Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 34) Last Episode
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 34) Last Episode
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
شانزے کی ایسی چیخ پر نیچے لاؤنج میں بیٹھے سب چونکے تھے،شادل اور الشبہ بھی کمرے سے نکلتے باہر آئے پھر سب کا رخ سیڑھیوں کی جانب دیکھ وہ دونوں بھی سیڑھیاں عبور کرتے اوپر آئے،رابیہ بیگم نے جلدی سے گیٹ کھولا پیام کے روم کا پر اندر شانزے کو بیڈ کے سامنے نیچے بیٹھے فون پکڑ کر بلکتے دیکھا تو حیرت میں وہ لوگ آگے بڑھے،
“شانزے۔۔۔میری بچی۔۔۔کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟”
جمیلہ بیگم نیچے اسکے پاس بیٹھتی شانزے کا چہرہ ہاتھوں میں لیے پوچھی پر وہ تو جیسے ہوش میں ہی نہیں تھی،مسلسل نفی میں سر ہلائے شانزے تڑپ کر رورہی تھی،
“کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔بتاؤ تو کچھ ہمیں۔۔۔”
رابیہ نے بھی اسکا کندھا سہلاتے پوچھا،الشبہ جلدی سے پانی لے کر آئی تھی گلاس میں اسکے لیے پر وہ منہ پھیر گئی،
“ام۔۔امّی۔۔پیام۔۔امّی۔۔۔وہ مار ڈالے گا پیام کو۔۔۔”
ہچکیوں کے دوران بولتے وہ تڑپی تھی اپنی بات مکمل کر کے،
“کون مار ڈالے گا۔۔۔شانزے کیا بول رہی ہو۔۔۔؟”
شادل تشویش میں اسے یوں روتے دیکھ پوچھا تھا،
“مجھے۔۔مجھے پیام یہاں چاہیے۔۔۔امی اسے بلادیں۔۔پلیز۔۔۔اسے بلادیں۔۔۔می۔۔۔میں نے س۔۔سوری بھی کیا۔۔پر وہ نہیں مان رہا۔۔۔ا۔۔۔اسکی چیخ۔۔۔ف۔۔فون۔۔۔میں۔۔۔امی۔۔۔”
مسلسل بآواز رونے سے اسکا گلہ بیٹھ رہا تھا،تبھی اذیت سے بولتے ہوئے وہ تڑپ کر جمیلہ بیگم کے گلے لگی تھی،
سب کو اسکا یہ رویہ پریشان کررہا تھا،ابھی تو بلکل ٹھیک تھی پھر اچانک کیوں وہ اس طرح کررہی تھی،
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔شانزے تم چپ ہو۔۔میں کال کرتا ہوں پیام کو۔۔۔وہ آجائے گا ابھی۔۔۔اوکے۔۔”
جمیلہ بیگم کے گلے لگے اسے مچلتے دیکھ شادل نے آرام سے کہا ساتھ ہی فون نکال کر پیام کا نمبر ڈائل کیا پر اچانک ہی وہ پریشان سا ہوا،
“کیا ہوا۔۔؟”
مرتضیٰ صاحب نے اسے پریشان دیکھ پوچھا،
“نمبر بند جارہا ہے اسکا۔۔۔”
شادل کی اس بات پر جہاں شانزے اور رونے لگی وہی رابیہ بیگم کا بھی دل گھبرایا،
“کیا مطلب نمبر بند ہے۔۔۔کہاں ہے پیام۔۔۔”
وہ فکرمندی سے پوچھی تھیں،شادل ایک نظر انہیں دیکھ منہ پر ہاتھ پھیرا،اب اسے بھی ٹینشن ہونے لگی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چار گھنٹے گزر چکے تھے پر پیام کا کچھ پتا نہیں چل پایا،شانزے نے ان گھنٹوں میں جو برا حال کیا تھا اپنا رو رو کر وہ دیکھ جمیلہ بیگم بھی رونے لگی،رابیہ بیگم جب سے پریشانی میں نم آنکھوں سمیت پیام کی سلامتی کے لیے دعا گو تھیں،شادل نے ہر طرف معلوم کروایا مگر بے سود بس اب فام ہاؤس رہ چکا تھا پیام کا جہاں وہ جانے کے لیے نکلنے لگا پر تبھی اسکے نمبر پر انجانے نمبر سے کال آئی،
“ہیلو۔۔۔”
کال ریسیو کرتا وہ فون کان سے لگایا،
“عبید۔۔۔ہاں بولو۔۔۔کہاں۔۔”
حیرت سے کہتا شادل ٹینشن میں کال کٹ کیا تھا،
“کون تھا شادل۔۔؟”
رابیہ بیگم بےچینی سے پوچھی،
“عبید۔۔۔پیام کا دوست۔۔۔”
اسکے کہنے پر الشبہ نے نگاہ چرائیں تھی،
“اس نے ۔۔۔(…..) ہاسپٹل پہنچنے کا کہا ہے جلدی سے۔۔”
شادل کی بات مکمل ہوتے ہی رابیہ بیگم کا دل دھک سے رہ گیا،شانزے کی آنکھیں بےیقین ہوئیں جبکہ مرتضیٰ صاحب ضبط سے لب بھینچے تھے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریم کی سچویشن دیکھتے اسے کچھ نہ بتایا تھا باسط نے،اور اب شادل کی کال پر وہ آفس سے نکلتا سیدھا ہاسپٹل آیا تھا،اوپریشن تھیٹر کے باہر سب کو دیکھ وہ مضبوط قدم اٹھاتا شادل کے پاس گیا تھا جسکی آنکھیں ضبط کے چکر میں سرخ ہورہی تھیں،
“کچھ بتایا ڈاکٹر نے۔۔؟”
وہ دھیمے لہجے میں استفسار کیا جس پر شادل نفی میں سر ہلاتا کہنے لگا،
“کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔جسم بری طرح جل چکا ہے۔۔۔حتیٰ کہ چہرہ بھی۔۔۔مشکل ہے۔۔۔ب۔۔بچ۔۔”
اس سے آگے وہ نہ بول پایا،لب بھینچ کر شادل نے نم ہوتی آنکھوں کو جھپکا،باسط کی نظریں ایک ایک کر کے سب پر گئیں تھیں،مرتضیٰ صاحب بینچ پر بیٹھے تھے انکی پشت تھپتھپاتے اکبر صاحب بھی کافی فکرمند لگ رہے تھے،رابیہ بیگم کو چپ کراتی جمیلہ بیگم تو دوسری جانب الشبہ اسکے پاس کھڑی تھی جو نڈھال سی کونے میں بینچ پر بیٹھی سوجی آنکھوں سے تھیٹر کی طرف منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی،بےساختہ باسط کو ترس سا آیا شانزے کی اس حالت پر،نفی میں سر ہلاتے وہ ابھی شادل کو تسلی دینے کے غرض کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ تبھی آپریشن تھیٹر کا گیٹ کھلا تھا،باہر آتے ڈاکٹر کی طرف بڑھتے شادل نے بہت امید سے انکے نااُمید چہرے کو دیکھا تھا،
“Sorry…,He is no more..”
