422K
34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aah-E-Muhabat (Episode 1)

Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz

“ہوگیا کام۔۔۔۔اب جلدی چلو۔۔۔دیر ہورہی ہے۔۔۔”

شانزے اپنی ساتھی ویڑریس سویرہ سے بولی ساتھ ہی جلدی سے مینیو کارڈ ایک طرف کرتے ہوئے نکلی،

“یار شانزے رکو۔۔۔ایک بات کہنی ہے۔۔۔”

ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہی سویرہ نے شانزے کو پکارا اور اسکے پلٹنے پر تھوڑا جھجھک کر بولی،

“کیا بات ہے۔۔۔کہو۔۔۔”

ہمیشہ کی طرح نرم لہجے میں شانزے نے مسکراتے ہوئے پوچھا پر سویرہ تھوڑا ہچکچا رہی تھی،

“شانزے۔۔۔دیکھو یار۔۔۔پلیز برا نہ ماننا پر۔۔۔۔ایکچولی۔۔۔یار آج میں تمہارے ساتھ نہیں جاپاونگی۔۔۔”

چہرے پر آئی چند لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے سویرہ مسلسل کنفیوژن کا شکار تھی،

“اب بولو بھی سویرہ۔۔۔دیر ہورہی ہے۔۔۔”

شانزے نے رسٹ واچ پر نظر ڈالتے ہوئے پریشانی میں کہا،پہلے ہی دیر ہورہی تھی گھر کے لیے،

“یار آج میرا باہر پلین ہے۔۔۔۔فرینڈز نے کلب میں پارٹی دی ہے۔۔۔۔”

آخر کار سویرہ نے تیزی میں جلدی سے کہہ دیا،پر اب شانزے کے خوبصورت چہرہ پر حیران کن تاثرات تھے،

“سویرہ۔۔۔تم کب سے ان کلب کے چکروں میں پڑگئی۔۔۔”

یہ کہتے ہوئے شانزے کا لہجہ واضح ناگوار ہوا تھا،

“ایسا کچھ غلط نہیں ہے یار جتنا تم سمجھتی ہو۔۔۔۔اور ویسے بھی آج کے دور میں کلب جانا کوئی برا کام تو نہیں جو یوں پوچھ رہی ہو۔۔۔”

اب کے سویرہ بھی تھوڑا نڈر ہوکر بولی،شانزے کو شدید حیرت ہوئی اسکے عجیب لہجے پر،

وہ دونوں دوستیں تھی،انکی دوستی ہی ریسٹورنٹ میں جاب کرتے ہوئی تھی،شانزے اسے کافی مہینوں سے جانتی تھی،سویرہ کو اس نے کبھی کسی لڑکے سے بات بھی کرتے نہیں دیکھا تھا پر پچھلے کچھ دنوں سے اسکے طور اطوار کچھ عجیب لگے شانزے کو،اور آج اسکا یوں بےخوف ہوکر کلب کے بارے میں حمایت کرنا،

“ٹھیک ہے۔۔۔پر۔۔۔ایک بات بتاؤ۔۔۔تم نے آنٹی سے پرمیشن لی ہے۔۔۔”

اسے بار بار نظر چراتا دیکھ کر شانزے تفتیشی لہجے میں پوچھی،جس پر سویرہ کا چہرہ فوراً زرد پڑا،

“ہا۔۔۔ہاں۔۔ہاں تو۔۔۔پوچھا ہے میں نے مما سے۔۔۔تم کیوں اتنا شک کررہی ہو مجھ۔۔۔پر کہہ تو رہی ہوں۔۔۔بس پارٹی ہے۔۔۔”

ماتھے پر آیا پسینہ رومال سے پونچھتے ہوئے سویرہ نے بوکھلا کر کہا تو شانزے نے بھی زیادہ سوال کرنا مناسب نہ سمجھا،اب جب اسکی ماں نے ہی اجازت دے دی تھی تو وہ کون ہوتی تھی اس سے سوالات کرنے والی،یہ سوچ کر وہ اثبات میں سر ہلائے باہر روڈ کے سیدھ میں جانے لگی پر اچانک سویرہ کی آواز پر رکی،

