Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 5)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 5)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
“کیا عبید ہمیشہ دیر کردیتے ہو۔۔؟”
الشبہ جو کالج کے لیے گھر سے نکلی تھی،پر کالج سے کچھ دور ایک پارک میں کھڑی عبید کا جب سے ویٹ کررہی تھی،اور اب اسکے آنے پر وہ منہ پھلائے بولی،
“اچھا سوری بابا۔۔۔آج کل کچھ مصروفیت کے چکر میں دیر ہوجاتی ہے مجھے۔۔۔”
الشبہ کے پھلے منہ کو دیکھ عبید مسکراکر کہنے لگا ساتھ ہی اسکے لیے کار کا گیٹ کھولا،
“الشبہ دراصل آج میں تمہارے ساتھ زیادہ ٹائم اسپینڈ نہیں کرپاؤں گا۔۔۔۔پیام نے آدھے گھنٹے کے بعد ایک ضروری کام سے بلایا ہے مجھے۔۔۔”
الشبہ کو کار میں بٹھانے کے بعد وہ اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہی گویا ہوا،
“یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ایک تو تمہارا یہ دوست بلکہ مجھے تو لگتا ہے وہ تمہارا مالک ہے۔۔۔۔جو کہتا ہے وہی کرتے ہو۔۔۔میں نے کہہ دیا آج تم اسکی بات نہیں ماننے والے۔۔۔ارے بھئی میں نے کالج بنک کیا تمہارے لیے اور تم ہو کہ۔۔۔”
“الشبہ سٹاپ اِٹ یار۔۔۔دوست ہے وہ میرا۔۔۔”
عبید کی بات سن کر الشبہ جو غصے میں نان سٹاپ شروع ہوچکی تھی اچانک عبید کے سنجیدگی سے ٹوکنے پر چپ ہوئی،
“اور میں کون ہوں تمہاری۔۔؟”
اب وہ استہفامیہ نظروں سے اسے گھورتے ہوئے پوچھی،
“آوف کورس گرلفرینڈ۔۔۔”
بول کر عبید نے کار سٹارٹ کی،
“تو پھر۔۔۔”
“الشبہ پیام کو ضروری کام ہے تبھی اس نے۔۔۔”
“تم ایسا کرو۔۔۔مجھے یہی پر اتار دو۔۔۔ویسے بھی ابھی ٹائم ہے میں چلی جاتی ہوں کالج۔۔۔تم جاؤ اپنے دوست کے پاس۔۔۔”
عبید کے وضاحت دینے پر اسکی بات کاٹتے اس نے منہ بناکر کہا تو عبید لب بھینچا،پر الشبہ بےیقین تب ہوئی جب عبید نے کچھ لمحے کی ڈرائیو کے بعد سیدھا گاڑی کالج کے گیٹ پر روکی،
“جاؤ۔۔۔”
وہ جو اسکی حرکت پر ہکا بکا رہ گئی تھی اب عبید کی آواز پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی،
“جاؤ۔۔۔”
عبید نے تھوڑی بلند آواز میں کہا تو بےساختہ الشبہ کہ آنکھیں جھلملائیں،
“تم۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔بات مت کرنا مجھ سے کبھی۔۔۔”
گال پر پھسلے آنسو کو انگلیوں کے پوروں سے صاف کرتی وہ چٹخنے والے انداز میں بولتی کار سے اتری،اسکے جانے کے بعد عبید نے چند پل تک کالج کے گیٹ کو خاموش نظروں سے تکا تھا،کچھ سوچ کر وہ نفی میں سرہلاتا وہاں سے نکلا کیونکہ اب پیام کی کال اسکے نمبر پر آنی شروع ہوچکی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل شادل اسکے لاکھ منع کرنے کے باوجود زبردستی خود گھر چھوڑ کر گیا تھا،راستے بھر میں اس سے باتیں کرتی شانزے پیام کی دھمکی کو بلکل فراموش کر بیٹھی تھی،اور اب الشبہ کے کالج جانے کے بعد وہ بھی ریسٹورنٹ کے لیے گھر سے نکلی تھی،رکشے میں بیٹھی وہ بس ریسٹورنٹ پہنچنے ہی والی تھی کہ اچانک رکشے کے سامنے ایک کار آکر رکی تھی،شانزے جو حیرت سے سامنے کار کو دیکھ رہی تھی،اس میں سے نکلنے والی ہستی کو دیکھ اسکی حیرت ناگواریت میں بدلی،پیام۔۔۔۔،وہ اسی کی طرف آرہا تھا،شانزے بھی چہرے کے سپاٹ تاثرات سمیت رکشے سے اتری،
