Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 8)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 8)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
سکن اور ریڈ کنٹراس کے لہنگے میں مہارت سے کیے گئے میک اپ اور ہئیر اسٹائل پر وہ واقعی ایک حسین اپسرہ لگ رہی تھی،جمیلہ بیگم نے بھیگی نظروں سمیت اسکی نظر اتاری،
“امی بس کریں۔۔۔آپ بار بار آپی کو بھی رلارہی ہیں۔۔۔انکا میک اپ خراب ہو جائے گا۔۔۔”
ڈریسنگ روم میں بیٹھے ایک مرتبہ پھر شانزے کو بھی جمیلہ بیگم کے ساتھ روتا دیکھ اب الشبہ نے چِڑ کر کہا،
“لڑکی کوئی خراب نہیں ہوتا میک اپ۔۔۔میری بچی مجھے چھوڑ کر آج چلی جائے گی۔۔۔رونا نہیں آئے گا کیا۔۔۔”
الشبہ کی پشت پر چپت لگاتی وہ نم آنکھوں سے شانزے کو دیکھیں،
“میرے خدا۔۔۔امی آپی کسی دوسرے پلینٹ میں نہیں جارہی ہیں۔۔۔کچھ دور ہی تو انکا سسرال ہوگا۔۔۔۔آتے جاتے رہیں گی۔۔۔آپ تو ایسے بول رہی ہیں جیسے جائیں گی تو کبھی آئیں گی ہی نہیں۔۔۔”
انکے مستقل رونے پر تنگ آکر الشبہ نے پیر پٹختے ہوئے جھنجھلا کر کہا،
“تم نہیں جان پاؤ گی لڑکی۔۔۔ماں کا دکھ۔۔۔”
انہیں پھر رونا آرہا تھا،الشبہ کو وہاں کچھ بولنا بےکار ہی لگا تبھی سر جھٹکتے ہوئے باہر نکلی،شانزے کے جانے کا دکھ اسے بھی تھا پر جمیلہ بیگم کا بار بار رونا اسے پریشان کررہا تھا کہ کہیں انکی طبیعت نہ بگڑ جائے،
بارات آگئی کے شور پر الشبہ چونکی پھر جلدی سے پھولوں کی ٹرے اٹھائے انٹرنس پر باقی کزنوں کے ساتھ گئی،باراتیوں پر پھول پھینکتے ہوئے الشبہ کی نظریں شادل کو ڈھونڈ رہی تھیں جو اسے کہیں دکھا تو نہیں پر البتہ اسکی آئبرو بےساختہ ستائشی انداز میں اٹھیں تھی اندر انٹر ہوتے پیام کو دیکھ،آج تو وہ منگنی والی رات سے بھی کئی زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا،الشبہ کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ واقعی وہ وجاہت کا شاہکار تھا،
“یار یہ دلہے کا چھوٹا بھائی ہے نا۔۔۔”
اسکی ایک کزن نے ترسی نگاہوں سے پیام کو دیکھتے ہوئے الشبہ سے پوچھا جس پر الشبہ نے گردن گھوما کر دیکھا اس کزن سمیت اور بھی کتنی لڑکیاں پیام کو دیکھ کھسر پسر کررہی تھیں،وہ جس طرح پیام کو دیکھ آہیں بھرنے لگی تھیں الشبہ کی ہنسی چھوٹی تھی،کیونکہ یہ بات تو واضح تھی کہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی مغرور بھی تھا اور اسکی پرسنیلٹی کے دبدبے کی بدولت کسی لڑکی کی ہمت نہیں تھی کہ اس سے جاکر کوئی بات بھی کر سکتے کجہ کہ اپنے دل کی باتوں کا اظہار کرتیں،انکی حالت پر ہنستے الشبہ نے پیام کو پکار ہی لیا،وہ دکھانا چاہتی تھی اور کزنس کو کہ آخر کو اسی کے جیجو کا بھائی تھا وہ،تو جیسے وہ فرینک ہی تھی پیام سے،
“بھائی۔۔۔۔ہمارے دلہا بھائی کہاں ہے۔۔۔؟”
