Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 33) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 33) 2nd Last Episode
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
پانی کی یکدم بوچھاڑ پر وہ ہڑبڑاہ کر اٹھی تھی،درد سے پھٹتے سر سمیت چہرہ جھٹک کر بمشکل کوشش کی ہر طرف دیکھنے کی،یہ جگہ کچھ عجیب سی تھی ایک خالی کھورا کمرہ جس میں نیم اندھیرا تھا،معطل ہوئے حواس سنبھلنے لگے تو اسے یاد آیا،وہ تو کلینک میں گئی تھی دوائی لینے پھر یہاں کیسے۔۔۔، پر تبھی ادھ کھلی آنکھیں مکمل وا ہوئی تھیں اسکی جب نظر سامنے کھڑے انسان پر پڑی،
“تم۔۔!”
یاور کو دیکھتے ہی اسنے غصے سے کہا تھا،
“ہاں جانِ عزیزی میں۔۔۔آپکا بھُولا بھٹکا عاشق۔۔۔”
اپنی بات کہتے ہی وہ زور دار قہقہہ لگایا تھا،شانزے نے حقارت سے اسے دیکھا پر اچانک اسے ایک اور جھٹکا لگا جب خود کا وجود شانزے کو کسی چیز سے جکڑا محسوس ہوا،نظر نیچے ہوئی تو بےیقینی میں آنکھیں پھیلیں،وہ ایک چئیر کے ساتھ رسیوں سے مکمل بندھی تھی،پل میں شانزے کو پوری بات سمجھ آئی،وہ نرس کا اسے انجیکشن لگانا پھر اسکا چکرانا اور شانزے کو شدت سے احساس ہوا کہ وہ بہت برا پھنس چکی ہے،گھبراتے ہوئے اس نے یاور کو دیکھا جو بغور اسکے وجود کو دیکھتے کمینگی سے مسکرارہا تھا،
“د۔۔۔دیکھو۔۔۔مجھے چھوڑ دو۔۔۔نہیں تو پیام تمہیں چھوڑے گا نہیں۔۔۔”
اپنا لہجہ مضبوط بناتی وہ اسے وارن کرنے والے انداز میں بولی جس پر یاور کھل کر ہنسا،
“جان۔۔۔پہلے وہ مجھے پکڑ تو لے۔۔۔اور بےفکر رہو جب تک مجھے وہ پکڑے گا تب تک میں اپنا کام کر کے جاچکا ہوں گا۔۔۔”
اسے حوس بھری نظروں سے دیکھ یاور بولا،شانزے کانپی تھی اسکی نظروں سے،
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔سمجھے۔۔۔میں۔۔میں۔۔۔”
بولتے ہوئے بےساختہ شانزے کو رونا آیا اپنی بےبسی پر،کاش وہ پیام کی بات مان لیتی،اس نے کہا تھا کہ خود لے کر جائے گا اسے پر اپنی ضد کے باعث وہ اکیلی الشبہ کے ساتھ چلی آئی اور اب بھیگت رہی تھی اپنی ضد کا انجام،
“یہ بکری کی طرح میں۔۔میں۔۔۔کیوں کررہی ہو جان۔۔۔کیا ہوا ڈر گئی کیا۔۔۔”
اسکے روہانسی شکل دیکھتا وہ مزے لے کر بولا،
“میں اور تم سے ڈروں گی۔۔۔اتنی بھی کم ہمت نہیں ہوں۔۔۔اور تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ مجھے کچھ کرنے کے بعد تم پیام سے بچ جاؤ گے۔۔۔یقین کرو وہ تمہارا جو حال کرے گا اس پر کوئی اور تو کیا تم خود اپنے آپ کو پہچان نہیں پاؤ گے۔۔۔”
شانزے کی بات ختم ہوتے ہی یاور پھر ہنسا تھا،اس بار وہ ہنستے ہنستے پیٹ پر ہاتھ رکھا،
“اوہ گاڈ۔۔۔شانزے بی بی۔۔۔کس خوش فہمی میں جی رہی ہو۔۔۔وہ پیام ہے۔۔۔پیام مرتضیٰ۔۔۔اگر تمہیں کچھ ہو بھی گیا نا تو اسے زرا فرق نہیں پڑے گا۔۔۔ویسے بھی وہ ایسا ہے کہ تم چلی گئی تو اسکے لیے ہزاروں پڑی ہیں۔۔۔”
وہ بھرپور کوشش کیا تھا شانزے کو بدگمان کرنے کی پر تبھی اسکی مسکراہٹ تھمی جب شانزے طنزیہ مسکراہٹ سمیت اسے دیکھی،
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔تمہاری گھٹیا ایکسپلینیشن سے پیام مرتضیٰ کا کریکٹر ویسا ہی بن جائے گا۔۔۔جو بکواس کرنی ہے کرو۔۔۔کیونکہ مجھے تمہاری باتوں پر ایک فیصد بھی یقین نہیں۔۔۔”