انکی یہ بات سن کر جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا،بےیقینی کے عالم میں شادل ڈاکٹر کو دیکھا ساتھ ہی آنسو چھلکا تھا اسکی آنکھوں سے،رابیہ بیگم بےہوش ہونے کے قریب ہوئی تھیں،غم ہی اتنا بڑا تھا جس کا مداوا شاید ہی کبھی ہوسکتا،جان سے عزیز بیٹا یوں بھری جوانی میں چھوڑ کر چلاگیا تھا انہیں،مرتضیٰ صاحب کے لب ضبط کے چکر میں بھنچے رہنے کے باعث انکا چہرہ سرخ کر گئے،وہ مانتے تھے کہ ہمیشہ اسے ڈانٹتے آئے تھے اسکی لاپرواہی کے باعث پر کبھی کبھی اسکی حرکتوں پر غصہ ہونے کے بجائے وہ ہلکے سے مسکرادیا کرتے کیونکہ پیام مرتضیٰ مرتضیٰ ہاؤس میں ہر دل عزیز جو تھا،لیکن آج یہ خبر انہیں لمحوں میں بوڑھا کرگئی تھی،ادھر شانزے کی دنیا جیسے یکدم ویران ہوئی تھی،پیام کے ساتھ گزارا ایک ایک پل اسکی آنکھوں میں گھوما تھا،وہ کیسے چھوڑ سکتا تھا اسے اکیلا،شانزے کے کان سائیں سائیں کرنے لگے بھاری ہوتے سر سمیت وہ کھڑی ہوئی تھییوں محسوس کررہا تھا جیسے سینے میں رکھا دل کسی نے بےدردی سے نچوڑ کر رکھ دیا،اسے وہاں کی ہوا خود پر تنگ لگنے لگی تھی،بےبسی سے روتی وہ دم گھٹنے پر لڑکھڑائے قدموں سے وہاں سے نکلنے لگی،کیسے بھی کر کے وہ بس یہاں سے بہت دور جانا چاہ رہی تھی،اس بات پر یقین کرنا دنیا کا سب سے مشکل امر لگا اسے کہ پیام مرتضیٰ اسے بلکہ سب کو چھوڑ کر جاچکا تھا اس دنیا سے،رونے کے لیے آواز کہیں دب سی گئی تھی،باوجود کوشش ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکل پایا،
“ڈاکٹر ارشاد۔۔۔میں اس پیشنٹ کو نہیں دیکھ سکتا۔۔۔پچھکے دو ڈاکٹر کو بھی مارا اس نے اور اب مجھے بھی ماررہا ہے۔۔۔”
ایک جونئیر ڈاکٹر شادل کے سامنے کھڑے ڈاکٹر کے پاس آتا رونی صورت بناکر بولا،
“آخر پروبلم کیا سمیت اس پیشنٹ کے ساتھ۔۔۔کیوں پریشان کر رکھا ہے سب کو۔۔۔”
ڈاکٹر ارشاد بھی جھنجھلائے تھے اس بار،
“سر وہ کہتا ہے کہ آرام سے علاج کرو۔۔۔ایسے کہ تکلیف زرا بھی نہ ہو۔۔۔اب سر چوٹ لگی ہے تو تکلیف تو ہوگی۔۔۔پر نہیں۔۔۔زرا سی بھی تکلیف پر وہ مارنے لگ رہا ہے۔۔۔میں نہیں جاؤں گا اب وہاں۔۔۔آپ کسی اور کو بھیج دیں۔۔۔”
جونئیر ڈاکٹر منہ بناتے بول کر انہیں دیکھا جو اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے کچھ سوچتے آگے گئے،تبھی قریبی وارڈ سے باہر آتا وہ شخص چیخا جس سے تقریباً پانچ گھنٹوں سے وہ سب پریشان تھے،
“اتنا بڑا سٹاف کیا مفتہ توڑنے کے لیے رکھا ہے تم لوگوں نے۔۔۔کب سے اندر بیٹھا ہوں۔۔۔کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر کو بھیجو۔۔۔”
وہی بھاری دلکش مانوس آواز جس پر مرتضیٰ ہاؤس کے ہر ایک فرد کے ساتھ شانزے مرتضیٰ بھی بری طرح چونکی،وقت تھما تھا جیسے،گردن ٹرانس کی کیفیت میں گھومی اور شانزے کی آنکھیں پتھرائیں،سب کچھ رک چکا تھا،کچھ دور ایک وارڈ کے باہر کھڑے اس شخص کو دیکھ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے کائنات کی ساری خوشیاں لوٹادیں،ویران ہوتی دنیا پل میں ہریالی میں بدلی،وہ اسکے سامنے تھا،ہاں وہ۔۔۔۔،پیام مرتضیٰ۔۔!
