422.2K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 19)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

رات کو کھانے کے بعد وہ اپنے روم میں بیڈ پر بیٹھا آفس کا کوئی کام کررہا تھا،لیپ ٹاپ پر انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں،جب سے جاب لگی تھی یہ اسکے روز کا معمول بن گیا تھا،وہ جو پہلے ہر وقت فارغ بیٹھا رہتا جاب لگنے کے بعد سے خوب دل جمعی سے کام کرتا،فرزانہ بیگم اس کے کام میں دل لگنے پر جہاں خوش تھیں وہی تھوڑی بہت مایوس بھی تھیں،وجہ باسط کا تحریم سے رویہ،اپنی مصروفیات میں وہ اسے مکمل بھلائے بیٹھا تھا،خود ہی تحریم کچھ بولتی تو ہوں ہاں میں جواب دیتا ورنہ تو اسکی طرف دیکھتا تک نہ تھا وہ،باسط کے اس رویے پر تحریم اکثر دکھی ہوتی تو کسی نہ کسی بات پر باسط سے جھگڑا کرنے کا بہانہ ڈھونڈتی،فرزانہ بیگم کے ساتھ بھی اسکے رویے میں کافی بہتری آئی تھی،البتہ زیادہ بات نہ کرتی تھی وہ ان سے،پر فرزانہ بیگم اس ہی میں خوش تھیں کہ کم از کم وہ خود ایڈجسٹ ہونے لگی تھی اس گھر میں،

آدھا کام ختم کرنے پر وہ اپنی آنکھیں مسلتا لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھا اور روم سے باہر نکلا،فرزانہ بیگم کو کافی کا بولنے وہ کچن میں داخل ہوا پر وہاں کوئی نہیں تھا،

“امی۔۔”

انہیں پکارے باسط لاؤنج میں آیا جہاں تحریم ہتھیلی تھوڑی کے نیچے رکھے ٹی وی دیکھ رہی تھی،

“آنٹی سو رہی ہیں۔۔۔”

مڑ کر باسط کر دیکھتے وہ بولی،

“اتنی جلدی۔۔۔”

باسط کو حیرانی ہوئی،کبھی فرزانہ بیگم اتنی جلدی نہ سوتی تھیں،

“سر میں تھوڑا درد تھا انکے تبھی۔۔۔تمہیں کچھ چاہیے کیا۔۔۔”

اپنے جواب پر باسط کو کچن میں جاتا دیکھ وہ جلدی سے اٹھ کر پوچھی،

“چاہیے امی سے تھا۔۔۔تم سے نہیں۔۔۔”

بنا اس پر کوئی نگاہ غلط ڈالے وہ گویا ہوا ساتھ ہی کچن میں چلاگیا،تحریم نے غصے میں پیر پٹخا،

“اکڑ ہی ختم ہو کر نہیں دیتی اسکی۔۔۔”

اپنے آپ بڑبڑاتے وہ واپس صوفے پر بیٹھی،تبھی اسکا فون رنگ کیا،

“کیسی ہو رافیہ۔۔۔”

اسکی دوست کی کال تھی،

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔تم بتاؤ۔۔؟”

دوسری جانب سے وہ فرینک ہوتے بولی،

“کیا بتاؤ۔۔۔وہی روٹین ہے اسکی۔۔۔ایک جو نظر ڈال لے۔۔۔لگتا ہے بیوی کو دیکھنے پر گناہ ہوجائے گا اسے۔۔۔”

رافیہ کو وہ پہلے ہی باسط اور اپنے بیچ سرد تعلقات کا بتاچکی،وہ روز تحریم کو نئے پلینز بتاتی،جس کے بدولت کبھی وہ باسط سے لڑ کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی اسے پریشان کر کے،

“ویسے آج ایک اور پلین ہے میرے پاس۔۔۔”

