Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 10)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 10)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
“لاؤ دو۔۔۔۔میں ہیلپ کردوں۔۔۔”
تقریب کے اختتام پر سبھی مہمانوں کے جانے کے بعد وہ روم میں آچکی تھی،رابیہ بیگم تو اس سے اب بات ہی نہیں کررہی تھیں تو نیچے کھڑے رہنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا،اسکے کمرے میں آنے کے کچھ ہی دیر بعد پیام بھی انٹر ہوا تھا،وہ اسے مخاطب کیے بنا سیدھا ڈریسنگ روم میں گیا تھا اور اب ٹراؤزر اور ٹرکی شرٹ میں باہر نکلا تو شانزے کو اب تک چوڑیاں اتارنے کی کوشش کرتا دیکھ بولا،اسکی آفر پر شانزے نے ایک نظر اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھا جس کے تاثرات بلکل سنجیدہ تھے،پھر اگنور کرتی وہ اپنی سی کوشش کرنے لگی،چوڑیوں کا سائز تھوڑا چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسکی کلائی میں بمشکل وہ آئی تھیں اور اب نکل کے نہیں دے رہی تھیں،مزید کوشش سے اسکی کلائیاں سرخ ہوکر دکھنے لگیں تھیں،شانزے نے پھر نظر اٹھائی،وہ اب تک خاموشی سے کھڑا اسی کی طرف متوجہ تھا،اپنی انا کو مارتے وہ ہاتھ اسکی طرف بڑھائی تھی گویا مدد چاہ رہی تھی،تبھی آگے بڑھتے پیام نے اسکے نرم سرخ ہاتھ کو تھاما تھا پر اگلے ہی پل وہ جس بےدردی سے اپنے بھاری ہاتھ سے ان چوڑیوں کو دبایا وہ ٹوٹ کر شانزے کی کلائی میں گھونپی،بےساختہ شانزے کے منہ سے سسکی نکلی،
“آہ۔۔۔۔چھوڑو۔۔”
تکلیف بڑھنے پر وہ کراہتے ہوئے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالنے کی ناکام کوشش کرتی بولی،
“بہت شوق تھا نا پیام مرتضیٰ کی لائف میں انٹر ہونے کا۔۔۔۔اوپر سے ہر بات میں آگے سے حاضر جوابی۔۔۔تمہیں کیا لگا۔۔۔میں کیا بے وقوفوں کی طرح تمہاری باتیں سنتا جاؤں گا۔۔۔”
اسکی کلائی پر دباؤ بڑھاتے وہ جبڑے بھینچتا بولا،لہو رنگ آنکھیں شانزے کے سجے چہرے پر گڑی تھیں جس میں تکلیف کے آثار صاف دکھ رہے تھے،تبھی اسکی کلائی جھٹکے سے چھوڑتا وہ مڑا تھا پر شانزے نے موقع دیکھ کر کلائی میں گھونپی چوڑی کا ٹکڑا نکالا اور سیدھا پیام کے برہنہ بازو پر کٹ لگادیا،وہ جو بیڈ پر جارہا تھا شانزے کی حرکت پر وہ گردن گھوما کر اپنا بازو دیکھا،خون کی لکیر نکلی تھی اسکے بازو پر،واپس پلٹتا وہ اسکے خوبصورت چہرے کو گھورا تھا،
“معاف کرنا پیام مرتضیٰ۔۔۔کیا ہے نا۔۔۔ادھار رکھنے کی عادت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔”
شہد رنگ آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے پھر بھی نڈر بنتی وہ مضبوط لہجے میں گویا ہوئی،
اسکی بات پر پیام کے لبوں پر تمسخر پھیلا پھر اچانک شانزے کے بازو کو اپنی جارحانہ گرفت میں لیتا وہ اسے خود سے قریب کرگیا اور اسکے کچھ بھی سمجھنے سے پہلے وہ شانزے کے گلابی لبوں پر اپنے عنابی لب رکھتا اسے شدید حیرت کے جھٹکوں کے زد میں چھوڑگیا،