وہ زندہ تھا۔۔۔بلکل صحیح سلامت۔۔۔اپنی پرانی ٹون میں سب کو جھاڑتا وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا پر تبھی رکا،جب شانزے بھاگتے جاکر اسکے سینے سے لگی تھی،پیام کے الفاظ منہ میں رہ گئے،حیرت سے اپنے سینے سے لگی اس لڑکی کو وہ دیکھا،نظریں پل میں مقابل کو پہچانیں پر وہ یہاں کیا کررہی تھی،ابھی وہ ایک ہی حیرت سے نہ نکلا جب نظر سامنے اٹھی،وہاں سب کھڑے نم زدہ مسکراہٹ سمیت اسے دیکھ رہے تھے سوائے باسط کے جسکے تاثرات پہلے کی طرح اب بھی سپاٹ تھے،پیام کی آبرو ستائشی انداز میں اٹھی،
“یہاں مجھے اوسکر ملنے لگا تھا جو پوری پلٹن پہنچی ہے۔۔۔”
سینے سے لگی شانزے کو آہستگی سے اپنے سے دور کرتا وہ ان لوگوں کو دیکھ کر بولا تھا،لہجہ ہنوز بےپرواہ جس پر روتی شانزے ایک بار پھر لگی تھی اسکے گلے،پیام نے لب گول سیٹی کے انداز میں کیے سرگوشی نما لہجے میں شانزے سے کہا،
“ویسے تو یہ تمہارا ڈائلاگ ہونا تھا پر میں بول دیتا ہوں کہ سب ہمیں گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں۔۔۔گھر جاکر ٹھیک سے گلے لگاؤں گا وائفی۔۔۔فلحال مجھے زرا معاملہ سمجھنے دو۔۔۔”
اسکی بات مکمل ہوتے ہی شانزے ہوش میں آتی جھٹکے سے پیچھے ہٹی تھی،سبکی کے احساس میں اسکا چہرہ سرخ پڑا،سر جھکائے لب کاٹتی وہ سائیڈ پر ہوئی تھی،
“تم۔۔۔زندہ ہو۔۔۔”
کچھ دیر بعد باسط بولا جس پر پیام نے طنزیہ نظریں اسکی طرف کیں،
“کیوں۔۔۔تم دعائیں کررہے تھے میری موت کی۔۔۔!”
“پیام۔۔۔”
پیام کے یوں بولنے پر جہاں شانزے بےقراری سے اسے دیکھی وہی رابیہ بیگم تڑپ کر آگے بڑھتی بولیں ساتھ ہی اسکا ماتھا چوم کر گلے لگائی تھیں اسے،باسط لب بھینچا،کس انسان سے سنجیدہ بات کرنے کی کوشش کیا تھا وہ،کیوں بھول چکا تھا کہ مقابل کبھی سدھرنے والوں میں سے نہیں،شادل،جمیلہ بیگم،الشبہ اور اکبر صاحب سمیت مرتضٰی صاحب بھی مسکرائے تھے اسے صحیح سلامت دیکھ،
“گلے تو یوں لگارہے ہیں سب۔۔۔جیسے سچ میں مرنے لگا تھا میں۔۔۔ارے بھئی کہا بھی ہے کہ اتنی جلدی جان نہیں چھوڑے گا پیام مرتضیٰ کسی کی۔۔۔کیوں جیجے۔۔۔”
رابیہ بیگم کے بعد مرتضیٰ صاحب اور پھر شادل کے گلے لگنے پر پیام ہنس کر بولتا آخر میں باسط سے تائید چاہا جس پر وہ تاسف سے اسے دیکھتا بولا،
“بلکل۔۔۔آخر کو مصیبتیں بھی کبھی جلدی جان چھوڑتی ہیں۔۔۔”
وہ واضح طنز کیا تھا اس پر،پیام دل جلاتی مسکراہٹ سمیت ہنسا ساتھ ہی کہا،
“یہ جملہ تم نے یقیناً اس دیوار پر نسب آئینے کو دیکھ کر کہا ہوگا جیجے۔۔۔”
پیام کی اس بات پر باسط کی آبرو بھنچی،جس پر پیام مزے سے مسکرایا پر تبھی کراہا،
“بھائی آرام سے۔۔۔مرا نہیں ہوں۔۔۔پر پوری طرح سلامت بھی نہیں ہوں۔۔۔”
شادل کے کندھے تھپتھپانے پر وہ بولا ساتھ ہی وہاں سے شرٹ تھوڑی کھسکائی جہاں کافی بڑے حصّے پر جلنے کے صاف نشان تھے،
“یہ کیسے ہوا بیٹا۔۔۔؟”
رابیہ بیگم اسکے زخم کو دیکھتی تکلیف سے پوچھی،
“یہ لے آگیا تیرا سامان۔۔۔”
ابھی پیام کچھ بولتا کہ عبید دونوں ہاتھ میں شاپر تھامے وہاں آکر بولا پر نظر سب پر پڑتے ہی اسکے لب جیسے پیوست ہوئے تھے ایک دوسرے میں،الشبہ اسے دیکھ کر ناگواری سے نگاہ پھیرتی رخ موڑ گئی،
“تم کہاں تھے۔۔۔اور وہاں ریسیپشن پر تم نے اس آپریشن تھیٹر میں مردہ مریض کی جگہ پیام کا نام کیوں لکھوایا تھا۔۔۔”
شادل سخت نظروں سے عبید کو دیکھ کر پوچھا تھا جس پر وہ ایک نظر پیام کو دیکھا،
“کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔۔اور ہمیں یہاں بلاکر کہاں چلے گئے تھے۔۔۔تمہیں اندازہ بھی ہے اتنے گھنٹے ہم کس اذیت میں رہے۔۔۔”
اسکی خاموشی پر شادل اور بولا تھا،
“سوری شادل بھائی دراصل۔۔۔بوکھلاہٹ میں غلطی سے یاور کی جگہ پیام کا نام لکھوا دیا تھا میں نے۔۔۔اور پھر پیام نے مجھ سے یہ سامان منگوایا تھا جس کی وجہ سے آنے میں دیر ہوگئی۔۔۔”
وہ یہ بات کچھ یوں بتارہا تھا جیسے اپنا جرم تسلیم کررہا ہو،
“یاور کا نام۔۔۔یاور تو پیام اور تمہارا دوست ہے۔۔۔اور یہ سامان۔۔۔”