اسکے شرارتاً سوال پوچھنے پر جہاں سبھی کزنوں نے داد دینے والے انداز میں الشبہ کو دیکھا وہی پیام نے ایک نظر اس چھوٹی سی لڑکی کو ناگواریت سے دیکھا پھر بنا کچھ کہے آنکھیں گھماتا آگے چل دیا،اسے پہلے ہی اس چھوٹے سے ہال میں گھٹن ہونے لگی تھی،دل تو چاہ رہا تھا کہ نکل جائے فوراً پر مجبوری تھی اگر ایسا کرتا تو شادل ناراض ہوجاتا اس سے،تبھی ایک جگہ پر جاکر وہ عبید کو فون کرنے لگا،
پیام کے اگنور کرنے پر خفت سے الشبہ کا چہرہ سرخ پڑا تھا،جو کزنز کچھ دیر پہلے ستائشی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں اب وہی اسکا مذاق اڑاتی ادھر ادھر نکل گئیں،الشبہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں،
“دلہا بھائی کا بھائی تو بہت ہی مغرور ہے۔۔۔”
ایک کزن گزرتے ہوئے یہ بولی تھی،
“بھائی تو بھائی انکی بہن بھی ماشاءاللہ۔۔۔”
اب کی آتی آواز پر الشبہ نے سامنے نظر کی،یہ تو وہ منگنی والے دن ہی جان گئی تھی کہ تحریم ہی شادل کی بہن ہے،وہی مغرور لڑکی جو اس پر کالج میں حکم چلاتی تھی اب وہ اسکی رشتہ دار ہی بننی تھی،اور اسی بات پر الشبہ کو بہت چڑ محسوس ہوئی تھی،ابھی بھی انٹرنس پر آتے ہوئے تحریم کا ہال پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر چہرہ بگاڑنا اور نزاکت سے چلنا اسے بہت کھلا تھا،تحریم کے ہر انداز سے یہی شو ہورہا تھا کہ اسے ہر چیز بہت کراہیت آمیز لگ رہی تھی،الشبہ کو دیکھ کر اس نے ایک بار پھر حقارت سے نگاہ گھومائیں اور رابیہ بیگم کے پاس چلی گئی،انکا خود حال اپنے دونوں بیٹے اور بیٹی سے کم نہ تھا،البتہ منگنی کے بنسبت آج وہ تھوڑا خوش تھیں اور خوشی کی وجہ بھی تو تھی،صرف ایک مرتضیٰ صاحب ہی تھے جو دلی خوشی سے ہر کسی سے مل رہے تھے انکے اخلاق پر ہی تو اکبر صاحب اور جمیلہ بیگم کو آس تھی بہت،
عبید کے آنے کے بعد الشبہ نے اس سے زیادہ باتیں نہیں کی ایک تو جمیلہ بیگم اور رشتے داروں کے سامنے ہونے سے وہ تھوڑا ڈری تھی اور دوسرا آج کام بھی اسے بہت تھا،نکاح کا وقت آیا تو سبھی شادل کا انتظار کرنے لگے،
اکبر صاحب کے پوچھنے پر مرتضیٰ صاحب نے بتایا تھا کہ شادل کچھ ہی دیر میں پہنچنے والا ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے تیار ہونے میں پہلے ہی دیر ہوگئی تھی،مزید دیری نہ کرتے وہ ڈرائیور کو کار کی سپیڈ بڑھانے کا کہا تھا،آج وہ بہت خوش تھا جسے چاہا آخر کار وہ آج اسکی محرم بن جائے گی،اور کیا چاہیے تھا شادل مرتضیٰ کو،وہ آج جتنا رب سے شکر گزار ہوتا اتنا ہی کم تھا،دل بےتاب تھا اپنے محبوب کو دیکھنے کے لیے،منگنی میں وہ کتنی حسین لگی تھی اسے،آج تو دلہن کا روپ چڑھا ہوگا اس پر،وہ کیسی لگ رہی ہوگی،یہ سوچتے ہوئے وہ کار کی پچھلی سیٹ سے ٹیک لگاگیا،پر تبھی کار رکی،
“کیا ہوا داد بخش۔۔۔”
تشویش بھرے لہجے میں اپنے ڈرائیور سے وہ پوچھا تھا،لہجہ ہمیشہ کی طرح نرم تھا،
“سر روڈ پر کسی نے بلاکس رکھ دیے ہیں۔۔۔ہٹانے پڑیں گے۔۔۔”