بات مکمل کر کے وہ انجوائے کی تھی جیسے یاور کا کڑھنا،کچھ دیر شانزے جو دیکھتے رہنے کے بعد وہ جیب سے اپنا موبائل نکالا تھا،پھر چند نمبر ڈائل کر کے فون اسکے سامنے کردیا،
“لو۔۔۔کرلو آخری مرتبہ اپنے پیام سے بات۔۔۔کیونکہ اب موقع ہی کہاں ملے گا تمہیں اسے دیکھنے یا بات کرنے کا۔۔۔”
اچانک اسکے سنجیدہ ہونے پر شانزے آبرو پر بل لیتی فون کی سکرین کو دیکھی،جہاں صاف نام پیام جھلک رہا تھا،
“ہیلو۔۔۔”
چند پل بعد وہی بھاری دلکش آواز ابھری تھی،
“پیام پلیز مجھے بچالو۔۔۔یہ۔۔۔یہ نیچ انسان۔۔۔”
شانزے کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی دوسری جانب سے پیام نے کال کٹ کردی اور بےیقینی کا مجسمہ بنے شانزے نے یاور کے ہاتھ میں رکھے فون کو دیکھا تھا،
“دیکھا جانم۔۔۔میں نے کہا تھا نا۔۔۔کہ پیام مرتضیٰ کو زرا فرق نہیں پڑتا تمہارے ہونے یا نہ ہونے سے”
خباثت سے کہتا یاور ہنسا تھا جبکہ شانزے اب تک بےیقین تھی،کیا ایک ناراضگی کی وہ اتنی بڑی سزا دے رہا تھا اُسے کہ ایسے مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ چکا تھا،
“اب چھوڑو یہ سوگ منانا جانم۔۔۔آؤ میں تمہاری ساری تکالیف ختم کردوں۔۔۔۔”
شانزے کے رسّی میں جکڑے وجود کو حوس بھری نظروں سے دیکھتا وہ موبائل جیب میں رکھ کر اسکے قریب ہوا تھا،ساتھ ہی شانزے کے دوپٹے کو پکڑ کر بےدردی سے کھینچا،بےساختہ شانزے اکبر کی چیخ فضا میں بلند ہوئی،
“دور رہو مجھ سے۔۔۔”
اسکا چیخنا پل میں رونے میں بدلا جب یاور دوپٹہ پھینک کر اسکے بال جکڑا تھا،شیطانی ہنسی ہنستا ابھی وہ کچھ کرتا کہ اچانک اسکا موبائل بجا،عبید کی کال تھی،چہرہ بگاڑتے وہ روتی ہوئی شانزے سے دور ہوا پھر کچھ فاصلے پر جاکر کال ریسیو کی،
“کیوں غلط وقت پر کال کرتا ہے۔۔۔بول اب۔۔۔”
تپ کر وہ فون پر بولا تھا تبھی دوسری جانب سے عبید کی بوکھلائی آواز سنائی دی،
“یاور۔۔۔تُو نے جو کام پیام کے آنے کے بعد کرنے کا کہا تھا وہ غلطی سے ابھی ہوگیا۔۔۔”
اسکا لہجہ کپکپارہا تھا یاور یکلخت گھبراکر رہ گیا،
“کیا مطلب۔۔۔وہ۔۔وہ آگ تُو نے ابھی لگادی پیام کے فام ہاؤس میں۔۔۔”
لمحوں کے اندر یاور کی پیشانی میں پسینہ نمودار ہوا،عبید کے اقرار پر غصے میں کال کٹ کرتا وہ تیزی میں نکلا تھا اس جگہ سے،شانزے حیرت سے اسکا یوں جانا دیکھی پر جلد ہی روتے ہوئے وہ خدا کا شکر ادا کی،نہیں تو کوئی بیر نہیں تھی اس حیوان سے کہ کچھ بھی کرسکتا تھا،اب اس کے آنے سے پہلے ہی شانزے کو یہاں سے نکلنا تھا کیسے بھی کرکے،رسیوں میں جکڑی وہ پوری کوشش کرنے لگی رسیوں کی گرفت خود پر سے ڈھیلی کرنے کی پر اچانک ہی کمرے کا گیٹ دھاڑ سے کھلا اور شانزے ڈر کر چیختے ہوئے کوشش تیز کی تھی،دل عجیب انداز میں گھبرارہا تھا،یقیناً وہ حیوان نما انسان پھر آچکا تھا،
“تم ہاتھ نہیں لگاؤ گے مجھے۔۔۔سمجھے۔۔۔می۔۔میں۔۔۔”
