422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 17)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

“بہت برا کیا تم نے۔۔۔؟”

کان میں پڑتی مقابل کی مانوس آواز پر شانزے کی سانس بحال ہوئی تھی،پر اسے حیرت نے آلیا کہ وہ کیوں اسطرح سے کررہا ہے،اپنے منہ پر سے اسکا بھاری ہاتھ ہٹانے کی شانزے مسلسل کوشش کررہی تھی،

“یہ مزاحمت بےکار ہے وائفی۔۔۔کیونکہ جب تک میری بات مکمل نہیں ہوتی تم میری قید سے نکل نہیں سکوگی۔۔۔”

اسکے منہ پر بھاری ہاتھ کی گرفت اور سخت کیے وہ دھیرے سے بولا تو شانزے نے اپنی کوششیں روک دیں،وہ اسے سننا ہی تو چاہ رہی تھی،

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پیام کی آواز ابھری،

“جانتی ہو۔۔۔اگر میں ہوس کا پجاری ہوتا۔۔۔تو ہماری شادی کی پہلی رات ہی تمہیں نہیں بخشتا۔۔۔اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ تم پھر چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پاتی۔۔۔ہاں میں تمہیں چھیڑتا۔۔۔جان بوجھ کر ایسی بےباک باتیں کرتا جن سے تم چڑتی۔۔۔۔کیونکہ تم وہ واحد لڑکی تھی جس سے پیام مرتضیٰ شدید نفرت کرتا تھا۔۔۔تمہارا غصہ ہونا۔۔۔چڑنا ایک الگ ہی سرور بخشتا تھا مجھے۔۔۔۔پر اسی سرور کے چکر میں بھلے انجانے میں پر۔۔۔۔مجھے تمہاری غصے بھری باتوں کی عادت سی ہوگںٔی۔۔۔”

بولتے ہوئے وہ جس سست روی سے شانزے کی پشت پر اپنی انگلیاں پھیر رہا تھا اس ہی سستی سے شانزے کا دل دھڑکنے لگا تھا،تبھی اپنی پشت پر اسکا گرم لمس محسوس ہونے پر شانزے لب بھینچتی آنکھیں میچ گئی،چند لمحے بعد شانزے کی پشت سے لب ہٹائے وہ ایک نظر اسکے لرزتے وجود کو دیکھا پھر آہستگی سے گویا ہوا،

“شروع میں جو چاہ رہا تھا کہ تمہیں چھوڑ دوں۔۔پر کچھ دنوں بعد حال یہ ہوا کہ تمہارے بنا رہا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔ایک دن گھر گئی تو دِل نہ لگا۔۔۔دل چاہا ہر وقت بھلے کسی بھی موڈ میں پر وائفی میرے سامنے ہو۔۔تم نہ ہوتی تو بےچینی ہوتی اور اس بےچینی کا سبب جانتے ہوئے بھی نہیں جاننا چاہتا تھا میں۔۔۔مرد ہوں نا۔۔۔اپنی انا کے بدولت اڑا رہتا تھا کہ۔۔۔کبھی اعتراف ہی نہیں کرتا پر کل۔۔۔۔کل تم نے پیام مرتضیٰ کو خود سے یہ اعتراف کرنے پر مجبور کردیا کہ۔۔۔”

اچانک وہ کہتے رکا ساتھ شانزے اپنی سانس بھی روک گئی،دل کی سست ہوتی دھڑکن اب اچانک تیز ہوئی تھی،اسکا پورا جسم کان بنا تھا۔۔۔۔مقابل کے اعتراف کا شدت سے انتظار تھا پر اچانک وہ کپکپا کر رہ گئی،پیام کے ہونٹ اپنے کان کی لُو پر محسوس کر کے،

“شانزے پیام مرتضیٰ۔۔۔۔۔تمہیں آہ لگے گی پیام مرتضیٰ کی محبت کی۔۔۔”

گھمبیر لہجے میں کی گئی اس سرگوشی پر شانزے کا دل سرشار ہوا تھا خوشی سے،لب خودبخود خوبصورت مسکراہٹ میں ڈھلے،وہ خود اپنی خوشی کا مطلب نہیں سمجھ پارہی تھی پر اتنا ضرور تھا کہ تیزی سے دھڑکتے دل کو قرار سا ملا تھا،تبھی پیام نے جھٹکے سے اسکا رُخ اپنے جانب کیا،بغور اسکی جھکی نظر سمیت سُرخ لبوں پر چھائی مسکراہٹ دیکھ وہ بولا تھا،

