422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 2)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

“ہے گرل۔۔۔لِسن۔۔”

صبح کالج میں الشبہ اپنی دوستوں کے ساتھ کینٹین میں انٹر ہوئی تبھی ایک نسوانی آواز پر وہ پلٹی،سامنے کالج کی سب سے مغرور لڑکی تحریم اپنی چند دوست کم چمچیوں کے ساتھ کھڑی اسی سے مخاطب تھی،

“ہاں تم ہی۔۔۔ادھر آؤ۔۔۔”

الشبہ کے دیکھنے پر اس نے اشارے سے اسے بلاتے ہوئے کہا،الشبہ کی دوستوں نے لاچاری سے اسے دیکھا جانتی تھیں اکثروبیشتر اس مغرور لڑکی کی عتاب کا نشانہ الشبہ ہی بنتی تھی،شروعات میں تو الشبہ اسکی ہر بات مانتی اس ڈر سے کہ وہ امیر باپ کی بیٹی ہے کہیں اسے نقصان نہ پہنچائے،پر آہستہ آہستہ الشبہ اس سے چڑنے لگی اور اب کبھی تو اسکے منہ پر کافی کچھ سنا بھی دیتی جس پر تحریم کی تن بدن میں آگ لگ جاتی،

“کیا ہے۔۔؟”

اسکے پاس آتے ہوئے الشبہ نے لٹھ مار لہجے میں پوچھا تب تحریم نے پہلے تو ایک آئیبرو اٹھائے حقارت سے الشبہ کو دیکھا جو کہ اورنج ٹاپ پر بلیک ٹائٹس پہنے ایک ہاتھ پر اپنا کالج بیگ لٹکاکر بالوں کو پونی میں مقید کیے بنا کسی میک اپ کے خوبصورتی میں اس سے ایک قدم آگے ہی لگ رہی تھی،الشبہ کی ناگوار نظریں بھی اس مغرور لڑکی پر ہی تھیں،جو پتا نہیں خود کو کتنی اونچی چیز سمجھتی تھی،

“یہ پکڑو پیسے۔۔۔میرے لیے جلدی سے کچھ لے کر آؤ۔۔۔۔اس کونے والی سیٹ پر بیٹھی ہوں۔۔۔زرا جلدی لانا مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہوتی۔۔۔”

نزاکت سے کہتی وہ الشبہ کو زہر سے بھی زیادہ کڑوی لگی،تحریم کی ایک دوست نے الشبہ کی طرف پیسے بڑھائے،

“اگر اتنی ہی بھوک لگی ہے تو خود لے آؤ۔۔۔”

ان پیسوں کو دیکھتے ہوئے الشبہ نے ناگواریت سے کہا،

“آجکل کچھ زیادہ ہی زبان نہیں چل رہی ہے تم جیسوں کی میرے سامنے۔۔۔۔جانتی نہیں ہو کیا۔۔۔کہ کون ہوں میں۔۔۔تحریم مرتضیٰ۔۔۔صغیر مرتضیٰ کی بیٹی۔۔۔”

اپنے کھلے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے تحریم نے لہجے میں دنیا بھر کی مغروریت سموئے کہا جس پر ہمیشہ کی طرح الشبہ نے آنکھیں گھمائیں،

“اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔پر بڑے باپ کی بیٹی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہم لوگوں کو یوں پریشان کرو۔۔۔اور اگر اتنا ہی گھمنڈ ہے اپنے پیسوں پر تو پیچھے کھڑی ان چمچیوں سے منگوائو۔۔۔”

ہنوز اکھڑے لہجے میں بول کر الشبہ اپنی دوستوں سمیت وہاں سے جانے لگی،جس پر تحریم نے دونوں ہاتھ بازوؤں پر باندھے،

“پتا نہیں تم جیسوں کو شہر کے نمبر ون کالج میں انٹری کیوں دیتے ہیں۔۔۔تم غریبوں کو تو دھکے مار کر نکالنا چاہیے یہاں سے۔۔۔”

اسکی پشت کو دیکھ کر تحریم نے ایک تحقیر بھرا تیر مارا،الشبہ کے قدم رکے تھے اسکے الفاظوں پر،

“ہم غریب اپنے بہترین مارکس سے آتے ہیں نمبر ون کالجز میں نہ کہ تم امیروں کی طرح پیسے پھینک کر یہ اعزاز حاصل کرتے ہیں۔۔۔”

