Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz Readelle 50373 Aah-E-Muhabat (Episode 28)
Rate this Novel
Aah-E-Muhabat (Episode 28)
Aah-E-Muhabat By Nishal Aziz
نکاح کے دوران الشبہ کے آنسو نہیں تھم رہے تھے،شانزے سمیت باقی سب کو یہی لگا کہ ہر لڑکی کی طرح وہ بھی اس لمحے ماں باپ کی جدائی پر رورہی ہے لیکن اس کے دل میں الگ ہی غم تھا،اسے دکھ تھا کہ چاہ کر بھی وہ جمیلہ بیگم اور اکبر صاحب سے معافی نہ مانگ سکی،ان لوگوں نے الشبہ کو کوئی موقع ہی نہ دیا تھا،اکبر صاحب تو اسکی شکل دیکھنے کے روداد نہ تھے،اگر کو اس رات شادل نہ پکڑتا اسے تو ان لوگوں کی عزت آج نیلام کرچکی ہوتی وہ لڑکی،
ادھر شادل بھی ایک مرتبہ پھر ایک ان چاہے رشتے میں بندھ رہا تھا،اس بار بھی اسکا دل کسی بھی خوشی کے احساس سے عاری تھا،مرتضٰی صاحب نے کل رات اسے بہت سمجھایا تھا پر اس نے پھر لبوں پر قفل لگا لیا تھا،
“تھینک یُو۔۔۔”
پیام چونک کر مڑا پیچھے سے آتی مانوس آواز پر،سامنے شانزے کھڑی ہلکی مسکراہٹ سمیت اسے دیکھ رہی تھی،جبکہ اسکا ہاتھ پینڈنٹ پر تھا،یقیناً وہ اسکے لیے شکریہ ادا کررہی تھی،پیام ایک نظر اس پر ڈال کر آگے ہوگیا،اور شانزے کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی،پیام کے رئیکشن پر اسے اتنا تو اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ لڑکی جو بھی تھی جھوٹی تھی،تنگ آکر وہ رپورٹ بھی پھاڑ چکی تھی لیکن اب پیام کی ناراضگی اس سے برداشت نہیں ہورہی تھی،پینڈنٹ کو پکڑے وہ ایک بار پھر دوسری طرف کھڑے پیام کو دیکھی جو مکمل اسے اگنور کیا ہوا تھا،
“ہنہہ ہوتا رہے ناراض۔۔۔مجھے کیا پڑی ہے منانے کی۔۔۔”
خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کیے وہ جمیلہ بیگم کے پاس چلی گئی،
رخصتی کے دوران جمیلہ بیگم خود پر اور ضبط نہ کرپائیں،وہ جیسی بھی تھی،بیٹی تھی انکی،الشبہ سے گلے لگ کر خوب روئیں تھیں وہ،ان سے مِل کر الشبہ کا دل اکبر صاحب سے گلے ملنے کا ہوا تھا،وہ تڑپ کر رہ گئی جب اکبر صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر برابر میں ہوگئے،وہ باپ جن کے ساتھ اکثر وہ اکثر ہنسی مذاق کرتی،سوچا نہیں تھا کہ اس تکلیف دہ گھڑی میں بھی وہ اس سے منہ موڑے رکھے گے،پر گلہ کیا کرتی سب کچھ خود کا کیا کرایا تھا،
