Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 26)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 26)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
رات کو گھر میں داخل ہوتا باسط کچن سے آتی ہنسنے کی آواز پر رکا تھا،رخ اس طرف کا کیا تو دیکھا فرزانہ بیگم سمیت تحریم کسی بات پر ہنس رہی تھیں،
“کیا ہورہا ہے۔۔۔؟”
سرسری سا پوچھتا وہ ایک بھرپور نظر تحریم پر ڈالا تھا،باسط کے سنگ خوش رہنے کے سبب اب اسکی جسامت تھوڑی سی بھری بھری لگنے لگی تھی،
“یہ تم تحریم سے پوچھنا۔۔۔۔”
فرزانہ بیگم مسکراہٹ چھپائے تحریم کو دیکھ کر بولی،جسکا چہرہ اب کھلے گلاب کی طرح سرخ ہوا تھا،دوسری جانب ان کی بات پر باسط الجھا،
“ایسی کیا بات ہے۔۔۔جو مجھے تحریم بتائے گی۔۔۔بتاؤ تحریم۔۔۔”
آہستگی سے بڑبڑاتا وہ اب تحریم سے استفسار کیا تو وہ جلدی سے آگے منہ کر گئی،
“بیٹا تم فریش ہو۔۔۔میں کھانا نکالنے لگی ہوں۔۔۔”
تحریم کی جھجھک محسوس کرتیں فرزانہ بیگم باسط کو کہنے لگی جس پر اثبات میں سر ہلاتا وہ روم کی طرف گیا،پر کچھ ہی دیر تحریم بھی اسکے پیچھے آئی،وہ جو چینج کرنے کے لیے جارہا تھا اب تحریم کے جانب متوجہ ہوا،
“بےوجہ مسکرانے کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔”
ہاتھ میں تھامی اپنی شرٹ بیڈ پر پھینکتا وہ تحریم کے گرد دونوں بازوؤں کو حائل کرتے پوچھا وہ اب تک نظریں جھکائے سرخ چہرے سمیت مسکرارہی تھی،
باسط کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتے تحریم نے اپنا موبائل اٹھایا،پھر کچھ ٹائپ کرنے کے بعد سکرین باسط کے سامنے کی،سکرین پر کسی بچے کی پک دیکھ باسط حیران نظروں سے اسے دیکھا پر اگلے ہی لمحے اسکی نظریں بدلیں،جب اسکے تصویر دکھانے کا مطلب سمجھ آیا،
“تحریم۔۔۔سچ میں۔۔”
وہ جیسے تصدیق چاہ رہا تھا،تحریم نے نظریں جھکائے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا،یکدم باسط کے پورے جسم میں ایک خوشی کی لہر سرایت کرگئی،اسکے پاس الفاظ نہ بچے تھے اپنی خوشی بیان کرنے کو،تبھی آگے ہوتا تحریم کے ماتھے پر جذب سے اپنے لب رکھتا وہ اسے خود میں بھینچ گیا،باسط کے کندھے پر سر رکھے وہ پرسکون سی آنکھیں موند گئی،جمیلہ بیگم کو اس نے یہ بات شام کو کال پر بتائی جس پر وہ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ کافی ہدایت بھی تحریم کو دینے لگی تھیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ ایک جیولری شاپ پر گیا تھا،ویسے تو لڑکیوں کی شاپنگ یا پسند کا اسے کچھ اندازہ نہ تھا پھر بھی شانزے کو گفٹ کرنے کے لیے وہ ایک نفیس سا پینڈنٹ خریدہ تھا،وہ دائرے کی شکل میں بنا پینڈنٹ جس کے بلکل بیچ میں چمکتا ہیرا،اسے شانزے کی سفید گردن میں تصور کرتا پیام مسکراکر رہ گیا،