روتے ہوئے اسے چلاکر دھمکی دیتی شانزے نظریں اٹھائی تھی اور تبھی اسکی نظریں ساکت ہوئی،دھڑکتا دل یکلخت رک سا گیا،آنسو تھمے جبکہ آنکھیں یقین کرنے کو تیار نہیں تھی کہ سامنے کھڑا وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ اسکا شوہر پیام مرتضیٰ ہے،ایک ہی پل میں شانزے کو اپنے اندر تک سکون کی لہر سرایت ہوتی محسوس ہوئی،
“پیام۔۔۔”
وہ سسکی تھی اسے پکارتے ہوئے،پر سپاٹ تاثرات سمیت اسے دیکھتا پیام جھک کر تیزی سے ہاتھ چلاتا اسکے گرد بندھی رسیاں کھولنے لگا،
اسے آزاد کرنے کے بعد وہ دوپٹہ اٹھا کر شانزے کو پہنا کر اس کا ہاتھ سختی سے پکڑتا جھٹکے سے اسے کھڑا کیے باہر لے جانے لگا پر شانزے آگے نہ بڑھی،
“پیام۔۔۔سوری۔۔۔”
اسکا بازو پکڑتی وہ ندامت سے بولی پر پیام جیسے کچھ سننے کے موڈ میں ہی نہ تھا ابھی،جھٹکے سے اسے کھینچ کر لے وہ لے گیا تھا وہاں سے،سارے راستے شانزے اسے مخاطب کر کے معافی مانگتی رہی پر وہ اپنے کان بند کیے یوں ڈرائیو کررہا تھا جیسے اسکے علاوہ کار میں اور کوئی موجود ہو ہی نہ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیام کے جانے کے بعد وہ تشویش میں مبتلا مرتضیٰ ہاؤس آیا تھا پر وہاں کا منظر دیکھ شادل کو اور حیرت نے آلیا،الشبہ صوفے پر بیٹھی رو رو کر اپنا حال برا کرچکی تھی،رابیہ بیگم ازکیٰ کو گود میں لیے ترحم نظروں سے الشبہ کو دیکھ رہی تھیں جبکہ مرتضیٰ صاحب بھی پریشانی میں بیٹھے تھے،ایسے ماحول پر شادل کے سوال کرنے پر جب مرتضیٰ صاحب نے شانزے کے لاپتہ ہونے کا بتایا تو شادل کو جھٹکا لگا،تبھی وہاں جمیلہ بیگم اور اکبر صاحب آئے تھے،
“امی۔۔۔”
الشبہ روتے ہوئے آگے بڑھی،جمیلہ بیگم جو شانزے کے لاپتہ ہونے کی خبر کا سنتے ہی اکبر صاحب کے ساتھ یہاں پریشانی میں آئیں تھیں وہ الشبہ کے گلے لگنے لگیں پر اکبر صاحب کا اشارہ دیکھتے ہی پیچھے ہٹیں،الشبہ ان دونوں کو خود کو نظرانداز کرنے پر آنسو ضبط کرنے کی کوشش کیے ایک ہی جگہ کھڑی رہ گئی،
“میری بچی کہاں چلی گئی۔۔۔؟”
جمیلہ بیگم تڑپ کر پوچھی تھیں شانزے کے بارے میں،رابیہ بیگم انہیں یوں روتے دیکھ آگے بڑھ کر بیٹھائیں تھیں ان کو صوفے پر،
“پولیس کو کال کردیں کیا ڈیڈ۔۔”
شادل ضبط سے لب بھینچے اکبر صاحب جو ایک نظر دیکھ مرتضیٰ صاحب سے دھیمی آواز میں پوچھا،
“پہلے وہ تو آجائے۔۔۔ہر پروبلم میں غائب ہوتا ہے۔۔۔اسے کچھ فکر بھی ہے اپنی بیوی کی یا نہیں۔۔۔بےشرم انسان۔۔۔کال بھی ریسیو نہیں کررہا۔۔۔”
جب سے خاموش بیٹھے مرتضیٰ صاحب جیسے پھٹ پڑے تھے،شادل کو اچانک پیام کا آفس سے بھاگنا یاد آیا،وہ یاد کرتے ابھی وہ کچھ بولتا کہ الشبہ کی چیخ پر چونک کر رہ گیا،
“آپی۔۔”
شانزے اور پیام کو گیٹ پر دیکھتے ہی وہ بھاگتے ہوئے گلے لگی تھی شانزے کے،جمیلہ بیگم بھی جھلملاتی آنکھوں سمیت اٹھیں،سب کو ایک سکون سا ملا تھا اسے صحیح سلامت دیکھ کر،مرتضیٰ صاحب کے سوال پر پیام بہت مختصر لہجے میں اسکے ہاسپٹل میں ہی بےہوش ہونے کی کہانی گھڑتا مرتضیٰ ہاؤس سے نکلا تھا،سبھی کو اسکا یہ بدلا اور سنجیدہ رویہ کچھ عجیب سا لگا تھا سوائے شانزے کے،وہ سمجھ چکی تھی کہ اس جھوٹی کہانی کا صاف اشارہ یہی تھا کہ وہ کسی کو کچھ نہ بتائے،
