے مڑی،شانوں پر دوپٹہ پھیلائے وہ واپس باہر آئی تھی ساتھ ہی پیام کو گھورتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ایک تنقیدی نظر خود پر ڈالی،وہ جو اب تک مبہوت سا اسکے بےداغ حسن کو دیکھ رہا تھا بےساختہ اسکے لب ہلے تھے،

“سو ہاٹ۔۔۔”

شانزے چونک کر گردن گھومائی تھی اسے اپنی طرف یوں تکتا پاکر پیام فوراً لفظوں کی تصحیح کرنے لگا،

“گر۔۔۔گرمی۔۔گرمی کتنی ہے نا۔۔۔سو ہاٹ۔۔۔”

چاروں طرف نظر گھومائے وہ کالر جھٹکتے بولا تھا،شانزے کا دل اسے کھری کھری سنانے کا چاہا پر موقع کا لحاظ کرتے وہ اسکے برابر سے ہوتی نکلی پر جاتے جاتے منہ ہی منہ میں اسے پھر القابات سے نوازنا نہ بھولی،

“وائفی۔۔۔آج تو بری طرح گھائل کرنے کا ارادہ ہے تمہارا۔۔۔آج تھوڑا تو حق بنتا ہے پیام مرتضیٰ کا تم پر۔۔۔۔”

سیڑھیوں سے نیچے جاتی شانزے کو معنیٰ خیزی سے دیکھے وہ آہستہ سے بڑبڑایا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