“اچھا رکو تو زرا۔۔”

شانزے نے پلٹ کر اسے دیکھا پر اب سویرہ کے ایکسپریشن چینج دیکھ کر وہ پھر حیران ہوئی،

“کیا ہوا۔۔؟”

آئبرو اچکاکر اس نے پوچھا

“ویسے۔۔۔۔آج وہ جناب نہیں دکھ رہے۔۔۔”

مسکراہٹ دباکر سویرہ نے شانزے کو آنکھ ماری،

“کون؟”

شانزے نے پوچھا تو پر اچانک ہی اسکی آواز بند ہوئی،جانتی تھی سویرہ کس کے بارے میں پوچھ رہی ہے،تو ہلکا سا مسکرائے وہ نفی میں سر ہلانے لگی،

“نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔۔۔”

ہلکی سی مسکان چہرے پر سجائے شانزے نے کہا ساتھ ہی سویرہ کو خدا حافظ کہہ کر روڈ پر چلنے لگی،اسے جلدی گھر پہنچنا تھا،اور دنوں کے مقابلے آج اسے تھوڑی دیر ہوگئی تھی،روڈ پر کھڑی وہ ابھی رکشہ ڈھونڈ رہی تھی تبھی اسکے سامنے ایک بلیک کلر کی کار آکر رکی،شانزے کا ہاتھ بےساختہ ماتھے پر گیا،چہرے پر غصہ لانے کی کوشش کرتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی مسکرادی،

“کیسی ہو۔۔۔؟۔۔۔سوری آج تھوڑا لیٹ ہوگیا۔۔”

خوشگوار لہجے میں کہنے والا وہ شادل مرتضیٰ تھا،چھ فٹ قد،گندمی رنگت وہ کوئی دل پھینک عاشق نہیں تھا پر ایک دن اپنے آفس کے کلیگس کے ساتھ ریسٹورنٹ “کُک سٹوڈیو” میں آیا تو وہاں پر اسکے دل میں اپنی ملکیت کے پنجے شانزے اکبر نے گاڑے تھے،جو بطور اس ریسٹورنٹ میں ایک ویٹریس کی حیثیت سے کام کررہی تھی،بس پھر کیا،وہ دیوانوں کی طرح اسکا پیچھا کرتا،اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا،شانزے نے شروع میں اس بات کا اتنا نوٹس نہیں لیا،پر جب شادل اسکے گھر پر اسکے ماں باپ سے ملا اور ان کے سامنے طریقے سے شانزے کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تو شانزے کو وہ شخص کہی نہ کہی اچھا لگا،جس نے دوسرے لڑکوں کی طرح اسے تنگ کرنے کے بجائے سیدھا اسکے ماں باپ سے بات کی تھی،

“آپ کو کتنی بار کہا ہے۔۔۔کام کے ٹائم پر مت آیا کریں۔۔۔”

وہ لاچارگی سے گویا ہوئی تھی،البتہ چہرے پر نرم مسکراہٹ اب بھی نہ چھپ سکی،

“اہممم۔۔۔۔ویسے آج میں ریسٹورنٹ مکمل بند ہونے کے بعد ہی آیا ہوں۔۔۔۔اور کونسا تم نے میری کار میں جانا ہوتا ہے۔۔۔”

کندھے اچکاکر شادل نے اسکی خوددار طبیعت پر چوٹ کیا،

“بلکل یہی بات میں بھی آپ سے پوچھوں تو۔۔۔کہ آپ جانتے ہیں میں آپکے ساتھ نہیں جانے والی تو روز کام کے وقت یہاں آنے کا مقصد۔۔۔۔”

اب شانزے بھی سینے پر بازو باندھے بھرپور کانفیڈینٹ سے گویا ہوئی،جیسے آج اسے لفظوں کے کھیل میں مات دینا چاہ رہی ہو،

“صرف آپ کا دیدار کرنے۔۔۔”