“لگتا ہے کل کی بےعزتی راس نہیں آئی۔۔۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی اسے قریب آتا دیکھ رہی تھی،آج وہ اسے ٹھیک ٹھاک ذلیل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی پر اسے جھٹکا لگا جب پیام نے آتے ساتھ اسے بنا کچھ کہے عادتاً شانزے کا نازک بازو اپنے مضبوط ہاتھ میں دبوچا،اور اسے کھنچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے لگا،یہ وہ کیا کررہا تھا،شانزے کا دماغ ایک دم ماؤف سا ہونے لگا پر جلد ہی خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے پیام سے بازو چھڑواتے ہوئے چیخنا چاہا،
“چھو۔۔۔”
باقی الفاظ مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ شانزے کے منہ پر سختی سے اپنا بھاری ہاتھ رکھ چکا تھا،اسے زبردستی کار میں ڈال کر وہ بھی اندر بیٹھا،
عبید جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا پیام کا ویٹ کررہا تھا اسے یوں شانزے کو زبردستی کار میں بٹھاتا دیکھ مکمل آنکھیں کھولا تھا،
“یہ کیا کررہا ہے۔۔۔”
وہ پیچھے مڑ کر خالی ذہن سے اس سے سوال کرنے لگا جو اپنی گرفت میں مچلتی شانزے کو قابو کرنے کی کوشش کررہا تھا،
“چپ کر کے کار چلا بعد میں بتاؤں گا۔۔۔۔آہ۔ہ۔۔”
شانزے کی بھرپور مزاحمت پر وہ اسے مضبوطی سے پکڑے عبید کو بولنے لگا تھا پر اچانک اسکے منہ پر جمے اپنے ہاتھ پر شانزے کے دانت کا تیز دباؤ محسوس کر کے وہ ہلکا سا کراہیا،
“ہیلپ۔۔۔!”
“کیا لڑکی ہے یار۔۔۔عجیب مصیبت۔۔!”
پیام کا ہاتھ سرکنے پر وہ جو شیشے کی طرف منہ کیے چیخنے لگی تھی ایک بار پھر اسکا منہ بند کرائے پیام جھنجھلا کر بولا،
“تُو کار چلا نا کمینے۔۔۔”
عبید کو خاموشی سے بیٹھا تماشہ دیکھ وہ دھاڑا،تبھی عبید اثبات میں سرہلاتا کار ڈرائیو کرنے لگا،
“کلوروفارم لگایا ہے نا رومال میں۔۔۔جلدی دے۔۔۔”
شانزے کے مستقل مزاحمت پر پیام جلدی سے عبید کو بولا،اور شانزے کے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے ایک ہاتھ میں پکڑا،
“یار۔۔۔وہ۔۔میں لانا۔۔۔بھول گیا۔۔۔”
راستے پر نظر مرکوز کیے عبید نے بھرپور پیام سے نظریں چرانے کی کوشش کرتے آہستگی سے کہا،دوسری طرف وہ پہلے ہی لگاتار اپنی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی اس لڑکی سے پریشان تھا اب عبید کی بات سن کر بےساختہ اسکا جی چاہا کہ شانزے سمیت عبید کا بھی منہ توڑ کر رکھ دے،
“ابےیار یہ عجیب مصیبت پال لی۔۔۔”
تنگ آکر وہ چیخا جبکہ شانزے اب مزاحمت کے طور پر اسکے سینے پر کبھی مکے برسارہی تھی تو کبھی اسکے کندھے اور بازو پر ناخنوں سے نوچنے لگی،شکر تھا کہ وہ جیکٹ پہنا تھا ورنہ ابھی تک پتا نہیں اس لڑکی کے ہاتھوں کتنا زخمی ہوچکا ہوتا،