وہاں سے نکل کر اب اسکی کار کا رخ مرتضیٰ ہاؤس کی طرف تھا،وہ اتنے مہینوں سے شانزے کو چھوڑ دے رکھا تھا ازکیٰ کی وجہ سے پر آج اسکا ارادہ بلکل بھی اسے بخشنے کا نہ تھا،ایک الگ ہی خوشی و سرشاری ہورہی تھی اسے،مرتضٰی ہاؤس پہنچتا وہ سیڑھیاں عبور کرکے مضبوط قدموں سے اپنے روم کی طرف گیا تھا،
بیڈ سے ٹیک لگائے وہ آج دوپہر کے واقعے کا سوچ رہی تھی،دماغ جیسے کام نہیں کررہا تھا،اس لڑکی نے رپورٹ شانزے کو دے کر صاف الفاظ میں کہا تھا کہ اسے پیام مرتضیٰ کو دکھا دے،اب تک یقین بےیقین کی کیفیت میں وہ خاموش نظروں سے دیوار تک رہی تھی،حمنہ نے اسے اپنا نمبر بھی دیا تھا اس رپورٹ پر لکھ کر،ان سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب روم کا گیٹ کھلا،بےساختہ اسکی نظریں گیٹ پر گئیں،پیام لب دبائے اسے مسکاتی نظروں سے دیکھتا گیٹ بند کررہا تھا،
“آج جنگلی بلی بہت چپ ہے۔۔۔؟”
بیڈ پر اس ہی کے پاس گرنے کے انداز میں لیٹتا وہ شانزے کے خوبصورت چہرے کو نظروں میں رکھے پوچھا،وجہ شانزے کا اب تک خاموش رہنا تھا،
“شادی سے پہلے تمہارا کس کس کے ساتھ افئیر تھا۔۔۔”
سپاٹ تاثرات سمیت وہ پوچھی جس پر پیام چونکا،
“یہ کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔”
پیام لیٹے سے اٹھ کر بیٹھا تھا،
“جو پوچھا ہے وہ بتاؤ۔۔۔کیا تم۔۔۔تم کسی لڑکی کے ساتھ فز۔۔فزیکل ریلیشن میں۔۔۔رہے ہو۔۔۔”
کتنا مشکل ثابت ہورہا تھا یہ پوچھنا اس سے،اب کی بار پیام چونکا تھا،
“ایک منٹ۔۔۔آج میرا انٹرویو لینے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔”
اسکی بات کو مذاق میں لیتا وہ گویا ہوا،
“پیام۔۔۔میں سیریس ہوں۔۔۔”
اسکا لائٹ رویہ دیکھ شانزے کو غصہ آنے لگا،
“وائفی میں بھی سیریس ہوں۔۔۔اتنے دن ہوگئے اب تو میں نے کوئی چھچھورہ پن بھی نہیں کیا پھر بھی تم مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیتی۔۔۔”
وہ مکمل شانزے کی باتوں کو نظرانداز کرتا اپنے ہی دکھ سنارہا تھا،
“مجھے آج راستے میں ایک لڑکی ملی تھی۔۔۔”
اب شانزے نے اس سے دوٹوک بات کرنا چاہی تبھی پیام کو اس لڑکی سے ملنے پر ہوئی ساری باتیں بتاگئی،
شانزے کی بات مکمل ہونے پر وہ چند پل خاموشی سے اسے تکتا رہا پھر اچانک ہی پیام کی ہنسی چُھوٹی،وہ جو بےچین سی ہوکر اسے سب بتائی تھی اب اسکے رئیکشن پر لب بھینچ گئی،
“اوہ وائفی۔۔۔تمہیں کوئی بھی یوں بیچ راستے پر جوک سنادے گا اور تم یقین کرلو گی۔۔۔مجھے تو لگا تم تھوڑی عقل مند ہو۔۔۔پر آج سمجھ آیا کہ تم تو پوری عقل “بند” ہو۔۔۔”
اسکا مذاق اڑاتا وہ ہنسنے لگا تھا،شانزے کا غصہ پل پل بڑھنے لگا،
“پیام مجھے اس لیے ڈر لگ رہا ہے کہ شادی سے پہلے تمہارا کتنی ہی لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔”
اپنی بات روک کر وہ بےبسی سے پیام کو دیکھی،
“میرا کتنی ہی لڑکیوں کے ساتھ کیا۔۔۔”
وہ آبرو اچکائے پوچھا،
“میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں پیام۔۔۔بات کو سمجھو وہ لڑکی رورہی تھی۔۔۔”