رافیہ رازداری سے بولی،

“تم رہنے دو۔۔۔سبھی بےکار پلینز بتاتی ہو۔۔۔ایک جو کام کرے اس ڈھیٹ انسان پر۔۔۔”

باسط کی بےرخی کا سوچتے وہ کلس کر کہنے لگی،

“ارے سنو تو۔۔۔۔یہ پلین یقیناً کام کرے گا۔۔۔گارنٹی ہے۔۔۔”

“ہیں۔۔۔ایسا کیا پلین ہے۔۔۔”

رافیہ کے یوں بولنے پر اسے اچھنبا ہوا،تبھی رافیہ نے اسے جلدی سے پلین بتایا اور جو پلین وہ مزے سے بتائی تھی اس پر تحریم کے پسینے ہی چُھوٹے،

“نہیں۔۔۔مممیں۔۔۔کیسے۔۔۔نہیں۔۔”

انکار کرتی وہ ہکلاہٹ کا شکار ہوئی،

“تحریم سوچ لے۔۔۔۔بات توجہ کی ہے۔۔۔اور اس پلین میں تو اچھے اچھے پگھل جاتے ہیں۔۔۔اور تم اتنا کیوں گھبرارہی ہو۔۔۔تم تحریم مرتضیٰ ہو ایک بولڈ لڑکی۔۔۔”

اسکے انکار پر رافیہ نے اسکی کمزوری پکڑتے کہا تو تحریم سوچنے پر مجبور ہوئی،ڈر بھی لگ رہا تھا پر پلین ہی ایسا تھا کہ خود کو بولڈ سمجھنے کے باوجود اسکی جان نکلنے لگی تھی،

“اچھا۔۔۔میں کوشش کرتی ہوں۔۔۔”

باسط کو کچن سے مگ تھامے نکلتا دیکھ وہ ہلکی آواز میں بولی،

کوفی کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا وہ واپس بیڈ پر بیٹھتے لیپ ٹاپ اٹھایا تھا،گرم بھاپ اڑاتی کوفی کے دو سِپ لے کر وہ واپس رکھا پھر کام پر متوجہ ہوا،ابھی اسے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کام کرتے کہ تحریم کمرے میں انٹر ہوئی،اسکی موجودگی کو بالائے طاق رکھے وہ مسلسل کام پر ذہن لگائے بیٹھا تھا،باسط پر ایک نظر ڈالے وہ وارڈروب سے کچھ نکالی تھی پھر ڈریسنگ روم میں گئی،وہاں جاکر اس نے ہاتھ میں لی نائٹی سامنے کی،گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک کھلے بازو کی وہ سلک کی نائٹی تحریم صرف شادی سے پہلے پہنتی تھی،رافیہ کی بات سوچے وہ جلدی سے چینج تو کرلی پر اب ہمت نہیں ہورہی تھی باہر جانے کی،باسط کے غصے سے واقف تھی اس لیے گھبراہٹ طاری ہوئی تھی اس پر،پھر ایک بار گہرہ سانس بھر کر وہ بمشکل ہمت کرتے دروازہ کھول کر آہستگی سے باہر نکلی،پیشانی پر بل لیے باسط اب بھی کام میں مشغول تھا،چہرے پر آئے بال کان کے پیچھے کرتے وہ خود میں ہمت پیدا کیے ڈریسنگ پر گئی پھر وہاں سے لوشن اٹھائے صوفے پر آئی تھی،سائیڈ ٹیبل سے واپس مگ اٹھاتے وقت باسط کی نظر غیر ارادی طور پر اسکی طرف گئی،پہلے تو وہ شدید حیران ہوا اسے پنک نائٹی میں دیکھ لیکن پھر ایک پل کو متحیر ہی رہ گیا،