“تم مِس کروگی پیام مرتضیٰ کو۔۔۔تم مِس کرو گی اس کی باتوں کو جب وہ تمہارے پاس نہیں ہوگا۔۔۔۔اور یہ پیام مرتضیٰ یقین سے کہتا ہے۔۔۔ایک دن تم بھی اعتراف کروگی کہ نہیں ہوسکتا تمہارا گزرا پیام مرتضیٰ کے بغیر۔۔۔”

اپنی سرشاری میں ڈوبی جب وہ اسکے یہ الفاظ سنی تو بےساختہ لبوں پر سے مسکراہٹ غائب ہوئی،شہد رنگ آنکھیں اٹھی تھیں اور سیدھا اپنے سے حد درجہ نزدیک مقابل کی سنجیدہ آنکھوں میں جھانکی،وہ سمجھ نہیں پائی تھی اسکی اس بات کا مطلب،ابھی کچھ پوچھنے کے لیے لب وا ہی کیے تھے جب وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا مڑا پھر مٹھائیوں کا ٹوکرا اٹھائے بنا کچھ اور کہے خاموشی سے گیٹ کھول کر باہر نکل گیا،

شانزے نے پلٹ کر اسکی پشت کو دیکھا،اسکے اعتراف پر خوش ہوا دل اچانک بجھا،وہ کیا کہہ رہا تھا اسے،شانزے الجھ کر رہ گئی،کچھ سمجھ نہ آنے پر سر جھٹکتی وہ وہاں سے گئی،رات کو پیام سے اس بات کا مطلب پوچھنے کا ارادہ تھا اسکا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعجابِ قبول کے دوران شادل مرتضیٰ کو اندر کہیں خوشی محسوس نہیں ہوئی تھی،زبردستی کسی سے نکاح کے بندھن میں بندھنا اسکے لیے کافی تکلیف دہ اور مشکل تھا،ایسا نہیں تھا کہ وہ اب تک شانزے کو اپنے دل میں رکھا تھا،وہ تو اسی رات شانزے اکبر کا خیال اپنے دل سے نکال چکا تھا جب وہ اسکے عزیز بھائی کی محرم بنی تھی،شادل مرتضیٰ کا اب اسکے بارے میں سوچنا بھی گناہ کے مترادف تھا،

پر اب وہ خولہ سے شادی پر بلکل خوش نہ تھا،وہ جانتا تھا کہ خولہ اسکے ٹائپ کی لڑکی نہیں،وہ اوپن مائینڈ لڑکی جس کے لیے اصل زندگی روز روز کی شاپنگ،پارٹیز ہے وہ کیسے اسکے ساتھ ایڈجسٹ کرپائے گا،حالانکہ خولہ بولڈ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت حسین بھی تھی پر شادل مرتضیٰ خوبصورتی کو ہمیشہ سے دوسرا درجہ دیتا،اسکی نظر میں جو سیرت کا اچھا ہے وہی خوبصورت بھی ہے،پر شادی کی تقریبات کے دوران خولہ کی کئی بےباک حرکتیں اور ضدی پن،وہ اسے بہت کھلا تھا،ایک بار پھر اندر شکایت ابھری کہ وہ ایسی لڑکی تو نہیں چاہتا تھا اپنے لیے،اندر امڈتی گھٹن کو دبائے وہ اپنے ماں باپ کو ایک نظر دیکھ ہاں کرگیا تھا،پر قبول ہے کہتے وقت اس میں ایک عجیب سی وحشت ناک خاموشی چھائی تھی،اذیت کے باوجود چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجانا کتنا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے آج کوئی شادل مرتضیٰ سے پوچھتا،خولہ کے کئی اشاروں کے باوجود وہ ایک نظر بھی اسکی طرف نہیں دیکھا تھا،

پورے فنکشن پر وہ بہت ضبط سے کام لیتا سبھی مہمانوں سے مِل رہا تھا پر تبھی نظر بھٹک کر اچانک اس پر گئی اور شادل مرتضیٰ تھما تھا،آنکھیں ساکت ہوئی تھیں،کچھ دور وہ کھڑی تھی،میک اپ سے پاک وہ معصوم چہرہ اتنا اسے مائل نہ کرسکا جتنی اسکی سرخ رنگ آنکھوں نے شادل مرتضیٰ کو ساکت کیا تھا،وہ تو ہر دم خوش رہنے والی چلبلی سی لڑکی تھی،پر آج کیا ہوا تھا اسے،الشبہ کے لبوں پر سجی زبردستی کی مسکراہٹ وہ شادل مرتضیٰ کو بتاگئی کہ کچھ دور کھڑی اس لڑکی کے دل کا حال بلکل اس جیسا ہی ہے ابھی،اسکا اور اپنا درد اسے یکجا لگا تھا،اس نے تو ہمیشہ الشبہ کو ہنستے مسکراتے دیکھا تھا پر اب اسکی سرخ آنکھیں،