مڑ کر اسی پر ایک طنزیہ مسکراہٹ سمیت کہتی الشبہ وہاں سے گئی تھی،جبکہ ایک بار پھر تحریم اس لڑکی کے آگے لاجواب ہونے پر کلس کر رہ گئی،

“ڈفر۔۔۔”

تپ کر حقارت سے وہ بآواز بولی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریسٹورنٹ کے لیے تیار ہوکر وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کررہی تھی،

“الشبہ جلدی نہیں چلی گئی آج؟”

بریڈ کا ایک سلائس منہ میں لیتے ہوئے شانزے نے جمیلہ بیگم سے پوچھا

“ہاں۔۔کہہ تو رہی تھی کہ آج تھوڑی لیٹ بھی آئے گی۔۔۔ایکسٹرا کلاسس ہیں۔۔”

اکبر صاحب کو چائے دے کر انہوں نے شانزے کے پاس آتے کہا

“اچھی بات ہے۔۔۔پڑھائی میں دھیان دے۔۔۔اچھا امی۔۔۔جب وہ آئے گی تو اس سے کہہ دیجیے گا کہ تیار رہے۔۔۔اگر آج آئسکریم نہ کھلائی نہ اسے تو پکا ناراض ہوجائے گی۔۔۔”

کہتے ہوئے وہ خود بھی ہنس دی جبکہ جمیلہ بیگم مسکراکر اپنی بڑی بیٹی کو دیکھنے لگیں جو ہر اپنی بہن کو خوش رکھنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتی،

“ٹھیک امی۔۔۔ابو چلتی ہوں میں۔۔۔”

ناشتہ ختم کرنے کے بعد وہ اٹھ کر اکبر صاحب کے پاس آتے ہوئے بولی ساتھ ہی انکے گلے میں ہمیشہ کی طرح بازو حائل کرگئی،

“میری پیاری بیٹی۔۔۔”

اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے اکبر صاحب نے پیار سے کہا جس پر مسکراتے ہوئے شانزے جمیلہ بیگم سے بھی یونہی مل کر گھر سے نکلی،

“اللہ میری دونوں بیٹیوں کو اپنے امان میں رکھے۔۔۔”

اسکے جانے کے بعد جمیلہ بیگم نے فکرمندی سے دعا مانگی جس پر اکبر صاحب ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھے،

“اتنی فکر نہ کیا کریں بیگم۔۔۔میری بیٹیاں بہت بہادر ہیں۔۔۔اب میں بھی چلتا ہوں۔۔۔ہممم۔۔”

خوش اسلوبی سے کہتے وہ بھی آفس کے لیے نکلے تھے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یار پیام آج رات بھی پلین کرتے ہیں۔۔۔۔بہت مزہ آئے گا۔۔۔”

یاور نے کار ڈرائیو کرتے پیام سے کہا

“ایک بات سُن تُو کس مزے کی بات کررہا ہے۔۔۔”

پیچھے بیٹھے عبید نے آگے ہوکر یاور سے پوچھا،

“ارے کمینے انجان مت بن۔۔۔میں اس مزے کی بات کررہا ہوں۔۔۔جو پیسے پھینک کر ایک رات کے لیے ملتا۔۔۔”

خباثت سے کہتا وہ قہقہہ لگا کر ہنسا،جبکہ عبید نے حیرت سے اسے دیکھا

“ابے او۔۔۔سگریٹ،ڈرنک اور پارٹی تک تو ٹھیک تھا۔۔۔اب یہ سب کب سے کرنے لگا تُو۔۔۔اور اس ٹائم کے مزے بھائی تجھے ہی مبارک۔۔۔”

غصے سے بول کر عبید واپس سیٹ سے ٹیک لگا گیا،

“تُو تو چپ ہی کر۔۔۔ارے یہ مزے تو مرد کرتے ہیں تجھ جیسے ڈرپوک بونگے نہیں۔۔۔”

عبید کے ناگواری سے بولنے پر یاور کو سبکی محسوس ہوئی تبھی تپ کر وہ پیچھے دیکھتے ہوئے بولا،

“کچھ ارینج کیا ہے۔۔۔؟”

جب سے خاموش پیام نے اچانک بولا جس پر یاور تو خوشی سے اسے دیکھا پر عبید اور چڑا،

“پیام یار تُو اس کی باتوں میں مت آ۔۔۔۔گرلفرینڈ تک بات محدود ہوتی ہے۔۔۔پر یہ سب نہیں کر۔۔۔”

بمشکل لہجے میں جھنجھلاہٹ چھپاتے ہوئے عبید نے اسے سمجھانا چاہا

“ارینج ہے مال۔۔۔تبھی تو پوچھ رہا ہوں تجھ سے۔۔۔”