“او بھائی۔۔۔لمبی کہانی ہے۔۔۔فلحال دفعہ کرو اسے۔۔۔میرا کوئی دوست نہیں عبید کے علاوہ۔۔۔اور ہاں۔۔۔یہ شاپرز۔۔اس میں فروٹس اور جوس اور بھی کافی کچھ ہے جو بتایا نہیں جاسکتا یہاں سب کے سامنے۔۔۔یہ میں نے اس لیے منگوایا کہ اپنے گھر والوں پر تو مجھے بھروسہ ہے نہیں کہ کچھ بھوک کا خیال کر کے میرے لیے کچھ لائینگے اور یہاں ویسے بھی مجھے کم از کم ایک ہفتہ گزارنا ہے تو کیا میں بھوکا مروں گا تب تک۔۔۔بات سن۔۔۔یہ اندر رکھ اور ہاں وہ تو ہیں نا اس میں۔۔۔”
سب کو پوری بات بتاتا وہ عبید کو اندر لے جاتا پوچھ رہا تھا،ادھر سب حیرت سے اس لاپرواہ انسان کو دیکھتے رہ گئے،کیوں تھا وہ ایسا کہ ہر بڑی سے بڑی بات کو یوں لیتا جیسے کوئی عام سی چھوٹی یا مزاحیہ بات ہو،
اسکا سامان رکھے عبید نکلا تھا وہاں سے پر جاتے جاتے وہ ایک نظر برابر میں کھڑی الشبہ پر نہ ڈال سکا،شرمندگی کی اتھا گہرائیوں میں گڑتا وہ نظریں ہی نہ اٹھا پایا تھا اس لڑکی کے سامنے جس کا گناہگار تھا وہ،دوسری طرف الشبہ ازکیٰ کو خود میں بھینچی مکمل اسے نظر انداز کرگئی،ویسے بھی اب اس انسان کے ہونے نہ ہونے یا دیکھنے تک سے اسے زرا فرق نہیں پڑتا تھا،ازکیٰ کے گال چومتی وہ ایک بار پھر دل سے عہد کی تھی کہ اب ہمیشہ خوش رہے گی اور رکھے گی شادل سمیت اپنی بیٹی کو،
رات ہونے تک سب وہی پر رہے،باسط تحریم کی کال آنے پر مرتضیٰ صاحب اور شادل سے اجازت لیتا نکلا تھا،اکبر صاحب اور جمیلہ بیگم سمیت ازکیٰ کے باعث شادل الشبہ کو بھی لے کر گھر کے لیے نکلنے لگا،شانزے نے رکنے کا کہا جس پر رضامندی ظاہر کرتی رابیہ بیگم بھی وہی ہایم کے ساتھ رکنے کا بولیں لیکن انکی طبیعت دیکھتا شادل منع کیا تھا جس کی تائید کرتے پیام نے بھی سمجھایا کہ وہ ٹھیک ہے۔۔۔،رابیہ بیگم مطمئن تو نہ ہوئیں لیکن سب کی ضد پر آخر شادل کے ساتھ وہ اور مرتضیٰ صاحب بھی نکلے تھے،ہاسپٹل میں رات پیام کے ساتھ شادل اور شانزے کو رہنا تھا،شادل سب کو چھوڑنے کے غرض وہاں سے گیا تھا،ادھر سب کے جانے کے بعد پیام شانزے کی طرف متوجہ ہوا جو وارڈ خاکی ہونے پر اسکے قریب سٹریچر پر بیٹھتی پیام کے سینے پر خاموشی سے سر رکھی تھی،
“ایک بات بتاؤ۔۔۔”
چند پل بعد پیام کے سوال پر شانزے نے سر اٹھا کر اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھا،
“کوئی رومینٹک مووی دیکھ کر آئی ہو کیا۔۔۔جو آج میری جگہ خود چھچھورہ پن کررہی ہو۔۔۔”
اسکا سوال پوچھنا تھا کہ شانزے کی محبت بھری نظریں پل میں سپاٹ ہوئیں،غصے میں پیام کے سینے پر چپت لگاتی وہ ناراضگی کا اظہار کرنے کے تحت دور ہوئی ہر عین وقت پر اسے ہنستے ہوئے اپنے قریب کر کے وہ واپس شانزے کا سر اپنے سینے پر رکھا تھا،
“کیا وائفی۔۔۔میرا مذاق تو برداشت کرلیا کرو کم از کم۔۔۔شدتیں تو کرنے سے رہی۔۔۔”
شانزے کی پشت سہلاتے وہ زو معنیٰ لہجے میں بولا تو شانزے اسکے سینے میں چہرہ چھپائی تھی،
“مجھے معاف کردو پیام۔۔۔”
اچانک چہرہ واپس اٹھاتی وہ اس سے ندامت میں بولی جس پر حیرت بھرے تاثرات سمیت پیام بولا،
“معاف کردوں۔۔۔پر کیوں۔۔؟”
پیام کے پوچھنے پر شانزے کو اور شرمندگی ہوئی،
“میں نے تمہیں بہت پریشان کیا۔۔۔”
“تم نے۔۔۔مجھے۔۔۔پریشان کیا۔۔۔پر کب۔۔۔مجھے تو یاد نہیں۔۔۔جہاں تک مجھے یاد ہے میری وائفی تو مجھ سے بہت محبت کرتی ہے بھلے اظہار نہیں کرتی لیکن پھر بھی اگر تم معافی مانگ رہی ہو تو بس ایک ہفتے کا انتظار کرلو۔۔۔پھر گھر چل کر تمہیں کمرے میں اچھے سے معاف کروں گا۔۔۔”
وہ جتنے پرسکونی سے یہ معنیٰ خیز الفاظ ادا کیا شانزے اتنی ہی گلابی ہوئی تبھی حیا سے مسکراتے پیام کے سینے میں اپنا چہرہ چھپائی تھی،جبکہ پیام آنکھیں موندتا وہ وقت سوچا جب یاور نے اسے کمرے میں دھکا دیا تھا،اس کمرے میں گرتے وقت وہ یاور کا ہاتھ سختی سے پکڑا تھا،اسکے ساتھ بڑھکتی آگ والے کمرے میں گرتا پیام خود تو اگلے ہی لمحے کھڑا ہوا ساتھ ہی کود کر نکلا تھا وہاں سے،لیکن یاور اندر آگ میں جلتا ہذیانی انداز میں چیختا رہ گیا،پیام کی جیکٹ پر کندھے کی طرف آگ پکڑی تھی،یاور کو جلتا دیکھنے میں مگن وہ کندھے پر ہوتی جلن محسوس کرتا پھرتی سے جیکٹ اتارا پر تب تک اسکا کندھا جل چکا تھا،تبھی آگ تیزی سے پھیلنے پر پیام اپنے قدم پیچھے لیا،عبید جب سے باہر بیٹھا پریشانی میں اندر آیا اسکی کال پر پندرہ منٹ بعد ایمبولنس آچکی تھی،پیام کے کندھے پر سے شرٹ جلی دیکھ وہ بڑھا آگے پھر