شاعرانہ انداز میں کہتا شادل مرتضیٰ جہاں سینے پر ایک ہاتھ رکھے ہلکا سا جھکا تھا،وہی شانزے بوکھلا کر ایک قدم پیچھے ہوئی،سفید عارض بےساختہ سُرخ ہوئے،پلکوں کی جھالریں جھک کر اسکی شہد رنگیں آنکھیں چھپاگئیں،شادل مبہوت ہی تو رہ گیا تھا،اس حسن کی ملکہ کے گلاب کے مانند سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ،جو شاید اپنی ہی خوبصورتی سے ناواقف تھی،

“تم۔۔۔”

وہ الفاظوں کا انتخاب کرنے میں ناکام رہا تھا،آخر کیا کہتا ایسے دمکتے نوخیز حُسن کو،پر نگاہیں اب تک اس اپسرا کے خوبصورت چہرہ کا طواف کررہی تھیں،

“شادل۔۔۔بعد میں بات ہوگی۔۔۔۔پہلے ہی کافی دیر ہوگئی ہے۔۔۔امی پریشان ہو جائیں گی۔۔۔”

اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی شانزے نے جلدی سے کہا پھر رکشہ ڈھونڈنے کے لیے آگے بڑھی،وہ جو اسکی آواز پر ہوش میں آیا تھا،شانزے کو جاتا دیکھ اسکے پاس آیا،

“اگر لیٹ ہورہی ہو شانزے۔۔۔تو ایسا کرو کہ صرف آج کم از کم چل لو میرے ساتھ۔۔۔”

شادل کے بولنے پر شانزے نے ایک نظر پھر سے ہاتھ میں پہنی رسٹ واچ کو دیکھا پھر روڈ کو،

“نہیں شادل۔۔۔۔میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔بس ایک رکشہ مل جائے۔۔۔”

اپنی بات کہہ کر شانزے نے پھر ارد گرد نگاہ دوڑائی،

“کم آن شانزے۔۔۔۔اب اتنی دیر تو ہوہی گئی ہے تمہیں۔۔۔۔اور ویسے بھی مجھے نہیں لگتا آج تمہیں کوئی رکشہ ملے۔۔۔۔”

شادل کی باتوں کو بریک تب لگی جب مسلسل روڈ کو دیکھتی شانزے نے ہاتھ کے اشارے سے ایک رکشہ روکا،اندر بیٹھنے سے پہلے شانزے نے دونوں آئبرو اچکاکر شادل کو دیکھا،صاف اشارہ تھا کہ دیکھو مِل گیا،اسکی اس ادا پر شادل نے سینے پر ہاتھ رکھ کر گہرا سانس لیا تو شانزے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلاتی رکشے میں بیٹھ گئی،

جب تک رکشہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا شادل مرتضیٰ اسی طرف مسکاتی نظروں سے دیکھتا رہا،

“آہ۔۔۔کاش جلد وہ وقت آجائے جب تم میری محرم بنو۔۔۔”

مسکراکر وہ اپنے ہی آپ بڑبڑایا پھر شانزے کے سامنے ہمیشہ کی طرح ہوتی اپنی حرکتوں پر خود ہی کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتا اپنی کار کی طرف بڑھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آگئی میری بیٹی۔۔۔”

شانزے کے گھر میں داخل ہوتے ہی اکبر صاحب جو صحن میں بیٹھے تھے مسکراتے ہوئے بولے،تو شانزے بھی چہکتے ہوئے انکے گلے میں بازو حائل کر گئی،

“یہ لو۔۔۔ابو آپ آپی کو ہی زیادہ پیار کرتے ہو۔۔۔۔میں جب کالج سے آتی ہوں۔۔تب تو آپ یوں نہیں بولتے۔۔۔۔”

الشبہ جو اکبر صاحب کے ساتھ ہی صحن میں رکھی چارپائی پر بیٹھی تھی،اب منہ پھلائے انہیں بولی،ساتھ ہی شکایتی نظروں سے اکبر صاحب کو دیکھنے لگی،

“ارے پاگل۔۔۔ابو تم سے بھی اتنا ہی پیار کرتے ہیں۔۔۔”