آنکھیں پھیلائے وہ اچانک ہوئے حملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ساتھ ہی پیام کی ٹی شرٹ کو جکڑ کر اسے دور کرنے لگی،دوسری طرف پیام نے اسکا بازو چھوڑ کر اپنا مضبوط بازو اسکی نازک کمر کے گرد حائل کیا اور شانزے کو مکمل اپنے سینے سے لگاگیا،شانزے کا دل بری طرح دھڑکا تھا اس گستاخی پر،مقابل کی گرم سانسیں اسکا اسکا چہرہ جھلسانے لگی تھیں،تبھی وہ جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا کہ وہ ڈریسنگ سے ٹکرائی،سینے پر ہاتھ رکھے شانزے اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کی بحالی کرنے لگی،جبکہ وہ اسکے ایکسپریشن دلچسپی سے دیکھا تھا،
“تو۔۔۔کیا ارادہ ہے۔۔۔اب ادھار اتارنا پسند کرو گی وائفی۔۔۔”
اسکی غیر ہوتی حالت کو ملاحظہ کرتے وہ مزے سے بولا،شانزے نے سرخ رنگ آنکھوں سے اسے گھورا تھا جو شاید اپنی شرم کہیں بھلائے ہی بیٹھا تھا یا شاید اس میں شرم نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں،
“تم۔۔۔بےشرم نیچ انسان۔۔۔”
دل میں اٹھتی تکلیف برداشت نہ ہوئی تو وہ چیخی تھی،
“آآ۔۔۔یار شوہر ہوں تمہارا۔۔۔اس میں بےشرمی کیسی۔۔۔حق رکھتا ہوں۔۔۔”
دونوں ہاتھوں کو ہوا میں بلند کرتا وہ کندھے اچکائے پیار سے بولا،
“باقی چیزوں میں حق یاد نہیں رہا کہ بیوی کو عزت بھی دی جاتی ہے۔۔۔نہیں۔۔۔۔ان معملات میں کہاں حق یاد رہ سکتا ہے تمہیں۔۔۔جب دماغ ہی چھچھورے پن میں لگا رہتا ہے۔۔۔”
دانت پیس کر وہ دل کی بھڑاس اس پر نکالنے لگی،آنکھوں میں یکدم ہوٹل کے روم کا منظر چلا تھا جب اس لڑکی کے ساتھ شانزے نے اسے روم میں دیکھا تھا،
“آہ وائفی۔۔۔ابھی تو شروعات ہے۔۔۔۔آگے دیکھتی جاؤ اور کتنا چھچھورا ہوں میں۔۔۔”
اسکے دیے گئے خطاب کو قبول کرتا وہ آنکھ مارتے بولا ساتھ ہی اسے تپانے کے غرض ایک انگلی اپنے عنابی لبوں پر پھیری،
“ویسے قسمت والوں کو اتنی میٹھی بیوی ملتی ہے۔۔۔آ۔۔۔باتوں سے نہیں۔۔۔۔ٹیسٹ سے۔۔۔”
اپنے لب دباکر معنٰی خیرزی سے بولے اسے مکمل تپاتا وہ مسکراتے ہوئے بیڈ پر جا لیٹا،شانزے نے کراہیت آمیز نظروں سے اسے گھورا پھر میکسی سنبھال کر آنسو پوچھتی ڈریسنگ روم میں چلی گئی،اسکا دماغ سن ہونے لگا تھا،کیسے ہینڈل کرپائے گی وہ یہ سب،کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکے اٹھنے پر پیام نے سیدھا حکم صادر کیا تھا کہ وہ ناشتہ دے اسے،شانزے کو حیرت نہیں ہوئی اسکی بات پر،جانتی تھی کہ وہ اسے پریشان کرنے کا ہی مہرہ ہے،خاموشی سے کچن میں جاکر وہ اسکے لیے ناشتہ تیار کرنے لگی تھی،ناشتہ بناتے وقت اسکی کچھ لیڈی سرونٹ سے اچھی بات چیت بھی ہوگئی تھی ان سب کو شانزے کا اخلاق بہت اچھا لگا تھا،کیونکہ یہاں عورتوں میں دو ہی تھی تحریم اور رابیہ بیگم اور دونوں کا رویہ سبھی ملازمین کے ساتھ نہایت ہی برا ہوتا تبھی انہیں شانزے کافی اچھی لگی،
