422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 25)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

پیام اور شانزے آج شادل کی بیٹی کو لے کر شانزے کے گھر آئے تھے،رابیہ بیگم سے شانزے نے اجازت لی تو وہ بخوشی راضی ہوگئی،انکا ہر دن اچھا ہوتا رویہ شانزے کے لیے خوش آئند تھا،زیادہ خوش وہ تب ہوئی جب اسکے گھر میں پیام اکبر صاحب کے سامنے کم از کم تمیز سے رہا،اسکا بھرپور احترام بھرا رویہ شانزے کو حیران کرگیا کہ وہ انسان بھی عزت سے بات کرنا جانتا تھا۔۔۔،

شانزے کو شک نہ ہو تبھی جمیلہ بیگم نے اسکے سامنے الشبہ کے ساتھ تھوڑی بہت بات کی،وہاں سے نکلتے ہوئے پیام نے خود ہی اکبر صاحب کو بمعہ فیملی شام میں مرتضیٰ ہاؤس آنے کی دعوت دی،جس پر جمیلہ بیگم اکبر صاحب تھوڑا گھبرائے تھے،آخر کیسے وہ دونوں الشبہ کو اکیلے گھر پر چھوڑ سکتے تھے تبھی سہولت سے انکار کرنے لگے لیکن پیام کے بولنے پر جب شانزے نے بھی ضد کی تو کچھ سوچ کر وہ رضامندی ظاہر کرگئے،

مرتضیٰ ہاؤس آتے ہوئے پورے راستے جس طرح شانزے بچی کو کھلا رہی تھی پیام ہر ایک نظر اس پر ڈال کر مسکرادیتا،

“شکر شانزے تم آئی۔۔۔”

لاؤنج میں داخل ہوتے ہی رابیہ بیگم کی آواز پر وہ دونوں چونکے،شانزے کی طرف بڑھتے وہ پہلے شادل کی بیٹی کو پیار کی تھیں پھر اس سے مخاطب ہوئیں،

“مرتضیٰ صاحب کا گلا تھوڑا خراب ہے۔۔۔انہوں نے کہا تھا تم جس طرح سے قہوہ بناتی ہو انہیں وہ پینا ہے۔۔۔تو تم زرا مجھے بتادو۔۔”

رابیہ بیگم نے دھیمے مزاج میں اسے تفصیل بتاکر کہا،مرتضی ہاؤس میں ملازمین ہونے کے باعث انہیں کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی کسی کام کی،جبکہ شانزے کو شروع سے عادت تھی کام کی،

“میں پانچ منٹ میں بنادیتی ہوں امی۔۔۔”

مسکراکر کہتی وہ شادل کی بیٹی کو پیام کی طرف بڑھائی جس پر وہ حیرت سے شانزے کو دیکھا،

“پکڑو۔۔۔”

اسکے یوں دیکھنے پر شانزے نے کہا،

“میں کیوں۔۔۔”

اسکے یوں بولنے پر شانزے سمیت رابیہ بیگم بھی حیران ہوئیں،

“بھئی مجھے نہیں آتا یہ بچوں کو سنبھالنا۔۔۔”

ان دونوں کی سوالیہ نظروں کو دیکھ وہ پھر بولا،لہجہ چڑا ہوا تھا،

“اپنے بچے ہونگے تو کیا کرو گے۔۔۔”

اب رابیہ بیگم اس سے پوچھی جس پر شانزے جھینپ گئی،

“میری وائفی جیسی ہے۔۔۔مجھے نہیں لگتا میرے بچے ہونگے بھی کبھی۔۔۔”

وہ شانزے کو دیکھ بگڑے موڈ کے ساتھ بولا تھا جس پر بل کھاتی شانزے اسے گھور تک نہ سکی،تبھی بات بدلتے پھر بولی،

“پکڑو بھی جلدی۔۔۔”

“کیسے۔۔۔”

کبھی بچے پکڑے ہی نہ تھے تبھی وہ کنفیوز ہوا،شانزے نے ایک گھوری اسے نوازتے شادل کی بیٹی کو اسکی گود میں دے کر کہا،