ضبط کے باوجود ان سرخ آنکھوں میں اچانک اترتا پانی شادل مرتضیٰ کے مرجھاتے دل پر کسی قطرے کے مانند گرا تھا،اور وہ ہوش میں آتا فوراً نگاہ پھیر گیا،

یہ وہ کیا کررہا تھا،اسکا تو نکاح ہوچکا تھا پھر کیوں کسی لڑکی کو اتنے غور سے دیکھ رہا تھا وہ،ضمیر نے انکار کیا کہ یہ غلط ہے،پر مرجھایا دل اچانک کسی بچے کی طرح ضد کیا تھا کہ ایک آخری نظر ڈال لو اور ہمیشہ سے ضمیر کی مانتا وہ مرد اس بار بھی مرجھائے دل پر پتھر رکھے پھر نگاہ اٹھانے کی گستاخی نہ کیا تھا،

دوسری طرف الشبہ مجبوراً جمیلہ بیگم کے کہنے پر یہاں آئی ہوئی تھی ورنہ کل سے تو اسکا کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا،بار بار رونا آتا عبید کی باتیں سوچ کر،یہاں بھی اسکی نظر پڑی تھی عبید پر لیکن وہ واضح نظرانداز کرگیا تھا اسے،بمشکل اپنا رونا روکے وہ سب سے مِل رہی تھی،کوشش کے باوجود ہر تھوڑی دیر میں آنکھیں بھیگ جارہی تھیں،شانزے نے نوٹ کیا پر وہ طبیعت خرابی کا بہانہ کر گئی،عبید کا یوں خود کو اگنور کرنا جب اس سے اور برداشت نہ ہوا تو وہ جمیلہ بیگم کو سر میں درد کا کہہ کر جلد چلنے کا بولی،انہیں بھی اب الشبہ کی خراب ہوتی حالت دیکھ تشویش ہوئی تبھی اکبر صاحب مرتضیٰ صاحب سے اجازت لیے تھے،پھر شانزے اور پیام سے مِل کر وہ لوگ واپسی کے لیے روانہ ہوئے،

اکبر صاحب کے منع کرنے کے باوجود پیام ان لوگوں کو زبردستی اپنی کار میں لے گیا تھا چھوڑنے،اسکا بدلتا رویہ دیکھ جمیلہ بیگم نے خدا کا شکر ادا کیا تھا ورنہ شروع میں جس طرح وہ رہتا انہیں ڈر لگتا تھا کہ ناجانے وہ شانزے کو کیسے رکھے گا،گھر کے سامنے گاڑی رکنے پر اکبر صاحب اور جمیلہ بیگم اتری تھیں تبھی آخر میں اپنی سوچ میں گم الشبہ بھی چونکی،ان لوگوں کے اندر جانے پر وہ جلدی سے کار سے اترنے لگی تبھی پیام کی بھاری آواز اسکے کانوں میں پڑی،

“ابھی کا رونا بہتر ہے بعد کے پچھتاوے سے۔۔۔سسٹر اِن لاء۔۔۔سنبھل جاؤ ورنہ لاحاصل کی طلب میں تڑپتی رہ جاؤ گی۔۔۔”

حیرت سے اسکی ڈھکی چھپی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتی الشبہ اتری تھی،جھک کر اس نے کچھ پوچھنا چاہا پر تب تک پیام کار سٹارٹ کیے وہاں سے نکل گیا،

“کیا کہنا چاہ رہے ہیں پیام بھائی۔۔۔”

وہ حیرتوں میں گھرے سوچتے ہوئے اندر چلی گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبید گیٹ پر کھڑا جب سے پیام کا انتظار کررہا تھا،اسے پیام کے ساتھ ہی گھر جانا تھا کیونکہ اسکی کار خراب ہونے کی وجہ سے پیام ہی اسے لے کر آیا تھا،رسٹ واچ پر نظر ڈالے وہ پھر سامنے دیکھا تبھی پیام کی کار اسے دور سے آتی دکھی،

“تھینک گاڈ۔۔۔۔تُو آیا۔۔۔کتنی دیر کردیتا ہے۔۔۔”