پیام کے جانے کے بعد سب شانزے میں لگ گئے،جمیلہ بیگم اسے اپنے ساتھ بٹھائے ہر تھوڑی دیر میں اسکی پیشانی چومتیں تو کبھی شکر کرتیں خدا کا اپنی بیٹی کی سلامتی ہر،اکبر صاحب بھی اس سے بار بار یہی پوچھتے کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں،
“الشبہ۔۔۔بیٹا تم دیکھ تو لیتی ایک مرتبہ۔۔۔شانزے وہی پر تھی۔۔۔تمہاری ایک غلط بیانی نے کس قدر پریشان کر رکھا تھا سب کو۔۔۔”
رابیہ بیگم نرم مگر تاسف بھرے لہجے میں کہتے دیکھی تھیں اسے،حیران پریشان سی الشبہ نے پہلے سب کو دیکھا پھر شانزے کو،وہ کیا بولتی اسے تو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اگر شانزے وہاں تھی تو اسے کیوں نہ دکھی،
“اس نے آج تک کوئی کام صحیح کیا ہے۔۔۔جو آج کرتی۔۔”
اکبر صاحب ٹہرے لہجے میں کہتے اس پر سیدھا تیر پھینکے تھے جیسے،سب انکی بات کو مذاق سمجھ کر مسکرائے شادل کے سوا،وہ سنجیدگی سے الشبہ کو دیکھ رہا تھا،جس کے آنسو ایک بار پھر جیسے چھلکنے کو بےتاب ہونے لگے تھے،آہستگی سے ان لوگوں کے بیچ سے اٹھتی وہ کمرے میں گئی،کچھ دیر بعد شادل خاموشی سے اٹھتا اسکے پیچھے روم میں آیا تھا گیٹ کھولنے پر دیکھا بیڈ کے کونے پر بیٹھی وہ منہ پر ہاتھ رکھے دبی آواز میں رورہی تھی،گہرا سانس بھرتا شادل گیٹ بند کیے اسکے پاس آیا جو اسکی موجودگی سے بےخبر اب تک رورہی تھی،سرخ چہرہ رخ موڑنے کی وجہ سے آدھا دکھ رہا تھا جبکہ نازک وجود ہچکولوں کے زد میں،منہ پر ہاتھ رکھنے کے باوجود اسکی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگی تھیں،
“الشبہ۔۔۔”
شادل کی پکار پر یکدم اسکا لرزتا وجود ساکت ہوا تھا جلدی سے آنسو پوچھتی وہ کھڑی ہوکر اسکی طرف رخ کی،
“جی۔۔”
جب تھوڑی دیر تک شادل چپ رہا تب وہ ہلکی آواز میں بولی،بھیگی پلکیں ایک بار پھر خوبصورت آنکھوں کو چھپانے کا کام بخوبی سر انجام دیے جھکی تھیں،
“رو کیوں رہی ہو۔۔۔اب تو شانزے آچکی ہے۔۔۔”
وہ سب جانتے بوجھتے بھی یہ سوال کررہا تھا وجہ صاف کہ مقابل کی دل کا غبار نکلوانا چاہا،
“م۔۔میں۔۔نہ۔۔نہیں۔۔نہیں تو۔۔میں نہیں رو رہی۔۔۔”
کھوکھلا سا جھوٹ کہا تھا اس نے،لہجہ اس قدر معصومانہ کہ شادل کو بےساختہ ترس سا آیا تھا اس پر،بھاری قدم اسکی طرف بڑھاتے وہ قریب ہوا تھا اسکے پھر نرمی سے مقابل کی تھوڑی تھام کر چہرہ اونچا کیا،الشبہ جو اسکے قریب ہونے پر گھبراکر پیچھے ہٹنے لگی تھی شادل کے تھوڑی تھامنے پر ایک بار پھر سرخ آنکھیں نم ہونے لگی،خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کمزور سی کوشش کے تحت وہ اس سے دور ہونے لگی پر عین وقت پر اسکی پشت پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ کر شادل قریب کیا تھا الشبہ کو خود سے،
“انکل کی باتوں پر ہرٹ ہوئی ہو۔۔۔؟”
کتنا نرم لہجہ تھا اسکا،ناچاہتے ہوئے بھی ایک مرتبہ پھر آنکھیں چھلک پڑیں الشبہ کی،لب کچل کر وہ نفی میں سر ہلائی تھی،
“م۔۔میں کیوں ہرٹ ہوں گی۔۔۔ظاہر سی بات ہے۔۔۔غلطی کی ہے تو اب بھگتنا بھی تو ہے نا یہ سب۔۔۔اور ابو بلکل صحیح کہہ رہے تھے۔۔۔میں نے۔۔کبھی کوئی کام صحیح نہیں کیا۔۔۔ہمیشہ۔۔غلط راستے پر چلی۔۔ہمیشہ غلط لوگوں کا انتخاب کیا۔۔۔دھوکہ کھانے کے باوجود نہیں سدھری۔۔۔تو یہ سب سہنا تو پھر فرض ہے نا میرا۔۔۔آخر کو میں بہت غلط لڑکی بھی تو ہوں۔۔”