“ایسے۔۔۔”

اپنی بات کہتی وہ رابیہ بیگم کے ساتھ کچن کی طرف گئی،ادھر پیام کے گود میں آتے ہی وہ بچی بےچین ہوکر مچلنے لگی تھی،اور ہوتی بھی کیوں نہ،آخر جس طرح وہ پکڑا تھا بچی کو اسکا رونا تو بنتا تھا،

“اوہ گاڈ۔۔۔کتنا روتی ہے۔۔۔جنگلی بلی کے ساتھ رہ کر اسی کا اثر آگیا ہے شاید۔۔۔”

بغور بےڈھنگے انداز سے گود میں لی بچی کو گھورتا وہ بولا،تبھی فون رنگ کرنے پر یونی ایک ہاتھ میں اسے لیتا کال ریسیو کیا،

“ایک تو تم لوگوں کو چھٹی کے دن بھی سکون نہیں ہے۔۔۔کیا مسئلہ ہے۔۔۔”

بچی کا رونا اسے ارریٹیٹ کرنے لگا تھا تبھی مینیجر پر غصہ کرتا بولا،

“سوری سر۔۔۔بس (…..) فائل کی پِک چاہیے تھی۔۔۔اگر ابھی آپ سینڈ کردیں تو بہتر ہوگا۔۔۔ضروری ہے۔۔۔”

مینجر کی بات پر پیام لب بھینچتا ایک نظر گود میں لی شادل کی بیٹی کو دیکھا پھر اسے پاس رکھے صوفے پر آرام سے لٹایا تھا،صوفہ چوڑا ہونے کے باعث گرنے کا ڈر نہیں تھا تبھی مطمئن سا ہوکر وہ مینیجر کی کال کٹ کرتا اوپر روم میں فائل کی پِک لینے چلاگیا،

ادھر شادل کی بیٹی کا رونا بڑھا تھا،اسکے بری طرح ہدس کے رونے پر شادل جو روم میں تھا،آہستگی سے گیٹ کھولتا باہر آیا تھا،لاؤنج میں کوئی نہیں تھا اور وہ۔۔۔،اسکی بیٹی اب تک رورہی تھی،ایک نظر خالی لاؤنج پر ڈال کر بھاری قدم اٹھاتا وہ اسکے پاس آیا تھا،پہلے سوچا کہ رابیہ بیگم کو بولے پر بیٹی کی کشش ہی کچھ ایسی تھی کہ شادل مرتضیٰ خود پر اور قابو نہ رکھ پایا،بےساختہ جھک کر وہ اسکے ننھے وجود کو اپنی گود میں بھرا تھا۔۔۔،اور شادل مرتضیٰ حیران رہ گیا اسے دیکھ کر،صاف شفاف رنگت لیے اس بچی کے ہر نقش میں خولہ کا عکس تھا،شادل کے گود میں آتے ہی وہ چپ ہوئی تھی،شانزے جو بچی کے رونے پر ہی کچن سے نکل رہی تھی رابیہ بیگم نے روم سے شادل کو نکلتے دیکھ اسے روک رکھا تھا،اور اب وہ دونوں خاموشی سے لاؤنج میں آکر شادل کو دیکھنے لگی،جس کے لبوں پر آج اتنے دنوں بعد مسکراہٹ پھیلی تھی،

“میری گڑیا۔۔۔”

ہلکی سی سرگوشی کے ساتھ نہایت نرمی سے اسکے گالوں کو چومتا وہ اور مسکرانے لگا،ایک الگ ہی خوشی تھی اسکے سینے میں اس وقت اپنی بیٹی کو دیکھ جو کافی دنوں بعد اب جیسے نصیب ہوئی تھی اسے،

“مہینہ ہونے کو آیا ہے۔۔۔پر منّی کا اب تک نام نہیں رکھا گیا۔۔۔”

کچھ دیر بعد ڈبڈباتی نظروں سے شادل کو دیکھ رابیہ بیگم بولیں،وہ چونکا کر نظریں اٹھایا،بیٹی کو کھلانے میں اتنا مگن تھا کہ احساس ہی نہیں ہوا کسی کی موجودگی کا،رابیہ بیگم کی بات پر وہ واپس گود میں اپنی بیٹی کو دیکھا،

“ازکیٰ۔۔۔!”