شانزے ہنستے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کے سر پر چپت لگاتی گویا ہوئی،اب الشبہ کی شکایتی نظروں کا مرکز شانزے تھی،

“وہ سب تو ٹھیک ہے پر آپ سے بھی میں نے کچھ کہا تھا آپی۔۔۔”

ناراض لہجے میں کہتی وہ لگاتار شانزے کو ہی دیکھ رہی تھی،پہلے تو شانزے نے اسے ناسمجھی سے دیکھا پھر یاد آنے پر اچانک زبان دانتوں تلے دبائی،

“اوپس۔۔۔آئی ایم سو سوری میری گڑیا۔۔۔میں بھول گئی۔۔۔آج دراصل کام بہت تھا۔۔۔پر کل پکا جائیں گے آئسکریم کھانے۔۔۔بلکہ کل تو میری کچھ دوستیں بھی ساتھ چلیں گی۔۔۔”

اسے خوش کرنے کے غرض شانزے نے کہا اور یہ کارآمد بھی ثابت ہوا،

“اوہ سچی۔۔۔۔اور وہ آپکی دوست سویرہ آپی بھی ہونگی۔۔۔”

خوشی سے پوچھتی وہ شانزے کو بہت اچھی لگی،

“بلکل ہوگی۔۔۔”

“اوہو۔۔۔آتے ہی اسکے پیچھے پڑجاتی ہو لڑکی۔۔۔بہن کو تھوڑی سکون کی سانس تو لینے دو۔۔۔”

یہ شانزے کی امی تھیں جو کچن میں تھی پر باہر شانزے اور نور کے بیچ ہوتی گفتگو کی آواز سن کر اب باہر صحن کی طرف آئیں تھیں،انکی بات پر الشبہ منہ بسور کر بیٹھ گئی،

“اتنی دیر کیوں ہوگئی بیٹا۔۔۔”

ماں ہونے کے ناطے وہ آج فکرمند ہوئیں تھیں اسکے دیر سے آنے پر تبھی پوچھ بیٹھیں،

“بس امی۔۔۔آج کام تھوڑا زیادہ تھا۔۔۔”

خوش اسلوبی سے بول کر شانزے نے کمرے کا رخ کیا،کام زیادہ ہونے کی وجہ سے اسکے چہرے پر تھکان کے اثرات جمیلہ بیگم کو پریشان کرگئے،

“لڑکی منع بھی کیا ہے۔۔۔مت کرو یہ نوکری وغیرہ۔۔۔۔تھک جاتی ہو۔۔۔۔آخر ہو تو جاتا ہے گزارا تمہارے ابو کی کمائی سے۔۔۔”

اسکے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے جمیلہ بیگم فکریہ انداز میں اسے ڈپٹتے ہوئے بولیں،انکی بات پر شانزے کے قدم رکے،

“امی پتا ہے کہ ہوجاتا ہے گزارا پر یہ جاب میں اپنے شوق سے کررہی ہوں۔۔۔”

پیچھے سے گلے میں بازو حائل کر کے شانزے نے نرم لہجے میں کہا تو جمیلہ بیگم سمیت اکبر صاحب آسودگی سے مسکرائے،

“ایسے ہی تھوڑی نہ کہتی ہوں۔۔۔آپ دونوں صرف آپی سے ہی پیار کرتے ہو۔۔۔”

نروٹھے پن سے کہتے نور نے مکمل کوشش کی آنسو نکالنے کی پر ناکام ٹہری،

“میری چندہ۔۔۔۔کتنی بار سمجھاؤں کہ آپ تو گڑیا ہو ہم سب کی۔۔۔”

اسے یو ایکٹنگ کرتا دیکھ شانزے جلدی سے اسکے پاس آکر الشبہ کی تھوڑی نرمی سے تھام کر گویا ہوئی،جبکہ جمیلہ بیگم اپنی دوسری مگر پوری ڈرامہ ٹولی بیٹی کو تاسف سے دیکھنے لگیں،