داد بخش کے بولنے پر وہ اثبات میں سر ہلایا تھا پھر اسکے کار سے نکل کر بلاکس ہٹاتے دیکھ شادل بھی کار سے اتر کر گیٹ سے ٹیک لگائے آسمان کو دیکھنے لگا،پورے دن کی طرح اب بھی ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا ہوا تھا،شانزے ایک مرتبہ پھر خیالوں میں آئی تو وہ نفی میں سرہلاتا اپنی بےلگام ہوتی سوچوں پر ہلکے سے ہنس دیا پر تبھی اچانک شادل کا دماغ سُن سا ہوکر رہ گیا جب ایک کاری ضرب پیچھے سے اسکے سر پر لگی،اسکے کراہنے سے پہلے ہی کوئی کالا رنگ کپڑا اسکے منہ پر ڈالے بےدردی سے اسے کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گیا،شادل دیکھنا چاہتا تھا مقابل کو پر ایک تو کپڑے سے منہ ڈھکا تھا اوپر سے اس میں سے اٹھتی سمیل سے شادل مرتضیٰ پر غنودگی طاری ہونے لگی،بےہوش ہونے سے پہلے اسکی آنکھوں میں آخری چہرہ اس پری وش کا آیا تھا اور سر میں اٹھتی ٹیسوں کے باوجود شادل کے لب آہستگی سے مسکراہٹ میں ڈھلے،
“سر جی ہوگیا۔۔۔”
داد بخش ہاتھ جھاڑتا پیچھے مڑکر بولنے لگا تھا پر اسے حیرت کا جھٹکا لگا وہاں شادل کو نہ پاکر،
“شادل سر۔۔۔”
تیزی سے بھاگ کر وہ گاڑی میں جھانکا شادل اندر بھی نہیں تھا،پریشانی میں سر پکڑتا داد بخش جلدی سے فون نکال کر شادل کا نمبر ڈائل کرنے لگا پر نمبر بند جانے پر وہ اور گھبرایا،اب اس نے مرتضیٰ صاحب کا نمبر ڈائل کیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مرتضیٰ صاحب وقت گزرا جارہا ہے۔۔۔”
اکبر صاحب نے دھیمے لہجے میں مرتضیٰ صاحب سے کہا پر وہ خود بھی پریشان تھے انہیں کیا جواب دیتے،جب سے شادل کا نمبر ڈائل کررہے تھے وہ پر نمبر ہی بند جارہا تھا،دوسری طرف شادی میں آئے لوگوں میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہوچکی تھیں،
شانزے اندر ڈریسنگ روم میں الگ پریشان ہورہی تھی،خبر اس تک بھی پہنچی تھی کہ شادل اب تک نہیں آیا،کسی انہونی کا سوچتے ہی وہ گھبراہٹ کا شکار ہوئی تھی کہ کہیں شادل اسے دھوکہ تو نہیں دے رہا تھا،پھر جلدی سے اس نے یہ سوچ جھٹکی،آخر شادل ایسا کیوں کرتا،وہ تو بہت ڈیسنٹ تھا وہ کبھی اسکے ساتھ ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا،مختلف وسوسوں میں گھری وہ کبھی خود کو دلاسہ دینے لگتی تو کبھی پریشانی میں نگاہیں الشبہ پر اٹھاتی جو خود مایوسی سے کھڑی تھی،
پیام سمجھ چکا تھا کہ اسکی ماں نے ضرور کوئی کارنامہ کیا ہے،رابیہ بیگم کی طرف وہ ایک خاموش نظر ڈالا تھا جس پر وہ خود اسکی طرف دیکھ کر مکروہ انداز میں مسکرائیں تھیں،نفی میں سر ہلاتا پیام اندر ہی اندر خوش بھی تھا اور اسکے خوشی کی وجہ صرف یہی تھی کہ وہ مِڈل کلاس لڑکی اب ذلیل ہوگی سب کے سامنے،جب اس پر انگلیاں اٹھیں گی تو کس قدر دلی خوشی ہوگی پیام مرتضیٰ کو،ساری لڑائیوں کا بدلہ ایک ہی دفعہ میں نکلنے والا تھا آج،