اسے لیتا وہ آگ بھڑکنے پر فائر بریگیڈ کو کال کرنے کا ارادہ کیے نکلا تھا پیام کے فام ہاؤس سے،یاور نے جو کیا اسکا انجام وہ بلاشبہ پاچکا تھا آخر کو پیام نے اسے وارن کیا پر وہ شاید ڈھیٹ تھا جو سدھرنے کے بجائے اور بگڑتا جارہا تھا،اسکا مرنا ہی پیام کو بیٹر چوائس لگی تبھی یاور کا پلین اس ہی پر الٹتا وہ اب پرسکون تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ہفتے بعد ڈسچارج ہونے والا تھا پر دو دن بعد ہی ہاسپٹل کے ماحول سے اکتاکر واپسی کا بولا تھا،کچھ ڈاکٹرز بھی اس سے پریشان ہوئے تھے تبھی جلد ہی ڈسچانج کردیا گیا،مرتضیٰ ہاؤس پہنچنے پر سب جس طرح اسکا خیال رکھتے پیام کو اپنا آپ کوئی بچہ لگنے لگا تھا،چڑ کر وہ کبھی جھڑک دیتا ان لوگوں کو یوں بچوں کی طرح اسکی کئیر کرنے پر،لیکن اس بار جیسے سب نے اپنے کان بند کیے ہوئے تھے،کمرے سے باہر تک آنے کی اجازت نہ دی گئی تھی،مکمل بیڈ ریسٹ کرتے پیام کبھی خود کو مردہ تصور کرنے لگتا،اسکی اس حالت پر شانزے اکثر اپنی ہنسی روکتی تھکنے لگتی،اسے ہنستا دیکھ کر کبھی تو پیام تپتا پر کبھی مسکرانے لگ جاتا،
“بات سنو لڑکی۔۔۔”
وہ جو رات کو اسے کھانا کھلاکر اب برتن کچن میں رکھتی روم میں آئی تھی پیام کی آواز پر چونکی،
“بولو۔۔”
بیڈ پر اسکے سامنے آتی وہ بولی ساتھ ہی سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اسے پکڑائی،
“ڈاکٹر نے دوائیاں بدل دی ہیں۔۔۔”
گلاس واپس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پیام اسکے ہاتھ سے ٹیبلیٹس لیتا رکھا،شانزے حیران ہوئی،
“دوائیاں بدل دی۔۔۔پر کب۔۔؟”
پیام کو اپنا ہاتھ پکڑتے دیکھ وہ ناسمجھی سے پوچھی،
“اب بدلی ہے۔۔۔کہتے ہیں ان دوائیوں سے اتنی جلدی ٹھیک نہیں ہوگے جتنی جلدی اس دوائی سے ہوگے۔۔۔”
اسکا رخ موڑتا وہ آہستگی سے شانزے کو اپنی گود میں بیٹھاتا بولا ساتھ ہی آگے ہوکر اسکے گال پر لب رکھا،شانزے کے چہرے پر حیا کے رنگ سمیت مسکان سجی تھی،
“پیام۔۔۔دوائی لے لو پہلے۔۔۔”
اسے اپنے کندھے پر تھوڑی رکھ کر آنکھیں موندے دیکھ شانزے ہلکی آواز میں بولی،
“کیا وائفی۔۔۔تنگ آگیا ہوں اتنی کئیر سے۔۔۔اب تو زخم میں بھی درد نہیں ہوتا۔۔۔تم تو سمجھو مجھے یہ دوائی نہیں کھانی اب۔۔۔”
نرمی سے اسے بیڈ پر لیٹاتا پیام اس پر جھک کر بولا جس پر شانزے نے کچھ بولنے کے لیے لب وا ہی کیے تھے پر وہ بےخودی میں جھک کر ان لبوں کو مقید کر گیا،کچھ دیر بعد وہ دور ہوتا چہرہ بگاڑے شانزے کو دیکھا،جس کے گال حد سے زیادہ سرخ ہورہے تھے،لبوں پر سے شرمگیں مسکراہٹ جا کر نہیں دے رہی تھی اسے دیکھتا پیام بولا،
“یار یہ شرمانے والی حرکتیں مت کیا کرو۔۔۔سُوٹ نہیں کرتا تم پر۔۔۔جنگلی بلی صحیح تھی۔۔۔۔جو ایسی حرکتوں پر غصہ ہوتی۔۔۔آہ پیام مرتضیٰ۔۔۔تیری جنگلی بلی ناجانے کہاں کھو گئی۔۔۔”
اس پر سے ہٹتا وہ بیڈ پر سیدھا لیٹتا چھت کو گھورے آہیں بھرا،ادھر شانزے کا منہ کھلا رہ گیا،گردن گھوماکر اسے گھورتی وہ اٹھ کر بیٹھی ساتھ ہی سائیڈ ٹیبل پر سے پانی کا گلاس اٹھاتی اسکے منہ پر پھینکی،
“تم عزت کے لائق ہی نہیں ہو پیام مرتضیٰ۔۔۔رہو اب یونہی۔۔۔بات نہیں کرنا مجھ سے۔۔۔”
وہ بھڑک ہی گئی تھی،آخر کو مقابل کو شکایت تھی بھی تو اسکے شرمانے سے۔۔،مطلب کیا تھا وہ شخص،
وہ جو اچانک منہ پر پانی پڑنے سے حیران ہوا تھا شانزے کو غصے میں اٹھتا دیکھ ہنستے ہوئے گلاس اسکے ہاتھوں سے لے کر واپس رکھا،
“چھوڑ دو۔۔۔مجھے سونا ہے۔۔۔”
اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی وہ منہ بناکر بولی ساتھ ہی اپنے گرد حائل پیام کے بازو پر زور سے ہاتھ ماری،
“ہا۔۔۔میری جنگلی بلی واپس آگئی۔۔۔”
اسکے غصے پر چوٹ کرتا پیام مزے سے بولا
وہ اتنے دنوں سے شانزے کے اچھے رویے سے تنگ آگیا تھا،جو کام بولتا وہ اچھی بیویوں کی طرح کرتی،اسے شانزے کا لڑنا جھگڑنا پسند تھا پر کچھ دنوں سے اسکا یوں چپ رہنا شرمانا پیام کو زرا نہ بھایا،تبھی وہ اسے تپاکر اب پرسکون ہوا تھا،
“تم بہت بدتمیز ہو۔۔”
زچ ہوکر کہتے ہوئے وہ منہ پھلائی تھی،
“یار کیا کروں۔۔۔تم مجھے لڑتے ہوئے ہی اچھی لگتی ہو۔۔۔یہ ڈیپیکل بیویوں کی طرح شرمانا،ہر بات ماننا۔۔۔سوٹ بلکل نہیں کرتا میری جنگلی بلی پر۔۔۔”
زندگی سے بھرپور مسکراہٹ سمیت کہہ کر وہ شانزے کی پیشانی پر مہر ثبت کیا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آٹھ سال بعد۔۔۔
”
“الشبہ جلدی کرو۔۔۔گیسٹ آچکے۔۔۔”
روم کا گیٹ کھول کر اندر جھانک کر کہتے شادل کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑے تھے،ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اس پری پیکر کو ٹاپس پہنتے دیکھ وہ آہستگی سے اندر آتا گیٹ بند کیا تھا،مضبوط قدم اٹھاکر وہ اسکے پیچھے آیا،الشبہ اپنے پیچھے اسے دیکھتے ہی بولی،
“ہوگئی تیار میں شادل۔۔۔چلیں۔۔۔”
مصروف انداز میں کہتی وہ پلٹ کر جانے لگی مگر شادل نے نرمی سے اسے پچھے سے گرفت میں لے کر واپس الشبہ کا رخ آئینے کے جانب کیا،
“گر کو یہ میرے بس میں ہوتا تو بآسانی اپنا دل نکال کر رکھ دیتا تمہاری ہتھیلی پر۔۔۔”
اپنے کان کے قریب کی گئی شادل کی میٹھی سرگوشی پر الشبہ سمٹی تھی،خوبصورت چہرہ کھلا جبکہ پلکوں کی جھالریں نیچے گریں،
“کیوں مجھے خود سے کیا گیا وعدہ توڑنے پر مجبور کرتی ہو۔۔۔کیوں مجبور کردیتی ہو مجھے خود سے محبت کرنے پر۔۔۔”
وہ جیسے یہ سوال خود سے کیا تھا اور یہ الشبہ کا اخلاق ہی تھا جو شادل کا دل اس نے کچھ مہینوں میں ہی جیت لیا تھا،وہ جو خود پر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے رکھتا الشبہ کی اکثر بےوقوفانہ حرکتوں سے ہنسنے پر مجبور ہو جاتا،الشبہ نے اپنا کیا وعدہ پورا کیا تھا،وہ ازکیٰ کو ماں جیسا پیار دیتی،شادی کے چار سال بعد خدا نے اسے ایک اور بیٹی سے نوازا پر الشبہ کو ازکیٰ سے الگ ہی انسیت تھی،اپنی بیٹی مفلحہ کے بعد بھی اسکا پیار ازکیٰ کے لیے زرا کم نہ ہوا،جیسے غم کے بادلوں کے بعد رحمت کی برسات ہوتی ہے اس ہی طرح اس گھر میں بھی تکالیف کے بعد اب خوشیوں نے جگہ لے لی تھی،
“چلیں جانم۔۔۔”
وہ جو نگاہیں جھکائے مسکرارہی تھی شادل کے محبت سے پوچھنے پر اثبات میں سر ہلائی،اسکا رخ نرمی سے اپنی طرف کیے وہ الشبہ کی آنکھوں پر باری باری نہایت نرمی سے لب رکھ کر پیچھے ہوا ساتھ ہی اسکا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھامتا روم سے نکلا،
آج پیام اور شانزے کے بیٹے عقبان کی برتھ ڈے تھی،پیام کی طرح وہ بھی مرتضیٰ ہاؤس کی جان ہونے کے ساتھ ساتھ بقول شانزے اسکے سر کا درد تھا،ساتھ سالہ عقبان کی حرکتوں کو دیکھ شانزے کو اکثر وہ پیام کی کاپی لگتا۔۔۔،ہاں اسکی تقریباً باتیں اور عادتیں پیام جیسی ہی تھی،
“تمہارا مُوڈ کیوں خراب ہے۔۔؟”
وہ جو غصے میں باریک لبوں کو بھینچے،ننھے ہاتھوں کو فولڈ کر کے منہ بنائے سامنے دیکھ رہا تھا شانزے کے پوچھنے پر آبرو بھنچے اسے دیکھا،
“کیا میں ہینڈسم نہیں ہوں۔۔۔”
منہ پھلائے پوچھا گیا یہ سوال شانزے کو حیرت میں مبتلا کرگیا،
“تم۔۔۔کیوٹ ہو۔۔۔”
اسکے چٹے گال تھپتھپاتی وہ پیار سے بولی پر عقبان جھنجھلاگیا،
“اوہ کم آن مام۔۔۔میں کیوٹ نہیں ہینڈسم ہوں۔۔۔”
اسکی بات پر شانزے ہنسی،
“اچھا بھئی۔۔۔تم ہیڈسم ہی ہو۔۔۔خوش۔۔”
“نہیں۔۔۔اگر میں ہیڈسم ہوں تو میری گرل فرینڈز ڈیڈ کو کیوں ہینڈسم کہتی ہیں۔۔۔”
اور شانزے کا منہ کھلا رہ گیا اسکے گرلفرینڈ بولنے پر،
“یہ کیا بدتمیزی ہے عقبان۔۔۔گرلفرینڈ کیا ہوتی ہے۔۔۔”
پل میں تاثرات سنجیدہ کیے وہ استفسار کی اس سے جس پر عقبان ماتھے پر ہاتھ مارتا بولا،
“مام۔۔۔میرے سبھی کلاس فیلوز میرے فرینڈز ہیں۔۔۔اب ان میں جو لڑکیاں ہیں تو وہ میری گرل فرینڈز ہوئی نا۔۔۔”
وہ شانزے کو یہ بات ایسے بتارہا تھا جیسے اسکی معلومات میں اضافہ کررہا ہو،عقبان کی بات پر شانزے کی آبرو بھنچی،
“تمہیں کس نے سکھایا یہ سب۔۔۔غلط بات ہے ایسے نہیں کہتے۔۔۔۔اٹھو ابھی فوراً اور موڈ ٹھیک کرو۔۔۔پڑھنے کی عمر میں گرلفرینڈز بنائے پھر رہے ہو۔۔۔”
“اوہ مام پلیز۔۔۔اب لیکچر تو نہ دو۔۔۔پہلے ہی میرا موڈ خراب ہے۔۔۔پتا نہیں کیوں سب کیوٹ کہتے ہیں مجھے۔۔۔”
شانزے کی بات پر اسے کوفت سے کہتا عقبان پھر اپنا دکھڑا رویا تھا،تبھی پیچھے سے اسے گود میں اٹھاتا پیام بولا،
“بیٹا آپ کی ابھی عمر ہی ایسی ہے کہ کیوٹ ہی بولا جاسکتا ہے۔۔۔جب بڑے ہوگے تب ہینڈسم کہلوانا نہیں پڑے گا خود سب بولیں گے۔۔۔فلحال یہ بتاؤ کہ ابھی مام سے بدتمیزی کیوں کی آپ نے۔۔۔”