“ڈیڈ کے فام ہاؤس چل۔۔۔”
کچھ دیر بعد وہ بولا،اب وہ کافی حد تک شانزے کو سنبھال چکا تھا،دوسری طرف شانزے بھی نڈھال ہوگئی تھی خود کو چھڑانے کی ناکام کوششیں کرتی،
فام ہاؤس پہنچ کر اس نے شانزے کو کار سے نکالا ہی تھا کہ وہ چیخنا شروع ہوگئی،
“چھوڑو مجھے تم بےشرم انسان۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے پکڑنے کی۔۔۔۔کوئی ہے۔۔۔بچاؤ۔۔۔”
بنارکے اس پر چیختی وہ ادھر ادھر دیکھ کر مدد مانگنے لگی تھی جہاں دور دور تک سناٹا تھا،اسکے مستقل چیخنے پر پیام اسکا ہاتھ پکڑے زبردستی اسے اندر لے جانے لگا،
عبید کو وہ وہی پر رکنے کا کہہ چکا تھا،اندر آکر وہ راہداری سے تیزی میں گزرتے ہوئے شانزے کو ایک کمرے میں لے آیا،اسکے تیز قدموں کے ساتھ شانزے بمشکل چلتی بلکہ گھسٹتی آرہی تھی،کمرے میں لاکر وہ جھٹکے سے شانزے کو چھوڑا تھا اور وہ سیدھا بیڈ پر گری،
“تم۔۔۔بدلحاظ۔۔۔بےغیرت۔۔۔بے حیا انسان۔۔۔سینس نام کی چیز ہے تم میں۔۔۔یوں بلا جواز یہ سب کرنے کا کیا مطلب۔۔۔آخر کیوں پیچھے پڑے ہو میرے۔۔۔”
بیڈ سے اٹھتی ہوئی وہ حلق کے بل چلاتے ہوئے بولی،جس پر کچھ دیر تک تو پیام اسے چہرہ بگاڑے دیکھتا رہا پھر ایک ہاتھ سے اپنے کان پر چٹکی بجائی،
شانزے جو سوالیہ نظروں سے اسے گھوررہی تھی اب اسکی عجیب حرکت کو حیرت سے دیکھنے لگی،
“ہاں۔۔۔صحیح کام کررہے ہیں۔۔۔”
دونوں کان میں باری باری چٹکی بجانے کے بعد وہ خوش ہوتا ہوا بولا،تو شانزے غصے میں اس انسان کو دیکھنے لگی،وہ اب شانزے کی ہی طرف متوجہ ہوا تھا،
“اوہ تو تم کیا پوچھ رہی تھی۔۔۔۔نہیں بلکہ چلا رہی تھی؟”
اپنی تصحیح کرنے کے ساتھ وہ بولتا طنزیہ مسکرایا،گہری مسکراہٹ ہونے کے باعث گال پر گڑھا بنا تھا،جو اسکی وجاہت کو ہمشہ کی طرح اور نمایاں کرگیا،
“میں نے پوچھا۔۔۔کہ مجھے یہاں کیوں لائے ہو تم۔۔۔”
اب وہ باقاعدہ چیختے ہوئے پیر پٹخی تھی،پیام نے ایک مرتبہ اپنا کان سہلایا،
“لڑکی آرام سے۔۔۔میرے پاس یہی دو کان ہیں۔۔۔جن سے صاف سن سکتا ہوں۔۔۔”
اسکی باتوں کو اگنور کرتا وہ شاید نہیں یقیناً اسے تپانے کے لیے یہ سب بول رہا تھا،
“ساتھ ہی ایک عدد دماغ بھی ہے تمہارے پاس جسے تم استعمال نہیں کرسکتے۔۔۔”
وہ بھی حاضر جوابی سے اپنا حساب چکتا کری تھی،پیام کی مسکراہٹ غائب ہوئی وہ بگڑے تاثرات سمیت شانزے کو دیکھنے لگا،
“بتاؤ نا کیوں لائے ہو تم مجھے یہاں۔۔۔”
پیام کی خاموشی پر وہ ایک مرتبہ پھر چیخی،
“پریشان نہیں ہو زیادہ تم۔۔۔بس ایک رات کے لیے لے کر آیا ہوں تمہیں۔۔۔”
وہ ریلیکس انداز میں بولتا صوفے پر ٹانگ پھیلا کر بیٹھا تھا،اسکی بات پر شانزے پھٹی آنکھوں سے پیام کو دیکھنے لگی،تو وہ اسے ایک رات کے لیے لایا تھا مطلب۔۔۔،
اور جو بات اسکے ذہن میں آئی تھی شانزے کی آنکھیں پل میں بھرائیں،وہ اسے سمجھتا کیا تھا،کیا وہ کوئی کھلونا ہے جسے وہ ایک رات کے لیے لے کر آیا تھا،