جدھر سب پریشان تھے ادھر انہیں میں کچھ لوگ خوش بھی تھے،پر سب کی خوشی کا مقصد ہی الگ تھا اور اسی طرح ایک انسان وہ بھی تھا جو اب اپنا کام مکمل ہونے پر یہاں سب سے زیادہ خوشی محسوس کررہا تھا،فون پر شادل کے اغواہ ہونے کی خبر سن کر باسط نے ان لوگوں کو آہستگی سے داد دی تھی انکے کام پر پھر چہرے پر سنجیدہ تاثرات لیے واپس ہال کے اندر آیا تھا اور تبھی مرتضیٰ صاحب کے نمبر پر داد بخش کی کال آئی تھی،وہ جو پہلے ہی پریشان تھے داد بخش کی کال پر انہیں آج اپنا غرور مٹی میں ملتا محسوس ہوا،داد بخش کا کہنا کہ شادل سر کہیں چلے گئے ہیں اچانک،یہ بات انکے لیے بےیقین تھی،آخر ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ جس انسان نے اس شادی کے لیے اتنی ضد کی وہی آخر وقت میں یوں کہیں بھی جاسکتا تھا سب کچھ چھوڑ کر،انکا تو غرور تھا شادل مرتضیٰ پر آج اس نے کیا کردیا تھا،
انکی بری حالت دیکھ اکبر صاحب نے وجہ پوچھی تو ایک نظر سبھی مہمانوں پر ڈالے اذیت بھرے مگر دھیمے لہجے میں مرتضیٰ صاحب نے شادل کے کہیں جانے کا بتایا ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اسکا نمبر بھی بند جارہا ہے اور بس۔۔۔۔،یہ خبر سنتے ہی وہ شادی ہال جہاں قہقہے گونج رہے تھے وہی پر اب اداسی کا سماں ہوا،لوگوں میں باتیں ہونے لگی،اکبر صاحب نڈھال سے ہوکر چئیر پر گرنے کے انداز میں بیٹھے تھے،جمیلہ بیگم کا رو رو کر برا حال ہوگیا،نکاح والے دن یوں بیٹی کی عزت اچھلنا انکا دل چھلنی چھلنی کرگیا،یہ خبر جہاں پیام کے لبوں پر مسکراہٹ لائی تھی وہی شانزے تک پہنچی تو اسے سکتہ ہی لگ گیا،یکدم اسکا دماغ خالی ہوا تھا،جمیلہ بیگم روتے ہوئے اسکے پاس آئیں پر شانزے کو یوں خالی نظروں سے زمین کو تکتا پاکر وہ کلپ کر اسے گلے لگاگئیں،جانتی تھی اسکی دلی حالت کیا ہوگی ابھی،الشبہ بھی رونے لگی تھی شانزے کو یوں بلکل خاموش پاکر،
باہر مرتضیٰ صاحب جو شرمندگی سے ایک جگہ پر کھڑے تھے سب کو یوں اکبر صاحب پر جملہ کستے دیکھ وہ اپنا سر جھکاگئے پر کچھ دیر بعد جب وہاں کھڑے لوگوں نے یہ بولنا شروع کیا کہ “لڑکی میں ہی کوئی کھوٹ ہوگا تبھی تو دولہا نکاح نہیں کرنا چاہتا ہوگا،بڑی آئی پسند کی شادی ایسی لڑکیوں سے کوئی شادی کرتا ہی نہیں جو پہلے سے پھنسا کر رکھتی ہیں” اسی طرح کی کئی باتیں سنتے ہی مرتضیٰ صاحب نے ایک فیصلہ کیا تھا،انکی نظر پیام پر اٹھی تھی جو خود بھی تمسخر اڑاتی نظروں سے اکبر صاحب کے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا،
“کیا ہوگا میری بچی کا۔۔۔۔کون کرے گا اب اس سے شادی۔۔۔”
خالی لہجے میں اکبر صاحب ناامیدی سے یہ الفاظ بولے تھے،باسط تو انکے الفاظوں پر خوشی سے آگے بڑھا تھا،یقیناً اب شانزے سے شادی پر کوئی آمادہ نہ ہوتا اور وہ۔۔۔۔،وہ اسے آرام سے آج اپنی ملکیت بنالیتا،ابھی وہ چند قدم ہی بڑھا تھا کہ مرتضیٰ صاحب کی بھاری آواز پر اسکے قدم رکے تھے،بلکہ یوں کہنا ٹھیک ہوگا کہ اچانک اسے اپنے پیروں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی انکے جملے پر،
“پیام مرتضیٰ کرے گا شانزے بیٹی سے شادی!!!”