پہلی مرتبہ اپنی بیوی کے درجے پر فائز اس لڑکی کو وہ بغور دیکھا تھا،کھلے بالوں کی آوارہ لٹوں بارہا ہٹاتے تحریم لوشن اپنے دودھیا بازو پر مل رہی تھی،اس عمل کے دوران چہرہ واضح اناری ہورہا تھا،سلک کی اس نائٹی میں اسکا نسوانی حسن اپنی رعنائیاں بکھیرے تھا،نظر بھٹک کر جب اسکی سفید پنڈلیوں پر پڑی تو باسط بےساختہ سر جھٹکتے نگاہ پھیرا،مگ اٹھاتے اس نے اب مکمل پرہیز کیا تھا تحریم کو دیکھنے سے،دوسری طرف وہ لوشن واپس ڈریسنگ پر رکھے بیڈ کے پاس آئی تھی،پھر بیٹھ کر وہ تھوڑا اس سے دور ہوتی بیڈ پر دوسری کروٹ پر لیٹی،اس حلیے میں ہمت نہیں تھی اسکے قریب ہونے کی،حالانکہ رافیہ نے اسے باسط کے پاس جانے کا کہا تھا،پر اب یہ سب کر کے ہی اسکی حالت خراب ہورہی تھی،تحریم کو مخالف سمت کروٹ لیٹا دیکھ وہ ایک بار پھر گردن گھوما کر اسے دیکھا تھا،ریشمی بال بیڈ پر بکھرے تھے،پیچھے سے گلا ڈیپ ہونے کی وجہ سے سفید پشت واضح تھی،وہ انجان نہ تھا جو اسکی حرکتیں نہ سمجھتا،

“تحریم۔۔۔!”

کتنے دنوں بعد وہ اسے پکارا تھا،تحریم ششدہ رہ گئی پلٹنے کے لیے بہت ہمت کی ضرورت تھی جو کہ فلحال تو اس میں بلکل نہیں تھی،

“تحریم۔۔۔!”

ایک بار پھر اسکی بھاری آواز کان سے ٹکرائی،

“ہمم۔۔۔”

حلق خشک ہونے کے باعث وہ صرف یہی بول سکی،

“آج رات تم امی کے کمرے میں سوجاؤ۔۔۔”

تحریم کو بلکل توقع نہ تھی اس بات کی تبھی جھٹکے سے اٹھتی وہ باسط کو دیکھی جس کی نظریں لیپ ٹاپ پر جمی تھیں،

“کیا۔۔”

اسے شبہ ہوا کہ شاید کچھ غلط سنا ہو،

“تم۔۔۔آج رات۔۔۔امی کے کمرے میں۔۔۔سوجاؤ۔۔۔”

اب کے اس کی طرف دیکھ کر باسط ٹہرے لہجے میں بولا،

“پر کیوں۔۔۔”

وہ بےیقینی سے پوچھی،رافیہ کا بتایا پلین اسے ایک بار پھر فلاپ ہوتا دکھا،

“کیونکہ میں آفس کا کام کررہا ہوں۔۔۔اور تمہیں لائٹ آف کر کے سونے کی عادت ہے۔۔۔”

بیڈ پر اپنے پاس رکھی فائلز کی جانب اشارہ کیے وہ سنجیدگی سے بولا،

“نہیں میں سوجاؤں گی۔۔۔”

منہ بناکر اپنی بات کہتی وہ لیٹنے لگی،بھول گئی تھی مقابل انسان نہیں کوئی پتھر ہی ہے،جس کے اندر شاید کوئی احساس یا جذبات نہیں،

“میں کہہ رہا ہوں جاؤ۔۔۔۔”

باسط کی آواز بلند ہوئی تھی جس پر گھبراتی وہ لیٹنے کے بجائے جلدی سے بیڈ پر سے اتری،لائٹ براؤن آنکھیں بھری تھیں نمکین پانی سے،پیر پٹختے وہ روم سے نکلنے لگی پر تبھی باسط کا فون بجا،

“ہیلو۔۔۔”