“شانزے بیٹا چھوڑو اسے۔۔۔جلدی سے فریش ہو آؤ میں کھانا لگاتی ہوں۔۔۔اسکا تو روز کا انڈین سیریل شروع ہوگیا۔۔۔۔۔اب پھر مظلوم بن کر ٹسوے بہائے گی۔۔۔۔ناجانے کیا ہوگا اس لڑکی کا۔۔۔۔”

الشبہ کو مسلسل رونے کی ناکام کوشش کیے دیکھ وہ تپ کر بڑبڑاتے ہوئے اندر گئیں،انکے جانے کے بعد الشبہ کا گلا پھاڑ قہقہہ بلند ہوا کہ شانزے نے اپنے کان پر ہاتھ رکھ لیا،

“اللہ۔۔۔الشبہ زرا آرام سے۔۔۔”

اسکی پیٹ پر ہلکی سی چپت لگائے شانزے نے ہنستے ہوئے کہا،

“چلیں ابو آجائیں۔۔۔اٹھو الشبہ۔۔”

اکبر صاحب کو بول کر وہ الشبہ کو اٹھانے لگی،

“شادل آئے تھے کیا؟”

کھانے کے دوران جمیلہ بیگم نے شانزے کو دیکھ کر۔سرسری سا پوچھا تو وہ بھی اثبات میں سر ہلائے کھانے میں مگن رہی،

“تو بیٹا انکے ساتھ ہی آجایا کرو۔۔۔۔بہت ہی لائق اور نیک سیرت ہیں۔۔۔”

شادل مرتضیٰ گھر میں سب سے زیادہ جمیلہ بیگم کو بھایا تھا،وجہ اسکا نرم لبو لہجہ اور اپر کلاس میں ہونے کے باوجود اس میں غرور زرا سا بھی نہ ہونا تھا،

“امی۔۔۔آپ بھی آپی کے سامنے یہ بات بول کر اپنے الفاظ ہی ضائع کرتی ہیں۔۔۔آپ کو نہیں پتا کہ اگر آپی انکے ساتھ آجاتیں تو انکی خوددار طبیعت کو یہ ناگوار گزرتا۔۔۔۔”

الشبہ جو بغور جمیلہ بیگم کی بات سن رہی تھی اچانک بول پڑی تو شانزے نے ایک نظر مصنوعی خفگی سے اسکی طرف دیکھا،

“ویسے بات تو صحیح کہتیں ہیں آپ جمیلہ بیگم۔۔۔۔شادل ہیں تو بہت سنجیدہ اور نیک طبیعت کے مالک۔۔۔”

اکبر صاحب نے بھی اپنی بیوی کی تائید کی،شانزے کے چہرے پر خودبخود مسکراہٹ بکھری تھی جسے چھپانے کے لیے وہ جلدی سے پانی کا گلاس منہ سے لگا گئی،

“تو پھر کیوں نا بات کی جائے شادی کی۔۔۔۔”

شانزے کی حرکت نوٹ کرتی الشبہ نے موقع پاکر کہا جس پر شانزے کو پھندا ہی لگ گیا،

“کیا ہوا بیٹا۔۔۔”

جمیلہ بیگم پریشانی سے اٹھتی ہوئی شانزے کے پاس آکر پوچھنے لگیں ساتھ ہی اسکی پشت سہلائی،کھانستے ہوئے شانزے نے ایک سخت گھوری سے الشبہ کو نوازا تو وہ ہنسنے لگی،

“میں نے کھالیا۔۔۔۔”

شانزے کہتے ساتھ اٹھی تھی اور اپنی پلیٹ اٹھاکر کچن کی طرف چل دی،اب الشبہ معصوم سی شکل بنائے بیٹھی تھی جبکہ اس پر خشمگیں نگاہیں جمیلہ بیگم کی تھیں،

“ادھر جاؤ لڑکی۔۔۔۔بڑی بہن کو سکون سے کھانا بھی کھانے نہیں دیتی۔۔۔بدتمیز۔۔۔”

ماں تھیں وہ اچھے سے سمجھ چکی تھیں کہ شانزے الشبہ کی بات پر کھانا چھوڑ گئی،

“ہاں بس پھر شروع ہوجائیں مجھ معصوم پر۔۔۔۔آخر میری کیا خطا ہے کہ۔۔۔آپیییی۔۔۔”