یاور نے بھی کمینگی سے کہا تو پیام کے عنابی لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،

“چلو۔۔۔دیکھتے ہیں یہ مزہ کیسا ہوتا ہے۔۔۔”

عبید کے سمجھانے کو مکمل اگنور کیے پیام نے کہا،

“پیام بات سمجھنے کی کوشش کر یار۔۔۔”

یاور کو گھورتے ہوئے عبید نے ایک آخری کوشش کے تحت کہا،اب پیام نے بیک ویوو مرر سے اسے گھورا تھا اور بس یہی لمحہ تھا جب سامنے سے آتے رکشے سے پیام مرتضیٰ کی کار ٹکرائی،

دوسری طرف شانزے جو رکشے میں بیٹھی تھی اچانک بوکھلائی اس حملے پر،وہ تو شکر تھا وقت پر رکشے والے نے رکشہ روک دیا ورنہ بہت برا حادثہ پیش آتا،

“What the….,”

لب بھینچ کر بولتا پیام غصے میں کار سے نکلتا ہوا سامنے آیا اور رکشے کے باہر نکلنے والے بوڑھے آدمی کا گریبان جھٹکے سے پکڑلیا،

“دیکھ کر نہیں چلا سکتا تھا کیا۔۔۔”

سخت لہجے میں کہتے ہوئے اس کی آنکھیں پل میں سرخ ہوئی تھیں،

“بیٹا آپ ہی بےدھیانی میں چلارہے تھے۔۔۔میں نے تو۔۔”

“بکواس بند رکھ۔۔۔بیٹا نہیں ہوں میں تیرا۔۔۔اور تُو ہوتا کون ہے یہ بتانے والا کہ میری غلطی ہے۔۔۔”

بوڑھے آدمی نے عاجزی سے کہنا چاہا پر پیام اسکا کالر جھٹکتے ہوئے اور بد لحاظی سے بولا

“او مسٹر۔۔۔تمیز سے۔۔۔”

شانزے نے رکشے سے اترنے پر سامنے منظر دیکھا تو ترخ کر بولتی وہ سامنے آئی،نسوانی آواز پر پیام مرتضیٰ نے اس بوڑھے آدمی کے برابر میں دیکھا،کسی یونیفارم میں بالوں کی چوٹی بنائے وی شیپ میں ڈوپٹہ اوڑھے وہ سرخ و سفید دھان پان سی لڑکی اسے ہی دیکھ رہی تھی،اس لڑکی ڈریسنگ سے ہی وہ اسے کوئی مڈل کلاس لگی تھی،

“آئندہ سامنے آیا نا تو تیرا نقشہ بگاڑ دونگا۔۔۔”

اسے ایک نظر دیکھ کر پیام پھر کرخت لہجے میں رکشے والے سے مخاطب ہوا،

“لہجہ درست کرو اپنا۔۔۔۔بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی کیا کسی نے۔۔۔”

اسکے لہجے پر ناگواری ظاہر کرتے شانزے نے پھر نڈر بن کر کہا،پیام جو اس لڑکی کو اگنور کیے اپنی بات کہہ کر جانے لگا تھا واپس مڑا،

“یُو۔۔۔نہیں سکھائی کسی نے تمیز پھر۔۔۔”

روکھے پھیکے لہجے میں بول کر پیام کار کی بونٹ سے ٹیک لگائے اسے ناقدرانہ نظروں سے دیکھنے لگا،شانزے کو وہ کوئی نہایت ہی بگڑا ہوا امیرزادہ لگا،

“یہ جو تم امیر زادوں کے ہاتھ میں پیسہ آتا ہے نا۔۔۔یہی تم لوگوں کے اندر سے بڑوں کا عزت و احترام نکال کر غرور کے دلدل میں پھینک دیتا ہے۔۔۔۔کسی کو غریب سمجھ کر اس سے بدتمیزی کرنے سے پہلے یہ سوچ لیا کرو کہ وقت پلٹتے دیر نہیں لگتی۔۔۔۔یہ پیسہ ہاتھوں کی دھول ہوتا ہے۔۔۔”

شانزے کی بات مکمل ہونے پر پیام نے ایک لمبی جمائی لی،اسکی اس حرکت پر جہاں یاور ہنسا تھا وہیں عبید بھی کار سے باہر نکلتے ہوئے مسکراہٹ دباگیا،