پیام کے سنجیدہ تاثرات دیکھتے ہی عقبان کی ساری کوفت رفوچکر ہوئی تھی،بتیسی نکالے وہ جلدی سے شانزے کی طرف منہ کرتا بولا،
“سوری مام۔۔۔”
شانزے جو ناراض نظروں سے عقبان کو دیکھ رہی تھی،اسکے یوں کان پکڑ کر پیار سے سوری کرنے پر مسکرادی،
“میرا پیارا بیٹا۔۔۔”
آگے ہوتی وہ بول کر عقبان کے گال کھینچنے کے ساتھ انہیں چومی،
“ہمارا پیارا بیٹا وائفی۔۔۔”
اسے نظروں میں لیے نرمی سے پیام جتایا تھا جس پر شانزے مسکراتے سر ہلائی،
“ڈیڈ۔۔۔بان کے فرینڈز دیکھ رہے ہیں۔۔۔پلیز نیچے اتاریں۔۔۔ورنہ وہ اسے بچہ بولیں گے۔۔۔”
پیام جو شانزے کو دیکھنے میں محو تھا عقبان کی بات پر چونکا،
“آپ ابھی بچے ہی ہو۔۔۔چلو کیک کٹ کرتے ہیں۔۔۔”
اسے یونہی گود میں اٹھائے وہ ٹیبل کے پاس جاتے بولا جس پر عقبان منہ بسور کر رہ گیا،
کیک کٹ کرنے کے بعد پیام نے اسے نیچے اتارا تھا،اپنے فرینڈز کو کیک کھلانے کے بعد آخر میں وہ ایک پیس اٹھاتا چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے اسکے پاس گیا جو مرتضیٰ ہاؤس میں اپنے ڈر کی وجہ سے مشہور تھی،
“ہے ڈرپوک چہیا۔۔۔”
عقبان کی آواز پر چار سالہ مفلحہ چونکی ساتھ ہی گھبراکر ننھے قدم پیچھے لی،حد سے زیادہ لاڈ کی وجہ سے وہ کافی حساس ہوچکی تھی کہ زرا سی بات پر ڈر جاتی اور عقبان مرتضیٰ اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے اسے ہر دم ڈراتا پریشان کرتا،ابھی بھی اسکے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ دیکھ مفلحہ کو یقین تھا کہ وہ ضرور اسے پریشان کرنے والا ہے،
“تم نے مجھے برتھ ڈے وِش نہیں کی چہیا۔۔۔”
چہرے پر اداس ایکسپریشن لیے وہ بولا اور صدا کی بھولی مفلحہ جلدی سے بولی،
“شولی بام بائی۔۔۔مدھے دل لد لہا تھا آپ شے کہ پھل آپ تن نہ کلو مدھے۔۔۔ہیپی بتھ دے۔۔(سوری بان بھائی مجھے ڈر لگ رہا تھا آپ سے کہ پھر آپ تنگ نہ کرو مجھے۔۔۔ہیپی برتھ ڈے)”
معصوم چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ اپنی بات پوری کرتی اسے وِش کی جس پر عقبان اپنی مسکراہٹ چھپایا،
“تھینک یو۔۔۔ڈرپوک چہیا۔۔۔”
کیک اسکے منہ پر لگاتا وہ ہنس کر بولا تو مفلحہ پریشان ہوتی پیچھے ہٹی،
“یہ کا کیا بائی۔۔۔آپ کی تایت کلوں دی میں دی آپی شے۔۔۔۔(یہ کیا کِیا بھائی۔۔۔آپ کی شکایت کروں گی میں زی آپی سے۔۔۔)”
پورے چہرے پر کیک لگنے سے وہ رونی صورت بنائے چھوٹی سی انگلی اٹھائے دھمکی دی تھی اسے،
“بتادو۔۔۔عقبان مرتضیٰ ڈرتا نہیں کسی سے۔۔۔”
بےنیازی سے کہتا وہ جیسے ناک سے مکھی اڑایا تھا،
“بان۔۔۔کیا بدتمیزی کی ہے تم نے۔۔؟”
نو سالہ ازکیٰ اپنی چھوٹی بہن کو یوں دیکھ سارا معاملہ سمجھتی عقبان کو ڈپٹی،
“زی آپی میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔۔۔بس یہ دینے آیا تھا چہیا کو۔۔۔”
اپنی بات مکمل کیے پینٹ کی جیب سے نکال کر وہ کوئی چیز پھینکا تھا مفلحہ کے اوپر،نقلی کاکروچ کو دیکھتے ہی جہاں مفلحہ کی چیخ نکلی وہی سب چونکے،ان دونوں کو دیکھ الشبہ نے جلدی سے روتی ہوئی مفلحہ کو گود میں لیا،ادھر شانزے سر پکڑ گئی عقبان کو زوروں سے ہنستے دیکھ،پر تبھی اسکا ہاتھ پکڑکر کوئی کھینچا تھا اسے،وہ بوکھلائی تھی پر پلر کے پیچھے لاکر جب پیام کو دیکھا تو اس نے لب بھینچ لیے،
“پیام سدھارو اپنے بیٹے کو۔۔۔کتنا بدتمیز ہوتا جارہا ہے۔۔۔اس بچی کو بخشتا نہیں زرا سا۔۔۔”
اسکی گہری نظروں کو نوٹ نہ کرتے وہ غصے میں بولی،
“اچھا جب وہ کوئی اچھا کام کرے تو تمہارا بیٹا اور کوئی برا کام کرے تو میرا بیٹا۔۔۔”
دیوار پر ہاتھ ٹکائے وہ دونوں آبرو اچکاکر پوچھا تو شانزے منہ بناگئی،
“اچھا چلو ناراض بعد میں ہونا پہلے جلدی سے یہاں وہ کرو جو کچھ دیر پہلے ہمارے بیٹے کو کررہی تھی۔۔۔”
اپنا گال سامنے کرتا وہ شانزے کو بولا پیام کی بات سمجھے اس نے پیام کا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا،
“کچھ شرم کرلو۔۔۔مہمان ہیں یہاں بھرے۔۔۔کسی نے دیکھ لیا تو۔۔۔”
پیام اسکا ہاتھ اپنی تھوڑی سے ہٹایا تھا پھر کہا،
“تو کیا۔۔میاں بیوی ہیں ہم۔۔۔اور اگر تمہیں نہیں کرنا تو ٹھیک ہے میں کرلیتا ہوں۔۔۔”
پوری بات کہتا وہ جھکا تھا تبھی شانزے بوکھلائی،