مضبوط لہجے میں کہتا وہ رابیہ بیگم کو دیکھا جس پر وہ مسکراتے ہوئے پوچھیں

“مطلب۔۔۔”

انکے سوال پر شادل کے لب پر مسکراہٹ تھمی تھی،اچانک سنجیدہ تاثرات لیے وہ بولا،

“پاکیزہ۔۔!”

کہتے ساتھ وہ اپنی بیٹی کو لیتا واپس کمرے میں چلاگیا،سیڑھیوں پر سے ان براؤن آنکھوں نے اس بار بھی خاموشی سے شادل مرتضیٰ کو دیکھا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو اکبر صاحب اور جمیلہ بیگم الشبہ کو ساتھ لے کر ہی آئے تھے مرتضیٰ ہاؤس،وہ لوگ اسے گھر پر اکیلا چھوڑنے کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے،رابیہ بیگم کا رویہ جمیلہ بیگم کے ساتھ اس بار کافی بہتر تھا،انہیں اپنی اکلوتی بھانجی خولہ سے بہت محبت تھی اور اب اسکے جانے کے بعد وہ جب سے شانزے کی خولہ کی بیٹی کے ساتھ اپنائیت دیکھ رہی تھیں تب سے انہیں اپنے کیے پر شرمندگی سی ہونے لگی تھی،اس لڑکی کو وہ کتنا کوستی تھیں،کس قدر برا بھلا کہتیں پر اب وہی لڑکی ان کے اکیلے پن کا سہارا بنی تھی،

“اپنا منہ بند رکھنا ورنہ بہت برا ہوگا۔۔۔۔پیسوں کی فکر مت کرو وہ وقت پر مِل جائیں گے تمہیں۔۔۔”

کال پر سخت لہجے میں کہتا پیام مڑا تھا پر سامنے ہی شانزے کو کھڑا دیکھ آہستگی سے کال کٹ کی،

“کس کو پیسے دینے ہیں تمہیں۔۔۔”

شکی نظروں سے اسے گھورتی وہ پوچھی تو پیام نے ایک آبرو اٹھائی،

“تم میری جاسوسی کب سے کرنے لگی۔۔۔؟”

اسکی بات پر شانزے کی آبرو بنچھی تھی،

“اتنا فالتو ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ابو امی آئیں ہیں۔۔۔بلانے آئی تھی۔۔۔”

کہہ کر وہ پلٹی پر پیام خاموش نظروں سے لب دبائے اسکی پشت کو تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ چلی نہ گئی روم سے،

الشبہ جو تب سے ایک صوفے پر بیٹھی سر جھکائے اپنی انگلیاں گھوررہی تھی،شانزے کو وہ کافی عجیب لگی،گھر پر بھی اسکا کم بولنا اور یہاں پر بھی خاموش رہنا شانزے کتنی ہی دیر تک الجھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،تبھی شادل کے کمرے سے ازکیٰ کے رونے کی آواز آئی،ابھی رابیہ بیگم شانزے سے بچی کو لانے کا کہتیں کہ شانزے نے اچانک چپ بیٹھی الشبہ کو پکارا،

“ازکیٰ کو لے آؤگی۔۔؟”

اسے سب کے سامنے الشبہ کا خاموش رہنا برا لگا تھا تبھی شانزے نے اس کو یہ کام بولا،جس پر الشبہ نے گھبراکر جمیلہ بیگم کی طرف دیکھا لیکن وہ اسکی طرف متوجہ نہ تھیں،

“جاؤ الشبہ۔۔۔”