وہ جو پھر سے ایک مرتبہ اپنا رولا رونے لگی تھی جمیلہ بیگم کو چئیر سے اٹھتا دیکھ جلدی سے شانزے کو پکارتی کچن کی طرف بھاگی،اسے بھاگتا دیکھ جمیلہ بیگم مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگیں،اکبر صاحب نے مسکاتی نظروں سے اپنے اس چھوٹے مگر خوبصورت ہر پل چہچہاتے آشیانے کو دیکھ خدا کا شکر ادا کیا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آج پھر اسی کے پاس پہلے گئے ہوگے۔۔۔۔”

شادل کوٹ اتار کر بازو میں ڈالے گھر میں داخل ہوا تبھی رابیہ بیگم نے بلند آواز میں پوچھا،جس پر شادل ہلکے سے اثبات میں سر ہلاتا اپنے روم میں جانے لگا،

“پتا نہیں کیسا جادو کیا ہے اس ڈائن نے کہ ماں فکر میں بھلے گھلتی رہے پر ان نوابزادے کو پہلے اپنی محبت کا دیدار کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔”

کلس کر کہتیں وہ شادل کو جبڑے بھینچنے پر مجبور کر گئیں،

“امی۔۔۔ضروری نہیں جیسا آپ سوچ رہی ہوں ویسا ہی ہو۔۔۔۔شانزے ایسی بلکل نہیں ہے۔۔۔۔وہ ایک شریف لڑکی۔۔۔”

اپنے مخصوص نرم لہجے میں شادل نے انہیں سمجھانا چاہا پر وہ اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ گئیں،

“بس بس۔۔۔بہت ہوا۔۔۔ہر دفعہ کی طرح اس میڈم کی تعریفوں کے پُل باندھنے مت بیٹھ جایا کرو۔۔۔پتا ہے مجھے سب۔۔۔۔کہ کیسی ہوتی ہیں یہ کام کرنے والی لڑکیاں۔۔۔۔کام کرنا تو انکا بہانہ ہوتا ہے۔۔۔۔اصل میں تو یہ امیروں پر اپنی اداؤں کے جادو دکھانے نکلتی ہیں۔۔۔۔”

نخوست سے کہتیں وہ شادل کو کہیں سے بھی اپنی نرم طبیعت فکر مند ماں نہ لگیں جو اپنے تینوں بچوں سے حد درجہ پیار کرتی تھیں،

“امی۔۔۔اس طرح سے نہیں بولا کریں پلیز۔۔۔”

اب شادل کے لہجے میں تھوڑی ناراضگی واضع ہوئی تھی،

“اوکے مام۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔۔رات کو دیر سے آؤں گا۔۔۔ویٹ مت کرنا۔۔۔”

ابھی رابیہ بیگم شادل کے سامنے شانزے کو اور صلواتیں سناتیں کہ پیام تیزی سے سیڑھیاں طے کرتا نیچے آکر بولا،انداز کافی مصروفانہ تھا،فون کان سے لگائے وہ شاید کسی سے بات بھی کررہا تھا،رابیہ بیگم نے بغور اپنے اس چھوٹے مگر خودسر بیٹے کو دیکھا،بلو جینز پر سفید ٹی شرٹ اور اس کے اوپر ریڈ جیکٹ پہنا وہ چھ فٹ سے نکلتے قد اور وجاہت میں انکے بڑے بیٹے شادل مرتضیٰ سے بھی آگے تھا،

تھا تو وہ شادل کا بھائی پر دونوں ہی ایک دوسرے کا الٹ تھے،شادل جتنا تمیزدار اور ذمہ دار تھا،پیام مرتضیٰ اتنا ہی بدتمیز اور بےپرواہ تھا،شادل جو ہر وقت باپ کے بزنس کو آگے بڑھانے میں کئی پلینز سوچتا تو پیام اتنا ہی بزنس سے دور بھاگتا،

“تو پھر چلے صاحب زادے۔۔۔”

