Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 21)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 21)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
عبید بار میں بیٹھا ڈرنک کرتے ہوئے الشبہ کے بارے میں سوچ رہا تھا،وہ اب بےزار ہونے لگا تھا اس سے،کتنی مرتبہ تو بےعزت کرچکا تھا اسے پر وہ لڑکی پتا نہیں کس مٹی کی بنی تھی جو ہر بار اس سے ملنے کا کہہ کر ایک ہی رٹ شادی کی لگائے رکھتی،
“کچھ دن نہیں مِلا۔۔۔تُو تو بھول ہی گیا۔۔۔”
مانوس آواز پر عبید چونک کر گردن گھومایا تھا،اسکے دیکھنے پر یاور ہنستے ہوئے برابر میں بیٹھا،جس دن وہ پیام سے پِٹا تھا اس ہی دن سے کبھی پیام کے سامنے نہ آیا اور یہی پیام بھی چاہتا،عبید نے یہ بات پیام سے چھپائی ہوئی تھی کہ اسکی اب بھی یاور سے اکثر ملاقات ہوتے رہتی تھی،
“تو۔۔۔۔کس سوچ میں گُم ہے۔۔۔”
معمول سے ہٹ کر آج عبید کو خاموش دیکھ وہ پوچھ بیٹھا ساتھ ہی ڈرنک آرڈر کی،
“بس یار۔۔۔الشبہ سے تنگ ہوں۔۔۔دماغ خراب کر رکھا ہے۔۔۔عجیب قسم کی لڑکی ہے۔۔۔اتنی انسلٹ کے باوجود ایک ہی رٹ کہ شادی۔۔۔!۔۔گاڈ۔۔۔”
کوفت بھرے لہجے میں کہہ کر وہ سِپ لیا تھا،عبید کے توسط یاور اس بات سے پہلے ہی باخبر تھا ساتھ یہ بھی معلوم تھا کہ الشبہ کوئی اور نہیں بلکہ اس ہی شانزے کی بہن ہے جس سے بدتمیزی کی بدولت پیام اسکا دوست اپنی دوستی بھلائے یاور پر ہاتھ اٹھایا تھا،اور اب وہ لڑکی پیام کی بیوی کے درجے پر فائز تھی،
“تو کرلے نا شادی اس سے۔۔۔کیا برائی ہے۔۔۔”
یاور پرسکون سا ہوکر بولا جس پر عبید حیران ہوا،
“ابے کیسے کرلوں۔۔۔پہلی بات کہ میں آئمہ کو کم از کم اتنا بڑا دھوکہ نہیں دے سکتا۔۔۔۔گرلفرنڈ تک ٹھیک ہے۔۔۔شادی نہیں۔۔۔۔اور ویسے بھی میں ایسی کسی لڑکی کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا جس میں سیلف ریسپیکٹ تک نہ ہو۔۔۔”
نفرت سے ہنکارہ بھرتا وہ بڑی آسانی سے اسکی محبت کو سیلف ریسپیکٹ سے تولہ تھا،جبکہ یاور کے ذہن میں کچھ اور ہی چلنے لگا جسکی وجہ سے اسکے لبوں پر خباثت بھری مسکراہٹ ابھری،
“ایک بات مانے گا میری۔۔۔”
کچھ سوچتے وہ بولا،
“بول۔۔۔”
“عبید میرے بھائی۔۔۔تو کرلے اس سے نکاح۔۔۔”
یاور کی بات پر عبید کو اب غصہ آنے لگا،
“اپنا منہ بند کرلے۔۔۔جب کہہ رہا ہوں کہ نہیں کروں گا شادی تو پھر کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ۔۔۔بجائے پریشانی ختم کرنے کے اور بڑھارہا ہے۔۔۔”
وہ چڑ کر بولتے اٹھا،رخ باہر کی طرف تھا پر تبھی یاور کی بات پر اسکے چلتے قدم رکے،