انکی بات مکمل ہونے پر جہاں سب کو حیرت ہوئی وہیں پیام جو اب تک مسکرارہا تھا یکایک اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی،اسے لگا جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہو،اچھنبے سے اسنے اپنے باپ کو دیکھا جو اکبر صاحب سے مخاطب تھے،
“اکبر صاحب۔۔۔غلطی ہماری طرف سے ہوئی ہے تو ازالہ بھی ہماری جانب سے ہی ہوگا،شانزے بیٹی کو میرا بڑا بیٹا شادل چھوڑ کر گیا تو اس سے شادی بھی میرا چھوٹا بیٹا پیام کرے گا۔۔۔”
انکے الفاظ پیام کے کان میں پگھلے ہوئے سیسے کے مانند لگے تھے،یہ وہ کیا کہہ رہے تھے،رابیہ بیگم بھی بوکھلائی تھیں،
“مرتضیٰ۔۔۔یہ آپ کیا۔۔۔”
“مولوی صاحب آپ آئیں اندر۔۔۔۔”
انکی بات کاٹ کر مرتضیٰ صاحب نے قاضی صاحب کو مخاطب کیا،اکبر صاحب تشکر آمیز نظروں سے انہیں دیکھنے لگے تھے پھر وہ لوگ ڈریسنگ روم کے جانب گئے تھے شانزے سے پہلے اعجاب قبول کروانے،باسط کو یکدم اپنا پانسا پلٹتا ہوا لگا،یہ کیا ہورہا تھا،اس نے کیا کرنا چاہا تھا پر یہاں تو کچھ اور ہی۔۔۔،وہ بھنچے لب اور خون رنگ آنکھوں سمیت پیام کو دیکھا تھا جو اب تک سکتے کی حالت میں تھا،پھر اپنے جوتے زمین پر مارتا انتہائی غصے میں میرج ہال سے باہر نکلا،
غصے کی حالت میں وہ یہ بات بھول چکا تھا کہ اگر وہ اسکے نصیب میں ہوتی تو ضرور اسے ہی ملتی کیونکہ جو آپکے نصیب میں نہیں ہوتا چاہے آپ جتنی بھی کوشش کرلو وہ آپکو نہیں ملتا اور جو آپکے نصیب میں ہوتا ہے وہ کسی بھی طرح آپکا ہی ہوجاتا ہے اسی طرح شانزے اکبر کی تقدیر اس نک چڑھے شہزادے سے ہی ملنی تھی چاہے وہ جتنا بھی انکار کرلیتا،
“مام۔۔۔”
رابیہ بیگم کا بازو پکڑ کر وہ انہیں سائیڈ میں لایا تھا،پھر سختی گھوری انکے گھبرائے چہرے پر ڈال کر گویا ہوا،
“ابھی کہ ابھی اپنے ان چمچوں کو کال کر کے کہیں کہ بھائی کو چھوڑے۔۔۔۔مام میں کہہ رہا ہوں کہ میں یوں بلی کا بکرا نہیں بننے والا۔۔۔اس مڈِل کلاس لڑکی سے شادی کرنے پر کوئی بھی پیام مرتضیٰ کو مجبور نہیں کر سکتا۔۔۔۔”
اشتعال انگیز لہجے میں پھنکارتا وہ انکا فون پکڑا ہاتھ اٹھایا تھا،
“کریں کال فوراً۔۔۔”
انکو خاموش دیکھ پیام تھوڑا بلند آواز میں انکے فون کی طرف اشارہ کیے بولا تو جلدی سے اثبات میں سر ہلائے رابیہ بیگم نے ان لوگوں کا نمبر ڈائل کیا پر دوسری جانب سے جو خبر انہیں ملی وہ ان پر سکتہ طاری کرگئی،