بھرائی ہوئی آواز میں کہتی وہ بہت ٹوٹی ہوئی لگی شادل مرتضیٰ کو،تھوڑی چھوڑ کر اس نے نرمی سے دونوں ہاتھ تھامے الشبہ کے پھر آہستہ سے اسے بیڈ پر بیٹھاتا خود بھی اسکے سامنے بیٹھا،
“لڑکی۔۔۔تم بہت غلط نہیں ہو۔۔۔بس کچھ حالات نے تمہیں غلط بنایا تو کچھ تمہاری نادانیاں تھیں۔۔۔لیکن اسکا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم بلکل صحیح ہو۔۔۔ہاں تمہاری غلطی تھی اور وہ غلطی کافی بڑی تھی۔۔۔۔جس کی معافی اکبر انکل شاید تمہیں اتنی جلدی نہ دیں۔۔۔ظاہر سی بات ہے وہ باپ ہیں۔۔۔اور تم نے جو کیا وہ ایک عزت دار باپ کے لیے یقیناً مرنے کے مصداق تھا۔۔۔”
وہ نہایت نرمی سے اسے سمجھارہا تھا،روتی ہوئی الشبہ نے جلدی سے بےچین ہوکر کہا،
“پر۔۔شادل۔۔میں شرمندہ ہوں۔۔بہت شرمندہ۔۔۔میں اچھے سے جانتی ہوں میں غلط ہوں۔۔معافی چاہتی ہوں امی ابو سے اور۔۔۔اور آپ سے۔۔۔پر کوئی بھروسہ نہیں کرے گا میری بات کا۔۔”
اسکی بات سن کر شادل بغور الشبہ کے بکھرے حلیے کو دیکھ بولا،
“بلکل صحیح کہا۔۔۔کوئی تم پر بھروسہ نہیں کرے گا۔۔۔کیونکہ تم نے وہی قیمتی شے توڑی ہے۔۔۔جس کا توڑنا ایک شیشے کے ٹوٹنے کے مانند ہوتا ہے۔۔۔شیشہ تو پھر بھی ایک ماہر انسان کسی بھی طرح جوڑ کر دکھاسکتا ہے تمہیں پر بھروسہ۔۔۔۔وہ تو کوئی بھی واپس نہ جوڑ سکا۔۔۔کبھی بھی۔۔۔”
کس قدر میٹھے لہجے میں وہ کتنی کڑوی بات کہہ گیا تھا،
“نہیں شادل۔۔۔میں۔۔۔میں کیسے بتاؤں۔۔۔میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔آ۔۔۔آپ بتائیں۔۔۔ایسا کیا کروں کہ آپ لوگوں کو یقین ہو میرے پچھتاوے کا۔۔۔”
شادل کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑائے وہ جلدی سے آنسو پونچھتے بےبسی سے پوچھی جس پر وہ خاموش رہا،
“شادل آپ۔۔۔۔آپ کرلیں مجھ پر بھروسہ۔۔۔”
اسے خاموش دیکھ وہ امید سے بولی جس پر شادل زخمی سا مسکرایا،
“ایک بات بتاؤ۔۔۔میری زندگی میں میری محرم بن کر دو لڑکیاں آئی تھیں اور دونوں ہی دھوکے باز تھیں۔۔۔ایک نے شوہر کو دھوکہ دیا تو دوسری ماں باپ کو۔۔۔یہ سب جانتے ہوئے بھی تم مجھ سے امید کرتی ہو کہ میں تم پر بھروسہ کروں۔۔۔”
نگاہیں پھیرتا وہ پُراذیت آواز میں بولا تھا،الشبہ نے آنکھیں میچی تکلیف سے،
“شادل میں۔۔میں بہت محبت دوں گی ازکیٰ کو۔۔۔اسے بہت چاہتی ہوں میں۔۔۔ایک مرتبہ آپ موقع تو دے کر دیکھیں مجھے۔۔میں سب ٹھیک کردوں گی۔۔۔ہم خوش رہیں گے۔۔۔”
بہت ہمت کر کے وہ یہ الفاظ ادا کی تھی ساتھ ہی ڈرتے ڈرتے شادل کے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھی،شادل نظریں نیچے کرتا اپنے ہاتھ پر رکھے اسکے سرخ و سفید ہاتھوں کو دیکھا پھر کہنے لگا،
“مجھے اتنا تو یقین ہے کہ اب۔۔۔کبھی بھی مجھے تم سے محبت ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔”
اسکے الفاظوں کے زیرِ اثر روتی الشبہ نے بےساختہ شادل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
“محبت نہ سہی۔۔۔بھروسہ تو کرسکتے ہیں۔۔۔صرف ایک مرتبہ۔۔۔”
بہت آس لیے وہ اس سے یہ سوال کی تھی،
“میں تم پر بھروسہ بھی نہیں کرسکتا۔۔۔”