“شادی کرنے کون کہہ رہا ہے میرے دوست۔۔۔”
عبید پلٹ کر ناسمجھی میں دیکھنے لگا اسے،آخر کیا کہنا چاہ رہا تھا وہ،اسکے یوں دیکھنے پر یاور کمینگی ہنسی ہنستے کھڑا ہوا،
“اب اگر وہ تجھے کال کرے یا ملنے بلاکر یہ ضد کرتی ہے تو تُو اس سے پوچھنا۔۔۔کہ کیا وہ تیرے لیے گھر سے بھاگ سکتی ہے۔۔۔”
اسکے پاس آکر یاور عبید کے کندھے پر بازو رکھتا کہنے لگا،ابھی وہ کچھ بولتا کہ یاور اور بولا،
“اگر وہ نہیں مانتی تو ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔اگر وہ مان گئی۔۔۔تو تُو اس سے صرف نکاح کرلینا۔۔۔پھر باقی کا کام مجھ پر چھوڑ دِیو۔۔۔”
بات ختم کر کے وہ خباثت سے ہنسنے لگا،عبید جو اب تک ناسمجھی میں اسے دیکھ رہا تھا،یاور کی بات سمجھ آنے پر وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا پیچھے ہوا،
“انسان بن جا کمینے۔۔۔پیام بخشے گا نہیں ہمیں۔۔۔۔جان لے لیگا وہ۔۔۔نہیں۔۔میں ایسا نہیں کرسکتا۔۔۔”
پیام کی اس رات دی گئی دھمکی سے وہ پہلے ہی ڈرا ہوا تھا،اچھے سے جانتا تھا اسکا غصہ،
“ابے یار۔۔۔پیام کو کون بتائے گا اس بارے میں۔۔۔اور ویسے بھی تجھے صرف اس تتلی کی تسلی کے لیے نکاح کرنا ہے۔۔۔۔اور نکاح کے فوراً بعد تُو اسے میرے فلیٹ پر کسی بہانے سے چھوڑ کر چلے جانا۔۔۔باقی میں سنبھال لوں گا۔۔۔یقین کر وہ لڑکی کہاں گئی کسی کو خبر تک نہیں ہوگی۔۔۔”
عبید کو دھیمے لہجے میں ساری بات سمجھا کر وہ آخری میں ایک آنکھ دباتا ہنسا تو عبید سوچ میں پڑگیا،
“سوچ لے عبید۔۔۔۔تیری جان بھی چُھوٹ جائے گی اس تتلی سے۔۔۔”
اسے نیم رضامند دیکھ یاور نے ایک اور پتہ پھینکا،
“میں سوچ کر بتاؤں گا تجھے۔۔۔”
عبید کی اس بات پر یاور کندھے اچکاکر ہامی بھرلیا،جانتا تھا آگے اسکا جواب ہاں میں ہی ہوگا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“موڈ کیوں خراب ہے تمہارا۔۔۔؟”
وہ ابھی آفس سے آیا تھا،روم میں داخل ہوا تو بیڈ پر تحریم کو بلکل چپ بیٹھے دیکھ سرسری سا پوچھا،آج خلافِ معمول وہ اسے آتے ہی تنگ نہیں کررہی تھی،
“تمہیں پتا ہے۔۔۔کل میں گھر جانے والی تھی۔۔۔پیام بھائی کی واپسی جو ہورہی تھی آج۔۔۔پر اچانک ڈیڈ نے کال پر بتایا کہ وہ کام زیادہ ہونے کی وجہ سے دو مہینے بعد آئیں گے۔۔۔”
منہ بناکر اسے وجہ بتاتی کچھ ایسی لگی کہ باسط بےساختہ مسکرایا تھا،
“تو کیا ہوا۔۔۔دو ہی مہینے ہیں گزر جائیں گے۔۔۔”
اسکی بات پر لاپرواہی ظاہر کرتا وہ رسٹ واچ اتارتا والٹ اور کیز سمیت ڈریسنگ پر رکھا،