“اے سنو۔۔۔یہ اپنا بیان جاکر کسی مجموعہ میں سناؤ تو چند پیسے بھی کمالوگی۔۔۔فلحال میرا ٹائم ویسٹ مت کرو۔۔۔”

اپنی جیکٹ جھٹک کر پیام نے کہا،رات بھر جاگنے سے اب اسے نیند آنے لگی تھی،اوپر سے سامنے کھڑی لڑکی کی تقریر پر اسے اور کوفت محسوس ہوئی،اسے کہتا وہ کار کا گیٹ کھولنے لگا،

“چھچھورے کہیں کے۔۔۔”

اسکی بات پر اور یاور کے خود کو حوس بھری نظروں سے گھورنے پر شانزے درشتگی سے بلند آواز میں بولی تھی،

“اے لڑکی۔۔۔چھچھورہ کس کو بولا۔۔۔”

جھٹکے سے پلٹ کر شانزے کے قریب آتے ہوئے وہ سخت لہجے میں استفسار کرنے لگا،شانزے کی بات پر اسکی بری طرح ہٹی تھی،بقول پیام کے اس مڈل کلاس لڑکی کا کیا حق بنتا تھا یہ بکواس کرنے کا،

“تمہیں اور تمہارے “چھچھورے” دوستوں کو۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں بےخوفی سے دیکھتے ہوئے شانزے نے کہا تو بےساختہ پیام اسکا بازو دبوچ گیا،وہ جو اب تک بےخوف وخطر اس سے مخاطب تھی،پیام کی اس حرکت پر بوکھلائی،

“تم جیسی لڑکیاں جو اپنی زبان کو اوقات سے زیادہ یُوز کرتی ہیں بعد میں بہت پچھتاتی ہیں۔۔۔۔اسے میری پہلی اور آخری وارننگ سمجھ لینا۔۔۔”

اسکی مضبوط گرفت سے مسلسل اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کیے شانزے کی آنکھیں بھیگنے لگیں،

“پیام چھوڑ دے یار۔۔۔”

عبید نے آگے بڑھتے ہوئے کہا،وہ جانتا تھا کہ پیام کو غصے میں کچھ صحیح غلط کی تمیز نہیں رہتی تھی پر پھر بھی جب ماحول عجیب لگنے لگا تو وہ ٹوک گیا،اسکے بولنے پر پیام شانزے کا بازو جھٹک کر واپس مڑا تھا،

عبید کا فون رنگ کرنے لگا تو اس نے کار میں بیٹھتے ہوئے کال ریسیو کی،

“عبید میں ہالف لیوو پر کالج سے نکلی یہاں دھوپ میں جب سے تمہارا ویٹ کررہی ہوں۔۔۔اور تم ہے کہ کوئی خیر خبر ہی نہیں۔۔۔”

اسکے کال ریسیو کرتے ہی الشبہ شروع ہوچکی تھی،عبید جو پیام کی بحث ہونے پر بھول چکا تھا اچانک زبان دانت تلے دبائی،

“شِٹ۔۔۔سو سوری الشبہ۔۔۔یار دراصل پیام کا تھوڑا جھگڑا ہوگیا تھا ورنہ میں وہی آتا۔۔۔۔ویٹ کرو بس دس منٹ میں پہنچتا ہوں۔۔۔”

نرم لہجے میں بولتے ہوئے عبید نے ایک نظر پیام کو دیکھا جو کار میں بیٹھ ہی رہا تھا،

“ایک تو تمہارا یہ دوست ہر کسی سے لڑتا ہی رہتا ہے۔۔۔فوراً پہنچو۔۔۔ورنہ میں گھر جارہی ہوں۔۔۔”

منہ بناتے ہوئے کہہ کر الشبہ نے کال کاٹ دی،

کار میں بیٹھنے سے پہلے پیام ایک ناگواریت بھری نظر اس پر ڈالنا نہ بھولا تھا،دوسری طرف شانزے بازو کو سہلائے بھیگی آنکھوں میں غصہ لیے کار میں بیٹھے پیام کو گھوری،

اسکے بلکل برابر میں تیزی سے کار لے جانے پر شانزے گھبراکر چند قدم پیچھے ہٹی،واپس پیام کی کار کو دیکھا تو وہ شیشے سے ہاتھ باہر نکالے وکٹری کا نشان یقیناً اسے ہی دِکھا رہا تھا،

“یار آگے جو گرلز کالج آرہا ہے۔۔۔مجھے وہی اتار دے۔۔۔”