اچانک آنکھیں اٹھاکر کہتا وہ الشبہ کو ساکت کرگیا،اسے یوں لگا جیسے شادل نے شہد میں بھگو کر اسے تیر مارا ہے۔۔۔۔،یقیناً وہ یہی کیا تھا،پشیمانی کی آخری سیڑھیوں میں پہنچتی الشبہ اسکا ہاتھ چھوڑتی پیچھے ہوئی،سر جھکا کر کھڑی ہوتی وہ اٹھ کر جانے لگی تھی پر تبھی اسکا بازو پکڑ کر کھینچتا شادل جھٹکے سے سینے میں چھپاگیا تھا اسے،ضبط ٹوٹنے پر الشبہ پھوٹ کر روئی تھی اسکے سینے سے لگے،وہ تھکنے لگی تھیں اور ہمت نہیں رہی تھی برداشت کرنے کی،ماں باپ کی دھتکار نے توڑ کر رکھ دیا تھا اسے،دوسرا شادل کے سخت رویے پر وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگی تھی پر ابھی شادل کا یوں سہارا دینا اسے کہیں نہ کہیں سکون بخش گیا تھا،کافی دیر بعد شادل کی آواز پر اسکے کان کھڑے ہوئے تھے،
“میں تم پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔۔۔۔پر۔۔اگر تم وعدہ کرتی ہوں خوش رہنے کا تو میں ہمارے رشتے کو ایک موقع ضرور دوں گا۔۔۔کیونکہ میں اب۔۔۔میں صرف خوش رہنا چاہتا ہوں۔۔۔یہ صحیح ہے کہ تکالیف ہماری زندگی کا ایک حصّہ ہیں۔۔۔پر اگر ہم ایک دوسرے کو سنبھالیں گے تو یہ تکلیفیں ہمیں زیادہ محسوس نہیں ہوں گی۔۔۔”
اسے سینے سے لگائے وہ الشبہ کے کان میں میٹھی سرگوشیاں گھول رہا تھا،جب سے اذیتوں میں گھری الشبہ کو اسکی ان باتوں سے سکون سا ہوا،
“میں وعدہ کرتی ہوں شادل کہ میں ہمیشہ ساتھ رہوں گی آپ کے۔۔۔کبھی تکلیف نہیں دوں گی اپنی کسی بات سے آپ کو۔۔۔نہ ہی کبھی ایسا کوئی کام کروں گی جس سے آپ ناراض ہوں۔۔۔ہم خوش رہیں گے۔۔۔”
اسے یقین دلانے کی پوری کوشش کرتے الشبہ جذب کے عالم میں بولی تھی،
“شادل آپ بہت۔۔بہت اچھے انسان ہے لیکن آپ کے ساتھ ہمیشہ غلط ہوتا آیا ہے۔۔۔کیا آپ دکھی نہیں ہوتے وہ سب سوچ کر۔۔۔”
کچھ دیر بعد اسکے سینے پر یونہی سر رکھے وہ پوچھی تو اسے الگ کر کے شادل نے ہاتھ کے پیالے میں الشبہ کا چہرہ تھاما،
“لڑکی۔۔۔دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جو مکمل خوش ہو۔۔۔حد سے زیادہ ہنسنے کھیلنے والا انسان بھی اندر سے کہیں نہ کہیں دکھی ہوتا۔۔۔بلکل اس طرح میں بھی بہت دکھی رہتا تھا۔۔۔کئی بار میں شکوہ بھی کیا خدا سے۔۔۔لیکن پھر جلد ہی مجھ پر یہ آشکار ہوا کہ خدا کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔۔۔اور ویسے بھی جب ہم ایک اچھا لطیفہ سن کر ایک بار ہنستے ہیں دو بار پھر تین بار۔۔۔اور آخر میں ایسا ہوتا ہے کہ اس لطیفے پر ہم ہنستے بھی نہیں تو بلکل ایسا ہی ہم غموں کے ساتھ کیوں نہ کریں۔۔۔ایک برے واقعے کو سوچ کر ہم کیوں بس ایک دو یا تین بار دکھی ہونے کے بعد اسے بھول نہیں جاتے۔۔۔”
شادل کی پوری بات مکمل ہونے پر الشبہ جو بغور اس انسان کو دیکھ رہی تھی بےساختہ پوچھی،
“کیا آپ بھول گئے خود پر بیتی؟”
اسکا سوال تھا کہ شادل ہلکا سا ہنسا پھر کہا،
“کیا ہوا تھا میرے ساتھ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں۔۔۔اچھی خاصی تو زندگی ہے میری۔۔۔ماں،باپ چھوٹا بھائی،شانزے بہن ایک ننھی سی پیاری بیٹی ساتھ ہی ایک عدد خوبصورت مگر بےوقوف سی بیوی۔۔۔!”