ریسیو کرتے وہ گویا ہوا،

“ہاں لیزا۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔کچھ کام کے ساتھ سر نے جو فائلز دی تھیں وہی ریچیک کر رہا ہوں۔۔۔”

کال پر بات کرتے اسکا نرم لہجہ تحریم کو چونکا گیا،اس سے وہ کس روکھے انداز سے بات کرتا اور اب پتا نہیں کون تھی جس سے بات کرتے تو لہجہ میٹھا بنایا ہوا تھا،

“ہاں۔۔صحیح ٹھیک ہے میں کردوں گا۔۔۔”

وہ باسط کے باس کی اسسٹنٹ تھی جو باسط سمیت اور بھی کلیگس کو باس کے بتائے گئے کام کے متعلق مطلاع کرتی،فون رکھ کر باسط واپس کام پر متوجہ ہوا،البتہ اسکے جمائی لینے پر تحریم کو یقین ہوا کہ وہ جلد سونے والا ہی ہے،فرزانہ بیگم کے روم میں جانے کے بجائے وہ لاؤنج میں آگئی اور انتظار کرنے لگی اسکے سونے کا،دل میں شک ابھرا تھا کہ کون تھی وہ لڑکی جس سے باسط زبیر اتنے نرم لہجے میں بات کررہا تھا،

کافی دیر گزرنے کے بعد جب روم کی لائٹ آف ہوئی تو تحریم کو یقین ہوچلا کہ وہ سونے لگا ہے،کچھ ٹائم گزرنے پر وہ روم میں داخل ہوئی،اسکی توقع کے عین مطابق وہ سورہا تھا،دبے پیر باسط کے پاس آکر وہ سائیڈ ٹیبل سے اسکا موبائل اٹھائی تھی پر تبھی تحریم کے پورے وجود میں کرنٹ دوڑا جب اسکی کلائی باسط کی گرفت میں آئی،وہ جو اسکی حرکات و سکنات نوٹ کررہا تھا جان بوجھ کر سوتا بنا تھا اور اب،

جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا،اگلے ہی لمحے تحریم اسکے اوپر تھی،اندھیرے میں اسکے دمکتے چہرے پر خوف کی لکیر دیکھ باسط کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،تحریم نے بوکھلاکر اٹھنا چاہا پر اپنی کمر پر مقابل کی مضبوط گرفت کی وجہ سے ہل تک نہ سکی،باسط کے سینے پر بازو رکھے وہ تھوڑا فاصلہ قائم کرنے لگی،دھڑکنوں کی رفتار اتنی ہوئی کہ دل پسلیاں توڑنے کو تھا،

“کیا کررہی تھی۔۔”

سنجیدہ تاثرات سمیت وہ پوچھا،لہجہ گھمبیر تھا،

“کچھ۔۔بھی تو نہیں۔۔۔”

گھبراتے ہوئے وہ جھوٹ بولنے کی اپنی سی کوشش کی تھی،پہلے اسکی توجہ چاہی تھی پر اب اسکی قربت ایسی جان لیوا ثابت ہونے لگی تھی کہ وہ دور جانا چاہ رہی تھی اس سے،

“بب۔۔باسط۔۔۔”

نازک کمر پر اسکی گرفت حد سے زیادہ سخت ہونے پر وہ سسک کر رہ گئی،

“بتاؤ۔۔۔”

تھوڑے سخت لہجے میں استفسار کیا گیا پر وہ چونکا تھا تحریم کی آنکھ سے نکلتا آنسو جب اسکے گال پر گِرا،

کچھ پل تک یونہی دیکھنے کے بعد چہرہ تھوڑا اونچا کرتے باسط اسکے گال پر اپنے لب رکھا تھا،مقابل کی پہلی جسارت پر تحریم نے آنکھیں میچ لیں،نازک گداز وجود کپکپاہٹ کا شکار ہوا،