کچھ دیر کار میں خاموشی رہنے کے بعد عبید نے پیام سے کہا،

“ویسے لڑکی تھی بڑی کمال کی۔۔۔۔میرے تو منہ میں ہی پانی آگیا تھا اسے دیکھ کر۔۔۔”

ایک بار پھر یاور اپنی ٹون میں بولا تھا،اسکی آنکھوں میں اب تک شانزے کا خوبصورت چہرہ گھوم رہا تھا،

“کمال نہیں (چما۔۔۔۔) تھی۔۔۔۔مجھے چھچھورا کہا اس نے۔۔۔۔پیام مرتضیٰ کو۔۔۔(گالی)۔۔۔”

شانزے کی باتیں اب تک پیام کا خون کھولا رہی تھیں۔۔۔۔تبھی کنٹرول نہ ہونے پر اس نے زور سے ڈیش بورڈ پر ہاتھ مارا،آنکھیں اب تک سرخ ہورہی تھیں،

“ریلیکس ہوجا۔۔۔”

عبید اسکے غصے کو مدنظر رکھتے ہوئے آرام سے بولا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو کام ختم ہونے تک اسکا موڈ تھوڑا ڈل ہی رہا سویرہ کے پوچھنے پر شانزے نے بات ٹال دی،آج بھی شادل باہر نکلنے پر سامنے کھڑا تھا پر شانزے نے اس سے زیادہ بات نہیں کی،وجہ اس نے بتادی تھی کہ آج اسکی ایک دوست اور الشبہ سمیت وہ لوگ آئسکریم کھانے جارہی تھیں جس پر شادل نے ان لوگوں کو خود لے جانے کی آفر کی پر شانزے سہولت سے انکار کر گئی،شادل کے جانے کے بعد شانزے سویرہ کے ساتھ گھر پہنچی پھر وہاں سے الشبہ کو پک کیے اب وہ تینوں ٹیکسی میں بیٹھیں آئسکریم پارلر جارہی تھیں،

“ایک منٹ رکو بھائی”

کچھ یاد آنے پر سویرہ نے خاموشی توڑتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا،پھر ٹیکسی رکنے پر شانزے اور الشبہ کی سوالیہ نظریں دیکھ کر جلدی سے بولی،

“ابے یار۔۔۔میری ایک دوست ہے اسے بھی لینا ہے۔۔۔”

سویرہ کی بات پر شانزے حیران ہوئی،

“یہ کونسی دوست ہے اب تمہاری۔۔۔”

شانزے نے کوفت سے پوچھا کیونکہ صبح کے واقعے کے زیرِ اثر اسکا ابھی بلکل موڈ نہیں تھا کہیں اور بھی جانے کا،

“یار یہی قریبی ایک ہوٹل میں رہتی ہے۔۔۔۔بس اسے بھی لے لیں پھر چلتے ہیں۔۔۔”

اب سویرہ جس قدر نرم لہجے میں بولی شانزے کو اسکی بات ماننی پڑی،پھر کچھ دور جاکر ایک بڑے سے ہوٹل کے سامنے ٹیکسی رکوا کر سویرہ شانزے سے مخاطب ہوئی،

“جاؤ نا شانزے۔۔۔۔تم اسے لے آؤ۔۔۔”

سویرہ کی بولنے کی دیر تھی کہ شانزے جو ٹیک لگائے بیٹھی تھی اچانک سیدھی ہوئی،

“پاگل ہوگئی ہو کیا سویرہ۔۔۔میں کیسے جاؤں۔۔دوست تمہاری ہے۔۔۔اور ویسے بھی مجھے تو کچھ پتا بھی نہیں۔۔۔”

وہ بوکھلا کر جلدی جلدی کہنے لگی،

“آپی صحیح کہہ رہی ہیں سویرہ آپی۔۔۔آپ چلے جاؤ۔۔۔”

الشبہ نے بھی شانزے کی تائید کی،

“یار چلی جاؤ۔۔۔دوست کی ایک بات نہیں مانتی۔۔۔اور کیسے لانا ہے میں تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔بس اندر جاؤ اور فرسٹ فلور کے روم نمبر سیون پر پہنچ کر نوک کرنا۔۔۔جب تک میں اسے کال کردوں۔۔۔”

اپنی دھن میں بول کر سویرہ اب موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگی،

“سویرہ میں کیسے۔۔۔۔”

“پلیییز شانزے۔۔۔”