اسکے کار سے اترنے پر عبید بولا تھا،

“مجھے چھوڑ۔۔۔فلحال تُو دیر مت کر۔۔۔”

پیام کے الفاظوں پر وہ الجھا،

“کیا مطلب۔۔”

“تیرے ڈیڈ کے دوست کی بیٹی سے رشتہ لگا ہوا ہے تیرا۔۔۔”

عبید کے سوال کو اگنور کیے وہ پوچھا تو عبید ناسمجھی سے اثبات میں سر ہلایا

“یہ بات تُو نے اپنی گرلفرینڈ کو بتائی ہے۔۔۔؟”

اب کی بار بھی اسکا لہجہ بلکل سنجیدہ تھا،عبید کے تاثرات بدلے،لبوں پر زبان پھیرتا وہ نفی میں سر ہلایا،

“صحیح۔۔۔جو فیصلہ لینا ہے جلدی لے لینا۔۔۔۔کیونکہ اگر تیری وجہ سے کسی معصوم کی زندگی خراب ہوئی تو میں بھول جاؤں گا عبید۔۔۔۔کہ تُو میرا دوست ہے۔۔۔”

سرد لہجے میں کہتا پیام اسے اپنی کار کی چابی تھمائے اندر داخل ہوا تھا،عبید گہرہ سانس بھر کر رہ گیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہمانوں کے جانے کے بعد کچھ کزنز اب بھی یہی تھیں جو کہ تحریم کے ساتھ خولہ اور شادل سے مذاق مستی کررہی تھیں،خولہ تو بھرپور انجوائے کررہی تھی ان لوگوں کے ساتھ پر شادل گھٹن بڑھنے پر تھکنے کا بہانہ بناتے اٹھا تھا،اسکے یوں بہانے پر سبھی کزنز ہوٹنگ کرنے لگے تھے،شانزے کاموں میں مصروف ایک آدھ نظر ان لوگوں پر ڈالتی مسکرارہی تھی،یہ مسکراہٹ تو اسکے لبوں سے اب جاکر نہیں دے رہی تھی،پیام کی سبھی باتیں بھلائے وہ جب جب اسکے اعتراف کیے الفاظوں کو سوچتی خوشی سے مسکرانے لگتی،اسے یقین نہیں تھا کہ وہ نک چڑھا شہزادہ کبھی اس کے آگے یوں ہار مانے گا،شہد رنگیں آنکھیں متلاشی تھیں جب سے اسے دیکھنے کی پر وہ اسے کہیں نہیں دکھ رہا تھا،کچھ دیر کے بعد شادل کو دیکھ رابیہ بیگم کے ٹوکنے پر سب نے خولہ اسکے کمرے میں لے جاکر بیٹھا دیا پر اسکے بعد گیٹ پر پہنچتے شادل سے پیسے وصول کرنا نہ بھولیں،سب سے زیادہ رقم تحریم نے لی جو شادل نے خاموشی سے دے دی،اسکے آسانی سے پیسے دینے پر سب کو حیرت بھی ہوئی پر شادل کے سنجیدہ تاثرات دیکھ پھر کسی نے زیادہ پریشان نہیں کیا اور اسے جگہ دیتیں وہ لوگ دوسرے کاموں میں لگ گئیں،

“کہاں جارہے ہو۔۔؟”

وہ جو کمرے میں داخل ہوکر چینج کرنے کا ارادہ کیے ڈریسنگ روم میں جارہا تھا خولہ کی پکار پر رکا،

“چینج کرنے۔۔۔”

مختصر جواب تھا،

“اوہ گاڈ۔۔۔۔شادل تم چینج کیوں کررہے ہو۔۔۔”

وہ حیرت سے آنکھیں مکمل کھولے گویا ہوئی،

“خولہ ان کمفرٹیبل محسوس ہورہا ہے۔۔۔میں چینج کر کے آتا ہوں۔۔۔”

سنجیدگی سے کہتا وہ ڈریسنگ روم میں غائب ہوا تھا،خولہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی،

کچھ دیر بعد وہ باہر نکلا تو خولہ فوراً بولی،

“اب ادھر آکر بیٹھو۔۔۔”

اس کو ٹراؤزر اور ٹیشرٹ پہنے رف سے حلیے میں دیکھ وہ بولی،شادل گہرہ سانس بھرتا بیڈ پر اسکے سامنے آبیٹھا،

“بولو۔۔”