“شانزے کسی نے پرینک کیا ہوگا تمہارے ساتھ۔۔۔ابھی چھوڑو میرا موڈ فضول میں خراب ہو جائے گا۔۔۔”
اب وہ لہجے کو سنجیدہ بنائے بولا پر آنکھیں پھر بھی مسکارہی تھیں،
“ٹھیک ہے۔۔تمہیں مذاق سوجھا ہے ہے نا۔۔۔تو کرتے رہو اپنے آپ۔۔۔عجیب انسان ہو کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔جواب دینے کے بجائے الٹا مستی کررہے ہو۔۔۔”
اسکے سیریس نہ ہونے پر شانزے جھنجھلاکر رہ گئی،
“اچھا کیا جاننا ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔پوچھو۔۔”
اس بار چہرے پر سیریس ایکسپریشن لاتا وہ بولا،
“مجھے صرف اتنا جاننا ہے کہ کیا تم کسی حمنہ نامی لڑکی کو جانتے ہو۔۔۔اس نے یہ۔۔۔یہ رپورٹ دکھائی مجھے۔۔”
اسے سنجیدہ ہوئے دیکھ وہ بھی جلدی سے تکیے کے نیچے رکھی وہ رپورٹ پیام کے سامنے لہراتی پوچھی تو پیام نے پہلے سوچنے کی ایکٹنگ کی پھر کہا،
“ہوگی پیام مرتضیٰ کی کوئی دیوانی۔۔۔اور یہ فضول سے پیپرز تو کوئی بھی چند روپے میں بنوالے گا۔۔۔”
اسکے ہاتھ سے رپورٹ لے کر بیڈ پر پھینک کر مزے سے کہتا وہ شانزے کے قریب ہوا تھا،
“پیام میرا صبر مت آزماؤ۔۔۔”
پتا نہیں کیوں پر شانزے کو شدید غصہ دلارہا تھا اسکا سنجیدہ نہ ہونا،
“فلحال تم میرا صبر نہ آزماؤ وائفی۔۔۔”
شانزے کی کمر کے گرد بازو حائل کیے وہ اسے خود سے لگاتا جھکنے لگا تھا پر تبھی پیام مرتضیٰ کو بہت برا جھٹکا لگا جب شانزے نے غصے میں اسکے گال پر تھپڑ مارا،اسکے گرد حائل گرفت بےاختیار ڈھیلی ہوئی تھی جس پر شانزے پیام کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکا دے کر دور کی تھی،وہ ایک قدم پیچھے ہٹا تھا،
پیام مرتضیٰ کی آنکھیں پل میں انگارہ ہوئیں،گردن پر رگیں ابھری تھی،لال بھبھوکا چہرہ شانزے کی طرف کرتا وہ اسے گھورا تھا،
“ہاتھ کیسے اٹھایا۔۔۔”
دانت پر دانت جمائے وہ بہت ہی ضبط سے پوچھا،
“ت۔۔تم۔۔۔پہلے میری۔۔۔بات کا جواب۔۔دو۔۔۔وہ لڑکی کون۔۔۔”
“ہاتھ کیسے اٹھایا۔۔”
شانزے کی الفاظ ہی دم توڑ گئے جب وہ جھٹکے سے اسکے دونوں بازو دبوچ کر اپنی طرف کھینچتا دھاڑا،شہد رنگیں آنکھیں سہمی تھیں مقابل کا غصہ دیکھ،
“بولو۔۔۔”
ایک بار پھر وہ چیخا کہ شانزے کانپ کر رہ گئی،یہ غصہ اس نے آخری دفعہ تب ہی دیکھا تھا پیام کا جب رابیہ بیگم نے اسے تحریم کے اغواہ کا بتایا تھا،اور اب پھر اس پر وہی روپ شانزے کو ڈرا گیا،گردن اور پیشانی پر ابھرتی رگیں اندر کے اشتعال کا واضح پتا دے رہی تھیں،آنکھیں پھیلائے وہ بغور اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگی،
“وہ۔۔۔م۔۔میں۔۔۔غلطی۔۔۔سے۔۔۔وہ لڑ۔۔لڑکی۔۔۔”
اسے اپنا سوال ہی بھول گیا،ہکلاکر کہتی وہ رکی جب پیام کی لوہے کے مانند انگلیاں اسے اپنے بازو میں دھنستی محسوس ہوئیں،
“تمہیں بیچ سڑک راستے میں کون لڑکی ملی یا اس نے تم سے کیا کہا۔۔۔پیام مرتضیٰ کو زرا فرق نہیں پڑتا۔۔۔تم نے اسکی بات پر یقین کرکے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔پیام مرتضیٰ کو اِس پر فرق پڑا۔۔۔ایک بات بتاؤ شانزے مرتضیٰ۔۔۔تم اس لڑکی کو جانتی تھی کیا۔۔۔”