“کیا ہوا۔۔۔چھوڑا ان لوگوں نے۔۔۔”
جب سے پیشانی مسلتا پیام پھر پوچھا،
“وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہیں شادل کے شادی ہال کے قریب آنے پر اغواہ کرنا تھا پر وہ تو اب تک انہیں نہیں دِکھا۔۔۔اور اگر ان لوگوں نے اسے اغواہ نہیں کیا تو۔۔۔۔تو شادل کہاں ہے۔۔۔”
آنکھیں پھیلائے پیام کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا،
“مجھے کیا پتا۔۔۔”
وہ جیسے بپھر ہی گیا تبھی غصے میں تقریباً چیخا پھر مہمانوں کا لحاظ کرکے اپنا سر جکڑتے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کیا،
“میں کہہ دیتا ہوں مام کہ میں اس مڈل کلاس لڑکی سے نکاح نہیں کرنے والا۔۔۔۔اپنے شوہر کو بتادیجیے۔۔۔”
انگلی اٹھا کر انہیں وارن کرتا وہ غرایا تھا،
“پیام۔۔۔۔باپ ہیں وہ تمہارے۔۔۔”
اسکے لہجے پر رابیہ بیگم نے ٹوکا
“کیسے باپ ہیں۔۔۔بیٹے کی ہی زندگی برباد کرنے پر تُلے ہیں۔۔۔دیکھتا ہوں کیسے کرواتے ہیں میرا نکاح اس اوچھی لڑکی سے۔۔۔۔”
“میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں کرتے تم شانزے بیٹی سے نکاح۔۔۔”
پیچھے سے آتی آواز پر پیام جو رابیہ بیگم کو گھوررہا تھا وہ پلٹا،سامنے ہی مرتضیٰ صاحب کھڑے تھے،قدم با قدم اسکے قریب وہ آئے تھے،پھر چند پل خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھا،
“کبھی تو کوئی خوشی دینے والا کام کیا نہیں پر آج عزت بچانے کے لیے کچھ تو کر ہی سکتے ہو۔۔۔۔احسان ہوگا تمہارا مجھ پر۔۔۔اگر یہ نکاح کر لوگے تو۔۔۔۔”
اسکی سرخ انگارہ آنکھوں کو دیکھتے انہوں نے سنجیدگی سے کہا،
“آخر پروبلم کیا ہے آپ لوگوں کے ساتھ۔۔۔میرے ہی پیچھے کیوں پڑے ہیں۔۔۔یہاں ہال میں اور بھی تو لڑکے ہیں کردیں کسی سے بھی اسکی شادی۔۔۔میں پاگل نہیں جو اس مڈل کلاس سے شادی۔۔۔”
پیام کی بدلحاظی میں تیزی سے چلتی زبان اچانک رکی تھی مرتضیٰ صاحب کے ہاتھ جوڑنے پر،وہ سکتے کی حالت میں انہیں دیکھنے لگا،بےبسی میں اسکی آنکھیں نم ہوئیں جنہیں پلک جھپکا کر وہ صاف کرگیا،
رابیہ بیگم کو بےساختہ اپنے بیٹے پر ترس آیا جو کبھی کسی کے آگے جھکتا نہیں پر آج باپ کے فیصلے پر وہ انہیں بہت مجبور و بےبس لگ رہا تھا،انہیں خود بھی حیرت ہوئی کہ آخر شادل گیا کہاں تھا،
اگر یہاں پیام مرتضیٰ بےبس ہوا تھا تو دوسری طرف شانزے کی حالت بھی کچھ الگ نہ تھی،وہ خالی ذہن سے نکاح نامے پر سائن کرگئی،منہ میں الفاظ ہی نہیں تھے کسی اعتراض کے اور کرتی بھی کیوں،جب اپنا ہی دھوکہ دے گیا تو اور کسی کو کیا بولتی،