خولہ کی خاموشی پر وہ گویا ہوا،

“تعریف تو تم نے میری کی ہی نہیں۔۔۔خیر چھوڑو۔۔۔پہلے میری منہ دکھائی دو۔۔۔”

منہ بناکر بولتی وہ ہتھیلی آگے کی،جس پر شادل اٹھ کر سائیڈ ٹیبل کے دوسرے دراز سے ایک چھوٹی ڈبی نکالا تھا،پھر بیڈ پر بیٹھتے وہ خولہ کی ہتھیلی پر رکھا،

“ہاا۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔؟”

اس میں سے سونے کا بریسلیٹ نکالے خولہ کا منہ کھلا تھا،

“منہ دکھائی۔۔۔”

شادل نے سنجیدگی سے کہا

“شادل تم کتنے کنجوس ہو۔۔۔یہ بریسلیٹ دے رہے ہو مجھے منہ دکھائی پر۔۔۔”

اسکا اچھا خاصا موڈ خراب ہوا تھا،شادل کو اس وقت خولہ کا یوں بےباک رویہ بہت ناگوار گزر رہا تھا بمشکل ضبط کیے وہ پوچھاا،

“تو پھر کیا چاہیے تھا تمہیں۔۔۔”

“کیا چاہیے تھا۔۔۔کیا مطلب۔۔۔کم از کم ایک خوبصورت سا نیکلیس تو دیتے سونے کا۔۔۔”

بریسلیٹ کو سائیڈ پر پھینکنے کے انداز میں رکھتی وہ نروٹھے پن سے بولی،شادل نے ایک نظر بریسلیٹ پر ڈالی پھر اسے دیکھا،

“فلحال یہ رکھ لو۔۔۔بعد میں جو چاہیے لے لینا۔۔۔”

وہ بریسلیٹ اس نے شانزے کے لیے لے رکھا تھا پر اب خولہ کو دینے پر اسکا یوں پھینکنا شادل کو غصہ دلا رہا تھا،خود پر کنٹرول کیے وہ نرمی سے کہنے لگا،

“وہ تو میں لے ہی لوں گی۔۔۔خیر تم بتاؤ۔۔۔تم میں کوئی سینس نہیں ہے کیا۔۔۔”

اسکی نظریں بریسلیٹ پر دیکھ خولہ نے بات بدلی،شادل حیران ہوا،

“ارے مطلب تمہاری نئی نویلی بیوی سج دھج کر سامنے بیٹھی ہے۔۔۔تھوڑی تو پیار بھری باتیں کرو۔۔۔بلکل ان رومینٹک ہو تم۔۔۔”

شکایتی لہجے میں اسے بولتی وہ شادل کو اور حیرت میں مبتلا کرگئی،لندن میں رہ کر وہ کافی زیادہ بولڈ ہوگئی تھی جو اس وقت اپنی شرم حیا بھلائے بیٹھی تھی،

“خولہ۔۔۔میں۔۔۔آ۔۔۔میں پوری کوشش کروں گا تمہیں خوش رکھنے کی۔۔۔۔وعدہ کرتا ہوں مجھ سے تمہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔”

اپنی ناگواریت پر قابو پائے وہ نرم لہجے میں سوچتے ہوئے بولا جس پر خولہ نے آنکھیں گھومائی،

“وہ تو تمہیں رکھنا ہی ہے۔۔۔اگر تم خوش نہیں رکھو گے تو جینا حرام کر کے رکھ دوں گی میں تمہارا۔۔۔”

اپنی بات کہہ کر وہ کھلکھلاکر ہنسی تھی پر اگلے ہی لمحے شادل کے چہرے پر ناگواری چھائے دیکھ جلدی سے بات پلٹنے لگی،

“ارے مذاق کررہی ہوں۔۔۔”

بول کر وہ شادل کے قریب ہوتی اسکے سینے میں سر رکھ گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتضیٰ صاحب اور رابیہ بیگم کمرے میں تھے جب گیٹ ناک ہوا،اجازت دینے پر شانزے گیٹ کھولتی اندر داخل ہوئی،اسکے پریشان چہرے کو دیکھ مرتضیٰ صاحب حیران ہوئے،

“کیا ہوا بیٹے۔۔۔”

ایک نظر رابیہ بیگم کو دیکھ وہ نرمی سے پوچھے تھے،

“ابو۔۔۔امی۔۔۔کیا آپ لوگوں کو پتا ہے کہ پیام کہاں ہیں۔۔۔”