دوسرے گال پر بھی دہکتا لمس محسوس کر کے وہ مچلنے لگی تھی،واقعی آسان نہ تھا مقابل کی قربت برداشت کرنا،تبھی باسط جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا،تحریم فوراً پیچھے سِرکی،ٹھنڈ کے باوجود عرق آلود نم پیشانی پر ہاتھ رکھے وہ گہرے سانس لینے لگی،

“جب سہہ نہیں سکتی۔۔۔تو قریب آتی کیوں ہو۔۔۔اگر اگلی بار ایسی کوئی حرکت کی۔۔۔تو پھر مجھ سے رحم کی امید نہیں رکھنا۔۔۔”

اندھیرے میں اسکی سرد آواز کانوں میں پڑی تو تحریم کو اپنی ریڑھ کی ہڈی سنسناتی محسوس ہوئی،

لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ بیڈ سے اترتی ڈریسنگ روم کی طرف بھاگی تھی،سمجھ گئی تھی کہ مقابل کی توجہ حاصل کرنا اسکے بس میں نہیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرے دن شانزے کی طبیعت خرابی کے باعث صبح سے اپنے میں تھی،مرتضٰی صاحب اور شادل معمول کے مطابق آفس کے لیے نکلے ہوئے تھے،سر میں شدید درد اٹھنے لگا تو وہ اپنے روم سے نکلی تھی دوائی کے لیے پانی لینے،ابھی کچن میں داخل ہی ہوئی کہ سامنا رابیہ بیگم سے ہوگیا،

“بات سنو۔۔۔”

وہ گلاس میں پانی نکلنے لگی تبھی انہوں نے پاس آتے کہا،شانزے انکی طرف متوجہ ہوئی،کل کے کپڑوں میں آنکھوں کے گرد حلقے رت جگہ کی غمازی کررہے تھے،وہ انہیں کافی کمزور لگی تھی،رابیہ بیگم کو اندر کہیں خوشی ہوئی اس کی یہ حالت دیکھ،

“خولہ کو یہ جوس دے آؤ۔۔۔”

سلیپ پر رکھے گلاس کی طرف اشارہ کرتی وہ حکمیہ لہجے میں بولیں،غصہ تو شانزے کو بہت آیا پر کل کی انکی دھمکی کا سوچ اس نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا،تبھی اپنا گلاس رکھے وہ جوس کا گلاس اٹھائی اور شادل کے روم میں گئی،

خولہ بیڈ پر لیٹی کسی سے محو گفتگو تھی،باتوں سے واضح تھا کہ دوسری جانب اسکی ماں ہیں،شانزے کو جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھتے دیکھ اسکے لب تمسخر اڑاتی مسکان سے سجے،

“رکو شانزے۔۔۔”

اسکی مکروہ آواز ہی شانزے کا خون کھولانے کے لیے کافی تھی،لب بھینچتے وہ مڑی،

“زرا وہ گلاس مجھے پکڑادو۔۔۔”

ٹیبل پر رکھے جوس کے گلاس کی طرف اشارہ کیے وہ بولی،شانزے صبر کے گھونٹ پیتی گلاس اٹھائی اور اسکی جانب بڑھی،خولہ کے آگے گلاس بڑھائے وہ کھڑی تھی تبھی خولہ کال پر بات کرتے بےدھیانی میں ہاتھ آگے بڑھائی جو کہ شانزے کے ہاتھ پر مارا گیا،نتیجہ یہ کہ گلاس سیدھا نیچے گر کر چھناکے کی آواز سمیت ٹوٹا،خوکہ ہڑبڑا کر اٹھی،

“ہاؤ ڈئیر یو۔۔۔آہ۔۔۔”