شانزے کے اس بار تھوڑا زور سے بولنے پر وہ چونکتے ہوئے کھڑی ہوئی،پھر اثبات میں سر ہلاتی لبوں پر زبان پھیر کر برابر میں بنے روم میں جانے لگی جہاں سے رونے کی آواز آرہی تھی،اسکی جان میں جان آئی کمرے میں شادل کو نہ پاکر،بیڈ پر ازکیٰ اب تک رورہی تھی،جلدی سے آگے بڑھتی وہ اسے گود میں اٹھائی اور روم سے باہر نکل گئی،

کچھ دیر بعد شادل جو ازکیٰ کے سونے کے بعد ڈریسنگ روم میں گیا تھا،اب رف سے حلیے میں باہر نکلا مگر بیڈ پر ازکیٰ کو نہ پاکر تیزی میں روم سے باہر آیا،اور اسکے تاثرات یکدم تنے،باہر صوفے پر بیٹھی الشبہ کے ہاتھ میں ازکیٰ کو دیکھ کر،وہ مسکراتے ہوئے اسے کھلارہی تھی،مضبوط قدموں سے وہ اسکے پاس گیا تھا،اکبر صاحب اور جمیلہ بیگم کو سلام کر کے اب اس نے نظروں کا رخ الشبہ کی طرف کیا،جو اسکی بھاری آواز سن کر ہی چپ ہوگئی تھی،سر جھکائے وہ اپنی گود میں ازکیٰ کو دیکھ رہی تھی،ہمت ہی نہیں تھی اس انسان کے سامنے سر اٹھانے کی،

“ازکیٰ کو دو مجھے۔۔۔”

لہجے کو حتی الامکان نرم رکھ کر وہ الشبہ سے مخاطب ہوا تھا،اسکی بات پر لرزتے قدموں سے بمشکل کھڑی ہوتی وہ ازکیٰ کو تھوڑا آگے بڑھائی تھی،شادل بلکل اسکے سامنے کھڑا تھا،بغیر الشبہ پر دوسری نظر ڈالے وہ ہاتھ بڑھا کر ازکیٰ کو تھاما تھا،مرتضیٰ صاحب جو اکبر صاحب سے بات کررہے تھے انکی نگاہ غیر ارادی طور پر ان دونوں کی طرف اٹھی،لمحے کے ہزارویں حصّے میں انکے ذہن میں ایک بجلی کا کوندا سا لپکا،بےساختہ وہ رابیہ بیگم کی طرف دیکھے وہ بھی آسودگی سے مسکراتے شادل اور الشبہ کو دیکھ رہی تھیں،انہوں نے بھی مرتضیٰ صاحب کی طرف نظریں کیں،یقیناً دونوں کے دماغ میں ایک ہی بات آئی تھی جس پر دونوں ساتھ ہی ہلکا سا مسکرائے،یہ بات مشکل ثابت ہونی تھی پر ناممکن نہیں،یہ سوچ کر مرتضیٰ صاحب واپس اکبر صاحب سے محو گفتگو ہوئے،

ادھر ازکیٰ کو الشبہ سے لیتے ہی شادل پلٹ کر واپس اپنے روم میں چلاگیا تھا،وہ کیسے اس لڑکی کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کو برداشت کر سکتا تھا جو اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے چکی تھی،ایسی لڑکی کا وہ سایہ بھی نہیں لگنے دینا چاہتا تھا اپنی بیٹی پر،اگر کو الشبہ نے اسے ابھی لیا تھا تو ایسا شادل مرتضیٰ پھر کبھی ہونے نہیں دے گا،یہ وہ سوچ چکا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن گزرتے گئے اور کب ازکیٰ ساتھ مہینے کی ہوئی پتا ہی نہ چلا،مرتضی ہاؤس میں ہر کوئی اسے بہت مانتا،یوں جیسے ہر کسی کی جان بستی ہو اس ننھی سی جان میں سوائے پیام مرتضیٰ کے،بقول اسکے وہ بچی اسکے ارریٹیشن کا سامان تھی،جب بھی روتی پیام جھنجھلا جاتا کیونکہ وہ جتنی خوبصورت تھی،رونے پر اسکی آواز اتنی ہی کان میں لگتی جس کی وجہ سے پیام بری طرح چڑ کر اسے گھورتے کچھ نہ کچھ بولتا تو سب یک بیک ہنسنے لگتے،شادل کی سنجیدگی دن بدن بڑھتے جارہی تھی،اب حال کچھ یوں تھا کہ وہ کمرے تک محدود رہنے لگا تھا،شانزے یا رابیہ بیگم ہی ازکیٰ کو اسکے روم سے لے جاتیں ورنہ شادل کا بس چلتا تو وہ اسے بھی اپنے ساتھ بند ہی رکھتا،آفس سے آکر صرف ازکیٰ کے ساتھ کھیلنا اسکے لیے کھلونے لانا،شادل مرتضیٰ کی زندگی جیسے اپنی بیٹی پر ہی منحصر ہوچکی تھی،گھر میں سب ہی سے وہ صرف کام کی حد تک بات کرتا،اسکا یہ بدلتا رویہ دیکھ مرتضیٰ صاحب نے جلد اکبر صاحب سے بات کرنے کا ارادہ کیا تھا،