“یہ کیا ہے۔۔۔”
وہ جو آج خلافِ معمول ڈائننگ ٹیبل پر جلدی آبیٹھا تھا شانزے کے جوس سامنے رکھنے پر پوچھا،
“اورنج جوس۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی،رابیہ بیگم سمیت مرتضٰی صاحب بھی اخبار منہ سے ہٹانے ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے،البتہ شادل کل کی طرح آج بھی جلد آفس کے لیے نکل پڑا تھا،
“پیام اورنج جوس نہیں پیتا۔۔۔”
رابیہ بیگم کے بولنے پر شانزے نے ایک نظر انہیں دیکھ کر واپس پیام کو دیکھا جو اب وہ جوس کا گلاس ہٹانے کا اشارہ کررہا تھا،لب بھینچتے شانزے نے گلاس اٹھاکر کچن کا رخ کیا،کچھ دیر بعد وہ آئی تو ہاتھوں میں ایپل جوس تھا،وہ پیام کے سامنے رکھ کر جیسے ہی بیٹھی وہ بولا،
“میں گھر کا بنایا جوس نہیں پیتا۔۔۔۔”
اب کی بار شانزے نے ناگواریت سے اسے دیکھا اسکا انداز دل جلانے والا تھا،
“کیا ہوجائے گا اگر آج تم گھر کا بنا جوس پی لو تو۔۔۔”
مرتضیٰ صاحب کو بھی اسکا انداز برا لگا تبھی وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں گویا ہوئے،
“میری ڈائیٹ خراب ہو جائے گی ڈیڈ۔۔۔اور تم اٹھو۔۔۔جاؤ جلدی سے لے آؤ جوس۔۔۔مجھے باہر بھی جانا ہے کام سے۔۔۔”
مرتضٰی صاحب کو سہولت سے کہتا وہ اب شانزے سے مخاطب ہوا تھا،اسکے کہنے پر شانزے گلاس پکڑتی اٹھی تھی پر اچانک گلاس اسکے ہاتھوں سے چھوٹا اور پیام کی شرٹ کو داغدار کرگیا،
“What the hell…”
جھٹکے سے ٹیبل سے اٹھتا وہ بول کر رکتا شانزے کو گھورا جس کے لبوں پر اب طنزیہ مسکراہٹ پھیلی تھی،
“سو سوری۔۔۔”
معصومیت سے کہتی وہ گلاس کے ٹکڑے نیچے سے اٹھائی تھی پھر مڑ کر کچن میں چلی گئی،شانزے کی یہ جان بوجھ کر کی گئی حرکت مرتضیٰ صاحب بھی خوب سمجھے تھے تبھی اخبار منہ کرتے اپنی مسکان دبائے وہ نفی میں سرہلائے تھے،سمجھ گئے تھے کہ اب انکے اس نک چڑھے بیٹے کو وہی سدھارے گی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مے آئی کم اِن۔۔۔”
وہ فائلوں میں الجھا تھا تبھی نسوانی آواز پر سیکریٹری کا سمجھ کر اندر آنے کی اجازت دی،کچھ دیر تک خاموشی رہنے پر شادل نے سر اٹھایا پر وہ حیرت کا شکار ہوا تھا سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ،
“خولہ تم۔۔۔”
وہ اسکی خالہ زاد تھی جو مہینوں پہلے ہی لندن سے پڑھائی مکمل کر کے واپس لوٹی تھی شادل سے اسکی ملاقات منگنی والی رات رابیہ بیگم نے کروائی تھی،اسے اپنے آفس میں دیکھ شادل کو اچھنبا ہوا تھا،
“آہاں۔۔۔تم نے مجھے پہچان لیا۔۔۔کیسا لگا میرا سرپرائز۔۔۔”
وہ فرینکلی انداز میں کہتی سیدھا سامنے رکھی چئیر پر بیٹھی ساتھ ہی شادل کی طرف تھوڑا جھکاؤ کیے اسے دلچسپی سے دیکھنے لگی،
“کوئی کام۔۔۔؟”
شادل سنجیدگی سے پوچھا تھا،اسے خولہ کا یہ انداز کچھ بھایا نہیں تھا،