“تم کتنے بےحس ہو۔۔۔پورے چار ماہ ہوگئے ہیں انہیں گئے۔۔۔مجھے اتنی مایوسی ہورہی ہے پتا نہیں شانزے بھابھی کا کیا حال ہورہا ہوگا۔۔۔۔اور اب تو دو مہینے اور بڑھ گئے۔۔۔”
اسے سناتی وہ اب اپنے آپ بڑبڑائی،باسط کو اسکا شانزے کے لیے فکر مند ہونا اچھا لگا،کہاں وہ مغرور لڑکی جو پہلے کسی کی نہ سنتی،صرف اپنی فکر کرتی اور اب اسکے یہ انداز،باسط شکر ادا کرتا اسکے بدلتے رویوں پر،
“اچھا اب اتنا اداس مت ہو۔۔۔ایسا کرو کھانا نکالو۔۔۔میں فریش ہوکر آتا ہوں۔۔۔”
تحریم اسکے بولنے پر اٹھی تھی فوراً،
“ارے میں تو بھول ہی گئی۔۔۔ابھی نکالتی ہوں۔۔۔”
جلدی سے بول کر وہ روم سے نکلی،
کچھ دیر بعد باسط فریش سا ہوکر ڈائینگ ٹیبل پر آیا،وہاں صرف فرزانہ بیگم تھیں جو اسے دیکھ کر مسکرارہی تھیں،باسط نے سوالیہ انداز میں آئبرو اٹھائی،
“آج کھانا تحریم نے بنایا ہے۔۔۔۔تمہیں پتا ہے۔۔۔میں کچن میں گئی تو خود ہی آئی تھی۔۔۔کہنے لگی کہ آپ بتائیں میں پکاؤں گی۔۔۔خدا کا شکر ہے وہ بچی اب ڈھلنے لگی ہے اس گھر کے طور طریقوں میں۔۔۔”
اسے خوشی سے بتاتیں وہ اب شکر ادا کررہی تھیں،باسط کے لب آہستگی سے مسکرائے تھے،تبھی کچن سے سالن کا پیالہ لیتی وہ باہر آئی،باسط نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی،باسط کے ٹوکنے پر وہ اب شلوار قمیض پہننے لگی تھی،ابھی بھی اس نے لائٹ پرپل کلر کی قمیض شلوار پر دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھنے کی اپنی سی کوشش کی ہوئی تھی،میسی سے جوڑے میں چہرے پر جھولتی آوارہ لٹیں روز کی طرح ہلکے سے میک اپ میں وہ باسط زبیر کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی،
تحریم کے ہاتھ کا کھانا اسے زیادہ اچھا نہ لگا پر اسکا دل رکھنے کے خاطر وہ تعریف کردیا تھا،آخر کو وہ لڑکی خود کو بدلنے کے لیے اتنی محنت کر رہی تھی تو وہ اتنا تو کرہی سکتا تھا اسکے لیے،فرزانہ بیگم نے بھی کھانے کی بہت تعریف کی،تحریم جو پہلا نوالہ کھا کر ہی بدمزہ ہوئی تھی ان دونوں کی تعریف پر کِھل اٹھی،
کھانا کافی خوشگوار ماحول میں کھایا گیا،فرزانہ بیگم کے ساتھ برتن دھو کر وہ کمرے میں آئی تو باسط جو ڈریسنگ روم سے رف سی ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں نکلا تھا اسکی طرف بڑھا،تحرم کو جھٹکا لگا جب وہ آہستگی سے اسے پیچھے سے حصار میں لیا تھا،اس دن کے بعد سے اب وہ خود پیش قدمی کیا تھا اسکی جانب،تھوڑی ہی دیر بعد باسط کی آواز ابھری،
“سوری۔۔۔!”
وہ حیران ہوئی اسکے بلاوجہ معافی مانگنے پر،ابھی تحریم کچھ پوچھتی کہ وہ پھر بولا،
“اور تھینکس۔۔۔!”