مسکراکر شادل کی بات سنتے وہ جب آخری جملہ سنی اسکا تو اچانک ناراض نظروں سے دیکھی شادل کو جس پر قہقہہ لگاتا وہ الشبہ کی پیشانی پر اپنے دہکتے لب رکھتا گلے لگایا تھا اسے،خود سے عہد کرتی الشبہ اسکے سینے میں چہرہ چھپائے پرسکون سی آنکھیں موند گئی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاؤنج میں بیٹھی وہ جب سے خود پر کنٹرول کررہی تھی،پیام کی خاموشی پر اسے یقین تھا کہ وہ یاور کو بخشنے والا نہیں ہے اب پر شانزے کو اسکی فکر ہونے لگی تھی،جانتی تھی یاور جتنا گرا ہوا کچھ بھی کرسکتا تھا وہ،شانزے کو اس وقت بس کسی بھی طرح سے پیام اپنے سامنے چاہیے تھا،کسی احساس کے تحت اسکا دل بہت گھبرانے لگا تھا،
“مائدہ پانی دو ایک گلاس۔۔۔پتا نہیں کیوں۔۔۔دل عجیب ہورہا ہے۔۔۔”
وہ جو پہلے ہی ضبط کر کے ان سب کے ساتھ بیٹھی تھی رابیہ بیگم کے اچانک یہ بولنے پر اور گھبرائی تھی،سب کو باتوں میں مگن دیکھ خاموشی سے اٹھتی شانزے اوپر آئی تھی،روم میں داخل ہوتے ہی وہ جلدی سے اپنا فون اٹھاتی پیام کا نمبر ڈائل کرنے لگی،دل کسی انہونی کا احساس دلانے لگا تھا،اسکا نمبر ملاتے وقت شانزے کے ہاتھ میں کپکپاہٹ واضح تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبید کی کال پر وہ جلدی سے پیام کے فام ہاؤس پر نکلا تھا،ڈر تھا کہ اگر آگ زیادہ بھڑک گئی تو پروبلم اسکے لیے کرئیٹ ہوجائے گی اور اسکی نظر میں سب سے بڑی پروبلم یہی ہونی تھی کہ اگر آگ پہلے سے لگی تو پیام کو مارنے کا پورا پلین خراب ہوجانا تھا،اسکا ارادہ فام ہاؤس پہنچ کر پہلے آگ بجھانے کا تھا پھر واپس شانزے کے پاس آنا،راستے میں کار کا ٹائر پنکچر ہونے پر وہ جلدی سے عبید کو کال کیا تھا،اسکے بلانے پر عبید تقریباً دیڑھ گھنٹے بعد آیا،عبید کی کار فام ہاؤس پر رکتے ہی یاور بنا آگے پیچھے دیکھے اندر داخل ہوا تھا،اسے بس کسی طرح ابھی آگ بجھانی تھی،باہر کار میں بیٹھا عبید ایک نظر اسے اندر جاتا دیکھ گہری سانس بھرا،یاور کا پلین سن کر وہ شاک ہوا تھا کہ اسکا یہ دوست کس قدر گرچکا تھا بدلے کی آگ میں،وہ پہلے ہی اتنا شرمندہ تھا اپنی غلطی پر دوسرا پیام سے بغاوت کا کم از کم عبید سوچ ہی نہیں سکتا تھا،لاکھ پیام برا پر اسے عزیز بہت تھا،سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے اب وہ پیام کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا ساتھ ہی پیام کے کہے کہ مطابق وہ ایمبولنس کو کال کرچکا تھا،جانتا تھا کچھ دیر بعد اسکا ایک دوست کوچ کرنے والا ہے دنیا فانی سے،
اندر آکر یاور حیرت کے عالم میں ہر طرف دیکھا تھا،
“عبید نے تو کہا تھی آگ لگی ہے۔۔۔!”