اسکے بازوؤں پر گرفت کافی سے بھی زیادہ سخت کیے وہ غرارہا تھا،دوسری جانب شانزے جو پیام کے اس رویے کی بلکل عادی نہیں تھی بےاختیار اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے،اسے وحشت ہونے لگی پیام کے اس رویے پر تبھی اسکی گرفت میں مچلتی وہ دور ہونے لگی،
“بولو۔۔۔کیا جانتی تھی تم اس لڑکی کو۔۔۔؟”
شانزے کی مزاحمت پر جھٹکے سے اسے اپنے حد درجہ قریب کرتا وہ دھیمے لہجے میں پوچھا،
بازوؤں میں تکلیف بڑھنے پر وہ بھیگے گال سمیت جلدی سے نفی میں سرہلائی جس پر پیام جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا،اسکی سخت گرفت سے شانزے کو اب اپنے بازو اکڑتے محسوس ہوئے،
“مجھے جو بتانا تھا وہ میں اس ہی رات تمہیں بتا چکا تھا۔۔۔۔۔اب پیام مرتضیٰ کسی بات کی بھی وضاحت نہیں دے گا۔۔۔تم مجھ پر یقین کرو یا نہ کرو۔۔۔مجھے زرا پرواہ نہیں۔۔۔اور ایک بات۔۔۔۔آج جو تم نے کیا ہے۔۔۔یہ حق صرف ماں باپ تک اچھا لگتا ہے۔۔۔لحاظہ آئندہ اپنی حد میں رہنا۔۔۔”
شانزے کو لہو رنگ نظروں سے گھور کر وہ اسکے تھپڑ مارنے پر وارننگ دیا تھا،اپنی بات پوری کرنے کے بعد پیام بیڈ سے رپورٹ اٹھاتا نکلا تھا روم سے،جاتے ہوئے گیٹ وہ جس زور سے بند کیا تھا دھاڑ کی آواز پر شانزے کا دل اچھل کر حلق پر آیا،اسکے جانے کے بعد شانزے بیڈ پر بیٹھتی ہچکیوں سے رونے لگی،یہ کیا کر بیٹھی تھی وہ،غصہ تک ٹھیک تھا پر ہاتھ کیسے اٹھاسکتی تھی وہ پیام پر،لیکن آچانک ہی حمنہ کی کہی باتیں اور وہ رپورٹ ذہن میں آئی تو چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ بآواز رونے لگی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیر رات کو وہ اپنے فلیٹ پر پہنچی تھی،یاور کے کہے گئے کام کے بعد اسے پیسے بھی لینے تھے یاور سے،وہ یہ کام نہ کرتی پر پیسوں کی کمی تھی آج کل اسے جس کی بدولت یاور نے اسے جو آفر کی وہ مان گئی،ابھی اندر داخل ہوکر وہ گیٹ بند کرتی مڑی تھی کہ اچانک چکراکر رہ گئی،پورے فلیٹ کا حشر بہت برا ہورہا تھا،دیوار پر نسب تصاویر،ایل ای ڈی حتیٰ کہ ٹیبل تک نیچے گر کر ٹوٹی ہوئی تھی،اور صوفے پر وہ عادتاً پشت پر ہاتھ پھیلائے ٹانگیں ایک کے اوپر ایک کر کے پرسکون سا بیٹھا تھا،براؤن آنکھیں تمسخر سے مقابل کھڑی حمنہ کا بےیقین چہرہ دیکھ رہی تھیں،اپنے فلیٹ کا یہ حشر دیکھ اسکی جان نکلنے کو ہوئی تھی،
“کون ہو تم۔۔۔؟”
مقابل کی زیرک آنکھوں میں برف سے ٹھنڈے تاثر کو دیکھ وہ خوف سے پوچھی تھی،
“ارے۔۔۔مجھے نہیں پہچانا۔۔۔چلو کوئی نہیں۔۔۔میں بتاتا ہوں۔۔۔”
حظ اٹھاتی نظروں سے اسے دیکھتا وہ کھڑا ہوا،پھر قدم بہ قدم حمنہ کے پاس آتا بولنے لگا،
“میں وہ ہوں۔۔۔جس سے پنگا لے کر تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔”