اب کے تحریم کو اچھنبا ہوا،ایسا بھی کیا کردیا تھا اس نے جو مقابل آج اتنا مہربان ہورہا تھا اس پر،
“پر کیوں۔۔۔؟”
آخر وہ پوچھ ہی بیٹھی جس پر باسط مسکرایا ساتھ ہی اپنی تھوڑی تحریم کے کندھے پر رکھتا آنکھیں موند کر گویا ہوا،
“سوری اس لیے کہ۔۔۔میں انجانے میں اور کبھی جان کر بہت ہرٹ کردیتا ہوں تمہیں۔۔۔”
اپنی بات بول کر وہ اسکے کندھے پر بوسہ دیا تھا،تحریم دانتوں میں لب دباگئی،
“اور شکریہ۔۔۔”
کچھ دیر تک باسط کے خاموش رہنے پر اس نے ہلکی آواز میں پوچھا،وہ جو اسے حصار میں لیے آج بہت مسرور تھا،تحریم کی آواز پر اپنی آنکھیں کھولا،
“شکریہ۔۔۔!۔۔۔بس یونہی۔۔۔”
ایک بار پھر کہتا وہ واپس آنکھ مون لیا تھا،
“ایک بات پوچھوں۔۔۔؟”
اپنے گرد حائل اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی وہ پوچھی،
“ہمم۔۔۔”
“تمہیں میں کیسی لڑکی لگتی ہوں۔۔۔؟”
اسکے سوال پر باسط نے آنکھیں وا کرتے ایک نظر دیکھا پھر کہا،
“یہ کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔؟”
وہ الٹا اس ہی سے استفسار کیا،
“تم جو مجھے اکثر کہتے تھے۔۔۔کہ ایسی لڑکی یا تم جیسی لڑکی۔۔۔مجھے یہ الفاظ ہمیشہ الجھا دیتے۔۔۔مطلب مجھ جیسی۔۔۔کیسی۔۔۔بتاؤ نا۔۔۔کیسی لڑکی ہوں میں۔۔۔”
باسط کو اسکا یہ معصومانہ سوال ہنسنے پر مجبور کرگیا،چہرے پر امڈتی ہنسی دبائے اس نے کہا،
“تھوڑی بگڑی ہوئی۔۔۔۔بدتمیز۔۔۔بے لحاظ۔۔۔۔پاگل سی لیکن اچھی بھی لگتی ہو۔۔۔”
مزے سے بول کر اس نے تحریم کے گرد گرفت اور مضبوط کی،وہ جو کسی اچھی بات کی توقع کیے تھی اپنے لیے مقابل کے منہ سے یہ القابات سنتی تپ ہی گئی،
“تم۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔بدتمیز میں نہیں تم ہو۔۔۔”
غصے میں اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ بول کر پیر پٹختی بیڈ پر گئی تھی،
“زرا جو پیار بھری باتیں کرلے۔۔۔بلکہ غلطی اس کی بھی نہیں اصل میں تو میری قسمت ہی پُھوٹی ہے۔۔۔”
خود کو بآواز کوستی وہ کمفرٹر منہ تک اوڑھ گئی،باسط نفی میں سرہلاتا ہنسا تھا پھر لائٹ بند کرتا اسکے برابر میں آکر لیٹا،
“سنو تو لڑکی۔۔۔”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسے ہلاتا وہ پکارا،
“سوچ کی ہوں میں۔۔۔”
دوسری کروٹ لیے تحریم ناراض لہجے میں بولی،
“اوکے۔۔۔”
پرسکون سا کہہ کر باسط بھی آنکھیں بند کیا تھا،
“ہنہہ اکھڑو کہیں کا۔۔۔تھوڑا جو پیار سے بات کرلے۔۔۔”
اندھیرے میں اسکی کلستی آواز سن کر باسط خود پر کنٹرول نہ کرپایا،اسکا قہقہہ بےساختہ تھا،جبکہ تحریم گردن گھوما کر اسے یوں گھوری جیسے ابھی کچھ اٹھا کر ماردے،پر ہمت نہ تھی تبھی منہ پھلاکر سونے کی کوشش کرنے لگی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو شادل کے کسی دوست کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جسکی وجہ سے اب تک وہ گھر نہیں آیا تھا،شانزے جو اپنے روم میں بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹی تھی کچھ کھٹکنے پر چونکی،آنکھیں وا کر کے وہ اٹھ بیٹھی،آواز کھڑکی کی طرف سے آرہی تھی،ابھی اسکا ارادہ وہاں جاکر چیک کرنے کا تھا لیکن اچانک رابیہ بیگم کی پکار پر وہ کھڑی ہوتی روم سے باہر جانے لگی،