“تم بےمروت انسان اگر ایک رات کے لیے لانا تھا تو کسی اپنے ہی کلاس کی لڑکی کو لاتے نا۔۔۔”
صوفے کے پاس جاکر اسکے سر پر کھڑی وہ اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے چیخی،دو موتی ٹوٹ کر گال پر پھسلنے لگے،
“ایک سیکنڈ رکو زرا۔۔۔میں انہیں کیوں لاؤں۔۔۔”
وہ جو اب سکون سے سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے تھا اب شانزے کے چیخنے پر آنکھیں کھول کر اس سے ناسمجھی سے پوچھنے لگا،پیام کے سوال پر شانزے کے گال یکدم دہک اٹھے،اب وہ کیا بولتی،لاجواب ہوکر وہ صرف اسے نم آنکھوں سے گھور ہی سکی،
“کیا ہوا بتاؤ میں کیوں لاؤں انہیں۔۔۔”
شانزے کی گھوری کو نظرانداز کرتا وہ پھر پوچھا
“ظاہر سی بات ہے۔۔۔ایک ر۔۔۔را۔۔رات کے لیے ک۔۔کسی لڑک۔۔لڑکی کو کیوں لایا جا۔۔۔تا ہے۔۔۔”
ڈھکے چھپے لفظوں میں وہ اسے اپنے تہیے سے بتانے لگی،پیام کو لمحہ لگا تھا شانزے کی بات سمجھنے میں،اور اسکے تاثرات فوراً سے پہلے بدلے،
“ایک لگاؤں گا کان کے نیچے۔۔۔”
جھٹکے سے کھڑا ہوتا وہ بلند آواز میں درشتگی سے بولا،اسکے غضب ناک تیور دیکھ شانزے دو قدم پیچھے ہٹی،
“ایک رات کے لیے لانے کا کیا صرف وہی مطلب ہوتا ہے۔۔۔”
پیام کے سختی سے پوچھنے پر شانزے بوکھلائے تھی،
“کیا مطلب۔۔۔”
وہ جیسے اب بھی نہیں سمجھ پارہی تھی اسکی بات کا مطلب،
“مجھے بولتی ہو بےشرم۔۔۔اپنی سوچ دیکھی ہے کتنی نیگیٹیوو ہے۔۔۔ایک رات کا صرف وہی مطلب نہیں جو آپ میڈم سمجھتی ہیں۔۔۔”
اسے بھرپور شرمندہ کرنے کے لیے وہ ایسے الفاظوں کا انتخاب کررہا تھا جس میں کامیاب بھی ہوا کیونکہ شانزے کا چہرہ خفت سے سرخ ہونے لگا تھا،
“ایک رات کا مطلب کہ آج رات تم اسی کمرے میں سو۔۔۔کل میں خود تمہیں اس ریسٹورنٹ میں چھوڑ آؤں گا۔۔۔پھر سوچتی رہنا جو سوچنا ہے۔۔۔”
تفصیلاً اسے اپنی بات سمجھا کر پیام جیکٹ جھٹکتا وہاں سے جانے لگا،
“ارے پر رکو۔۔۔مجھے یہاں لایا کیوں ہے۔۔۔یہ تو بتاؤ۔۔۔”
اپنی خفت مٹاتی وہ آگے بڑھ کر جلدی سے پوچھی،
“یہ تمہاری سزا ہے چھوٹی سی۔۔۔کل رات مجھے ذلیل کرنے کی۔۔۔”
واپس اپنی ہی دھن میں اسے تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھ پیام بولا،پھر روم سے نکل گیا،شانزے کو بےساختہ پیام کی کل والی دھمکی یاد آئی،شادل کو چھوڑنے کے لیے وہ پیام کا پیسے دینا پھر جواباً اسکا پیام کو ذلیل کرنا،کھٹاک کی آواز کے ساتھ ہی وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی،سامنے دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا،
“رکو۔۔۔کھولو دروازہ۔۔۔کھولو۔۔۔بات سنو میری۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔”
بھاگتے ہوئے دروازے کے پاس کھڑے ہوکر وہ لگاتار دروازہ بجاتی چیخنے لگی،کافی دیر بعد بھی کوئی رسپانس نہ ملا تو شانزے غصے میں دو چار مکے دروازے پر مارتی نیچے بیٹھی،پر نقصان الٹا اسکا ہی ہوا،ہاتھ سُوج کر بلکل لال ہوگئے،اپنے ہاتھوں کو سہلاتی وہ رونے لگی،جب سے وہ انسان اس سے ملا تھا تب سے شانزے کی زندگی اجیرن ہو رکھی تھی،آخر کیا چاہتا تھا وہ اس سے،یہ بات سمجھنے سے شانزے خود بھی قاصر تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روم سے باہر نکل کر وہ عبید کے پاس آیا تھا،تبھی وہ پیام سے حیران کن لہجے میں پوچھا