اسکے پاس آکر اپنی بات پوری کرنے کے ساتھ ہی پیام مرتضیٰ نے حمنہ کے سامنے وہ رپورٹ لہرائی جو شانزے کو اس نے دی تھی،
“پ۔۔پیام مرتضیٰ۔۔۔”
یاور نے اسے صرف شانزے کو دکھایا تھا راستے میں،پیام کو کبھی دیکھی ہی نہیں تھی وہ البتہ اس نے یاور سے نام سنا تھا پیام مرتضیٰ کا،
“کتنے پیسے ملے ہیں تمہیں اس ڈرامے کے اور کس نے دیے ہیں۔۔۔”
پیام کی بھاری آواز پر وہ سوچوں سے نکل کر اسکی جانب متوجہ ہوئی،پھر جلدی سے پیسوں کا سوچ کر بولنے لگی،
“مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا کرنے کو۔۔۔۔میں۔۔۔میں نے جو بھی کہا سچ ہی ہے۔۔۔وہ اتنے دنوں بعد تمہیں دیکھا تو پہچانی نہیں۔۔۔”
اسے بونگا سا جواب دیتی وہ ماتھے پر آیا پسینہ ٹشو سے صاف کرنے لگی،پیام مرتضیٰ ہنسنے لگا تھا حمنہ کی بات پر،جیب پر ہاتھ ڈالے قدم پلٹتا وہ صوفے کے پاس گیا،
“میں جانتا تھا کہ اتنی جلدی منہ نہیں کھولنے والی تم۔۔۔تبھی۔۔۔”
اپنی بات روکتا وہ صوفے سے شیشے کی بوتل اٹھا کر نیچے گری ہوئی ٹیبل پر پھرتی سے توڑا،حمنہ گھبراکر بےساختہ چند قدم پیچھے ہٹی،پیام کے وجیہہ چہرے پر خطرناک تاثرات اسے خوفزدہ کرگئے،
“یہ۔۔یہ کی۔۔کیا کررہے ہو۔۔۔دد۔۔۔دیکھو۔۔۔ا۔۔اسے نیچے۔۔۔رکھو۔۔۔”
اسکے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی کانچ کی بوتل دیکھ حمنہ ہکلاتے بولی،
“سچ بکو۔۔۔”
اپنے قدم اسکی طرف بڑھاتا وہ بوتل ہاتھ میں لہرائے کہا،
“دیکھو۔۔۔پیام مرتضیٰ۔۔۔م۔۔میں بتا۔۔بتارہی۔۔۔ہوں سچ۔۔۔پلی۔۔پلیز اسے رکھ دو۔۔۔”
وہ بوتل جب پیام اسکے چہرے کے قریب لایا تب ڈرکر حمنہ عاجزی سے بولی،
“فضول ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔۔جلدی بکو۔۔”
بھاری آواز اور بلند ہوئی جس پر ڈرتے ڈرتے حمنہ بتانے لگی،
“میری۔۔۔کسی سے۔۔کوئی دشمنی نہیں ہے۔۔۔مجھ۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت تھی۔۔۔تو یاور نے کہا تھا کہ۔۔۔اگر میں نے اسکا یہ کام کردیا تو وہ۔۔مجھے اچھے خاصے پیسے دے گا۔۔۔پلیز۔۔۔مجھے چھوڑ دو۔۔۔م۔۔میں آئندہ۔۔۔ایسا۔۔کچھ نہیں کروں گی۔۔۔”
کانچ جب اسکے چہرے پر ٹچ ہوا تب وہ روتے ہوئے اس سے فریاد کرنے لگی تھی،حمنہ کی بات ختم ہونے پر پیام کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،
“کمینہ۔۔۔”
یاور کو اور بھی القابات سے نوازتا وہ بوتل نیچے پھینک کر حمنہ کے برابر سے ہوتا باہر جانے لگا،جان بخشی پر سانس لیتی حمنہ ابھی آگے بڑھی کے بیچ میں ٹانگ آنے پر لڑکھڑاکر نیچے گری،ہاتھ سیدھا ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتل پر لگا جس سے اسکی دلخراش چیخ بلند ہوئی،جبکہ اس ہی کے پیچھے کھڑا پیام تمسخر زدہ نظروں سے اسے دیکھتا بڑبڑایا،
“اتنی سزا کافی ہے۔۔۔”
کافی گہرا کٹ لگنے کی وجہ سے خون تیزی سے اسکے ہاتھ سے نکلنے لگا تھا،بری طرح روتے وہ پیام مرتضیٰ کو اپنے فلیٹ سے نکلتا دیکھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