وہ جو بوکھلائی ہوئی شانزے کو سنانے لگی تھی اچانک کانچ پیر پر لگنے سے چیخ اُٹھی،سب کچھ اچانک ہوا تھا،شانزے خولہ کے پیر سے خون نکلتا دیکھ بری طرح گھبرائی تھی پر تبھی اسکے چودہ طبق روشن ہوئے،خولہ کا ہاتھ اٹھا تھا اس پر،گال پر ہاتھ رکھے وہ آنکھیں پھیلائے بےیقینی سے خولہ کو دیکھی جو اسے تھپڑ مارنے کے بعد اب پیر پکڑی بآواز رورہی تھی،

“آپ نے ہاتھ کیوں اٹھایا۔۔۔”

وہ یکدم بلند آواز میں بولی،غصے کی شدت سے چہرہ سرخ ہوا تھا اسکا،اتنی عرزاں تو نہ تھی وہ جو ہر کوئی اس پر یوں ہاتھ اٹھا دیتا،

“ایک تو مجھے چوٹ لگی تمہاری وجہ سے اوپر سے مجھ ہی پر چیخ رہی ہو۔۔۔رکو ابھی تم۔۔۔خالہ۔۔۔”

بیڈ پر بیٹھے وہ الٹا شانزے پر چیختی رابیہ بیگم کو آواز دینے لگی،شور کی آواز پر وہ بھی کمرے میں آئی تھیں،خولہ کو پیر پکڑے روتے دیکھ وہ جلدی سے آگے بڑھیں،

“کیا ہوا میری بچی کو۔۔۔”

اسکا پیر دیکھتی وہ پریشانی سے گویا ہوئیں،

“خالہ اسکی وجہ سے ہوا ہے یہ سب۔۔۔”

خولہ نے شانزے کی طرف اشارہ کیا،آنسوؤں سے اسکا چہرہ بھیگا تھا،

“کیا کِیا ہے شانزے تم نے۔۔؟”

اب رابیہ بیگم اسے گھورتی استفسار کرنے لگیں،شانزے نے تحیر بھری ایک نظر ان خالہ بھانجی پر ڈالی پھر تیزی میں روم سے نکلی،

کمرے میں آکر وہ دروازہ بند کرتی وہی پر کھڑی منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی،سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک مڈل کلاس ہونے کی وجہ سے اسکے ساتھ وہ دونوں ایسا رویہ اختیار کیوں کر رہی تھیں،سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں،اسکے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہونے لگا تھا،جلدی سے فون اٹھائے آخری اُمید کے تحت اس نے پیام کو کال کی،دل سے دعا گو تھی کہ وہ کال ریسیو کرلے،پر دوسری جانب سے نمبر ہنوز بند تھا،غصے میں فون بیڈ پر پٹخے وہ زمین پر بیٹھے گھٹنوں میں سر رکھ گئی،اگر کو وہ یہاں ہوتا تو یقیناً آج خولہ میں اتنی ہمت نہ ہوتی شانزے پر ہاتھ اٹھانے کی کیونکہ پیام کے غصے سے گھر میں سبھی واقف تھے،آج شانزے شدت سے یاد کررہی تھی پیام مرتضیٰ کو،کاش کہ وہ یہاں ہوتا،کاش۔۔۔،کانوں میں اسکے پیام کا جملہ گونجا تھا،

“شانزے مرتضیٰ۔۔۔۔تمہیں آہ لگے گی پیام مرتضیٰ کی محبت کی۔۔۔”

اور شانزے پھوٹ کر روئی تھی،دو ہفتوں میں ہی اس پر یہ واضح ہوا تھا کہ وہ نہیں رہ سکتی پیام کے بنا،ہاں اسے لگی تھی آہ،پر وہ بےخبر اب کیوں نہیں تھا یہاں پر،

“پیام۔۔۔واپس آجاؤ۔۔۔پلیز۔۔۔شانزے مرجائے گئی۔۔۔۔پلیز آجاؤ۔۔۔”