پیام کو تپانے کے غرض سے شانزے اجازت لی تھی رابیہ بیگم سے گھر پر رکنے کی،کچھ وجہ یہ بھی تھی کہ جمیلہ بیگم بہت رورہی تھیں،رابیہ بیگم نے بخوشی اسے اجازت دے دی،ازکیٰ کو اس نے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا،پیام کا خون تو بہت کھولا تھا شانزے کی اس حرکت پر لیکن وہ اسے کیوں دکھاتا،تبھی اس بات پر کوئی رئیکشن نہ دیتے وہ سبھی کے ساتھ مرتضیٰ ہاؤس کے لیے روانہ ہوگیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیاں اسے کچھ دیر پہلے ہی روم میں بیٹھا کر گئی تھیں،شانزے کے نہ ہونے پر وہ تھوڑا گھبرائی تھی لیکن رابیہ بیگم اور تحریم کا رویہ اپنے ساتھ اچھا دیکھ تھوڑا بہتر محسوس ہوا تھا اسے،کمرے میں بیٹھے جب اسے کافی دیر ہوئی تو الشبہ نے گھونگھٹ اٹھا کر آس پاس نظر دوڑائی،رات کے ڈھائی بج چکے تھے،شادل اب تک روم میں نہیں آیا تھا،بھاری لہنگے اور جیولری میں اسکا دم گھٹنے لگا تھا،تبھی گھونگھٹ مکمل نیچے کرتے وہ بیڈ سے اتری پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوتی جلدی جلدی جیولری اتارنے لگی،سجے ہوئے حنائی ہاتھوں سے چوڑیاں اتارنے کے بعد اس نے بھاری دوپٹے کی پنز نکالنی شروع کردی،تبھی کلک کی آواز کے ساتھ گیٹ کھلا،الشبہ کا خون سوکھا تھا،پنز کھولتا ہاتھ رکا جبکہ گھنیری پلکیں لمحوں کے اندر نیچے ہوتے کاجل سے لبریز خوبصورت آنکھوں کو چھپاگئی،
شادل بنا ایک نظر اس پر ڈالے گیٹ بند کرکے الشبہ کے پیچھے سے گزرتا وارڈروب کی طرف گیا تھا،اسے خود کو اگنور کرتا دیکھ الشبہ کی تھوڑی جان میں جان آئی تبھی ہاتھ تیزی سے چلاتے وہ ہر طرف لگی پنز کھولنے لگی،ادھر شادل چینج کرنے کے لیے وارڈروب سے کپڑے لیتا ڈریسنگ روم میں گیا،چند ایک پنز جب رہی تب الشبہ کے ہاتھ دکھنے لگے،
“کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟”
کندھے پر لگی پن اس سے کھل کے نہیں دے رہی تھی جس سے جھنجھلاکر وہ بآواز بڑبڑائی پر تبھی اسے سبکی محسوس ہوئی جب نظر شادل پر پڑی،دوسری جانب شادل جو ڈریسنگ روم سے نکل کر بیڈ کی طرف جارہا تھا اسکی جھنجھلاہٹ بھری آواز سن کر الشبہ کی طرف نظر اُٹھایا،اسے دوپٹے میں الجھے دیکھ شادل نے نگاہ پھیری پھر گہری سانس بھرتا اسکی طرف بڑھا،
شادل کو اپنے جانب آتا دیکھ الشبہ گھبراتے ہوئے جلدی سے پن نکالنے کی کوشش کرنے لگی پر اسکی سانس اٹکی جب شادل اپنا بھاری ہاتھ اسکے کندھے پر رکھے گئے ہاتھ پر رکھا تھا،وہ بوکھلا کر پلٹی ساتھ ہی پیچھے ہوئی،
“م۔۔۔میں۔۔کککر۔۔۔لوں۔۔۔گی۔۔یہ۔۔ہ۔۔ہوجائے۔۔۔گ۔۔سسس۔۔۔”
وہ جو ہکلاکر بولتے ہوئے مسلسل کندھے پر لگی پن نکالنے کی کوشش کررہی تھی،اچانک پن انگلی پر چبھنے سے سسکی،
اسے انگلی پکڑ کر لب دباتے دیکھ شادل خاموشی سے اسکے قریب ہوا ساتھ ہی الشبہ کے کندھے پر دوپٹے سے اٹیچ پن کو آہستگی سے نکالنے لگا،انگلی میں ہوتی تکلیف بھولے الشبہ سانس روک کر رہ گئی جبکہ پن نہ نکلنے کے باعث شادل جھکا تھا اس پر اور الشبہ جھٹکا کھائی جب وہ دانتوں سے پن نکالنے لگا،اسکا چہرہ پل میں لال ٹماٹر ہوا تھا مقابل کی یہ جسارت دیکھ،اپنا تمتماتا ہوا چہرہ موڑے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی،دانت سے پن نکالنے کے چکر میں شادل کے لب اسکے کندھے سے مِس ہورہے تھے،الشبہ کے دل کی دھڑکنیں حد سے سوا ہونے لگی،دانتوں سے لب کچلتے وہ روہانسی ہوئی شادل کی جھلساتی سانسیں گردن پر پڑنے سے تبھی پن نکلنے پر شادل اس سے دور ہوا جس پر الشبہ سر جھکائے جلدی سے ڈریسنگ روم کی طرف جانے لگی مگر شادل نے اسکا نازک بازو اپنی گرفت میں لیا،
الشبہ بےبسی سے ایک ہی جگہ کھڑی رہ گئی،مقابل کی مضبوط گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی ہمت نہیں تھی اس میں،ہاں پر دل کی دھڑکنیں ضرور تیز ہوئی تھیں جب کچھ دیر بعد شادل کی بھاری آواز اُبھری،
“بتانے کی ضرورت تو نہیں ہوگی۔۔۔۔تم اچھے سے جانتی ہو کہ یہ ایک ان چاہا رشتہ ہے۔۔۔جس پر ہم دونوں ہی راضی نہیں تھے۔۔۔۔اب کوشش کرنا کہ میری بیٹی سے دور رہو۔۔۔۔کیونکہ میں “اپنی” بیٹی پر کسی بھی طرح کا برا اثر نہیں پڑنے دینا چاہوں گا۔۔۔۔امید ہے میری بات بہت بہتر طریقے سے سمجھ چکی ہوگی۔۔۔!”
وہ جیسے آرام سے اسکے کانوں پر پگھلا ہوا سیسہ انڈیل رہا تھا اپنے الفاظوں سے،سر جھکائے الشبہ جیسے سن سی ہوچکی تھی شادل مرتضیٰ کے جملوں کے زیرِ اثر،لفظ “برے اثر” پر دل میں اچانک درد کی ٹیسیں اٹھی تھیں،آنسو چھلکنے کو بےتاب ہوئے آنکھوں سے،تبھی اس کے بازو پر گرفت ڈھیلی کرتا شادل ہاتھ نیچے کیا تھا اپنا،ساتھ ہی بیڈ پر جالیٹا،اسکے لیٹنے کے بعد ضبط کے چکر میں لبوں کو دانتوں میں دباتی الشبہ لہنگا سنبھالتی ڈریسنگ روم میں گئی تھی،دروازہ بند کرتے ہی وہ بھبھک کر رودی،شادل کے لفظوں کو سن کر اسے اپنے آپ سے گھن سی آنے لگی،کیا وہ اتنی بری تھی کہ مقابل اسے اپنی بیٹی سے دور رہنے کی تاکید کررہا تھا،ہاں شاید وہ بہت بری تھی تبھی اسکے باپ نے اب تک اسے معاف نہیں کیا تھا،پر وہ کیا کرتی اتنا تو پچھتاوا ہورہا تھا اپنے کیے پر اسے،کیسے بتاتی ان لوگوں کو کہ وہ پشیمان ہے اپنی غلطی پر،لیکن کون کرتا اسکا بھروسہ،وہ توڑ جو چکی تھی ان لوگوں کا بھروسہ،اپنی آواز دبانے کے چکر میں وہ منہ پر ہاتھ سختی سے رکھے پھوٹ کر رونے لگی تھی،ناجانے اس غلطی کی معافی اسے کب ملتی یا ملتی بھی کہ نہیں،یہ وہ نہیں جانتی تھی پر اتنا ضرور جانتی تھی کہ اس انسان کے سامنے اسکا مقام ایک نہایت خراب لڑکی کا بن چکا تھا اور وہ مقام ہٹانا الشبہ اکبر کے بس میں نہ تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح شانزے واپس آچکی تھی پر پیام نے اسے زرا لفٹ نہ کرایا،رات بھر وہ کس قدر بےچین ہوا تھا،بھلے ناراض تھا وہ اس سے پر عادت ہوگئی تھی رات کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ اس پری وش کو جی بھر کو دیکھنے کی،پورے دن شانزے کو عجیب بےکل کرتا رہا اسکا بیگانہ رویہ لیکن وہ یوں ظاہر کرتی جیسے فرق ہی نہ پڑرہا ہو،ولیمے کی تیاری کرتے کرتے شام ہوچکی تھی سب بینکوئیٹ میں جانے کے لیے نکلنے لگے الشبہ،تحریم اور شانزے کو پارلر سے لینے کی ذمہ داری پیام کی تھی،جب سے پارلر کے باہر کھڑے رہنے پر وہ چڑا تھا،