اسکے سوال پر جہاں مرتضیٰ صاحب شدید حیرت کا شکار ہوئے وہی رابیہ بیگم جیسی شاطر عورت سمجھ چکی تھیں کہ یقیناً وہ سب باتوں سے اب تک بےخبر تھی،

“بیٹا آپ کو نہیں معلوم کیا۔۔۔پیام تو ایک گھنٹہ ہوئے ائیرپورٹ کے لیے نکل چکا ہے۔۔۔بزنس پروجیکٹ پر چار ماہ کے لیے۔۔۔”

مرتضیٰ صاحب کی بات پر شانزے کو لگا اسکی سانس تھمی ہے،بےیقین نظروں سے وہ بلکل چپ سی انہیں دیکھنے لگی،یہ وہ کیا کہہ رہے تھے،اسے تو پیام نے ایسا کچھ نہیں بتایا تھا پر اچانک۔۔۔،

اچانک ہی اسے یاد آیا کہ وہ تو اس سے ناراض تھا،تو کیا ناراضگی اس حد تک تھی کہ اس نے یہ بتانا بھی گوارا نہیں کیا،ایک آنسو تیزی سے آنکھوں سے نکلتا گالوں پر پھسلا تھا،رابیہ بیگم طنزیہ مسکراہٹ سمیت اسے دیکھنے لگیں،

“شانزے بیٹا۔۔۔آپ کو پیام نے نہیں بتایا تھا کیا؟”

اسکے گال بھیگتے دیکھ مرتضیٰ صاحب نے پریشان لہجے میں پوچھا تو شانزے ہوش میں آتی چونکی،پھر جلدی سے آنسو صاف کیے بولی،

“نہی۔۔نہیں ابو۔۔۔بتایا تھا۔۔۔وہ۔۔میں بھول گئی۔۔۔کککام میں۔۔۔مصروف تھی نا۔۔۔”

ناچاہتے ہوئے بھی لہجہ بھیگنے لگا تھا اسکا،آنکھوں میں اترتی نمی جب کنٹرول نہیں ہوئی تو وہ جلدی سے مڑی اور وہاں سے باہر نکلتی گیٹ بند کرگئی،

اسکا یہ حال دیکھ جہاں رابیہ بیگم کو اندر تک خوشی محسوس ہوئی وہی مرتضیٰ صاحب پریشان ہوئے،شانزے کی بات میں انہیں کوئی سچائی نہ لگی،وہ صبح پیام کو اس بارے میں کال کرنے کا ارادہ کیے تھے،

کمرے میں آکر وہ گیٹ بند کرتی خاموشی سے بیڈ پر آکر بیٹھی تھی،آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھریں تھیں،دل بہت دکھا تھا پیام کی اس حرکت پر،وہ کیوں ایسا کیا تھا،کم سے کم کچھ تو اشارہ دیتا اسے یوں اچانک کیسے جاسکتا تھا وہ،اوت تبھی شانزے کے ذہن میں اسکی بات یاد آئی تھی،وہ کہہ تو رہا تھا کہ شانزے مِس کرے گی اسے پر وہ اس وقت نہیں ہوگا،اسے بےساختہ خود پر غصہ آیا،کیوں سمجھ نہیں پائی وہ اسکی بات کا مطلب،

“ہنہہ۔۔۔گیا تو گیا۔۔۔اچھی بات ہے۔۔۔میری جان چُھٹی اسکی چھچھوری حرکتوں سے۔۔۔”

خود کو جھوٹے دلاسے دیے وہ بھرائی آواز میں بڑبڑاتی پر اگلے ہی لمحے ذہن میں یہ بات آئی کہ وہ چار مہینے تک نہیں ہوگا یہاں پر اور بس۔۔۔۔۔،

شانزے منہ پر ہاتھ رکھے بھبھک کر رودی،اسکی بآواز ہچکیاں کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کررہی تھیں،اگر پیام مرتضیٰ وہاں ہوتا تو بےہوش ہی ہونے لگتا شانزے کو اپنے لیے یوں روتا دیکھ،جہاز پر بیٹھے وہ آنکھیں موندے اس ہی کے بارے میں سوچے جارہا تھا،کتنا دل کررہا تھا اسکا کہ جانے سے پہلے ایک مرتبہ اسے اپنی باہوں میں بھینچ لے پر اپنی خواہشات پر وہ پتھر رکھ گیا تھا،اسے احساس جو دلانا تھا کہ پیام مرتضیٰ کو کیسا لگتا ہے جب وہ اسکے ساتھ برا رویہ اختیار کرتی ہے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