رابیہ بیگم کے ساتھ آج شانزے انکی کسی قریبی کے گھر گئی تھی،ازکیٰ مرتضیٰ ہاؤس میں شادل کے پاس تھی،وہاں پر بیٹھے ان لوگوں کو تھوڑی دیر ہوگئی جس پر شانزے کے نمبر پر شادل کی کال آئی،ازکیٰ بہت رورہی تھی پر وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کیوں،تبھی مجبوراً شانزے کو ڈسٹرب کیا تھا،شانزے یہ سن کر رابیہ بیگم کو واپس چلنے کا بولی،پر انکی دوست رابیہ بیگم کے جلدی جانے پر ناراضگی کا اظہار کرنے لگی،جسے دیکھ وہ رابیہ بیگم کو وہی بیٹھنے کا کہہ کر اکیلے ڈرائیور کے ساتھ گئی،رابیہ بیگم اسے اکیلے جانے پر منع کررہی تھی پر شانزے انہیں تسلی دلاکر نکلی تھی،ابھی وہ راستے میں ہی تھی کہ اچانک کار کے بیچ میں ایک لڑکی آئی،ڈرائیور نے موقع پر کار روکی ورنہ ایکسیڈینٹ ہی ہونا تھا،اچانک ہوئی کاروائی پر شانزے کچھ سمجھتی اس سے پہلے ہی وہ لڑکی شانزے کی طرف تیزی سے آکر کار کا شیشہ بجانے لگی،ٹینشن میں شانزے نے جلدی سے کار کا گیٹ کھولا پھر باہر نکل کر حیرت سے اسے دیکھی،مقابل لڑکی کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا تھا،وہ غصے میں شانزے کو ہی دیکھ رہی تھی،

“بہت خوش ہو نا تم شانزے مرتضیٰ۔۔۔”

نم ہوتی آواز میں وہ لڑکی نفرت سے بولی،

“کون ہیں آپ۔۔۔اور یہ کیا طریقہ ہے کسی سے بھی بات کرنے۔۔۔”

اسکے لہجے پر ناگواری ظاہر کرتی شانزے پل میں تھمی تھی جب یہ سوچ ذہن میں آئی کہ وہ لڑکی اسکا نام کیسے جانتی ہے،

“تمہیں میرا نام کیسے۔۔۔”

“یہ تم اپنے شوہر سے پوچھو۔۔۔پوچھو جاکر پیام مرتضیٰ سے۔۔۔کہ اب ٹھنڈک پڑھائی اسے۔۔۔”

آواز کو بلند کیے اب وہ بولنے لگی تھی،شانزے کے کچھ پلے نہیں پڑ رہا تھا،

“تم بتاؤ تو کون ہو۔۔۔اور تم میرے ہسبینڈ کو کیسے جانتی ہو۔۔۔؟”

لمحے کے اندر شانزے کے دل میں خدشہ سا ہوا تبھی بےچین سی ہوکر پوچھ بیٹھی جس پر وہ لڑکی تکلیف سے مسکرائی،