“اور کتنی دیر لگے گی۔۔۔؟”
کال کر کے وہ تحریم پر بھڑکا تھا،
“بھائی ہوگیا بس۔۔۔آرہے ہیں۔۔۔”
اسکے غصہ ہونے پر تحریم آرام سے بولی،
“رہو اندر تم لوگ۔۔۔میں جارہا ہوں۔۔۔خود ہی آجانا۔۔۔جب سے آرہے آرہے۔۔۔پتا نہیں کہاں سے آرہے ہیں۔۔۔”
تپ کر بڑبڑاتے وہ کال کٹ کرتا کار میں بیٹھنے لگا،ارادہ واپس جانے کا تھا تبھی پارلر کا گیٹ کھلا تھا اور پیام مرتضیٰ کی نظریں جو اٹھیں وہ پلٹنے سے انکاری ہوئیں،رائل بلو کلر کی ساڑھی پہنے چادر کو سر سے لے کر نیچے تک اپنے گرد لپیٹے مہارت سے کیے گئے میک اپ پر شانزے مرتضیٰ اسکا دل دھڑکا گئی لیکن وہ پیام کی طرف متوجہ نہ تھی،الشبہ کو ایک طرف سے سنبھالے سیڑھیاں اترتی وہ تحریم سے کوئی بات کررہی تھی جو الشبہ کو دوسری طرف سے پکڑی تھی،اس سے پہلے شانزے نگاہ پیام کی طرف کرتی وہ اپنی نظریں پھیر گیا،آج مشکل لگا پیام مرتضیٰ کو اس سے بےرخی برتنا،
“تحریم تم آگے بیٹھ جاؤ۔۔۔”
شانزے جو الشبہ کو بیٹھانے کے بعد آگے آرہی تھی پیام کی بات پر رک کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی،
“بھائی۔۔۔میں۔۔”
تحریم ایک نظر شانزے کو دیکھ ڈگمگ کا شکار ہوئی،
“ہاں۔۔تم۔۔۔”
اپنے الفاظ پر زور دے کر کہتا وہ گیٹ کھولتے ہوئے بیٹھا،شانزے اسے گھور کر منہ بناتے پیچھے جاکر بیٹھ گئی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینکوئٹ میں شادل نے ازکیٰ کو اپنی گود میں ہی رکھا تھا،چہرے پر ہمیشہ کی طرح زبردستی کی مسکان سجائے وہ مہمانوں سے مل رہا تھا،الشبہ کو اس نے کل سے ایک مرتبہ بھی ازکی کو پکڑنے نہ دیا،فوٹو شوٹ کے دوران رابیہ بیگم نے اسے الشبہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا اشارہ کیا پر وہ مہمانوں کا لحاظ کرتے سہولت سے انکار کرگیا،سب کے سامنے شادل کا خود سے یہ رویہ دیکھ الشبہ تذلیل کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے لگی،آنکھوں میں آئی نمی کو اندر دھکیلتے وہ نگاہ جھکائے بیٹھی تھی،
“ہے پیام۔۔۔”
نسوانی آواز پر پیام متوجہ ہوا سامنے ہی اسکی کزن لیزا کھڑی پُرشوق نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،ابھی پیام کی پیشانی پر بل پڑتی کے اسکی نظر کچھ دور کھڑی شانزے پر پڑی،وہ خاموشی سے اسے لیزا کے ساتھ کھڑا دیکھ رہی تھی،چہرے پر واضح جیلسی کے آثار تھے جسے دیکھ پیام مسکراتے ہوئے لیزا سے بولا،
“کیا ہے۔۔؟”