“کیا مطلب۔۔۔کام سے تھوڑی آئیں ہوں تمہارے پاس۔۔۔بلکہ تمہیں لے جانے آئیں ہوں۔۔۔آنٹی نے کہا تھا تمہارے ساتھوڑا گھوم لوں۔۔۔یو نو۔۔۔ہمارا ملک کتنا بدل گیا اتنے سال بعد۔۔۔”
شادل اسکی بات مکمل ہونے پر گہری سانس بھر کر رہ گیا،
“خولہ۔۔۔سوری بٹ آج کام ہے تھوڑا آفس میں تو میں تمہیں لے جا نہیں پاؤں گا۔۔۔”
وہ اسے سہولت سے انکار کرنے لگا تھا،
“او کم آن یار۔۔۔کام تو ہوتے رہیں گے۔۔۔چلو اٹھو فوراً۔۔۔۔میں کونسا پورا دن تمہارے ساتھ گھومنے لگی ہوں۔۔۔بس کچھ ہی دیر میں واپس آجائیں گے۔۔۔۔”
اسکے انکار کو نظر انداز کرتی وہ اٹھتے ہوئے بولی،شادل آخر کار اسکی لگاتار ضد پر لب بھینچتا اٹھا تھا،پھر تھوڑی دیر کا کہتے کہتے خولہ نے پورا دن ہی لگادیا،وہ اسے واپس جانے کا بولتا تو خولہ کا یہی جواب ہوتا کہ بس تھوڑی دیر اور،پھر یوں وہ اسکے ساتھ کئی جگہوں پر گھومی اور رات ہونے پر اس سے باہر ہی کھانے کی ضد کرنے لگی،شادل صبر کے گھونٹ پیتا گاڑی ایک ریسٹورنٹ کی طرف لے گیا،پہلے ہی پریشانی کم پیدا ہوئی تھی اسکی زندگی میں جو اب یہ لڑکی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈنر کے بعد شانزے کمرے میں آگئی تھی،آج اس نے پیام کا روم صاف کیا تھا،اور کئی چیزوں کو اپنے من مطابق جگہ پر رکھا تھا کیونکہ پیام کی لاپرواہ عادتوں کی وجہ سے اسکی بہت سی کام کی چیزیں ادھر ادھر پڑی رہتی،شانزے اپنے حساب سے سبھی چیزوں کو سیٹ کرتی اسکے بک شیلف پر آئی تھی،اس میں کتنے ہی میگزین اسے دکھے تھے جسے اس نے سائیڈ پر رکھا تھا،تاکہ بوریت ہو تو وہ پڑھ کر دل بہلالے،کیونکہ موبائل تو فلحال اسکے ہاتھ میں نہیں تھا اور اپنا وہ گھر پر ہی چھوڑ آئی تھی،صبح وہ مرتضیٰ صاحب سے اجازت لے کر گھر جانے کا ارادہ رکھتی تھی،ابھی وہ بیڈ پر بیٹھی ایک میگزین نکال کر پڑھ رہی تھی جب مخصوص سیٹی کی دھن بجائے پیام روم میں انٹر ہوا تھا،پر وہ یکدم چکرا کر رہ گیا،اسکا روم اور بلکل سیٹ اسے یقین نہ آیا،نظر جب بیڈ پر پڑی تو اسے سمجھ میں آیا کہ یقیناً یہ اسی کا کارنامہ ہوگا جو ابھی دنیا جہاں سے غافل چپ چاپ میگزین پر نظر جمائے بیٹھی تھی،کلائی پر سفید پٹی بندھی تھی جبکہ دوپٹہ بےخیالی میں کندھے سے جھولتا اب اسکی گود میں پڑا تھا،پیام نے ستائشی نظروں سے اسکے گداز سراپے کو دیکھا تھا،یہ بات تو وہ مان ہی گیا تھا کہ اسکی بیوی کے درجے پر فائز ہونے والی وہ زبان دراز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت حسین لڑکی تھی،فون پر رنگ ہونے سے اسکی سوچ ٹوٹی تھی،شانزے چونک کر اوپر دیکھی پر پیام کی بےباک نظریں خود پر پاکر بےساختہ اسکا ہاتھ اپنے دوپٹے پر گیا،جو کہ اسکے گود میں تھا،جھٹ سے دوپٹہ شانوں پر سیٹ کرتی وہ میگزین اٹھائی تھی،
“ہاں بول۔۔۔”
ریسیو کرتے ہوئے پیام نے کہا،دوسری طرف عبید تھا،
“پیام۔۔۔آج بناتے ہیں پلین یار۔۔۔کسی بار کا۔۔۔”