“اچھا نا۔۔۔میں کرتی ہوں۔۔۔پہلے آنکھ بند کرو۔۔۔”
اسے خود کے قریب ہوتے دیکھ جلدی سے بول کر شانزے اسکے سینے پر ہاتھ رکھی تھی،شانزے کی بات پر تابعداری سے سر ہلاتا وہ آنکھیں بند کیا،
شانزے مسکراہٹ دباتے اسے دیکھ کر پیام کے گال پر چپت لگاکر نیچے ہوتی اسکے قید سے نکل کر تیزی سے مہمانوں کی طرف چلی گئی،گال پر چپت لگنے سے جھٹکے میں آنکھ کھولتا وہ سامنے دیکھا پر تب تک شانزے جاچکی تھی،
“لڑکی۔۔۔روم میں چلو۔۔۔آج رات بخشوں گا نہیں تمہیں۔۔۔”
گہری نظروں سے شانزے کو دیکھتا وہ بڑبڑایا،دور کھڑی شانزے اسکے لب ہلتے دیکھ ناک چڑھائی تھی جس پر پیام مرتضیٰ دلکشی سے مسکراتا نفی میں سر ہلانے لگا،
“ہائے مفلحہ۔۔۔”
الشبہ اسکا منہ دھلاکر اسے چپ کراتی روم سے لے کر آئی تھی اور اب وہ ایک جگہ کھڑی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹاتی ہر طرف دیکھ رہی تھی تبھی مانوس آواز پر اسکا معصوم چہرہ کھلا،
“ابتام بائی۔۔(ابتسام بھائی)”
مفلحہ کے گلابی لب مسکائے تھے مقابل کو دیکھ،یہ آٹھ سالہ ابتسام تھا تحریم اور باسط کا بیٹا اور بقول مفلحہ اسکا بہترین دوست۔۔،
“کیسی ہو۔۔؟”
دلچسپی سے اسکی مسکان دیکھتا وہ پوچھا تھا،
“میں بلتل تھیت۔۔۔(میں بلکل ٹھیک)۔۔۔”
آنکھیں پٹپٹاکر کہتی وہ ابتسام کو بہت کیوٹ لگی پر تبھی عقبان آتا مفلحہ کا ننھا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر سائیڈ پر کیا،
“میری کزن سے دور رہا کرو۔۔۔ابتسام۔۔”
وہ ان دونوں کو ساتھ کھڑے دیکھ تپا تھا،بقول اسکے مفلحہ صرف اسکی کزن تھی تو اسے پریشان تنگ یا بات تک کرنے کا حق بھی صرف اسکا تھا اور ابتسام سے تو اسے شروع سے ہی خدا واسطے کا بیر تھا،
“بڑا ہوں تم سے بھائی بولا کرو۔۔۔”
اسے دیکھتے ہی ابتسام کا میٹھا لہجہ کڑوا سا ہوا تھا،
“ہنہہ۔۔۔بھائی مانتا تمہیں تو ضرور کہتا۔۔۔”
اسے تپانے کے غرض وہ یہ بولتا مفلحہ جو زبردستی لے کر گیا تھا وہاں سے،ادھر ابتسام نے تپ کر اپنے اس چھوٹے مگر کسی آفت کے برابر کزن کی پشت کو گھورا،
“مدھے ابتام بائی شے بات کلنی اے۔۔۔آپ دندے بائی ہو۔۔۔(مجھے ابتسام بھائی سے بات کرنی ہے۔۔۔آپ گندے بھائی ہو۔۔۔)”
ننھے ہاتھوں سے اسکے بازو پر مارتی مفلحہ روہانسی ہوکر بولی،
“اے چہیا۔۔۔زیادہ ابتسام بھائی کرنے کی ضرورت نہیں اور ہاں۔۔۔اب اگر اس سے بات کی نا تم نے تو اندھیرے کمرے میں بند کردونگا تمہیں۔۔۔پھر بلاتی رہنا اپنے ابتسام بھائی کو۔۔۔”
اسے گھور کر کہتا عقبان اشارہ کیا تھا سٹور روم کے جانب جبکہ مفلحہ پل میں خوفزدہ ہوتی نفی میں سر ہلاکر آنکھیں پھیلائے سٹور روم کی طرف دیکھی،
“میں نی تلوں دی ان شے بات۔۔۔(میں نہیں کروں گی اس سے بات)”
ابھی ڈر کی وجہ سے صاف انکار کرتی وہ بھاگی تھی الشبہ کے پاس،اسکے ڈرنے پر عقبان آنکھیں گھوما کر مسکرایا تھا،
“مومی۔۔۔”
الشبہ کے پاس جاتے ہی مفلحہ رونی آواز میں اسے پکاری،
“کیا ہوا گڑیا۔۔۔”
جھک کر اسکے گال تھام کر الشبہ پیار سے بولی،
“بام بھائی دلالہے ہیں۔۔۔(بان بھائی ڈرارہے ہیں)”
مفلحہ کی بات پر الشبہ ہنستے ہوئے اسے گود میں اٹھائی تھی،
“بچے وہ مذاق کرتے ہیں بس۔۔۔”
اسے سمجھاکر الشبہ ایک نظر سب پر ڈالی تھی پر اکبر صاحب پر نظر پڑتے ہی وہ افسردہ ہوئی،ہاں یہ سچ تھا کہ وہ لوگ اب بہت خوش تھے اپنی اپنی زندگیوں میں پر ہمیشہ کسی نہ کسی کے دل میں ایک طرح کی خلش رہ جاتی ہے اور وہ خلش الشبہ کے دل میں تھی،اکبر صاحب نے اس غلطی پر الشبہ کو اب تک معاف نہ کیا تھا،وہ تڑپی تھی بہت روئی شادل کے ساتھ جاکر ان سے بہت معافی مانگی،جمیلہ بیگم ماں تھیں تبھی زیادہ ناراضگی نہ دکھا پائیں جبکہ اکبر صاحب۔۔۔،انہوں نے جیسے رخ ہی موڑ لیا تھا اس سے،آٹھ سال ہوچکے تھے پر وہ آج تک الشبہ سے بات نہ کیے،یہ کلس اس خوش رکھنے والی الشبہ کو اکثر رونے پر مجبور کردیتی پر شادل سے کیے گئے وعدے کے مطابق وہ سب کے سامنے خوش رہنے کی بھرپور کوشش کرتی لیکن اندر سے جیسے دل تڑپتا باپ سے بات کرنے کو،یہی خلش جو آٹھ سال سے اسکے دل میں چھپی تھی یقیناً ہمیشہ رہنے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
THE END![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