ہلکی بھنبھناہٹ کے ساتھ مسلسل انہیں الفاظوں کا ورد کرتے وہ روئے جارہی تھی،نازک وجود ہچکولوں کے زد میں تھا،دل چاہا کہ کہیں سے کھینچ لے آئے اس انسان کو،بآواز روتے وہ آج اعتراف کررہی تھی کہ شانزے ادھوری ہے اسکے بنا پر سننے والا وہاں ہوتا تو سنتا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفس سے وہ دوپہر میں ہی نکلا تھا،شانزے کو مال والی بات بتانے کا اسکا ارادہ تھا پر اس سے پہلے وہ الشبہ سے اس بارے میں بات کرنا چاہتا تھا،ظاہر سی بات تھی کہ وہ شانزے سمیت جمیلہ بیگم اور اکبر صاحب کی بہت عزت کرتا تھا،تو کیسے وہ الشبہ کو کسی غلط راستے پر چلتے نظرانداز کردیتا،شانزے کے گھر پہنچ کر اس کا ارادہ الشبہ سے بات کرنے کا ہی تھا پر گھر کے قریب ہی شادل نے کار روکی،الشبہ گھر سے نکلی سیدھ میں چل رہی تھی،جب وہ شادل کی کار کے قریب سے گزری تبھی شادل کار سے نکلتا اسے پکارا،

الشبہ کے چہرے پر خود کو دیکھ کر پریشانی آتے وہ اچھے سے سمجھا تھا کہ آج بھی اسکا ارادہ عبید کے پاس جانے کا تھا،

“کار میں بیٹھو۔۔۔”

بھاری لہجے میں کہی گئی اسکی بات پر الشبہ حیران ہوئی،

“پر کیوں بھائی۔۔۔”

“بتاتا ہوں۔۔۔تم بیٹھو تو۔۔۔”

شادل کو یہی پر کھڑے بات کرنا مناسب نہ لگا تبھی وہ نرمی سے کہا،الشبہ ایک نظر بائیں طرف دیکھے مجبوراً اسکی کار میں بیٹھی،

“کچھ بتائیں تو بھائی۔۔۔کیوں بٹھایا ہے مجھے۔۔۔”

گاڑی روڈ پر رواں دواں تھی،اسکی جب سے خاموشی پر الشبہ تھوڑا چڑ کر گویا ہوئی،اچھا خاصا عبید کو ایک بار پھر منانے کا ارادہ تھا پر اب شادل کے آنے پر سب خراب ہوگیا تھا،

“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔”

بنا اسکی طرف دیکھے وہ روڈ پر نظریں جمائے بولا،الشبہ کے تاثرات بدلے،چہرے سے پریشانی ہٹی،اب وہ فق رنگت سمیت اسے دیکھنے لگی،

“ریلیکس رہو۔۔۔اور جو پوچھوں صرف اسکا جواب دیدو۔۔۔”

کافی دور پہنچنے کے بعد وہ کار روک کر اس کو گھبراتے دیکھ آرام سے بولا،الشبہ خاموش رہی،

“میں نے مال والی بات شانزے کو بتانے کا سوچا ہے۔۔۔۔اسے کم از کم باخبر ہونا چاہیے۔۔۔”

مناسب لفظوں سے اسنے آغاز کیا،الشبہ یکدم گھبرائی،

“نہیں بھائی۔۔۔پلیز۔۔۔آپی کو کچھ نہیں بتائیے گا۔۔۔پلیز۔۔۔”

عاجزانہ لہجے میں وہ درخواست کرنے لگیں،خوبصورت آنکھیں پل میں بھری تھیں،شادل گہرہ سانس بھر کر رہ گیا،

“میری بات سمجھو الشبہ۔۔۔تم نے یقیناً گھر میں کسی کو نہیں بتایا اور یوں چھپ چھپ کر کسی سے ملنا۔۔۔اصل میں مجھے حیرت ہے عبید پر کہ وہ کیسے تمہیں ایک کھلونے کے مانند یوں بنا کسی رشتے کے ہر جگہ گھوما رہا ہے۔۔۔”