عبید کی بات پر وہ لب دبائے آنکھیں چھوٹی کرتا پہلے شانزے کو دیکھا تھا جو کہ اسکی موجودگی کو نظر انداز کرنے کی اپنی تہیے سے کوشش کرتی میگزین پر دھیان لگائے ہوئے تھی،وہ دل سے دعا گو تھی کہ پیام کہیں باہر چلا جائے۔۔۔۔اور دیر سے ہی گھر پر آئے،
“اممم۔۔۔آج نہیں یار۔۔۔پھر کبھی۔۔”
اس پر نظریں جمائے پیام نے کہا تو عبید حیران ہوا،
“ہیییں۔۔۔۔پیام یہ تُو ہی ہے نا۔۔۔مطلب یار تو پلین کینسل کررہا ہے۔۔۔اوہو۔۔۔کہیں یہ بھابھی کی وجہ سے تو نہیں۔۔۔”
اچانک یاد آنے پر کہ اسکا دوست اب شادی شدہ ہے وہ شرارتاً گویا ہوا،
“بکواس بند کر۔۔۔”
بولتے ساتھ پیام نے کال کٹ کی،پھر چند قدم اٹھاتا بیڈ پر آ بیٹھا،شانزے تھوڑا سرکی تھی اسے اپنے برابر میں بیٹھتے دیکھ،
“کمرے کی سیٹنگ کس کی مرضی سے کی۔۔۔؟”
اسے پسند آیا تھا نفاست سے سیٹ ہوا سب کچھ لیکن ایسے ہی کہاں بخش دیتا وہ شانزے کو،
“اپنی مرضی سے۔۔۔”
سنجیدہ لہجے میں بول کر شانزے اٹھی تھی پھر میگزین جگہ پر رکھتی وہ واپس بیڈ پر برابر میں آلیٹی،ساتھ کمفرٹر اوڑھنے لگی،اس انسان کے سامنے بیٹھے رہنا مطلب اپنے لیے ہی بلا جواز مصیبت بلانا،
اسے بغور دوسرے رخ لیٹے دیکھ پیام کچھ سوچتا شانزے کی طرف جھکا تھا،پھر مسکراہٹ دبائے وہ شانزے کے بال کی ایک لٹ تھامتا آہستگی سے اسکے کان پر لہرانے لگا،شانزے چونک کر آنکھیں کھولی تھی پر تب تک وہ اسکی لٹ چھوڑتا سیدھا ہو بیٹھا اور سیٹی بجائے ادھر ادھر دیکھنے لگا،شانزے سمجھ رہی تھی اسکی فضول حرکتیں پھر سر جھٹکتی وہ واپس سونے لگی،
ایک مرتبہ پھر اس پر جھکتے وہ اسکی لٹ پکڑ کر کان کے قریب لے گیا،اور اب لہرانے پر شانزے جھٹکے سے اٹھ بیٹھی،
“کیا مصیبت ہے۔۔۔”
وہ تنگ آکر چیخنے لگی،
“اوہ وائفی۔۔۔تم سے تو بندہ اب مذاق بھی نہیں کر سکتا۔۔۔میں بور ہورہا تھا تو سوچا۔۔۔”
“تو سوچا کہ مجھے پریشان کیا جائے۔۔۔”
اسکی بات خود ہی مکمل کرتی وہ اسے گھوری تو پیام مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا،
“تنگ مت کرو یار پلیز سونے دو۔۔۔”
اسکا موڈ شرارت والا دیکھ کر بھی شانزے کو اس سے چڑ محسوس ہورہی تھی،
“ارے ایسے کیسے۔۔۔میرے ساتھ تھوڑی بات ہی کرلو۔۔۔دیکھو میں آج باہر نہیں گیا تمہاری وجہ سے۔۔۔۔”
احسان کرنے والے انداز میں بولتا وہ اسے بازو سے پکڑ کر واپس اٹھانے لگا پر شانزے نے جلدی سے اسکا ہاتھ جھٹکا اور تھوڑی پیچھے ہوئی،
“کیا ہوا۔۔۔”
پیام کو اسکا یوں ہاتھ جھٹکنا برا لگا تبھی بولا،
“تم مجھے چھوا مت کرو۔۔۔”
شانزے منہ بنا کر کہتے نگاہ پھیر گئی تو پیام سر جھٹکا،
“اوکے اوکے۔۔۔چلو میں تمہیں نہیں چھوتا پر ایک شرط میں۔۔۔جب تک میں نہ کہوں تب تک اٹھی رہو اور مجھ سے بات کرو۔۔۔”
وہ جیسے آج اسے مکمل پریشان کرنے کے موڈ میں تھا تبھی جلدی سے بول کر خود بھی سیدھا ہو بیٹھا،
“بس یہی سب آتا ہے نا تمہیں۔۔۔”
اسے گھورتی وہ تپ کر بولی،