“شش۔۔۔وائفی۔۔۔اے۔۔۔چھچھھ۔۔”
وہ جو کھڑکی پر چڑھ کر آہستہ آواز میں اسے پکارنے لگا تھا،شانزے کے باہر نکلنے پر اندر کُودا،شاید وہ اسکی سوگوشی میں پکار کو سن نہیں پائی تھی،
“ہا۔۔۔۔میری جنگلی بِلی۔۔۔”
ایک نظر وہ روم میں ڈالتا گویا ہوا،سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چار مہینے پہلے چھوڑ کر گیا تھا،مرتضٰی صاحب کو اس نے جھوٹی خبر اس لیے دلوائی تھی کیونکہ سب سے پہلے وہ شانزے سے مل کر اسے سرپرائز کرنا چاہتا تھا،چار مہینے کس بےچینی سے اس نے گزارے یہ وہ ہی جانتا تھا،شانزے سے بات اس ہی وجہ سے نہ کرتا تاکہ جب چار مہینے بعد واپس جائے تو اسکا رئیکشن دیکھے،کیا وہ بھی اسکی طرح بےچین ہوتی،کیا وہ بھی اسکی دوری پر اسے مِس کرتی،البتہ مرتضیٰ صاحب سے کال پر ہمیشہ وہ اسکے بارے میں پوچھتا اور گھر کی باتوں سے بےخبر مرتضیٰ صاحب یہی کہتے کہ وہ ٹھیک ہے،
کافی دیر بعد بھی جب شانزے نہیں لوٹی تب پیام خود ہی روم سے نکلا،باہر کوئی نہیں تھا سیڑھیاں عبور کرتے وہ نیچے آیا تبھی کچھ ٹوٹنے کی آواز پر چونکا،نظر شادل کے کمرے پر گئی جہاں سے اب خولہ کے چیخنے کی بھی آواز آرہی تھی،تشویش میں مبتلا اسکے قدم وہاں اٹھے تھے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزے رابیہ بیگم کے کہنے پر خولہ کے روم میں آئی تھی،اسکے سر میں درد تھا،ان سب کی اسے عادت ہونے لگی تھی ابھی بھی وہ کھڑی خولہ کا سر دبارہی تھی پر تبھی تھوڑا پیچھے ہونے پر اچانک کچھ گرنے کی آواز پر چونک کر پلٹی،سائیڈ ٹیبل پر لیمپ کے برابر میں رکھا وہ خولہ کا فیورٹ شو پیس تھا جو اسکی ماں نے بطور تحفے میں اسے دیا تھا،اب اس شو پیس کو نیچے گر کر چکناچور ہوتے دیکھ خولہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی،
“یہ کیا کردیا تم نے۔۔۔”
آنکھیں پھاڑے نیچے دیکھ کر وہ بلند آواز میں بولی،
“سوری۔۔۔وہ۔۔غلطی سے۔۔پتا نہیں کیسے۔۔۔”
شانزے حیران و پریشان ہوئی تھی،اس سے اپولجائس کرتی وہ بھی ایک نظر نیچے ڈالے خولہ کو دیکھی،
“تم جانتی بھی ہو اسکی کیا قیمت تھی۔۔۔”
خولہ چیختے ہوئے بولی ساتھ ہی ہاتھ اٹھا تھا اسکا،
“کیا ہورہا ہے ادھر۔۔؟”
بھاری کرخت آواز پر ہی خولہ کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا،جبکہ سانس جیسے اٹکی تھی،مقابل کون تھا اسکی سخت آواز نے پتا دلا دیا تھا،اپنی سوچ کی نفی کرتے وہ گھبراتے ہوئے گیٹ کی طرف دیکھی اور عین اسکی سوچ کے مطابق سامنے وہ ہی کھڑا تھا،پر وہ یہاں کیسے،یہ خولہ کی سمجھ سے بالاتر تھا،
شانزے کی نگاہ بھی اس طرف اٹھی،بلیک پینٹ ٹی شرٹ پر بلیک ہی جیکٹ پہنے کالے بال ماتھے پر بکھرے سمیت تیکھے نقوش،وہ پہلے سے زیادہ وجیہہ لگ رہا تھا،پیشانی پر لاتعداد شکنیں لیے وہ بھنچے جبڑوں کے ساتھ خولہ کو گھور رہا تھا،اسکی سرخ آنکھوں میں ناجانے کیسا تاثر تھا کہ خولہ کا رنگ پل میں فق ہوا،دوسری جانب شانزے کا چہرہ ہنوز سپاٹ تھا جیسے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو اسے سامنے پیام مرتضیٰ کو دیکھ،مضبوط قدم اٹھاتا وہ ان دونوں کے پاس آیا تھا،
“کیا کرنے لگی تھی۔۔۔۔؟”