وہ الشبہ سے نہیں بولا تھا بلکہ ہلکی آواز میں خود ہی بڑبڑایا پر اسکی بڑبڑاہٹ الشبہ نے بغور سنی،

“میں کھلونا نہیں ہوں۔۔۔”

جلدی سے وہ بولی،اسے شادل کا یہ جملہ ناگوار گزرا تھا،

“یہی تو میں بھی سمجھا رہا ہوں لڑکی۔۔۔تمہیں ابھی زمانے کی بےحسی کا نہیں معلوم۔۔۔لوگ کیسے ہوتے ہیں تم انجان ہو۔۔۔”

“ایک منٹ۔۔۔”

وہ جو اسے سمجھارہا تھا الشبہ کے ٹوکنے پر رکا،سوالیہ نظریں اٹھیں تھیں اور سیدھا اسکے خوبصورت چہرے پر پڑیں،

“کیا مطلب۔۔۔لوگ کیسے ہوتے ہیں۔۔۔”

وہ شکی نظروں سے اسے دیکھے پوچھی،شادل کو معلوم ہوا کہ اسکے برابر میں بیٹھی وہ لڑکی واقعی کم عقل ہے،

“دیکھو الشبہ۔۔۔پہلے تو یہ بات واضح ہے کہ تم ابھی چھوٹی ہو اور دوسرا یہ کہ۔۔۔۔۔عبید ٹھیک نہیں تمہارے لیے۔۔۔”

بہت سوچ سمجھ کر وہ الفاظوں کا انتخاب کر رہا تھا جبکہ الشبہ بےیقین نظروں سے اسے دیکھی تھی،

“الشبہ وہ تمہیں۔۔۔”

“چپ رہیں۔۔۔”

اچانک وہ اسکی بات کاٹتے تیز لہجے میں بولی،شادل چونکا تھا اسکے لہجے پر،

“آپ کون ہوتے ہیں مجھے یہ بتانے والے کہ عبید میرے لیے کیسا ہے اور کیسا نہیں۔۔۔۔شادل بھائی آپ کو نہیں لگتا کہ کچھ زیادہ ہی انٹرفئیر کررہے ہیں آپ میری لائف میں۔۔۔”

یکایک اسکا لہجہ اجنبیت برتا تھا،ایک پل کے لیے شادل بھی حیران ہوا تھا،

“الشبہ میں یہ سب صرف۔۔۔”

“آپ کو کوئی حق نہیں کسی کو یوں جج کرنے کا۔۔۔آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔اپنی حد میں رہیں۔۔۔نہیں تو میں رابیہ آنٹی کو کہہ دوں گی۔۔۔مجھے ابھی فوراً گھر چھوڑیں۔۔۔”

وہ جیسے اب کچھ سننا ہی نہیں چاہتی تھی اس سے، تبھی بدلحاظی کی حدیں پار کرتی غصے میں بولی،آنسو تیزی سے گال بھگونے لگے تھے،

“یہ تم کس طرح بات کررہی ہو۔۔۔”

شادل کا لہجہ ہنوز نرمی لیے تھا پر اب اس میں حیرت کا انثر شامل تھا،

“آپ لوگوں سے اسی لہجے میں بات کرنی چاہیے۔۔۔اب برائے مہربانی مجھے گھر چھوڑدیں۔۔۔نہیں تو خود چلی جاؤں گی۔۔۔”

اب کے شیشے سے باہر دیکھتی وہ بگڑے لہجے میں بولی،اسکا لہجہ حد درجہ برا ہوا تھا،شادل تاسف سے اس پر ایک نظر ڈالے کار سٹارٹ کیا،اس کم عقل لڑکی کو سمجھانا اتنا آسان نہ تھا جتنا وہ سمجھ بیٹھا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