رابیہ بیگم کو بولتا وہ باہر نکل ہی رہا تھا جب مرتضیٰ صاحب کی آواز پر پیام کے قدم رکے ساتھ ہی اس نے آنکھیں کوفت سے بند کیں پھر چہرے کے تاثرات نارمل کرتا مڑا تھا،شادل نے ایک نظر مرتضیٰ صاحب کو دیکھا جو اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے پیام سے مخاطب تھے،جانتا تھا اب ایک بار پھر پیام کی کلاس لگنے والی ہے،تبھی لبوں پر امڈتی مسکراہٹ دباتا وہ اپنے روم میں چلاگیا،

“ہاں۔۔۔تو بتائیں بھئی۔۔۔آج کب آنے کا ارادہ ہے آپکا۔۔؟”

لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مرتضیٰ صاحب نے اس سے پوچھا جس کے چہرے پر صاف بےزاریت واضح ہورہی تھی،

“بس۔۔۔رات کو تھوڑی دیر ہو جائے گی آنے میں۔۔۔”

دھیمے لہجے میں وہ انہیں بتانے لگا،ایک وہی تو تھے جن کے منہ پر وہ اپنی خودسری یا بدتمیزی نہیں دکھاتا تھا،

“تھوڑی دیر۔۔۔۔ہہہہ۔۔۔یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ آپ صبح ہونے سے “تھوڑی” دیر پہلے آجائیں گے۔۔۔۔”

ٹہرے ہوئے لہجے میں اس پر طنز کرتے وہ اب ریموٹ اٹھائے تھے،جبکہ پیام نے لب بھینچ کر رابیہ بیگم کو گھورا جو اسے ترحم نظروں سے دیکھ رہی تھیں،

“بزنس کے بارے میں کیا سوچا ہے۔۔۔”

اسکی خاموشی پر مسلسل ایل ای ڈی پر چلتے نیوز چینل پر نظریں جمائے وہ پھر پوچھے،

“کروں گا سٹارٹ۔۔۔”

آنکھیں گھماتے ہوئے وہ بولا،لہجہ ہمیشہ کی طرح بے پرواہ تھا جیسے بور ہورہا ہو وہ کھڑے کھڑے،مرتضٰی صاحب نے ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈالی،

“جائیے۔۔۔۔دیکھیں گے ہم بھی۔۔۔کب سٹارٹ کریں گے بزنس۔۔۔”

اسکی جان بخشی کرتے ہوئے وہ بڑبڑائے تو پیام پیشانی سہلاتا ہوا وہاں سے نکلا پر جانے سے پہلے رابیہ بیگم کو باہر آنے کا اشارہ کرنا نہ بھولا،

“سوری بیٹا۔۔۔آجکل آپ کے پاپا تھوڑے پریشان ہیں نا۔۔۔تبھی سنادیتے ہیں۔۔۔”

پورچ میں آتے ہی رابیہ بیگم نے اسے پیار سے سمجھایا،اب انکا لہجہ بلکل چاشنی جیسا میٹھا تھا،

“لوو میرج تھی نا آپ لوگوں کی۔۔؟”

انکی بات ان سنی کرتا پیام پوچھا تو رابیہ بیگم نے ناسمجھی میں اثبات میں سرہلایا

“ایک یہی پِیس ملے تھے کیا آپ کو پوری دنیا میں۔۔۔”

دانت کچکچاکر اس نے بآواز کہا تو رابیہ بیگم نے بوکھلاتے ہوئے جلدی سے اندر کی طرف دیکھا کہ کہیں مرتضیٰ صاحب سن نہ لیں پھر پیام کو ایک گھوری سے نوازا جس کا کوئی خاطر خواہ اثر اس پر نہ ہوا،

“چپ ہوجاؤ پیام۔۔۔کچھ بھی بولتے ہو۔۔۔”

نرمی سے اسے ڈپٹ کر انہوں نے کہا پر انکی بات پوری سنے بنا ہی وہ کار میں جاکر بیٹھ چکا تھا،

“کیا ہوگا اس لڑکے کا۔۔۔”

رابیہ بیگم تاسف بھری نظر اسکی کار پر ڈالتے ہوئے بڑبڑائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