“کچھ نہیں۔۔۔بس تمہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔کیسے ہو۔۔؟”
وہ کبھی لفٹ نہ کراتا تھا کسی کو لیکن آج خود سے اسکا یوں بات کرنا لیزا کو خوشی کا احساسِ دلایا تھا،
“جیسا دکھ رہا ہوں۔۔۔ویسا ہی ہوں۔۔۔”
کھرا جواب دیتے وہ لیزا کو بوکھلانے پر مجبور کیا تھا البتہ وجیہہ چہرے پر مسکراہٹ ہنوز تھی،
“ویسے دکھ تو کافی چینج رہے ہو۔۔۔پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہوگئے ہو۔۔۔”
اسکے قریب ہوکر لیزا نے پیام کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا،پیام نے ایک نظر اپنے کندھے پر رکھے لیزا کے ہاتھ کو دیکھا پھر واپس لیزا پر نظر ڈالی جو میک اپ سے لبریز چہرے سمیت معنیٰ خیزی سے مسکرارہی تھی لیکن پیام کی آنکھوں میں ناگواری اترتے دیکھ وہ ہاتھ پیچھے ہٹاگئی،
“اوقات میں رہا کرو۔۔۔ہمم۔۔”
شانزے کو دکھانے کے غرض وہ مسکراتے ہوئے دھیمی آواز میں لیزا کو بولا تو اسکے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوئی،
شانزے پیام کو یوں لیزا سے مسکراکر بات کرتے دیکھ تپی تھی،تب سے کڑھتے جب اس سے اور رہا نہ گیا تو وہ تیزی سے چلتی ان دونوں کے پاس آئی،
“پیام۔۔۔”
وہ جو اسکے پاس آنے پر بھی انجان بنا لیزا سے پتا نہیں کونسی بات کررہا تھا شانزے کے پکارنے پر چوکنے کی ایکٹنگ کیا تھا،
“وہ۔۔۔و۔۔۔ہاں۔۔تمہیں امی بلارہی ہیں۔۔۔”
پیام کے دیکھنے پر وہ بہانہ سوچتی بولی،کچھ بھی کرکے بس ابھی اسکا دل چاہا کہ کسی بھی طرح وہ لیزا سے دور ہوجائے،
“تم جاؤ۔۔۔میں آتا ہوں۔۔۔”
اسکی حالت سمجھتا وہ مزے سے بولا،شانزے اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورتی گئی تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمے کی تقریب ختم ہونے پر سب گھر پر آچکے تھے،الشبہ کو کمرے میں چھوڑ کر وہ نکلنے لگی تھی پر تبھی اس نے شانزے کا ہاتھ پکڑا،
“آپی بیٹھ جائیں تھوڑی دیر۔۔۔”
شانزے کو لاچاری سے بولتے اسکی آواز رندھی،شانزے چونک کر اسکے پاس بیٹھی تھی،
“ارے الشبہ۔۔۔کیا ہوا۔۔۔رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟”
اس کا چہرہ تھامے شانزے محبت سے پوچھی،الشبہ کو بےساختہ رونا آیا،
“آپی۔۔۔وہ۔۔۔میرا۔۔”
اپنے دل کی عجیب ہوتی حالت وہ شانزے کو بتانے لگی پر تبھی شادل کمرے میں داخل ہوا جس کی وجہ سے الشبہ کی بات ادھوری رہ گئی،
“الشبہ۔۔۔ریلیکس کرو۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔”
شادل کی موجودگی کے باعث شانزے اسکا ہاتھ دباتے کہہ کر روم سے نکلی تھی،شانزے کے جانے کے بعد وہ گیٹ بند کرتا بیڈ پر آیا،الشبہ جلدی سے بیڈ پر سے اتری،اس سے پہلے وہ ڈریسنگ روم کا رخ کرتی شادل اسے پکار بیٹھا،
“یہ لو۔۔۔”