وہ غرایا تھا،خولہ جلدی سے ہاتھ نیچے کرتی دو قدم پیچھے ہٹی،اسکی پیشانی پر ابھری رگیں اندر کے اشتعال کا پتا دے رہی تھیں،
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔”
اسکی دھاڑ پر خولہ بری طرح گھبرائی جبکہ رابیہ بیگم اور مرتضیٰ صاحب روم سے نکلے آواز کی سمت بڑھے تھے جو کہ شادل کے کمرے سے آرہی تھی،
“ارے پیام تم۔۔۔”
کمرے میں آتے انکی نظر جیسے ہی پیام پر پڑی وہ خوشگوار حیرت سے بولیں پر تبھی حالات کا جائزہ لیتی حیرت سے پوچھنے لگی،
“کیا ہوا ہے۔۔۔؟”
پیام جو اب تک خوف سے سرد پڑتی خولہ کو گھور رہا تھا رابیہ بیگم کے سوال پر نظروں کا رخ انکی طرف کیا،
“یہ آپ ہی کی چُھوٹ ہوگی یقیناً۔۔۔”
وہ بول نہیں پھنکار رہا تھا،مرتضٰی صاحب بھی شدید اچھنبے میں مبتلا ہوئے اسکے غصے پر،
“پیام تم یوں اچانک کیسے۔۔۔۔اور کیا بات ہے۔۔۔”
آگے بڑھتے وہ بھاری لہجے میں پوچھے،
“ڈیڈ کچھ پوچھ رہے ہیں بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔”
ان لوگوں کو جواب دینے کے بجائے وہ خولہ کو گھورتے بولا تو وہ سر جھکائے لب کاٹنے لگی یقین نہیں تھا کہ وہ ایسے آجائے گا،
“پیام۔۔۔کس لہجے میں بات کررہے ہو اس سے۔۔۔۔اب کزن نہیں رہی۔۔۔بھابھی ہے وہ تمہاری۔۔۔”
رابیہ بیگم کو اسکا لہجہ ناگوار گزرا تبھی شانزے کو ایک نظر دیکھتی وہ بولی،
“اپنی بہو کو کہیں اوقات میں رہے۔۔۔نہیں تو پیام مرتضیٰ کی بدلحاظی سے مرتضیٰ ہاؤس کی ہر ایک دیوار واقف ہے۔۔۔۔”
اپنی بات دھاڑتے ہوئے ختم کرتا وہ شانزے کی کلائی پکڑے تیزی میں نکلنے لگا تھا روم سے پر اچانک رک کر پلٹا،
“اور ہاں۔۔۔اگلی مرتبہ ایسی حرکت کا سوچا بھی تو۔۔۔پھر اپنا بازو ٹوٹنے پر مجھے قصوروار مت ٹہرانا۔۔۔۔”
انگلی اٹھا کر خولہ کو آنکھیں دکھاتا وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا،لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی،پھر مڑتا وہاں سے شانزے کو لے کر گیا،خولہ کا مانو خون سوکھ چکا تھا،خوفزدہ تاثرات سمیت وہ رابیہ بیگم کو دیکھنے لگی،جو خود بھی گھبرائی تھیں پیام کی بات اور اسکے خطرناک ردعمل پر،
کمرے میں آکر وہ جھٹکے سے شانزے کی کلائی چھوڑا،اسکی گرفت سخت ہونے کی وجہ سے شانزے اپنی لال پڑتی کلائی سہلاکر بیڈ کی طرف جانے لگی،
“تم پاگل ہوکیا جو چپ چاپ تھی اسکے ہاتھ اٹھانے پر۔۔۔”
اب وہ اس پر بھڑکا تھا،شانزے کے قدم رکے اسکی آواز پر لیکن اگلے ہی لمحے وہ اسے ان سنا کیے بیڈ پر جالیٹی اور یہاں سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں پیام مرتضیٰ الجھ کر رہ گیا اسکے عجیب رویے پر،وہ کوئی رئیکٹ کیوں نہیں کررہی تھی،
“شانزے۔۔۔!”
باوجود دو مرتبہ کی پکار پر جب وہ ہلی تک نہیں تو پیام الجھن کا شکار گیٹ بند کیے بیڈ پر آیا،
“شانزے بات کرو مجھ سے۔۔۔”
اچانک بےچین ہوتا وہ بولا پر مقابل اسکا جواب سن کر اور حیران ہوا،
“لائٹ آف کردو۔۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔”
یہ وہ کیا کہہ رہی تھی،پیام کو کچھ سمجھ نہ آیا،کیا وہ خوش نہیں تھی اسکے آنے پر یا کوئی اور وجہ تھی۔۔،پر کیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