انتہائی نرم لہجے میں اب سویرہ نے فورس کیا تو وہ پہلے لاچارگی سے اپنی دوست کو دیکھنے لگی پھر ایک نظر الشبہ کو دیکھ لب بھینچتے ہوئے ٹیکسی سے اتری،سامنے بڑی سی بلڈنگ کو دیکھتے ہوئے شانزے نے قدم بڑھائے،پر اندر داخل ہونے سے پہلے اسے ایک بات ٹھٹھکاگئی کہ ہوٹل کے باہر پولیس موبائل کیوں کھڑی تھی،اپنی سوچوں کو جھٹک کر وہ جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آج رات دیکھیں کیسے خوش کرتی ہوں میں آپ کو صاحب۔۔۔”

نسوانی مگر بہکی ہوئی آواز میں بولتی وہ لڑکی بیڈ پر پیر پھیلائے بیٹھے پیام کو دیکھ کر ایک ادا سے مسکرائی،

عبید کے لاکھ منہ کرنے کے باوجود وہ یاور کے کہنے پر اس ہوٹل میں آج آیا تھا،یہاں سیکنڈ فلور پر تقریباً سارے ہی روم میں روز یہ شرم ناک کام ہوتا تھا،تنگ سے کپڑوں میں روم کا گیٹ بند کرتی اس بولڈ لڑکی کی بات سن کر پیام استہزایہ انداز میں مسکرایا،

“یہ سویرہ بھی نا۔۔۔بلکل پاگل ہے۔۔۔میں کیسے پہچانوں گی کون ہے اسکی دوست۔۔۔”

پریشانی میں اور بھی باتیں بڑبڑاتے ہوئے شانزے سیڑھیاں عبور کر رہی تھی،بےدھیانی میں مسلسل بولتی اسے ہوش ہی نہ رہا اور اب وہ فرسٹ کی جگہ سیکنڈ فلور پر کھڑی تھی،

“یہی فلور تھا نا۔۔۔یا نہیں۔۔۔کہیں میں زیادہ اوپر تو نہیں۔۔۔”

اسکے قدم رکے تھے گانے کی ہلکی آواز پر سامنے نظر دوڑانے پر اسے لائن سے کئی بند رومز دکھے،وہ کنفیوز ہوتے ہوئے خود سے مخاطب ہوئی،

“دیکھ لیتی ہوں۔۔۔شاید یہی فلور ہے۔۔۔”

ماتھے پر ہاتھ مار کر شانزے نے اب سیدھا چلنا شروع کیا،چھ روم چھوڑ کر وہ اب ساتھویں روم کے باہر کھڑی گیٹ کو گھور رہی تھی،پھر گہرا سانس بھرتے ہوئے اس نے گیٹ ناک کیا،

اندر کھڑی وہ لڑکی جو مسکراتے ہوئے پیام کے اوپر جھکنے لگی تھی،دروازہ بجنے پر وہ چونک کر اٹھی،پیام کی ماتھے پر بھی ہلکے سے شکن پڑے تھے اس ڈسٹربنس پر،

کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے پر شانزے کو جو دِکھا بےساختہ اسکا منہ حیرت سے کھلا تھا،سامنے انتہائی تنگ کپڑوں میں ایک لڑکی سوالیہ نظروں سمیت کھڑی تھی جبکہ دروازہ مکمل کھلے ہونے کی وجہ سے اندر کوئی اسے بیٹھا بھی دکھا تھا،وہ شخص،ہاں وہ وہی امیرزادہ تھا جس سے صبح اسکی بحث ہوئی تھی،

“کون ہے۔۔؟جلدی دفعہ کرو نا۔۔۔”

بےزاریت سے کہتے ہوئے پیام نے تھوڑا آگے ہوکر دیکھنا چاہا پر سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ اسکی آنکھوں میں ایک بار پھر ناگواریت چھائی تھی،

“یُو۔۔”

دانت پیستے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھا تھا پر اچانک فلور میں شور برپا ہونے پر پیام سمیت شانزے اور وہ لڑکی بھی چونکی،

“پولیس۔۔۔پولیس۔۔”

کسی کے چیخ کر بولنے پر وہ لڑکی جو اب تک پیام اور شانزے کو ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی گھبراہٹ کا شکار ہوئی،اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھتا وہ لڑکی شانزے کو سائیڈ میں دھکیل کر روم سے بھاگی،اور صرف وہی نہیں اس فلور پر ہر کوئی اپنے روم سے نکلتا بھاگ رہا تھا،شانزے نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر مڑ کو پیام کو جس کی ناپسندیدہ سرد نظریں اب تک شانزے پر تھیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