“اہممم۔۔۔آتا تو بہت کچھ ہے وائفی۔۔۔پر اگر عملی مظاہرہ کرنے لگا تو خود ہی شرم سے پانی پانی ہو جاؤ گی۔۔۔۔”
اسکے خوبصورت چہرے کو نظروں میں لیے وہ بولا،لہجہ واضح آنچ دیتا تھا،شانزے کے گال دہکے پر جلد ہی اسے گھورتی وہ اٹھی،
“کہاں جارہی ہو۔۔۔”
اسے اٹھتا دیکھ وہ جلدی سے پوچھا،
“ظاہر سی بات ہے۔۔۔تم سے بات کر کے میں اپنا موڈ تو خراب کرنے سے رہی تبھی مووی لگارہی ہوں۔۔۔اسی بہانے کچھ دیر چپ تو رہو گے تم۔۔۔”
سیریس تاثرات سمیت بول کر شانزے ایل ای ڈی آن کرنے لگی جبکہ پیام نے نگاہ گھمائی تھی اسکی بات پر،موڈ تو اسکا مووی دیکھنے کا بلکل نہیں تھا پر پھر بھی وہ دیکھنے لگا کیونکہ اصل مقصد تو اسکا شانزے کو پریشان کرنا تھا،وہ چاہ رہا تھا کہ کچھ ہی دنوں میں شانزے کو اس قدر تنگ کردے کہ وہ خود ہی اسے چھوڑنے کا مطالبہ کرے تو یوں اسکی جان بھی چھٹ جائے گی اور الزام بھی شانزے پر آئے گا،
مووی دیکھتے ہوئے شانزے کو شدید نیند آنے لگی،برابر میں تھوڑا فاصلے میں بیٹھے رہنے کے باوجود شانزے اونگھتی ہوئی پیام کے کندھے پر سر رکھ گئی،اسے یوں اپنے کندھے پر سر رکھے پیام نے دیکھا تو پہلے تو وہ سوچا کہ جھٹکے سے پیچھے ہٹتا وہ اسے گرا دے پر جب نظر اسکے سوتے ہوئے دلکش چہرے پر پڑی تو وہ چاہ کر بھی اپنی سوچ پر عمل نہ کر پایا،کچھ دیر بعد اسکی بھی آنکھوں میں نیند چھائی تو وہ ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آف کرتا آنکھیں موند گیا،ایک بازو نامحسوس انداز میں وہ شانزے کے گرد حائل کرتا سویا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کالج سے نکل کر وہ نظر چاروں طرف دوڑانے لگی،کچھ دور اپنی کار دیکھ وہ حیران ہوئی کیونکہ داد بخش ہمیشہ کالج کے برابر میں کار کھڑی رکھتا تھا،قدم با قدم چل کر وہ کار تک پہنچی پھر اندر بیٹھ کر بولی،
“آج تم نے کار اتنی دور پارک کیوں کی داد بخش۔۔۔؟آئیندہ ایسی حرکت مت کرنا۔۔۔۔۔فضول میں اتنا چلنا پڑا مجھے۔۔۔۔”
مخصوص نزاکت بھرے انداز میں اپنی بات مکمل کیے وہ بیگ اتار کر سائیڈ میں پھینکتی وہ سیٹ سے ٹیک لگاگئی،
“اففف۔۔۔اے سی آن کرو کتنی گرمی ہورہی ہے۔۔۔”
اپنا یونیفارم جھٹکتی وہ جھلا کر بولی مگر گاڑی ہنوز چلنے پر وہ سیدھی ہوئی،
“کیا کہہ رہی تمہیں۔۔۔سنائی نہیں دے رہا کیا دادبخش۔۔۔”
پیچھے سے اسے گھورتی تحریم غصے میں بولی تبھی وہ پیچھے مڑا تھا اور ہاتھ میں تھاما اسپرے تحریم کے منہ پر کیا،تحریم جھٹکے سے پیچھے ہوئی،
“یہ کیا بدتم۔۔۔”
مکمل الفاظ ادا ہونے سے قبل ہی اچانک آنکھوں میں اندھیرا چھایا تھا دھندلی ہوتی نظروں سے وہ مقابل کے چہرے کو بمشکل دیکھ پائی،
اسے بےہوش ہوتا دیکھ وہ واپس آگے مڑا تھا،
“وقت قریب ہی ہے پیام مرتضیٰ۔۔۔۔یہ بتانے کا کہ میں تمہارا کیا لگتا ہوں۔۔۔”
استہزیہ انداز میں بول کر اسکے باریک لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