سب کچھ نارمل دیکھ وہ بآواز بڑبڑایا،لہجہ حیرانی سے بھرا تھا،
“آگ لگی تھی نہیں۔۔۔لگے گی۔۔۔!”
بھاری آواز پر بوکھلاتا یاور پلٹا تھا،جیکٹ کے جیب میں ہاتھ ڈالے مقابل کے وجیہہ چہرے پر ہمیشہ کی طرح طنزیہ مسکراہٹ سجی تھی،
“جہاں تجھ جیسا حاسد ہوگا وہاں ضرور آگ لگے گی۔۔۔”
یاور کے متوجہ ہونے پر اور بولتا پیام جیب سے لائٹر نکالا تھا،چند قدم چلتا وہ گراؤنڈ فلور پر بنے ایک کمرے کے باہر رکا جس کا گیٹ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا،یاور پر خون آلود نظریں گاڑے پیام لائٹر جلاتا پھینکا تھا اس کمرے میں جہاں پہلے سے ہی عبید کو کہہ کر وہ پیٹرول ڈلواچکا تھا،لائیٹر پھینکتے ہی آگ تیزی سے بھڑکی تھی وہاں پر،
“پیام۔۔تُو۔۔یہ کیا کررہا ہے۔۔۔اور یہاں کیسے۔۔۔؟”
یاور اچھے سے جانتا تھا کہ پیام سے مقابلہ کرنا اسکے بس میں نہ تھا،کہاں وہ کسرتی جسامت کا مالک مضبوط شخصیت اور کہاں وہ دبلا پتلا،تبھی انجان بنتا وہ اس سے پوچھا،
“میں۔۔۔یہاں۔۔۔کیسے۔۔۔دراصل۔۔۔میں نے سوچا مرنے سے پہلے تیری پریکٹس کروادوں جہنم میں جانے کی۔۔۔”
کمرے کی طرف اشارہ کیے وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا کہ یاور گھبرایا،
“دیکھ۔۔۔پیام۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔۔ہاں لیکن اگر تُو نے مجھ سے پنگا لیا تو مرے گا تُو بھی۔۔۔”
سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ کھوٹی سی دھمکی دیا تھا اسے جس پر بھڑکتا پیام آگے بڑھ کر ٹوٹ پڑا تھا اس پر،لاتوں گھونسوں کی بوچھاڑ کے ساتھ وہ اسے اور بھی القابات سے نوازنے لگا تھا،کمرے میں لگی آگ بڑھنے لگی تھی اتنی کہ اب باہر کی طرف تھوڑی آرہی تھی،
“کمینے۔۔۔بہت ہوگیا تیرا۔۔۔اب مروں گا تو تجھے لے کر ہی۔۔۔”
اسے بری طرح مارتے پیام لہو رنگ آنکھوں سمیت غرایا تھا،وہ جو اتنا پٹنے پر اب ادھ موا ہونے لگا تھا فوراً گھگھیا کر بولا،
“میرے بھائی معاف کردے۔۔۔اب نہیں۔۔کروں گا کچھ۔۔۔
اسکے یوں بولنے پر پیام کا ہاتھ تیز ہوا تھا پر تبھی اسکا فون رنگ کرنے لگا،
جھٹکے سے یاور کو چھوڑتا وہ کال ریسیو کیا،مقابل شانزے تھی ورنہ تو اس وقت وہ کسی کی کال نہ اٹھاتا،
“پیام کہاں پر ہو تم۔۔۔پلیز واپس آجاؤ۔۔۔می۔۔میرا دل گھبرارہا ہے۔۔۔میں مع۔۔معافی مانگ تو رہی ہوں۔۔۔اب نہیں کروں گی پریشان۔۔۔”
ہچکیوں سے روتے وہ فریاد کرنے لگی تھی،پیام کے لب بےساختہ مسکرائے،
“وائفی۔۔۔”
اسکے لب پھڑپھڑائے ہی تھے کہ اچانک پیچھے سے یاور نے دھکا دیا اسے اور پیام مرتضیٰ سیدھا اس بڑھکتی آگ والے کمرے میں گرا تھا،موبائل دور پھینکایا تھا جبکہ دوسری جانب شانزے کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