“تُو کرنا کیا چاہ رہا ہے بھائی۔۔۔”
اسکے سوال پر پیام کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ پھیلی،
“یہ بات تو تُو اچھے سے جانتا ہوگا کہ ان مڈل کلاس طبقات میں ایک چیز کومن ہوتی ہے۔۔۔کہ جب انکی لڑکیاں ایک رات کے لیے بھی کہیں غائب ہوجاتی ہیں تو۔۔۔سوسائٹی انہیں کس نظر سے دیکھتی ہے۔۔۔یہاں تک کہ اگر انکی کسی سے منگنی ہو تو یہ بات جان کر وہ شخص بھی منگنی توڑ دیتا ہے جو پہلے انکی محبت کا دعویدار ہوتا ہے۔۔۔”
اتنی بات کہہ کر وہ دانتوں کو لبوں میں دباتا ہنسنے لگا تھا،عبید اب تک یونہی اسے دیکھ رہا تھا جیسے اسکے یہ سب کرنے کا مقصد جاننے کی کوشش کررہا ہو،اسکی آنکھوں میں سوال دیکھ پیام پھر بولا،
“یہ لڑکی وہی ہے جس سے بھائی شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔”
اور بس!۔۔۔۔عبید ہونقوں بنا پیام کو دیکھا گیا،اس پر سکتہ طاری ہوا تھا پیام کی پچھلی بات کا مطلب اچانک سمجھ میں آیا،دماغ ایک دم گھوما تھا اسکا،کوئی کیسے اپنے بھائی کی محبت اس سے دور کرسکتا تھا،اور وہ بھی اس طرح کہ وہ لڑکی پاک دامن ہوکر بھی بدکردار رہ جاتی،
“پیام۔۔۔تُو۔۔”
کافی دیر بعد بھی عبید کو سمجھ نہ آیا کہ مقابل کھڑے اپنے دوست کی شکل میں اس عجیب دماغ کے انسان کو کیا کہے،
“سبھی باتیں چھوڑ۔۔۔چل ایسا کر کہ تُو یہاں رُک میں رات کو آجاؤں گا۔۔۔”
پیام بول کر عبید کی کار کی طرف بڑھا،
“ایک منٹ رُک یار۔۔۔”
پیام کے کار کا گیٹ کھولتے ہی عبید جلدی سے بولتا اسکے قریب آیا،
“کیا۔۔۔”
“یار وہ۔۔۔دراصل۔۔ہاں۔۔الشبہ ناراض ہوگئی ہے مجھ سے تو اسے منانے کے لیے مجھے اسکے کالج جانا ہے تاکہ چھٹی ہونے پر۔۔۔”
“تو یہ سب تُو مجھے کیوں بتا رہا ہے۔۔۔”
عبید کی بات کاٹ کر وہ کوفت بھرے لہجے میں بولا
“یہ سب میں تجھے اس لیے بتارہا ہوں کیونکہ میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ تُو یہاں رک مجھے جانا ہے ابھی۔۔۔”
اپنی بات مکمل ہونے پر وہ پیام کے تاثرات دیکھ بتیسی نکالنے لگا،جبکہ پیام کا دل شدت سے اسکی جان لینے کا چاہا،
“میں۔۔۔اور اُس جنگلی بلی کے ساتھ کبھی نہیں۔۔۔ایسا کر کہ تُو جا۔۔۔میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔”
شانزے کا مسلسل خود پر مکے برسانا اور ناخنوں سے نوچنا یاد کر کے ہی پیام منہ بگاڑ کر بولا پھر کچھ سوچتے ہوئے عبید کو جانے کا کہا جس پر وہ سر ہلاتا کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکلا تھا،اسکے جانے کے بعد پیام نے وہی پر کھڑے موبائل جیب سے نکالا پھر یاور کا نمبر ڈائل کرنے لگا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