چند قدم چل کر وہ اسکے جانب آتا ایک چھوٹا سا بوکس الشبہ کے آگے کیا،اس نے سوالیہ نظروں سے شادل کو دیکھا جس کی نگاہ بوکس پر تھیں،
“منہ دکھائی ہے۔۔”
شادل کے بھاری لہجے میں کہنے پر الشبہ نے چند پل اسکے ہاتھ میں رکھے بوکس کو دیکھا،
“ان چاہے رشتے میں منہ دکھائی جیسی رسمیں نہیں ہوتیں۔۔۔”
کل کی کہی گئی اسکی باتوں کا جواب دیتے وہ ڈریسنگ روم میں جانے لگی،شادل کی پیشانی پر شکنیں پڑی تھیں،جاتی ہوئی الشبہ کا بازو پکڑ کر وہ کھینچا تھا اسے اپنے جانب،
شادل کے اچانک کھینچنے پر اسکے سینے سے لگتی الشبہ بوکھلائی،عارض پل میں سرخ ہوئے جبکہ شادل کے سینے پر ہاتھ رکھتی وہ فاصلہ قائم کی تھی اسکے اور اپنے درمیان،
“نہ رسم نبھارہا ہوں۔۔۔نہ ہی شوق سے دے رہا ہوں۔۔۔امی کے کہنے پر دیا تھا۔۔۔پر نہیں لینا ہے تو نارملی منع کرو۔۔۔آئندہ یوں پہیلیوں میں بات مت کرنا مجھ سے۔۔۔”
الشبہ کے دونوں بازوؤں کو مضبوطی سے پکڑے وہ لہجے کو سخت بنائے بولا،دوسری جانب شادل کی گرم سانسیں خوبصورت چہرے پر پڑنے سے گھبراتی وہ جلدی سے اثبات میں سرہلائی پھر شادل کے چھوڑنے پر دور ہوتی فوراً ڈریسنگ روم میں گئی،
کافی دیر بعد وہ جیولری اتارے ساتھ ہی چینج کرکے نکلی تو دیکھا شادل سوئی ہوئی ازکیٰ کو گود میں لیے بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹا تھا،شاید وہ اسے رابیہ بیگم سے لے آیا تھا،چھوٹے قدم اٹھاتی الشبہ بیڈ پر آکر بیٹھی،اسکا ارادہ سونے کا تھا پر شادل کو یوں آنکھیں موندے لیٹے دیکھ اسے شادل کے سونے کا گمان ہوا،تبھی اسکے خیال کے تحت وہ آگے ہوکر ازکیٰ کو شادل کے گود سے لینے لگی پر عین وقت پر مندی آنکھیں وا کیے شادل اپنے بلکل سامنے اسے دیکھا تھا،الشبہ گھبراکر پیچھے ہوئی اسکے دیکھنے پر،
“می۔۔میں۔۔وہ۔۔آپ سورہے تھے۔۔۔تو۔۔۔ازکیٰ کو۔۔”
“میری بیٹی کی فکر کرنے کے لیے میں کافی ہوں۔۔۔۔مجھے یہ بات دہرانی نہ پڑے کہ تم دور رہو میری بیٹی سے۔۔۔”
ناگواری سے کہتا شادل واپس آنکھ بند کیا تھا،احساس ذلت سے الشبہ کی آنکھیں بھرائیں،خود پر ضبط کرتی وہ بیڈ پر دوسری کروٹ لیے لیٹی،پر گرم سیال جو آنکھوں سے بہا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا،نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی،اپنی جلتی آنکھیں بند کیے ایک بار پھر وہ بےآواز رونے لگی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزے جب سے پیام کو ڈھونڈ رہی تھی پر وہ پتا نہیں کہاں غائب ہوچکا تھا،تھک ہار کر اس نے رابیہ بیگم سے پوچھا پر آگے سے انہوں نے جو جواب دیا وہ سن کر شانزے کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی،
“بیٹا پیام تو آج ہی نکلا ہے لاہور کے لیے۔۔۔کہہ رہا تھا کچھ کام ہے۔۔۔ایک ہفتے بعد آجائے گا واپس۔۔۔”