اور یوں شانزے اکبر شادل مرتضیٰ کی جگہ پیام مرتضیٰ کی محرم بنتی اسکی مستقبل کی ہمسفر منتخب کردی گئی،
نکاح کے فوراً بعد ہی پیام بنا کسی سے کوئی کلام کیے وہاں سے نکلتا چلا گیا،اسے پرواہ تھی بھی نہیں رخصتی یا کسی اور رسم کی،گاڑی سٹارٹ کرتا وہ فل سپیڈ میں وہاں سے دور نکل آیا۔۔۔۔،کافی دور جانا چاہتا تھا وہ اس جگہ سے جہاں اسکی زندگی ہی بدل کے رکھ دی گئی تھی،کہاں اسکی اپنی لائف تھی لاپرواہی والی جس میں وہ صرف عیش کرتا پر اب۔۔۔۔۔اب اسکی زندگی میں کسی اور کی موجودگی۔۔۔۔۔،وہ یہ سب جیسے قبول ہی نہیں کرپارہا تھا،
پیام کا یوں بےرخی برتتے جانا ہر کسی کو عجیب لگا پر ماحول کو دیکھتے ہوئے مرتضیٰ صاحب نے جلد رخصتی کا کہا اور یوں ماں باپ کی دعاؤں سمیت رخصت ہوتی شانزے مرتضیٰ ہاؤس میں سب کے سنگ پہنچی تھی،رابیہ بیگم تو اندر آتے ہی بنا اسے مخاطب کیے اپنے کمرے میں چلی گئیں البتہ تحریم نے باپ کی خاموشی کا تھوڑا بہت لحاظ کرتے ہوئے شانزے کو پیام کے کمرے میں لے جا کر چھوڑا،
اپنا لہنگہ سنبھالتی کمرے میں داخل ہوکر وہ ایک اچٹتی نظر کمرے پر ڈالی تھی،خوبصورت نفیس کمرہ لیکن اس میں ہر قیمتی اور ایکسپینسیوو چیز ادھر ادھر پھینکی مالک کی ناقدری اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت تھی،
“آئی نو۔۔۔آپ نے کبھی ایسی چیزیں دیکھی نہیں۔۔۔اسی لیے ایڈجسٹ ہونا تھوڑا مشکل لگ رہا ہوگا۔۔۔ہے نا۔۔۔”
اسکے ہر طرف دیکھنے پر تحریم بالوں کو پیچھے جھٹکتے طنز کی تھی،ساتھ ہی اس پر دل جلانے والی مسکراہٹ اچھالتی باہر نکلی،شانزے نے اسے باہر جاتا دیکھا تو گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھی،سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں جیسے مفلوج ہوگئیں تھیں اسکی،کیا سے کیا ہوکر رہ گیا تھا،سر درد ہونے پر وہ اپنا سر پکڑتی چہرہ جھکاگئی،دو موتی پلکوں سے گِر کر سرخ عارضوں پر پھسلے اور جب سے کیا ضبط وہ اب ٹوٹا تھا،وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی،آخر کیسے سنبھال پاتی وہ یہ سب،پہلے تو اسے ڈھارس تھی کہ شوہر اچھا ہوگا تو ایک ایک کر کے سب کا دل جیت لے گی پر اب تو۔۔۔،معاملہ ہی بدل گیا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