“اس انسان نے میری زندگی برباد کر کے رکھ دی اور تم پوچھ رہی ہو کہ میں کیسے جانتی ہوں اسے۔۔۔۔۔کہہ دینا اسے کہ حمنہ معاف نہیں کرے گی اسے۔۔۔۔”

مقابل لڑکی کے لہجے میں دکھ ہی دکھ بول رہا تھا،

“کیا مطلب کبھی معاف نہیں کرو گی۔۔۔اور ہو کون تم۔۔۔؟”

اسکی باتیں شانزے کا سر درد کرنے لگی تھیں،ہاتھ میں تھامے موبائل پر پھر شادل کی کال آنے لگی پر وہ عجیب ہی کیفیت میں جیسے اس لڑکی کی پہیلیوں میں کہی جانے والی بات مکمل جاننا چاہ رہی تھی،

“میرا نام حمنہ ہے۔۔۔تمہارا شوہر یعنی پیام مرتضیٰ بہت اچھے سے جانتا ہے مجھے۔۔۔میں پریگننٹ ہوں۔۔۔اور پیام مرتضیٰ میرے بچے کا۔۔۔”

“بکواس بند کرو۔۔۔”

شانزے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا تبھی وہ تڑخ کر اس لڑکی کی بات کاٹی،دل بری طرح ڈرا تھا،کان سننے سے انکاری تھے وہ الفاظ،

“پاگل ہو کیا تم۔۔۔اور ہو کون پہلے یہ بتاؤ۔۔۔یوں بیچ راستے میں روک کر میرے شوہر کے بارے میں تم کچھ بولو گی اور شانزے مرتضیٰ تم پر یقین کرلے گی۔۔۔بات سنو تم ھو بھی ہو۔۔۔اپنا یہ ڈرامہ کسی اور کے ساتھ جاکر کھیلو۔۔۔آئندہ میرے سامنے بھی مت آنا۔۔۔”

غصے میں اسے ٹھیک ٹھاک سناتی شانزے جھٹکے سے کار کا گیٹ کھول کر واپس بیٹھنے لگی،

“تمہیں مجھ پر یقین نہیں نا۔۔۔چلو میں جھوٹ بول رہی ہوں۔۔۔تو یہ پیپرز بھی پھر جھوٹے ہی ہوں گے۔۔۔”

اب کے وہ لڑکی بےبسی سے بولی اور شانزے اسکی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی پلٹی،وہ لڑکی شانزے کے پھر متوجہ پر جلدی سے اپنے پرس میں سے کچھ پیپر نکالی،دیکھنے سے معلوم ہوتا کہ وہ کسی چیز کی رپورٹ تھی،

“یہ دیکھو۔۔۔صاف لکھا ہے اس میں۔۔۔بولو۔۔کیا یہ رپورٹ بھی جھوٹی ہے۔۔۔”

ہچکیوں سے روتے اس لڑکی نے وہ پیپرز شانزے کی طرف بڑھائے،شانزے اسکا رونا دیکھ گھبرانے لگی تھی،دل میں جو ڈر کنڈلی مارے بیٹھا تھا اسکی نفی کرتے وہ پیپرز تھام کر دیکھنے لگی،اور جیسے ہی نظروں نے اس رپورٹ کو مکمل پڑھا ویسے ہی شانزے مرتضیٰ کی آنکھیں ساکت ہوئیں،پل میں بھیگتی آنکھوں کو پھیلائے وہ مقابل کھڑی حمنہ نامی اس لڑکی کو دیکھی جو اب بھی رورہی تھی،کان میں یکدم پیام کے کہے الفاظ گونجے کہ وہ کبھی کسی کے ساتھ فزیکل نہیں ہوا تھا،لیکن پھر یہ کیا تھا جو اسکے ہاتھ میں نظروں کے بلکل سامنے تھا،اندر ہی کہیں کچھ ٹوٹا تھا،شاید وہ بھروسہ جو شانزے مرتضیٰ مکمل نہ سہی پر تھوڑا بہت پیام مرتضیٰ پر کرنے لگی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