اسے بتاتی رابیہ بیگم اپنے روم میں گئی تھیں ادھر شانزے سکتے کی حالت میں اپنے کمرے میں آئی،اس بار بھی وہ یوں اچانک بنا اسے بتائے چلاگیا تھا،کیوں کرتا تھا وہ اس طرح،کیوں اسے پریشان کرنے کے غرض ایسی حرکتیں کرتا،
“ٹھیک ہے۔۔۔اس بار چلاگیا تو کیا ہوا۔۔۔اب واپس آئے گا تو میں بھی لفٹ نہیں کروانے والی اسے۔۔۔اور ویسے بھی مجھے کونسی پرواہ ہے۔۔۔”
بیڈ پر بیٹھ کر بولتے ہوئے شانزے یہ بھول چکی تھی کہ اسکی آواز بھیگی ہوئی ہے،پر تبھی ذہن میں آیا کہ وہ پچھلی بار بھی تو یونہی جھوٹے دلاسے دی تھی خود کو پر کہاں رہا جارہا تھا اس سے پیام مرتضیٰ کے بنا،
یہ سوچ آتے ہی اچانک بےبسی بھرے غصے سے شانزے نے بیڈ سے تکیے اٹھاکر ہر طرف پھینکنے شروع کردیے،اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے اپنا غصہ ختم کرے،روتے ہوئے وہ مسلسل کبھی بیڈ شیٹ اتار کر پھینکتی تو کبھی ڈریسنگ ٹیبل سے کوئی چیز،غصہ کم نہ ہوا تو اب اس نے پرفیوم اٹھایا اور اسکا رخ گیٹ کی جانب کرتے سیدھا پھینکنے لگی تھی کہ وہاں کھڑے پیام کو دیکھ بےیقین ہوئی،شانزے کی حالت پر اپنی ہنسی ضبط کیے وہ کھڑا تھا،
“اوہ وائفی۔۔۔اتنی دیوانی ہو پیام مرتضیٰ کی۔۔”
ہنس کر کہتا پیام چند قدم آگے بڑھا تھا،شانزے جو اسکی موجودگی کو اپنا وہم سمجھ رہی تھی پیام کی بات پر اسے یقین ہوا کہ سامنے کھڑا انسان اسکا گمان نہیں بلکہ حقیقت میں وہی پر تھا،بےساختہ شانزے کو دلی سکون سا ملا لیکن اگلے ہی لمحے پیام کے عنابی لبوں پر ہنسی دیکھ اسے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ وہ بےوقوف بن چکی ہے مقابل کے ہاتھوں،تو کیا رابیہ بیگم بھی اس میں شامل تھیں،
“ویسے اظہار تو کرتی نہیں پر مرتی بہت ہو تم بھی مجھ پر۔۔۔”
پرفیوم اس کے ہاتھ سے لے کر ڈریسنگ پر رکھتا وہ مزے سے بولا اور شانزے کا غصہ ایک دم سوا نیزے پر پہنچا،
“تم پر مرنے سے بہتر میں تمہیں ہی مار ڈالوں۔۔۔جان بوجھ کر مجھے ستاتے ہو۔۔۔تم بدتمیز انسان۔۔۔سدھرتے کیوں نہیں۔۔۔”
دانت کچکچاکر برہم ہوتی وہ ساڑھی سنبھال کر بیڈ پر گئی پھر ایک تکیہ اٹھا کر پوری قوّت سے پیام کی طرف پھینکی جو کہ وہ بآسانی کیچ کرگیا،
“جنگلی بلی۔۔۔۔۔اگر کو پیام مرتضیٰ سدھر گیا تو تمہارا کیا ہوگا۔۔۔”
اپنی بات کہتے وہ ہاتھ میں تھاما پلو زور سے شانزے کی طرف پھینکا تھا اور اسکی بات کو سننے میں محو شانزے اس اچانک حملے پر سیدھا بیڈ پر گری،پیام کی مسکراہٹ غائب ہوئی جب وہ تھوڑی دیر بعد بھی یونہی بیڈ پر پڑی رہی،
“جنگلی بلی۔۔۔کہیں روح تو پرواز نہیں ہوگئی۔۔۔”
حیران ہوتا بآواز بڑبڑاکر وہ بیڈ پر گری شانزے کی طرف بڑھا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
